منگل، 8 ستمبر، 2026

مخملیں وادیوں کی سر زمین 'جنت ارضی کشمیر

 



:   کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ قدرت کے حسن کا وہ شاہکار ہے جہاں پہنچ کر انسان دنیا  کو بھول جاتا ہے۔ اس کی حسین وادیاں اور خوبصورت جھیلیں رہتی دنیا تک انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہیں گی، اور یہی وجہ ہے کہ اسے بلا مبالغہ 'زمین پر جنت ' کہا جاتا ہے۔کشمیر کی اصل خوبصورتی اس کی مخملی وادیوں میں چھپی ہے۔ وادیِ کشمیر چاروں طرف سے ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے۔ یہاں کے گھنے چیڑ اور دیودار کے جنگلات، ہریالی سے لہراتے ہوئے میدان اور بل کھاتے ہوئے ٹھنڈے پانی کے چشمے انسان کو دنگ کر دیتے ہیں۔ گلبرگ، پہلگام اور سونامبرگ جیسی وادیاں اپنی ہریالی اور دلفریب مناظر کی وجہ سے دنیا بھر کے مسافروں کے دل موہ لیتی ہیں۔ سردیوں میں جب یہ وادیاں برف کی سفید چادر اوڑھ لیتی ہیں، تو ان کا حسن مزید نکھر جاتا ہے۔ یہ خطہ اپنی بے مثال قدرتی خوبصورتی، فلک بوس برف پوش پہاڑوں، سرسبز وادیوں،اسمان سے باتیں کرتے  بلند و بالا  چنار کے درختوں  اور شیشے کی طرح چمکتی جھیلوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ کائنات کے اس حسین ترین حصے کو دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔                کے ضلع پونچھ میں راولا کوٹ سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بنجوسہ جھیل کو پاکستان کے بہترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔راولا کوٹ سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر گھنے جنگلات میں واقع بنجوسہ جھیل کی خوبصورتی دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہے، سر سبز وادی میں گھری جھیل سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنی رہتی ہے۔جھیل کے ارد گرد گھنے جنگل اور پہاڑوں نے اسے اور بھی دلکش بنا دیا ہے، جھیل کے اطراف پھیلا ہوا سبزہ ہی سبزہ، تازا ہوا اور نیلا پانی سیاحوں کی تسکین کا باعث بنتا ہے،



 بنجوسہ جھیل   پر سیر کے لئےآنے والے بوٹنگ سے بھی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔یہاں گرمیوں میں بھی موسم خوش گوار رہتا ہے جبکہ سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے اور درجۂ حرارت منفی 5 سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے، دسمبر اور جنوری میں برف باری بھی ہوتی ہے۔بنجوسہ جھیل میں سیاحوں کی آمد سارا سال جاری رہتی ہے، جن کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مل کر سیاحوں کو بھی جھیل کی صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ قدرت کے اس شاہکار کا حسن ماند نہ پڑے۔بنجوسہ جھیل کی خوبصورتی کا خیال رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے تاکہ قدرت کے دیے ہوئے اس تحفے سے  جس طرح کشمیر قدرتی مناظر کا گہوارہ ہے اسی طرح وہاں کی گھریلو دستکاریاں بھی قابلِ تعریف ہیں۔ ان کی مختلف دستکاریاں بھی قابلِ تعریف ہیں۔ ان کی مختلف دستکاریاں جیسے سونے چاندی کا کام، ریشمی پٹو، پیپر ماشی کشیدہ کاری، شال، دوشالے، گبّے، قالین، نمدے، وڈکارونگ، پوشتین وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں کشمیری ہاتھ سے تیار کرتے ہیں۔ تیاری کے بعد ان میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ ہر دیکھنے والا محو ہو جاتا ہے۔ چونکہ کشمیر ایک نہایت حسین اور دل خوش کن جگہ ہے، اس لئت یہاں تمام دنیا سے سیاح آتے ہیں اور وہاں کی ان خوبصورت دستکاریوں کے کچھ نمونے اپنی واپسی پر اپنے ساتھ ضرور لے جاتے ہیں۔ آج کشمیری کھریلو دستکاری کی چیزوں کی مانگ کافی بڑھ رہی ہے۔




 اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں کی دستکاری مقبولیت حاصل کر رہی ہے-برتن بنانا:- سونے چاندی اور تانبے کے برتن بنانا کشمیری کھریلو صنعت میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ تھال، گلدان، کٹوریاں، سگریٹ کیس، چمچے، ٹی سٹ وغیرہ بڑے نفیس تیار کئے جاتے ہیں۔ ان پر بڑے خوب صورت انداز میں مرصع  کاری اور مینا کاری کررے ہیں-شال دوشالے:- ساری دنیا میں کشمیری شال اور دوشالے اپنی خوبصورتی کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔ اور ان کے بنانے والے کاریگر تعریف کے قابل ہیں۔ ان شالوں اور دوشالوں پر جو کشیدہ کاری کی جاتی ہے ان کی نفاست اور خوبصورتی دیکھتے ہی بنتی ہے۔ یہ شال دوشالے لداخی بھیڑوں کی اُون سے تیار کی جاتی ہیں۔ لداخی بھیڑوں کے اُون دیگر جگہ کی بھیڑوں سے بہتر ہوتا ہے۔: کشیدہ کاری:- اس کام کے لئے خاص طور پر سرینگر بہت مشہور ہے۔  پیپر ماشی:- یہ صنعت بھی کشمیریوں میں بہت مقبول ہے۔ پھٹے پُرانے چیتھڑوں یا گلے سڑے ردّی کاغز کے ٹکڑوں کو ایک برتن میں سڑاکر ان کی لگدی مٹی کی طرح بناتے ہیں پھر اس لگدی کو مختلف قسم کے سانچوں میں ڈھال کر مختلف خوبصورت اور عمدہ چیزیں بناتے ہیں۔ خاص طور سے سُرمے دانی، زیورات کے ڈبے، قلمدان، پھولدان، ڈبّے، سگار بکس وغیرہ۔ پھر ان پر عمدہ قسم کی نقاشی کرتے ہیں بعد میں وارنش کرکے تیار کر دیتے ہیں جو بہت دیدہ زیب ہوتی ہے۔ لوئیاں اور پٹّو:- کشمیر میں عورتیں چاہے وہ بڑے گھر کی ہو یا چھوٹے۔ سردی کے موسم میں اُون کاتیں ہیں۔ اور مرد اس اُون سے لوئیاں اور پٹّو تیار کرتے ہیں۔ یہ کام ساری وادی میں کیا جاتا ہے۔ لدّاخ میں بھی پٹّو اور کمبل کا کام ہوتا ہے۔ وُڈ کارونگ:- یہ کام بھی کشمیر کی بہترین دستکاری میں شمار ہوتا ہیں۔ چنار کی لکڑی اور اخروٹ کی لکڑی پر کھُدائی کا کام بڑے خوب صورت ڈھنگ سے کیا جاتا ہے۔ طرح طرح کے بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔ پھر ان پر مرصّع کاری کی جاتی ہے۔


ان لکڑیوں سے میز، کرسیاں، سگار بکس، صندوق، ٹیبل لیمپ وغیرہ تیار کئے جاتے : نمدہ سازی اور قالین بنانا:- کشمیریوں کے گھروں میں نمدہ سازی، قالین بنانا، گبّے بنانا بھی ایک بہترین دستکاری ہے۔ سرینگر میں نمدے بنائے جاتے ہیں اور اننت ناگ میں گبّے بنائے جاتے ہیں۔ قالین بنانے کا کام بھی سرینگر میں کیا جاتا ہے۔ نمدوں اور گبّوں پر کشیدہ کاری بھی کی جاتی ہے-: ولو ورکس:- چھڑیاں، ٹفن بکس، ٹوکریاں وغیرہ بید کے چھلکوں سے اعلٰی پیمانے پر کرتے ہیںسرینگر اور جمّوں میں کرکٹ کے بلّے بنانے کے کار خانے ہیں جو بید کی لکڑی سے تیار کئے جاتے ہیںپوستین بنانے کے لئے بلّی، لومڑی اوع چیتے کی کھال بھی استعمال کرتے ہیں۔چھنیٹ کا کام:- اس کام کے لئے سرینگر، سانبہ، جموّں، اننتناگ اور بارمولہ بہت مشہور ہیں۔ بڑے دلکش ڈیزاین بنائے جاتے ہیں۔پتھر کا کام:- کشمیری پتھر کے کام کرنے میں بھی ماہر ہیں۔ یہ پتھروں سے مالا، ہار، کانٹے اور آرائش کی دیگر چیزیں تیار کرتے ہیں۔غرض یہ کہ کشمیر کی کھریلو دستکاری فائدہ مند ہے خوبصورت ہے دلکش ہے اور سجاوٹ -ڈل جھیل سری نگر کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے ڈل جھیل سری نگر کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے، جسے اکثر "شہر کا دل" کہا جاتا ہے۔ اس کی پرسکون سطح نیلے آسمان اور برف پوش پہاڑوں کی عکاسی کرتی ہے، ڈل جھیل زائرین کو مکمل سکون کا احساس فراہم کرتی ہے۔ زائرین شکارا کی روایتی کشتیوں کی سواریوں کا تجربہ کر سکتے ہیں، رنگین تیرتے بازاروں سے گزر سکتے ہیں، یا جھیل پر واقع پرتعیش ہاؤس بوٹس میں آرام کر سکتے ہیں۔صرف ایک خوبصورت قدرتی جگہ سے زیادہ، ڈل جھیل مقامی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ماہی گیر، کشتیوں پر تجارت کرنے والے تاجر، اور شکارہ کشتی کشمیری ثقافت کی ایک متحرک ٹیپسٹری تخلیق کرتے ہیں۔ سردیوں میں، جب جھیل جم جاتی ہے، تو یہ آئس سکیٹنگ کا ایک مثالی مقام بن جاتا ہے، جو گرمیوں سے بالکل مختلف منظر پیش کرتا ہے۔

1 تبصرہ:

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

مخملیں وادیوں کی سر زمین 'جنت ارضی کشمیر

  :   کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ قدرت کے حسن کا وہ شاہکار ہے جہاں پہنچ کر انسان دنیا  کو بھول جاتا ہے۔ اس کی حسین وادی...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر