ہفتہ، 29 اگست، 2026

پھول جو بن کھلے مرجھا گئے

 


پمز اسپتال سانحہ کیسے پیش آیا؟ پمز انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس کے مطابق این آئی سی یو میں انکوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والا نیبولائزر پھٹا۔ نیبولائزر پھٹنے سے آکسیجن نے آگ پکڑ لی۔رپورٹ کے مطابق آگ سے دھواں پیدا ہوا اور وہ پائپ کے ذریعہ بچوں کے سانس میں گیا، بچوں کی موت آکسیجن بند ہونے اور جھلسنے سے ہوئی، آگ پہلے کم تھی پھر تیزی سے پھیلی۔خیال رہے کہ پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں آگ لگنے سے 14نومولود بچوں کی جان چلی گئی، ریسکیو اور اسپتال انتظامیہ کے مطابق آگ ایئرکنڈیشنر کمپریسر پھٹنے کے باعث لگی، آکسیجن سلینڈرز کی موجودگی کے باعث آگ تیزی سے پھیلی، ایک نومولود کو بچا لیا گیا۔پمز اسپتال واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں، وزیر صحت مصطفی کمال  سانحے میں جاں بحق بچوں کی میتیں ورثا کو دے دی گئیں۔ والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں عملے کی غیر موجودگی اور دروازے بند ہونے کا الزام  عائد کرتے ہوئے ریسکیو اداروں کے دیر سے پہنچنے کی شکایت  کی۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز نے عملے کی غیر موجودگی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی یو میں 2 ڈاکٹرز، 4 نرسز اور دیگر عملہ موجود تھا، اسپتال میں تسلی بخش فائر سسٹم موجود تھا۔کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر    لوگوں نے  اپنی مدد آپ کے تحت کام کیا - ایگزٹ ڈور پر تالے پڑے ہوئے  تھے ٹوٹے ہوئے  شیشوں والی کھڑ کیوں  سے لواحقین اپنے بچوں کی سوختہ  لاشوں تک پہنچے  اور لکڑی کی سیڑھی کے زریعہ  ان معصوم پھولو ں کی  میتیں اتار کر لائَے 


سی ڈی اے نے آگ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیموں کے فوری پہنچنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آگ پر قابو پاتے ہوئے بچوں کو فوری آئی سی یو منتقل کیا گیا۔ضلعی انتظامیہ نے تحقیقات کے لیے 8رکنی انکوائری کمیٹی بنا دی، کمیٹی 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ آگئی -پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے کے افسوسناک واقعے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی۔پمز اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے سے متعلق انتظامیہ نے ابتدائی بیان جاری کردیا، جس کے مطابق آگ لگنے کا واقعہ صبح 6 بج کر 38 منٹ پر پیش آیا۔رپورٹ کے مطابق نرسری کے اندر چنگاری بھڑکی اور چند سکینڈ میں شدید آگ پھیل گئی، انکیوبیٹر پر آکسیجن پوائنٹس کے باعث آگ نے اچانک شدت اختیار کی۔پمز اسپتال کے کسی ڈاکٹر کو کچھ نہیں ہوا، صرف بچے جلنے تھے، جاں بحق بچے کی ماں کی دہائی-پمز انتظامیہ کے مطابق 2 ڈاکٹرز اور 2 نرسز نے ریسکیو آپریشن شروع کیا، سیکیورٹی عملہ بھی مدد کے لیے پہنچا، عملے نے بچوں کو نکالنے کےلیے 2 مرتبہ نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کی


انتظامیہ کے مطابق صبح 6 بج کر 39 منٹ پر دھماکا ہوا۔ چھتیں گر گئیں، ڈیوٹی عملے نے نرسری سے ملحقہ کمرے سے بچوں کو بحفاظت ن ریسکیو کے دوران 3 ماؤں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔پمز اسپتال انتظامیہ کے مطابق اسی منزل پر قائم گائنی وارڈ کے 73 مریضوں کو بھی چند منٹ میں بحفاظت نکالا گیا۔اسپتال میں نصب 35 فائر ایکس ٹنگوشرز عملے نے آگ پر قابو پانے کے لیے استعمال کیے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا  کہنا ہے کہ پمز اسپتال سانحے کی وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق فوری، جامع تحقیقات کی جائیں گی، ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف سخت ترین کاروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پمز اسپتال واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔ درد ناک واقعے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ اس مشکل گھڑی میں سوگوار خاندانوں کو صبر، حوصلہ اور استقامت عطا فرمائے، ہمارے بچوں کی حفاظت ہر صورت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔پمز اسپتال کے کسی ڈاکٹر کو کچھ نہیں ہوا، صرف بچے جلنے تھے، جاں بحق بچے کی ماں کی دہائی-خیال رہے کہ پمز اسپتال کے گائنی وارڈ میں جھلس کر جاں بحق 14 نومولود کے والدین غم سے نڈھال ہیں،


 والدین نے بچوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے اور اسپتال انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 14 نوزائیدہ بچوں کے جاں بحق ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو معطل کردیاوفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے پر سب سے پہلے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے ہیں۔استعفے کے سوال پر مصطفیٰ کمال کا جواب، احتجاج کے باعث واپس بھی جانا پڑ گیاصحافی کے سوال پر کہ کیا آپ مستعفی ہو رہے ہیں؟ مصطفیٰ کمال نے جواب دیا کہ وزیراعظم ان کے باس ہیں، وزیراعظم نے انہیں کچھ باتیں کرنے سے روکا ہے۔ پہلے وزیراعظم سے بات کرلیں، پھر کچھ کہیں گے۔واقعے کے ذمے داروں کے تعین کیلئے وزیراعظم نے سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔اسی دوران پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق بچوں کی انتہائی نگہداشت میں نصب انکیوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار بتانے والے آلے میں چھوٹا دھماکا ہوا۔ چنگاری کے باعث آکسیجن نے آگ پکڑلی۔والدین اور عینی شاہدین نے نرسری میں طبی عملے کی غیر موجودگی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ دروازے بھی بند تھے۔ انہوں نے ریسکیو اداروں پر دیر سے پہنچنے کا الزام بھی لگایا۔سی ڈی اے کے فائر ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ دی ہے کہ پمز میں آگ سے بچاؤ اور انسانی جانوں کے تحفظ کے انتظامات ناکافی تھے۔ یہ بھی کہا کہ ہنگامی اخراج کے راستے باہر سے مستقل طور پر بند تھے۔پمز انتظامیہ کے مطابق تمام ایمرجنسی ایگزٹس مکمل طور پر کھلے اور فعال تھے، نوزائیدہ بچوں کی اموات پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔

1 تبصرہ:

  1. نرسری میں آگ اتنی تیزی سے کیوں بھڑکی اور ایمرجنسی راستے بند کیوں تھے؟ پمز آتشزدگی سے جڑے اہم سوالات

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

پھول جو بن کھلے مرجھا گئے

  پمز اسپتال سانحہ کیسے پیش آیا؟ پمز انتظامیہ نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس کے مطابق این آئی سی یو میں انکوبیٹر کے ساتھ آکسیجن کی مقدار ب...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر