میر امن ایک پائے کے نثر نگار تھے جنہوں نے اردو نثر نگاری کو چار چاند لگائےان کے بزرگ ہمایوں کے عہد میں مغلیہ دربار سے وابستہ ہوئے۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے اور یہیں مکتب کی تعلیم حاصل کی ۔مغلوں کے دور آخر میں جب دلی کو احمد شاہ ابدالی نے تاراج کیا تو میر امن دہلی چھوڑ کر عظیم آباد پہنچے۔ وہاں سے کلکتہ گئے کچھ دن بیروزگاری میں گذرے۔ بالاخر میر بہادر علی حسینی نے ان کا تعارف فورٹ ولیم کالج کے شعبہ ہندوستانی کے سربراہ ڈاکٹر گل کرائسٹ سے کرایا۔ انھوں نے میر امن کو کالج میں ملازم رکھا لیا۔ اور قصہ چہار درویش (فارسی) سلیس نثر میں لکھنے پر مامور کیا۔ چنانچہ ان کی فرمائش پر 1801ء میں باغ و بہار لکھنی شروع کی۔ 1802ء میں مکمل ہوئی اور اسی سال ہندوستانی مینول میں اس کے 102 صفحے شائع ہوئے۔ بعد ازاں 1804ء میں نظر ثانی شدہ مکمل ایڈیشن منظر عام پر آیا۔ میر امن کی دوسری کتاب گنج خوبی ہے جو ملا حسین واعظ کاشفی کی (اخلاق محسنی) کا ترجمہ ہےمیر امن کی زندگی کے حالات کسی کتاب یا تذکرہ میں نہیں ملتے، لہذا ان کی ولادت، وفات اور مدفن کے متعلق کسی کو صحت کے ساتھ کچھ معلوم نہیں۔میر امن دہلوی کا نام میر امان اللہ تھا اور امن ان کا تخلص۔ پہلے انہوں نے اپنا تخلص لطف رکھا تھا۔ میرامن دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔ محققین کے نزدیک ان کی پیدائش ۱۷۵۰ کے آس پاس محمد شاہ کے عہد میں ہوئی۔ بعض لوگوں نے 1732کو خاص کیا ہے اور کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ1747 میں پیدا ہوئے۔ احمد شاہ ابدالی کے حملے کی وجہ سے میر امن کے خاندان نے دہلی چھوڑ کر پٹنہ کا رخ کیا۔ میر امن وہاں سے کلکتہ گئے تاکہ انہیں روزگار مل سکے۔ وہاں نواب دلاور جنگ کے چھوٹے بھائی میر محمد کاظم خاں کو تعلیم دینے کےلیے مقرر کیے گئے۔
اسی دوران ان کی ملاقات میر بہارد علی حسینی سے ہوئی۔ ان کے ذریعہ میرامن فورٹ ولیم کالج پہنچے اور انہیں اس کالج میں ملازمت حاصل ہوئی۔ میر امن اس کالج کے ہندوستانی شعبہ میں 40روپے مہینے کے حساب سے منشی کے طور پر مقرر کیے گئے۔ میر امن نے اس کالج سے وابستہ رہ کر ’’باغ و بہار‘‘ میں لکھی۔ یہ کتاب امیر خسرو کی فارسی داستان ’’قصہ چہار درویش ‘‘کا آسان اردو ترجمہ ہے۔ اسے انہوں نے جان گلکرسٹ کی فرمائش پر لکھی۔ میر امن نے اس کتاب کے ذریعہ سادہ سلیس اور آسان زبان و اسلوب کی بنیاد ڈالی۔ میر امن اپنے اسی اسلوب کی وجہ سے کافی مقبول ہوئے۔ اردو ادب میں اپنی اسی کتاب کی بدولت میر امن اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ اسی کالج سے ہی وابستہ رہ کر انہوں نے دوسری کتاب ’’گنج خوبی‘‘ لکھی جوکہ ملاحسین واعظ کاشفی کی کتاب ’’اخلاق محسنی‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ لیکن اس کتاب کو اتنی مقبولیت نہ ملی۔ میر امن اس کالج سے پانچ سال تک وابستہ رہے
باغ و بہار کا تعارف:باغ و بہار میر امن کی معروف و مشہور داستانوی کتاب ہے۔ اسے انہوں نے ۱۸۰۲ میں لکھی اور پہلی بار ۱۸۰۴ میں یہ شائع ہوئی۔ یہ داستان امیر خسرو کی فارسی داستان ’’قصہ چہار درویش‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس سے پہلے میر عطا حسین خاں تحسین نے اس داستان کا ترجمہ ’’نوطرز مرصع ‘‘ کے نام سے کیا جس کی زبان بہت مشکل ہے۔ اس کے بعد میر امن نے اس کا آسان اردو ترجمہ کیا۔ مولوی عبدالحق کا ماننا ہے کہ میر امن کی اس کتاب کا اصل ماخذ ’’نوطرز مرصع‘‘ ہے۔باغ و بہار کی خصوصیات:باغ و بہار کی خصوصیت یہ ہے اس میں ہندوستانی تہذیب و معاشرت کا عکس پیش کیا گیا ہے۔ خاص طور سے میر امن نے دہلی کی تہذیب کی عکاسی کی ہے۔ اس کتاب سے اس وقت کی دہلوی تہذیب، معاشرت،طرز زندگی، شادی بیاہ، رسم و رواج اور روایات سے ہمیں واقفیت حاصل ہوتی ہے۔اسی طرح شاہی دربار، نوابوں کی حویلیاں، مختلف موسمی پھل اور مختلف کھانوں کا ذکر اس داستان میں موجود ہےمیر امن کی نثر نگاری۱۔زبان کی سادگی: میر امن کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے اردو نثر میں آسان، سادہ اور عام فہم زبان کی بنیاد ڈالی ہے۔ میر امن سے پہلے سادہ اور آسان زبان میں لکھنے کا رواج نہ تھا۔ بلکہ مشکل سے مشکل عبارت لکھی جاتی تھی جو کہ اس وقت مہارت کی دلیل تھی۔
لیکن میر امن نے آسان زبان کا استعمال کرکے اردو کو سادگی کا راستہ دکھایا جس کو بعد میں غالبؔ وغیرہ نے بھی اختیار کیا۲۔ زبان کی لطافت میر امن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے عبارت کو پر لطف بناکر پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر پڑھ کر قاری کو اکتاہت کا احساس نہیں ہوتا بلکہ قاری مزے لے لے کر پڑھتا جاتا ہے۔۳۔ الفاظ کا استعمال:میر امن کا کمال یہ ہے انہوں نے موقع و محل کے اعتبار سے مناسب الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ میر امن کے پاس بہت سے الفاظ ہوتے ہیں۔ پھر ان الفاظ کی جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں انہوں نے استعمال میں لایا۔۴۔ لفظوں کی تکرار یا تابع مہمل:میر امن نے لفظوں کی تکرار اور تابع مہمل کے ذریعہ بھی اپنی نثر کو خوبصورت بنایا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ان کے یہاں کثرت سے نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر گھر گھر، پل پل، روتا دھوتا، لڑکے بالے وغیرہ۔۵۔ متروک الفاظ:میر امن کے یہاں ایسے الفاظ کی بھی کثرت ہے جو پہلے بولے اور لکھے جاتے تھے لیکن آج ان الفاظ کا بولنا اور لکھنا چھوڑ دیا گیا ہے۔ مثلا کبھو، کدھو اور ایدھر اودھر وغیرہ۔۶۔ عربی و فارسی کے الفاظ: میر امن نے ضرورت کے اعتبار سے عربی اور فارسی کے الفاظ کو بھی بہت خوبصورتی سے استعمال میں لایا ہے۔ ایسے الفاظ مشکل نہیں ہوتے ہیں بلکہ وہ عام فہم ہوتے ہیں۔۷۔ ہندی الفاظ: میر امن کی نثر کی ایک خوبی یہ ہے انہوں نے ہندی الفاظ کا بھی خوبصورت استعمال کیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ عربی اور فارسی کے آسان الفاظ جو اردو میں رائج ہیں ایسے الفاظ کی جگہ پر انہوں نے ہندی الفاظ کو ترجیح دی ۔
۔ کچھ لوگوں کے مطابق 1806اور زیادہ تر لوگوں کے مطابق 1808 کو کلکتہ میں ان کا انتقال ہوا
جواب دیںحذف کریںادبی خدمات: میر امن دہلوی کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انھوں نے فارسی کے مشہور "قصہ چہار درویش " کا اردو میں ترجمہ "باغ وبہار کے نام کے ساتھ کیا یہ کتاب اتنی مشہور ہوئی کہ فورٹ ولیم کالج نے یہ کتاب انگریزی آفیسروں کی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں درسِ نصاب میں شامل کی لیکن باغ وبہار کی بڑی یہ ہے کہ اس میں جو پانچ قصے بیان کیے گیے ہیں وہ آسان اور دلنشین زبان میں ہیں اس میں سادگی کا حسن بھی ہے اور زبان کی شیرینی بھی۔میرامن دہلوی کاطرزتحریر اس قدر صاف،شیریں اوربامحاورہ ہے بقول سرسید احمد خان دہلوی کو اردو نثر میں وہیں مقام حاصل ہے جو میر تقی میر کو نظم میں حاصل ہے