بدھ، 25 مارچ، 2026

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سانحہ منٹھار

  غ  غربت بھی کیا بلا ہے 'کوئ میرے وطن کے غریبوں سے پوچھے جہاں کروڑوں کی گا ڑیاں  ان صاحب ثروت افراد میں مثل ریوڑیوں کے تقسیم ہوتی ہیں  جن کے پاس پہلے ہی لگژری گاڑیا مفت میں پہلے ہی ملی ہوئ  ہوتی ہیں آئیے ان غرباء کی زندگیوں پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں  - عید سر پہ کھڑی ہے اور  غریب خواتین کو اس رقم کی ضرورت ہے جس رقم سے وہ اپنے اور گھر والوں کے لئے رزق کا بندوبست کریں گی لیکن پھر   ان پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہےرحیم                  یار خان کے نواحی علاقے منٹھار بنگلہ کے چک نمبر 125 میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصول کرنے کیلئے آئی خواتین پر چھت گرنے سے 8 جاں بحق اور 76 زخمی ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ امداد کیلئے آنے والی خواتین کی تعداد سینکڑوں میں تھی اور 200 سے زائد خواتین ریٹیلر شاپ کی چھت پر موجود تھیں۔ حادثے کے بعد قیامت کا سماں تھا، ہر طرف چیخ و پکار اور آہ و بکا کی آوازیں آرہی تھیں۔یہ خواتین جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی کا ترلہ کر رہی تھیں کہ جان کی بازی ہار گئیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ پر وزیر اعظم اور وزیرا علیٰ کی طرف سے کوئی نمائندہ نہ موقع پر پہنچا اور نہ امداد کا اعلان ہوا۔


 البتہ صدر زرداری کی طرف سے وفات پانے والی خواتین کیلئے دس دس لاکھ اور زخمی خواتین کیلئے تین تین لاکھ امداد کا اعلان ہوا ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک سے غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں، ملک میں غربت بڑھ رہی ہے، غربت اور امارت کے درمیان فاصلے طویل ہوتے جا رہے ہیں، مانگنے والا چاہے جتنا صحت مند کیوں نہ ہو معذور بن جاتا ہے۔رحیم یار خان کے سانحہ میں بھی مجبور خواتین ماری گئیں، یہ حادثہ اُن تلخ حقائق کو بے نقاب کرتا ہے کہ سرائیکی وسیب میں غربت، بیروزگاری، جہالت، پسماندگی، محرومی و محکومی کے باعث وسیب کے غریب لوگ مشکلات کا شکار ہیں۔  ؟ یہ پروگرام عظیم خاتون محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر شروع کیا گیا ہے، اس کی چیئرپرسن بھی خاتون ہیں، پنجاب کی وزارت اعلیٰ بھی ایک خاتون کے پاس ہے۔ اگر بے سہارا اور بزرگ خواتین کے مسائل کا احساس ان خواتین کو نہیں تو پھر کس کو ہو گا؟۔وسیب کی یہ مجبور خواتین رمضان شریف میں کیا کیا ضرورتیں اور کیا کیا خواہشیں لے کر امدادی سنٹر گئیں مگر وہ میتوں کی صورت میں گھر پہنچیں تو نہ صرف اُن کے گھروں میں بلکہ پورے وسیب میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔


 آج جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے، پنشن اور تنخواہوں کی طرح یہ امداد بھی بینکوں کے ذریعے خواتین کو مل سکتی ہے۔  ؟ بیمار، لاچار، ضعیف و بزرگ خواتین کی بڑی بڑی لائنیں لگوانا اور اُن کی عزت نفس مجروح کرنا ، سارا دن انہیں ذلیل و خوار کرنا، کہاں کی دانشمندی ہے؟ یہ واقعہ وطن وسیب کے ہر شخص کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔ خصوصاً خطے کے جاگیردار، سیاستدان اور مقتدر مراکز کے حکمران جنہوں نے سرائیکی وسیب میں صنعتی ترقی نہیں ہونے دی، جنہوں نے آج تک پورے وسیب میں ایک بھی ٹیکس فری انڈسٹریل زون قائم نہیں ہونے دیا اور وہ لوگ جو کہ صوبے کے راستے میں رکاوٹ ہیں میں سمجھتا ہوں کہ یہی لوگ اس سانحہ کے ذمہ دار بھی ہیں۔


انکم سپورٹ پروگرام میں طرح طرح کی شکایات ہیں، یہ بھی شکایت ہے کہ اس سے دو نمبری سے صاحب حیثیت لوگ بھی استفادہ کرتے ہیں۔ مظلوم خواتین ایک عرصے سے فریاد کرتی آرہی ہیں کہ ایجنٹ اور انکم سپورٹ پروگرام فراہم کرنے والا عملہ ہر خاتون سے پندرہ سو روپے بھتہ لیتا ہے آج تک ان شکایات کا ازالہ نہیں ہوا۔ غریب اور بے سہارا خواتین جن میں عمر رسیدہ اور علیل خواتین بھی شامل ہوتی ہیں اُن کیلئے بیٹھنے تک کا انتظام نہیں ہوتا، پانی پوچھنا تو دور کی بات ہے ، حالانکہ ریٹیلر سنٹر والے بہت پیسے اکٹھے کر رہے ہوتے ہیں۔ سانحہ رحیم یار خان نے سب کچھ آشکار کر دیا ہے۔سانحہ کے موقع پر خواتین نے جو شکایت کی اُس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ شروع میں اے ٹی ایم کارڈ سے رقم نکالنے میں سہولت تھی مگر موجودہ نظام سے زیادہ تر خواتین کا عملے سے جھگڑا ہوتا ہے یا قطار میں پہلے کھڑے ہونے پر خواتین کو مارا پیٹا جاتا ہے جس میں کئی خواتین زخمی ہوکر واپس لوٹ جاتی ہیں، ہر جگہ یہی صورتحال ہے۔ خواتین نے جذباتی انداز میں یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں وہ روزے سے پورا دن قطار میں کھڑی رہتی ہیں۔ بعض اوقات شدید گرمی میں عورتیں بے ہوش ہوجاتی ہیں اس طرح جینے سے بہتر ہے کہ اس رقم کو ہی نہ دیا جائے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر عورت کو بینک میں اکائونٹ کھولنے کا اختیار دیا جائے تاکہ وہ جب چاہے رقم نکال سکے یا بینک میں اپنے اکائونٹ میں محفوظ رکھے تاکہ وہ قطاروں میں کھڑے ہونے کی تکلیف سے بچ سکے۔ حکومت کو سب مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اس معاملے پر غور کرے اور بینک کے ذریعے خواتین کو عزت اور احترام کے ساتھ یہ امداد فراہم  صنعت کی مستحکم ترقی کا غربت کے خاتمے میں اہم کردار ہےصنعت غربت سے نجات دلانے اور آمدن میں اضافے کا بنیادی ستون ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکومت اور مقامی حکومتوں نے وبا کے اثرات پر قابو پانے اور صنعت کی مستحکم ترقی میں غربا کی مدد کے لیے مختلف پالیسیاں اور اقدامات اختیار کئے ہیں

1 تبصرہ:


  1. یہ خواتین جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی کا ترلہ کر رہی تھیں کہ جان کی بازی ہار گئیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ پر وزیر اعظم اور وزیرا علیٰ کی طرف سے کوئی نمائندہ نہ موقع پر پہنچا اور نہ امداد کا اعلان ہوا۔ البتہ صدر زرداری کی طرف سے وفات پانے والی خواتین کیلئے دس دس لاکھ اور زخمی خواتین کیلئے تین تین لاکھ امداد کا اعلان ہوا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سانحہ منٹھار

  غ   غربت بھی کیا بلا ہے 'کوئ میرے وطن کے غریبوں سے پوچھے جہاں کروڑوں کی گا ڑیاں  ان صاحب ثروت افراد میں مثل ریوڑیوں کے تقسیم ہوتی ہیں ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر