ملک کا دارالحکومت تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کا سمند ر پانیوں کے ساتھ ساتھ تیل بھی اگلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باکو شہر کے نواح کا سفر کرتے ہوئے یا پھر شہر سے باہر نکل کر دیگر علاقوں کی طرف جائیں تو سمندر میں لگی ہوئی کرینیں نظر آئیں گی۔ یہ مشینیں تیل کی تلاش کا کام کرتی ہیں۔جہاں تک آذربائیجان میں نظامِ حکومت کا سوال ہے تو وہاں بھی ایک غیر جمہوری حکومت ہے ۔ الہام علیوف ملک کے صدر ہیں جو ان کے اجداد کی مسند ہے ۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ایک بڑا شہر ہے۔ یہ آذربائیجان کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ بحیرہ کیسپیئن کے کنارے واقع ہے۔ باکو تیل کی دولت سے مالا مال علاقے میں واقع ہونے کے باعث تیل کی صنعتوں کا مرکز ہے۔ شہر 11 اضلاع اور 48 قصبہ جات میں تقسیم ہے۔ باکو کے وسط میں قدیم شہر واقع ہے جس کے گرد فصیل ہے۔ دسمبر 2000ء میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ شطرنج کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی گیری کیسپاروف کا تعلق اسی شہر سے ہے۔جزیرہ نما آبشاران سے پہلی مرتبہ مشینوں کے ذریعے 1842ء میں تیل نکالا گیا۔ 1877ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔ 1907ء میں باکو سے باطوم (بحیرہ اسود) تک تیل کی پائپ لائن مکمل ہو گئی اور معدنی تیل برآمد ہونے لگا۔ روسی انقلاب کے بعد 31 جولائی 1918ء سے 28 اپریل 1920ء تک باکو آزاد مملکت آذربائیجان کا دار الحکومت رہا، پھر سرخ فوج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ دسمبر 1991ء میں سقوط روس کے بعد باکو آزاد جمہوریہ آذربائیجان کا صدر مقام بن گیا۔ باکو کے قریب پارسیوں (مجوسیوں) کا آتش کدہ آج بھی قائم ہے۔ مجوسی مذہب کے بانی زرتشت کا تعلق آذربائیجان ہی سے تھا۔
اس شہر کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ پہاڑ پر تعمیر کردہ عمارات پر مشتمل ہے۔ یہاں کہیں آپ کو سیڑھیاں اُتر کر غاروں میں تعمیرشُدہ دُکانوں میں جانا پڑتا ہے، تو کہیں سیڑھیاں چڑھ کر پتّھر سے بنی سڑک کے دونوں اطراف واقع غار نما دُکانوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے، جن میں آذربائیجان کی مقامی مصنوعات فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں اور ان میں بھی قالین اور شالیں نمایاں ہیں۔ ساحل پر واقع نیشنل پارک تھا۔ طویل ساحلی پٹّی پر جدید طرزِ تعمیر کے حامل ہوٹلز، ریسٹورنٹس، شاپنگ مالز اور وسیع و عریض باغ واقع ہے۔ ساحل پر غیر مُلکی سیّاحوں کے علاوہ مقامی باشندے بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پورا باکو شہر ہی ساحل پر اُمڈ آیا ہے۔ یہاں بنے شاپنگ مالز میں دُنیا کے تمام بڑے برانڈز کی مصنوعات اور تفریحِ طبع کا سامان موجود ہے۔نیشنل پارک میں ایک ’’مِنی وینس‘‘ بھی ہے، جہاں نہریں بہہ رہی ہیں اور ان کے کنارے دِیدہ زیب سنگِ مرمر سے پختہ کیے گئے ہیں۔ نہروں کے کنارے پُھولوں سے ڈھکی راہ داریاں اور اوپر چھوٹے چھوٹے پُل ہیں۔ مِنی وینس کی سَیر کے دوران ہمیں تازہ بلیو بیری اور اسٹرا بیری فروخت کرنے والا ایک مقامی باشندہ دکھائی دیا۔ اگر آپ کے پاس مغربی پاسپورٹ ہو تو آپ کی باکو سماج میں آؤ بھگت ہو گی ۔باکو معاشرے میں رشوت ستانی عام ہے میرے نزدیک اس رشوت ستانی کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان و پاکستان کے نوجوان یورپ جانے کے چکر میں آذربائیجان جاتے ہیں پھر وہاں سے یورپ نکلنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ آذری حکام جانتے ہیں کہ یہ لوگ کیوں آرہے ہیں‘ ان کی اس خواہش اور ویزہ کے حصول میں غلط بیانی ان لوگوں کی کمزوری بن جاتی ہے
اور یوں ان کے لیے رشوت دینا لازم ہوجاتا ہے۔ ایک پاکستانی کا کہنا ہے کہ میرے ساتھ باکو ایئر پورٹ پر جب اس طرح کا برتائو کیا جانے لگا تو میں نے اپنا تعارفی کارڈ پیش کیا‘ اس پر امیگریشن افسر نے خوش اسلوبی سے نہ صرف مہر لگائی بلکہ ادب سے سلام بھی کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہمارے اپنے معاملات درست ہوں تو ایسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ آذربائیجان کے کسی بھی باشندے کو آپ ملیں تو اس کی وضع قطع اور گفت و شنید سے آپ کو مسلم ہونے کا تاثر نہیں ملے گا۔ لوگوں کی اکثریت آذری زبان کے ساتھ ساتھ روسی اور فارسی زبان بھی سمجھتی ہے۔ یہ ایک شیعہ اکثریتی ملک ہے اوراس کے ایران کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ روسی اور مغربی کلچر کے مظہر اس ملک میں عملاً اسلام دور دور تک نظر نہیں آتا۔ شہر کے فٹ پاتھ پر چلتے ہوئے یا زیرِ زمین میٹرو ٹرین کے سٹیشنوں پر جاتے ہوئے آپ کو جگہ جگہ شراب کے ٹھیلے نظر آئیں گے، یہاں شرب پانی کے بھاؤ بکتی ہے اور سرِ بازار کھلے آسمان تلے رقص و سرود کا انتظام ہوتا ہے۔ فٹ پاتھ کے ساتھ ساتھ واقع شراب خانوں میں نوجوان لڑکیوں کا ناچنا ایک مکمل انڈسڑی کی صورت اختیار کرچکاہے۔
کچھ ایسے پاکستانی بھی نظر آئے جو ماؤں اور بہنوں کا زیور بیچ کر تو کوئی زمین کے ٹکڑے اور مال مویشی بیچ کراس لیے آذربائیجان آ تے ہیں کہ یہاں سے کسی یورپ کےملک نکل جا ئیں گے اور اپنے رزق حلال سے اپنے گھر والوں کا مقدر بدل دیں گے۔اس معا شرے میں نوجوان لڑکیاں اور لڑکے کسی بھی مغربی ملک سے کہیں زیادہ مادر پدر آزاد اور بے راہ روی کا شکار نظر آتے ہیں ۔ خواتین دکانیں چلاتی اور کاروبار کرتی ہیں۔ کھانا پینا اور طرزِ زندگی سو فیصد روسیوں والا ہے۔ باکو ائیر پورٹ دارالحکومت میں واقع ہے ۔ شہر میں زیرِ زمین ریل کا نظام پہلے سے موجود ہے اور اسے مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ آذری کرنسی کا نامــ’منات ‘ہے جو تقریباً ایک128 روپے کے برابر ہے یعنی یہ ڈالر سے بھی زیادہ مستحکم ہے۔ باکو کا نام فارسی لفظ بادکوبہ (ہواؤں کا مارا ہوا) سے مشتق ہے اور اس کے محل وقوع کے لحاظ سے بہت موزوں ہے۔ قرون وسطٰی کے مورخین اسے باکویہ، بلاکوہ اور باکہ بھی لکھتے ہیں۔ تاریخ میں اس کا ذکر تیسری صدی ہجری کے بعد برابر آتا ہے۔ باکو عرصے تک شاہان شیروان کے ماتحت رہا۔ 1550ء میں صفوی سلطان طہماسپ اول کا اس پر قبضہ ہو گیا۔ 1583ء تا 1660ء یہ شہر عثمانی ترکوں کے ماتحت رہا۔ 1806ء میں روسیوں نے اسے ایرانیوں سے چھین لیا۔ باکو کے دو بڑے قدیم ترین اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات کی معلومات اگلی تحریر میں
اس تحریر میں گوگل سرچ سے استفادہ کیا گیا ہے
جواب دیںحذف کریںیہاں کے باشندے اپنی وضع قطع سے مسلمان نہیں دکھائی دیتے، لیکن سلیم الفطرت ضرور ہیں اور آذری باشندوں کی نئی نسل دینِ اسلام میں دِل چسپی رکھتی ہے ،تو دِل سے دُعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ اس خطّے کی تمام اسلامی ریاستوں میں مقیم مسلمانوں تک دین کا صحیح علم پہنچانے کے ذرائع اور و سائل پیدا کر دے