ہفتہ، 14 مارچ، 2026

جنگیں 'انسانیت کی ہلاکت اور سرمایہ کی بربادی لاتی ہیں

 


’ہر شخص کو جنگ کے بارے میں کیا جاننا چاہیے‘کرس ہیجیز کی مشہور تصنیف ''’ہر شخص کو جنگ کے بارے میں کیا جاننا چاہیے‘‘ شاید ان چند ایک کتابوں میں شامل ہے، جو ماحولیاتی نقصان پر تفصیل سے بات کرتی ہیں لیکن اس کتاب کا محور بھی انسانی ہلاکتیں اور دوسرے عناصر ہیں۔مثال کے طور پر مذکورہ بالا کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباﹰ ساڑھے تین ہزار سالوں پر محیط معلوم   انسانی تاریخ میں ابن آدم نے صرف 248 سال حالت امن میں گزارے ہیں، جو ریکارڈ ڈ ہسٹری کا صرف آٹھ فیصد بنتا ہے۔اس کتاب کا یہ دعویٰ ہے کہ صرف بیسویں صدی میں ایک سو آٹھ ملین افراد جنگوں میں ہلاک ہوئے، جو کہ ناقدین کے مطابق ایک محتاط اندازہ ہے کیونکہ یہ تعداد اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہو سکتی ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں جنگوں سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ پندرہ ملین سے لے کر ایک ارب تک کا ہے۔واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار 2003ء تک کے ہیں۔ اس کے بعد بھی دنیا میں بہت سارے مسلح تصادم ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ کئی ملک خانہ جنگی کا شکار بھی ہوئے اور ان پر بیرونی حملے بھی کیے گئے۔ 2003ءکے بعد بھی ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ سے زائد افراد جنگ، مسلح تصادم اور خانہ جنگی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔جنگوں میں صرف انسانی جانوں کے نقصان پر ہی توجہ مرکوز رکھی جاتی ہے جب کہ ماحولیات کو پہنچنے والے نقصان پر بہت کم بات کی جاتی ہےہیجز کی اس تصنیف میں  جنگ کی ہولناکیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ جنگ سے کس طرح ماحول اور ماحولیات کو نقصان پہنچتا ہے کیونکہ ہمیں زندگی گذارنے کے لئے ہوا سے لے کر پانی اور پانی سے لے کر تمام دوسرے قدرتی وسائل درکار ہوتے ہیں، جو قدرتی ماحول کا ایک حصہ ہیں۔ناقدین کا خیال ہے کہ ہمیں اکثر یہ تو بتایا جاتا ہے کہ اگر ایک پلاسٹک کا ڈبہ فلاں جگہ پر رکھ دیا جائے تو اس کا ماحولیات پر کیا اثر ہوتا ہے یا کوئی کچرے کا ڈبہ کسی سمندری حدود میں پھینک دیا جائے تو وہ ماحول کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔ یعنی وہ عمل جو شاید ماحول کو اتنی بری طرح متاثر نہیں کرتے ہیں



، ان کا تذکرہ تو ہوتا ہے لیکن جنگ، دفاعی اخراجات، جنگ کی تیاریاں، حربی مشقیں اور ہتھیاروں کے تجربات کس طرح ماحولیات کو ایک ناقابل تلافی تباہی کا شکار کر تے ہیں، اس پر بہت کم بولا اور لکھا جاتا ہے۔تیل اور ہتھیاروں کی تجارت-شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہتھیاروں اور تیل کی خریدوفروخت میں ملوث لابیا ں بہت مضبوط ہیں اور ان دونوں لابیوں کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے۔ مثال کے طور پر دنیا کی افواج کو اگر مختلف ادارہ جاتی اکائیوں میں سے ایک اکائی سمجھا جائے تو شاید یہ واحد اکائی  ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ تیل استعمال کرتی ہے اور جس کے جلنے اور جلانے سے ماحولیات پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔بالکل اسی طرح پینٹاگون بحیثیت ایک ادارے کے  دنیا کا وہ واحد ادارہ ہے، جو شاید سب سے زیادہ تیل استعمال کرتا ہے۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ چند جنگی طیاروں میں جتنا ایندھن استعمال ہوتا ہے وہ شاید روڈ پر چلنے والی سینکڑوں بسوں یا ممکنہ طور پر ہزاروں بسوں سے بھی زیادہ ہو۔کیوں کہ دنیا بھر کی مسلح افواج اور ان کے اضافی تربیت یافتہ دستے عالمی افرادی قوت کا ایک اچھا خاصا حصہ ہیں،س لیے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے اور ماحول کو خراب کرنے میں ان کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔یہ خیال کیا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں مسلح افواج کی تعداد دو کروڑ دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح کیونکہ یہ افواج کھربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں اس لیے اس بات کا بھی امکان ہے کہ اس خرچ سے ماحولیات پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔دثال کے طور پر کر س ہی



جز کی مذکورہ  بالا کتاب میں کیے گئے ایک دعوے کے مطابق امریکہ نے 1975ء سے لے ک 2003 تک اپنے اپنی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا  اوسطاﹰ تقریبا تین سے چھ فیصد حصہ قومی دفاع پر لگایا ہے، جو وفاقی بجٹ کا سالانہ 15 سے 30 فیصد حصہ بنتا ہے۔اکیسویں صدی کے ابتدائی سالوں میں یہ بجٹ تقریباﹰ 350 بلین ڈالر سالانہ تھا۔ جب کہ تعلیم کے لیے سالانہ 60 بلین ڈالرز اور ریاستی و بین الاقوامی معاونت کے لیے صرف 15 بلین ڈالر مختص تھے۔ انیس سو چالیس سے لے کر انیس سو چھیانوے تک امریکہ نے فوج پر 16.3 ٹریلین ڈالر خرچ کیے، جس میں سے پانچ ٹریلین ڈالر سے زیادہ جوہری ہتھیاروں پر خرچ کیے گئے تھے۔ اتنے وسیع پیمانے پر اخراجات سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ماحولیات پر کیا اثرات مرتب کیے ہوں گے۔ یہ خرچہ اس کے علاوہ ہے جو عراق اور افغانستان کی جنگوں میں کیا گیا۔ براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق امریکہ ان جنگوں میں پانچ ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکا ہے۔ کچھ اور اندازوں کے مطابق یہ خرچہ آٹھ ٹریلین ڈالر کا ہے۔لہذا اس سیریز میں ہم کوشش کریں گے کہ یہ بتایا جا سکے کہ جنگی تیاریاں، جنگی مشقیں، ہتھیاروں کے تجربات، دفاعی بجٹ اور خانہ جنگی کس طرح ماحولیات کو متاثر کر رہی ہےآبنائےہرمز وہ قدرتی آبی گذر گاہ ہے ہاں سے دنیا بھر میں استعمال ہونےوالے تیل اور قدرتی گیس کاپانچواں حصہ گذرتا ہے۔ لیکن ایران نے اپنے اوپر امریکی و اسرائیلی مشترکہ جنگ کے بعد اسے امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کے لیےبند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران کے شمالی ساحل سے متعلق ایک تنگ مگر انتہائی اہم آبی راہگذر ہے۔ 28 فروری سے جاری جنگی صورت حال میں ایران کی طرف سے کیے گئے اس اقدام کے باعث جہازوں کی تعداد 97 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔



یہ اعدادو شمار اقوام متحدہ کی طرف سے دیا گیا ہے۔امریکہ جو اس خطے میں تقربآ دو ہفتوں سے جنگ کا کلیدی فریق ہے۔ اس کی کوشش ہےکہ جنگ جاری رہنے کے باوجود اس کے اثرات عالمی منڈیوں کے لیے تیل اور گیس کی فراہمی کے امور پر جنگی اثرات نہ پڑیں اور تیل اور گیس کی ترسیل سے متعلق اس کے اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ ممکن رہے ۔ تاکہ توانائی کے کسی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ بلا شبہ توانائی کی ضرورت صرف امن کے دنوں میں ہی نہیں ہوتی جنگ کے دنوں میں اس کی ضروریات کئی سطحوں پر بڑھ جاتی ہیں۔خطرے میں کیاہے ؟جیساکہ اوپر کی سطور میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک تنگ مگر انتہائی اہمیت کی حامل آبی راہداری ہے۔ یہ ایران اور اومان کے درمیان ہے۔ یہ خلیج اور خلیج اوان کوجوڑتی ہے۔ اس ناطے تیل کی ترسیل کا واحد راستہ ہے جو اس خطے میں پایا جاتا ہے۔ جسے کویت، ایران، قطر اور متحدہ عرب امارات وغیرہ بھی استعمال کرتے ہیںاس کی بندش اور جنگی اثرات کی زد میں آجانے سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں ایک بڑا اضافہ یوکرین کی جنگ کی وجہ سے ہوا تھا اور جس میں یوکرین پر روس نے فروری 2022 میں حملہ کیا تھا ۔ وہ جنگ ابھی تک جاری ہے۔ اب فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف یوکرین کے خلاف روسی حملے سے کہیں زیادہ تیاری اور وسعت کے ساتھ ایک نئی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ کو تشویش ہے کہ تیل کی قیمتیں مزید اونچی ہو جائیں گی۔جنگ کے اثرات صرف توانائی کے امور پر مرتب ہوتے میں ہوتے دنیا بھر کے لیے کھادوں کی تیاری و ترسیل بھی بھی متاثر ہوتی ہے اور کھادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یقینآ جنگ جوں جوں لمبی ہوتی جاتی ہے اس کے اثرات زرعی شعبے کو بی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں


۔ اہم بات ہےکہ دنیا بھر میں استعمال کی جانے والی کھادوں کو 33فیصد بھی اسی آبنائے ہرمز سے گذرتا ہے۔یوں ایک پھیلتی چلی جانے والی جنگ جو خوش قسمتی سے امریکہ اور اسرائیل دونوں کی سرحدوں اور عوام کی زندگیوں اور مفادات سے ہزاروں میل کی دوری پر ہے اور دونوں ملکوں نے لازمآ مشکل جنگی دنوں کی بھی خود تو تیاری پیشگی بنیادوں پر کی ہوگی مگر اصل مسئلہ دوسرے ملکوں کو ہے جو کسی بھی اس جنگ میں شریک ہیں نہ اس کا دعویٰ رکھتتے ہیں۔



 اس لیے خطرہ 1970 کی دہائی میں ایندھن کی قیمتوں کے ذریعے پیداہونے والا تازہ بحران ایک نئے عالمی معاشی بحران کو جنم دے گا۔ایرانی دھمکی ؟پاسداران انقلاب کور نے انتباہکررکھا ہے کہ کہ آبنائے ہرمز سے اس کے سائے سے کوئی ایسا جہاز نہیں گزر سکے گا جسے ایران نہیں چاہے گا۔ ایسا جہاز جو بھی گذرے گا اسے نشانہ بنایا جائے گا، اب تک کم از کم 11 جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔سمندر سفر اور نقل وحمل سے تعلق اعدادوشمار مرتب کرنے والے اور جائزے ترتیب دینے والے ایک ادارے کے مطابق ابتک زیادہ تر نقل وحمل رک چکی ہے۔ انتہائی کم تعداد باقی ہے جبکہ انشورینس کمپنیوں نے پریمیئم میں 300 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔امریکہ اور دوسرے ملکوں کا وعدہ کیا ہے ؟صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3مارچ کو کہا امریکہ کی اس جنگ کے دوران آبنائے ہرمز سے گذرنے والی ٹریفک کو تحفظ دیا جائے گا۔ تاکہ تیل کے بھرے ٹینکر آسانی سے گذرتے رہیں۔ ٹرمپ نے اس سلسلے میں امریکی ڈویلپمنٹ اینڈ فنانس کارپوریشن کو حکم جاری کیا کہ وہ جہاز راںکمپنیوں کو پوری طرح انشورنس اور ضمانتیں فراہم کرے۔ تاکہ جنگ بھی رہے اور امن بھی ہو۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے کئی یورپی ملکوں کے علاوہ بھارت اور دیگر ایشیائی ملکوں سمیت منصوبہ بندی کررہے ہیں کہ جہازوں کو آبنائے ہرمز ،یں مشترکہ طور پر تحفظ فراہم کرنے کا اہتمام کیا جائے۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اجتماعی کوشش بحیرہ احمرکی طرح کی ہوگی جس کی صورت اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے حامی یورپی ملکوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر پیدا کی تھی۔ تاکہ حوثی حملے روکے جائیں اور مل کر حوثیوں کے یمن میں مراکز کو نشانہ بنایا جائے۔



البتہ ان کے مطابق یہ تحفظ بعد از جنگ دینے کا منصوبہ ہے۔ گویا جنگ کے بعد ایران کی اس آبنائے پر کنٹرول اور اجارہ داری کو باقی ررہنے نہیں دیا جائے گا، کہ یہ 'ہتھیار ' بھی ایران کے ہاتھ میں نہ رہے۔ان کے بقول فرانس اپنی بحری فوج کی 12 کے قریب جنگی کشتیاں اور ایک طیارہ بردار جہاز تعینات کرنے والا ہے۔ یہ فورس مشرقی بحر متوسط ، بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کو امکانی طور پر دیکھے گا۔برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے منگل کے روزجرمنی اور اٹلی کی قیادتوں سے اسی تناظر میں بات کی ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو بے خطر بنایا جائے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

زراعت و معیشت میں پاکستانی عورت کا کردار

   پاکستان  ایک زرعی ملک ہے۔ اور یہاں کی تقریباً ۷۰؍ فبصد آبادی زراعت کرتی ہے۔  پاکستان میں دیہی علاقوں کی   عورتیں بیج بویائی سے فصل کی تی...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر