جمعہ، 13 مارچ، 2026

چائے پاکستانی ثقا فت کا اہم جزو ہے

  سرکاری اور چائے کے کاروبار سے منسلک اداروں کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً دو کھرب روپے کی چائے قانونی طور پر درآمد کی جاتی ہے جبکہ محتاط اندازوں کے مطابق قانونی طور پر درآمد ہونے والے چائے کے علاوہ لگ بھگ ایک کھرب کی چائے پاکستان میں غیر قانونی طور پر لائی جا رہی ہے۔پاکستان میں پہلی مرتبہ چائے کی کاشت کا کامیاب تجربہ نیشنل ٹی ریسرچ انسٹیئیوٹ شنکیاری، جو کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں واقع ہے، نے بفہ نامی علاقے میں کیا تھا۔پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں چائے کی ’کامیاب‘ کاشت محمد اختر نعیم کہتے ہیں کہ اُن کی معلومات کی حد تک ’پاکستان میں چائے کی کامیاب کاشت کے تجربے علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیت اور مرحوم رستم خان ایڈووکیٹ نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں کیے تھے۔ رستم خان ایڈووکیٹ علاقے کے ایک بڑے زمیندار ہونے کے علاوہ اپنی زمینوں پر نئی فصلیں کاشت کرنے کے تجربے کرتے رہتے تھے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ’ایک برطانوی ڈاکٹر برابنٹ چائے کی کاشت کے ماہر تھے۔ وہ اس وقت کے قائم کردہ پاکستان ٹی بورڈ کی معاونت کر رہے تھے۔ انھوں نے کر اس وقت کے مغربی پاکستان میں چائے کی کاشت کے کامیاب تجربات کیے تھے۔ ڈاکٹر برابنٹ نے کئی مرتبہ رستم خان ایڈووکیٹ کے پاس پاکستان دورے کیے تھے پاکستان » مانسہرہ کے باغات جن کی چائے کو چینی کالج نے ’بہترین‘ چائے قرار دیامانسہرہ کے باغات جن کی چائے کو چینی کالج نے ’بہترین‘ چائے قرار دیاسی پیک روٹ کے متصل ضلع مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں چائے کے باغات کے ساتھ ہی چائے بنانے کی فیکٹری بھی لگائی گئی ہے




۔ کسان کو چائے کی فصل اگانے کے لیے پانچ سے چھ بار  قربانی دینی ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ و  ہ  کو  کسانوں کو معاوضہ دے تاکہ وہ اسے کاشت کرنے پر آمادہ ہوں۔انہوں نے کہا: ’اس بار 52 کروڑ ڈالر کی چائے درآمد کی ہے، اگر ہم چائے کا ایک ایک پیالہ بھی پینا چھوڑ دیں تو ہماری بچت ہو جائے گی۔‘خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے شنکیاری میں میلوں دور تک چائے کے باغات پھیلے ہوئے ہیں جن سے ملنے والی چائے کو چین کے ایک ادارے کی جانب سے بہترین چائے قرار دیے جانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔شنکیاری میں 1986 میں قائم کیے گئے نیشنل ٹی اینڈ ریسرچ سنٹر کے ڈائریکٹر عبدالوحید کے مطابق پاکستان میں کاشت کی گئی چائے کو چین کے ٹین فو ٹی کالج نے 2008، 2009 اور 2013 میں بہترین چائے کا ایوارڈ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹین فو ٹی کالج دنیا کا واحد کالج ہے جہاں چائے پر تحقیق کی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق شمالی علاقہ جات، کشمیر، مانسہرہ، بٹگرام اور سوات میں کل ایک لاکھ ایکڑ کے قریب زمین چائے کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ تاہم ملک میں اب تک صرف پانچ سو ایکڑ رقبے پر کی چائے کاشت کی جاتی ہے۔


 پاکستان میں استعمال ہونے والی زیادہ تر چائے درآمد ہوتی ہے۔،پاکستان اس وقت صرف 200ایکڑ پر چائے کی کاشت کرتا ہے یہ پاکستان کی چائے کی وسیع ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، پا اس سے صرف سالانہ سات سے آٹھ ٹن چائے پیدا ہوتی ہے پاکستان دنیا میں چائے کے سب سے بڑے درآمد کنندگان میں سے ایک ہے۔ گوادر پرو کے مطابق چینی ثقافت کے تانے بانے میں چائے کی جڑیں گہری ہیں ۔چائے ایک عام، من پسند اور سستا مشروب ہے اس لیے اسے دنیا کے کئی ممالک میں شہری و دیہی علاقوں کے لوگ اسے شوق سے پیتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع بھی اسی سے کرتے ہیں۔بطور ایک ڈاکٹر اور ایک سیاح، مجھے تو چائے کی شدید طلب رہتی ہے      چائے جسم کو تروتازہ اور چاق و چوبند رکھنے کے ساتھ نزلہ، سر درد اور زکام میں بھی راحت پہنچاتی ہے۔ ایک اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ چائے کینسر کی روک تھام میں بھی مددگار ہے۔پاکستان میں چائے کی کھپت اور درآمدچائے طویل عرصے سے دنیا بھر میں ایک محبوب مشروب رہا ہے، لیکن کچھ ممالک نے اس کی کھپت کو ایک فن کی شکل میں بڑھایا ہےان قوموں نے چائے پینے کا کلچر پروان چڑھایا ہے، جہاں چائے کے گرم گھونٹ، روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن گئے ہیں۔

  ایک تحقیق کے مطابق 2021 میں پاکستان نے پانچ سو چھیانوے ملین ڈالر مالیت کی 2،258،000 کلو سبز اور کالی چائے درآمد کی تھی۔ یوں پاکستان 2021 میں سب سے زیادہ چائے درآمد کرنے والا ملک بن گیا۔2023 ۔پاکستان میں چائے کی کاشت کا آغازپاکستان میں چائے کی اہمیت اور ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے 1982 میں چین سے چائے کی کاشت کا ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک تفصیلی سروے کے ذریعے چائے کے لیے موزوں علاقوں کا انتخاب کیا گیا۔ضلع مانسہرہ کے خوب صورت مقام، شنکیاری میں 33 ایکڑ رقبے پر چائے کی تجرباتی کاشت شروع کر دی۔ تجربہ کام یاب رہا تو ایک چائے ساز کمپنی نے بھی 1986 میں مانسہرہ کے مقام ''اچھڑیاں'' میں ایک تحقیقاتی اسٹیشن قائم کیا، جس کا کام شنکیاری میں پیدا ہونے والی چائے کا موازنہ عالمی منڈی میں دوسرے ممالک کی چائے سے کیا گیا۔ بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے پر نہ صرف پاکستان کی کئی کمپنیوں نے اس پراجیکٹ میں بھرپور دل چسپی کا اظہار کیا بلکہ اردگرد کے کسانوں نے بھی اپنی زمینوں پر چائے کی کاشت شروع کردی۔نیشنل ٹی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، 1986 میں شنکیاری ضلع مانسہرہ میں 50 ایکڑ اراضی پر ریسرچ اسٹیشن کے طور پر قائم کیا گیا تھا جو نیشنل فوڈ سیکیوریٹی اسلام آباد کے تحت کام کر رہا تھا۔   
مضمون کی تیاری میں گوگل سے مدد لی گئ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

چائے پاکستانی ثقا فت کا اہم جزو ہے

   سرکاری اور چائے کے کاروبار سے منسلک اداروں کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً دو کھرب روپے کی چائے قانونی طور پر درآمد کی جاتی ہے جبکہ م...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر