اجے منوت اورنگ آباد، بھارت کے چھوٹے سے قصبے میں پیدا ہوئے بچپن اور جوانی شدید مشکلات اور محنت سے گزارا. مہاراشٹر آیا، کپڑے اور گندم کا کاروبار شروع کیا اور اپنی محنت سے لکھ پتی بن گئے. اجے نے اپنی بیٹی شریا منوت کی شادی کے لیے کروڑ روپے جمع کیے لیکن اس نے اپنی بیٹی کا جہیز نہیں بنایا، کپڑے جوتے اور زیورات نہیں بنائے، داماد کو نئی گاڑی لے کر نہیں دی..اس نے اپنی بیوی، بیٹی اور داماد سے مشورہ کیا، دو ایکڑ زمین خریدی اور اس پر نوے گھر بنوا دئیے. پھر یہ گھر جھونپڑیوں میں رہنے والوں میں تقسیم کر دئیے. ہر گھر 20فٹ12 ہے، اس میں کچن بھی ہے، بجلی بھی ہے اور پینے کا صاف پانی بھی. گھر بانٹتے ہوئے اجے منوت کی فیملی نے خود کچی آبادیوں کا رخ کیا اور مستحق خاندانوں میں ہی گھر بانٹے گئے، یہ بھی خیال رکھا گیا کہ کوئی چرسی شرابی یا جرائم پیشہ یہ گھر نہ لے سکے.شادی کے دن شریا نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر خود گھروں کی چابیاں مستحق خاندانوں میں تقسیم کیں. نوے خاندانوں کے سینکڑوں افراد نے دولہا دلہن کی زندگی میں خوشیوں کے لیے دعائیں کیں اور یہ آج تک روزانہ صبح شام ان کے لیے دعائیں کر رہے ہیں. اجے منوت اور اس کی بیٹی جین مت کے ماننے والے ہیں، ان کا اللہ رسول سے، روز قیامت سے جزا و سزا سے جنت دوزخ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے.
.اب آئیے پاکستان کی طرف، ملتان کے ایک امیر کبیر تاجر شبیر قریشی نے اپنے بیٹے نعمان کی شادی کی، بارات کے لیے دس لیموزین گاڑیاں منگوائی گئیں، دولہے کو سونے تاج پہنا کر شیر کے پنجرے پر بٹھایا گیا، اس کے علاوہ مہمانوں کی سینکڑوں گاڑیاں الگ تھیں. شادی کارڈز ہیلی کاپٹر سے پورے ملتان شہر پر پھینکے گئے۔ دلہن کے ماں باپ نے بھی اپنی بیٹی کو پانچ کروڑ روپے کا جہیز دیا جس میں ایک فل فرنشڈ گھر اور گاڑی شامل ہے. اس شادی پر ایف بی آر نے دونوں خاندانوں کو اثاثہ جات، آمدنی اور ٹیکس گوشواروں کی تفصیل جمع کروانے کے لیے نوٹس جاری کر دیئے۔قارئین، شبیر قریشی مسلمان ہے، اللہ اور روز آخرت پر یقین رکھتا ہے، یہ عاشق رسول بھی ہے اور اسے امت مسلمہ کی زبوں حالی پر پریشانی بھی ہے لیکن شبیر قریشی اجے منوت کی طرح قربانی اور ایثار کے لیے تیار نہیں.. شبیر قریشی جیسے پاکستان میں ڈھیروں امراء اشرافیہ موجود ہیں، یہ لوگ خود گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور ملازموں کو ڈگی میں بٹھا دیتے ہیں، ملازموں کے ساتھ ہوٹل جاتے ہیں خود پیزا کھاتے ہیں اور ملازم کو ماش کی دال ملتی ہے. آپ شہر کی کسی بھی بڑی شادی کا حال دیکھ لیں، کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، شرابیں چلتیں ہیں، کنجریوں پر لاکھوں پھینکے جاتے ہیں، لاکھوں کی فائرنگ ہوتی ہے، لیکن غریبوں کو ولیمے سے بچ جانے والا کھانا بھی نہیں ملتا..
آپ پاکستان کی تباہی و بربادی کی وجوہات تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں انگلیوں پر گن لیں اجے منوت جیسے کتنے ہیں اور شبیر قریشی؟شادی کی تصاویر اور ویڈیوز منظر عام پر آتے ہی مریم نواز سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں اور اس کی وجہ ان کے مہنگے جوڑے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے بیٹے کی مہندی کی تقریب کے لیے مشہور پاکستانی ڈیزائنر نومی انصاری کے ڈیزائن کیے ہوئے پیلے رنگ کے خوبصورت لہنگے کا انتخاب کیا جس پر باریک گوٹا، کامدار کڑھائی اور نفیس نقش و نگار نمایاں ہیں۔نومی انصاری کی آفیشل ویب سائٹ پر جوڑوں کی قیمتیں درج نہیں ہوتیں لیکن زیادہ تر ان کے ڈیزائن کیے ہوئے جوڑوں کی قیمت 5 لاکھ روپے سے زیادہ ہی ہوتی ہے۔مریم نواز نے بیٹے کی بارات کے دن پاکستانی ڈیزائنر اقبال حسین کے ڈیزائن کیے ہوئے خوبصورت جوڑے کا انتخاب کیا، ان کے جوڑے پر دھاگے اور سلور زردوزی کا بھاری بھرکم کام نمایاں تھا۔یہ خوبصورت جوڑا اقبال حسین کی پریمیم برائیڈل لائن میں شامل ہے اور برانڈ کی مخصوص قیمتوں کے مطابق اس جوڑے کی قیمت 2 سے 4 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی اہلیہ شانزے علی روحیل کے بارات آؤٹ فٹ کی تفصیلات سامنے آگئیں۔جنید صفدر کی شادی کی تقریبات ان دنوں پوری آب و تاب کے ساتھ سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں، شادی کی تقریبات کا آغاز جاتی اُمرا میں منعقدہ مہندی سے ہوا،
جس میں شریف خاندان کے اہم افراد بشمول میاں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر اعوان سمیت قریبی عزیز و اقارب نے شرکت کی۔ نکاح کی پروقار تقریب لاہور کے ایک خوبصورت فارم ہاؤس میں منعقد کی گئی، اس موقع پر دلہا اور دلہن دونوں نہایت خوبصورت دکھائی دیے۔شانزے علی روحیل کا بارات پر پہنا گیا لباس فیشن حلقوں میں خاص طور پر سراہا گیا، انہوں نے معروف بھارتی ڈیزائنر ترون تہیلیانی کا تیار کردہ دیدہ زیب لباس زیب تن کیا جو حال ہی میں بالی ووڈ اداکارہ اننیا پانڈے بھی ایک تقریب میں پہن چکی ہیں۔ شانزے علی روہیل کی گہری سرخ ساڑھی پر مدھم سنہری اور آئیوری رنگ کے ریشمی دھاگوں، کشیدہ کاری اور سیکوئنز سے روایتی انداز میں نفیس کام کیا گیا تھا۔انہوں نے ساڑھی کے ساتھ بڑا دوپٹہ اوڑھا، جسے مختلف مواقع پر گھونگھٹ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا، بلاؤز کو خاص طور پر شانزے علی روحیل کے لیے کسٹمائز کیا گیا تھا۔زیورات میں انہوں نے پولکی اور زمرد سے جڑا خوبصورت ہار اور بالیاں زیب تن کیں اور ہاتھوں میں چوڑیاں پہنیں، اگرچہ اس مخصوص ترون تہیلیانی کی ساڑھی کی درست قیمت عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی، تاہم اسی نوعیت کی ہائی اینڈ ساڑھیاں اور لباس عموماً 2949 پاؤنڈ سے 6862 پاؤنڈ (تقریباً 32 لاکھ سے 75 لاکھ بھارتی روپے) کے درمیان فروخت ہوتے ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں