جمعرات، 12 فروری، 2026

دروازے کی آہٹ پر وہ اپنے حواسو ں میں لوٹ آئ

 

  نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کرلی تھی کہ اپنے آپ کو سنبھالا ہوا تھا مگر دل پر بھلا کس کو اختیار ہوسکتا ہے ،اور اس کا دل سینے کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا کہ اس کو جان ودل سے ا پنا بنانے والا کبھی بھی واپس نہیں آنے کے لئے اس سے روٹھ کردنیا سے جا چکا تھا,,سو چوں کے انہی جان گسل لمحات میں ,ایجاب وقبول کے لئے مولاناصاحب طلال کے ہمراہ اس کے پاس آگئے'ایجاب و قبول کا مرحلہ شروع ہوا نصرت نگین بنت اسلام الدّین آپ کو مبلغمہر شرعی شامیل احمد ابن خلیق احمد کے ساتھ نکاح منظور ہے اور مولاناصاحب کے الفاظ پورے ہونے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو بے ہوش ہونے سے بچایا ،اورپھر اس نے مولانا کے دوسر ی بار کے مرحلے پر پہنچنے پر آہستہ سے ہاںکہاور نکاح نامے کو اپنی موت کا پروانہ سمجھ کر سائن کر دئےاور نکاح کے بعد اس کی منجھلی آپا اور بڑی آپا نے اس کے دونو ں بازوتھام کر شامیل کے پہلو میں لا کر بٹھا دیا، اس نے نا تو اپنی نگاہیں اوپراٹھائیں اور ناہی شامیل نے اس کے پہلو کی قربت کو اپنے نزدیک پسند کیا اسلئے کچھ فاصلہ پر کھسک کر بیٹھ گیا جس کو سب نے اس کی شرم و حیا کی تعبیرجانا مووی بنتی رہی تصاویر کھینچی جاتی رہیںفو ٹو گرافر مووی میکر باربار اصر ار کرنے لگا زرا سا کلوز ہو جائیے ,,زرا سا کلوز ہو جائیے اور وہ زراسا کلوز ہوتا اور پھر دور ہوجاتا ، اور وہ بے روح کی مانند ساکت ہیرہی اور بغیر ایک آنسو بہائے رخصت ہو کرشامیل کے گھر میں سر جھکائے'جھکائے آ گئ'


اس شادی میں اس کے میکے میں ناکوئ رسمیں ہوئیں ناریتیں ہوئیں نا ڈھولک کی تھاپ پر کسی سہیلی نے کوئ سہاگ گیت گا یا ،بس منجھلی آپا ہی تو تھیں جنہوں نے اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا دی تھی اور بیوٹی پارلر لے جاکر دلہن بنوا لائ تھیں-شامیل کے ٹرپل اسٹوری گھر میں مہمان بھرے ہوئے تھے ،پہلے رسمیں ریتیں ہوئیں جن کو اس نے ایک مشینی روبو ٹ کی طرح پو را کروا لیاحالانکہ بہت کم وقت کے نوٹس پر یہ تقریب منعقد کی تھی مگر دونوں جانب سےسمجھدار لوگ اس تقریب کے کرتا دھرتا تھا ادھر سے طلال اور فرحین تھے ادھرسے ربیکا اور معروف تھے ،تمام کام سلیقے سے انجام پا گئے تھےاور اب ربیکا اور اس کی بھابھی نے اس کو حجلہ عروسی میں پہنچا دیا ان دونو ں کےکمرے سے جانے کے بعد اس نے ٹوٹے ہوئے دل کی کرچیں سمیٹ کر آہستہ سےگھونگھٹ کی اوٹ سے کمرے کا جائزہ لیا ،ہر ،ہر شے نفیس تھی ،,,,,, ہر طرف رنگوں کی خوشبوؤں کی بارات تھی کمرے کے دروازے اور کھڑکیوں پر پڑے ہوئے حریری پردے اے ,سی کی نرم خنکی اور کمرے کی چھت کے درمیان لگے ہوئے سنہرے پینٹڈ پنکھے کی ہلکی ہوا میں رات کے ماحول کو خوابناک بنا رہے تھے اور اس ماحول میں وہ اکیلی تھی رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی اورپھولوں سے مہکتے چپر کھٹ جیسے حسین بیڈ پرتنہا بیٹھی ہوئ اپنے حا لیہ ماضی کے لئے سوچے جارہی تھی کہ کاش جب بڑی
آپا نے اس کو رشتے کے بارے میں جاننے کے لئے اور لڑکے کی تصاویر دیکھنےکے لئے لفافہ دیاتھا تو اس نے ایک نظر کیوں نہیں دیکھ لیا ،اگر وہ دیکھ لیتی تو شائد کوئ بھی بہانہ کر کے انکار کر دیتی,



 لیکن یہ تو اس کے گمان کے لاکھویں حصّے میں بھی نہیں تھا کہ کراچی کے لڑکے کا رشتہ اس کے ساتھ پنڈی میں طے ہوگا اور شادی پھر کراچی میں ہی ہو گی اور پھر بلکل اچانک ہی اس کا زہن یعسوب کی جانب چلا گیا ،یہ شب عروسی تو اس کو اپنے خوابوں کےشہزادے یعسوب کے ساتھ منانی تھی لیکن اس کے دل کے راج محل کا شہزادہ اسکے ارمانوں کی دنیا لوٹ کر منوں مٹی کے نیچے جاسویا تھا ،پھر یعسوب زہن سے محو ہو گیا اور ایک دم شجاعت کی سوچوں نے اس کے زہن پرقبضہ کیا ,, وہ جانتی تھی کہ یعسوب اس قسم کی باتوں سے کتنا ناراض ہوتاہے اس لئے وہ یعسوب کی غیر موجود گی میں ہی اپنا ہاتھ دکھا کر قسمت کاحال جاننا چاہتی تھی ایسے میں ایک دن جب وہ زویا کے ساتھ لائبریری میں ا سٹڈی کر رہی تھی اسےجیسے ہی شجاعت لائبریری میں نظر آیا اس نے زویا کو اس کے پاس بھیج کراسے اپنے پاس بلا لیا اور شجاعت نے اس کے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کراس سےکہا تھا کہ لڑکی ابھی بھی وقت ہے سنبھل جاؤ اپنی کشتئء حیات کو بھنور میں ڈبونے کے بجائے کنارے پر لے آؤ ،پھر شجاعت نے کہا تھا ،تمھاری محبّت کے آسمان پر مجھ کو گہن لگتا دکھائ دے رہا ہے ، روشنی کی رمق بھی نہیں ہے،اور اس نے حیرا ن ہو کر اس سے پوچھا تھا کیا مطلب؟تو اس نے جوا بدیا تھاتم ایک دوسرے کو ٹو ٹ کر چاہو گے سب کو یقین ہو گا کہ تمھاری شادی ہو گی لیکن کمند یہا ں آکے پھر ٹوٹ جائے گی پھر جو شادی ہو گی اس کا ابتدائ عرصہ بہت تلخ ہوگا اس شادی کے آسمان پربہت زیادہ غلط فہمیاں ہیں ,,بد گمانیاں ہیں,, اور دوریاں ہیں اگر اس ڈولتی کشتی کواللہ نے سنبھال لیا تو ٹھیک ہے ورنہ یہ شادی اپنے اختتام کوپہنچ جائے گی-



اور اس نے کہا تھا ارے شجاعت زرا ہولے ہولے ڈراؤاور پھر جب اس نے ناجانےکس دھن میں یعسوب کو شجاعت کی کہی ہوئ باتیں بتائ تھیں تو یعسوب نے سخت غصّے کے عالم میں کہا تھا میں شجاعت کو شوٹ کردوں گا ،لیکن تقدیر کا لکھا پورا ہو کر رہا تھا اور اس کی زندگی کے آسمان پراندھیرا پھیل چکا تھا اور پھر ابھی اس کی بے خودی کا عا لم ٹوٹا نہیں تھاکہ شامیل نے کمرے میں اپنے داخل ہونے کی آہٹ کی اور وہ اپنے حواسو ں کی دنیا میں لوٹ آئ شامیل نے اندر آ کے کمرے کے دروازے کو لاک نہیں کیا بس بند کر دیا اورپہلے وہ کمرے میں ہی اپنی پشت پر دونو ں ہاتھ باندھے ٹہلتا رہا پھر اس نےکاٹ دار لہجے میں کہاہاں! کیا ہوا تمھارے اس عاشق کا جو مجنوں بنا تمھارے پیچھے پھرتا تھا ،اور شامیل کی آواز کہیں بہت دورسے اس کے کانوں میں آ ئ اور پھر طنز کےزہر میں ڈوبا ہواایک اور نشتر اس کی جانب پھینکا ,,یہ بھی خوب رہی جب ساری رنگ رلیاں منا لیں تو دوسرا شکار تلاش کر لیااب یہ نہیں معلوم کہ اس کا دل تم سے بھر گیا یا تمھارا دل اس سے بھر گیابہر خوب ، میرے ساتھ جو تم نے یہ کھیل کھیلا ہے اس کا حساب تو میں تم سےلے کے رہوں گا اور میرے گھر کی چھت صرف بابا جانی کی زندگی تک تمھارے لئےہے,اور پھر اس نے آگے بڑھ کر الماری سے اپنا نائٹ سوٹ نکالا ،اور پھر ہاتھ میں بغیر لفافے کے کچھ تصاویر اس کی جانب اچھال کر بولا آج کی رات دلہنوں کو منہ دکھائ بھی تو دی جاتی ہے ناں! یہ تمھاری آج کی رات کی منہ دکھائ ہےاور پھر وہ کپڑے تبدیل کرنے چلا گیا ،نگین نے اس کی پھینکی ہوئ تصاویرگھونگھٹ کے اندر سے چپکے چپکے دیکھیں 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

دروازے کی آہٹ پر وہ اپنے حواسو ں میں لوٹ آئ

    نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے بہت ہمّت کرلی تھی کہ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر