اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کسی ستارے کو دیکھ لینا
ا مجد اسلام امجد-ایک عالمی اور پاکستانی شہرت یافتہ اردو شاعر، ڈراما نگار، گیت نگار، کالم نگار تھے۔ 50 سال پر محیط کیریئر میں انھوں نے ستر سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔ انھیں اپنے ادبی کام، شاعری اور ٹی وی ڈراموں کے لیے بہت سے اعزازات ملے، جن میں تمغہ حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز اور ہلال امتیاز شامل ہیں۔سوانح۰امجد اسلام کی پیدائش 4 اگست 1944 کو لاہور میں ہوئی۔ انھوں نے اسلامیہ کالج لاہور سے بی۔ اے کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انھوں نے اپنے کیریئر کے آغاز ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد کی حیثیت سے کیا۔ 1975ء اور 1979ء کے درمیان امجد پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے ڈائریکٹر رہے۔ 1989ء میں انھیں اردو سائنس بورڈ کا ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ انھوں نے چلڈرن لائبریری کامپلیکس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔اعزازات امجد اسلام امجد کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے انھیں تمغائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔
امجد اسلام امجد ادبی محفلوں کی جان تھے اور اردو ادب کا مان بھی۔ ادب کے کئی شعبوں میں اپنے تخلیقی رنگ دکھائے۔ 40 سے زیادہ کتابیں لکھیں، تراجم کئے، کالم لکھے، نقاد اور ڈرامہ نگار کے حوالے سے نام کمایا، غزلیں تخلیق کیں اور جدید نظم نگاری کے موجد قرار پائے۔ پی ٹی وی پر ان کے ڈراموں نے تو ہر طرف دھوم مچا دی ۔ پاکستان ہی نہیں بھارت میں بھی ان کے ڈرامے اتنے شوق سے دیکھے جاتے تھے کہ سڑکیں ویران اور بازار سنسان نظر آتے تھے۔ ۔ ان کی طبیعت میں زندہ دلی، شگفتگی تھی۔ وہ جس محفل میں بھی ہوتے وہاں قہقہے گونجتےتھے۔پروڈیوسر ساحرہ نے ان سے سیریزکیلئے ''برزخ‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ لکھوایا۔ اسی سلسلے میں ''موم کی گڑیا‘‘ کے نام سے دوسرا ڈرامہ بھی ان کا ہی لکھا ہوا تھا۔انہوں نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں سرکاری ٹی وی کیلئے متعدد ایسے ڈرامے تحریر کیے جنہوں نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ یہ وہ ڈرامے ہیں جو شاید ہی کبھی ناطرین کے ذہنوں سے محو ہو سکیں۔ ان کے مقبول ترین ڈراموں میں وارث، دہلیز، سمندر، وقت، رات، فشار، دن، ایندھن سمیت دیگر شامل ہیں۔
ان کی برجستگی، جملے بازی اور مزاح مشہور تھا۔ ان کے کالم میں تازہ کاری تھی اور توانائی بھی۔نہوں نے اپنے ڈراموں اور تصانیف کے ذریعے ایک نسل کی فکری آبیاری کی۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بہت سے ملکی اور غیر ملکی ایوارڈز سے نوازا گیا حکومت پاکستان نے انہیں 1987 میں تمغہ حسن کارکردگی اور 1998 میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ پانچ مرتبہ ٹیلی ویژن کے بہترین رائٹر، 16 گریجویٹ ایوارڈز حاصل کئے۔ 2019 میں انہیں ترکی کے اعلیٰ ثقافتی اعزاز نجیب فاضل انٹرنیشنل اینڈ کلچرل آرٹس سے نوازا گیا۔ اپنے کیریئر کا آغاز شعبہ تدریس سے کیا۔ پنجاب آرٹس کونسل، اردو سائنس بورڈ اورچلڈرن لائبریری کمپلیکس سمیت متعدد سرکاری اداروں میں سرکردہ عہدوں پر ذمہ داریاں نبھائیں۔مصروف ہونے کے باوجود تسلسل کے ساتھ درس و تدریس کے شعبے سے بھی جڑے رہے ، ان کی خاص بات تھی کہ وہ استاد کی حیثیت سے کتاب سامنے رکھ کر نہیں پڑھاتے تھے۔انہوں نے کہا کہ امجد اسلام امجد نے اپنی زندگی میں لاتعداد نوجوانوں کو پڑھایا ، وہ صرف زبان ہی نہیں سکھاتے تھے، بلکہ اس کو تخلیقی انداز میں استعمال کرنے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ ان کی تعلیم کی جانب ماڈرن اپروچ نے انہیں ہردل عزیزی کی اونچی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا
اردو ادب کے فروغ کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ مشاعرے کی روایت میں غزل سنائی جاتی ہے لیکن امجد اسلام امجد یہاں بھی اپنی الگ راہ بنانے والوں میں شامل تھے۔وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مشاعروں میں نظمیں سنانے میں ایسی کامیابی حاصل کی کہ اکثر ان کی نظمیں سامعین کو یاد ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھا کرتے تھے۔ایوب خاور کے بقول امجد اسلام امجد غزل کے تو اچھے شاعر تھے ہی، نظم اور نغمہ نگار ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا۔ ایک زمانےمیں ترقی پسند شاعر ی کی طرف رجحان ہونے کی وجہ سے ان کی شاعری میں ایک اور زاویے کا اضافہ ہوگیا تھا۔
اور پھر قانون قدرت کے مطابق انہوں نے دائ اجل کو لبیک کہا اور لاہور کی زمین میں خاک کی چادر اوڑھ کر سو گئے تاریخ وفات:10 فروری 2023ء
سعود عثمانی نے بتایا کہ ’امجد صاحب سے میرا ذاتی تعلق کم و بیش 45 سال سے تھا۔ ان سے رشتہ داری تو بعد میں ہوئی لیکن ادب میں سب سے زیادہ جس شخصیت نے مجھے خوش آمدید کہا اور پزیرائی دی، وہ امجد اسلام امجد تھے۔‘
جواب دیںحذف کریں