اور نگین نے لمحے کے ہزارویں حصّے میں دل میں فیصلہ کیا کہ وہ دنیا کے کسی بھی فرد پر اپنی نجی زندگی کارازاس وقت تک فاش نہیں کر ے گی جب تک دنیا والوں پر خود سے حقیقت آشکار نہیں ہو جاتی ہےچنانچہ ربیکا کے جواب میں کچھ کہنے کے بجائےا س نے مسکراتے ہوئے سر جھکا لیا اور پھر ربیکا نے اسے دوبارہ گلے سےلگا کر دعاء دی سدا سہاگن رہو اور جلدی سے چاند سے بیٹے کی ماں بنو، او ر وہ سر جھکائے ہوئے ربیکا کی دعائیں لیتی رہی پھروہ اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگی کہ،ہم سب ناشتے پر تمھارا انتظار کر یں گے ،بواجی ناشتہ بنا رہی ہیں ،اس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا میں ناشتے سے پہلے بابا جانی کو سلام کرنا چاہتی ہوں ربیکا اس کی سعادت مندی پر خوشی سے نہال ہو کر بولی خوشا نصیب کہ اتنی اچّھی بہو ہمارے گھر آئ ہے ،چلو میں تم کو بابا جانی کے پاس لے چلتی ہوں,ربیکا نے اس سے کہا تو جی اچھّا ! کہ کراس نے سر پر لئے ہوئے دوپٹے کا ہلکا سا گھونگھٹ نکال لیا ربیکا کے کمرے میں داخل ہوتے ہی شامیل ان دونو ں کی باتو ں کی سن گن لینےدروازے کے باہر چپ چاپ کھڑا ہو گیا تھا ،کیونکہ اس کو ڈرتھا کہ نگین کہیں اس کی باجی سے ا س کی شکائتیں تو نہیں کرے گی لیکن نگین کوئ بھی حرف شکائت زبان پر نہیں لائ اور شامیل نے حقارت سے کہا ،
ابھی ہماری بہن کو اپنی بہو بیگم کی آوا رگی کی کہانیاں معلوم نہیں ہیں زرا معلوم ہو جائیں پھر دیکھنا ہے کہ باجی کا کیا ردعمل ہوگا اور پھر وہ نفرت سے پھنکارتا ہوا دروازے کے قریب سے ہٹ گیا اور پھر جب وہ ربیکا کے ساتھ با با جانی کے قریب پہنچی تو وہ بستر پر لیٹے ہوئے تھے انہوں نے اس کی جانب دیکھا اور ایک پر مسرّت مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر پھیل گئ اور نگین نے ان کے قریب پہنچ کر اپنا سر جھکایا تو انہوں نے بستر پر لیٹے لیٹے اس کے سر پر ہاتھ رکھّا او کے ہاتھ کے بزرگانہ لمس نے اس کے دل کے اندر ایک ہوک سی اٹھی اور بس پھر صبر کا دامن اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور اس نے باباجانی کے سینے پر سر جو ٹکا یا تو اچا نک اس کی ہچکیاں بندھ گئیں گھر میں سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ اپنے ماں باپ سے محروم ہو کر اس گھر کی دہلیز پر آئ ہے اس لئے سب ہی اس کی دلجوئ کرنے لگے بابا جانی کی آنکھیں بھی اس کے اس طرح رونے سے بھیگتی گئیں ربیکا نے اس کو اٹھانا چاہا تو خلیق احمد نے ربیکا کو منع کیا اور کہا رولینے دو غبار نکل جائے گا تو اس کا دل ہلکا ہو جائے گا ،اور وہ اپنا جھرّیوں بھرا کمزور ہاتھ اس کے سر پر از راہ شفقت رکھے رہے ،وہ کسی سے کہ نہیں سکتی تھی کہ اس کی تمام رات پھانسی کے پھندے پر جھول کر صبح ہوئ ہے ،اور اب وہ سچ مچ مر جانے کی خواہاں ہے پھر انہوں نے ربیکا سے کہا کہ وہ ان کی میز کی اوپر کی دراز میں رکھّا مخملی ڈبّہ نکال دے ،ربیکا نے اپنے بابا جانی کو ڈبّہ دیا تو انہو ں نے کہا بیٹی اب سر اٹھا کر دیکھو یہ تمھاری منہ دکھائ میرے پاس امانت رکھی ہوئ تھی جسے شامیل کی امّی اپنی طرف سے میرے پاس رکھواکر دنیا سے گئیںتھیں اب تمھاری یہ امانت میں تمھیں سونپ رہا ہوں،یہ شامیل کی امّی نے مجھ کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شامیل کی دلہن کے لئے ہے ،تم اس کو خود کھول کر دیکھو اور اس نے جیسے ہی مخملی ڈبّہ کھولااس کی اور کمرے میں موجود ہر فردکی آنکھیں ہیروں کی چمک دمک سے خیرہ ہونے لگیں اور اس کو بے اختیار اپنی بڑی آپا کے ہاتھوں کے کنگن یاد آگئےربیکا نے وہ کنگن وہیں پر اس کی نازک کلائیوں میں پہنا کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور بولی مبارک ہو پھر ان سب نے ناشتے کی میز پر آکر ساتھ میں ناشتہ کیا ،شامیل کی کر سیاس کے عین برابر میں تھی اور اس نے اپنے آپ پر کمال ضبط سے قابو پایا ہوا تھا ناشتے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی بڑی آپا اپنے بچّوں کے ساتھ اس سے ملنے آگئیں کیونکہ شام میں ولیمہ تھا اس لئے ا س کا میکہ کا جانا ولیمے کے اگلے دن پر رکھّا گیا تھا ولیمے کی دلہن تیّار کرنے کے لئے اس کی تیّاری کا وقت آگیا تو ربیکا اسکو ولیمے کی تیّاری کے لئےبیوٹی پارلر چلی گئ ربیکا کے شوہر معروف نے بہت ہی کم وقت میں ولیمے کا بہت ہی اعلٰی انتظام کیا تھا ویسے تو کم وقت کی وجہ سے شادی کے کارڈ چھپنے کی نوبت نہیں آئ تھی لیکن فون پرہی تما م قریبی عزیزوں اور مہمانوں کو بلا لیا گیا تھا اور خوبئ قسمت کہ شادی لان بھی مل گیا تھا اور وہ اب بیوٹی پارلر سے دلہنبن کر تیّار ہو کے آئ اسٹیج پر اکیلی بیٹھی تھی ,,اس کے چاروں طراف روشنی,خوشبو , اور رنگوں کی برسات رم جھم رم جھم کرتی اتر رہی تھی اور وہ اپنے اطراف کی ہر شئے سے بیگانہ اپنے آپ میں گم سم اداس اورتنہا تھی اس کا دل بھی اپنےآپ کو بلکل تنہا محسوس کر رہا تھا اور باہر کی تنہا الگ سے جان لیوا تھی ,اسٹیج پرکبھی کبھار ربیکا اس کے پاس مہمانوں سےتعارف کے لئے آجاتی اور کبھی زوا لفقار کی مسز چکّر لگا لیتی تھیں ،اور شامیل نے تو بھولے سے بھی ایک مرتبہ اس کی جانب نگاہ التفات بھی نہیں ڈاالی تھی وہ مہمانو ں کو ریسیو کرنے کے بہانے باہر ہی باہر تھا پھر اچانک شور ہو ا دلہن والے آگئے دلہن والے آگئے ،اورپھر زراسی دیر میں اس کی بہنیںسب اسٹیج پر تھیں فریال تنویر کی ہمراہی میں اپنی جڑواں بیٹیوں کے سا تھ لاہور سے ولیمے کی تقریب میں شامل ہونے پہنچ چکی تھی ،وہ سب سے پہلے اپنی گول مٹول گلابی رنگ کی گڑیا جیسی بیٹی کو گود میں لئے ہوئے اس کے برابر میں آبیٹھی اوربولی نگین فلائٹ نا ملنے سے ہم بارات میں نہیں آسکے پھر اس نے بڑی ہی رازداری سے نگین سے پوچھا منہ دکھائ میں کیا ملا اور فریا ل کے سوال نے نگین کو موت کے کنوئیں میں دھکیل دیا ،منہ دکھائ ،،،
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں