بھی مشرق کا وینس کہا جانے والاڈھاکہ شہر وسطی بنگلہ دیش میں دریائے گنگا کے مشرقی کنارے پر آباد ہے-مغل بادشاہوں نے اس شہر باغات محلات مقابر مسا جد سے مالا مال کیا تو انگریز حکمرانوں ،نے شہر کو بجلی ریلوے ، سینما ، مغربی طرز کی یونیورسٹیز اور کالجوں اور جدید پانی کی فراہمی دی۔ یہ 1905 کے بعد مشرقی بنگال اور صوبہ آسام کا دار الحکومت ہونے کے ناطے برطانوی راج میں ایک اہم انتظامی اور تعلیمی مرکز بن گیا۔۔آدم جی جوٹ مل یہاں کی دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل تھی-آزادی کے بعد، پاکستان کی سب سے بڑی برآمد یا ایکسپورٹ، پٹ سن تھی جس کی ساری پیداوار، سابقہ مشرقی پاکستان (یا موجودہ بنگلہ دیش) میں ہوتی تھی لیکن برصغیر کی کل 108 جوٹ ملوں میں سے کوئی ایک بھی جوٹ مل پاکستان کی حدود میں نہیں آئی تھی۔پاکستان کا خام مال کلکتہ یا ڈنڈی، سکاٹ لینڈ جاتا تھا جہاں کی جوٹ اور کپڑا ملوں سے تیار شدہ مصنوعات نہ صرف دنیا بھر میں فروخت ہوتی تھیں بلکہ خود پاکستان واپس بھی آتی تھیں۔ پٹ سن کے ریشے سے جہاں عام استعمال میں آنے والی بوریاں وغیرہ بنتی تھیں ،وہاں کاغذ اور کپڑے سمیت دو سو کے لگ بھگ دیگر مصنوعات بھی تیار ہوتی تھیں۔دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل-15 مارچ 1950ء کو ڈھاکہ کے قریب نارائن گنج میں حکومت پاکستان اور مغربی پاکستان کے ایک نجی سرمایہ کار آدم جی صنعتی گروپ کی مشترکہ سرمایہ کاری کے تحت پانچ کروڑ روپے کے سرمایے سے دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل کا سنگ بنیاد رکھا گیا جو چار سو ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔
آدم جی جوٹ ملز کا افتتاح 21 دسمبر 1951ء کو ہوا تھا۔ اس میں تین ہزار لومز اور 23 ہزار کے قریب افراد کام کرتے تھے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے بعد 1972ء میں بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمان کی حکومت نے آدم جی جوٹ ملز کو قومی تحویل میں لے لیا -ڈھاکہ ملک بنگلہ دیش کا دار الحکومت ہے۔ دریائے برہم پتر کے معاون دریا گنگا کے مشرقی کنارے پر واقع اس شہر کی آبادی 90 لاکھ سے زيادہ ہے جس کی بدولت یہ بنگلہ دیش کا سب سے بڑا اور دنیا کے گنجان آباد ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر پٹ سن کی بہت بڑی منڈی اور صنعت و تجارت کا مرکز ہے۔ یہاں کی ململ دنیا بھر میں مشہور تھا۔ ڈھاکہ اپنی خوبصورت مساجد کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ یہ دنیا کا چھٹا سب سے بڑا اور ساتواں سب سے زیادہ گنجان آباد شہر ہے۔ مغل دور حکومت میں یہ شہر جہانگیر نگر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ برطانوی راج میں یہ کلکتہ کے بعد ریاست بنگال کا دوسرا بڑا شہر بن گیا۔1921ء میں یہاں ڈھاکہ یونیورسٹی قائم ہوئی۔تقسیم ہند کے بعد یہ مشرقی پاکستان کا انتظامی دار الحکومت قرار پایا جبکہ 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد 1972ء میں اسے نو آموز مملکت بنگلہ دیش کا دار الحکومت قرار دیا گیا۔---مغل دور (17ویں صدی) میں ڈھاکہ، جسے "جہانگیر نگر" کہا جاتا تھا، بنگال کا ایک اہم اور خوشحال دارالحکومت، تجارتی مرکز، اور فن تعمیر کا شاہکار تھا۔ یہ شہر اپنی ململ، مسالوں، اور دریا کے کنارے پھیلی ہوئی مصروف بندرگاہوں کے لیے مشہور تھا، جو غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکسٹائل کی پیداوار کا مرکز بنا ہوا تھانگلہ دیش میں آج کل بھی کپڑا سازی صنعت جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی اور عالمی سطح پر معروف صنعت ہے، جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔
عالمی سطح پر ’’ریڈی میڈ گارمنٹس‘‘ کے شعبے میں بنگلہ دیش چین کے بعد دوسرا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک ہے۔ یہ صنعت ملک کے مجموعی برآمدات میں تقریباً 80 فیصد جبکہ جی ڈی پی میں 11 سے 15 فیصد تک حصہ رکھتی ہےبنگلہ دیش میں کپڑا سازی صنعت کی بنیاد 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں اس وقت پڑی جب جاپانی اور کوریائی کمپنیوں نے ملک میں کم لاگت مزدوری اور برآمدی امکانات کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاری کی۔ ابتدائی طور پر محدود سطح پر چلنے والی صنعت نے جلد ہی بین الاقوامی برانڈز اور یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کر لی-ترقی اور معاشی اہمیت-1990ء کی دہائی کے بعد بنگلہ دیشی ٹیکسٹائل شعبہ تیزی سے ترقی کرتا گیا اور آج اس شعبے سے اندازاً 4.2 ملین افراد وابستہ ہیں، جن میں 60 سے 70 فیصد خواتین مزدور شامل ہیں۔اس صنعت نے نہ صرف معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ خواتین کو مالی خود مختاری بھی فراہم کی۔بنگلہ دیش مختلف اقسام کے تیار شدہ ملبوسات بناتا ہے، جن میں شامل ہیں:ٹی شرٹس-جینز اور ڈینم مصنوعات-سویٹر-بچوں اور خواتین کے ملبوسات-نِٹ ویئر اور اسپورٹس ویئر-صنعت کو درپیش چیلنجز-اگرچہ بنگلہ دیشی کپڑا صنعت بین الاقوامی سطح پر مستحکم ہے،
پھر بھی اس کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ:مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ-فیکٹریوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی-ماحولیاتی آلودگی اور صنعتی فضلہ-عالمی منڈی میں قیمتوں کا دباؤ-2013 میں ڈھاکا کی مشہور "رانا پلازہ" فیکٹری حادثے کے بعد عالمی سطح پر بنگلہ دیشی فیکٹریوں کے حفاظتی معیار پر نظرثانی ہوئی اور ہزاروں صنعتوں نے حفاظتی تصدیق نامے حاصل کیے۔مستقبل اور پائیداری-بنگلہ دیش اب اپنی صنعت کو "گرین انڈسٹری" کی جانب منتقل کر رہا ہے۔ اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ ’’LEED (لیڈ) سرٹیفائیڈ‘‘ ماحول دوست ٹیکسٹائل فیکٹریاں بنگلہ دیش میں موجود ہیں، جس سے عالمی برانڈز کا اعتماد مزید بڑھا ہے۔عالمی منڈیاں-بنگلہ دیش کی کپڑا صنعت کی اہم برآمدی منڈیاں درج ذیل ہیں:امریکہ-یورپی یونین-کینیڈا-جاپان-برطانیہ-چین اور بھارت (خام مال کی درآمد اور مخصوص مصنوعات کی برآمد)
مغلوں کے دور میں ڈھاکہ ایک جدید اور تیزی سے ترقی کرنے والا شہر بن گیا تھا
جواب دیںحذف کریںاور آج کے دور میں بھی ڈھاکہ ایک بہترین شہر جاجاتا ہے