برطانوی تیراک روب ہوئی نیوزی لینڈ کے نارتھ آئی لینڈ کے ساحل کے قریب اپنی بیٹی کے ساتھ پُرسکون تیراکی سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ اچانک سمندر نے ایک ناقابلِ یقین منظر دکھایا۔ کہیں سے ڈولفنز کا ایک غول نمودار ہوا اور انہوں نے باقاعدہ دائرہ بنا کر باپ بیٹی کو گھیر لیا، نرمی سے انہیں اپنے درمیان رکھتے ہوئے ایک جگہ محدود کر دیا۔ ہر بار جب روب باہر کی طرف تیراکی کرنے کی کوشش کرتا، دو ڈولفنز اسے واپس اندر کی طرف موڑ دیتیں—محافظ، پُرعزم، جیسے کسی ان دیکھی خطرے سے بچا رہی ہوں۔ جلد ہی اصل خطرہ سامنے آ گیا: تقریباً تین میٹر لمبی گریٹ وائٹ شارک اسی علاقے میں داخل ہو چکی تھی۔ اسی لمحے ڈولفنز کا رویہ بدل گیا۔ وہ اپنی دُم سے پانی پر زور زور سے وار کرنے لگیں، باہمی ہم آہنگی سے تیز حرکتیں کرنے لگیں اور ایک زندہ دیوار بنا لی—واضح طور پر شکاری کو ڈرانے اور دور بھگانے کے لیے۔ تقریباً چالیس منٹ تک ڈولفنز اسی حفاظتی حصار میں رہیں، اور روب اور اس کی بیٹی کو جانے نہ دیا۔ جب آخرکار شارک پیچھے ہٹ گئی، تب جا کر ڈولفنز نے دائرہ کھولا اور دونوں کو بحفاظت ساحل کی طرف جانے دیا۔یہ حیرت انگیز منظر ایک لائف گارڈ اور ساحل پر موجود کئی افراد نے بھی دیکھا۔
یہ واقعہ اُن متعدد رپورٹس میں شامل ہو گیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ڈولفنز بعض اوقات انسانوں کو شارک کے حملوں سے بچانے کے لیے غیر معمولی دفاعی رویہ اختیار کرتی ہیں۔ڈولفن جسے عام طور پر مچھلی کہا جاتا ہے دراصل ممالیہ جانور ہیں جو اپنے آپ کو پانی میں رہنے کے لیے پوری طرح ڈھال چکے ہیں۔ ڈولفن کے گروپ میں لگ بھگ 40 انواع کے جانورشامل ہیں جن میں سمندری ڈولفن، دریائی ڈولفن اور دیگر ڈولفن شامل ہیں۔ پانی میں رہنے والے ممالیہ جانور چونکہ مچھلیوں کی طرح پانی سے آکسیجن حاصل نہیں کر سکتے اس لیے انھیں تھوڑی تھوڑی دیر بعد سانس لینے کے لیے سطح پر آنا پڑتا ہے۔وھیل اور ناروھال کی طرح ڈولفن بھی سونار (آواز) کی مدد سے شکار اور راستہ تلاش کرتی ہیں۔ڈولفنز دانتوں والی وہیلز سے تعلق رکھنے والی 44 اقسام کا ایک گروہ ہیں۔ کرۂ ارض کے تمام سمندروں میں ڈولفنز پائی جاتی ہیں۔ ڈولفنز کی بعض اقسام جنوبی ایشیا اور جنوبی امریکا کے دریاؤں کے میٹھے پانیوں میں رہتی ہیں۔ ڈالفنز کی سب سے بڑی قسم (اوکرا) 30 فٹ سے بھی زیادہ لمبی ہو سکتی ہے جبکہ سب سے چھوٹی، ہیکٹرز ڈولفن، صرف ساڑھے چار فٹ لمبی ہوتی ہے۔
ڈولفنز اپنی ذہانت، غول میں رہنے کی فطرت اور بازی گری کی صلاحیتوں کی وجہ سے جانی مانی ہیں۔ لیکن ان میں ایسی صلاحیتیں بھی پائی جاتی ہیں جن کے بارے میں کم لوگ جانتے ہیں اور یہی ایک ڈولفن کو ڈولفن بناتی ہیں۔ ڈولفنز چھوٹے دانتوں والی فیل ماہی (Cetaceans) ہیں۔ یہ بحری میملز کا وہ گروہ ہیں جو زمینی میملز سے ارتقا پذیر ہوا۔ ڈولفنز کی خمیدہ ’’چونچ‘‘ کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ ہر وقت مسکراتی رہتی ہیں۔ ڈولفنز ان جانوروں سے ارتقا پذیر ہوئیں جن کی ٹانگیں جسم کے نیچے تھیں، اسی لیے ڈولفنز کی دُم تیرتے ہوئے اوپر نیچے حرکت کرتی ہے جبکہ مچھلیوں کی دم دائیں بائیں حرکت کرتی ہے۔ دانتوں والی دیگر وہیلز کی طرح ان میں سونگھنے کی استعداد کم ہوتی ہے۔ان کی بعض اقسام میں 130 تک دانت ہوتے ہیں۔ ڈولفنز دنیا کے تمام بحروں اور بحیروں میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سمندری ساحلی اور کم گہرے پانیوں کے علاقے بھی شامل ہیں۔ اگرچہ زیادہ تر ڈولفنز نسبتاً گرم، منطقہ حاری یا معتدل پانیوں میں رہنا پسند کرتی ہیں لیکن ایک قسم، اوکرا (جسے بعض اوقات کِلر وہیل بھی کہا جاتا ہے) بحر قطب شمالی اور بحر شمالی انٹارکٹیکا دونوں میں رہتی ہے۔ ڈولفن کی پانچ اقسام تازہ اور قدرے نمکین پانی کو ترجیح دیتی ہیں اور یہ براعظم جنوبی امریکا اور جنوبی ایشیا میں رہتی ہیں (اور ان میں دریائے سندھ میں پائی جانے والی اندھی ڈولفن ’’بلہن‘‘ بھی شامل ہے)۔ڈولفنز گوشت خور ہیں۔ یہ شکار کو اپنے مضبوط دانتوں سے پکڑتی ہیں، اس کے بعد اسے یا تو نگل لیتی ہیں یا چیر پھاڑ کر چھوٹے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ نسبتاً کم کھاتی ہیں، مثال کے طور پر باٹل نوز ڈولفن اپنے وزن کا تقریباً پانچ فیصد روزانہ کھاتی ہے۔ ڈولفنز کی بہت سی اقسام کھانے کی تلاش کیلئے ہجرت کرتی ہیں۔ یہ بہت طرح کے جانور کھاتی ہیں جن میں مچھلیاں، قیر ماہی (Squid)، قشری، جھینگے اور آکٹوپس شامل ہیں۔ بڑی اوکرا ڈولفن بحری میملز جیسا کہ سِیل اور بحری پرندے جیسا کہ پینگوئن بھی کھاتی ہے۔ ڈولفن کی بہت سی اقسام گروہ کی صورت میں مچھلیوں کو نرغے میں لیتی ہیں۔ یہ ماہی گیروں کی کشتیوں کا بھی پیچھا کرتی ہیں تاکہ ان کی پھینکی ہوئی ’’بے کار اشیا‘‘ کھا سکیں۔ زیادہ تر ڈولفنز پانچ سے آٹھ برس کی عمر میں بالغ ہو جاتی ہیں۔ ڈولفن ایک سے چھ سالوں میں ایک بچہ دیتی ہیں اور اسے دودھ بھی پلاتی ہیں۔ بچہ 11 سے 17 ماہ ماں کے پیٹ میں رہتا ہے۔ اس عرصے کی طوالت پر مقام کا اثر بھی پڑتا ہے۔ پیدائش پر بچے 35-40 انچ لمبے ہوتے ہیں اور ان کا وزن 23 سے 65 پاؤنڈز ہوتا ہے۔ ماں فوراً اپنے بچے کو سطح آب پر لے آتی ہے تاکہ وہ سانس لے سکے۔ بچہ اپنے والدین سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی جِلد گہرے رنگ کی ہوتی ہے جس پر ہلکے نشانات ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مٹتے جاتے ہیں۔۔ بچہ فوراً تیرنے کے قابل ہوتا ہے لیکن اسے غول کے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔
جواب دیںحذف کریںسائنسدانوں کی ایک تحقیق کی مطابق ڈولفن مچھلیاں ایک دوسرے کو ’نام‘ سے پکارتی ہیں۔
سکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کی ایک ٹیم کے مطابق تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جب کسی ڈولفن کو اپنے لیے دی جانے والی آواز سنائی دیتی ہے تو وہ اس کا جواب دیتی ہیں۔