منگل، 13 جنوری، 2026

پی ٹی وی کی ایک بے مثال اداکارہ "عظمیٰ گیلانی "

 

 یہ  بڑا مشہور محاورہ  ہے قدر گوہر شاہ داند  یا بداند جوہری  ' تو  یہ    پی ٹی وی کا بلکل ابتدائ  دور تھا اور  پی ٹی وی کے  ہونہار پروڈیوسرز اور ڈائرکٹرز کو ہونہار با صلاحیت    اور تعلیم یافتہ  لڑکیوں کی تلاش تھی  ایسے میں   پی  ٹی وی کے کسی  جوہری کی نگاہ انتخاب میں عظمیٰ   گیلانی آ گئیں    اور پی ٹی وی کی  ڈرامہ انڈسٹری کو   عظمیٰ گیلانی نام  کا  گوہر مل گیا ۔یہ عظمٰی گیلانی کے کیرئر  کی  ابتداء تھی۔لیکن اصل میں تو عظمٰی گیلانی کے عظمٰی گیلانی بننے کی ابتدا تب ہوئی جب انھیں اشفاق احمد کی مقبول ترین ڈراما سیریز ’ایک محبت سو افسانے‘ کے کھیل ’نردبانِ عرفان‘ میں کمہار کی بیوی کےکردار پر گریجویٹ ایوارڈ دیا گیا۔اس مقام تک پہنچنے میں انھیں پانچ سال لگ گئے۔وہ 45 سال پر محیط اپنے کیریئر کے ساتھ، پاکستان کی ابتدائی ٹی وی اداکاراؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے 1964 میں پاکستان میں ٹیلی ویژن کے ابھرنے کے بعد شہرت حاصل کی انہوں نے اپنے ٹیلی ویژن کیریئر کا آغاز کرنے سے قبل 1965 میں عنایت شاہ گیلانی سے شادی کی عظمیٰ گیلانی، جو پاکستان کی سب سے کامیاب اور متاثر کن اداکاراؤں میں سے ایک ہیں، نے اپنے فنی پہلو کو تلاش کرنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک محنت اور لگن کے ساتھ اداکاری کی ہے۔ عظمیٰ گیلانی    نے  پی ٹی وی کے مشہور ترین ڈراموں )وارث 1979(، )دہلیز 1981(، )نشیمن 1982( اور )پناہ 1981۔ افغان تنازعہ کے پس منظر میں فلمایا گیا


'پناہ'، جس میں 20 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو پاکستان میں حفاظت کی تلاش میں دیکھا گیا، ان کی یادگار پرفارمنس میں سے ایک تھی۔ عظمیٰ کا کردار ایک افغانی خاتون کا تھا جو رہنے کے لیے جگہ تلاش کر رہی تھی۔ ملک کے ہر فرد نے اس کردار کی تعریف کی تھی، اور انہوں نے 1982 میں پاکستان کے صدر سے "پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ" حاصل کیا۔اکثر ڈراموں میں مضبوط خاتون کے کردار میں ہی نظر آتی ہیں مگر المیہ اداکاری میں بھی ان کا جواب نہیں جس میں قابل ذکر 'پناہ' ہے جو افغان مہاجرین کے اوپر تھا۔ اسی طرح اور ڈرامے، بدلتے قالب، نشیمن، پگلی، بے وارث، نیلے ہاتھ اور دیگر متعدد کلاسیک ڈراموں میں کام کیا تاہم کرئیر کے عروج میں انہیں کینسر کا بھی سامنا رہا مگر پھر بھی وہ اپنا معیار برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں اور اب بھی وہ ٹی وی ڈراموں میں مصروف عمل ہیں۔ان کی فنی  خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا۔ . اُن کے والد ریاست بہاولپور کے ایک بارسوخ فرد تھے۔ پہلے بہاول پور میں قیام پزیر رہیں پھر شادی کے بعد لاہور منتقل ہوئیں۔پاکستان شوبز انڈسٹری کی لازوال اداکارہ عظمیٰ گیلانی نے سوشل میڈیا پر نئی تصاویر شیئر کر کے مداحوں کو بتا دیا کہ وہ ان دنوں کہاں ہیں۔ پاکستان میں اردو ڈرامے کی تاریخ پی ٹی وی کے ڈراموں اور پی ٹی وی کے ڈراموں کی تاریخ عظمٰی گیلانی کے نام اور کام کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔بلاشبہ عظمیٰ گیلانی پاکستانی شوبز انڈسٹری کا بہت بڑا نام ہیں،


 ان کے بغیر پاکستانی اردو ڈرامے کی تاریخ نامکمل ہے۔انہوں نے ڈرامہ سیریل ’قلعہ کہانی‘ سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا جبکہ اشفاق احمد کی مقبول ڈراما سیریز ’ایک محبت سو افسانے‘ کے کھیل ’نردبان عرفان‘ میں انہیں بہترین اداکارہ کے اعزاز سے نوازا گیا-عظمیٰ گیلانی خوبرو دلکش باصلاحیت   اداکارہ  تھیں جو  اپنے کرداروں کا انتخاب انتہائی چھان پھٹک کر کرتی تھیں انہوں نے امجد اسلام امجد کے مقبول ڈرامے ’وارث‘ میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔وارث ڈرامہ بھی پی ٹی وی کا یادگار ڈرامہ تھا اور اس میں عظمیٰ گیلانی کا کردار ناقابل فراموش تھا  ، رفیق وڑائچ اور یاور حیات سے ملاقات اور اشفاق احمد کی لکھی سیریز ’قلعہ کہانی‘ کے ایک کھیل ’پاداش‘ میں ہندو باندی کا کردار ملنے کے بارے میں بتاتی ہیں۔ڈرامے میں ایک جگہ جب قطب الدین ایبک گھوڑے سےگرتا ہے تو ملکہ کو بادشاہ کی موت کی خبر سنانے کے لیے باندی محل کی راہداریوں سے بھاگتی ہوئی جاتی ہے لیکن جب ملکہ تک پہنچتی ہے تو ملکہ ہیرے کی انگوٹھی چاٹ کر مر چکی ہوتی ہے، اس پر انھیں ایک دلخراش چیخ مارنی ہوتی ہے۔عظمٰی بتاتی ہیں کہ ریہرسل کے دوران چیخ کے منظر پر ایک دو بار ایسا بھی ہوا کہ سٹوڈیو کا چوکیدار بھاگا بھاگا اندر آیا اور سرا ئیکی میں بولا: ’ کیا تھی گے، اے چیک کیں ماری اے؟‘ (کیا ہوگیا ہے ،یہ چیخ کس نے ماری ہے؟)۔


پی ٹی وی کی معروف سینئر اداکارہ عظمیٰ گیلانی نے اپنے کیریئر کے عروج پر ٹی وی چھوڑنے کی اصل اور جذباتی وجہ بیان کر دی۔عظمیٰ گیلانی پاکستان کے کلاسک ڈراموں کی پہچان رہی ہیں، ان کے مقبول ترین ڈراموں میں درجنوں شاہکار شامل ہیں، وہ گزشتہ کئی سالوں سے آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ان دنوں عظمیٰ گیلانی پاکستان کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مختلف ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں شرکت کر رہی ہیں اور اپنے ساتھی فنکاروں سے ملاقاتیں بھی کر رہی ہیں، حال ہی میں وہ ایک پروگرام میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے پہلی بار کھل کر بتایا کہ انہوں نے شوبز کو کیوں چھوڑاعظمیٰ گیلانی ڈراموں میں پھر کام کی خواہشمند، کام کیوں نہیں کر رہیں؟پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ گیلانی نے بتایا کہ اشفاق احمد صاحب نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ تم بہت گہرا پیار کرنے والی ہو، تم اپنے بچوں سے اتنی محبت کرتی ہو تو اُنہیں چھوڑ کیسے پاؤ گی؟ اُنہوں نے مزید کہا کہ بچوں کی محبت نے مجھے آسٹریلیا جانے پر مجبور کیا، یہ میری سب سے بڑی قربانی تھی کہ اپنے کیریئر کے عروج پر میڈیا چھوڑ کر بچوں کے پاس چلی گئی، میں نے سوچا اگر زندگی کے صرف دس سال بھی رہ جائیں، تو میں اپنے بچوں سے صرف چند دن ہی مل پاؤں گی، اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہمیشہ اُن کے ساتھ رہوں۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر