ہو تمام دینا کے مشہور و معرو ف ہومیوپیتھک کے ڈاکٹر ہنیمین کہتے ہیں کہ سلفر ایک (NoN-Matalic)پیلے رنگ کا پتھر ہے۔ 2؍ہزار سال پہلے یہ انسانی جلد پر کھجلی کے مرض میں استعمال ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ حکمت میں اس کا پوڈر اور مرہم بناکر استعمال کیا جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں سلفر کی ڈلی پانی کے مٹکے میں ڈال دیا کرتے تھے تاکہ جراثیم مر جائیں۔ آج کل یہ کام نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ہنیمین کے مطابق گرمی دانوں کو اگر کھجالیا جائے تو شدید جلن محسوس ہو تی ہے۔ اس مرض کو (PROM)کا نام دیا گیا ہے اور سلفر کو (Anti Proma)دوا کہا گیا مزید یہ کہ اس کو باریک پیس کر Liquid میں تبدیل کیا گیا پھر مختلف طاقت کی پوٹینسی بناکر صحت مند انسانوں پر تجربات کیے گئے ۔ ریسرچ سے پتہ چلا کہ دو سو سے زائد امراض میں سلفر کا ایک اہم مقام ہے اس کا تمامتر کریڈٹ ڈاکٹر ہنیمین کو جاتا ہے۔ آج ساری دنیا میں ہومیوپیتھک کو (Altenat Systam)تسلیم کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر J.T.Kentایک بڑا نام ہے آپ کہتے ہیں کہ سلفر کی خوبیوں کا شمارا ایک مشکل کام ہے آگے کہتے ہیں تمام بیماریوں میں اس کو پسندیدیگی سے دیکھا جاتا ہے اور اچھے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ ڈاککہتے ہیں سلفر کا مریض دبلا پتلا ہوتا ہے اور ہمیشہ بھوک محسوس کرتا ہے لیکن جب کھانا سامنے آجائے تو بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ ذہنی کیفیات کچھ اس طرح ہیں کہ اکیلا رہنا اچھا لگتاہے۔ ہومیو پیتھک کے ایک اور نامی گرامی ڈاکٹرجان ہنری اپنی کتاب (A ditionery of Prictud Matamia Modia)جس کی تین جلدی ہیں۔ سلفر کے معجزات، کمالات اور علامات کو بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے
۔ ذہنی کیفیات میں غصہ، رنج و غم، حسد، جلن، لالچ، ٹینشن، رونا دھونا، خوف و ڈر وغیرہ کی کیفیات معالج کو معلوم ہوں تو صحیح دوا تجویز کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔مزید یہ کہ آنکھ کا دھندلاپن،ایک حرف کے دو نظر آئیں جس کو (Mapia)کہتے ہیں سفیدپانی (Cataect) کہتے ہیں کان کا درد، سیپ، بہرہ پن کھجلی وغیرہ ناک بہنا، چھینکیں، ناک بند ہوتے میں منہ سے سانس لی جائے۔۔ صبح 10یا 11بجے جی مالش، ڈکاریں، اُلٹی، تلی اورجگر میں درد، (Stool)کالے رنگ کا ساتھ خون آنا، پیٹ میں مروڑ، قبض، پیشاب کی بیماریاں(Prostate)بڑھا ہوا۔ بدبو، سرخ سفید ذرات، شوگر پیشاب میںآنا وغیرہ۔ شامل ہیں۔ بخار میں مفید ہے جبکہ جلدی امراض کو ختم کرتی ہے۔ سلفر کے ساتھ کچھ اچھے (Combination)میں جیسے (سلفر Hydrogenisatum) آکسیجن کی کمی، دم گھٹنا (Tetamm) پرانا بخار (Sulphur to datum) 40سے زائد بیماریوں کا علاج ہوتا ہے۔ جن میں کان میں آوازیں آنا، خارش پیپ (Eczama)داد، سانس کی تکلیف(Quflnanza)چھینکیں، درد دل اورگردوں میں درد، دل کے بڑھ جانے کی بیماری وغیرہ شامل ہیں۔ اُردو زبان میں ڈاکٹر ولیم بورک کی اہم کتاب (Mataria Media)کا ترجمہ ڈاکٹر احمد عسکری نے بڑی محنت سے کیا ہے مارکیٹ میں موجود ہے خرید یں اور فائدہ اٹھائیں۔-تبلیسی، جارجیا کا دل ہے، جبکہ سلفر حمام روایتی، آرام دہ تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ کیونکہ یہاں کے گرم حمام میں غسل لینے کے بعد سیاحوں کو نئ چستی اور توانائ ملتی ہے۔کوئٹہ جسے مقامی افراد سندھی میں ’’ٹھار لا کھا ٹھار‘‘بھی کہتے ہیں ،
اس چشمے کا ماخذ پیر لا کھو کا مزار ہے جس کیساتھ پتھروں سے بنی ہوئی ایک مسجد بھی ہے ۔ تحقیق کے مطابق یہ چشمہ بلند پہاڑی سلسلوں سے پھوٹتا ہے جہاں سے سلفر کی کچھ مقدار پانی میں شامل ہوتی رہتی ہے ، اس پانی میں نہانے سے یہ سلفر انسانی جلد میں داخل اور آکسی ڈائزڈ ہو کر الرجی کے امراض کی شفا کا باعث بنتاہے ۔مشرقی سعودی عرب میں قطیف گورنری کے مغربی کنارے پر کھجور کے باغات اور بادام کے درختوں کا جنگل ہوا کرتا تھا۔ وہاں پرانے وقتوں میں ایک "حمام" بنایا گیا جس کے اوپر بادام کی شکل کا گنبد تھا۔ اس کے چاروں طرف بادام کے درخت آج بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ اسے’حمام ابو لوزہ‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ سردیوں میں صدف کے متلاشی مچھیرے شکار چھوڑ کر اس کے چشمےکو صاف کرنے کے لیے جاتے۔ابو لوزہ‘ کا قدیم حمام تاریخی ورثے کی علامت، فن تعمیر اور تخلیقی صلاحیتوں کا شاہکار ہے۔ اس کے علاوہ یہ قطیف گورنری کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔حمام اس وقت وزارتِ ثقافت کی ہیریٹیج اتھارٹی کے ذریعے مرمت اور بحالی کے مراحل سے گذر رہا ہے۔ عین ابو لوزا کے قریب "سلفر" گرم چشمہ ہے جس کا پانی ماضی میں جلد کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
اب ہم کراچی کے سلفر حماموں کی بات کریں گے-منگھوپیر کی درگاہ کے قریب ٹھنڈے اور گرم پانی کے دو الگ الگ چشمے ہیں اور یہاں سے آگے آدھے میل کے فاصلے پر حضرت جلیل شاہ ؒ کی درگاہ کے قریب دو اور گرم پانی کے چشمے موجود ہیں۔ ماما پارسی نے ان چشموں کے پانی کو ایک جگہ جمع کر کے اُس میں ہر خاص و عام کے نہانےکےلئے دو کشتیاں (پکے حوض) بنوائے یوں انہیں ماما باتھ بھی کہا جانے لگا۔ چشموں کے اس پانی میں گندھک و دیگر معدنی اثرات ہیں ،جس سے جلدی بیماریوں کے مریضوں کو خصوصی طور پر شفا ملتی ہے۔ آسومل نے اس پر فضا مقام پر ہفتہ بھر ٹھہرنے کے خواہش مند افراد کیلئے ایک لانڈھی (سرائے کو مقامی زبان میں لانڈھی کہا جاتا ہے) تعمیر کروائی، جہاں دوچار بستر اور کچھ ضروری سامان بھی موجود ہوتا۔ یہ تمام سہولتیں بلامعاوضہ ہوتیں۔ یہاں گرم چشموں کے ساتھ، سادھو ہیرا نند جذام ہسپتال بھی ہے جہاں کوڑھ اور جذام کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
یہ تھی کراچی سے نو دس میل کی طویل دُوری پر موجود بستی ’’منگھو پیر‘‘ کی کہانی۔ جس کی اپنی ایک تاریخ تھی۔ جو زمانے کے سرد و گرم سہتے یا حادثوں کی نذر ہو کر بالکل ناپید ہو گئی۔ اب ٹرانسپورٹ کی سہولت نے فاصلے سمیٹ لئے اور طویل دُوری گھنٹے بھر کی مسافت رہ گئی تو شہر کے لوگ تفریح کرنے یہاں چلے آتے ہیں۔ ان میں سے شاید کسی کو اس بستی کی تاریخ جاننے کی جستجو رہی نہ ضرورت کہ یہ تاریخی اور نادر خزانہ کسی کےلئے مادی منفعت کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
گندھک یا کبریت (انگریزی: Sulfur، نقل حرفی: سلفر) کے نام سے پہچانا جانے والا ایک ایسا کیمیائی عنصر ہے۔ قدرت میں گندھک اور زندگی کا قریبی تعلق ہے۔ تجارتی پیمانے پر اسے کھادوں میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم ماضی میں اسے کالے بارود، ماچسوں، کُرم کُش ادویات اور پھپھوندی مارنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا
جواب دیںحذف کریں