پیر، 5 جنوری، 2026

جدید دنیا میں تیل کے کنوئیں دوستی یا دشمنی کا محور




امریکی  صدر نے فرمان شاہی   جاری کیا ہےکہ وینیزویلین  صدر  کو مادورو کو اقتدار سے معزول کیے جانے کے بعد امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں داخل ہوں گی اور اس ملک کی تیل کی صنعت کو بحال کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کریں گی۔ تاہم کئی اہم سوالات ابھی تک جواب طلب ہیں۔وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جو 300 ارب بیرل سے زیادہ ہیں یعنی سعودی عرب سے بھی زیاد ہ ہے-امریکہ کے کراکس پر حملوں اور وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کی معزولی اور گرفتاری نے اس جنوبی امریکی ملک کو شدید الجھن اور غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو ''چلائے گا‘‘ اور یہ اقدام اس بات پر منحصر نظر آتا ہے کہ امریکہ اس ملک کے سب سے اہم اثاثے یعنی خام تیل کے بارے میں کیا سوچتا ہے۔ص‍‍‍در ٹرمپ نے کہا، ''ہماری بڑی امریکی آئل کمپنیاں، جو دنیا میں سب سے بڑی ہیں، وہاں (وینزویلا) جائیں گی، اربوں ڈالر خرچ کریں گی، خراب شدہ آئل انفراسٹرکچر کو درست کریں گی اور ملک کے لیے پیسہ کمانا شروع کریں گی۔‘‘وینزویلا کے لیے تیل کتنا اہم ہے؟وینزویلا کی کمزور معیشت تیل پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتی ہے۔ مادورو کی حکومت تقریباً مکمل طور پر ہائیڈروکاربن سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہی چلتی رہی ہے۔خام تیل اور اس سے متعلق مصنوعات جیسے پیٹروکیمیکلز، وینزویلا کی برآمدی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد حصہ ہیں

۔ یہ آمدنی سخت پابندیوں اور شدید اقتصادی بحران کے باوجود مادورو کو اقتدار میں رکھنے میں مدد دیتی رہی۔وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں، جو 300 ارب بیرل سے زیادہ ہیں یعنی سعودی عرب سے بھی زیادہ۔ تاہم وینزویلا اس وقت عالمی تیل کی کل پیداوار کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ فراہم کرتا ہے، جو سن 1960 کی دہائی میں 10 فیصد سے زیادہ تھا۔1990ء کی دہائی کے آخر سے اس ملک میں خام تیل کی پیداوار میں 70 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے اور یہ اب عالمی سطح پر سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی فہرست میں 21 ویں نمبر پر ہے۔1990ء کی دہائی کے آخر سے اس ملک میں خام تیل کی پیداوار میں 70 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے  یہ زوال سابق صدر اوگو چاویز کی حکومت سے جڑا ہے۔ ان کے سوشلسٹ انقلاب کی وجہ سے ریاستی آئل کمپنی PDVSA میں بڑے پیمانے پر کرپشن نے جنم لیا اور اس سیکٹر میں حکومتی مداخلت کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں نے وینزویلا سے اپنا بزنس سمیٹ لیا-پائپ لائنز اور ریفائنریوں میں حادثات نے مزید مشکلات پیدا کیں 

جبکہ 2017ء سے بڑھتی ہوئی امریکی پابندیوں نے وینزویلا کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت کو مزید محدود کر دیا۔ فی الحال PDVSA نے پیداوار کو تقریباً 10 لاکھ بیرل روزانہ پر مستحکم کر رکھا ہے۔ امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں کتنی سرمایہ کاری کرتی ہیں؟20 ویں صدی کے دوران امریکہ وینزویلا کے آئل سیکٹر کا اہم شراکت دار رہا اور اس کی بڑی آئل کمپنیاں ملک میں بھاری سرمایہ کاری کرتی رہیں۔چاویز کے انقلاب کے بعد Chevron کے سوائے دیگر تمام کمپنیاں ملک چھوڑ گئیں۔ اگرچہ امریکی پابندیوں نے وینزویلا کی اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کیا لیکن بائیڈن انتظامیہ نے سن 2022 میں Chevron کو سخت شرائط کے تحت وینزویلا سے تیل برآمد کرنے کے لیے خصوصی لائسنس دیے۔اکتوبر میں صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے Chevron کو وینزویلا میں تیل پیدا کرنے کی نئی اجازت دی۔ اس کی دلیل یہ دی گئی کہ یہ کمپنی کراکس کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے-وینزویلا کے موجودہ حالات میں سب سے زیادہ فائدہ Chevron کمپنی کو ہی ہوا ہے۔ وینزویلا میں تقریباً 3,000 افراد اس کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ کمپنی نے کہا کہ وہ تمام قوانین اور ضوابط کی مکمل تعمیل کرے گی لیکن اس نے مادورو کی معزولی کے بعد اپنے آپریشنز میں توسیع کے منصوبوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔


صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بڑی امریکی آئل کمپنیاں، جیسا ExxonMobil اور ConocoPhillips  وینزویلا میں دوبارہ فعال ہوں گی۔ExxonMobil امریکہ کی سب سے بڑی آئل کمپنی ہے۔ 2007ء میں چاویز نے اس کے اثاثے ضبط کر لیے تھے جبکہ ConocoPhillips کے منصوبے روک دیے تھے۔ ان دونوں کمپنیوں نے بین الاقوامی ثالثی میں اربوں ڈالر کے معاوضے جیتے لیکن وینزویلا نے ادائیگی نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ بار بار ''چوری شدہ تیل‘‘ کا ذکر کرتے ہیں۔امریکہ، وینزویلا -یہ واضح نہیں کہ وینزویلا سے تیل دوبارہ کب اور کیسے  انہوں نے کہا، ''ہم نے وینزویلا کی آئل انڈسٹری دراصل امریکی مہارت اور صلاحیت سے بنائی اور سوشلسٹ حکومت نے اسے ہم سے چھین لیا۔ یہ امریکی تاریخ میں املاک کی سب سے بڑی چوریوں میں سے ایک تھی۔‘‘کیا امریکہ کو واقعی وینزویلا کے تیل کی ضرورت ہے؟امریکہ پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، تو بظاہر یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ وینزویلا کے تیل میں اتنی دلچسپی کیوں رکھتے ہیں۔اصل مسئلہ تیل کی قسم ہے۔ امریکہ زیادہ تر لائٹ کروڈ پیدا کرتا ہے  جبکہ بالخصوص خلیجی ساحل پر کئی امریکی ریفائنریاں بھاری گریڈ کے تیل کو ریفائن کرنے کے لیے تیار ہیں۔امریکی ریفائنریاں اب بھی کینیڈا اور میکسیکو جیسے ممالک سے بھاری کروڈ درآمد کرتی ہیں۔ وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے بھاری کروڈ کے ذخائر ہیں، جو امریکی ریفائنریوں کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وینزویلا کے تیل تک دوبارہ رسائی امریکی کمپنیوں کے لیے پرکشش ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر