بدھ، 7 جنوری، 2026

د یوار چین عجائبات دنیا کا ایک عجوبہ

 

تاریخ دانوں نے اس کی تعمیر کی مدت1700 سے2000 سال بتائی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے 15 صوبوں میں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ یونیسکو نے 1987 میں اس کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا ۔ 1346 میں لکھے گئے ابن بطوطہ کے سفر نامے میں بھی دیوار چین کا تذکرہ ملتا ہے قبل از مسیح کی قدیم تحریر میں اس دیوار کا نام‘‘ چانگ چنگ’’لکھا گیا تھا جس کے معنی لمبی دیوار کے ہیں ۔ اس دیوار کی تعمیر میں چاول کا آٹا استعمال کیا گیا جس کے باعث اینٹوں کی پختگی صدیوں تک برقرار رہی دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقیقات ہوئی ہیں اور سب میں متعدد باتیں مشترک بھی پائی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ دیوار دفاعی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار چین کی تعمیر یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریبا دوسو سال پہلے شروع ہوئی تھی، (اس بارے میں تاریخ میں مختلف ادوار کا ذکر ملتا ہے)۔ ان دنوں چین کے بڑے دشمنوں میں منگول تاتار تھے جو وسطیٰ ایشیا کے طاقتور لوگ تھے،یہ چور ڈاکو اور جنگجو قسم کے لوگ تھے اور آئے دن چین پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ انہی حملوں سے بچاؤ کے لئے ایک حفاظتی اور دفاعی دیوارکے بارےمیں سوچا گیا تھا۔ کن شی ہوانگ بادشاہ کے دور میں پندرہ سو کلومیٹر دیوار تعمیر کی گئی تھی جو پانچ سے آٹھ میٹر بلند تھی۔


 اس کی نیچے سے چوڑائی پچیس فٹ جب کہ اوپر سے  بارہ فٹ کے قریب تھی۔ اس کو دیوار چین کی ابتداء کہا جاتا ہے جو دفاعی نقطہ نگاہ سے شروع ہوئی تھی، بعد میں دیوار کی بلندی ہر دور میں مختلف رہی ہے۔ دیوار چین پر500 میٹر بلند ایسے ٹاور بھی تعمیر کئے گئے تھے جہاں سے تیر انداز، تیروں کی بارش کیا کرتے تھے ۔ سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے قلعے تعمیر ہوئے ۔عظیم دیوار چین کی تعمیر اپنے اندر محض مٹی، پتھر، پانی اور چاول کے آٹا کی آمیزش ہی نہیں سموئے ہوئے ہے بلکہ انسانی آنسو، خون، پسینہ اور اس دور کے بادشاہوں کا ’جبر‘ بھی اس میں شامل ہے، اس کی تعمیر میں لاکھوں انسان موت سے ہمکنار ہوئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس ابتدائی تعمیر کے دور میں تین لاکھ سے زائد انسانوں کو دس سال تک جبری طور پر اس کی تعمیر میں شامل کیا گیا تھا جو یقینا جبری مشقت کے زمرے میں آتی ہے۔ وقت گزرتا رہا اور پھر اس تعمیر کا سلسلہ نہ رکا، سینکڑوں، ہزاروں سال گزر گئے، ہر بادشاہ کے دور میں کئی کئی ہزار کلومیٹر دیوار تعمیر کی جاتی رہی۔ گویا یہ ایک ایسی واحد انسانی تعمیر ہے جو کئی صدیوں میں مکمل ہوئی، ہزاروں سال تک اس کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا۔ درجنوں سلطنتوں کے ادوار میں اس کی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر کا سلسلہ جاری رہا اور یہ کئی کئی ہزار کلو میٹروں کے حساب سے تعمیر ہوتی رہی اور بالاخر ایک وقت وہ بھی آیا جب ان سبھی دیواروں کو یکجا کردیا گیا اور یوں ’’عظیم دیوار چین‘‘ کی تخلیق ہوئی۔ اس دوران منگولوں اور دیگر بیرونی حملوں کے باعث یہ دیوار ٹوٹتی بھی رہی اور اس کی تعمیر بھی ہوتی رہی


۔ تاریخ کی کتب میں لکھا ہے کہ جب کئی ہزار سال تک بادشاہوں نے اس دیوار کی طرف توجہ نہ دی اور اپنے اندرونی معاملات میں الجھے رہے تو دیوارشکست و ریخت کا شکار ہونا شروع ہوئی ،1234 عیسوی میں چنگیز خان نے اس کا فائدہ اٹھایا اور شہنشاہ چین کو اقتدار سے محروم کرنے میں کامیابی حاصل کرلی اور چنگیز خان کی تاتاری فوج دیوار چین کو روندتی ہوئی شمالی علاقہ سے چین میں داخل ہوگئی اور منگول خاندان سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ 1368 میں چین کے منگ خاندان نے ایک بار پھر تاتاریوں کو چین سے نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی اور چین کی حفاظت کے لئے شمالی سرحدوں پر دیوار چین کی تعمیر نو شروع کی، پھر یہی وہ منگ خاندان کا دور حکومت ہے جس میں دیوار چین کی تعمیر کی تکمیل ہوئی اور اس کی لمبائی ہزاروں کلومیٹر تھی۔ یہ دیوار زیادہ تر پتھروں سے تعمیر کی گئی تھی، اور پتھروں کے درمیانی خلا کا مٹی اور اینٹ کے روڑوں سے پر کیا گیا تھا۔ ارد گرد کی نگرانی کے لئے جگہ جگہ چوکور میناروں کی تعمیر کی گئی، جس سے چین شمالی سرحدوں سے ہر قسم کے حملوں سے محفوظ ہو گیا تھا ۔ آثار قدیمہ کے ایک سروے کے مطابق دیوار چین کی کل لمبائی21196 کلو میٹر(13171میل) ہے۔ دیوار چین کی تعمیر کا سب سے بڑا حصہ ’’منگ خاندان‘‘ کے دور میں تعمیر ہوا جو 1368 اور1644 کے عرصہ کا تھا۔ منگ دور میں 8851 کلو میٹر دیوار تعمیر ہوئی جس میں 359 کلو میٹر خندقیں اور25000 حفاظتی ٹاور اس میں شامل تھے، مجموعی طور پر کئی لاکھ انسان دیوار کی تعمیر میں موت کا شکار ہوئے ،


  دیوار پر ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے قلعے بھی تعمیر کئے گئے تھے، قلعوں میں موجود سپاہیوں کو کمک کی فراہمی میں یہ دیوار بہت مفید ثابت ہوتی رہی۔ شاہراہ ریشم کے تحفظ کے لئے بھی اس دیوار سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ تاریخ میں جن جن چینی بادشاہوں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اس کی تعمیر اور اس کے بڑھانے میں کردار ادا کیا ان میں قبل مسیح اور عیسوی دور کے بادشاہ شامل ہیں عظیم دیوار چین دور حاظر میں ایک ثقافت کا رنگ اختیارکر چکی ہے، دنیا بھر کے لاکھوں سیاح اس کو دیکھنے جاتے ہیں ۔ عام لوگوں کے علاوہ سینکڑوں دنیا کی بڑی بڑی سیاسی اور حکومتی شخصیات دیوار چین کو دیکھ چکی ہیں۔ ان میں یوایس ایس آر کے سابق صدر، امریکی رچرڈ نکسن انہوں نے اپنے دورہ چین فروری1972 میں کہا تھا کہ ’’صرف ایک عظیم قوم ہی ایسی عظیم الشان دیوار تعمیر کرسکتی ہے‘‘، رونلڈ ریگن سابق امریکی صدر، برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر1977، جاپان کے سابق وزیر اعظم، برطانیہ کی کوئین الزبتھ دوم،صدر بارک اوباما، ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے وزیر اعظم، بھارت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی، امریکی صدربل کلنٹن، جارج بش، روس کے صدر پیوٹن، مصر کے صدر بشر السد، کینڈا کے وزیر اعظم وغیرہ شامل ہیں، ان کے علاوہ دیگر اور بھی عالمی شخصیات شامل ہیں جنہوں نے دیوار چین کو دیکھا اور اس کی تعمیر پر زمانہ قدیم کے انسان کو اس کی ہمت، بہادری پر خراج تحسین پیش کیا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر