ہفتہ، 28 فروری، 2026

نہر سویز (انٹر نیشنل گیٹ وے آف 2 سیز)

 




نہر سوئز مصر کی ایک  اہم ترین سمندری گذرگاہ ہے جو  دو سمندروں (بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم )کو درمیان سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر پورٹ سعید اور بحیرہ قلزم کے کنارے پر سوئز شہر موجود ہے۔ یہ نہر 163 کلومیٹر (101 میل) طویل اور کم از کم 300 میٹر چوڑی ہے۔اس نہر کی بدولت بحری جہاز افریقا کے گرد چکر لگائے بغیر یورپ اور ایشیا کے درمیان آمدورفت کرسکتے ہیں۔ 1869ء میں نہر کی تعمیر سے قبل اس علاقے سے بحری جہاز ایک جانب سامان اتارتے تھے اور بحیرہ قلزم تک اسے بذریعہ سڑک لے جایا جاتا تھا۔ 1869ء میں اس نہر کے کُھل جانے سے انگلینڈ سے ہندوستان کا بحری فاصلہ نہ صرف 4000 میل کم ہو گیا بلکہ مون سون پر انحصار بھی کم ہو گیا۔پہلے اس نہر پر برطانیہ، امریکا اور فرانس کا قبضہ تھا مگر جمال عبد الناصر نے اس نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا جس پر برطانیہ، امریکا اور اسرائیل نے مصر سے جنگ چھیڑ دی۔بحیرۂ احمر کو بحرِ اوقیانوس سے ملانے والی نہر سوئز یورپ سے ایشیا کے درمیان تیز ترین آبی گزرہ گاہ ہے اور اس سے یومیہ اربوں روپے کا مالی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔اس آبی گزرہ گاہ کے ذریعے دنیا کا سات فی صد تجارتی سامان گزرتا ہے جو مصر کے لیے زرِمبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ ہے۔یہ نہر کئی حوالوں سے مشہور ہے جس میں اس کا اہم ترین آبی گزر گاہ ہونا اور اس کی تعمیر پر فرانس اور برطانیہ میں کشمکش اور پھراس کا فنِ تعمیر کا عجوبہ ہونا شامل ہیں۔ دو سمندروں کو جوڑنے والی اس نہر سوئز کو تعمیر ہوئے اب ڈیڑھ سو سال سے زائد ہوچکے ہیں۔


ء 1956میں اس دور کے مصری صدر جمال عبدالناصر نے اسے ریاستی ملکیت میں لینے کا جو اعلان کیا تو یورپ میں اس پر ناامیدی کا اظہار کیا گیا تھا۔ میں قومیائے جانے سے پہلے اس نہر کی ملکیت زیادہ تر برطانوی فرانسیسی کمپنی سوئز سوسائٹی کے پاس تھی۔ برطانیہ اور فرانس نے اس دور کی قاہرہ حکومت کو مذاکرات کے ذریعے اس اقدام سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔سوئز کینال کی تعمیر سے قبل بحیرہ روم اور بحیرہ احمر سے آبی گزرگاہ جو تجارتی مقاصد کی تکمیل کرسکے، اس کا تصور صدیوں پرانا تھا۔ اسے مسلمانوں کی خلافتِ راشدہ کے دور میں‌ بھی زیرِ غور لایا گیا اور بعد کے ادوار میں بھی اس حوالے سے کوشش کی گئی، لیکن نہر سوئز کے موجودہ آبی راستے پر کام شروع نہیں‌ کیا جاسکا۔ پھر 1798ء میں نیپولین کے دور میں فرانسیسی ماہرین تعمیرات مصر گئے اور انھوں نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایسا کوئی بھی منصوبہ حقیقت پسندانہ نہیں ہو گا۔ اس کے بعد برطانوی ماہرین نے بھی اس حوالے سے یہی رپورٹ تیّار کی، لیکن بعد میں اسے حقیقت کی شکل دے دی گئی۔جدید نہرِ سوئز کا منصوبہ 19 ویں صدی کے وسط میں فرانسیسی سفارت کار فرڈیننڈ دے لیسپ نے تیار کیا تھا۔ اس منصوبے کو عملی پیش رفت کے لیے اس زمانے میں مصری  سعید پاشا کے سامنے رکھا گیا تو انھوں نے اجازت دی اور تب نہر کھودنے کے لیے سوئز کینال کمپنی قائم کی گئی۔


اس نہر کی تعمیر کے لیے لاکھوں مزدوروں نے دس سال کی مشقّت اٹھائی اور ہزاروں یورپی کارکن وہاں لائے گئے تھے۔ اس دوران متعدد مسائل اور حادثات کے ساتھ تکمیل کے حوالے سے تنقید اور مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا، لیکن مصری حکم ران محمد سعید نے 1861ء میں بالائی مصر سے مزید مزدوروں کو بلوایا اور کام جاری رکھا گیا۔ بالآخر نہر تعمیر کرلی گئی۔17 نومبر 1869ء کو جدید نہر سوئز کا افتتاح کیا گیا بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق خام اور صاف تیل دونوں سمتوں میں جاتا ہے، دسمبر اور فروری کے درمیان تین اعشاریہ چھ ملین بیرل روزانہ نہر کے ذریعے آگے جاتا ہے جس میں سے ایک اعشاریہ پانچ ملین بیرل خام تیل ہوتا ہے۔مشرق کی طرف خام تیل زیادہ جاتا ہے۔ تقریباً ایک اعشاریہ ایک ملین بیرل روزانہ اس عرصے کے دوران مشرق کی طرف گیا جبکہ سمندری راستے سے ایشیا کی طرف جانے والی تیل کا چار اعشاریہ پانچ فیصد بنتا ہے۔اسی طرح تقریباً چار لاکھ بیرل روزانہ مغرب خصوصاً یورپ کی طرف گیا۔ریفائنڈ پروڈکٹس-پچھلے ایک سال کے دوران صرف نو فیصد یا ایک اعشاریہ 54 ملین ریفائیڈ پروڈکٹس بیرل روزانہ نہر سویز کے راستے گزریں۔پلاسٹک اور اس قسم کی دوسری اشیا ریفائنڈ پروڈکٹس میں شامل ہیں۔بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق مشرق کی طرف جانے والے سامان میں زیادہ تر ایندھن، نفتھا اور مائع پٹرولیم گیس شامل ہیں جبکہ زیادہ تر ڈیزل اور جیٹ فیول مغرب کی طرف گیا۔


کینال کے متوازی پائپ لائنز بھی ہیں؟امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹرین کے مطابق 320 کلومیٹر (200 میل) سمڈ پائپ لائن خلیج کو بحیرہ روم کے ساتھ ملاتی ہے اس کے ذریعے یورپ کو جانے والے تیل کا 80 فیصد حصہ جاتا ہے۔سمڈ پائپ لائن کی صلاحیت دو اعشاریہ آٹھ ملین بیرل تیل روزانہ گزارنے کی ہے تاہم عام طور پر اس کی استعداد سے کم کام ہی لیا جاتا ہے۔سویز کینال مصر کے زر مبادلہ کا اہم ذریعہ بھی ہے 2018 میں ایک اعشاری تین ملین بیرل روزانہ اسی نظام کے ذریعے بھجوایا گیا۔اسی طرح ایک اور آپشن افریقہ کے اردگرد کے لیے ہے۔ایل این جی کے لیے اہم بین الاقوامی انرجی ایڈمنسٹریشن کے مطابق نہر سویز 2020 کے دوران چھ اعشاریہ آٹھ فیصد یا بائیس ملین ٹن عالمی ایل این جی تجارت کے لیے استعمال ہوئی۔مشرق وسطیٰ سے یورپ جانے والی ایل این جی کا تقریباً 25 فیصد حصہ بھی یہیں سے گزرا۔نہر سویز کی تاریخ-بحیرہ احمر سے بحر روم کو ملانے کے لیے پہلی نہر فرعون کے دور (1849 تا 1887 قبل مسیح) میں کھو دی گئی۔ تاہم اس کو جدید نہر کی شکل 1869 میں دی گئی تھی۔

1 تبصرہ:

  1. Canals dug by Necho, Darius I and Ptolemy
    Remnants of an ancient west–east canal through the ancient Egyptian cities of Bubastis, Pi-Ramesses, and Pithom were discovered by Napoleon Bonaparte and his engineers and cartographers in 1799

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

نہر سویز (انٹر نیشنل گیٹ وے آف 2 سیز)

  نہر سوئز مصر کی ایک  اہم ترین سمندری گذرگاہ ہے جو  دو سمندروں (بحیرہ روم کو بحیرہ قلزم )کو درمیان سے ملاتی ہے۔ اس کے بحیرہ روم کے کنارے پر...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر