جمعہ، 21 نومبر، 2025

سر گنگا رام جو یائے علم -ائے موت ایسوں کو نہیں کھایا کر

   

    گنگارام حکومت ہند اور مہاراجہ پٹیالہ کے ہاں ملازمت کر رہے تھے  لیکن  اچانک انہوں نے ایک بڑا فیصلہ کیا  اور ملازمت سے استعفیٰ دیا اور قوم کی فلاح کا ارادہ بنا لیا انہوں نے فلاحی کاموں کیلئے سارا پیسہ اپنی جیب سے خرچ کیا۔ یہ پیسہ  انہوں نے اپنی  کاشتکاری سے حاصل کیا۔گنگا رام نے 1903ء میں سرکاری نوکری چھوڑی اور منٹگمری (موجودہ ساہیوال) کے قریب پچاس ہزار ایکڑ بے آباد زمین لیز پر لی‘ اس کی آبادکاری شروع کی اورتین سال کے مختصر عرصے میں یہ بیابان ایک سرسبز قطعہ اراضی میں تبدیل کر دیا۔اس کیلئے   انہوں نے لوئر باری دوآب کینال سے آبپاشی کا نظام قائم کیا اور رینالہ خورد میں اس نہر پر ایک میگاواٹ کاپن بجلی گھر تعمیر کیا۔ اس بجلی سے اپنی ساری زمینوں پر آبپاشی کی غرض سے ٹیوب ویل چلائے۔ یہاں چار عدد ٹربائنیں 1921ء میں نصب کی گئی تھیں اور آج انہیں ایک کم سو سال ہو چکے ہیں۔ چار میں سے تین ٹربانیں اصلی حالت میں چل رہی ہیں اور سال بھر میں قریب دس گیارہ ماہ چلتی رہتی ہیں۔

  نہر کے پانی سے چلنے والے چار عدد پنکھا نما Propeller ان ٹربائنوں کو چلاتے تھے۔ کئی سال ہوئے‘  میں سے  ایک پنکھے کے خراب ہونے کے باعث تین ٹربانیں چل رہی تھیں۔  یہ پنکھا کئی برسوں سے مرمت کا منتظر ہے۔خدا جانے ابھی یہ پنکھا مرمت ہوا ہے یا نہیں؛ تاہم دیگر تین ٹربائنیں آج بھی بجلی فراہم کررہی ہیں۔ اسی طرح گنگارام نے پٹھانکوٹ اور امرتسر کے درمیان ایک پن بجلی گھر لگا کر ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنایا۔جڑانوالہ میں بچیانہ ریلوے سٹیشن کے قریب گنگا پور نامی گائوں آباد کیا اور وہاں بھی سینکڑوں ایکڑ اراضی قابلِ کاشت بنائی۔ آبپاشی کیلئے برطانیہ سے بہت بڑی اور وزنی موٹر منگوائی جسے بچیانہ سے گنگاپور لانے کی غرض سے گنگا رام نے ریلوے لائن بچھائی اور اس موٹر کو گھوڑا ٹرین کے ذریعے گنگا پور لایا۔ یہ ٹرین اپنی نوعیت کا ایک عجوبہ تھا جو اسی سال تک چلنے کے بعد بند ہو گئی۔ سنا ہے‘ اب دوبارہ چالو ہو گئی ہے۔ گنگا رام نے منٹگمری، لائلپور اور پٹھانکوٹ میں واقع وسیع اراضی سے اس زمانے میں کروڑوں کمائے اور زیادہ تر فلاحی اور رفاہی کاموں پر خرچ کر دئیے۔

 سرگنگا رام نے پنجاب میں زرعی اصلاحات کے زمن میں بہت کا م کئے اور جدید زرعئ اصلاحات  متعارف کروائیں۔   انہوں نے چشمہ نما آبپاشی کا نظام متعارف کرایا جس نے بنجر زمینوں کو زرخیز بنا دیا۔ ان کے پرائیویٹ فارم پر ایک وقت میں ہزاروں مزدور کام کرتے تھے۔  انہوں نے بیواؤں کے لیے فلاحی ادارے، یتیم خانے اور رہائش گاہیں بھی قائم کیں۔ لاہور میں  وہ تعمیرات کے بادشاہ بن گئےگنگا رام              گرلز ہائی سکول (موجودہ لاہور کالج فار ویمن) راوی روڈ‘ ادارہ برائے معذوراں، لیڈی میکلیگن ہائی سکول، ہندو بیوگان کا آشرم، لیڈی منیارڈ انڈسٹریل سکول اور سب سے بڑھ کر سر گنگا رام ہسپتال تعمیر کرائے۔ ان سب خیراتی اور رفاہی اداروں کو چلانے کیلئے مال روڈ پر گنگا رام ٹرسٹ بلڈنگ اور گنگا پور گاوں کی اراضی کو وقف کیا۔اپنے نام سے زیادہ دوسرے ناموں پر اپنے پیسے سے ادارے بنائے۔


 ماڈل ٹائون کا منصوبہ اور ڈیزائن بھی گنگا رام کے زرخیز ذہن کا کمال تھا۔ آج ہم گنگا رام کو بھول چکے ہیں۔ کم از کم ہم یہ کر سکتے ہیں کہ راوی روڈ کے علاقے میں گلیوں کے اندر واقع ان کی سمادھی کی مرمت کروائی جائے۔  یہ لاہور کے محسن کی سمادھی ہے۔سر گنگا رام ہسپتال دہلی، گنگا بھون (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رُڑکی) اور سر گنگا رام ہیریٹیج فاؤنڈیشن لاہور اُن کے تعمیری اور خدماتی ورثے کی دیگر یادگاریں ہیں۔ ان کے اعزازات میں رائے بہادر اور سر کے خطاب کے علاوہ ممبر آف رائل وکٹورین آرڈر (MV0) اور کوم پینیئن آف دی انڈین ایمپائر (CIE) کے اعزازات شامل ہیں۔ ان کی بنوائ ہوئ   عمارتیں آج بھی سر گنگا رام کی عظمت کی گواہی دیتی ہیں اور ان کی تعمیرات کے ماتھے پر سر گنگا رام کا نام ہمیشہ ان دنیا کو ان کی یاددلاتا رہےگا 

تلخیص و تحریر انٹر نیٹ سے کی گئ ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر