اتوار، 10 مارچ، 2024

زرا عمر رفتہ کو آواز دینا -میرا بچپن


-ہمالیہ کی وادی میں واقع  کے بارے میں برصغیر کے تمام لوگ جانتے ہیں کہ لکھنو اس خطہ زمین پر بسنے والے شہر کا نام ہے  جسے ماضی میں اودھ کہا جاتا تھا۔۔ یہاں کے انتہائ با زوق حکمرانوں اور نوابوں اور راجاوں  نے انسانی آداب، خوبصورت باغات، شاعری، موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کی خوب پزیرائی کی۔ لکھنؤ نوابوں کا شہر بھی کہلاتا ہے نیز اسے مشرق کا سنہری شہر اور شیراز ہند بھی کہتے ہیں۔-وہ اس خطہ پر ایران سے ہجرت کر کے آئے تھے-اس وقت لکھنو پر سادات کی سو سالہ حکمرانی تھی اور انہوں نے ہی میرے اجداد کو یہاں آ کر بسنے کی دعوت دی تھی -میرے اجداد  قیمتی ہیروں کے تجارت کرتے تھے اور نہائت امارت کے حامل لوگ تھے انہوں نے لکھنو شہر میں وارد ہوتے ہی بڑی بڑی حویلیاں خرید کر اپنے خاندانوں کو اس میں بسا دیا تھا وہ کیونکہ خود بھی سادات کے قبیلے سے تھے اس لئے ان کی شاہی دربار میں خوب پذیرائ ہوئ تھی  -پائیں باغ کے بلکل آخر کے ایک کونے میں کنواں لازمی ہوا کرتا تھا جس کی منڈیر پر چمڑے کی بالٹی ہوتی تھی اور کنوئیں کے اوپر ایک کھانچے میں وہ بالٹی موٹی رسی سے بندھی ہوتی تھی-ہر حویلی کے پچھلے حصے میں پائیں باغ لازمی ہوتا تھا ساتھ ہی حویلی کے پائیں باغ میں موٹے رسے کا جھولا -پائیں باغ کے بلکل آخر کے ایک کونے میں کنواں لازمی ہوا کرتا تھا جس کی منڈیر پر چمڑے کی بالٹی ہوتی تھی اور کنوئیں کے اوپر ایک کھانچے میں وہ بالٹی موٹی رسی سے بندھی ہوتی تھی -

ساون بھادوں کے آتے جاتے موسموں میں بیسن کے پکوانوں کی خوشبو  -ہرے بھرے لہلہاتے کھیتوں میں منوں پھل اور اناج اترتے دیکھنا گھروں میں نوکروں کی ریل پیل کی گہما گہمی -صبح 'صبح گھر کی شادی شدہ خواتین  ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اپنے بناو سنگھار پر توجہ دیتی تھی اس سنگھار میں بیلے اور گلاب کے پھولوں کے گجرے پہننا تو جیسے شادی شدہ عورت پر واجب تھا -اس پر سے آنکھوں میں کاجل یا سرمے کی بہار-زیادہ تر سرمہ یا کاجل گھر میں بنایا جاتا تھا اور حویلی سے کچھ فاصلے پر ہاتھی یا ہاتھیوں کے رہنے کے بڑے بڑے کشادہ اور اونچی چھتوں والے مسکن ہوتے تھے جہاں وہ اپنے فیل بانوں کے ہمراہ رہا کرتے تھے -اور شاہی دربار سے جب بلاوہ آتا تھا فیل بان ہاتھیوں کو قیمتی ہو دج اور اس کے زیور سے آراستہ کر کے حویلی کے دروازے پر لا کر کھڑا کرتے تھے اور جب مرد حضرات ہاتھی پر سوار ہوجاتے تب فیل بان ان کو لے کر روانہ ہو جاتا -بڑی بوڑھیا ں سفید وائل  کے کرتے کے ساتھ سفید غرارہ زیب تن کرتی تھیں -

یہ تو میں بھی جانتی ہوں کہ بیلے اور گلاب کے پھولوں کے گجرے نہ صرف خواتین کو خوبصورت بناتے ہیں بلکہ ان کی شادی شدہ زندگی میں بھی ایک خوشگوار رومانوں رنگ بھرنے کا سبب بنتے ہیں -لیکن یہ سب کچھ باہر کی دنیا سے مخفی رکھا جاتا تھا عورتوں کو کھلے بندوں باہر نکلنے کی ہر گز آزادی نہیں تھی-اگر کبھی آس پڑوس کے گاوں میں جانا ہوتا تھا توحویلی کے آخری سرے پر ڈیوڑھی ہوتی جہاں برقع پوش خواتین جمع ہوتی تھی اور پردے دار بگھیاں آ کر رکتی ہیں اور خواتین ان بگھیوں جا کر بیٹھتی تھیں -گھر کی لڑکیوں بالیوں کو چوڑیا ں پہنانے منہیارن آیا کرتی تھی کسی دن انہی بگھیوں پر کپڑے کے بے شمار تھان آجایا کرتے تھے-اگر گھر میں شادی کا موقع آتا تو یہ تھان بہترین  کمخواب اور زربفت کے ہوتے تھے-یعنی سونے اور چاندی کے تاروں کی آمیزش کے ساتھ بنایا ہوا قیمتی کپڑاہوتا تھا-پان کھانے کا رواجان کے لوازمات میں لونگ، الائچی، سونف اور مصری بھی شامل ہوگئے۔ اس کے علاوہ چھالیہ کترنے کے لئے ”سروتہ“ اور پیک تھوکنے کے لئے ”اگال دان“ بھی مغلوں ہی کی ”ایجاد“ تسلیم کی جاتی ہے۔

ہندوستان میں اس کا قدیم نام ”پٹارہ“ یا ”پٹاری“ تھا۔ چوں کہ یہ رواج سب سے پہلے راجستھان و مارواڑ کی راجپوت ریاستوں میں رائج ہوا تھا اور وہیں اسے یہ نام عطا کیا گیا۔ اسی وجہ سے اس خطے سے تعلق رکھنے والے باشندے چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلم، ان میں پاندان کو آج بھی پٹاری ہی کہا جاتا ہے۔لفظ ”پاندان“ مغلوں کا رائج کردہ ہے۔ لفظ ”دان“ فارسی میں کسی بھی چیز یا علم کو محفوظ یا نصب رکھنے والی اشیاءیا افراد کے لئے مستعمل ہے۔ مثلاً، اگر دان، شمع دان، گل دان، تاریخ دان اور نفسیات دان وغیرہ۔ چناچہ مغلوں کی براہ راست عمل داری میں شامل شہروں اور دیگر مسلم ریاستوں میں ”پٹاری“ کی جگہ لفظ ”پاندان“ رائج ہوگیا۔ایک طرف گھر آئے مہمان کو پیش کرنا مہمان نوازی کی   علامت ہوا کرتا تھا ۔پان کی گلوری رواج پا گِئ  میں جب زرا بڑی ہوئ تو دادی جان کا حقّہ بھرنے کی زمّہ داری میری ہو گئ یقین جانئے حقّہ کی چلم میں بھری جانے والی تمباکو کی مہک میرے دماغ میں گھس کر ڈیرہ جما لیتی تھی اور میرا دل پھڑکنے لگتا تھا کہ کاش بس ایک دفع میں بھی حقّے کا کش لے سکوں -لیکن میرا رمان کبھی شرمندہ ء تعبیر نہیں ہو سکا کیونکہ چھوٹے سے گھر میں یہ جسارت ممکن نہیں تھی-

میں نے ایک بار دادی جان سے پوچھا تھا کہ آپ حقّہ کیوں پیتی ہیں تو دادی جان نے بتایا تھا کہ ان کوشادی کے بعد گھر میں کام کرنے کی اجازت نہیں تھی بس سج سنور کراپنی مسہری پر بیٹھ  جانا ہوتا تھا-اس جمود والی زندگی سے ان کو صحت کے مسائل لاحق ہوئے تو گھر کی طبیبہ نے حقّہ پینے کا مشورہ دیا اور ساتھ میں بتایا کہ تمباکو پینےسے بہت سے امراض کا علاج ہوتا ہے-یہ خوبصورت کہانیا ں سنتے ہوئے میں تصور کی دنیا میں کھو جایا کرتی تھی جب اپنے اجداد کے قصے اپنی نانی جان یا دادی جان کی    زبان سے سنتی تھی -پھر کچھ کچھ شعور آتے ہوئے میرا دل ان کہانیوں سے اوبھنے لگا اور میں سوچنے لگی کہ میں اس کھوئ ہوئ میراث کو کیسے حاصل کر سکتی ہوں -لیکن اس سے پہلے کہ میں کوئ اونچی اڑان اڑتی محض سولہ برس کی عمر میں میری شادی ہو گئ -اور چوہا پہاڑ کے نیچے آ گیا 

قوم عاد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم تھی

   اللہ تعالیٰ نے ہر دور اور ہر زمانے میں اپنے نافرمان بندوں کی ہدائت کے واسطے اُسی قوم میں سے اپنے نبی مبعوث کر کے ان کی رہبری اور ہدائت کے وسیلے عطا کئے -اب جو قومیں راہ راست پر آ گئیں ان کو اللہ کریم نے اپنی آغوش رحمت میں سمیٹ لیا اور جن کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی تو ان کے لئے عذاب الیم حاضر تھا -، قوم عاد جو تھی وہ بڑی طاقتور اور قد آور قوم تھی ان لوگوں کی مالی خوشحالی بھی نہایت مستحکم تھی کیونکہ لہلہاتی کھیتیاں اور ہرے بھرے باغات ان کے پاس تھے، قوم عاد نے رہنے کے لیے پہاڑوں کو تراش کر گرمیوں اور سردیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ محلات تعمیر کیے تھے گرمیوں میں علیحدہ کوٹھیوں میں اور سردیوں میں علیحدہ کوٹھیوں میں رہتے اللہ تعالیٰ نے ہر دور اور ہر زمانے میں اپنے نافرمان بندوں کی ہدائت کے واسطے اُسی قوم میں سے اپنے نبی مبعوث کر کے ان کی رہبری اور ہدائت کے وسیلے عطا کئے -اب جو قومیں راہ راست پر آ گئیں ان کو اللہ کریم نے اپنی آغوش رحمت میں سمیٹ لیا اور جن کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی تو ان کے لئے عذاب الیم حاضر تھا -


 ان لوگوں کو اپنی کثرت اور اور طاقت پر بڑا اعتماد تھا اوراپنے مال اور سامان عیش و عشرت پر بڑا ناز تھا  - آخر کار اللہ پاک ان سے خفا ہوا تومسلسل تین سال تک بارش ہی نہیں ہوئی کفر اور بداعمالیوں وبدکاریوں کی نحوست نے ان لوگوں کو قہر الہی میں اس طرح گرفتار کررکھا تھا کہ جھونکوں اور جھٹکوں نے ان کی پوری آبادی کو جھنجھوڑ کر چکنا چور کردیا، حضرت ہود علیہ ا لسلام کی پوری قوم صفحہ ہستی سے مٹ گئی، اور ان کی قبروں کانشان بھی باقی نہ رہا، حضرت ہود علیہا لسلام کی قوم عذاب الہی کے جھٹکوں کی تاب نہ لاسکی، ۔حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کے لوگ اناج کے ذرہ ذرہ کو ترس گئے،ان کو کھانے کے لیے ایک دانہ بھی نہ ملا۔


اس زمانے کا یہ طر یقہ تھا کہ جب بھی کوئی مصیبت آئی تولوگ خانہ کعبہ یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر جا کر دعائیں مانگتے تھے، جو بلائیں آتیں تھیں وہ ٹل جاتیں تھیں، چنانچہ ان کی ایک جماعت مکہ معظمہ گئی اس جماعت میں مرثد بن سعد نامی ایک شخص تھا جو مسلمان تھا، مگر وہ اپنے ایمان کو پوری قوم سے چھپائے ہوئے تھا، جب ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے پاک کعبہ معظمہ میں جا کر دعا مانگنی شروع کی، تو جو شخص مسلمان تھا اس کا جذبہ ایمانی بیدار ہوگیا اس نے اپنی پوری قوم سے کہا یعنی سمجھایا کہ تم لاکھ دعائیں مانگو پانی نہیں برسے گا، جب تک تم اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت ہود علیہ ا لسلام پرایمان نہ لاؤ - مرثد بن سعد نامی شخص نے جب اپنا ایمان ظاہر کیا تو قوم کے لوگوں نے ان کو مارنا شروع کردیا قوم عاد کے لوگ بہت زیادہ شریر اور گناہ گار تھے، 


حضرت مرثد بن سعدنامی شخص کو قوم عاد کےلوگوں نے الگ کردیا، اور دعائیں مانگنے لگے، اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین بدلیاں بھیجیں، جن کے رنگ مختلف تھے ایک سفید ایک سرخ ایک سیاہ، اس وقت آسمان سے ایک آواز آئی کہ اے قوم عاد تم اپنے لیے ایک بدلی کو پسند کرلو، ان لوگوں نے اپنے لیے کالی بدلی کو پسند کیا، یہ لوگ اس خیال میں مگن تھے کہ کالی بدلی خوب زیادہ بارش دے گی چنانچہ وہ ابر قوم عاد کی طرف چل پڑا، قوم عاد کے لوگ کالی بدلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔حضرتِ ہود علیہ ا لسلام نے فرمایا کہ اے میری قوم دیکھ لو عذابِ الہی ابر کی صورت میں تمہاری طرف بڑھ رہا ہے قوم عاد کے گستاخ لوگوں نے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلادیااور کہا کہاں کا عذاب اور کیسا عذاب کہتے تھے ؟ کہ یہ تو بادل ہے جو ہمیں بارش دینے کے لیے آیا ہے، یہ بادل پچھم کی طرف سے آبادیوں کی طرف بڑھتا رہا،


 اور ایک دم ناگہانی اس میں سے ایک آندھی آئی جو اتنی شدید تھی کہ اونٹوں کو مع ان کے سوار کے اڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی تھی، پھر اتنی زوردار ہوگی کہ درختوں کو جڑوں س اکھاڑ کر لے جانے لگی، یہ دیکھ کر قوم عاد کے لوگوں نے اپنے سنگین محلوں میں داخل ہو کر دروازوں کو بند کرلیا مگر آندھی کے جھونکے نہ صرف دروازوں کو اکھاڑ کر لے گئے بلکہ پوری عمارتوں کوجھنجھوڑ کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی، سات رات اور آٹھ دن مسلسل یہ آندھی چلتی رہی یہاں تک کہ قوم عاد کا ایک آدمی تک باقی نہ رہا،  قوم عاد کے سارے لوگ اور بچے فنا ہوگئے، سات رات اور آٹھ دن کے بعد جب یہ آندھی ختم ہوگئی تو قوم عاد کے لوگوں کی لاشیں زمین پر اس طرح پڑھیں تھیں جس طرح کھجوروں کے درخت زمین پر پڑے ہوتے ہیں۔پھر قدرت خداوندی کا حکم اس طرح ہوا کہ کالے رنگ کے پرندوں کا ایک غول نمودار ہوا، جنہوں نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں ڈال دیا، حضرت ہود علیہ ا لسلام کی قوم ایمان نہ لائی، حضرت ہود علیہ السلام نے اس بستی کو چھوڑ دیا، اور چند مومنین کو جو ایمان لائے تھے ان کو لے کر مکہ مکرمہ چلے گئے اور آخر زندگی تک بیت اللہ شریف میں عبادت کرتے رہے۔



 

ہفتہ، 9 مارچ، 2024

فتح پور سیکری


 

 

فتح پور سیکری ریاست آگرہ سے 35 کلو میٹر دورواقع ہے ۔ اس شہر کو ترک و مغل شہنشاہ اکبر نے اپنے فرزند کی پیدائش پر تعمیر کروایا تھا اور اس کو اپنادارالحکومت بناناچاہتا تھا لیکن سیاسی حالات کی وجہ سے اس نے دارالحکومت پہلے لاہور اور پھر آگرہ منتقل کردیا۔ اس طرح اکبراعظم کا یہ خوابوں کا شہر   شرمندہء تعبیر نا ہو سکا  لیکن اس کی شاندار عمارتیں آج بھی جوں کی توں حالت میں ہیں۔ 1569 میں تعمیرکردہ یہ شہر 1571سے 1585تک مغل حکومت کا دارالحکومت تھا۔ اس شہر کا نام پہلے سیکری گڑھ تھا جو آخری راجپوت راجہ مہاراجہ سنگرام سنگھ کے قبضہ میں تھا۔ اکبر نے چتوڑ اور رنتھبور پر اپنی فتوحات کی یاد میں اس شہر کا نام فتح پور سیکری رکھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اکبر نے جب صحرامیں مقیم صوفی سنت حضرت سلیم چشتیؒ کی خانقاہ میں حاضری دی تو انہوں نے بشارت دی کہ اکبر کا ہونے والا بیٹا اس کی سلطنت کو نہ صرف وسعت دے گا بلکہ وہ مغلیہ سلطنت کا ایک عظیم بادشاہ ہوگا۔ 1569میں اکبر کے یہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی ،اس نے اپنے بیٹے کا نام سلیم چشتیؒ کے نام پر سلیم رکھا جو بعد میں شہنشاہ جہانگیر کھلایا۔ اس کی پیدائش پر ہی اکبر نے صوفی حضرت سلیم چشتی کے اعزاز میں یہاں کے ایک شہر کی بنیاد ڈالی۔


 حضرت سلیم چشتیؒ کی درگاہ اسی مقام پر سنگ مرمر سے بنائی گئی ہے۔ جب اکبر نے اس شہر کو اپنا دارالحکومت بنایاتو اس کا نام فتح آباد تھا۔ یہاں اکبراعظم کی جانب سے تعمیر کروائے گئے محلات دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اور مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک نادر نمونہ ہیں۔فتح پور سیکری کے شاہی محلات دو میل لمبے اور ایک میل چوڑے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اس کے 3 اطراف میں 5 میل لمبی دیوار بنائی گئی۔ شاہی محلات کے علاوہ اس علاقہ میں کچھ اور بھی عمارتیں ہیں جوکھنڈر بن گئی ہیں۔ نوبت خانہ کے قریب پرانے شہر میں بازاروں کے باقیات موجود ہیں۔ نوبت خانہ آگرہ روڈ پر شہر کا باب الداخلہ ہے۔ نیا شہر اس کامپلکس کے مغربی سمت میں بسایا گیا ہے۔ 7ہزار کی آبادی والا یہ شہر تعمیری مزدوروں اور سنگتراشوں کیلئے شہرت رکھتا ہے جس وقت فتح پورسیکری تعمیر کیا گیا تھااس شہر کے 3 طرف دیوار تھی اور ایک طرف جھیل تھی یہ جھیل اب باقی نہیں ہے۔ سرخ پتھر سے بنی عمارتیں مقامی طور پر دستیاب پتھروں سے بنائی گئی ہیں اس کامپلکس کے دروازوں میں دہلی گیٹ، لال گیٹ،آگرہ گیٹ، چندن پال گیٹ ،گوالیار گیٹ، سہرا گیٹ، چور گیٹ اور اجمیر گیٹ شامل ہے۔

 درگاہ حضرت سلیم چشتی ؒ  اور جامع مسجد فتح پور سیکری میں درگاہ حضرت سلیم چشتی کامپلکس میں داخل ہونے کیلئے بلند دروازے سے گذرنا پڑتا ہے۔ اس دروازے کو شہنشاہ اکبر نے 1601میں تعمیر کروایا تھا۔ 43میٹر بلند اس دروازے کو اکبر کی گجرات اور اتر پردیش میں فتوحات کی یاد میں تعمیر کروایاتھا۔ اس کی کمان پر قرآنی آیات کنندہ ہیں اس دروازے تک پہنچنے کیلئے 42 سیڑھیاں ہیں۔ یہ دروازہ 35 میٹرچوڑا ہے۔ دروازے کی چھت پر 13 چھتری نما گنبد ہیں۔ دروازہ 3 کمانوں پر مشتمل ہے۔ بلند دروازے سے داخل ہوتے ہی اس کے بائیں طرف ایک کنواں ہے اور سامنے درگاہ حضرت سلیم چشتی ؒ اور جامع مسجدہے۔ اس دروازہ میں داخل ہونے کی ایک اور نکلنے کی 3 کمانیں ہیں۔یہ درگاہ جو مکمل سنگ مرمر سے تعمیر کی گئی ہے حضرت سلیم الدین چشتی (1478تا 1572) کی آخری آرامگاہ ہے۔ سنگ مرمر میں انتہائی باریک اور نفیس انداز سے تراشی ہوئی جالیوں سے اس کا احاطہ کیا گیا ہے۔ حضرت سلیم چشتیؒ ، حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے خاص مریدوں میں سے تھے۔ انہوں نے مہارانا پرتاپ کے خلاف ایک جنگ میں اکبرکی فوج کے شیخ زادہ دستے کی قیادت بھی کی تھی۔

 تاریخ کے مطابق اکبراعظم لاولد تھا۔ 14 سال کی عمر میں ہی تخت پر بیٹھنے والے اکبر کو رقیہ بیگم سے ایک لڑکی (1561)ہوئی جس کا نام فاطمہ رکھاگیا لیکن وہ نومولود ہی فوت ہوگئی۔ اس کے بعد دو بیٹے ہوئے جن کا نام حسن اور حسین رکھا گیا (1564) لیکن وہ بھی ایک ماہ میں چل بسے۔ اس کے بعد اکبر نے آگرہ سے سیکری تک کا پیدل سفر کیا اور حضرت شیخ سلیم الدین چشتی ؒ کی بارگاہ میں درخواست کی کہ وہ نرینہ اولاد کیلئے دعا کریں۔ ان کی دعاسے اکبرکے یہاں بیٹا ہوا جس کا نام نور الدین محمد سلیم رکھا گیا۔ اس مقبرے کے بائیں طرف مشرق کی سمت اسلام خان اول کا مقبرہ ہے جو حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے پوتے شیخ بدر الدین چشتی کے فرزند تھے۔ شیخ بدر الدین چشتی، جہانگیر کی فوج میں جنرل تھے۔ اس مقبرے پر 36 چھوٹی چھتریاں بنائی گئی ہیں جو گنبد کی شکل میں ہے یہاں کئی نامعلوم افراد کی قبور ہیں یہ تمام قبور شیخ سلیم چشتیؒ کے افراد خانہ کی بتائی جاتی ہیں۔

جامع مسجد 15711 میں حضرت سلیم چشتیؒ کی نگرانی میں مکمل کی گئی۔ اس وقت مولوی مکرم احمد اس شاہی مسجد کے امام ہیں جن کو بھی شاہی امام کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کو اسلامی فن تعمیر کے طرز پر تعمیر کیا گیا۔ اس پر 5 چھتری نما گنبد ہیں۔ دیوان خاص: یعنی خاص محل یہ ایک چارکونی سادہ عمارت ہے جس کی چھت پر چاروں طرف چھتری نما گنبد بنائے گئے ہیں۔ لیکن یہ ایک درمیانی ستون کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ستون چار کونی بنیاد پر ہے اور اس پر خوبصورت بیل بوٹے بنے ہوئے ہیں۔ اس کے اوپر ایک پلیٹ فارم ہے جہاں اکبربیٹھا کرتا تھا یہ پلیٹ درمیان میں معلق ہے اور اس کو چاروں کونوں سے ایک راستے کے ذریعہ ملایاگیاہے۔ یہاں اکبر کا خاص دربار لگتا تھا۔دیوان عام اور نوبت خانیعنی عام دربار لگانے کی جگہ۔ یہ دربار ہر قلعہ میں ملتا ہے۔ فتح پور سیکری کا دیوان عام ایک کھلے میدان میں اسٹیج کے نمونے کا بنایا ہوا ہے جس پرکمانیں بنی ہوئی ہیں۔ دیوان عام کے جنوبی مغرب میں ترکی کے مشہور حمام بنے ہوئے ہیں۔ عبادت خانہ اکبر اعظم نے 1575میں یہ عبادت خانہ خاندانی 

جمعہ، 8 مارچ، 2024

سلو بوٹ پر* پُر سکون دنیا


زرا سوچئے زمانہ کہاں آن پہنچا ہے کہ زندگی کی ہمہ ہمی سے گھبرا کرانسان اب سمندر کے  اوپر کچھ پرسکون وقت گزانے کا خواہشمند ہےیہی کچھ ڈیزی اور ان کے بوائے فرینڈ لوئیس نکل کے ساتھ ہوا وہ دونوں اپنی اپنی توانائ کی آخری حدوں تک محنت کر رہے تھے تاکہ اپنے خاندان کی تکمیل سے پہلے' پہلے ایک چھوٹا سا ہی  صحیح لیکن اپنا اپارٹمنٹ لے سکیں--لوئیس ڈیزی سے زرا پہلے گھر آچکاتھا اور اب کچن میں الیکٹرک کافی میکر میں کافی بنا رہا تھا کہ اتنے میں ڈیزی بھی فیکٹری سے گھر آ گئ اس نے پرس بستر پر ڈالا اور تیزی سے آ کر لوئیس کے گلے میں باہیں ڈال دیں-کیا ہوا ؟ کیا کوئ معجزہ ہوا ہے جو اتنی خوش نظر آ رہی ہو -ہاں لوئیس معجزہ ہونے والا ہے اگر تم میرا ساتھ دو تو-میں قدم -قدم تمھارے ساتھ ہوں لوئیس نے بہت میٹھے لہجے میں  ڈیزی کی بات کا جواب دیا-لوئیس میری دوست نے اپنے مکان کی جمع پونجی لگا کر ایک سست بوٹ خرید کر اسے سمندر میں کرائے  دے دیا اور اب وہ باقاعدہ بڑا کرایہ لے رہی ہے -

ہم بھی ایسی ہی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اپنے مکان کی جمع پونجی سے-خیال اچھا ہے لیکن اس کی تفصیل تو کچھ بتاو لوئیس نے کہا پھر دو بڑے مگوں میں بلیک کافی لے کر لاونج میں آکر صوفے پر بیٹھ گئے اور ڈیزی نے بی بی سی اردو پر پرنٹ ہونے والی بوٹ کی تفصیل پڑھنا شروع کی- ۳۵ ہزار بوٹس کرائے پر دستیا ب ہیں- شمسی توانائ سے چلنے والی یہ بوٹس لوگ اور کمپنیاں ہفتے، مہینے یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے کشتیاں کرایہ پر دیتی ہیں،ان کشتیوں کو چلانے کے لیے کسی تربیت کی ضرورت نہیں ہے-چار میل فی گھنٹہ۔ جو کاروانا کے لیے یہ زندگی کی بہترین رفتار ہے۔ اور ایک طرح سے یہ اچھی بات بھی ہے کیونکہ ان کی تنگ سی کشتی اتنا ہی تیز سفر کر سکتی ہے برطانیہ میں دریاؤں اور نہروں کے لیے بنائی گئی ۔ہاں لوئیس میری دوست نے اپنے مکان کی جمع پونجی لگا کر ایک سست بوٹ خرید کر اسے سمندر میں کرائے پر دے دیا اور اب وہ باقاعدہ بڑا کرایہ لے رہی ہے -ہم بھی ایسی ہی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں اپنے مکان کی جمع پونجی سے-

خیال اچھا ہے لیکن اس کی تفصیل تو کچھ بتاو لوئیس نے کہا پھر دو بڑے مگوں میں بلیک کافی لے کر لاونج میں آکر صوفے پر بیٹھ گئے اور ڈیزی نے بی بی سی اردو پر پرنٹ ہونے والی بوٹ کی تفصیل پڑھنا شروع کی     اپریل میں ان تنگ کشتیوں پر سفر کا مصروف سیزن شروع ہوتا ہے اور یہ ان مسافروں کے لیے بہترین وقت ہے جو اس طرزِ زندگی کو آزمانے کے شوقین ہیں۔چونکہ ان  کشتیوں میں سے نصف سے بھی کم، ان کے مالکان کے زیرِ استعمال ہوتی ہیں، اس لیے عام لوگوں کے لیے چھٹیوں کے دوران کرایے پر کافی کشتیاں دستیاب ہوتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ کاروانا کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ان کشتیوں پر چھٹیاں گزارنے سے پہلے کچھ چیزیں سمجھنے کی ضرورت ہے جن میں سرِفہرست اس طرزِ زندگی کی سست رفتاری۔کاروانا کہتی ہیں کہ ’ہم نے سوچا کہ کشتی ملک میں سیر کرتے ہوئے ماحول دوست زندگی گزارنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔‘ ان اصل کا مقصد ایسی جگہ کی تلاش تھی جہاں وہ رہنا چاہیں ان کشتیوں کو چلانے کے لیے کسی تربیت کی ضرورت نہیں ہے-چار میل فی گھنٹہ۔ جو کاروانا کے لیے یہ زندگی کی بہترین رفتار ہے۔

 اور ایک طرح سے یہ اچھی بات بھی ہے کیونکہ ان کی تنگ سی کشتی اتنا ہی تیز سفر کر سکتی ہے۔   سال کچھ عرصہ اس کشتی پر گزارتی ہیں۔زندگی گزارنے کا یہ طریقہ  کے بعد اس وقت تیزی سے مقبول ہوا جب لوگوں میں سماجی فاصلے برقرار رکھتے ہوئے گھومنے پھرنے کی خواہشات پیدا ہوئیں۔اب سوشل میڈیا پر بھی اس طرزِ زندگی کی مقبولیت میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے- اپریل میں ان تنگ کشتیوں پر سفر کا مصروف سیزن شروع ہوتا ہے اور یہ ان مسافروں کے لیے بہترین وقت ہے جو اس طرزِ زندگی کو آزمانے کے شوقین ہیں۔چونکہ ان   کشتیوں میں سے نصف سے بھی کم، ان کے مالکان کے زیرِ استعمال ہوتی ہیں، اس لیے عام لوگوں کے لیے چھٹیوں کے دوران کرایے پر کافی کشتیاں دستیاب ہوتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ کاروانا کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ان کشتیوں پر چھٹیاں گزارنے سے پہلے کچھ چیزیں سمجھنے کی ضرورت ہے جن میں سرِفہرست اس طرزِ زندگی کی سست رفتاری۔کاروانا کہتی ہیں کہ ’ہم نے سوچا کہ کشتی ملک میں سیر کرتے ہوئے ماحول دوست زندگی گزارنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

‘ ان اصل کا مقصد ایسی جگہ کی تلاش تھی جہاں وہ رہنا چاہیں۔’ اب سمندر کے اوپر خراماں 'خراماں چلتی ہوئ وہ  اپنی بوٹ کے زریعہ چھوٹی چھوٹی  محلَے نما کاونٹیز میں بھی جاتے ہیں اور مختلف لوگوں سے مل کر اپنی فیلنگز شئر کرتے ہیں  گریٹ بیڈوین سے کم نفوس پر مشتمل ایک کمیونٹی ہے۔ لندن سے تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر واقع یہ گاؤں شہر کی ہلچل سے دور ایک الگ دنیا ہے۔یہ زندگی گزارنے کا ایک شاندار طریقہ ہے۔‘ ان کا خیال ہے کہ وہ اس جگہ کو شاید ڈھونڈ نہ پاتیں اگر ان کے پاس ان کی کشتی نہ ہوتی - اب ڈیزی اور لوئیس نے اپنی زندگی پانی اور خشکی پر تقسیم کر لی ہے اور وہ اپنی اس دنیا میں خوش ہیں  وہ جانتی ہیں کہ یہ طرزِ زندگی ہر کسی کے لیے نہیں کہ ان کو اس بات کی عادت ڈالنی پڑی کہ یہ نقل و حمل کا ایک طریقہ نہیں ہے۔ ’ایک ایسا سفر جو آپ کار میں 10 منٹ میں طے کر سکتے ہیں اس سفر میں آپ کو اس کشتی پر دو ہفتے لگ جاتے ہیں۔اور اب کہتی ہیں کہ کشتی پر رہنے سے ان کو سکون کا ایک نیا احساس اور استقامت کا سبق ملا ہے۔اس  طرزِ زندگی نے  مجھےصبر کرنا سکھایا ہے

حضرت بل 'درگا ہ سری نگر کشمیر

 

حضرت بل 'درگا ہ سری نگر کشمیر-  ایک  علاقہ ہے جو شہر کے مرکز سے 10 کلومیٹر دور ہے ۔

حضرت بَل کا مطلب ہے مقدس جگہ۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ ایک مقدس جگہ ہے، بلکہ جموں و کشمیر بھر میں سَب سے مقدس جگہ تصور کی جاتی ہے۔ برفپوش پربتوں اور ڈل جھیل کے نیلم رنگ پانیوں کے ماحول میں سفید رنگ کی درگاہ حضرت بَل میں مُوئے مبارک موجود ہے، یعنی پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا بال مبارک۔روایات کے مطابق مدینہ منورہ میں سادات خاندان سے تعلق رکھنے والے سید عبداللہ 1635 میں ہندوستان میں حیدرآباد کے قریب بیجاپور منتقل ہوئے۔ وہ مُوئے مبارک اپنے ہمراہ لائے تھے۔ جب سید عبداللہ کا وصال ہو گیا تو مُوئے مبارک اُن کے صاحبزادے سید حامد کو ورثہ میں ملا۔علاقہ میں مغل یلغار کے دوران سید حامد سے تمام اثاثے چِھین لیے گئے۔ سید حامد کو جب اندازہ ہو گیا کہ اب وہ مُوئے مبارک کی حفاظت کرنے کے قابل نہیں رہے اور اُن سے مُوئے مبارک چھین لیا جائے گا تو اُنہیں خواب یا استخارہ میں اشارہ ملا کہ موئے مبارک کو حکامِ سلطنت کے حوالے نہ کیا جائے بلکہ ایک اور ایمانت دار شخصیت خواجہ نُورالدین عیشائی کو دے دیا جائے، سلاطین چاہے مسلم ہی کیوں نہ ہوں وہ بے ادبی سے باز نہیں آتے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔جب مغل بادشاہ اورنگزیب کو مُوئے مبارک کی خبر ملی تو اُس نے مُوئے مبارک کو نورالدین عیشائی سے زبردستی چھین کر درگاہ اجمیر بھجوا دیا اور نورالدین عیشائی کو غیرسرکاری طور پر تبرکات رکھنے کے جرم میں دہلی میں قید کروا دیا۔ کچھ عرصہ بعد بادشاہ اورنگزیب کو اپنی بیوقوفی کا احساس ہو گیا، یہ الگ سے کرامت ہے۔ اُس نے حکم دیا کہ موئے مبارک نورالدین عیشائی کو واپس کر کے اُنہیں کشمیر بھجوا دیا جائے۔ مگر اُس وقت تک جیل میں نورالدین عیشائی کا وصال ہو چکا تھا۔ چناچہ موئے مبارک اُن کے اہلِ خاندان کو مل گیا اور وہ مُوئے مبارک بمع جسدِ نورالدین عیشائی سری نگر آ گئے۔

سَن 1700 میں نورالدین عیشائی کی صاحبزادی عنایت بیگم نے ڈل جھیل کے مغربی کناروں پر خواجہ نورالدین عیشائی کا مزار بنوایا اور اُس کے ایک حصے میں مُوئے مبارک کو محفوظ کر دیا۔ یہ مزار یا درگاہ حضرت بَل کہلائی۔ تب سے آج تک خواجہ نورالدین عیشائی کا خاندان اِس درگاہ کی حفاظت پر معمور ہے۔ وہ گدی نشین نہیں، محض امانت دار محافظین ہیں۔کچھ دہائیاں قبل 26 دسمبر 1963 کو موئے مبارک چُرا لیا گیا۔ پوری ریاست میں مظاہرے شروع ہو گئے۔ حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مظاہرے اتنے بڑھ گئے کہ 31 دسمبر 1963 کو قومی ریڈیو پر وزیرِاعظم جواہر لال نہرو نے قوم کو مُوئے مبارک کی گمشدگی کے سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا اور ڈھونڈنے کا وعدہ کیا۔ حالات سے اندازہ ہوا کہ اہلِ ہندوستان کے مسلمان مقدس چیزوں کے بارے میں کتنے گہرے احساسات رکھتے ہیں۔ چند دن بعد، 4 جنوری 1964 کو مُوئے مبارک بازیاب ہو گیا-اس علاقے میں ابتدائی آبادیاں ڈل جھیل کے کنارے آباد تھیں اور اس علاقے کی زیادہ تر آبادی ہنگی (ماہی گیر) کی ہے۔ یہ علاقہ حضرت بل کے مزار کی تعمیر کے بعد مشہور ہوا جہاں ہر سال لاکھوں لوگ آتے ہیں کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں اسلامی پیغمبر محمد سے متعلق بہت سے آثار ہیں۔اردو میں لفظ حضرت احترا م کی طرف مشیر ہے جبکہ بل کے معنی مقام کے ہیں۔ لہٰذا لفظ حضرت بل کا مطلب ہے وہ جگہ جو لوگوں میں بہت محترم ہے۔ ڈل جھیل اور اس کے آس پاس کی گھریلو کشتیوں کی موجودگی کی وجہ سے یہ علاقہ شہر کا مشہور سیاحتی مقام بن گیا ہے ۔

 یہاں رہنے والوں کی معیشت کا بہت زیادہ انحصار سیاحت پر ہے۔ شیخ محمد عبداللہ کی قبر بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔ اس علاقے کا پوسٹل کوڈ 190006 -حضرت میر سید تاج الدین الحسینی ہمدانیؒ امیرالامراء حضرت سید حسن الحسینی ہمدانیؒ کے فرزند اکبر اور عارفِ الزماں حضرت میر سید محمد الحسینی ہمدانیؒ کے پوتے تھے.حضرت امیر سید شہاب الدینؒ آپ کے عمّ محترم اور حضرت میر سید علی ہمدانی المعروف شاہ ہمدانؒ چچا زاد بھائی تھے، حضرت میر سید حُسین(سمنانی) الحسینی الہمدانیؒ آپ کے برادرِ اصغر تھے جن کا روضہ (زیارت) اہلسُنت کے زیرِ تولیت ہے. حضرت میر سید تاج الدین الحسینی ہمدانیؒ امیرالامراء حضرت سید حسن الحسینی ہمدانیؒ کے فرزند اکبر اور عارفِ الزماں حضرت میر سید محمد الحسینی ہمدانیؒ کے پوتے تھے.حضرت امیر سید شہاب الدینؒ آپ کے عمّ محترم اور حضرت میر سید علی ہمدانی المعروف شاہ ہمدانؒ چچا زاد بھائی تھے، حضرت میر سید حُسین(سمنانی) الحسینی الہمدانیؒ آپ کے برادرِ اصغر تھے جن کا روضہ (زیارت) اہلسُنت کے زیرِ تولیت ہے.آپ کے ابتدائی حالات گوشہ اخفاء میں ہے لیکن اس سے آپ کی عظمت, شان و شوکت پر کوئی اثر نہیں پڑتا,میری دسترس میں ایسی کوئی تاریخ نہیں جس میں آپ کی بتدائی زندگی کا حال درج ہو.آپ کا ذکر کشمیر کی ہر قدیم تاریخ میں ملتا ہے.آپ کا شجرۂ نسب امام سیدالساجدین زین العابدین علیہ السلام سے جاملتا ہے.)سید تاج الدین بنِ الامیر سید حسن بنِ سید محمد الثالث بنِ سید علی بنِ سید یوسف بنِ سید محب بنِ سید محمد الثانی بنِ سید جعفر بنِ سید عبداللہ بنِ سید سید محمد الاول بنِ سید علی بنِ سید حسن المحدث بنِ حُسین الاصغر بنِ امام زین العابدینؑ بنِ امام حُسینؑ(

آپ کی ولادت 720ھ کے قریب شہرِ ہمدان میں ہوئی ابتدائی تعلیم اپنے خانوادہ سے ہی حاصل کی جیسا کہ اس زمانہ میں دستور تھا کُتب اور اساتذہ سے پہلے گھر کے اہلِ خانہ نمونہ عمل تھے کیونکہ ایران کے مشہور شہر ہمدان میں آپ کا خانوادہ نہ صرف سیادت، شرافت، علم اور عمل کے لیے مشہور تھا بلکہ سیاست و شجاعت بھی اس خاندان کو ورثہ میں ملی تھی.حضرت میر سید تاج الدین الحسینی ہمدانیؒ اور حضرت میر سید علی الحسینی ہمدانیؒ سے قبل اڑھائی سو سال پہلے آقائے خاقانیؒ نے آپ کے خانوادہ کی تمجید و توصیف میں کہا تھاحضرت میر سید تاج الدین الحسینی ہمدانیؒ کی حیرت انگیز فعالیت اور ان کے کارنامے دیکھ کر اس بارے میں شبہ نہیں رہتا کہ آپ تمام علمی مدارج طے کرکے ایک بلند مقام پر فا-----کشمیری موٴرخ غلام نبی گوہر نے اس درگاہ کی تاریخ سے متعلق اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سترہویں صدی میں جب ہندوستان پر اورنگزیب کی حکومت تھی، اس دوران بیجاپور دکن سے تعلق رکھنے والا ایک تاجر پیغمبرِ اسلام سے منسوب ’موئے مقدس‘ کشمیر لایا اور دعویٰ کیا کہ انھیں یہ ایک عرب تاجر نے دیا تھا۔موئے مقدس کے بارے میں یہاں کی غالب اکثریت کا کہنا ہے کہ وہ پیغمبرِ اسلام کی داڑھی کا ایک بال ہے۔ اس تبرک کو پہلے سرینگر کی ایک چھوٹی درگاہ خانقاہ نقشبندیہ میں رکھا گیا لیکن کشمیر کے کونے کونے سے لوگ وہاں پہنچنے لگے جس کے سبب جگہ کم پڑنے لگی۔غلام نبی گوہر لکھتے ہیں: ’اُن دنوں کشمیر پر افغان حکومت تھی۔ افغان حکمرانوں نے سرینگر کے مغرب میں جھیل ڈل کے کنارے سرسبز زمین کا وسیع رقبہ نئی درگاہ کے لیے وقف کر دیا اور وہاں درگاہ تعمیر کی گئی جہاں موئے مقدس کو منتقل کیا گیا۔‘

جمعرات، 7 مارچ، 2024

شہرِ گلاب کے گلابی مکین کہاں گئے

 

 قران پاک میں اللہ  کریم فرما رہا ہے 'زرا زمین میں چل پھر کر تو دیکھو ہم نے کیسوں کیسوں کو ہلاک کر مارا -تو سوچئیے کہ  اس شہر میں بسنے والے کتنے جاہ و حشم والے ہوں گے جنہوں نے اتنے حسین نقوش اپنے نقش پا ءمیں چھوڑے-زرا چشم تصوّر میں دیکھئے آج کے انسان کے پاس کیا سہولتیں   اور کتنی لاتعداد آسانیاں ہیں جن کے بل بوتے پرانسان  نت نئ ایجادات میں منہمک رہتا ہے -تو ہزاروں سال پہلے کے انسان کے پاس بھی تو کوئ ایسی ٹکنالوجی ہو گی جو اس نے زمین کے سینے پر اتنے حسین نقوش  تراش کر چھوڑے -توآئیے اس مضمون میں ایک خوبصور ت قدیم شہر کی بات کرتے ہیں  -جی ہاں  کو تراش کر بنائے جانے والے محلات-دو ہزار سال قبل اردن کے بالائی صحرا میں واقع پہاڑوں میں پیازی و گلابی رنگت کے رسوبی پتھر کو تراش کر بنائے جانے والے محلات و مقابر انسانی ہاتھ کی کاریگری کا عظیم شاہکار کہلاتے ہیں، جنہیں دیکھ کر آج کے انسان کو یقین نہیں آتا کہ قدیم دور کا انسان اس قدر   قابل  اور اختراع ساز تھا۔

  پترہ  میں عیسائیت تیسری اور چوتھی صدی میں آئی اور پھلی پھولی تاہم  ایک  زبر دست زلزلے کے بعد یہ شہرِ ویران  ہوگیااور ساتویں صدی کی ابتدائی اسلامی سلطنتوں کے رواج پانے پر یہاں عیسائیت کی اہمیت کم ہوئی۔ پھر رفتہ رفتہ یہ شہر کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا، جسے سوئس کھوجی و مہم جو جوہان برک ہارڈٹ نے1812ء میں دوبارہ دریافت کیا۔اس وقت سے اب تک ماہرین آثار قدیمہ اس کی پراسراریت سےپردہ اٹھارہے ہیں۔ 2016ء میں سیٹیلائٹ امیجز کی مدد سے ایک یادگاری ڈھانچہ دریافت کیا گیا جو ریت میں مدفون تھا۔پترہ کی سحر انگیز تعمیرات کے باعث یہ بات تعجب انگیز نہیں ہے کہ اردن کا سب سے معروف سیاحتی مقام یہی ہے جسےیونیسکو کی جانب سےعالمی ورثے کا مرتبہ بھی حاصل ہے۔

 پترہ عمان سے تین گھنٹے اور عقبہ کی بندرگاہ سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔اس کا رقبہ سو مربع میل سے زائد ہے،جو مین ہٹن سے چار گنا زائد ہے۔ اس خوبصورت شہر کی سیر ایک دن کا سودا نہیں، کم از کم ایک ہفتہ ٹہر کر آپ اس شہر خموشاں کے شاندار تعمیراتی ورثے کو ملاحظہ کرسکتے ہیں نپتھروں  کی تعمیرات پر مبنی یہ شہرِ گلاب  پترہ نامی علاقہ کبھی ماضی میں گم شدہ تہذیب کی عظمت کا نشان ہے، جو نبطی سلطنت کا دارالحکومت تھا۔ خانہ بدوش صحرائی نبطیوں کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں، جن کی سلطنت انہی چٹانوں اور پہاڑوں کے درمیان ابھری۔ لوبان اور دیودار کی تجارت سے انہوں نے بے تحاشا دولت حاصل کی، ان کے تجارتی روابط بحر روم اوربحر عرب کے درمیان اونٹوں کے کاروانوں کے ذریعےمصر سے شام اور یونان تک تھے۔

دیودار اور شیشم کی مضبوط لکڑی سے بنائے جانے والے بحری  بیڑوں کے باعث انہیں سمندروں پر کنٹرول حاصل تھا اور پہاڑوں کو تراش کر تعمیر سازی کی جادوئی صلاحیت نے انہیں صدیوں تک اس علاقےمیں بالادست اور ناقابل شکست حکمران بنائے رکھا۔63قبل مسیح میں رومیوں کے یہاں پہنچنے سےبڑی تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ 6ہزار تماشائیوں کی گنجائش پر مبنی تھیٹر قائم کیا، ساتھ ہی شہر کے سامنے کے رُخ پر ایستادہ پہاڑوں کو تراش کرخزانہ گھر اور پوجاگھر قائم کیے، جن میں ہیلینیائی طرز تعمیر نمایاں رہا۔ ان میں تزئین و آرائش پر مبنی کارنتھیئن ستون، بیس ریلیف ایمیزونز اورفینسی ایکروٹیریا جیسے تعمیراتی کمالات سے فن تعمیر میں رومی رنگ کو نکھارا۔ پہاڑوں کو تراش کر بنائے جانے والے محلا  ت -پترہ  کی کنسٹرکشن انجینئرنگ کے کئی مظاہر آپکو اس جگہ واضح نظر آئیں گے،

جس میں  تر سیل آب کا نظام قابل دید تھا جو30ہزار رہائشیوں کی ضروریات پوری کرتا تھا۔ اسے 12فٹ بلندی پر خمدار راستوں سے ترتیب دیا گیا تھا۔اس پانی کو قحط کے دنوں کے لیے بھی محفوظ رکھا جاتاتھا۔ پترہ کی تعمیراتی خوبصورتی یہاں آنے والے لاکھوں سیاحوں کو حیرت میں مبتلا کردیتی ہے۔ پورا شہر تعمیراتی فن پاروں کے نشانات سے بھرا پڑا ہے۔ہر ایک گھنٹے کے بعد یہاں کے پتھر اور مصوری کی کندہ کاری کے نمونے اپنا رنگ بدلتے ہیں۔ شاندار سلک مقبرہ سرخ،نیلے اور گیروی رنگوں میں بدلتا رہتا ہےجبکہ نمایاں سنگ مر مر کی سیڑھیاں بازنطینی دور کے گرجا گھر تک جانے کے لیے موجود ہیں بطی سلطنت کے دارالحکومت پترہ کے ساتھ مدائن صالح کا ذکر کرنابھی ناگزیر ہے کہ یہ اس تہذیب اور تعمیراتی فن کی کڑی ہے۔ اس سلطنت کی سرحدیں بہت وسیع تھیں جن میں آج کے اردن، شام ، اسرائیل اور سعودی عرب آجاتے ہیں۔ سعدی عرب میں اسی تہذیبی ورثے کی باقیات مدائن صالح کے نام سے جانی جاتی ہیں۔یہ جگہ سعودی عرب کے انتظامی خطہ المدینہ کے علاقے العلی میں واقع ہے، جو ظہور اسلام سے قبل کا ایک انسانی معاشرہ اور تہذیب ہے۔

۔یہاں پر 'قوم ثمودآباد تھی، اسلامی عبارات اور معلومات کے مطابق قوم ثمود جس نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے تھے۔ سعودی عرب کی حکومت 1972ء سے اس شہرکو اس کی تاریخی حیثیت کی وجہ سے سیاحت و تفریح کی کشش کے لیے مدائن صالح کے طور سے فروغ دے رہی ہے اور اس کو قومی تہذیبی تشخص کی حیثیت سے محفوظ کیا گیا ہے۔ قدیم تہذیبی 'سلطنت نباطین کے انتہائی محفوظ حالت میں موجود خاص کر 131پتھروں کے تراشیدہ گھر اور ان کے بیرونی داخلی دروازوں کو 2008ء میں اقوام متحدہ کے ادارے یو نیسکو نے اسے سعودی عرب میں عالمی ورثہ کی پہلی جگہ قرار دیا تھا۔یہ عرب کی قدیم ترین اقوام میں سے دوسری قوم تھی جو عاد کے بعد سب سے زیادہ مشہور و معروف ہے۔ اس قوم کا مسکن شمالی مغربی عرب کا وہ علاقہ تھا جو آج بھی الحَجِر کے نام سے موسوم ہے۔ اب تک وہاں ہزاروں ایکڑ کے رقبے میں وہ سنگی عمارتیں موجود ہیں جن کو ثمود کے لوگوں نے پہاڑوں میں تراش تراش کر بنایا تھا اور اس شہر خموشاں کو دیکھ کر اندازہ کیا جاتا ہے کہ کسی وقت اس شہر کی آبادی چار پانچ لاکھ سے کم نہ ہوگی۔

بدھ، 6 مارچ، 2024

سید شمس الدین سبزواری

 

 تاریخ گواہ ہے کہ برّصغیر کی زمین ہند پر سر زمین حجاز سے آنے والے ولیوں نے بڑی مشقّت  اور جانفشانی سے یہاں اسلام کے پھیلاو میں اپنا کردار ادا کیا ان ولیوں میں ایک بلند پایہ ولی حضرت  سید شمس الدین سبزواری   بھی   ہیں جنکا  مزار ملتان میں ہے آپکا شجرہ نسب چند پشتوں کے بعد مولا امام جعفرصادق ع سے جاکر ملتا ہے آپ صوبہ خراسان کی بستی سبزوار میں 560ہجری میں پیدا ہوئے آپ کے والد سید صلاح الدین گرم کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے سید صلاح الدین عالم فاضل اور دیندار مبلغ تھے فاطمیوں کے نقیب خاموشی کے ساتھ عالم اسلام میں پھیلائے گئے سید صلاح الدین کا خاندان کس داعی کے ساتھ سبزوار آیا پتہ نہیں چلتا سید صلاح الدین نے فرزند گرامی کا نام شمس الدین رکھا آپکا شجرہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے مولا امام جعفر صادق ع _ امام ذادہ اسماعیل _سید محمد عریضی _سید زید(اسماعیل ثانی) _سید معصوم شاہ _سید غالب الدین _سید عبدالمجید _مستنصرباللہ_سید محمد ہادی_محمد ہاشم(مدفون یمن) سید محمود سبزواری(مدفون لاہور)_سید محب مشتاق_سید خالد الدین_سید صلاح الدین _شمس الدین سبزواری(مدفون ملتان)مناسب وقت پر شمس الدین کی تعلیم و تربیت کی فارسی و عربی میں سمجھ بوجھ کے بعد قرآن حدیث تفسیر فقہ کی طرف لائے

یوں ایمانیات عبادات معملات کی بنیادیں مضبوط کرکے شیعیت کے ساتھ طریقت کو شامل کیا تذکرتہ اولیاء فرید الدین عطار میں ہے کہ سید صلاح الدین ایرانی صوفیائے کرام کی پیدا کردہ روحانی ہوا و فضا میں سانس لے رہے تھے اندازہ ہے کہ سید صلاح الدین نے فرزند گرامی کو تعلیمات چہاردہ معصومین ع سے روشناس کرایا کیونکہ آخری فاطمی خلفاء اثنا عشری مسلک رکھتے تھےبعض مورخین شاہ شمس سبزواری کو شاہ شمس اسماعیلی کہتے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت اسماعیل بن امام جعفرصادق ع کی اولاد سے ہیں نہ کہ اسماعیلی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ کی درگاہ عالیہ میں امام بارگاہ موجود ہے جہاں قدیم عرصہ سے مجالس امام حسین ع کا اہتمام ہوتا ہے ہر جمعرات کو ہفتہ وار مجالس عزا برپا ہوتی ہیں بارہ اماموں کے حوالے سے دیگر تقاریب کا انقعاد ہوتا ہے-

یہ ہی دستور درگار بی بی پاک دامناں درگاہ امام بری درگا شہباز لعل قلندر پر نافذ العمل ہے بعض مورخین نے شاہ شمس تبریزی کو کو ملتان کی سر زمین پر عزاداری کا آغاز کرنے والا درج کیا ہے سید صلاح الدین کا انتقال 665ہجری میں ہوا اس دور میں عالم اسلام مغلوں کے تابڑ توڑ حملوں کی وجہ سے زلزلہ میں آگیا تھا سید شمس الدین سبزوار سے نکلے 666ہجری میں ملتان میں وارد ہوئے متاخرین تذکرہ نگاروں نے حکایت اولیا سنائی کہتے ہیں کہ بہاؤالدین زکریا نے آپ کی خبر پائی تو دودھ کا پیالہ لباب بھیجا مطلب یہ تھا یہاں اہل اللہ کی بھیڑ بھاڑ ہے تمہاری گنجائش نہیں ہے حضرت شاہ شمس الدین نے پیالہ دودھ پر گلاب کا پھول تیرا دیا اور اپنی گنجائش کا جواز دکھلایا حضرت بہاؤالدین زکریا کے پوتے سے شاہ شمس کے گہرے روابط تھے خطاب رکن الدین والعالم شاہ شمس کا عطا کردہ ہے جو بعد ازاں شاہ رکن عالم بن گیا تذکرہ نگاروں نے حکایات اولیاء میں ایک اور اضافہ کیا ہے سید شمس الدین نے جلادوں کو اپنی کھال اتار کر دے دی


 اب کوئی انہیں اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتا تھا بھوک نے ستایا تو لب دریا آئے مچھلیاں ابھرنے لگیں ایک مچھلی پکڑی مگر ملتانیوں نے اسے بھوننے سے انکار کر دیا آپ نے سورج کو حکم دیا تبش بکن سورج سوا نیزے پر اتر آیا اور مچھلی بھون دی جسے آپ نے تناول فرمایا اسی وجہ سے ملتانی آپ کو تپ ریز(گرمی دینے والا)کہنے لگے بعد میں تپ ریز تت ریز تب ریز اور تبریز ہوا یوں شمس الدین سبزواری شمس تبریزی ہوئے ملتان کی شدید گرمی اسی وجہ سے ہے ورنہ ملتان کی آب و ہوا خوشگوار معتدل تھی نو تعمیر سہ دری کی پیشانی پر آئمہ اہل بیت اطہار ع کے اسم گرامی لکھے ہوئے ہیں بورڈ پر لکھا ہے "کربلا دربار شاہ شمس تبریز" مزار شریف کے چبوترے پر ایک چھوٹا سے دروازہ ہے بورڈ پر لکھا ہے حضرت شمس الدین ولی سبزواری جبکہ مزار شریف کے اندر لکھا ہوا ہے حضرت شاہ شمس تبریز یہ تضاد عوام کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے

 بعض مورخین نے اسی وجہ سے شمس الدین سبزواری کو ہی شمس الدین تبریزی مانا ہے جیسا کہ تاریخ انوار السادات المعروف گلستان فاطمہ میں لکھا ہے کہ مخدوم سید شمس الدین تبریزی کی ولادت ماہ شعبان بقول ماہ رجب بروز جمعہ 560 ہجری میں شہر سبزوار میں ہوئی علم فضل و تقوی اور طہارت میں بے عدیل صاحب کرامت ہوئے جب آپ اپنے والد صلاح الدین کے ہمراہ کشمیر و تبعت بغرض دعوت اسلام تشریف لے گئے تو وہاں شمس الدین عراقی کہلائےاور جب عرصہ تک تبریز میں مقیم رہے تو تبریزی کہلائے 675 ہجری میں وفات پائی مزار ملت میں ہے لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ اس بات کا تاریخی شواہد کے لحاظ سے حقیت کے ساتھ دور دور تک کوئی واسطہ نہیں کیونکہ شمس الدین سبزواری کا کسی طور پر بھی تبریز سے کوئی واسطہ نہیں ہے تبریز کہلانے کی وجہ وہ صرف تپ ریز ہے جو بعد میں تبریز ہو گیا جبکہ شمس تبریزی مولانا روم کے استاد تھے جنکا مزار قونیہ میں آج بھی موجود ہے اسی طرح شمس الدین عراقی اور ہیں جنکا مزار کشمیر میں ہے انکا انتقال 924ہجری میں ہوا سید شمس الدین نے گیارہ سال ملتان میں تبلیغ کی اور 677ہجری کو ملتان میں وفات پائی حجرہ کے قریب سپرد خاک کیا گیا قبر پر مقبرہ آپ کے پوتے سید صدر الدین نے تعمیر کرایا سیٹھ مہر دین نے عالیشان مقبرہ تعمیر کرایا - نماز پنجگانہ نماز عید بقر فطر پر مکمل طور پر پابندی تھی انگریزوں کے ملتان پر قبضے کے بعد 1850ء میں مقبرہ و مسجد مسلمانوں کو دے دی گئ آپ کے صرف ایک ہی فرزند صاحب اولاد ہوئے جنکا نام نصرالدین ہے جو لاہور میں دفن ہیں  -

*ایلوویرا کرشمہ سازپودا*


ایلو ویرا کا  تعارف   اورفوائد - ایلو ویرا- ایلو جینس کے پودوں کی ایک خاص قسم ہے۔۔ ایلو ویرا کو  اردو میں گھیکوار پنجابی میں کوارگند ل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ایلو ویرا   کے   بے شمار فوائد ہیں جن میں سے کچھ ذیل میں درج ہیں یہ ایک ایسا پودا ہے جس میں طبی فوائد کی دولت ہے۔یہ کئی قسم کی جلد کی بیماریوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔ موئسچرائزر اور اینٹی سوزش کا کام کرتا ہےیہ وہ تمام خصوصیات ہیں جو بتاتی ہیں کہ روزانہ صبح نہار منہ ایلوویرا کا جوس پئیں،  ڈاکٹر کھانے میں ایلوویرا کا استعمال تجویز کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ بہت سی بیماریوں کے علاج میں بہترین کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا استعمال بہت سی بیماریوں جیسے بدہضمی، دانت کا درد، بالوں کا گرنا یا سر کی خشکی، جوڑوں میں درد اور دراڑ، خوبصورتی اور دیگر کئی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا گودا جگر اور تلی کے امراض میں بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔ جگر کی بیماری میں مبتلا افراد کو ایلوویرا کا استعمال باقاعدگی سے کرنا چاہیے۔


 نزلہ اور کھانسی بہت عام بیماریاں ہیں جو اکثر خاندانوں میں چلتی ہیں۔ ایسی صورت میں بھنے ہوئے ایلوویرا کے پتوں کا رس شہد کے ساتھ پینا بہترین علاج ہے۔ ایسا کرنے سے پرانی زکام بہت کم وقت میں ٹھیک ہو جائے گا۔ ایلوویرا کمر درد، جوڑوں کے درد میں موثر ہے۔ روزانہ ایک پتے کا گودا کھانا اس کے موثر علاج کے لیے مفید ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اس پتے کو گھی کے ساتھ کھا سکتے ہیں، یہ مختلف غدود کو فعال کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ ایک پتی کا گودا کالے نمک اور ادرک کے ساتھ روزانہ صبح دس دن تک کھانے سے جگر کے امراض میں فائدہ ہوتا ہے۔ اور موئس غدود کے مسائل سے نجات کا ذریعہ ہے۔

ایلو ویرا سے   علاج-جوڑوں کے درد اور مجموعی جسمانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے ایک امرت سمجھا جاتا ہے۔ Gynecomastia کے مریض بھی ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ ایلو ویرا جیل کا استعمال جلد کے داغ دھبے دور کرنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ مردوں کے لیے ایلو ویرا جیل کا استعمال چہرے کو شیو کرنے کے بعد بہترین ہے۔ . چونکہ مردوں کو شیونگ کے دوران ان کے چہروں پر معمولی زخم آتے ہیں، اس سلسلے میں اگر وہ ایلو ویرا کا گودا اپنے چہروں پر لگائیں تو اس سے انہیں ٹھنڈک بھی ملے گی اور ان کے زخم بھی جلد بھر جائیں گے۔ جو نہ صرف آنتوں میں پانی کی مقدار کو بڑھاتا ہے بلکہ فضلہ کی نقل و حرکت میں بھی سہولت فراہم کرتا ہے۔ پیٹ کی جلن پر قابو پانے کے لیے کھانے سے پہلے آدھا کپ ایلو ویرا جیل پی لیں۔ پیٹ کی جلن یا تیزابیت کے لیے ضرورت پڑنے پر اسے پی لیں۔

 ایلوویرا نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے اگر آپ بدہضمی کا شکار ہیں تو ایلوویرا کے استعمال سے اس سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے پورے نظام انہضام کو درست کرنے کا ایک بہت مقبول اور مفید طریقہ ہے۔ یہ قبض اور اسہال کو دور کرنے میں بھی بہت مفید ہے۔ یہ اخراج کے نظام کو بھی درست کرتا ہے۔ایلوویرا کرشمہ سازپودا ایلو ویرا سے خشک جلد کا علاج-ایلوویراکا استعمال ہزاروں سالوں سے ہورہا ہے۔ یہ صحت کے مختلف مسائل حل کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ایلو ویرا ہماری جلد، ہمارے بال اور وزن کم کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ کیسے ایلوویرا کی مدد سے ہم اپنی جلد خوبصورت بناسکتے ہیں اور کس جلد کے لئے یہ مفید ہوتا ہے؟یہ جاننے کے لئے یہ بلاگ آپ کے لئے مددگار موسم بدلتے ہی اکثرخواتین اور بوڑھے افرادجلد کےخشک ہونے جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔خشک جلد دراصل جلد کی ایک بہت عام حالت ہے جوکہ جلد کی بیرونی تہہ، ایپیڈرمس میں مناسب پانی کی کمی سے ہوتی ہے۔خشک جلد مردوں اور عورتوں دونوں کو یکساں طور پر متاثر کرتی ہے، لیکن بوڑھے لوگ خشک جلد کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ ہم اپنی جلد میں نمی بحال کرکے خشک جلد کے مسائل سے بچ سکتے ہیں ۔ 


 حساس جلد کے لئے ایک چمچ  ایلو ویرا جیل لیں 2 ایک چمچ  کھیرے کا جوس۔ 3 ایک چمچ دہی اور گلاب کا عرق شامل کریں 4 ان سب چیزوں کو بلینڈ کرلیں۔ اس کو اپنے چہرے پر 20 منٹ کے لئے لگائیں۔کیا ایلو ویرا نقصان دہ ہے؟ کسی بھی چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ کسی کو بھی ایلو ویرا سے الرجی ہوسکتی ہے۔  اگر ایلو ویرا کو لگا کر آپ کو جلن محسوس ہو تو آپ اسکا استعمال نہ کریں ایلو ویرا  بیماری کو دور کرنے کے لئے بھی کھایا جاتا ہے۔۔  لیکن حاملہ خواتین کو یا وہ جو بچوں کو دوددھ پلاتی ہیں ان کو ایلو ویرا کے استعمال میں احتیاط سے کرنی چاہیے۔

اس لئے ایلو ویرا کو انٹرنلی استعمال سے پہلے مشورہ کرنا چاہیے کہ یہ کن افراد کو استعمال کرنی چاہیے اور کن افراد کو نہیں۔ورنہ یہ آپ کے لئے مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس لئے اس کا استعمال کریں لیکن احتیاط کے ساتھ ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔  اپنی جلد کے لیے بہترین ایلو ویرا جیل کا انتخاب کیسے کریں؟ایلو ویرا کے جلد کے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے، یہ بہتر ہے کہ خالص ایلو ویرا جیل خریدیں، بجائے اس کے کہ تیار شدہ پروڈکٹ، جہاں ایلو ویرا کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔

منگل، 5 مارچ، 2024

گلوری ایک تہذیبی روائت


قیام پاکستان کے بعد میں نے جس سماج میں آنکھ کھولی وہ صدیوں کا روایات کاپابند معاشرہ تھا -ان رسومات میں ایک روائت یہ بھی تھی کہ گھر میں آنے والے مہمان کی پان سے تواضع کرنا اگر گھر کی بزرگ خاتون نے مہمان کی عمر چھوٹی ہوتی تو بزرگ خاتون سے کھڑے ہو کر ان سے پان با ادب طریقے سے لیتا اور پھر جھک کر آداب بجا لاتا جس کے جواب میں بزر گ خاتون سے دعائیں لیتا -اورآنےوالا مہمان بزرگ ہوتا تو اس کے لئے گھر کا کوئ بچہ یا بڑا تھالی میں سلیقہ سے رکھی گئ  گلوری پیش کرتا -پاندا ن ہر گھر کی تہذیبی روائت کا لازمی حصّہ ہوا کرتا تھا جو گھر کی سب سے بزرگ خاتون کی کسٹڈی میں رہتا تھا -گھر کے کسی طاق میں کتھّے اور چونے کی ڈھکی ہوئ کلہیاں ہمہ وقت رہا کرتی تھیں -تاکہ پاندان کو محفوظ اسٹاک میں کمی نا ہونے پائے -گھر میں کنواری لڑکیاں پان نہیں کھا سکتی تھی لیکن بیاہی کے کھانا لازم تھا تاکہ ان کے شوہروں کی نظروں میں پان کا رنگ محبّت کے دئے جلائے رکھے

گلوری-گلوری برصغیر میں ایک خاص وضع پر لپٹے ہوئے پان کو کہا جاتا ہے جو تقسیم ہند سے قبل نوابوں اور رؤسا کے یہاں انتہائی مقبول، ہندوستانی ثقافت کا اہم جز اور ضیافت و وضعداری کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ ۔ گلوری اس وقت بھی رائج ہے، گلوری پیش کرتے وقت عموماً اس پر کسا ہوا کھوپرا اور لونگ کی کیلیں یا لکڑی کا خلال لگا دیا جاتا ہے۔ لیکن وہ اہتمام اور احتشام اب مفقود ہے جو شہنشاہوں، رؤسا اور عمائدین کے یہاں پایا جاتا تھا۔ چنانچہ ان کی نفاست طبع اور لطافت مزاج نے پان تیار کرنے، پان کے اجزائے ترکیبی میں ذائقہ پیدا کرنے اور پان بنانے کو فن کے درجہ تک پہنچا دیا تھا مشرقی معاشرت میں گلوری پیش کرنا آداب ضیافت میں شامل تھا، اگر کسی مہمان کی گلوری سے تواضع نہیں کی جاتی تو میزبان کے اس عمل کو توہین کے مترادف سمجھا جاتا۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں پانوں اور گلوریوں کی خصوصی اہمیت تھی   پورے ہندوستان میں  یہ ایک تہذیب کی علامت تھا بلکہ کئی جگہ  پہ ابھی بھی ہے- کچھ کہتے ہیں کہ اول اول کسی بادشاہ کو اس کے شاہی طبیب نے علاج کے طور پر تجویز کیا تھا- کتھا، چونا اور چھالیہ اس کے بنیادی اجزاء تھے اور ہیں- پھر اس میں انواع اقسام کے تمباکو اور قوام شامل ہوتے چلے گئے-

   لڑکیوں کےجہیز میں پاندان سب سے اہم چیز سمجھی جاتی   تھی، دلہن کو دو طرح کے پاندان دیے جاتے۔ ایک چاندی کا مرصع پاندان اور دوسرا عمومی استعمال کے لیے تانبے کا قلعی شدہ پاندان۔مغل شاہی حکومتوں کے دربار میں پان اور عطر تقسیم کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں انگریز وائسراؤں کی لاج میں مہمان کی پان اور عطر سے ضیافت کی جاتی تھی۔ جس سے اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ انگریزوں نے بھی مسلمان بادشاہوں کی اس قدیم روایات کو باقی رکھا-گلوری کی روائت پاندان اور خاصدان کی کہانی-پان کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔ ہندو مائتھالوجی میں بیان کیا گیا ہے کرشنا جی پان کھاتے تھے، ہزاروں برس سے حکیم اس کو بطور دوا بھی استعمال کرواتے تھے ہندو مذہبی روایات میں بھی پان کا بہت دخل ہے۔  لونگ، الائچی ، کھوپرہ اورسونف بہت سی بیماریوں  ‎جب سے ہندوستان می نوابوں، مہاراجوں اور راج واڑوں کا دورشروع ہوا غالباً اسی وقت سے یہاں پان کھانے کا رواج ملتاہے، لکھنو اور حیدرآباد کی تہذیبی ثقافت میں پان کو ہمیشہ کلیدی حیثیت حاصل رہی ، اس زمانے میں پان دان جہیز میں دینا لازمی ہوا کرتا۔ پاندان کے ساتھ خاصدان ،اگلدان ،پان کی ڈبیہ یا تھالی بھی دی جاتی جبکہ پان کھانے کے آداب بھی ہوا کرتے تھے-

گلوری کے لوازمات میں خاصدان، پاندان، اگالدان، گلوری دان، پیک دان، سروتا، چنگیر، پن کٹی وغیرہ شامل تھے۔ دفتر یا سفر میں لے جانے کے لیے چاندی کی منقش ڈبیا کا استعمال عام تھا۔ مغل سلاطین اور ان کا خاندان گلوری کے انتہائی شائق تھے۔ قلعہ معلی میں گلوری عموماً ڈیڑھ پان کی بنائی جاتی اور لپیٹ کر اس میں سونے، چاندی، لوہے یا لونگ کی کیل لگا دی جاتی تھی -سچی بات تو یہ ہے کہ پان اور اس کے مروجہ ضروری مصالحہ جات کے خواص اور افعال کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر تمباکو کے پان کا استعمال منہ کے امراض کے لئے نہایت مفید ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے کہ جو چیزیں نفع بخش ہوں ان کو مضر کیونکر کہا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ادویات کا استعمال مخصوص اوقات میں ہوتا ہے غیر اوقات میں ان کا استعمال کچھ ٹھیک نہیں۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ اگر پان کو درجہ اعتدال پر استعمال کیا جائے تو انسان بہت سے امراض سے محفوظ رہ سکتا ہے اور اس کا استعمال نہایت ہی فائدہ بخش ہے۔ 

بالخصوص  , درد داندان, گندہ دہنی اور مسوڑھوں کے لئے نہایت نافع ہے- اس کے علاوہ اور بھی بہت سے فوائد ہیں مثلاً ذائقہ کا درست ہونا, زبان اور مسوڑھوں کے زخم مندمل ہونا, حلق کی خرابی سے محفوظ رہنا, کھانا کھانے کے بعد منھ کو صاف کرنے اور اس کی تمام کثافت کو دور کرنا وغیرہ- پان کے بیڑے کے استعمال سے طبعیت کو فرحت ملتی ہے اور خصوصاً موسم سرما میں گرمی پہنچاتا ہے۔نامرغوب چیز کے استعمال کے بعد کھانے سے کراہت دفع ہوجاتی ہے اور منہ  صاف ہوجاتا ہے۔ کھانے کے بعد پان کا استعمال ایک ٹانک کی حیثیت رکھتا ہے۔ کھانے کے ساتھ اکثر نامعلوم طور پر کچھ جراثیم پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ پان کا عرق اور دوسرے اجزاء ان جراثیم کو مار ڈالتے ہیں اور اس طرح ہم بہت سی بیماریوں سے بچ جاتے ہیں۔ پان کے کھانے کے بعد پیدا ہونے والی سرخی کی وجہ سے چہرے  پر خوبصورتی  بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے لوگ (خصوصاً صنف نازک) اس کو افزائش جمال کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں آج بھی پان ہی ایک ایسی مہذب اور کم خرچ تواضح ہے جسے غریب سے غریب پیش کر کے اپنے جذبات محبت ایک دوسرے پر آشکار کرسکتے ہیں 

ہفتہ، 2 مارچ، 2024

این ای ڈی کراچی یونیورسٹی

   

صوبہ  سندھ  کے دارالحکومت کراچی میں این ای ڈی یونیورسٹی سندھ میں انجینئرنگ کی تعلیم فراہم کرنے والا سب سے پرانا ادارہ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی مزید چار سال کیلئے شیخ الجامعہ این ای ڈی مقرر کر دیئے گئے۔ تفصیلات کے مطابق یونیورسٹیز اینڈ بورڈز حکومتِ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر سروش لودھی کو مزید چار سال کیلئے این ای ڈی یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ سال 2021ء میں این ای ڈی یونیورسٹی اپنے سو برس مکمل کر چکی ہے۔اس عظیم درسگا ہ کے قیام کا سہرا سو برس پیچھے کراچی کی پارسی کمیو نٹی کے  سرکردہ 'علم دوست مخیر فرد نادر شا ایڈلجی ڈنشا  کے سر جاتا ہے -کراچی میں واقع این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے رواں سال یعنی2021 میں اپنے قیام کے 100 سال مکمل کیے ہیں، ملک کے اس اہم تعلیمی ادارے کو1921 میں قائم کیا گیا تھا۔ انجینئرنگ کے شعبے میں گریجویٹس کی تعلیم و تربیت کے لیے معروف این ای ڈی یونیورسٹی پاکستان کے قدیم ترین اداروں میں سے ایک ہے۔اس سے پہلے این ای ڈی یونیورسٹی کا ​​نام پرنس آف ویلز انجینئرنگ کالج تھا۔ این ای ڈی یو ای ٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سروش حشمت لودھی نے انکشاف کیا کہ اس انجینئرنگ کالج کا سنگ بنیاد 1921 میں پرنس آف ویلز کے دورے کے موقع پر رکھا گیا تھا۔ڈاکٹر حشمت لودھی نے بتایا کہ قیام پاکستان سے قبل جیکسن نام کے ایک برطانوی افسر اس کالج کے قیام کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے۔

پروفیسر لودھی نے بتایا کہ اس تاریخی ادارے میں 540 سے زیادہ ماہر تعلیم لیکچرارز اور پروفیسرز کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں 200 پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل ہیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی 34 انڈرگریجویٹ، 50 سے زیادہ ماسٹرز اور 21 پی ایچ ڈی پروگرامز کی پیش کش کرتی ہے۔ تقسیم سے پہلے یہ تعلیمی ادارہ بمبئی  یونیورسٹی سے وابستہ تھا تاہم قیام پاکستان کے بعد یہ حکومت سندھ کے دائرہ اختیار میں آگیا۔این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں اس وقت پانچ کلیات کے تحت اکیس شعبہ جات میں چھ ہز سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں جن میں سے ڈیڑھ ہزار کے قریب تعداد خواتین کی ہے۔اس ادارے کا قیام انیس سو بائیس میں عمل میں آیا جب پرنس آف ویلز کے کراچی کے دورے کے موقع پر کراچی کے شہریوں نے عطیات جمع کر کے اس ادارے کی بنیاد رکھی۔اس وقت اس کا نام پرنس آف ویلز انجینئرنگ کالج تھا۔ یہ اس وقت صوبہ سندھ کا واحد انجینئرنگ کالج تھا۔

انیس سو چوبیس میں اس کا نام اس وقت کی معروف سماجی شخصیت نادر شاہ ادولجی ڈنشا کی پہلی برسی کے موقع پر ان کےخاندان کی جانب سے بہت خطیر رقم بطور امداد ملنے کے بعد اس کا نام نادر شاہ ادولجی ڈنشا انجینئرنگ کالج رکھ دیاگیا۔ اس وقت اس کالج کا الحاق بمبئی یونیورسٹی سے تھا۔انیسو سینتالیس میں قیامِ پاکستان کے بعد اس کا انتظام سندھ حکومت نے سنبھال لیا اور اس کا الحاق سندھ یونیورسٹی سے کر دیاگیا۔انیس سو اکاون میں جامعہ کراچی کے قیام کے بعد اس کا الحاق جامعہ کراچی سے کردیاگیا جو انیس سو ستتر تک جاری رہا۔ 1977 میں اسے باقاعدہ یونیورسٹی کا درجہ دے دیاگیا۔اس یونیورسٹی میں کوئی گزشتہ بارہ برسوں سے اس بات بہت پر بہت زور دیا جا رہا ہے کہ تعلیمی سال کو مکمل کیا جائے اسی لیے جب کراچی شہر کے حالات کی وجہ سے جامعہ بند رہتی ہے تو اس کی کسر روز کی کلاسز کے اوقات میں اضافہ کردیا جاتا ہے اور کبھی کبھی  اتوار کے روز بھی تدریس کے عمل کو جاری رکھا جاتا ہے تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق مطلوبہ کریڈٹ آور پورے کیے جا سکیں۔اس جامعہ میں داخل ہوتے ہی یہ احساس ہوتا ہے کے اس کا نظم و نسق دوسری جامعات سے مختلف ہے۔یونیورسٹی کے کیمپس کی عمارتیں اور ماحول دیگر سرکاری جامعات کی نسبت زیادہ بہتر اور صاف ستھرا ہے۔

سیٹھ ایڈلجی ڈنشا 18 مئی 1842 کو کراچی میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق پارسی خاندان سے تھا۔ وہ برطانوی فوج کے لیے ٹھیکیداری کاکام کرتے تھے، ان کے کاروبار کو 1878 سے 1881 کے دوران ہونے والی دوسری افغان جنگ کے دوران عروج حاصل ہوا۔ اس کام سے جو دولت کمائی وہ انھوں نے زمینوں اور کارخانوں میں لگادی، وہ قسمت کے دھنی تھے۔اس کاروبار میں بھی انھیں خوب کامیابی حاصل ہوئی اور 19ویں صدی کے آخری دور میں اس وقت کے کراچی کی زمینوں کے بڑے حصے کے وہ واحد مالک ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے جو پیسہ کمایا اسے فلاحی اور خیراتی کاموں میں دل کھول کر خرچ کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں 1899 میں آرڈر آف دی انڈین ایمپائر دینے کا اعلان کیا گیا اورانھیں یہ ایوارڈ یکم مارچ 1900 میں ملکہ وکٹوریہ کی جانب سے دیا گیا۔ ان کے بیٹے نادر شا ایڈلجی ڈنشا نے بھی ان کے مشن کو جاری 

رکھاسندھ کے جھومر کراچی کو ایک یادگار شہر بنانے میں پارسیوں کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔ ان کی تعمیرات اوران کے بنائے ہوئے اداروں کے نام کی گونج آج بھی ہمیں سنائی دیتی ہے ۔پارسیوں کو جدید تعلیم کی اہمیت کا بہ خوبی اندازہ تھا۔ وہ اپنی کاروباری اور انتظامی صلاحیتوں کے سبب انگریزوں کا دل جیت چکے تھے اور جانتے تھے کہ اگر انھوں نے ابتدائی عمر سے ہی بچوں کی تعلیم پر توجہ نہ دی تو ان کی نئی نسل ترقی نہ کرسکے گی ۔یہ یونیورسٹی برطانوی حکومت کے قائم ہونے کے بعد اپنی جدید شکل میں آئی اور سنہ 1947ء میں حکومت سندھ نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا۔ سنہ 1947ء میں پاکستان کی آزادی کے بعد جیسے جیسے کراچی ترقی کرتا گیا اور پرانا 'سٹی کیمپس' بہت زیادہ پر ہجوم ہو گیا، سنہ 1975ء میں یونیورسٹی روڈ، کراچی پر اس کے موجودہ مقام پر ایک نیا 'مین کیمپس' تعمیر کیا گیا۔ آخر کار یکم مارچ 1977ء کو این ای ڈی گورنمنٹ انجینئرنگ کالج کو انجینئرنگ یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ اس یونیورسٹی کا نام اس کے محسن نادرشا ایڈولجی ڈنشا کے نام پر رکھا گیا ہے۔ 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا

  اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب  میں خود ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر