بدھ، 5 نومبر، 2025

ہری ونش رائے بچن ایک ہمہ صفت شاعر و ادیب

 

ہری ونش رائے بچن ہندی کے ممتاز شاعر اور بالی وڈ کے میگا سٹار امیتابھ بچن کے والد تھے۔ اتر پردیش میں الہ آباد کے قریب پرتاب نگر میں میں پیدا ہوئے۔ ان کے ماں اور باپ دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے عہدوں پر فائز تھے  جن کے مراسم نہرو خاندان سے تھے -ہری ونش نے اعلیٰ تعلیم الہ آباد یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی سے حاصل کی۔ بچّن جی سنہ 1940ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ایک زمانے میں جب اردو کے ممتاز شاعر فراق الہ آباد یونیورسٹی کے انگریزی کے شعبے کے سربراہ تھے، بچّن جی اسی شعبے میں انگریزی ادب کے پروفیسر رہے۔ انھوں نے شیکسپیئر کے المیہ ڈراموں کا ہندی میں ترجمہ کیا تھا۔ ہندی شاعری میں ان کی طویل نظم ’مدھوشالہ‘ بہت مقبول ہے۔ہندی شاعری کے اسٹیج پر بچن کی آمد 1953ء میں صرف 28 برس کی عمر میں ہوئی۔ پہلی مرتبہ انھوں نے اسٹیج پر عمر خیام کی رباعیات کی طرز پر اپنی معرکہ آرا تصنیف "مدھو شالا" (1935ء) پیش کیا۔شراب و ساقی اور جام و مینا کے تلازمے چونکہ ہندی شاعری کے لیے یکسر نئے تھے اس لیے مدھو شالا کو ادبی دنیا میں زبردست مقبولیت، شہرت اور پزیرائی حاصل ہوئی


اور اس نئے بچن کو کم سنی ہی میں ہندی کے بڑے شاعروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ اس کے علاوہ "مدھو بالا" (1936ء) اور "مدھو کلش" (1937ء) بھی ان کی ابتدائی تخلیقات ہیں۔ بچن کا طرز تحریر، ان کی زبان کی سادگی اور قوت اظہار نے عوام میں کافی مقبولیت حاصل کی۔بچن انگریزی 1966ء میں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں راجیہ سبھا کی رکنیت سے نوازا گیا۔ اسی سال "64 روسی کویتائیں" کتاب کے لیے سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ ملا۔ 1969ء میں "دو چٹانیں" پر ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔سنہ 1967ء میں میں ہری ونش بچّن کو ہندی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں بھارتی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے لیے نامزد کیا گیا۔ اور دیگر 
لوگوں کی طرح انہیں بھی عمر خیام کی رباعیات نے بہت متاثر کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی رباعیات کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا، لیکن اس ترجمے کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔ 



کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے رباعیات کے ہی رنگ میں مدھوشالہ لکھی، جسے خواص و عوام نے خوب پسند کیا۔ان کی تخلیق مدھوشالہ1935 ) چار چار مصرعوں کے 134 بندوں پر مشتمل ایک طویل نظم ہے جس میں انہوں نے عمر خیام کا اتباع کرتے ہوئے رندانہ زبان میں زندگی کے حقائق اور اپنا فلسفہ  بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ 1929ء میں الہ آباد یونیورسٹی سے بی۔ اے پاس کیا-   1938ء میں ایم  اے مکمل کیا۔ اس درمیان میں انگریزی اخبار  میں "   ملازمت کر لی۔ یہ مصروفیت بہت تھکا دینے والی تھی بالآخر استعفی دے کر ہندی ماہنامہ "ابھیودی" کے مینجر بن گئے۔ 1941ء سے 1952ء تک الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد رہے



اور بعد میں ریسرچ کے سلسلے میں کیمبرج یونیورسٹی گئے اور وہاں سے بیٹس کی شاعری پر 1954ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ کچھ دنوں آکاش وانی میں پروڈیوسر رہے اور اس کے بعد   مقرر ہو گئے جہاں تقریباً دس برس کام کیا۔اس کے علاوہ پدم بھوشن (1976ء)، افروایشین رائٹرز کا لوئس انعام (1970ء) اور سرسوتی سمان (1992ء) سے بھی نوازا گیا۔اپنے طویل ادبی سفر میں بچن کے تقریباً 30 شعری مجموعے شائع ہوئے۔ وہ کم و بیش 47 کتابوں کے مصنف ہیں۔انھوں نے اوتھیلو اور ہملیٹ، عمر خیام کی رباعیوں اور روسی کویتاؤں کا بھی ہندی میں ترجمہ کیا۔ تذکرے لکھے، مقالے تحریر کیے۔ مذکورہ فہرست کی آخری چار کتابیں بچن کی انوکھی اور بے مثال خودنوشت ہیں۔ انھیں ہندی ادب میں میل کا پتھر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب بچن ریسرچ کے سلسلے میں لندن میں تھے تو انھوں نے "ہرواس کی ڈائری" (1971ء) کے نام سے ایک ضخیم کتاب ترتیب دی تھی جس میں برطانیہ میں گزارے گئے ان کے ماہ و سال اور وہاں کے علمی و ادبی ماحول کی خوبصورت تصویر کشی ہے۔ یہ ہندی کی ایک انوکھی اور بے مثال خودنوشت ہے۔ جال سمٹنا (1973ء) ان کی آخری کتاب ہے۔ 18 جنوری 2003ء کو ممبئی میں ایک طویل علالت کے بعد انتقال کیا\

منگل، 4 نومبر، 2025

ڈیجیٹل کرائم -اپنے بچوں کو بچائیے

 

آج کل نئے نئے نوجوان بچوں کو امیر بنانے کا لالچ دے کر ڈیفنس/کلفٹن میں عالی شان آفس بنا کر ان کو ایک مہینے تک اس میں ٹریڈ اور کرپٹو ٹریڈنگ وغیرہ کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ اس ایک مہینے میں ان بچوں کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ وی ائی پی لنچ، وی ائی پی ڈنر، گارڈ، سہولت کار، خدمت گار، فل اے سی ہال میں رکھا جاتا ہے۔ بچوں کو گھیرنے کے لیے ان کے ایجنٹ گھومتے رہتے ہیں۔ ان کو اسٹارٹ میں ڈمی اکاؤنٹ بنا کر سکھاتے ہیں پھر جب وہ سیکھ جاتے ہیں تو ان کا بینک اکاؤنٹ اوپن کرواتے ہیں وہ بچہ تو ہواؤں میں اڑتا محسوس کرتا ہے پھر اس بچے کی چیک بک سے چار یا پانچ بلینک چیک سائن کروا کر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ اس کے بعد ان بچوں کے اکاؤنٹ میں ڈالر جمع کروائے جاتے ہیں اور ان کو جو ٹریڈنگ کا کام سکھایا گیا ہوتا ہے اس ٹریننگ کو استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے کہ جتنا بھی پرافٹ ہوگا 80 فیصد مالک کا اور 20 فیصد ان بچوں کا۔اس ٹریڈنگ اکاؤنٹ کا مکمل کنٹرول مالک اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے جب تک نفع ہوتا رہتا ہے وہ اپنا نفع خود نکال لیتا ہے 


اور جب نقصان ہوتا ہے تو شروع شروع میں مالک کہتا ہے کہ کوئی بات نہیں میں اور پیسے ڈلوا دیتا ہوں کیونکہ اس کو تو اپنے نفع سے مطلب ہوتا ہے کیونکہ نقصان تو وہ بدمعاشی سے نکلوا ہی لیں گے ہم جیسے غریبوں سے۔ اگر مالک چاہتا تو اس کو وہیں روک لیتا اور مزید نقصان سے بچاتا۔ جب نقصان سے گھبرا کر کوئی بچہ کام چھوڑنے کی بات کرتا ہے تو اس کے چیک میں اپنے نقصان کی رقم لکھ کر بلکہ اس سے کہیں زیادہ رقم لکھ کر، اس چیک کو بینک میں فیل کروا کر اس چیک پر اس بچے کے خلاف ایف ائی ار درج کروا دیتا ہے۔ اس بچے کے گھر والوں کو الگ تنگ کیا جاتا ہے اور ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہے کہ اپنا گھر بیچو اور میرا پیسہ ادا کرو۔پھر ایسے بچے یا تو خودکشیاں کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں یا پھر ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہتے ہیں۔ خدارا میں بھی اسی طرح کے ایک ظالم کا ستایا ہوا والد ہوں۔ یاد رکھیں کہ جب پولیس کی وین کسی شریف آدمی کے گھر کے باہر آتی ہے تو اس شریف آدمی کی آدھی موت تو وہیں ہو جاتی ہے۔


 میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا پولیس کے ساتھ کچھ سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگ بھی گھر پر آئے۔ مجھے زد و کوب کیا، تشدد کیا، میرے دوسرے بچوں کو مارا،  گھر کی عورتوں بہو بیٹیوں کو ہراساں کیا، گھر کا سارا سامان تہس نہس کر دیا۔ارباب اختیار سے میری مودبانہ گزارش ہے کہ خدارا اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ان بچوں کو خودکشیاں کرنے سے بچائیں اور ان کے والدین کو اس ذہنی اذیت سے بچائیں اور اس غیر قانونی ٹریڈنگ کا کام کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائیں۔ ان شاء الله جن ارباب اختیار نے اس کار خیر میں حصہ لیا میرا ایمان ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں ضرور سرخرو ہوں گے۔ اگر کسی کے دل میں تھوڑی سی بھی ہمدردی ہو تو وہ اپنے نوجوان بچوں کی نگرانی بھی کریں اور اگر خدانخواستہ کوئی بچہ ان غلط لوگوں کے ہاتھوں پھنس چکا ہے تو اس کی مدد بھی کریں 
اور اس پوسٹ کو آگے شیئر کر کے دوسرے مظلوم والدین کی بھی دعاؤں کے حقدار بنیں


 ۔اب میں آپ کو آج کل کے ڈیجیٹل کرائم کا ایک اور تاریک پہلو بتانے جا رہی ہوں خوب لش پش آفس بنا کرسادہ لوح نوجوانوں کو راغب کیا جاتا ہے کہیں پر یہ آفس پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے شو کرتے ہیں-کسی بھی نام سے جعلی ہاؤسنگ سوسائیٹی شو کر کے اس میں بکنے والے  پلاٹوں کی  جعلی  فائلیں بنا کر آفس میں رکھ دی جاتی ہیں  نوجوانوں کو چیک بکس  بھی دی جاتی ہیں  اورچیک بک کا اختیار اپنے پاس رکھا جاتا ہے'گلشن اقبال کے پوش علاقے میں  ایسا ہی ایک آفس بنا کر پلاٹوں کے نام پر جب بزنس شروع کیا گیا -کاراوبار آگے بڑھا اور اور لگ بھگ 45 لاکھ کی رقم کچھ فائلوں کی فروخت کے زریعہ آ گئ تب ایک شخص نے کہا مجھے پلاٹ دکھایا جائے  اس شخص کو جو جگہ بتائ گئ وہ کسی اور سوسائٹی کی  فروخت شدہ زمین تھی جب فراڈ پکڑا گیا  تو سارے فراڈئے فرار ہوگئے اور لوگوں نے   اس معصوم نوجوان کو پکڑا کہ ہمارے پیسے واپس کرو -اس نوجوان کے والدین نے اپنے بیٹے کی جان بچانے کو قرض دینے والی ایجنسی سے قرضہ لے کر قرضہ واپس کیا جو یہ قرضہ 2029 ء تک ادا کرتے رہیں گے  اس لئے اپنے نوجوان بچوں کی حفاظت کیجئے  -معصوم  نوجوان ان کے جھانسے میں آ کر  ان کے قیدی بن جاتے ہیں 

پیر، 3 نومبر، 2025

منجھلی آپا کے ہاتھوں میں جڑاؤ کنگن بھی نہیں تھے

 

اب    میں نے دیکھا منجھلی آپا ہر وقت امّاں کے نشانے پر رہتی تھیں ،اور بس امّاں کی زبان پر ایک جملہ ہوتا پرائے گھر جانا ہے اپنی عادتیں سدھارلو،منجھلی آپا بھی اپنی جگہ اچھّی تھیں لیکن ان کی زبان پر امّاں کی ہربات کا جواب موجود ہوتا تھا جس سے امّا ں بہت ناراض ہوتی تھیں اورمنجھلی آپا کو صبر کی تلقین کا سبق بھی پڑھاتی رہتی تھیں اور بالآخر بڑی آپا کے  محض چھ مہینے  بعد منجھلی آ پا بھی گھر سے رخصت ہو کرسدھار گئیں ،مہندی مایوں سے لے کر رخصت کی گھڑی تک منجھلی آپاکی آنکھو ں سے آنسو کا ایک قطرہ بھی گھر میں کسی  نے ٹپکتے نہیں دیکھا،،یہاں تک کہ جب ابّا نے آگے بڑھ کر ان کو رخصت کرنے کو گلے لگا یا تب بھی وہ سرجھکائےہوئے ابّا کے سینے سے جا لگیں لیکن روئیں پھر بھی نہیں اس وقت ابّاکاچہرہ شدّتِ جذبات سے سرخ ہو گیا تھا اور منجھلی آپا اپنے قدموں پرجھول سی گئیں تھین پھر کسی کی آواز آئ جلدی کرو دلہن بے ہوش ہو جائے گی  اور ان کو بہکتے قدموں پر چلاتے ہوئے دولہا کی سجی ہوئ گاڑی میں بٹھا دیاگیا تھا  ،




ناجا نے ان کو ہو کیا  گیاتھا کہ ان کے دلہناپے کو سکوت تھا اور وہ اسی طرح ساکت ہی رخصت ہو گئںلیکن میرے لئے اچنبھے کی بات تھی کہ اگلے دن بڑے بھیّا رسم کے مطابق منجھلی آپا کوسسرال جاکر لے آئے تھے لیکن  انکے ساتھ ان کے دولہا رفاقت بھائ بھی نہیں آئےتھے  میں نے سب سے پہلے منجھلی آپ کی کلائیاں دیکھیں شائد میری نظریں  ان کے ہاتھوں میں بھی جڑاؤ کنگن تلاش کر رہے تھے 'میرے خیال میں ہر دولہا شادی کے بعد اپنی دلہن کو جڑاؤ کنگن پہناتا  ہےلیکن ان کے ہاتھوں میں جڑاؤ کنگن نہیں تھے اور وہ بڑی آپا کی طرح خوش    نہیں تھیں بلکہ آنسو انکی آنکھوں میں چھلکے چھلکے آرہے تھے امّا ں بیٹی کے پر ملال چہرے پر نظر ڈال کر کچھ چونکیں تو ضرور تھیں لیکن انہوں نے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا نا ہی کچھ پوچھ کر ان کو کچھ کہنے کا حوصلہ دیاتھا


اور پھر شادی کے صرف چند ہفتوں بعد منجھلی آپا امّاں کے سامنے بیٹھی رو رو کر کہ رہی تھیں امّا ں آپ نے مجھ کو یہ کیسی سسرال بھیج دیا جس کو گھر نہیں جہنّم کہنا زیادہ بہتر ہےاور شوہر ایسا ہے جو اپنی امّاں کے پلّو سے بندھا پھرتا ہے'یہ کام کرنا ہے تو جواب ملتا اما ں سے پوچھ لو جو بات کروامّاں سے پوچھ لو ،جو کام کہو امّاں راضی نہیں ہو ں گی ,,جب اسے اپنی امّاں کے پہلو سے لگ کر بیٹھنا اتنا ہی پسند تھا تو پھر شادی کی کیا ضرورت تھی  او رامّاں کی آوازایک دھاڑکی شکل میں سنائ دی ،بس اب ایک لفظ جو منہ سے نکالامگر منجھلی آپا کے اوپر امّاں دھاڑ بھی بے اثر رہی اور وہ رو رو کر بتاتی رہیں


   وہ بتا رہی تھیں کہ ان کی ساس  کس طرح گھر کے سارے کام کرواتی ہیں اور کھانا پکاکر سب سے آخر میں کھانا کھانے دستر خوان پر بیٹھتی ہیں تب ان کی ساس منجھلی آپا کے کھانا کھائے بغیر ہی دستر خوان سمیٹ دیتی ہیں،منجھلی آپا نے یہ بھی بتایا کہ ان کو طبیعت کی خرابی میں بھی ڈاکٹر کےپاس جانے کی اجازت نہیں ہے ،اور رفاقت کا کہتے ہیں کہ ہماری ماں کے حکم کے مطابق ہی گھر چل رہا ہے اب اگر تم کو کوئ اعتراض ہے تو تم میکے جا سکتی ہو 



 

اتوار، 2 نومبر، 2025

چنیوٹ کی تاریخی تعزیہ داری کی تاریخ

 


  حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا سے محبت و عقیدت میں بنائے گئے چنیوٹ کے ماہر کاریگروں کے ہاتھوں لکڑی کے خوبصورت تعزیہ جات دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں، جن کی بناوٹ اور خوبصورت کا کوئی ثانی نہیں۔ لفظ 'تعزیہ' اعزا سے نکلا ہے۔ ، چونکہ امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام نے واقعہ کربلا میں صبر کی انتہا کی۔ چنیوٹ کے ماہر کاریگروں نے امام عالی مقام کو جنت میں ملنے والے محل کا خیالی ماڈل بنایا ہے۔ تعزیے کے پیڈسٹل یعنی تخت پر گلاب، سوسن اورانگوروں کی بیل کی منبت کاری کر کے کاریگروں نے شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ تعزیہ کے تخت پر بنہ جات ڈیزائن کیے گئے ہیں اور ہر کونے پر بنہ میں 5 گنبد ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔  یہ 5 گنبد پنجتن کو ظاہر کرتے ہیں۔ تعزیہ کی ہر منزل کو کاریگروں نے 2 حصوں میں ڈیزائن کیا ہے جو 6 آسمانوں کو تشبہہ دیتے ہیں۔ درمیان والا حصہ برآمدہ اور دائیں بائیں حصے متن کہلاتے ہیں۔ تعزیے کی ہرمنزل میں بالکونیاں، دروازہ جات اور کھڑکیوں کو بڑے خوبصورت انداز میں سجایا جاتا ہے۔


 پالکی میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی رہائشگاہ دکھائی گئی ہے۔ پالکی کا پہلا گنبد سبز اور دوسرا سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔ سبز حسنی جبکہ سرخ حسینی رنگ ہے۔ تعزیہ کا بالائی گنبد پالکی پر نصب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح امام حسین علیہ السلام کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے تعزیہ کے  کاریگر کہتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے شہدائے کربلا سے محبت اور عقیدت میں دیار کی لکڑی پر منبت کر کے بارہ منازل پر مشتمل تعزیہ جات بنائے ہیں اور ان تعزیہ جات کو دیکھ کر واقعہ کربلا کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ ہر سال نویں اور دسویں محرم کو یہ تعزیہ جات نکالے جاتے ہیں۔  چنیوٹ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال نویں اور دسویں محرم الحرام کو چنیوٹ کے مختلف علاقوں سے یہ تعزیہ جات اپنے مقررہ راستوں سے نکالے جاتے ہیں اور ہم شہدائے کربلا کی یاد کو تازہ اور ان سے عقیدت کا اظہار کرنے کے لیے ان تعزیوں کو اٹھاتے ہیں اور میدان ترکھاناں میں عزاداری اور پرسہ دیا جاتا ہے۔


 چنیوٹ کے ماہر کاریگروں کے ہاتھوں سے تراشیدہ یہ تعزیہ جات امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا سے محبت اور عقیدت کا منفرد انداز ہیں جو واقعہ کربلا کی یاد کو تازہ کرتے ہیں-سفید تعزیہ۔ شہر میں بے شمار سفید تعزیے نکلتے تھے۔ دو تعزیے اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ ان دونوں تعزیوں کے تختوں اور مونڈھوں پر مختلف رنگوں کے تال میل سے ابرق کے پتر پر دیدہ زیب قلم کاری ہوتی تھی جو رات کے وقت جگمگ جگمگ کر کے آنکھوں میں چکا چوند پیدا کرتی تھی۔شاگرد کا تعزیہ تیار کرنے والے ہنرمند کا نام اِلہی بخش بتایا جاتا ہے الہی بخش کے دل میں  اپنے استاد کا تعزیہ  بناتے بناتے عشق امام عالی مقام جو جاگا تو اس نے اپنا بھی ایک تعزیہ بنانے کی ٹھان لی  کیونکہ  الٰہی بخش  استاد کا تعزیہ بنانے والے گروہ کا حصہ تھے جو دن کو استاد کے پاس کام کرتا تھا اور رات میں ایک خفیہ جگہ اپنا الگ تعزیہ بنانے مشغول رہا۔  اور 1854ء میں اسے مکمل کردیا۔  شاگرد کا تعزیہ 32 فٹ لمبا تھا۔  شاگرد کا تعزیہ اٹھانے کے لئے 200 افراد درکار ہوتے ہیں۔



 ہر سال دس محرم کواستاد کا تعزیہ ملتان میں محلّہ پیر قاضی جلال اندرون پاک گیٹ سے جبکہ شاگرد کا تعزیہ خونی برج ملتان سے برآمد ہوتا ہے۔استاد کا تعزیہ جلوس کے آگے اور شاگرد کا تعزیہ جلوس کے پیچھے رکھا جاتا ہے۔استاد اور شاگرد دونوں کے تعزیہ کا لائسنس سنّی بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کےنام ہے-ملتان میں دو تعزیے استاد اور شاگرد کے تعزئے سے مشہور ہیں۔ استاد اور شاگرد دونوں کا تعلق سنی مذہب سے تھا۔ استاد کا نام پیر بخش بتایا جاتا ہے۔ لکڑی پر کندہ کاری اور چوب کاری کے ماہر اُستاد پیر بخش نے حضرت امام حسین سے عقیدت کے اظہار کے لیے 1812ء میں بنانا شروع کیا اور 22 ساتھیوں کی مدد سے 13 سال کے عرصے میں 1825ء میں مکمل ہوئی۔ استاد کا تعزیہ 27 فٹ لمبا، 8 فٹ چوڑا اور سات منزلوں پر مشتمل ہے۔ ہر منزل کئی چھوٹے بڑے ساگوان کی لکڑی کے ایسے ٹکڑوں سے بنی ہے جو مِنی ایچر محرابوں، جھروکوں، گنبدوں اور میناروں پر مشتمل ہوتے ہیں اور اسے بنانے میں کوئی میخ استعمال نہیں ہوئی۔ یہ تعزیہ آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اس کو 150 افراد اٹھاتے ہیں   

ہفتہ، 1 نومبر، 2025

سوڈان کیوں لہو لہان ہے

 

  سوڈان کیوں  لہو لہان ہے وسائل پر قبضہ اس کا بہت سادہ سا جواب ہے خانہ جنگی سے تباہ حال جنگ زدہ سوڈان سے پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کا پلان کامیاب       جنگی کے باعث سوڈان سے غیر ملکی سفارتکاروں اور شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے دوسری جانب427  پاکستانیوں کو بھی سوڈانی بندرگاہ پر پہنچا دیا گیا البتہ ایک خاندان دارالحکومت خرطوم میں پھنس گیا،  پاکستان میں موجود گھر والوں نے مدد کی اپیل  کردی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستانیوں کے سفر کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔وزیراعظم آفس کے ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف خود سوڈان سے انخلا آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں ۔شہباز شریف کی جانب سے انخلا کی جامع حکمت عملی تیار کرنے پر ائیر چیف ظہیر بابر سدھو اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل ندیم انجم کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔خیال رہے کہ سوڈان میں فوج اور پیرا ملٹری فورس کے درمیان جھڑپوں میں اب تک 400 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

 


 

 وہ تمام ممالک جن کے شہری اس وقت سوڈان میں محصور ہو گئے ہیں  وہ سب اپنے شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لئے متحرک ہو گئے ہیں سوڈان سے مختلف ممالک کی جانب سے شہریوں کو ہنگامی طور پر نکالنےکا سلسلہ جاری ہے۔سعودی عرب، امریکا، فرانس، برطانیہ اور جرمنی سمیت کئی یورپی اور افریقی ممالک نے اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو سوڈان سے نکال لیا۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب نے ہفتے کو اپنے 91 اور دیگر ممالک کے 66 شہری سوڈان سے نکالے جبکہ امریکا نے اتوار کی شب خرطوم سے 100 کے قریب سفارتی عملے کو نکالا۔سوڈان: کا قضیہ کیاہے؟؟؟امن سے تباہی تک ایک وقت تھا جب سوڈان کو “افریقہ کا اناج گھر” کہا جاتا تھا۔ دریائے نیل کی زرخیز گندم کی فصلیں اگلتی ہو ئ  زمینیں، سونا، تیل، مویشی اور کھجور کے باغات اس ملک کو خوشحالی کی علامت بناتے تھے۔ مگر آج وہی سوڈان بھوک سے بلک رہا ہے ، خانہ جنگی اور تباہی کا استعارہ بن چکا ہے۔


 لاکھوں لوگ بے گھر، ہزاروں ہلاک اور کروڑوں قحط کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قدرتی وسائل سے مالامال یہ ملک آج خاک و خون میں کیوں نہا رہا ہے؟یہ المیہ اپریل 2023 میں شدت اختیار کر گیا، جب سوڈانی فوج (SAF) اور نیم فوجی ملیشیا “ریپڈ سپورٹ فورسز” (RSF) کے درمیان اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ آرمی چیف جنرل عبدالفتاح البرہان اور حمیدتی کے درمیان طاقت کی کشمکش دراصل 2019 کے بعد سے بڑھتی جا رہی تھی، جب عوامی احتجاج نے صدر عمرالبشیر کی 30 سالہ حکومت کا خاتمہ کیا۔ عبوری دور میں فوج اور سویلین قیادت کے درمیان اشتراک تو ہوا، مگر مفادات اور بالادستی کی جنگ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔آج خرطوم، دارفور اور الفاشر جیسےپھلتے پھولتے  شہر کھنڈر بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ملیشیا گروہوں نے عام شہریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے ہیں۔ اسپتال، اسکول اور بازار ملبے  اور کھنڈرات میں بدل چکے ہیں۔


بتانے والے بتاتے ہیں کہ صورتحال کو مزید خطرناک بنانے میں بیرونی قوتوں کا بھی ہاتھ ہے۔متحدہ عرب امارات پر الزام ہے کہ وہ سونا اور وسائل کے بدلے میں ریپڈ سپورٹ فورسز کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ مصر سوڈانی فوج کی حمایت میں ہے، جبکہ روس ریڈ سی پر اپنا بحری اڈہ بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل بھی اس خطے کو اپنے مفادات کے توازن میں رکھنا چاہتے ہیں۔یہ سب طاقتیں اپنے اپنے ایجنڈے کے لیے سرگرم ہیں، مگر قیمت سوڈان کے عوام ادا کر رہے ہیں۔ جن کے گھر اجڑ گئے، بچے بھوک سے مر رہے ہیں، اور ملک ایک بار پھر تقسیم کے خدشے میں ہے۔قرآن کریم کی یہ آیت آج کے سوڈان کی حقیقت بیان کرتی ہے:جب ان سے کہا جاتا ہے زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، تو وہ کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں” (البقرہ: 11)ایک ایسی جنگ جو اقتدار کے نام پر انسانیت کو نگل رہی ہے۔پاکستان اور افغانستان کے حکمرانوں کو سوڈان سے سبق حاصل کرنا چاہیئے،۔جنگ تباہی اور بربادی ہے،امن خوشحالی اور ترقی ہے۔خانہ جنگی کے شکار سوڈان میں آج سے تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوڈان میں فوج اورپیراملٹری فورس کے درمیان جاری خانہ جنگی میں آج سے 3 روز تک کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔

انٹر نیٹ کی مدد سے تحریر لکھی گئ ہے

جمعہ، 31 اکتوبر، 2025

چنیوٹ پاکستان کا خوبصورت روحانی شہر

 


ہمارے وطن پاکستان میں کیا کیا نعمتیں  موجود ہیں اس کا اندازہ تب ہی ہوتا ہے جب ہم اپنی زات کے باہر جھانکتے ہیں  تو آج پیارے وطن کے انتہائ اہم شہر سرگودھا اور فیصل آباد کے درمیان، دریائے چناب کے کنارے ایک خُوب صُورت شہر ’’چنیوٹ‘‘ کی بابت جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ چنیوٹ کے نواحی علاقے چناب نگر میں واقع پہاڑی سلسلے کو سرگودھا ہی کا ایک حصّہ مانا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پہاڑیاں تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، جو اپنے اندر بہت سے تاریخی راز اور نوادرات سموئے ہوئے ہیں۔ تاہم ارباب اختیار  کی  عدم توجہی کے باعث اسمگلنگ مافیا بلا روک ٹوک ان قیمتی نوادرات کی چوری میں مصروف ہے۔ دوسری طرف سرکاری سرپرستی میں پتھر کے حصول کے لیے کی جانے والی کٹائی اور بارود کے ذریعے ہونے والی توڑ پھوڑ سے بھی اس قدیم تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔مغل تاج دار، شاہ جہاں کے عہد میں مقامی وزیر، سعد اللہ خان کا تعلق بھی چنیوٹ سے تھا،یہاں نواب عنایت اللہ خان مگھیانہ سیال کی حکومت تھی نواب عنایت اللہ خان سیال نے جھنگ سے لے کر چنیوٹ تک حکومت قائم کر رکھی تھی احمد شاہ ابدالی کا حملہ اتنا زبردست تھا کہ نواب عنایت اللہ سیال نے ہتھیار ڈال دیے اور قلعہ ریختی پٹھانوں کے حوالے کر دیا اور خود واپس  چلا گیا   -


احمد شاہ ابدالی  نےاپنے پوتے اور بہادر جرنیل مقصود خان درانی کو چنیوٹ کا گورنر مقرر کیا اس طرح درانی پٹھانوں کی حکومت قائم ہو گئی چنیوٹ پر درانی خاندان نے تقریباً چالیس سال حکومت کی 1805مقصود خان درانی کو  ا ن کے انتقال کے بعد چنیوٹ میں واقع پہاڑی کے دامن میں  دفن کیا گیا جسے اب محلہ مقصود آباد کہتے ہیں آپ کا مزار پہاڑی کے دامن میں بنایا گیا ہے آپ کو قطب شہید کہتے ہیں یعنی بڑا شہید سردار مقصود خان کے دو بیٹے تھے سردار عنایت اللہ خان اور سردار جمشیر خان جن کی اولاد اب بھی چنیوٹ میں موجود ہےتاریخ داں بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں یہاں نواب عنایت اللہ خان مگھیانہ سیال کی حکومت تھی نواب عنایت اللہ خان سیال نے جھنگ سے لے کر چنیوٹ تک حکومت قائم کر رکھی تھی احمد شاہ ابدالی کا حملہ اتنا زبردست تھا کہ نواب عنایت اللہ سیال نے ہتھیار ڈال دیے اور قلعہ ریختی پٹھانوں کے حوالے کر دیا اور خود واپس  چلا گیا   -احمد شاہ ابدالی  نےاپنے پوتے اور بہادر جرنیل مقصود خان درانی کو چنیوٹ کا گورنر مقرر کیا اس طرح درانی پٹھانوں کی حکومت قائم ہو گئی چنیوٹ پر درانی خاندان نے تقریباً چالیس سال حکومت کی 1805قصود خان درانی کو چنیوٹ میں واقع پہاڑی پر دفن کر دیا گیاجسے اب محلہ مقصود آباد کہتے ہیں آپ کا مزار پہاڑی کے دامن میں بنایا گیا ہے آپ کو قطب شہید کہتے ہیں یعنی بڑا شہید سردار مقصود خان کے دو بیٹے تھے سردار عنایت اللہ خان اور سردار جمشیر خان جن کی اولاد اب بھی چنیوٹ میں موجودہے  



چنیوٹ کے ولی کامل، حضرت شاہ برہان کا عالی شاہ مزار اسی شہر میں  مرجع خلائق ہے۔ مغلیہ طرزِ تعمیر کا یہ مزار آج بھی ماضی کے دل کش دَور کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی مذہبی، ثقافتی اورتاریخی مقامات ہیں، لیکن بادشاہی مسجد چنیوٹ، عمر حیات کا محل، دریائے چناب کا پل اور حضرت بوعلی قلندر کا مزار یہاں کے مشہور مقامات ہیں۔ یوں تو چنیوٹ شہر مختلف حوالوں سے معروف ہے، تاہم یہاں کا فرنیچر اپنی مثال آپ ہے، جو دنیا بھر میں اپنی خاص بناوٹ اور خُوب صورتی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ تعزیہ سازی کے فن نے بھی چنیوٹ میں جنم لیا۔ جب کہ انواع و اقسام کے مزے دار کھانے پکانے اور کیٹرنگ کے حوالے سے بھی یہ شہر ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے باورچی کھانے پکانے میں یکتا ہیں۔ کُنّے کا گوشت (مٹکے کا گوشت) اپنی لذّت کی بناء پر خاص سوغات میں شمار ہوتا ہے۔ اصلاح معاشرہ کے لیے شہر میں متعدد انجمنیں قائم ہیں۔جن میں انجمنِ اسلامیہ، انجمنِ اصلاح المسلمین، مفادِ عامّہ کمیٹی سمیت مختلف طبی، تعلیمی اور فلاحی ادارے شامل ہیں۔



یہاں کے تاریخی مقامات میں بادشاہی مسجد، شیش محل، دربار بُو علی قلندر المعروف شاہ شرف، دربار شاہ برہان، عُمر حیات محل وغیرہ شامل ہیں۔جب کہ تفریحی مقامات میں دریائے چناب، چناب پارک، قائد اعظم پارک، شاہی باغ، لاہوری گیٹ شامل ہیں۔ شہر کے لوگ خوش مزاج ہیں، دُکھ سُکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے اورہمہ وقت ایک دوسرے کی مدد کرنے میں کمربستہ رہتے ہیں۔چنیوٹ شہر کے عین وسط میں واقع پہاڑوں کی اوٹ اور قبرستان سے ملحقہ علاقے میں موجود میناروں سے نکلنے والی روشنیاں پورے علاقے کو جگ مگ کرتی ہیں۔ یہ روشنی محلہ مسکین پورہ میں موجود حضرت احمد ماہی المعروف سائیں سُکھ کے ساڑھے دس کنال پر پھیلے مزار میں لگے برقی قمقموں کی ہوتی ہے۔ جب یہ روشنی محل کی دیواروں میں نصب شیشے پر منعکس ہوتی ہے، تو عمارت کے اندرونی حصّے میں انعکاس کی وجہ سے بلوریں چمک پیدا ہوتی ہے، جو مزار کی خُوب صُورتی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔


جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

دیپالپور کی مذہبی سرگرمیوں میں شیعہ سنی کا ذکر نہیں

 


ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور  کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس شہر میں صدر بازار سے ملحقہ محلہ گیلانیاں میں سید فیملی کے گھرانے قیامِ پاکستان سے پہلے سے سکونت پذیر ہیں۔سید روشن علی گیلانی کون تھے؟سید روشن علی گیلانی آل انڈیا مسلم لیگ کے کارکن تھے۔ اُن کی وفات 49 برس کی عمر میں سنہ 1961میں ہوئی۔اِن کے بیٹے سید ناصر محمود گیلانی بتاتے ہیں کہ 'ضلع منٹگمری میں آل انڈیا مسلم لیگ کی نمایاں شخصیات میں سید روشن گیلانی شامل تھے۔'سید روشن علی بانی پاکستان محمد علی جناح کے رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا ممتاز دولتانہ کے ساتھ بھی قریبی تعلق تھا اور قیامِ پاکستان کے بعد فاطمہ جناح سے سیاسی تعلق اُستوار رکھا۔سید ناصر محمود بتاتے ہیں کہ 'قیامِ پاکستان کے بعد یہ زیادہ عرصہ حیات نہ رہ سکے، مگر فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے رہے اور ایوب خان کی مخالفت کرتے رہے، اس کی سزا بھی انھیں دی گئی۔تقسیمِ ہند کے وقت سید روشن گیلانی، دیپالپور میں مہاجرین کے معاملات کی نگرانی کرتے رہے۔سید ناصر محمود کہتے ہیں کہ 'انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں کو دیپالپور میں بسانے کی ذمہ داری سید روشن شاہ کے سپرد تھی۔'محرم کی مجالس اور جلوس میں کس مسلک کے لوگ شریک ہوتے ہیں؟


مسجد غوثیہ گیلانیہ مسلکی ہم آہنگی کا کئی دہائیوں سے مرکز بنی ہوئی ہے۔عام دِنوں میں بھی اس میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد نماز پڑھ لیا کرتے ہیں، جبکہ محرم کے دِنوں میں تو یہ جامع طور پر مسلکی ہم آہنگی کی ایک بڑی علامت بن جاتی ہے۔نو محرم کا دن اور دس محرم کی رات مسجد کے احاطے میں تعزیے اور عَلم تیار کیے جاتے ہیں۔اس دوران دِن اور رات بھر ایک طرف دسویں محرم کی مجالس اور جلوس کے لیے اشیا تیار ہوتی رہتی ہیں تو دوسری طرف سنی مسلک کے افراد اپنی عبادات میں مشغول رہنے کے ساتھ ساتھ تعزیے و عَلم کی تیاری میں مدد بھی فراہم کرتے رہتے ہیں۔مسجد گیلانیہ غوثیہ میں تیار ہونے والے تعزیے اور عَلم دس محرم کی صبح سید روشن علی گیلانی کے ڈیرے پر پہنچا دیے جاتے ہیں۔یہاں سے پھر ایک جلوس برآمد ہوتا ہے جو صدر بازار سے ہوتا ہوا، پاک پتن گیٹ پر پہنچتا ہے اور وہاں سے غلہ منڈی روڈ پر امام بارگاہ سجادیہ کے سامنے سے گزرتا ہوا دربارسخی سیدن شاہ پر اختتام پذیر ہوتا ہےدسویں محرم کی مجلس اور جلوس میں ہر مسلک کے افراد شریک پائے جاتے ہیں، 


حتیٰ کہ مقامی مسیحی برادری کے افراد بھی مجالس اور جلوس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔سید احمد رضا گیلانی جو مسجد غوثیہ گیلانیہ کے متولی ہیں کہتے ہیں کہ 'دسویں کے جلوس میں مسیحی برادری کے لوگ بھی شریک ہوتے ہیں، زیادہ تر یہ لوگ ملازم ہیں، جو ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔ بعض تو صرف ماتم دیکھنے کی غرض سے بھی آ جاتے ہیں۔'مقامی رہائشی واجد مسیح سے جب یہ پوچھا کہ وہ خود اور ان کی کمیونٹی کے کتنے لوگ مجالس و دیگر مذہبی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا 'میرے خیال میں ہماری کمیونٹی کے تیس سے چالیس فیصد لوگ محرم کی مجالس اور جلوس میں شریک ہوتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ 'اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہاں کی مسلم برادری نے چرچ بنوانے میں مدد کی اور سید ناصر محمود گیلانی اور دیگر اہم لوگ ہمارے لیے نیک خیالات رکھتے ہیں، مددبھی کرتے رہتے ہیں۔'


شعیہ مسلک کے مقامی رہائشی غلام حُر کا کہنا تھا کہ 'مسجد غوثیہ کے اندر تعزیہ کی تیاری کے لیے مسجد کے اندر مخصوص جگہ بنی ہوئی ہے۔'یہاں گیلانی خاندان جو سنی بھی ہیں اور بعض گھرانے شیعہ بھی کا باہمی الحاق ہے۔ حتیٰ کہ مسجد کے مرکزی دروازہ کی پیمائش کے لیے بھی اہل سنت نے شیعہ برادری کے مرکزی افراد سے پوچھ کر اس کو بنایا کیونکہ تعزیہ باہر نکالنے کے لیے مرکزی دروازہ کا اُونچا ہونا ضروری تھا۔جہاں اہلسنت مجالس اور جلوس میں شرکت کرتے ہیں وہاں بعض جگہوں پر لنگر کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔'سنی مسلک کے حامل مقامی رہائشی عامر حسین سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اہلسنت اور شیعہ مسلک میں ہم آہنگی کیوں ہے اور کب سے ہے؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ 'یہاں سنی شیعہ والا کوئی سوال نہیں۔ میں نے تو یہاں تک دیکھا کہ دیوبند مکتبہ فکر کے لوگ بھی یہاں کے سید خاندان اورمحرم کی سرگرمیوں کا احترام کرتے ہیں۔میری عمر پینتالیس سال ہونے والی ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے تھے تو یہاں ایسا ہی دیکھ رہے ہیں ہمارے بزرگ بھی یہی بتاتے ہیں۔'اہلسنت کی مسجد مسلکی ہم آہنگی کا نمونہ کیسے؟اب سوال یہ ہے کہ مسلکی ہم آہنگی کی موجودہ فضا کیسے اور کیونکر قائم ہوئی؟اس سوال کے جواب میں سید ناصر محمود شاہ کا کہنا تھا 'یہاں کی مذہبی سرگرمیوں میں شیعہ سنی کا ذکر نہیں

بدھ، 29 اکتوبر، 2025

جودھ پور میں راجہ جی کی ریل

  بھارت کے   لوگ جودھ پور اور آس پاس کی ریاستوں کے راجاؤں کے تعاون سے بنی جودھ پور سے حیدرآباد تک 650 کلومیٹر طویل پٹری پر اس ٹرین میں سفر کرتے رہتے، اس ٹرین کو (راجا کی ریل) بھی کہا جاتا تھا۔نوابی ریاست کا پایہ تخت  جودھ پور تاریخی طور پر سلطنت مارواڑ کا دار الحکومت تھا، جو موجودہ راجستھان کا حصہ ہے۔  یہ شہر ایک مشہور سیاحت گاہ ہے جس کی خاصیت اس کے محلات، قلعے اور منادر ہیں۔بھارت کی ریاست راجستھان کسی زمانے میں وادیٔ سندھ کی تہذیب کا حصہ رہی ہے۔  راجستھان کے کچھ علاقے وادیٔ سندھ کی تہذیب میں ہڑپا کے زیر نگیں تھے۔ 1998ء میں شمالی راجستھان کے کالی بنگا میں کھدائی کے دوران میں کچھ ایسی نشانیاں ملی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں ایک ندی تھی جو اب خشک ہو چکی ہے اور اسی ندی کے ساحل پر ہڑپا کی بستیاں آباد تھیں۔ کچھ لوگ اسے سرسوتی ندی کہتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کا ماننا ہے کہ سرسوتی کے ذریعے ماضی بعید کے کئی راز افشا ہو سکتے ہیں۔


 راجستھان کا جغرافیہ ہی کچھ ایسا ہے کہ کئی بادشاہوں نے اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لیے ادھر کا رخ کیا۔ راجستھان 321 تا 184 ق م موریا سلطنت کا بھی حصہ رہ چکا ہے۔ یہ  اپنی نیلی عمارات کی نسبت”نیلی نگری“ اور ”سوریہ نگری“ کے طور پر بھی مشہور ہے-جودھ پور کے گھومر رقص اور جیسلمیر کے کالبیلیا رقص کو بین الاقوامی سطح پر پہچان ملی ہے۔ لوک موسیقی بھی راجستھانی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ بھوپا، چانگ، تیراتلی، گھندر، کچیگھوری، تیجاجی اور پارتھ ڈانس روایتی راجستھانی ثقافت کی مثالیں ہیں۔ لوک گیت عام طور پر گانٹھ ہوتے ہیں جو بہادری کے کاموں اور محبت کی کہانیوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ اور مذہبی یا عقیدتی گیت جنہیں بھجن اور بنیاں کہا جاتا ہے (اکثر آلات موسیقی جیسے ڈھولک، ستار اور سارنگی کے ساتھ) بھی گائے جاتے ہیں جودھ پورکی شاہی ریاست، برطانوی ہندوستان میں بمبئی اور کراچی کے درمیان چلتی ’سِندھ میل‘ نام کی مسافر ریل گاڑی کے راستے میں آتی تھی۔سنہ 1947میں جب برصغیر برطانوی تسلط سے آزاد ہو کر انڈیا اور پاکستان میں تقسیم ہوا تو جودھ پور برصغیر کے رقبے میں ایک تہائی اور آبادی میں چوتھا اورلگ بھگ 600 شاہی ریاستوں میں شامل تھا جنھیں فیصلہ کرنا تھا کہ آزاد رہیں یا کسی ایک ملک سے جُڑیں۔


تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ اگر وائسرائے لوئی ماؤنٹ بیٹن کا دباؤ نہ ہوتا تو جودھ پور شاید پاکستان سے الحاق کر لیتا اور اس سے جڑی کئی اور ریاستوں کو بھی اس پر آمادہ کیا جا سکتا۔’راجستھان میں تقریباً ہر چار سال بعد خشک سالی آتی تھی، اور قحط زدہ لوگ اناج کی تلاش میں اسی ٹرین پر زرخیز سندھ آتے۔ کچھ یہیں آباد ہو جاتے جبکہ کچھ اپنے گھروں کے لیے چاول اور گندم خرید کر واپس چلے جاتے۔‘انسائکلوپیڈیا برٹینیکا کی تحقیق ہے کہ سنہ 1818 میں برطانوی عمل داری میں آئی جودھ پور، انتظامی اکائی راجپوتانہ ایجنسی کی سب سے بڑی ریاست تھی۔     سب سے اہم ریاست جودھ پور  جو جغرافیائی طور پر پاکستان کے ساتھ متصل تھی اورتقسیم کے وقت  یہ ریاست  بآسانی پاکستان میں شامل ہو سکتی تھی۔‘’جودھ پور کو انڈیا میں شامل کرنا ایک نازک معاملہ تھا کیونکہ اس کے ہندو حکمران نے انڈیا میں شمولیت پر آزادی سے ایک ہفتہ قبل ہی رضامندی ظاہر کی۔ یہ فیصلہ اس وقت ممکن ہوا جب انڈین حکومت کی طرف سے کچھ اہم رعایتیں دی گئیں اور آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے سخت دباؤ ڈالا گیا۔‘


راجستھان بھارت کی ایک ریاست ہے جو اپنی بھرپور تاریخ، ثقافت اور صحرائی علاقوں کے لیے مشہور ہے۔ اس کا دارالحکومت جے پور ہے، جسے 'گلابی شہر' بھی کہا جاتا ہے۔راجستھان کی سابق ریاست اور موجودہ شہر الور میں موجود ناروکا کشواہا راجپوت خاندان کا تعمیر کردہ خوبصورت تجارہ محل یہاں کے شاہی خاندان کا شاندار ماضی بیان کرتا ہے ‘زُبرزسکی لکھتے ہیں کہ ’ریاست نے اپریل 1947 میں دستور ساز اسمبلی میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور مہاراجا اُمَید سنگھ پُرعزم تھے کہ ان کی ریاست کا مستقبل انڈین یونین کےساتھ ہے مگر دو ماہ بعد ان کی اچانک موت سے اقتدار ان کے بیٹے ہنونت سنگھ کو منتقل ہوا۔‘’نوجوان، کم تجربہ کار، وجیہہ مگر ضدی ہنونت سنگھ کو ہوا بازی، رقص کی محفلوں اور جادوگری سے خاص شغف تھا۔ جادوگری کا شوق اتنا سنجیدہ تھا کہ وہ بعد میں لندن کے معروف میجک سرکل کے رکن بھی منتخب ہوئے

منگل، 28 اکتوبر، 2025

ہم بیٹیوں کے جنم کی مٹھائ نہیں لیتے ہیں -میری مطبوعہ ناول 'میں سہاگن بنی 'مگر سے اقتباس

  



 


ایسے  میں چپکے سے اس کے ہاتھ پر کچھ دے آؤں گی پچھلی قسط یہاں ختم ہوئ تھی -یہ اگلی قسط ہے 'اور پھر اگلے روز دوپہر سے پہلے اماں منجھلی آپا کے گھر چلی گئیں  لیکن میرے لئے بڑی انہونی بات تھی کہ جب اماں منجھلی آپا کے گھر سےواپس آئیں خوشی سے ان کا چہرہ تمتما  رہا تھا اور میرا دل بہت گھبرایا اور میں نے سوچا ابا کہ رہے ہیں منجھلی مر جائے گی اور اماں کی خوشی دیدنی ہے 'کیا اماں چاہتی ہیں کہ منجھلی آپا مر جائیں 'لیکن میری ساری غلط فہمی اس وقت دور ہو گئ جب میں نے اماں کو جائے نماز پر روتے ہوئے اور  دعاء کرتے ہوئے سنا اماں اللہ میاں سے کہ رہی تھیں 'میرے پالن ہار مجھے میری منجھلی بھی سلامت چاہئے اور دوجی جان بھی سلامت چاہئے اب اماں اکثر منجھلی آپا کے گھر چلی جاتی تھیں پھر ایک روز صبح نور کے تڑکے رفاقت بھائ نے ہمارے دروازے پر آ کر خوشخبری سنائ کہ منجھلی آپا کے یہاں بیٹی پیدا ہوئ ہے  - اب اماں نے مجھے تیار ہونے کو کہا  نرگس آپی اور فریال بجّو نے بھی امّاں کے ساتھ جانے کے لئے  پر تولے  لیکن امّاں نے ان کو منع کرتے ہوئے کہا آج میں نگین کو اور کل تم دونوں کو لے جاؤں گی

 

 پھر امّاں نے منجھلی آپا کی بیٹی کے لئے سلے ہوئے کپڑے اورکھلونے اور دیگر تحائف ساتھ لئے راستے سے مٹھائ کا ڈبّہ خریدا اورجب ہم تقریباً گھنٹے بھر کا سفر کر کے ہسپتال پہنچے تو وارڈ میں سامنے ہی منجھلی آپا نے سونے کی شکل میں اپنی آنکھوں پر ایک بازو رکھّا ہوا تھاحالانکہ وہ سو نہیں رہی تھیں اور ان کی ساس کرخت چہرہ بنائے ہوئے منجھلی آپا کے بیڈ کے قریب  بنچ پر بیٹھی رفاقت بھائ سے سرگوشی میں باتیں کر رہی تھیں ،امّان نے  وارڈ میں داخل ہو کر بس ایک سلام کیا جس کا جواب نا تورفاقت بھائ نے دیا اور ناہی ان کی امّاں نے دیا پھر امّاں نے آگے بڑھ کرجب ان کو مٹھائ کا ڈبّہ دینا چاہا تو وہ کہنے لگیں ہمیں اس کی ضرورت نہیں  ہے ،،ہم بیٹیوں کے جنم کی مٹھائ نہیں لیتے ہیں اورپھر کہنے لگیں بیٹی کی  پیدائش پر میرا بیٹا ڈیڑھ ہاتھ زمین میں  دھنس گیا ہے  اس کے ساتھ امّاں نےمٹھائ کا ڈبّہ اور اپنے ساتھ لے گئے تحائف منجھلی آپا کے بیڈ کے سائیڈبورڈ پر رکھّے اورآ گے بڑھ کر جھولے سے بچّی کو نکال کر اپنی گود میں  لیتے ہوئے بولیں

 

تو دیر کس بات کی ہے جائیے شہر میں کسی لاوارث جھولے میں ڈال آئیے اورامّاں کی اس بات پر میرادل اندر سے لرز گیا ،پھر امّاں زیادہ  دیر رکیں نہیں اور ہم گھر واپس آ گئےاور پھر اگلے دن کی دوپہر کو منجھلی آپا کے شوہر  رفاقت بھائ منجھلی آپاکو ہمارے گھر پہنچا نے آئے لیکن انہوں نے گھر کے اندر قدم بھی نہیں رکھّاباہر باہر ہی یہ کہ کر چلے گئے کہ جب آ نا ہو اپنے بھائ کے ساتھ آجانا،میں نے دیکھا منجھلی آپا امّاں  سے لپٹ کر رونے لگیں اور بولیں امّاں    میں خود نہیں آئ ہوں ،امّا ں نے منجھلی آپا کو گلے سے جدا نہیں کیا بلکہ کہنےلگیں کوئ ضرورت نہیں آنسو بہانے کی زچّہ خانے میں ،،دنیا اسی کا نام ہے،، تو میری جائ ہے کھڑی ہو جا' نامرادوں کے سامنے چٹان بن کر دکھا دے کہ تو ہمّت والی ہے یا وہ ہمّت والے ہیں جا جا کر آرام کر میں تیرے لئےپرہیزی کھانا بنا لوں پھرمنجھلی آپ کی گڑیا سی بیٹی ہم سب کی آنکھوں کاتارابن کر پلنے لگی لیکن منجھلی آپا اب کو اب بلکل چپ لگ گئ تھی

 

 کیونکہ ان کی سسرال سے اب کوئ بھی رفاقت بھائ سمیت  ان سے رابطے میں نہیں تھا ان حالات میں منجھلی آپا کا دلگرفتہ ہونا اپنی جگہ بلکل درست تھا اور کسی کسی وقت وہ ہم سب سےچھپ کر اکیلے میں روتی بھی تھیں ایسے میں ایک دن فریال بجّو نے امّاں سےآ کر کہا امّاں وہ 'منجھلی آپا رو رہی ہیں  ،،بس امّاں فوراً  سارے کام چھوڑ کر منجھلی آ پا کے پاس پہنچ گئیں  اور انہوں نے منجھلی آپا سے پیاربھری ڈانٹ کے لہجے میں کہا  تجھے پہلے بھی کہ چکی ہوں مت رویا کر  ابھی تو زچّہ ہے  تیرا بال بال کچّا ہے  زچّہ خانے میں رونے سے "پربال" ہوجاتے ہیں آنکھوں میں ،،امّاں کی بات کے جواب میں میں نے چپکے سے قریب بیٹھی نرگس آپی سے پوچھا  نرگس آپی پر بال کیا ہوتے ہیں ،نرگس آپی نے کہا مجھےنہیں معلوم لیکن فریال بجّو نے چپکے سے جواب دیا ڈلیوری کے دنوں میں رونےسے پلکیں جھڑ جاتی ہیں اوردوبارہ نہیں آتیں  میں نے فوراً اپنے کمرے میں آ کر آئینہ میں اپنی پلکیں دیکھیں مجھے لگا بیٹی منجھلی آ پا کے یہان نہیں بلکہ میرے یہاں ہوئ ہے اور میں رو رہی ہوں اور میری پلکیں جھڑ گئ اورپھرمنجھلی آپا کے دکھ پر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے  اور مجھے امّا ں کی آوز آئ ارے نگین کہاں ہو آ کر زرا کام میں تو ہاتھ لگاؤ اور میں امّاں کی آوازپر فوراً ان کے پاس چلی گئ-


کسی کے پیار کی جادو گری-تاج محل

 

 آگرہ میں  دریائے جمنا کے کنارے سنگ مر مر سے تعمیر کردہ تاج محل مغل فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ یونیسیف نے اسے ’انڈیا میں مسلم فن تعمیر کا نگینہ اور دنیا کا ایک عظیم شاہکار‘ قرار دیا ہے۔مورخین کے مطابق تاج محل 1632 سے 1648 میں تعمیر ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر مورخ رانا صفوی نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ بادشاہ کے سرکاری مورخ عبدالحمید لاہوری نے اپنی کتاب 'بادشاہ نامہ' میں اس کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ(تاج محل) کی تعمیر کا کام اس کی بنیاد رکھنے کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔'رانا صفوی نے مزید لکھا ہے کہ مورخ آر ناتھ نے اپنی کتاب 'تاج محل: ہسٹری اینڈ آرکیٹکٹ' میں لکھا ہے کہ 'شہنشاہ نے ممتاز محل کی قبر کے اوپر ایک بڑے گنبد کے ساتھ ایک ایسی شاندار عمارت تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا جو  اس کی محبت کی یادگار کے طور پر  باقی رہے  ۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ممتاز محل کی وفات کے بعد شاہ جہاں نے دو برس تک اپنا شاہی لباس نہیں پہنا اور دنیا ترک کر دی تھی 


 


اپنے فنِ تعمیر کی خوبیوں اور خصوصیات  کی بنا پر دنیا بھرکے عجائبات عالم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح اس کو دیکھنے  کے لیے آتے ہیں۔شاہ جہاں آگرہ کے جنوب کی طرف زمین کی خوبصورتی  پر دل و جان سے فدا  تھا لیکن  جو جگہ شاہ جہاں کو پسند تھی وہاں  راجہ جئے سنگھ اول کی حویلی  موجود  تھی۔ اس نے ممتاز کے مقبرے کی تعمیر کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جس کے بعد جئے سنگھ نے آگرہ کے وسط میں ایک بڑے محل کے بدلے اسے شہنشاہ شاہ جہاں کو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس طرح  دنیا کا نادر روزگار    تاج محل وجود میں آیا -دنیا کی مختلف زبانوں کے نظم و نثر میں تاج محل اور اس کے عجائب پر اس قدر لکھا جا چکا ہے کہ ان سب کا احاطہ بے حد مشکل ہے۔تاج محل مغل طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، بھارتی اور اسلامی طرز تعمیر کے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے۔ 1983ء میں تاج محل کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شمار کیا۔

 



 اس کے ساتھ ہی اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی جامع تعریف حاصل کرنے والی، بہترین تعمیرات میں سے ایک بتایا گیا۔ تاج محل کو بھارت کے اسلامی فن کا عملی اور نایاب نمونہ بھی کہا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ شیرازی نامی ایک ایرانی انجینئر نے اس کا نقشہ تیار کیا تھا، لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا۔ یہ عمارت 1632ء سے 1650ء تک کل25 سال میں مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر میں ساڑھے چار کروڑ روپے صرف ہوئے اور بیس ہزار معماروں اور مزدوروں نے اس کی تکمیل میں حصہ لیا۔ تمام عمارت سنگ مرمر کی ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی 130 فٹ اور بلندی 200 فٹ ہے۔ عمارت کی مرمری دیواروں پر رنگ برنگے پتھروں سے نہایت خوبصورت پچی کاری کی ہوئی ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر پچی کاری کی صورت میں قرآن شریف کی آیات نقش ہیں۔

 



 عمارت کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینار ہے۔ عمارت کا چبوترا، جو سطح زمین سے 7 میٹر اونچا ہے، سنگ سرخ کا ہے۔ اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف، کرسی کے نیچے ایک حوض ہے۔ جس میں فوارے لگے ہوئے ہیں اور مغلیہ طرز کا خوبصورت باغ بھی ہے۔دیگر باغ: تاج محل کے چاروں اطراف مختلف نوع کے چار باغ ہیں - یہ خوبصورت  باغات انتہائ ترتیب سے   لگائے گئے ہیں   لیکن کو ئ  باغ بہت بڑا ہے کوئ درمیانہ اور کوئ چھوٹا ہے ،  اور یہ سب باغات    تاج محل کا   اہم حصہ ہیں  اور  تاج محل کو خوبصورتی اور دلکشی فراہم کرتے ہیں ۔ہر سال اس تاریخی یادگار کو50 لاکھ افراد دیکھنے آتے ہیں۔ یہ تعداد بھارت کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد ہی سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی۔ محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں ایک مقبرہ ہے۔یہ مقبرہ 17-ہیکٹر (42-ایکڑ) کا عظیم الشان کمپلیکس ہے، جس میں ایک مسجد اور ایک گیسٹ ہاؤس شامل یہ تین طرف سے باغات  سے گھرا ہوا ہے۔ تاج محل اور اس کی ترتیب، ارد گرد کے میدان، اور ڈھانچے قومی اہمیت کی ایک یادگار ہیں، جو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے زیر انتظام ہیں۔


تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی

تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی

میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی

ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں

اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی

میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا

تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا

مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی

اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا

ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے

کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے

لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں

کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے

یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار

مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں

سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور

جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں

میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی

جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل

ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود

آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل

یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل

یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

 میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے



 






نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

    محترم شبر زیدی ہمارے ایک  معتبر      سیاست دان ہیں وہ تو پہلے سے کہہ رہے ہیں  کہ بلدیہ فیکٹری کے سانحہ میں  مہاجر    ملوث نہیں ہیں بلکہ ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر