آگرہ میں دریائے جمنا کے کنارے سنگ مر مر سے تعمیر کردہ تاج محل مغل فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار سمجھا جاتا ہے۔ یونیسیف نے اسے ’انڈیا میں مسلم فن تعمیر کا نگینہ اور دنیا کا ایک عظیم شاہکار‘ قرار دیا ہے۔مورخین کے مطابق تاج محل 1632 سے 1648 میں تعمیر ہوا تھا۔ سوشل میڈیا پر مورخ رانا صفوی نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ بادشاہ کے سرکاری مورخ عبدالحمید لاہوری نے اپنی کتاب 'بادشاہ نامہ' میں اس کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ(تاج محل) کی تعمیر کا کام اس کی بنیاد رکھنے کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔'رانا صفوی نے مزید لکھا ہے کہ مورخ آر ناتھ نے اپنی کتاب 'تاج محل: ہسٹری اینڈ آرکیٹکٹ' میں لکھا ہے کہ 'شہنشاہ نے ممتاز محل کی قبر کے اوپر ایک بڑے گنبد کے ساتھ ایک ایسی شاندار عمارت تعمیر کرانے کا فیصلہ کیا جو اس کی محبت کی یادگار کے طور پر باقی رہے ۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ممتاز محل کی وفات کے بعد شاہ جہاں نے دو برس تک اپنا شاہی لباس نہیں پہنا اور دنیا ترک کر دی تھی
اپنے فنِ تعمیر کی خوبیوں اور خصوصیات کی بنا پر دنیا بھرکے عجائبات عالم میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال لاکھوں سیاح اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔شاہ جہاں آگرہ کے جنوب کی طرف زمین کی خوبصورتی پر دل و جان سے فدا تھا لیکن جو جگہ شاہ جہاں کو پسند تھی وہاں راجہ جئے سنگھ اول کی حویلی موجود تھی۔ اس نے ممتاز کے مقبرے کی تعمیر کے لیے اس جگہ کا انتخاب کیا جس کے بعد جئے سنگھ نے آگرہ کے وسط میں ایک بڑے محل کے بدلے اسے شہنشاہ شاہ جہاں کو دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس طرح دنیا کا نادر روزگار تاج محل وجود میں آیا -دنیا کی مختلف زبانوں کے نظم و نثر میں تاج محل اور اس کے عجائب پر اس قدر لکھا جا چکا ہے کہ ان سب کا احاطہ بے حد مشکل ہے۔تاج محل مغل طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی تعمیراتی طرز فارسی، ترک، بھارتی اور اسلامی طرز تعمیر کے اجزاء کا انوکھا ملاپ ہے۔ 1983ء میں تاج محل کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور کلچر نے عالمی ثقافتی ورثے میں شمار کیا۔
اس کے ساتھ ہی اسے عالمی ثقافتی ورثہ کی جامع تعریف حاصل کرنے والی، بہترین تعمیرات میں سے ایک بتایا گیا۔ تاج محل کو بھارت کے اسلامی فن کا عملی اور نایاب نمونہ بھی کہا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ شیرازی نامی ایک ایرانی انجینئر نے اس کا نقشہ تیار کیا تھا، لیکن بادشاہ نامے میں لکھا ہے کہ خود شاہ جہاں نے اس کا خاکہ تیار کیا۔ یہ عمارت 1632ء سے 1650ء تک کل25 سال میں مکمل ہوئی۔ اس کی تعمیر میں ساڑھے چار کروڑ روپے صرف ہوئے اور بیس ہزار معماروں اور مزدوروں نے اس کی تکمیل میں حصہ لیا۔ تمام عمارت سنگ مرمر کی ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی 130 فٹ اور بلندی 200 فٹ ہے۔ عمارت کی مرمری دیواروں پر رنگ برنگے پتھروں سے نہایت خوبصورت پچی کاری کی ہوئی ہے۔ مقبرے کے اندر اور باہر پچی کاری کی صورت میں قرآن شریف کی آیات نقش ہیں۔
عمارت کے چاروں کونوں پر ایک ایک مینار ہے۔ عمارت کا چبوترا، جو سطح زمین سے 7 میٹر اونچا ہے، سنگ سرخ کا ہے۔ اس کی پشت پر دریائے جمنا بہتا ہے اور سامنے کی طرف، کرسی کے نیچے ایک حوض ہے۔ جس میں فوارے لگے ہوئے ہیں اور مغلیہ طرز کا خوبصورت باغ بھی ہے۔دیگر باغ: تاج محل کے چاروں اطراف مختلف نوع کے چار باغ ہیں - یہ خوبصورت باغات انتہائ ترتیب سے لگائے گئے ہیں لیکن کو ئ باغ بہت بڑا ہے کوئ درمیانہ اور کوئ چھوٹا ہے ، اور یہ سب باغات تاج محل کا اہم حصہ ہیں اور تاج محل کو خوبصورتی اور دلکشی فراہم کرتے ہیں ۔ہر سال اس تاریخی یادگار کو50 لاکھ افراد دیکھنے آتے ہیں۔ یہ تعداد بھارت کے کسی بھی سیاحتی مقام پر آنے والے افراد کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ تاج محل مغلیہ دور کے فن تعمیر کا ایک عظیم شاہکار ہے اور ایک ایسی بے مثال عمارت ہے جو تعمیر کے بعد ہی سے دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی۔ محبت کی یہ لازوال نشانی شاعروں، ادیبوں، مصوروں اور فنکاروں کے لیے اگرچہ وجدان کا محرک رہی ہے لیکن حقیقت میں ایک مقبرہ ہے۔یہ مقبرہ 17-ہیکٹر (42-ایکڑ) کا عظیم الشان کمپلیکس ہے، جس میں ایک مسجد اور ایک گیسٹ ہاؤس شامل یہ تین طرف سے باغات سے گھرا ہوا ہے۔ تاج محل اور اس کی ترتیب، ارد گرد کے میدان، اور ڈھانچے قومی اہمیت کی ایک یادگار ہیں، جو آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے زیر انتظام ہیں۔
تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی
میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل
یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں