طور تک بلتی علاقہ1971/16 دسمبر تک پاکستان کا حصہ تھا جس کے بعد اس پر بھارت قبضہ ہوا۔۔بلتی برادری زیادہ تر شیعہ مسلمان ہے۔ ان کی زبان، ثقافت اور خوراک مختلف ہے۔ ہرداسی نے بتایا کہ شیرین فاطمہ جیسی ہماری بلتی آرٹسٹ سرحد کی دوسری جانب بہت مشہور ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے منظور بلتستانی کے گانے یہاں بہت ہٹ ہیں۔ ایک ہمہ موسمی سڑک علاقے کو قریبی شہر دسکیت سے جوڑتی ہے۔ یہ شہر بھی سو کلومیٹر دور ہے۔ گرمیوں میں روزانہ سو سے زیادہ سیاح اس گاؤں کا رخ کرتے ہیں۔گلگت بلتستان کے حافظ وزیراعلٰی حفیظ الرحمٰن سے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں کسی نجی ٹی وی کے رپورٹر نے کرگل سڑک کی بحالی کے حوالے سے سوال کیا، تو اُنہوں ناقابل یقین انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ خواہش تو ہماری بھی ہے لیکن اس سڑک کی بحالی کیلئے 100 ارب کا بجٹ چاہیئے وہ ہم کہاں سے لائیں۔ حالانکہ اسکردو کرگل شاہراہ ماضی میں آل ویدھر روڈ رہے ہیں اور بالکل آخری گاؤں (ہندرمو) تک سڑک بھی تیار ہے اور یہ اس شاہراہ کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور وسیع انداز میں بنایا جارہا ہے 100ارب کےبجٹ کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے
یہی صورتحال خپلو کی طرف کی بھی ہے (فرانو ) گاؤں تک سڑک تیار ہے، آگے صرف چند میل کی دوری پر بھارت کے زیر قبضہ بلتستان کا گاؤں تورتک آتا ہے۔کارگل کی بات کریں تو وہاں کے صحافی دانشور سیاست دان اس حوالے سے زیادہ فعال نظر آتے ہیں لیکن وہ ہندوستان کی ہٹ دھرمی کے آگے بےبس ہیں۔ اس حوالے سے گذشتہ سال جموں کشمیر کی وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے کرگل میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کرگل اسکردو اور تورتک خپلو سڑک کھولنے کی بات کی تھی، انہوں نے کہا تھا کہ اس سٹرک سے زمانہ قدیم کے تاریخی روابط پھر سے بحال ہو جائیں گے اور کرگل سنٹرل ایشیا کا گیٹ وے بنے گا۔محترم قارئین اپنے لوگوں کی جدائی کی تکلیف اور بچھڑ جانے کا غم تو وہی لوگ محسوس کر پائیں گے، جس کا بھائی لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہو اور ایک بھائی کی شادی اس جانب ہو رہی ہو اور وہ اس میں شامل نہ ہو پارہا ہو
، یہ درد وہی محسوس کر سکتا ہے جس کی ماں بلتستان میں گزر چکی ہو اور اس کی موت کی خبر کئی سالوں بعد اس کے بیٹے کو کرگل میں ملے، غرض یہ کہ لائن آف کنٹرول صرف دو علاقوں کو تقسیم ہی نہیں کرتی بلکہ رشتوں، جذبات اور انسانیت کا بھی قتل کرتی ہے۔ یہاں تک کہ مظفر آباد اور سری نگر کے درمیان سرحدی کشیدگی کے باوجود ان علاقوں کے عوام کو آپس میں ملوانے کی غرض سے مظفر آباد سری نگر سٹرک کھول دی گئی ہے۔پونچھ اور راولاکوٹ کا رابطہ بھی کسی حد تک بحال کیا گیا، قارئین افواج پاکستان کا گلگت بلتستان کی ترقی اور تعمیر میں جو کردار رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ مختلف قدرتی آفات کے مواقع پر افواج پاکستان کا عوام کی خدمت اور سہولت کیلئے جو ناقابل فراموش خدمات ہیں اُسے عوام بہتر انداز میں محسوس کرتے ہیں لیکن بتایا جاتا ہے کہ عوام کے کچھ افسران کے حوالے سے شکوے بھی ضرور تھے۔
یقینا مقتدر حلقوں نے اس پر نوٹس لیا ہوگا اور آج کل گلگت بلتستان میں ایک ایسے درویش صفت انسان کو فورس کمانڈر گلگت بلتستان کی ذمہ داری ملی ہوئی ہے نہ صرف اعلٰی تعلیم یافتہ ہیں بلکہ اُنہوں نے گلگت بلتستان پر عسکری تربیت سے ہٹ کر تاریخی اور علمی سٹڈی بھی کی ہوئی ہے۔ وہ گلگت بلتستان کے مسائل کو بالکل اسی طرح سمجھتے ہیں جس طرح یہاں کے عوام محسوس کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسس میں گلگت بلتستان کی تاریخ اور یہاں کی محرومیوں کو بالکل ایسے بیان کیا ہے جیسے ہم ہمیشہ سے لکھتے بولتے رہے ہیں۔ فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود نے گذشتہ ہفتے بلتستان ریجن کا دورہ کیا، اور اپنے اس اہم دورے میں وہ چھوربٹ سے لیکر کھرمنگ گنگنی تک گئے عوامی مسائل سُنے، فوج کے زیراستعمال عوامی املاک عوام کو واپس کی۔ ساتھ اُنہوں نے دہائیوں سے حکومتوں سے مایوس عوام کو کرگل، اسکردو ور خپلو تورتک سڑک کی بحالی کے حوالے سے بڑی خوشخبری سُنانے کا بھی اعلان کردیا۔ خدا کرے کہ طورتک کے آنسوؤں کی زبان حکومت ہند بھی سمجھ جائے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں