لداخ کی وادی نوبرا میں ترتوک اور تین دیگر گاؤں 1947 سے پاکستان کے ساتھ تھے۔ اس رات وہ ہندوستان کا حصہ بن گئےمقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ 2016 سے اب تک نہ کوئی یہاں سے وہاں جا سکا ہے اور نہ ہی کوئی ان سے ملنے آیا ہے۔ 38 گاووں میں نو ہزار بلتی خاندانو ں کا یہ خطہ مقامی اور غیر مقامی سیاحوں کاپسندیدہ گاوں-دوملکوں کی دشمنی میں عوام کوبھول گئےقراقرم پہاڑوں کے دامن میں واقع حسین ودلکش ترتوک گاوں قدیم تاریخ رکھتاہے۔اور اس کے سبب اس نے جو درد جھیلاہے،اسےلفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ بٹوارے کے وقت یہ گائوں پاکستان کا حصہ بنامگر ایک وقت وہ آیا جب صبح گائوں والے سو کر اٹھے تھے،انھوں نے خود کو ہندوستان میں پایا۔حاجی شمشیر علی سامنے دریائے شیوک بہتے دیکھ رہے ہیں۔ندی کے دوسرے کنارے کی دوری صرف 30 منٹ ہے۔ 50 سال گزر گئے لیکن وہ فاصلہ عبور نہیں کرسکے۔ اب ان کی عمر 86 برس ہے۔دریا کے اس کنارے، پاکستان کے گلگت بلتستان میں، شمشیر کے چھوٹے بھائی حاجی عبدالقادر رہتے ہیں۔ ندی اورآسمان نے ان دونوں کو جوڑے رکھا ہے ورنہ تقدیر نے بہت پہلے جدا کر دیاتھا۔
1
سال تھا 1971 اور تاریخ تھی 16 دسمبرکی۔اس صبح جب ترتوک لوگ بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنے آپ کو ایک نئے ملک میں پایا۔ ان کی شہریت راتوں رات بدل گئی تھی۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول تھی اور یہاں رہنے والے 350 خاندانوں کی زندگیاں بدل گئی تھیں۔ آس پاس کے علاقوں میں رہنے والی بلتی برادری دو پڑوسیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ترتوک میں خزاں بھی حسین ہےشمشیر علی ولد غلام حسین گِلی، ٹریول ایجنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’ان دنوں زیادہ تر نوجوان پڑھائی یا کام کے سلسلے میں اسکردو اور لاہور جیسے شہروں میں جایا کرتے تھے۔ جب سرحد بدلی تو گاؤں میں صرف چند جوان اور بوڑھے رہ گئے۔ جنگ کے بعد بہت سے شوہر اپنی بیویوں سے، باپ اپنے بیٹوں سے اور بھائی اپنے بھائیوں سے الگ ہوگئے۔'شمشیر کے بھائی قادر جنگ کے دوران اسکردو میں تھے۔ غلام حسین یاد کرتے ہیں، 'شروع میں ہمیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔ ان کی بیوی یعنی میری خالہ یہاں ہمارے ساتھ تھیں۔سردموسم میں برف پوش پہاڑیاں ہم مہینوں انتظار کرتے رہے کہ ان کی کوئی خبر ملے۔ پھر ایک دن اسکردو ریڈیو پر ان کے نام کا اعلان ہوا۔ ہم اس دن ریڈیو کو گلے لگا کر بہت روئے تھے۔
یہ سرحد ہمارے دلوں پر لکیر بنی ہوئی ہے۔اس کے بعد خطوط اور ملاقاتوں کا طویل انتظار شروع ہو گیا۔ دونوں طرف سے ویزے کا حصول ایک مشکل کام تھا۔ خط تو آتے لیکن کئی بار پیدائش اور موت کی اطلاع مہینوں اور برسوں بعد ملتی تھی۔بالآخر 1989 میں دونوں بھائیوں کی مکہ میں ملاقات ہوئی۔ دونوں وہاں حج کرنے گئے تھے۔ شمشیر علی کو اس سے ملنا،اور اپنے بھائی کو پکڑ کر رونا یاد ہے۔اس کے باوجود فضل عباس خوش قسمت تھے۔ ان کے بھائی محمد بشیر اس وقت پاکستان میں زیر تعلیم تھے۔ 2013 میں انھیں ویزا ملا اور وہ اپنے خاندان سے ملے۔عباس کہتے ہیں، 'والد کو ہمیشہ بشیر کی یاد آتی رہتی تھی اور وہ ان کی یاد کے ساتھ ہی دنیا سے گئے لیکن کم از کم میری ماں اپنے چھوٹے بیٹے سے مل سکی تھی۔میں بھی 42 سال بعد اپنے بھائی سے ملا۔ عباس پولیس والے ہیں۔ دراس میں پوسٹنگ ہے۔ وہ اپنے بھائی کو لینے دہلی گئے تھے۔ پورا گاؤں ان کے استقبال کے لیے سجا تھا۔ بشیر جب دو ماہ بعد واپس جارہے تھے تو سب کی آنکھوں میں آنسو
تھے۔عباس کہتے ہیں، 'الوداع کہنا بہت مشکل تھا'۔ بشیر کو دوبارہ ویزا نہ مل سکا۔ وہ علاقائی جغرافیائی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ سکون سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ منقسم خاندانی رابطہ کمیٹی کے رکن صادق ہرداسی کہتے ہیں، 'دونوں ملکوں کی دشمنی میں بلتی برادری کو بھلا دیا گیا ہے۔غلام حسین اسی نکتے کو آگے بڑھاتے ہیں، 'جب بھی ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات میں تلخی آتی ہے تو ہم جیسے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔' اکثر نے اس سچائی کو قبول کیا اور اس کے ساتھ صلح کر لی۔محکمہ بجلی سے ریٹائر ہونے والے ثناء اللہ کے بھائی کی اہلیہ پاکستان میں پھنس گئیں۔ ثناء اللہ نے بتایا کہ ان کے بھائی نے 12 سال انتظار کیا۔ سوچا پھر ملیں گےلیکن آخر کار صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور ایک دن انھوں نے طلاق نامہ بھیج دیا۔ ثناء اللہ کا سوال یہ ہے کہ کوئی کب تک جھوٹی امید لے کر بیٹھ سکتا ہے؟ٹکنالوجی نے کم کیا فاصلہ تاہم، حالیہ برسوں میں ٹیکنالوجی نے کچھ ریلیف دیا ہے۔ ٹیکنالوجی نے ایل او سی کی وجہ سے آنے والی دوری کو ختم کرنے میں مدد کی ہے۔عباس نے کہا، 'اب ہم فون پر بات کر سکتے ہیں۔
ہم بچھڑے ہوؤں کی سن لوٍ-تورتک کی آنسوؤں بھری داستان -نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، لیکن اب کم از کم ہم ایک دوسرے سے کٹے ہوئے نہیں ہیں۔پاکستان میں گلگت بلتستان اور ہندوستان میں لداخ، اتراکھنڈ اور جموں و کشمیر میں رہنے والی اس چھوٹی سی برادری کے لوگوں کو موسیقی اور شاعری کے دھاگے نے جوڑ رکھا ہے۔بلتی برادری زیادہ تر شیعہ مسلمان ہے۔ ان کی زبان، ثقافت اور خوراک مختلف ہے۔ ہرداسی نے بتایا کہ شیرین فاطمہ جیسی ہماری بلتی آرٹسٹ سرحد کی دوسری جانب بہت مشہور ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے منظور بلتستانی کے گانے یہاں بہت ہٹ ہیں۔ترتوک ایک طویل عرصے سے باقی دنیا سے کٹا ہوا تھا۔ اسے 2010 میں سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔ ایک ہمہ موسمی سڑک علاقے کو قریبی شہر دسکیت سے جوڑتی ہے۔ یہ شہر بھی سو کلومیٹر دور ہے۔ گرمیوں میں روزانہ سو سے زیادہ سیاح اس گاؤں کا رخ کرتے ہیں۔ترتوک کے سرپنچ عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ 'لوگ یہ دیکھنے آتے ہیں کہ ہم اتنے مشکل حالات میں کیسے رہتے ہیں؟'وبا سے پہلے غیر ملکی سیاح بلتی خاندان کے ساتھ رہتے تھے، کھاتے تھے اور یہاں کی ثقافت کے بارے میں جانتے تھے۔ یہاں کے لوگ شکوہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے ہر دور میں حکومتوں کو خطے لکھے لیکن ہم مایوس ہوئے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں