منگل، 21 اکتوبر، 2025

ڈاکٹر پیزادہ قاسم 'ایک مایہء ناز ماہرتعلیم اور شاعر

 

پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی 8جون 1943ء کو دہلی کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔  ابھی بچپن کے ابتدائ ایام  ہی گزر رہے تھے کہ  پاکستان اور ہندوستان کا بٹوارہ ہو گیا  چنانچہ تقسیم ہند کے وقت ان کے خاندان نے بھی اپنا  تمام اثاثہ  ہندوستان میں چھوڑا اور پاکستان کی سرزمین کو اپنا نیا مسکن بنا لیا - گھر کے اندر تعلیمی ماحول تھا  انہوں نے بھی ابتدائ تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے  انہوں نے ڈی جے سائنس کالج سے انٹر کا امتحان امتیازی نمبروں سے کامیاب کیا اس کے بعد جامعہ کراچی سے بی ایس سی آنرزکرنے کے  بعد ایم ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ایم ایس سی کے بعد نیو کیسل یونیورسٹی برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور جامعہ کراچی میں بحیثیت لیکچرار مقرر ہوئے۔ دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن رہے۔پیرزادہ قاسم اردو یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے تھے لیکن چند ماہ بعد وہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر کردیئے گئے۔


  پیرزاد قاسم پسندیدہ شعرا میں سے ہیں ۔  ان  کی شاعری  ان کے مخصوص ترنم میں  بہت  لطف دیتی  ہے -پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی  کا کہنا ہےکہ شاعری میری پہلی محبت ہے  لیکن  میری  شاعری کا سرمایہ اتنا بھی نہیں کہ جتنا ہونا چاہئے۔ پیرزادہ قاسم  نے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ 1960ء میں جامعہ کراچی میں بحیثیت لیکچرار مقرر ہوئے۔ دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرووائس چانسلر اور رجسٹرار، رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔ پیرزادہ قاسم 2012ء تک جامعہ کراچی کے وائس چانسلر بھی رہے۔، وفاقی اردو یونیورسٹی اور ضیاء الدین یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر بنے رہےسمجھتے ہیں کہ ادبی و علمی ورثہ اگلی نسل تک منتقل کئے بغیر معاشروں میں ایسے روبوٹس تیار ہوتے ہیں جو اچھے ڈاکٹر اور اچھے انجینئر تو ہو سکتے ہیں مگر انہیں مکمل شخصیت کہنا غلط ہوگا۔ہمیں ایسا معاشرہ چاہئے کہ جہاں افراد کو شعر و ادب سے دلچسپی ہو اور جو اچھے شعر پر داد دے سکیں اور اچھی تحریر کی پرکھ رکھتے ہوں۔۔1996ء میں دبئی میں جشن پیرزادہ قاسم بڑی شان و شوکت سے منایا گیا۔


یہ حقیقت ہے کہ ترقی پذیر معاشروں میں ایسے لوگوں کی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے جو یورپ جا کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کریں، اور  پھر واپس اسی مٹی کا رخ کریں جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔پیرزادہ قاسم کا  شمار ایسے ہی چند مٹھی بھر لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے وطن اور اپنی زبان سے محبت کی خا طر پردیس کی پُر آسائش زندگی کو نظر انداز کر کے پاکستان کی مٹی کو عزیز تر رکھا 60ء کی دہائی میں برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل                         کی لیکن  ان کے دل میں اپنی زبان اپنا ماحول اس طرح سے رچا ہوا تھا کہ  تعلیم مکمل کرنے کے بعد  وہ دیار غیر میں رہ نہیں سکے اور پاکستان واپس آ گئے حالانکہ پردیس جانا اور پھر واپس پاکستان  آ کر یہاں ایڈجسٹ کرنا یہ ایک بڑامشکل مرحلہ ہوتا ہے لیکن ان کے ارادے اتنے پختہ تھے کہ انہوں نے پیچھے پلٹ کر دیکھا ہی نہیں                                 


                                                                                                                 پاکستان واپسی کے سفر میں ان کی ایک سوچ کارفرما نظر آئ جس میں  ان کی اردو زبان سے محبت شامل تھی  ان کی خواہش تھی کہ ان کی اگلی نسل بھی وہی زبان بولے جو وہ خود بولتے ہیں اور ان کے والدین بولتے ہیں ۔ پیرزادہ قاسم پاکستان میں شعبہ تدریس کی ایک قابل قدر شخصیت کے طور پر نمایاں سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 1960ء سے جامعہ کراچی کے شعبہ فزیالوجی سے منسلک رہے- دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرووائس چانسلر اور رجسٹرار، رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔انہوں نے 1960ء سے شاعری کا آغاز کیا اور غزل سمیت مختلف اصنافِ سخن میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی معروف تصانیف میں ’’تند ہوا کے جشن میں‘‘ اور ’’شعلے پہ زبان‘‘ شامل ہیں۔       بےمسافت سفرا'نھوں نے تمام  اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے، مگر غزل ان کا خاص میدان  ہے


پیر، 20 اکتوبر، 2025

کل میں اس کے ہاتھ پر چپکےسے کچھ رقم دے آؤ ں گی 'میں سہاگن بنی 'مگر'

 

 اور اس کے بعد ہم کو پتا چلا کہ وہ موت کے منہ میں پہچ گئ ہیں مگر امّا ں کا دل نا پسیجا ،میں اس رات کو دیر تک نا جانے کیوں جاگ رہی تھی شائد گھرکے اندر کچھ کچھ نامانوس مسموم ہوا کے چلنے احسا س ہو رہا تھا کہ اتنےمیں مجھے امّاں اور ابّا کی باتیں کو آوازیں سنائ دینے لگیں پہلے ابّا کی کمزور لہجے میں آواز آئ ابّا کہ رہے تھے لگتا ہے منجھلی مر جائے گی تب بھی تمھارے کان پر جوں نہیں رینگے گی تو امّاں نے ابّا کو اپنی رعب دارآواز میں جوابدیا اسلا م الدّین موت زندگی اللہ کے ہاتھ ہے وہ جتنی لائ       ہے اس سے کوئ نہیں چھین سکتا ہےپھر ابّا نے امّاں سے کہا میں منجھلی کے گھر ہوتا آیا ہوں ،اس کی طبیعت بے حد خراب نظر آرہی تھی، بلکل زرد چہرہ ہو رہا ہے اور سوکھ کر کانٹا ہو گئ ہے ابّا کا لہجہ منجھلی آپا کا زکر کرتے ہوئے اور بھی آزردہ ہو گیا ابّا پھر کہنے لگے نیک بخت تم ہمیشہ منجھلی کو ڈانٹ کر چپ کر دیتی ہو کبھی تو اس کی بھی سن لو ، شائد وہ سچ ہی کہتی ہو ،لیکن امّاں خاموش رہیں لیکن جب ابّا نے کہا مجھے لگتا ہے منجھلی سسرال کے دکھ ا ٹھا کر مر جائے گی - تب امّاں کی خاموشی کی مہر ٹوٹی

 

 ابّا کی بات پر امّاں نے ان کو بھڑک کر جواب دیا ،اسلام الدّین پرائے لوگوں میں جگہ بنانا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے ،وہ اگرمشکل میں بھی ہے تو اس کا حل یہ نہیں ہے کہ میں بیٹی کو بلا کر سینے پرمونگ دلنے کو بٹھا لوں ،رہا مرنے اور جینے کا حساب تو جس کی امانت ہے وہ     جانے ،لیکن اللہ ہی نے تو نباہ نا ہونے کی صورت میں علیحد گی کی گنجائش رکھّی   ہے،ابّا نے دھیمے لہجے میں کہا اور میں نے اپنی جاگتی آنکھو ں سے منجھلی آپا کے جنازے کو قبرستان جاتے دیکھا حقیقت یہ تھی کہ میں اپنی منجھلی آپا کی شادی سے خو ف ذدہ ہو گئ  تھی پھر رات کے سکوت میں امّا ں کی آواز مجھ کو سنائ د یا  یاد ہے تمھاری امّاں نے تمھاری چھوٹی بہن نادر ہ کو اس کی سسرال کی مصیبتوں کا رونا سن سن کر کیسے طمطراق سے یہ کہ کر خلع دلوایا تھا کہ ہماری بیٹی کی دو روٹی ہم پر بھاری نہیں یہ خلع نادرہ نے امّاں کے گلے منڈھ کر کہا تھا،،،آ پ میری ماں تھیں ،طلاق لینے میں میری حوصلہ افزائ کرنے کے بجائے مجھے سمجھا بجھا کر سسرال بھیجنا تھا ،یو ن طلاقن بیٹیا ں ماؤں کے کلیجے پر مونگ دلتی ہیں طلاق کے بعد سارے میکے کا جینا حرام کر کے رکھ دیتی ہیں ،یاد تو ہو گا تمھیں،

 


 ابّا خاموشی سے سنتے رہے اور امّاں نے کہا ،اسلا م الدّین میں تم کو طعنےنہیں دے رہی ہوں بلکہ حقیقت بتا رہی ہو ں ،میرے آگے ابھی تین پہاڑ رکھّےہیں ان کو کھسکاؤں یا بیاہی کو بھی طلاقن بنا دوں انصا ف سے سوچو کہ میں کیا کہ رہی ہوں اور تمھیں یہ بھی یاد ہو گا کہ اس دکھیا کو دوجی سسرال بھی کیسی ملی  پھر اس نے مرتے دم تک طعنے سنے کہ تو طلاقن ہے اس لئے اپنی اوقات میں رہ   کر بات کر وہ تو اللہ نے اس کا پردہ رکھ کر اسے اپنے پاس بلا لیا ورنہ   ساری عمر ہی روتی رہتی بہن تمھاری اسی لئے سیانوں کی کہاوت ہے "دوجے میاں سے پہلامیاں ہی بھلا "تم مرد زات ہو ایسی نزاکتوں کو سمجھ نہیں سکتے ہو جس گھر میں ایک طلاق ہوجاتی ہے اس گھر میں دنیا والے رشتے ناطے کرتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ بھی یہ لوگ ایسا ہی کریں گے ابھی دل پر صبر کا بھاری پتھّر رکھ کر صبر کر لو اسی میں ہم سب کی بہتری ہے ،،امّاں کی بات کے جواب میں ابّا کی ایک ٹھنڈی سسکاری سی مجھ کو سنائ دی- تم کتنی صحیح با ت کر رہی نیک بخت کہ ہم کو اب باقی کی فکر کرنی چاہئے چہ جائکہ ہم بیاہی بیٹیوں کی الجھنوں میں گرفتاررہیں  

 

ورامّاں کی باتوں کےجواب میں ابّا نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا فریال کے رشتے کا کیا ہوا تو امّا ں نے ان کو جوابدیا ،ابھی تو بس سلام آیا ہے ،پیام آئے تو ارادے پتا چلیں گے،لیکن تمھارے ماموں کی بیٹی اپنے دیورکے لئے نرگس کا ہاتھ مانگ رہی ہے ،،میں نے تو کانوں کو ہاتھ لگائے ہیں وہ  کون سے اچھّے ہیں ، ظالموں کے نرغے میں ایک منجھلی کو ہی دے کر پچھتا رہی ہوں ، ابّا نے کہا  ہا ں نیک بخت بڑی کو اٹھائے بغیر چھوٹی کو کیسے اٹھا دیں ،نہیں اسلام الدّین بڑی چھوٹی کی کوئ بات نہیں ہے جس کا رشتہ پہلے آئے اسی کو اٹھا ناہے دیکھ نہیں رہے ہو نرگس کیسے ڈھور ڈنگروں کی طرح منہ کو آرہی ہے رشتہ اچھّا ہوتا تو اس کوفریال سے پہلے ہی ر خصت کر دیتی امّاں نے کہا اور میں اندر سے لرز کر رہ گئ اور پھر ماحول میں رات کا سکوت چھا گیا پھر کچھ ثانئے کے بعد امّاں کی آواز آئ ،اسلام الدّ ین تم  بیٹی کی طرف سے اپنا دل میلا نہیں کرنا میں نے اسکو جنم دیا ہے اس کی تکلیف پر میری کوکھ پھڑکتی ہے میں راتوں کو سکون سے سوتی نہیں ہوں مگرمیں کیا کروں ،مجبور ہوں ،تم بے فکر رہو کل میں اس کی سسرال جا کرکچھ اس کے ہاتھ پر چپکےسے دے آؤ  ں  گی  


حضرت بی بی ام البنین سلام اللہ علیہا کا خواب

 


حضرت بی بی  ام البنین سلام اللہ علیہا  کا خواب

حضرت ام البنین سلام  اللہ علیہا  فرماتی ہیں کہ  مولا  علی علیہ السلام  کا رشتہ  آنے سے پہلے میں نے ایک   خواب دیکھا کہ میں ایک سرسبز اور گھنے باغ میں بیٹھی ہوں۔ وہاں بہتی  ہوئ  نہریں اور بے شمار پھل درخت  موجود  ہیں ۔ آسمان پر چمکتا ہوا چاند اور ستارے روشن  ہیں  اور میں انہیں دیکھ رہی  ہوں ۔ میں اللہ کی تخلیق کی عظمت اور بغیر ستون کے  مظبوط  آسمان، چاند کی روشنی اور ستاروں کے بارے میں غور و فکر کر رہی تھی۔ اسی دوران اچانک چاند آسمان سے زمین پر اترا اور میری گود میں آ گیا۔ اس چاند سے ایک ایسی روشنی نکل رہی تھی جو آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ میں حیرت اور تعجب میں مبتلا تھی کہ اسی وقت چار روشن ستارے اور میری گود میں آ گرے۔ بی بی  ام البنین نے خواب کا زکر اپنی مادر گرامی سے کیا اور انہوں اس خواب کا زکر اپنے شوہر  سے کیا حضرت ام البنین کے والد حزام بن خالد نے اپنی قوم کے خوابوں کی تعبیر  بیان کرنے والے عالم  کے پاس گئے اور ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی۔ معبر نے کہا یہ خواب کسی کو مت بتائیں اور یقین رکھیں کہ آپ کی بیٹی کے لیے عرب و عجم کے کسی بڑے  عظیم الشان شخص کا رشتہ آئے گا، اور اللہ تعالیٰ اسے چار بیٹے عطا کرے گا۔



عقیل، علم انساب میں بہت آشنائی رکھتے تھے اور ان کی بات اس سلسلہ میں حجت مانی جاتی تھی۔ ان کے لیے مسجد النبی (ص) میں ایک چٹائی بچھائی جاتی تھی جس پر وہ نماز ادا کرتے تھے اور اس کے بعد عرب قبائل علم انساب کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے لیے ان کے گرد جمع ہوتے تھے۔ وہ ایک حاضر جواب شخص تھے۔ بی بی سیدہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد حضرت عقیل کی جانب سے اصرار تھا کہ  ان کے چھوٹے بھائ مولا علی علیہ السلام دوسرا عقد کریں  اسی لیے حضرت علی بن ابیطالب  علیہ السلام نے  اپنے  ماہر انساب بھائی سے مخاطب ہو کر فرمایا: میرے لیے ایک ایسی  خانون  کا انتخاب کریں کہ، جو شجاع اور دلیر مرد عربوں کی نسل سے ہو  جو   کر بلا میں میرے حسین کے لئے  ایک بہادر اور شہسوار بیٹے کو جنم دے۔"حضرت عقیل بن ابیطالب نے ، بنی کلاب کے خاندان سے ام البنین کا انتخاب کیا،جو شجاعت میں بے مثال خاندان تھا، اور اپنے بھائی کے جواب میں کہا:" آپ فاطمہ  کلابیہ سے شادی کریں، کیونکہ ان کے آباء و اجداد سے شجاع تر عربوں میں کوئی نہیں ہے۔ حضرت عقیل نے بنی کلاب خاندان کی دوسری خصوصیات بھی بیان کیں اور  مولا علی علیہ السلام نے اس انتخاب کو پسند فرمایا اور  اپنے بھائ عقیل کو رشتہ لینے کے لیے ام البنین  سلام اللہ علیہا کے باپ کے ٍپاس بھیجا۔



جب حضرت علی علیہ السلام کے بھائی حضرت عقیل  خواستگاری کے لیے حزام بن خالد کے پاس آئے، تو حزام نے اپنی بیٹی کے خواب کو یاد کرتے ہوئے انہیں خوشخبری دی اور کہا: میری بیٹی! یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہارے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ دنیا اور آخرت کی خوش بختی کی بشارت ہو! پھر حزام نے اپنی اہلیہ ثمامہ سے مشورہ کیا اور کہا کہ کیا تم ہماری بیٹی فاطمہ (ام البنین) کو امیرالمومنین علی علیہ السلام کے نکاح کے لائق سمجھتی ہو؟ جان لو کہ ان کا گھر وحی، نبوت، علم، حکمت، ادب اور اخلاق کا مرکز ہے۔ اگر تم اپنی بیٹی کو اس گھر کے لائق سمجھتی ہو تو ہم اس مبارک رشتے کو قبول کریں گے۔تاریخ میں لکھا گیا ہے کہ حضرت ام البنین سلام اللہ علیہا نے جب حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں قدم رکھا تو انہوں نے امام علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ انہیں ان کے اصل نام فاطمہ کے بجائے "ام البنین" کے لقب سے پکارا جائے۔ یہ اس لیے کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کا نام سن کر اپنی والدہ کی یاد میں غمگین نہ ہوں اور ان کے دلوں میں یتیمی کا درد تازہ نہ ہو۔



حضرت ام البنین علیہ السلام نے نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی بہترین زوجہ ہونے کا حق ادا کیا بلکہ حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام اور بی بی زینب علیہا السلام کے لیے ایک شفیق اور محبت کرنے والی ماں کی حیثیت سے بھی اپنی مثال قائم کی۔ اپنے بیٹوں کو امام حسین علیہ السلام کے مشن کے لیے قربان کر دینا ان کی وفاداری اور ایمان کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام کی حضرت ام البنین علیہا السلام سے خواستگاری کا واقعہ اسلامی تاریخ کا ایک خوبصورت واقعہ ہے جو اس عظیم خاتون کی شرافت، ایمان اور بلند مقام کو واضح کرتا ہے۔ حضرت ام البنین سلام  اللہ علیہا کے امام علی علیہ السلام سے چار بیٹے تھے: حضرت عباس علیہ السلام، عبد اللہ، عثمان اور جعفر۔ ان سب میں سب سے بڑے حضرت عباس علیہ السلام تھے، جو 4 شعبان 26 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئےاور یہ چاروں میدان کارزار کربلا میں داد شجاعت دیتے ہوئے  مولا حسین پر قربان ہوگئے ۔ 


ائیر مارشل نور خان سے روشن خان تک 'پاکستان کے روشن چہرے 'parT'1

ہما رے پیارے پاکستان کے ائر وائس  مارشل نور خان صاحب میں ایک خاص صلاحیت تھی وہ ایک ہونہار اور  باصلاحیت کھلاڑی  کے اندر  چھپی ہوئ صلاحیتوں کا  فوراً  اندازہ لگا  لیتے تھے۔ کھلاڑی کسی کھیل کا ہو، اس سے بحث نہیں، مگر اس میں آگے اور  بڑھنے کی  تھوڑی سی بھی صلاحیت  ہوتی تو وہ نور خان صاحب کی نظر سے اوجھل نہیں رہ سکتی تھی۔  بس نور خان کی جہاندیدہ نظروں نے روشن خان میں چھپے ہوئے کھلاڑی سے ملاقات کر لی پشاور کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں تھا، بلکہ اب بھی ہے، جسے غالباً نواں کلی کہتے ہیں۔ وہاں کے بیشتر رہنے والے پشاور ائر فورس بیس پر ملازم تھے۔ آفیسر میس کے تمام بیرے تو تقریباً اسی گاوں سے تھے، ان کے علاوہ جو ٹینس اور سکوائش کھلانے پر معمور تھے، نورخان صاحب کی نظر کا کمال بھی بھلایا نہیں جا سکتاہے-روشن خان (پیدائش: 1927ءپشاور : وفات: 6جنوری 2006ءکراچی) سکواش کے سابق عالمی چیمپئن۔ ورلڈ سکواش فیڈریشن کے صدر اور سکواش کے سابق عالمی چیمپئن جہانگیر خان کے والد تھے ان کے والد آرمی میں ملازم تھے لیکن انھوں نے پاکستان نیوی میں ملازمت اختیار کی۔ وہ بال بوائے تھے اور نیوی افسران جب سکواش کھیلتے تو وہ ان کو بال اٹھا کر دیا کرتے تھے۔ یہیں سے ہی ان میں سکواش کھیلنے کا شوق پیدا ہوا۔ بعد میں انھیں نیوی کی جانب سے سکواش کے مقابلوں میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ ان کی ان کامیابیوں سے سکواش کی دنیا میں پاکستان کی طویل حکمرانی کا آغاز ہوا۔


 روشن خان نے پہلی مرتبہ 1957ء میں برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتی تھی۔ وہ تین مرتبہ یو ایس اوپن کے فاتح بھی رہے۔یہ شخص روشن خان تھے جنھیں آج کی نسل سکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کے والد کے طور پر جانتی ہے لیکن درحقیقت وہ خود اپنے دور کے عظیم کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ اور سب سے بڑھ کر جن مشکل حالات میں رہتے ہوئے انھوں نے اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دیا، ایسی مثالیں بہت کم نظر آتی ہیں۔روشن خان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی۔ کچھ لوگوں کو ان کے سخت مزاجی سے شکوہ رہا لیکن درحقیقت اس تلخی کے پیچھے وہ حالات اور واقعات تھے جن کا سامنا روشن خان کو اپنے کریئر کے دوران کرنا پڑا۔ لیکن جو لوگ انھیں قریب سے جانتے تھے وہ بتاتے ہیں کہ روشن خان اندر سے ایک نرم مزاج انسان تھے۔اس دور میں پیشہ ورانہ رقابت عروج پر تھی سیاست عروج پر تھی-روشن خان نے بتایا تھا کہ یہ وہ دور تھا جب وہ قومی چیمپئن ہونے کے باوجود انگلینڈ میں ہونے والے مقابلوں میں شرکت سے محروم تھے 


جبکہ اس دور میں ہاشم خان، اعظم خان، سفیراللہ اور محمد امین انگلینڈ جا رہے تھے۔ان کے مطابق محمد امین کراچی جمخانہ اور سفیراللہ سندھ کلب سے وابستہ تھے لیکن یہ دونوں ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ انھیں ان دونوں جگہوں میں کھیلنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔روشن خان کے مطابق ’سیاست اپنے عروج پر تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود میں رات کے وقت میں ایک کھلے میدان میں جا کر دوڑ لگایا کرتا تھا تاکہ خود کو فٹ رکھ سکوں۔ اسی میدان میں انٹرکانٹینٹل ہوٹل بنا۔ ایک دن میں نے مایوسی کے عالم میں بڑے بھائی نصراللہ سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ہاشم خان اور دوسرے کھلاڑیوں سے کھیلنے کا موقع مل سکے گا لہذا مجھے کوئی نوکری تلاش کرنی چاہیے تاکہ گذر اوقات ہو سکے۔ʹپھر دنیا زمانے  نے دیکھا کہ روشن خان کے بیٹے جہانگیر خان نے 10 مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ جہانگیر 6 مرتبہ ورلڈ اوپن کے فاتح بھی رہے ہیں۔سکواش کی تاریخ میں روشن اور جہانگیر خان واحد باپ اور بیٹا ہیں کہ جنھوں نے برٹش اوپن ٹائٹل جیتا ہے۔


روشن خان کو کئی ممالک نے کوچنگ کی پیشکش کی تھی جسے انھوں نے ٹھکرادیا اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے تینوں بیٹوں طورسم خان، حسن خان اور جہانگیر خان نے سکواش کھیلی۔ روشن خان کے بیٹے جہانگیر خان نے 10 مرتبہ برٹش اوپن سکواش چیمپئن شپ جیتنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ جہانگیر 6 مرتبہ ورلڈ اوپن کے فاتح بھی رہے ہیں۔سکواش کی تاریخ میں روشن اور جہانگیر خان واحد باپ اور بیٹا ہیں کہ جنھوں نے برٹش اوپن ٹائٹل جیتا ہے۔روشن خان کو کئی ممالک نے کوچنگ کی پیشکش کی تھی جسے انھوں نے ٹھکرادیا اور ملک میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے تینوں بیٹوں طورسم خان، حسن خان اور جہانگیر خان نے سکواش کھیلی۔روشن خان کے وہ عزیز جو ان کو اپنے ساتھ کھلانا پسند نہیں کرتے تھے آ ج بلکل نے نام زندگی گزار رہے ہیں جبکہ روشن خان کا نام آ ج بھی ایک تابندہ ستارے کی مانند پاکستان کے آسمان پر روشن ہے اللہ پاک روشن خان کی مغفرت فرمائے آمین

تحریر انٹر نیٹ کی مدد سے لکھی گئ

ائیر مارشل نور خان سے روشن خان تک 'پاکستان کے روشن چہرے

 

' ائیر مارشل نور خان سے روشن خان تک 'پاکستان کے روشن چہرے 'روشن خان نے آج سے تقریباً 35 سال پہلے مجھے دیے گئے انٹرویو میں ان مشکل حالات کا تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ʹمیں راولپنڈی کلب میں اپنے والد فیض اللہ خان کے ساتھ کام کرتا تھا لیکن بہتر مستقبل کی خاطر میں راولپنڈی سے کراچی آ گیا مگر میرے پاس سر چھپانے کے لیے ٹھکانہ تھا نہ کوئی ملازمت تھی۔ میں نے کئی راتیں سڑکوں پر گزاری تھیں۔  روشن خان   اپنی پہچان بنانا چاہتے تھے لیکن حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔روشن خان نے سنہ 1949 میں کاکول میں پاکستان پروفیشنل سکواش چیمپئن شپ جیتی تھی لیکن اس میں ہاشم خان نہیں کھیلے تھے۔ روشن خان چاہتے تھے کہ ان کی صلاحیت کا پتہ اس وقت چلے گا جب وہ ہاشم خان سے مقابلہ کریں گے۔روشن خان کے ذہن میں یہ تھا کہ ہاشم خان پاکستان میں چیمپئن شپ نہیں کھیلتے ہیں لہذا کراچی میں ان کے لیے مواقع ہو سکتے ہیں کہ وہ یہاں سے لندن جاکر قسمت آزمائی کر سکیں۔ اس دوران ان کے بڑے بھائی نصراللہ جو کراچی میں ٹینس اور سکواش کھیلتے تھے، نے ان کی مدد کی۔


سنہ 1952 میں جب پاکستان پروفیشنل چیمپئن شپ ہوئی تو ہاشم خان اور ان کے چھوٹے بھائی اعظم خان نے اس میں حصہ نہیں لیا۔  ۔ روشن خان ن بار پھر چیمپئن شپ جیت لی لیکن انھیں ہاشم خان کے ساتھ نہ کھیلنے کا دکھ تھا۔ روشن خان اور ایوب خان-ان کے مطابق محمد امین کراچی جمخانہ اور سفیراللہ سندھ کلب سے وابستہ تھے لیکن یہ دونوں ان کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ انھیں ان دونوں جگہوں میں کھیلنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔روشن خان کے مطابق ’سیاست اپنے عروج پر تھی۔‘ ان کا کہنا تھا ʹرات کے وقت میں ایک کھلے میدان میں جا کر دوڑ لگایا کرتا تھا تاکہ خود کو فٹ رکھ سکوں۔ اسی میدان میں انٹرکانٹینٹل ہوٹل بنا۔ ایک دن میں نے مایوسی کے عالم میں بڑے بھائی نصراللہ سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ہاشم خان اور دوسرے کھلاڑیوں سے کھیلنے کا موقع مل سکے گا لہذا مجھے کوئی نوکری تلاش کرنی چاہیے تاکہ گزر اوقات ہو سکے۔ʹیہ غالباً 1953 کی بات ہے جب روشن خان سکواش سے مکمل طور پر مایوس ہو چکے تھے۔ اس موقع پر نصراللہ خان نے اپنے ایک دوست سے ذکر کیا جو روشن خان کو پاکستان نیوی کے ایک افسر کے پاس لے گیا۔ 

 

روشن خان نے انھیں اپنے میچوں سے متعلق اخبارات کے تراشے دکھائے۔افسر نے روشن خان سے کہا کہ وہ انھیں پاکستان بحریہ میں چپڑاسی کی ملازمت دلوا سکتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگرچہ یہ ملازمت ان کے شایان شان نہیں ہے لیکن اس سے آگے کا راستہ کھل سکتا ہے۔ اور اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔روشن خان نے جب تیسری مرتبہ قومی پروفیشنل چیمپئن شپ جیتی تو پاکستان نیوی کے افسران بہت خوش تھے۔ روشن خان کو چپڑاسی کی ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا گیا اور اب ان کا کام صرف سکواش کھیلنا تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب نیوی نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے روشن خان کو انگلینڈ بھجوا دیا۔پندرہ پاؤنڈ کی خریداری مگر جیب میں ایک سکہروشن خان لندن تو پہنچ گئے لیکن ان کی حالت کچھ اس طرح تھی کہ جیب میں صرف پانچ شلنگ تھے۔ ان کا کل سامان صرف دو ٹراؤزر، ایک شرٹ، ٹینس شوز کی   ایک جوڑی اور ایک اوور کوٹ پر مشتمل تھا۔ 


یہ اوور کوٹ بھی نیوی کے سٹور سے انھیں دیا گیا تھا جسے وطن واپسی پر سٹور میں واپس کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔روشن خان اپنی رہائش کا پیشگی کرایہ ادا کر کے جب پاکستان ہائی کمیشن پہنچے تو ان کی جیب میں صرف ایک شلنگ باقی بچا تھا۔ ان کی خوش قسمتی کہ انھیں برٹش سکواش ریکٹس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری ہینری ہیمین کے پاس پہنچایا گیا جو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ روشن خان کے پاس کھیل کا مناسب سامان تک نہیں تھا۔وہ انھیں پکِیڈ لی سرکس میں کھیلوں کے سامان کی مشہور دکان لِلی وائٹس لے گئے جہاں انھوں نے روشن خان کے لیے ریکٹ، جوتے، جرابیں اور شرٹس خریدیں۔ بل پندرہ پاؤنڈ کا آیا جو ہیمین نے  اپنی جیب سے اداکیا دراسل وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ روشن خان کو اپنے ٹریولرز چیک کیش کرانے کا وقت نہیں مل سکا ہے۔اور پھر اللہ نے روشن خان کی سخت جان محنت خدائے واحد پر یقین نے ان کو بین الاقوامی  شہرت بھی دی اور بے حساب دولت بھی عطا کی اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے

 

اتوار، 19 اکتوبر، 2025

شہرکراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ حصہ دوم

 

 امام بارگاہ کھارادر سے ملحق ایک بڑا علم بھی ہے، یہ علم بھی سو سال سے زائد قدیم بتایا جاتا ہے اسی علم مبارک کے لئے روائت ہے کہ یہ علم پاک کھارادر کے سمندر میں بہتا ہوا ایک مچھیرے کو ملاتھا جس نے علاقے کے معززین کے حوالے کیا اور اس پاک گروہ نے یہ علم ایک وسیع میدان میں نصب کیا تھا'اب وسیع میدان تو نہیں ہے لیکن مولا  کاعلم پاک موجود ہے۔ کسی وقت یہ کراچی کا سب سے بڑا اور بلند علم کہلاتا تھا۔امام بارگاہ بارہ امام,ضلع جنوبی کے علاقے سابقہ لارنس روڈ موجودہ نشتر روڈ پر بھی ایک قدیم امام بارگاہ واقع ہے، یہ امام بارگاہ کراچی کے سول اسپتال سے نصف کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہ امام بارگاہ بارہ امام کے نام سے مشہور ہے۔ اس امام بارگاہ کو چوہدری اللہ دتہ نامی مخیر عقیدت مند نے کم و بیش سو سال قبل تعمیر کرایا تھا۔ یہاں عشرہ محرم سمیت دیگر ایام میں بھی مجالس عزا منعقدکی جاتی ہیں، یہاں ماضی میں عشرہ محرم میں علامہ عقیل ترابی مرحوم نے بھی مجلس عزا سے خطاب کیا کرتے تھے۔


اس امام بارگاہ سے ہر سال تین بڑے ماتمی جلوس 9 اور10محرم اور21 رمضان المبارک کو نکالے جاتے ہیں جو ڈینسو ہال کے قریب نشتر پارک سے آنے والے مرکزی جلوس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ پہلے اس امام بارگاہ میں ایران، عرق، شام اور سعودی عرب جانے والے زائرین، عازمین حج اور معتمرین کے لئے عارضی رہائش گاہ کا انتظام تھا۔انجمن حسینیہ ایرانیاں,کراچی کے قدیمی علاقے کھارادرکے عقب میں نواب مہابت خان جی روڈ پر واقع حسینیہ ایرانیاں بھی کراچی کی قدیم اما بارگاہوں میں شامل ہے۔اسے کراچی میں مقیم ایرانی باشندوں نے 1948ءمیں تعمیر کرایا تھا۔ اس امام بارگاہ کوکراچی میں عزاداری کے حوالے سے مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ حسینیہ ایرانیاں میں فارسی زبان میں بھی مجالس منعقد کی جاتی ہیں، جن میں کراچی میں مقیم ایرانیوں کے علاوہ فارسی زبان سے شناسائی رکھنے والے پاکستانی بھی شرکت کرتے ہیں، یہاں عشرہ محرم پر رات میں مجلس عزا منعقد کی جاتی ہے،

 

جس سے علامہ رشید ترابی مرحوم، علامہ عقیل ترابی مرحوم سمیت صف اوّل کے علماء نےخطاب کیا تھا۔امام بارگاہ مارٹن روڈ،جیل چورنگی کے قریب تین ہٹی جانے والی سڑک پر دائیں جانب زرا اندر جاکر کراچی کی ایک اور قدیم امام بارگاہ و جامع مسجد امام بارگاہ مارٹن روڈ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ امام بارگاہ قیام پاکستان کے بعد اس علاقے میں بھارت سے ہجرت کرکے آباد ہونے والے شیعہ مہاجرین نے اپنی مدد آپ کے تحت 1949ء میں قائم کی تھی، جو 1956ءمیں مکمل ہوئی تھی، یہاں محرم کی مجالس سمیت تمام مذہبی ایام پر مجالس منعقدکی جاتی ہیں۔کراچی کے مختلف علاقوں میں قیام پاکستان کے بعد شیعہ مہاجرین جہاں، جہاں آباد ہوتے گئے، وہاں انہوں نے امام بارگاہیں بنالیں، لائنز ایریا کے علاقے جٹ لائن میں ایک قدیم امام بارگاہ حسینی کے نام سے مشہور ہے، 


یہاں محمود آباد اور ملحقہ علاقوں سے نکلنے والے جلوس 9 محرم کی رات جمع ہوتے ہیں اور مجلس کے اختتام پر صبح سویرے مرکزی جلوس میں شامل ہونے کےلئے نشتر پارک پہنچ جاتے ہیں۔ یہاں پہلی مجلس 1950ءمیں منعقد ہوئی  تھی امام بارگاہ باب العلم نارتھ ناظم آباد-یہ کراچی کی ایک پُر شکوہ امام  بہت مشہور و مروف  اما م بارگاہ جس میں ماہ محرم کی  مجالس کے علاوہ دیگر علمی کام بھی کئے جاتے ہیں 'کراچی شہر میں ایک معجزاتی امام بارگاہ جہاں بدھ کی شام پورے کراچی سے مومنین زیارت اور عبادت کے لیئے حاضر ھوتے  ہیں یہ   بدھ  کی امام بارگاہ امام موسی  کاظم علیہ السلام  سے منسوب ھے جہاں  پہنچنے پر احساس ہوتا ہے   کہ  جیسے   کاظمین عراق  پہنچ گئے  ہوں  اگر دیکھا جائے تو ہزارہ برادری  نے  کراچی  کے دور افتادہ مضافاتی شہر منگھو پیر میں اپنی امام بارگاہ بنا لی جس میں ہزاروں ہزارہ شیعہ مجالس کرتے ہیں -


شہر کراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ

 


    شہر کراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ  کراچی میں امام بارگاہوں کی تاریخ پر نظر  رکھنے والے کہتے ہیں   کہ    عزادار سید الشہداء  کی  کا آغاز ہجری سال کے پہلے ماہ محرم کا آغاز ہوتے ہی کراچی میں امام بارگاہوں سمیت متعدد عوامی مقامات پر بھی مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں۔ ان متبرک مقامات  میں   سب سے پہلے   لیاری کے علاقے  بغدادی میں قیام پاکستان سے 140سال قبل 1806ءمیں قائم کی گئی  امام بارگاہ ہے  پھر ہم    کراچی کےدیگر علاقوں کو اگر دیکھیں  تو نشتر پارک اور خالق دینا ہال سمیت متعدد پبلک مقامات پر شہدائے کربلاؓ کی یاد میں منعقد ہونے والی مجالس اور محفل میں علماءاور ذاکرین خطاب کرتے ہیں۔کراچی کے نشتر پارک میں نصف صدی سے پاک محرم ایسوسی ایشن کے تحت مرکزی مجلس عزا منعقد کی جا رہی ہے جبکہ خالق دینا ہال میں بزم حسینی کے زیر اہتمام یکم تا 9محرم مجالس عزا برپا کی جاتی ہیں۔ 



عائشہ منزل کے قریب اسلامک ریسرچ سنٹر میں بھی مجالس عزا منعقد کی جاتی ہیں۔ کراچی کی قدیم امام بارگاہوں محفل شاہ خراسان، بڑا امام باڑہ کھارادر، انجمن حسینیہ ایرانیان، امام بارگاہ شاہ نجف، امام بارگاہ حسینی، لائنز ایریا اور دیگر،جہاں آج بھی عزاداری مجالس عزاکا انعقاد مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتاہے ۔کراچی کے ضلع جنوبی میں سب سے زیادہ قدیم امام بارگاہیں واقع ہیں ،جن میں متعدد ایسی ہیں، جہاں قیام پاکستان سے قبل عزادری کا سلسلہ جاری تھا۔محفل شاہ خراسان,مزار قائد اور نمائش چورنگی کے قریب بریٹو روڈ پر واقع محفل شاہ خراسان قیام پاکستان کے بعد کراچی کی قدیم ترین مسجد اور امام بارگاہ ہے، اسے کراچی میں عزاداری کا ایک بڑا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔


 

 اس کے تین حصے ہیں، پہلے حصے میں مسجد ہے، جہاں با جماعت نماز بھی اداکی جاتی ہے پھر عزا خانہ ہے، اس کے ساتھ زیارت گاہ ہے۔ یہاں قیام پاکستان کے بعد پہلے محرم میں اس مقام پر شامیانہ لگا کر مجالس عزا منعقدکی گئی تھی، پھر اسی زمین کو مخیر شیعہ افراد نے خریدا اور اس پر اس امام بارگاہ تعمیر کروائی،۔ یہاں بھی ایک بڑا علم عقید تمندوں کی توجہ کا مرکز بنا ہواہے۔اس سے چند قدم آگے ایک اور قدیم بارگاہ عزا خانہ زھرا کے نام سے مشہور ہے، یہاں بھی ایک تاریخی علم نصب ہے۔ یہاں بھی پابندی کے ساتھ مجالس منعقد کی جاتی ہیں، یہاں بھی کئی زیارتیں ہیں۔بشوکی امام بارگاہ ،بشوکی امام بارگاہ کوکراچی کی قدیم ترین امام بارگاہ قرار دیا جاتا ہے، یہ ۔ کہا جاتا ہے کہ جب یہ امام بارگاہ یہاں تعمیرکی گئی تھی، اس وقت کراچی کی مجموعی آبادی صرف 35 ہزار تھی۔


 

 اسے اب امام بارگاہ نیا آباد بھی کہا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ امام بارگاہ صرف ایک کمرے پر مشتمل تھی، لیکن اب یہ امام بارگاہ تین منزلہ ہے، یہاں پر عاشورہ محرم سمیت دیگر ایام میں عزاداری اور مجالس منعقدکی جاتی ہیں۔امام بارگاہ کھارادر,قیام پاکستان سے کم و بیش 80 سال قبل کراچی کے قدیم ترین کاروباری علاقے کھارادر میں 1868ءمیں قائم کیاگیا تھا۔ یہ امام بارگاہ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی جائے پیدائش وزیر مینشن سے دوگلیاں آگے ہے۔ اسے خوجہ اثناءعشری جماعت کے لوگوں نے تعمیر کرایا تھا، ابتدا میں اس کا صرف گراؤنڈ فلور تھالیکن عزادروں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے اس کی مزید دو منزلیں تعمیر کرائی گئیں، جن میں سے پہلی منزل خواتین عزاداروں کےلئے مخصوص ہے۔ یہاں کسی وقت علامہ رشید ترابی بھی مجلس پڑھاکرتے تھے۔


فرزند فلسطین کیمیا دان عمر یاغی' کیمسٹری کے نوبل 'شریک انعا م ٹہرے

 

 

زرا تصور کی نظر سے دیکھئے ایک چھوٹا سا معصوم بچہ جس  کو اپنے بچپن میں پیاس بجھانے کو صاف اور کافی پانی بھی میسر نہیں   ہو سکا تھا-جس کے کیمپ میں دھوپ سے بچاؤ کا انتظام بھی نہیں تھا  'لیکن اتنے کٹھن حالات میں وہ صرف ایک مقصد لے کر آ گے بڑھتا رہا تحقیق اور تحقیق اور بالآخر اس نے  اپنی ریسرچ مکمل  کر کے اپنے مقصد حیات کو پالیا اب ساری دنیا میں اس کے نام کی دھوم مچی ہوئ ہے-فلسطینی نژاد کیمیا دان عمر مونس یاغی نے بدھ کو کیمسٹری کا نوبیل انعام مشترکہ طور پر جیت لیا ہے۔نوبیل کمیٹی کے اعلان کے مطابق 2025 کا نوبیل انعام عمر مونس یاغی کے ساتھ شریک انعام یافتگان سوسومو کیٹاگاوا، رچرڈ روبسن ہیں۔نوبیل کمیٹی کے مطابق ان تینوں انعام یافتگان نے ایک نئی قسم کی مالیکیولائی ساخت معلوم کی ہے جس سے دھات اور آرگینک اجزا کے ملاپ سے فریم ورکس بنائے جا سکتے ہیں۔اس فریم ورک میں مالیکیول اندر اور باہر حرکت کر سکتے ہیں۔ اس عمل کو صحراؤں میں ہوا سے پانی حاصل کرنے، پانی سے آلودگی ختم کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ذخیرہ کرنے جیسے مفید کام لیے جا سکتے ہیں

 

۔عمر یاغی 1965 میں اردن کے دارالحکومت عمان میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا خاندان فلسطین سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوا تھا۔یاغی کو 2021 میں سعودی شہریت ایک شاہی فرمان کے تحت دی گئی تھی۔ یہ فرمان مختلف شعبوں میں نمایاں ماہرین کو سعودی شہریت دینے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ جب یاغی کو انعام کی خبر ملی تو ایک ہوائی اڈے پر سفر کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقعے پر کہا کہ انہیں حیرت اور خوشی دونوں ہوئے ہیں۔میں بہت غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ ہم ایک درجن اہل خانہ ایک کمرے میں رہتے تھے۔ ہمارے ساتھ ہمارے مویشی بھی ہوا کرتے تھے۔‘انہوں نے کہا کہ ’میرے والدین پناہ گزین تھے۔ میرے والد چھٹی تک پڑھے تھے، جب کہ والدہ لکھ پڑھ نہیں سکتی تھیں۔‘15 سال کی عمر میں وہ امریکہ چلے گئے۔ وسائل کی کمی کے باوجود ان کے اندر تعلیم کی لگن تھی، اور انہوں نے پہلے نیویارک سے کالج کی تعلیم اور پھر 1990  میں یونیورسٹی آف الینوئے، اربانا-شیمپین سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

 

اسی دوران انہوں نے مالیکیولر ڈھانچوں کے اندر موجود خالی جگہوں کو سمجھنے اور استعمال کرنے کے خیالات پر کام شروع کیا، جو آگے چل کر ان کی زندگی کا سب سے بڑا تحقیقی میدان بن گیا۔یاغی نے بعد میں ایریزونا سٹیٹ یونیورسٹی میں تدریسی کیریئر شروع کیا۔   کی 1990ءدہائی میں انہوں نے ریٹیکولر کیمسٹری کا تصور پیش کیا، جس کے تحت یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس طرح ایٹمی اور مالیکیولر اجزا کو مضبوط کیمیائی بانڈز سے جوڑ کر ایک نیا، ٹھوس، اور قابلِ پیش گوئی ڈھانچہ بنایا جا سکتا ہے۔اس نظریے سے انہوں نے میٹل-آرگینک فریم ورکس (MOFs) کی بنیاد رکھی، یعنی ایسی کرسٹل نما جالیاں جن میں بےحد چھوٹے سوراخ یا خانے ہوتے ہیں۔انہیں ایم او ایف کے شعبے کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے۔یہ MOFs گیسوں کو ذخیرہ کرنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے، پانی کے حصول اور توانائی کے ذخیرے میں استعمال ہونے لگے۔بعد میں انہوں نے کویلنٹ آرگینک فریم ورکس (COFs) اور ہائیڈروجن سٹوریج جیسے نئے تصورات متعارف کرائے۔


ان کا سب سے انقلابی تجربہ وہ تھا جس میں انہوں نے ہوا کی نمی سے پانی کشید کرنے والا آلہ تیار کیا، یعنی ایک ایسا آلہ جو بغیر بجلی کے ریگستان میں بھی پانی نکال سکے۔یاغی اکثر اپنے بچپن کی پیاس    اور پانی کی قلت کا ذکر کرتے  ہیں   اور اسی نے انہیں وہ سائنس بنانے پر مجبور کیا جو ہوا سے پانی نکال سکتی ہے۔ ان کے الفاظ میں ’میں نے اپنی کہانی کو سائنس میں ڈھالا۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی اور بچہ پیاسا نہ رہے۔‘یاغی نے امریکہ کی کئی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھایا: یونیورسٹی آف مشی گن، یو سی ایل اے اور بالآخر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلی، جہاں وہ آج بھی تدریس اور تحقیق سے وابستہ ہیں۔ وہ برکلی گلوبل سائنس انسٹی ٹیوٹ کے بانی ڈائریکٹر ہیں، جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے نوجوان سائنس دانوں کو عالمی سائنسی تحقیق میں شامل کرنا ہے۔ اردنی نژاد فلسطینی سائنس دان اور سعودی شہریت رکھنے والے پروفیسر عمر مؤنس یاغی نے نوبیل انعام برائے کیمیا اپنے نام کر لیا۔سویڈن کی شاہی اکیڈمی آف سائنسز نے اعلان کیا کہ یہ انعام عمر یاغی کے ساتھ جاپان کے سوسومو کیتاگاوا اور آسٹریلیا کے رچرڈ روبسن کو مشترکہ طور پر دیا جا رہا ہے۔ 

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2025

بلتستان میں تاریخ عزاداری

 

بلتستان میں چودہویں صدی عیسوی سے قبل اسلام کا نام و نشان نہ تھا -لیکن چودہویں صدی کے بعد اسلام اس شان وشوکت سے پھیلا کہ اب یہاں علوی اورحسینی تہذیب و تمدن جا بجادکھائی دیتا ھے ۔یہاں اسلام تشیع کی صورت میں پھیلا ھے کیونکہ جنہوں یہاں نوراسلام کو پھیلایا وہ  نور ولایت محمد وآل محمد  سے منور تھے۔یہی وجہ ہے کہ صد ھا سال بعد بھی اس علاقے میں محبان اہلیبیت اطہار علیہم السلام کی اکثریت موجود ہیں جن کے دل محبت آل محمد سے سرشار ہیں ۔آل محمد کی محبت میں یہ لوگ اپنا جان مال سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں ۔جب بھی محرم کا چاند افق عالم پر نمودار ہوتا ہے بلتستان کے لوگ سیاہ لباس میں غم حسین منانے کے لیے تیار نظر آتے ہیں ان ایام میں کام کاج چھوڑ کر صرف سیدہ زہرا کو ان کے دلبند کا ماتم وپرستہ دیتے ھیں۔جس دن بلتستان میں پہلا مبلغ اسلام میر سید علی ہمدانی پہنچے اسی دن سے عزاداری کی ابتداء ہو چکی   تھی -لیکن  باقاعدہ آداب اسلامی کے ساتھ فرھنگ و تمدن اسلامی کو ملحوظ نظر رکھ کر انجام پانے والے عزاداری کی تاریخ کو اس سرزمین میں دیکھنا ہو تو ہمیں میرشمس الدین عراقی کے دور (1490ء سے 1515ء)کا مطالعہ کرنا ہوگا۔


جس  زمانے  میں میر شمس تبلیغ دین اور ترویج مذہب تشیع کی خاطر آئےتویہاں مقپون بوخا کی حکومت تھی۔مقپون بوخا کا بیٹا شیر شاہ میر شمس الدین عراقی معتقد تھابعد میں 1515ء میں جب وہ خود برسر اقتدار آیا تو اس نے اسلامی رسومات کے فروغ اور اشاعت اسلام کے لیے خدمات انجام دینے والوں کی سرپرستی کرتے ہوئے حکومتی سطح پر انہیں پروٹوکول دئیے بہت سے علماکرام ،مبلغین دین اور ذاکرین کو مختلف علاقوں میں بھیجے تاکہ زیادہ سے زیادہ ترویج دین ہو سکے بہت سوں کو زمین بخش دئیے۔ان علما کرام کی کوششوں سے دیگر اسلامی آداب و رسوم کے ساتھ عزاداری بھی باقاعدگی سے شروع ھوئی۔بعد میں بلتستان کے معروف راجہ علی شیر خان انچن (1588ء تا 1625ء) کے دور میں رسمِ عزاداری اور فن شاعری کو بھی عروج ملنا شروع ہو گیا۔اس وقت عزاداری حکمرانوں کے درباروں میں ھوتی تھیں -اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مذہب تشیع کی ترویج اور فرھنگ وتمدن شیعی کو بلتستان اور گردو نواح میں مرائج کرنے میں مقپون راجاوں نے بڑا اہم کردار ادا کیاھے ۔


جب سید حسین رضوی کشمیر سے تبلیغ دین کے لئے کھرمنگ پہنچے تو وہاں کے راجہ نے از خود استقبال کئےاور اس سید بزرگوار کے حکم پر راجہ نے پولوگراونڈ میں ہی عزا خانہ بنایا گیا جہاں اب بھی عزاداری ابا عبداللہ ہوتی ہیں۔امام بارگاہ پاک و ہند میں مذہبی رسومات انجام دینے کے جگے کا نام ہے اسی کو خانقاہ بھی کہتے ہیں جنوب ہندوستان میں اسے عاشور خانہ بھی کہتے ہیں ۔پہلی بار نواب صفدر جنگ نے ۱۷۵۴م میں دھلی میں ایک مکان عزاداری کی خاطر تعمیر کروایا جسے پاک و ہند کا اولین امام بارگاہ مانا جاتا ہے اس کے بعد آصف الدولہ کا امام باڑہ ۱۷۸۴ میں تعمیر ہوا جس کے بعد سے امام باڑے تعمیر کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ۔داءرۃ المعارف بزرگ اسلامی،ص۱۳۶، جلد دھم۔احمد شاہ مقپون کی دور حکومت 1840ء میں سکردو میں امام بارگاہ کلاں کے نام سے پہلی امام بارگاہ بنی جس کے بعد امام بارگاہ لسوپی اور امام بارگاہ کھرونگ تعمیر ہوئیں۔ امام بارگاہوں کی تعمیر کے ساتھ ہی باقاعدہ عزاداری کا سلسلہ شروع ہوا آج بلتستان کے ہر ہر علاقے میں امام بارگاہیں موجود ہیں جہاں لوگ اپنے علاقوں میں مسجد کو ضروری سمجھتے ہیں وہاں غم ابا عبداللہ الحسین منانے کے لئے عزاخانے کو بھی ضروری سمجھتے ہیں


 اس وقت  بلتستان کی سرزمین پر کوئی محلہ ایسا نہیں جہاں محرم اور صفر میں عزاداری نہ ہوتی ہو ۔لوگ امام بارگاہوں کے علاوہ اپنے گھروں میں بھی عزاداری کرتے ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تمام رات باری باری لوگوں کے گھروں میں جا کر سیدہ زہرا کو ان کے لال حسین کا پرسہ دیتے ہیں ۔اہل بلتستان کے رگوں میں خون حسینی دوڑ رہا ہے یہ لوگ نام حسین پر سب کچھ فدا کرنے کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں ۔عقیدت کی انتہا یہ ہے کہ بعض اہل معرفت لوگ سال بھر میں ہر روز نماز صبح کے بعد ایک مرثیہ پڑھ کرکربلا والوں پر چند قطرے آنسو بھاتے ہیں ۔نہ صرف مرد حضرات ایسا کرتے ہیں بلکہ بعض خواتین کا بھی یہی روش رہتا ھے۔ڈوگروں کا 108 سالہ دور بلتستان والوں کے لیے ایک سیاہ ترین دور تھا لیکن عزاداری کے حوالے سے ڈوگرہ حکمرانوں نے بھی خصوصی سہولیات فراہم کیں۔ جب جلوسِ عزا امام بارگاہ کلاں کے نزدیک پہنچتا تھا تو ڈوگرہ فوج کا ایک خصوصی دستہ تعزیہ اور عَلم کو سلامی پیش کرتا تھا اور جلوس کے اختتام تک احتراماً اپنی سنگینوں کو سرنگوں رکھتا تھا۔


بشکریہ 

بلتستان میں تاریخ عزاداری

تحریر: سید قمر عباس حسینی حسین آبادی

تلخیص (بلتی اسلامی ثقافت پاکستان)


زرا عمر رفتہ کو آواز دینا -ان دنوں میرا اسکول چل رہا تھا

  شادی کے بعد ہم نے چالیس روپئے ماہانہ کرائے پر اپنی ضروریات کے مطابق لالو کھیت چار نمبر بس اسٹاپ کے نزدیک ایک مکان لے کر زندگی کی ابتداء کی ,مکان کی مکانیت یہ تھی ایک بیڈ روم ایک بیڈروم کے ہی اتنا برامدہ اور اتنا ہی بڑا آنگن  ایک چھوٹا سا کچن غسل خانہ  اورعلیٰحدہ سے   ٹوائلٹ  -یہی اس زمانے کا رواج تھا اس مکان کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ ہماری مالک مکان ہمارے ہی ساتھ والے گھر میں رہتی تھی جو بہت با اخلاق خاتون تھیں  اور میرا بہت خیال رکھتی تھیں  ان دنوں میرا اسکول چل رہا تھا اس لئے میں اکثر چھٹی کے بعد  اپنے میکے چلی جایا کرتی کبھی اپنے ہی گھر آجاتی تھی ,,اس وقت اپنی شادی شدہ زندگی کی زمّہ داریوں کو نباہنے کے ساتھ ساتھ   میری توجّہ کا مرکز میری والدہ اور چھوٹے بہن بھائ ہو ا کرتے تھے اور میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ میں کسی بھی صورت وقت نکال کر اپنی پیاری ماں کی کوئ تو خدمت کر کے گھر واپس آجاؤن ،


میں نے دیکھا کہ اللہ پاک شکر خورے کو شکر ضرور دیتا ہئے چنانچہ اس مالک کے کرم سےمیری شادی کے   بعد ہی   انیّس سو پینسٹھ میں ہی والد صاحب  نے بینکنگ کا ایک امتحان پاس کیا اور ابا جان کی ترقی ہوئ اس ترقی سے ابا جان کو بنک کی جانب سے   بنگلے کی رہائش کی آ فر ہوئ اور  میرے والدین  لالوکھیت کے مکان سے اٹھ کرفیڈرل بی ایریا کے علاقے میں  دو سو چالیس گز کے بنگلے میں  دستگیر نمبر نو میں آگئے،والدہ جیسے ہی فیڈرل بی ایریا شفٹ ہوئیں انہوں نے مجھے بھی اپنے برابر کے مکان بلاکر رکھ  لیا فیڈرل بی ایریا ان دنوں نیا نیا آباد ہونا شروع ہواتھاہمارے  گھر سے بلکل قریب  اونچے اونچے درختوں کی باڑھ تھی اور اس باڑھ کے اندر تازہ سبزیوں کے کھیت ہوا کرتے تھے -ان کھیتوں کی آبیاری کے لئے صبح منہ اندھیرے رہٹ چلا کرتی تھی -وہ سبزیاں  سبزی والے  کھیتوں سے لے کر اپنے اپنے ٹھیلوں پر  لے کر گلی کوچوں میں بیچا کرتے تھے  آ م کا موسم قریب آنے پر کوئل کی کوک وہ بھی صبح صادق میں بہت ہی پیاری سنائ دیتی تھی 


 اور یہاں کے مکانات  بھی  ہرے بھرے درختوں کے درمیان اور لہلہاتے کھیتوں کے قریب ترتیب میں بھی اچھّے لگتے تھے اور رہائش کے لئے بھی کشادہ تھے  یہ نئ بستی لالوکھیت کے مقابلے میں اسوقت  کی ڈیفنس سوسائٹی دکھائ دیتی تھی   چنانچہ والد صاحب جو جہد مسلسل سے وابستہ رہتے ہوئے ترقّی کی جانب گامزن تھے ہما را یہ گھر کرائے کا تھا لیکن والد صاحب نے جلد ہی پھر بنکینگ کا امتحان پاس کیا اس کامیابی نے محض پانچ برس کی قلیل مدت میں  ان  کو  دوسو چالیس گز کے  بنگلے  سے اٹھا کر نارتھ ناظم آباد بلاک ڈی  بابلعلم کی بیک پر  پانچ سو گز کے  اپنے زاتی بنگلے میں بٹھا دیا میری والدہ  ایف بی ایریا میں پانچ سال رہیں اور میں انکے ہمراہ دوسرے گھر مین رہتی رہی اس طر ح پورے پانچ سال گزر گئے  ،لیکن پانچ سالوں  بعدجب مجھے محسوس ہوا کہ اب میں کچھ کرنے کی پوزیشن میں ہوں تب میں نے قلم کا سفر شروع کیا میرے قلمی سفر کی ابتداء  جنگ اخبار میں معاشرتی موضوعات سےہو ئ لیکن  جلد ہی  افسانہ نگاری شر وع کی

 

افسانہ نگاری کا سفر طویل رہا ،پاکیزہ ،دوشیزہ جنگ ڈائجسٹ ،حنا ،آنچل اخبار جہاں سچّی کہانیا ں آئیڈئیل اور بھئ کئ جن کے نام بھی زہن میں نہیں ہیں ان میں لکھتی رہی ،میرا خیال ہئے کہ آج کے دور میں ناول کے مقابلے میں افسانہ زیادہ پڑھا جانے والا ادب ہئے لیکن ناول پڑھنے والے بھی کم نہیں ہیں ،شائد افسانہ نگاری کی جانب میری زیادہ توجّہ کا سبب بھی یہی ہو کہ افسانہ لکھنا مجھے ناول کی نسبت ہمیشہ آسان لگا در اصل میرے خیال میں ناول ایک بڑی اور کشادہ زہنی کی تخلیق ہوتا ہے ،اور میں اپنی گونا گوں زمّے داریوں کے سبب بڑی سوچ پر آنا نہیں چاہتی ہوں یہاں کینیڈا میں میری اون لائن ناول میں سہاگن بنی !مگر، عالمی اخبار کی زینت بنی ، یہ ناول در حقیقت میں نے پاکستان میں روز افزوں بڑھتی ہوئ شرح'' طلاق''' جیسے ناروا و ناپسندیدہ امر پر لکھی اس کے لکھنے کا مقصد نوجوان نسل کو پیغام دینا تھا کہ شادی ہوجانے  کے بعد ایک دوسرے کی کوتاہیوں اور کمزوریو ں کو نظر انداز کرتے ہوئے گھر کی بنیاد کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں

 

،اسی طرح میری کوشش یہی ہوتی ہئے کہ میں اپنی افسانوی تحریروں کے زریعے اپنے سماج کو کوئ ایسا مثبت پیغام دے سکوں جو پڑھنے والے کی رہ نمائ کا باعث ہو  افسانہ نگاری کا لم نویسی آج بھی  جاری ہئے افسانہ نگاری نا ول نویسی معاشرتی مضامین کچھ روحانیت کے کام  پر بھی توجّہ ہئےاس کے علاوہ ایک دستر خوان بھی شمع کا دستر خوان کے نام سے بازار میں آیا ،میرے ایک افسانو ی مجموعے رنگ شفق کی یہاں کینیڈاایڈمنٹن میں ہی ملٹی کلچرل  کونسل کی روح رواں محترمہ صوفیہ یعقو ب صاحبہ نے رونمائ کروائ اور ٹورانٹو سے کہنہ مشق ادیب و شاعرجناب تسلیم الٰہی زلفی نے میرے اس مجموعے پر تبصرہ لکھا  یہ مجھ جیسی کم علم رکھنے والی طالبہ کے لئے ایک یقینی  اعزاز کی بات ہے بات یہ ہئے کہ انسان سماج میں رہتے ہوئے کبھی اکیلا کچھ نہیں کر سکتا ہئے اس کو ہر حال میں سہاروں کی ضرورت ہوتی ہئے رہبری بھی چاہئے ہوتی ہئے ،یہ میری خوش قسمتی ہئے کہ مجھے تمام عمر ،اچھّے راہبر ،اور اچھّے استاد میسّر آئے جنہوں نے فراخ دلی سےمیری بھرپور رہ نمائ کی اور ادب کی دنیا میں مجھے قدم جمانے کے موقع فراہم کئے

 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا

  اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب  میں خود ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر