منگل، 21 اکتوبر، 2025

ڈاکٹر پیزادہ قاسم 'ایک مایہء ناز ماہرتعلیم اور شاعر

 

پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی 8جون 1943ء کو دہلی کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔  ابھی بچپن کے ابتدائ ایام  ہی گزر رہے تھے کہ  پاکستان اور ہندوستان کا بٹوارہ ہو گیا  چنانچہ تقسیم ہند کے وقت ان کے خاندان نے بھی اپنا  تمام اثاثہ  ہندوستان میں چھوڑا اور پاکستان کی سرزمین کو اپنا نیا مسکن بنا لیا - گھر کے اندر تعلیمی ماحول تھا  انہوں نے بھی ابتدائ تعلیمی مدارج طے کرتے ہوئے  انہوں نے ڈی جے سائنس کالج سے انٹر کا امتحان امتیازی نمبروں سے کامیاب کیا اس کے بعد جامعہ کراچی سے بی ایس سی آنرزکرنے کے  بعد ایم ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ایم ایس سی کے بعد نیو کیسل یونیورسٹی برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا اور جامعہ کراچی میں بحیثیت لیکچرار مقرر ہوئے۔ دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن رہے۔پیرزادہ قاسم اردو یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے تھے لیکن چند ماہ بعد وہ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر کردیئے گئے۔


  پیرزاد قاسم پسندیدہ شعرا میں سے ہیں ۔  ان  کی شاعری  ان کے مخصوص ترنم میں  بہت  لطف دیتی  ہے -پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صدیقی  کا کہنا ہےکہ شاعری میری پہلی محبت ہے  لیکن  میری  شاعری کا سرمایہ اتنا بھی نہیں کہ جتنا ہونا چاہئے۔ پیرزادہ قاسم  نے تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ 1960ء میں جامعہ کراچی میں بحیثیت لیکچرار مقرر ہوئے۔ دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرووائس چانسلر اور رجسٹرار، رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔ پیرزادہ قاسم 2012ء تک جامعہ کراچی کے وائس چانسلر بھی رہے۔، وفاقی اردو یونیورسٹی اور ضیاء الدین یونیورسٹی کے بھی وائس چانسلر بنے رہےسمجھتے ہیں کہ ادبی و علمی ورثہ اگلی نسل تک منتقل کئے بغیر معاشروں میں ایسے روبوٹس تیار ہوتے ہیں جو اچھے ڈاکٹر اور اچھے انجینئر تو ہو سکتے ہیں مگر انہیں مکمل شخصیت کہنا غلط ہوگا۔ہمیں ایسا معاشرہ چاہئے کہ جہاں افراد کو شعر و ادب سے دلچسپی ہو اور جو اچھے شعر پر داد دے سکیں اور اچھی تحریر کی پرکھ رکھتے ہوں۔۔1996ء میں دبئی میں جشن پیرزادہ قاسم بڑی شان و شوکت سے منایا گیا۔


یہ حقیقت ہے کہ ترقی پذیر معاشروں میں ایسے لوگوں کی مثال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے جو یورپ جا کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کریں، اور  پھر واپس اسی مٹی کا رخ کریں جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔پیرزادہ قاسم کا  شمار ایسے ہی چند مٹھی بھر لوگوں میں کیا جا سکتا ہے جنہوں نے وطن اور اپنی زبان سے محبت کی خا طر پردیس کی پُر آسائش زندگی کو نظر انداز کر کے پاکستان کی مٹی کو عزیز تر رکھا 60ء کی دہائی میں برطانیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل                         کی لیکن  ان کے دل میں اپنی زبان اپنا ماحول اس طرح سے رچا ہوا تھا کہ  تعلیم مکمل کرنے کے بعد  وہ دیار غیر میں رہ نہیں سکے اور پاکستان واپس آ گئے حالانکہ پردیس جانا اور پھر واپس پاکستان  آ کر یہاں ایڈجسٹ کرنا یہ ایک بڑامشکل مرحلہ ہوتا ہے لیکن ان کے ارادے اتنے پختہ تھے کہ انہوں نے پیچھے پلٹ کر دیکھا ہی نہیں                                 


                                                                                                                 پاکستان واپسی کے سفر میں ان کی ایک سوچ کارفرما نظر آئ جس میں  ان کی اردو زبان سے محبت شامل تھی  ان کی خواہش تھی کہ ان کی اگلی نسل بھی وہی زبان بولے جو وہ خود بولتے ہیں اور ان کے والدین بولتے ہیں ۔ پیرزادہ قاسم پاکستان میں شعبہ تدریس کی ایک قابل قدر شخصیت کے طور پر نمایاں سمجھے جاتے ہیں۔ وہ 1960ء سے جامعہ کراچی کے شعبہ فزیالوجی سے منسلک رہے- دوران ملازمت وہ جامعہ کراچی کے پرووائس چانسلر اور رجسٹرار، رکن سنڈیکیٹ، مشیر امور طلبہ اور دیگر اہم کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔انہوں نے 1960ء سے شاعری کا آغاز کیا اور غزل سمیت مختلف اصنافِ سخن میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ ان کی معروف تصانیف میں ’’تند ہوا کے جشن میں‘‘ اور ’’شعلے پہ زبان‘‘ شامل ہیں۔       بےمسافت سفرا'نھوں نے تمام  اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے، مگر غزل ان کا خاص میدان  ہے


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر