Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
پیر، 13 فروری، 2023
جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاو ہے- خدا حافظ امجد اسلام امجد
اتوار، 12 فروری، 2023
جابر بن حیان: امام جعفرصادق علیہ السّلام کے ایک عظیم شاگرد
﷽
جابر بن حیان: امام صادق علیہ السّلام کے ایک عظیم شاگرد-کیمیا گری کی دنیا بابائے اعظم کہلائے جانے والے حیّان نے اپنے متّقی با حیّان القحطانی کے آنگن میں آنکھ کھولی تو اس نے اپنے چاروں جانب اہلبیت کی محبّت کے شامیانے دیکھے حیّا ن اور امام جعفر صادق علیہ السّلام کے قریبی مراسم پر بھی غور کیا اور پھر خود بھی اپنے والد کے رنگ میں رنگ گئے -بس یہی موقع تھا جب ان کے والد نے ان کو کوفے جانے کا مشورہ دیا اوروہ اما م جعفر صادق کے شاگرد بن کر کوفہ آ گئے
جابر بن حیان، جنکی کنیت ابو موسی تھی، وہ امام صادق علیہ السّلام کے اصحاب میں سے تھے اور کیمیا (alchemy) میں ایک اہم کردار رکھتے ہیں جس نے جگہ بنائی دور حاضر کی کیمسٹری کیلئے۔ انکی ولادت تقریبا 103 یا 104 ہجری میں ہوئی اور، وہ 200 ہجری میں طوس میں وفات پا گئے انکی لکھی ہوئی کتاب “کتاب الرحمة” انکے سرہانے موجود تھی۔ ان سے منسوب بہت سی تالیفات ہیں، وہ ہمہ وقت تصنیف و تالیف اور ریسرچ میں مصروف رہا کرتے تھے، علم کیمیا میں جابر کی شخصیت شہرۂ آفاق حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے علم کیمیا میں نام پیدا کیا ہے۔
۔ جابر نے علم کیمیا کے توازن کی بحثیں اور فلسفہ کے اہم مباحث کو اجاگر کیا ہے اور نئی نئی تحقیقات منظر عام پر لیکر آئے ہیں۔ ان کی تألیفات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے اور بعض لوگوں نے انھیں الجبرا کا موجد قرار دیا ہے۔-ہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس علم میں نام پیدا کیا ہے۔ ان کو صوفی اور حرانی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جابر نے علم کیمیا کے توازن کی بحثیں اور فلسفہ کے اہم مباحث کو اجاگر کیا ہے اور نئی نئی تحقیقات منظر عام پر لیکر آئے ہیں۔ ان کی تألیفات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے ۔ علم کیمیا کے بارے میں انھوں نے ہزار صفحہ کے پانچ سو رسالے تألیف کئے ہیں۔جابر علوم کے ذخیرے جمع کرنے کی فکر میں مصروف رہتے تھے، لوگوں کو جدید تحقیقات سے آشنا کرنا ان کا دلپسند مشغلہ تھا -وہ ایک ایسی ہستی کے طالب علم تھے جو عالم بے معلّم تھی اسی لئے۔ جابر ایک شہرۂ آفاق شخصیت بن کے ابھرے اور تاقیامت اپنا نام کر گئے -ا ن کی تألیفات منظر عام پر آچکی ہیں۔-
جابر نے خود اپنے رسالوں میں اس بات کا اعلان کیا ہے کہ میں نے یہ علوم براہ راست امام جعفر صادق علیہ السّلام سے لئےہیں۔خواص کبیر کے ص:۲۰۵ پر جابر کا بیان ہے کہ میں ایک دن امام جعفر صادق علیہ السّلام کے گھر جارہا تھا... اس کے علاوہ جابجا اس کی تصریح موجود ہے، ص:۳۱۶ مقالہ ۲۴ میں لکھتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مجھے ان خواص کے جمع کرنے کا حکم دیا اور آئندہ بھی ایسی تحقیقات کے اضافہ کا مشورہ دیا۔
اس زمانے میں کوفہ میں علم و تدریس کے کافی مواقع تھے۔ کوفہ میں جابر نے امام جعفر صادقؒ کی شاگردی اختیار کی جن کے مدرسے میں مذہب کے ساتھ ساتھ منطق، حکمت اور کیمیا جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے
استاذ محمد یحییٰ نے اپنی کتاب ’’امام صادق علیہ السّلام مُلھم الکیمیا‘‘ میں لکھا ہے کہ علوم کی تاریخ میں جابر کا مسئلہ اور ان کا امام جعفر صادق علیہ السّلام سے ارتباط بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس موضوع کو اکثر مستشرقین اور اہل کیمیا نے محل بحث بنایا ہے لیکن کوئی قابل اطمینان کام نہیں کیا ہے اس لئے کہ انھوں نے موضوع کے دیگر مصادر کی چھان بین کی ہے اور خود جابر کے بیانات کو نظر انداز کردیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ ہم جابر ہی کے رسائل کی روشنی میں اس بحث کا تجزیہ کریں اور امام صادق علیہ السّلام کے فکری خدمات کا صحیح جائزہ لیں!.......اس کے بعد ص:۳۹ پر لکھتے ہیں کہ جابر کے چھوڑے ہوئے علمی ذخیرہ کی چھان بین کرنے کے بعد یہ اعتراف کرنا پڑتاہے کہ انھیں یہ سب کچھ امام جعفر صادق علیہ السّلام سے ملا تھا۔
ایک دفعہ کسی تجربے کے دوران ’’ قرع النبیق‘‘ میں بھورے رنگ کے بخارات اُٹھے اور آلہ کے دوسرے حصہ میں جمع ہو گئے جو تانبے کا بنا ہوا تھا۔ حاصل شدہ مادہ اس قدر تیز تھا کہ دھات گل گئی، جابر نے مادہ کو چاندی کے کٹورے میں ڈالا تو اس میں بھی سوراخ ہوگئے، چمڑے کی تھیلی میں ڈالنے پر بھی یہی نتیجہ نکلا۔ جابر نے مائع کو انگلی سے چھوا تو وہ جل گئی۔ اس کاٹ دار اور جلانے کی خصوصیت رکھنے والے مائع کو انہوں نے’’ تیزاب‘‘ یعنی ’’ریزاب‘‘ کا نام دیا۔ پھر اس تیزاب کو دیگر متعدد دھاتوں پر آزمایا لیکن سونے اور شیشے کے علاوہ سب دھاتین گل گئیں۔
جابر بن حیان مزید تجربات میں جُٹ گئے۔ آخر کار انہوں نے بہت سے کیمیائی مادے مثلاً گندھک کا تیزاب اور ایکوار یجیا بنائے۔ حتیٰ کہ انہوں نے ایک ایسا تیزاب بنایا جس سے سونے کو بھی پگھلانا ممکن تھا۔اس کے علاوہ لوہے کو زنگ سے بچانے کے لئے لوہے پر وارنش کرنے، موم جامہ بنانے، خضاب بنانے کا طریقہ دریافت کیا۔اس کے علاوہ فولاد کی تیاری، پارچہ بافی ، چرم کی رنگائی اور شیشے کے ٹکڑے کو رنگین بنانا وغیرہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے دھات کا کشتہ بنانے کے عمل میں اصلاحات کیں اور بتایا کہ دھات کا کشتہ بنانے سے ان کا وزن بڑھ جاتا ہے۔ عمل کشید اور تقطیر کا طریقہ بھی جابر کا ایجاد کردہ ہے۔ انہوں نے قلماؤ یعنی کرسٹلائزیشن کا طریقہ اور تین قسم کے نمکیات دریافت کئے۔
جابر نے کیمیا کی اپنی کتابوں میں بہت سی اشیاء بنانے کے طریقے درج کئے۔ انہوں نے کئی اشیاء کے سلفائڈ بنانے کے بھی طریقے بتائے۔ انہوں نے شورے اور گندھک کے تیزاب جیسی چیز دنیا میں سب سے پہلی بار ایجاد کی۔ جو کہ موجودہ دور میں بھی نہایت اہمیت کی حامل اور سنسنی خیز ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے ’’ قرع النبیق‘‘ کے ذریعے کشید کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پوری دنیا میں علمی ’’ سائنسی ‘‘ اور فکری حوالے سے دوسری صدی عیسویں کے بعد کوئی اہم شخصیت پیدا نہ ہوئی تھی۔ بقراط، ارسطو، اقلیدس، ارشمیدس، بطلیموس اور جالینوس کے بعد صرف اسکندریہ کی آخری محقق ’’پائپا تیا ‘‘چوتھی صدی عیسویں میں گزری تھی لہٰذا علمی میدان میں چھائی ہوئی تاریکی میں روشن ہونے والی پہلی شمع جابر بن حیان کی تھی۔ اس کے بعد گیارہویں صدی تک مسلمان سائنسدانوں اور مفکروں کا غلبہ رہا۔ جابر بن حیان کا انتقال ۸۰۶ء میں دمشق میں ہوا۔
ہفتہ، 11 فروری، 2023
پاکستان کے مایہ ء ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان
پاکستان کے مایہ ء ناز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان
پاکستانی ایٹم بم کے خالق اور مایہ ء ناز سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے، جو کہ صدر کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، ـڈاکٹر قدیر خان پندرہ برس یورپ میں رہنے کے دوران مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوؤن میں پڑھنے کے بعد 1976ء میں واپس پاکستان آگئےـڈاکٹر خان ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے کے بعد 31 مئی 1976ء میں انہوں نے انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی ـ اس ادارے کا نام یکم مئی 1981ء کو جنرل ضیاءالحق نے تبدیل کرکے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہےـمئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی ـکہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائیل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا
۔دارے نے پچیس کلو میٹر تک مارکرنے والے ملٹی بیرل راکٹ لانچرز، لیزر رینج فائنڈر، لیزر تھریٹ سینسر، ڈیجیٹل گونیومیٹر، ریموٹ کنٹرول مائن ایکسپلوڈر، ٹینک شکن گن سمیت پاک فوج کے لئے جدید دفاعی آلات کے علاوہ ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتوں کیلئے متعدد آلات بھی بنائےـانیس سو چھتیس میں ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہونے والےڈاکٹر خان نے ایک کتابچے میں خود لکھا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا ـڈاکٹر قدیر خان پر ہالینڈ کی حکومت نے اہم معلومات چرانے کے الزامات کے تحت مقدمہ بھی دائر کیا لیکن ہالینڈ، بیلجیئم، برطانیہ اور جرمنی کے پروفیسرز نے جب ان الزامات کا جائزہ لیا تو انہوں نے ڈاکٹر خان کو بری کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ جن معلومات کو چرانے کی بنا پر مقدمہ داخل کیا گیا ہے وہ عام اور کتابوں میں موجود ہیںـ جس کے بعد ہالینڈ کی عدالت عالیہ نے ان کو باعزت بری کردیا تھا -ڈاکٹر خان کو صدر جنرل پرویز مشرف نے بطور چیف ایگزیکٹیو اپنا مشیر نامزد کیا اور جب جمالی حکومت آئی تو بھی وہ اپنے نام کے ساتھ وزیراعظم کے مشیر کا عہدہ لکھتے ہیں لیکن 19 دسمبر 2004ء کو سینیٹ میں ڈاکٹر اسماعیل بلیدی کے سوال پر کابینہ ڈویژن کے انچارج وزیر نے جو تحریری جواب پیش کیا ہے اس میں وزیراعظم کے مشیروں کی فہرست میں ڈاکٹر قدیر خان کا نام شامل نہیں تھاـ
ڈاکٹر قدیر خان نے ہالینڈ میں قیام کے دوران ایک مقامی لڑکی ہنی خان سے شادی کی جو اب ہنی خان کہلاتی ہیں اور جن سے ان کی دو بیٹیاں ہوئیں۔ دونوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور اب تو ڈاکٹر قدیر خان نانا بن گئے ہیں۔ڈاکٹر قدیر خان کو وقت بوقت 13 طلائی تمغے ملے، انہوں نے ایک سو پچاس سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں ـ انیس سو ترانوے میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی تھی۔چودہ اگست1996ء میں صدر فاروق لغاری نے ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا جبکہ 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی انکو عطا کیا گیا تھا۔ڈاکٹر قدیر خان نےسیچٹ sachet کے نام سے ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہےـ
ڈاکٹر قدیر خان نےسیچٹ sachet کے نام سے جو این جی او بنائی وہ تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہےـ-مئی 1998ء کو آپ نے بھارتی ایٹمی تجربوں کے مقابلہ میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے تجرباتی ایٹمی دھماکے کرنے کی درخواست کی ـبالآخر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دورمیں آپ نے چاغی کے مقام پر چھ کامیاب تجرباتی ایٹمی دھماکے کیے ـاس موقع پر عبد القدیر خان نے پورے عالم کو پیغام دیا کہ ہم نے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔یوں آپ پوری دنیا میں مقبول عام ہوئے۔
سعودی مفتی اعظم نے عبد القدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قرار دیا اور پاکستان کے لیے خام حالت میں تیل مفت فراہم کرنے کا فرمان جاری کیا۔اس کے بعد سے پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے خام تیل مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔مغربی دنیا نے پاکستانی ایٹم بم کو اسلامی بم کا نام دیا جسے ڈاکٹر عبد القدیر خان نے بخوشی قبول کر لیا۔پرویز مشرف دور میں پاکستان پر لگنے والے ایٹمی مواد دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کے الزام کو ڈاکٹر عبد القدیر نے ملک کی خاطر سینے سے لگایا اور نظربند رہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے لئے انتہائی افسوسناک اور عظیم سانحہ ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر قدیر خان نے مسلمان ممالک کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو ایٹمی طاقت سے نواز کر مسلم دنیا کو مضبوط کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کے لئے جو خدمات سر انجام دیں انہی کی بدولت آج ہم آزادی کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے مسلمان سائنسدان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پاکستان سے محبت تھی کہ وہ عیش و عشرت کی زندگی چھوڑ کر پاکستان آئے اور تمام مشکلات کے باوجود پاکستان کی سر زمین پر ہی خاک کی چادر اوڑھ کراپنے خالق کے حضورابدی نیند سو گئے
جمعہ، 10 فروری، 2023
مولائے کائنات کی عظمت و جلالت غیر مسلم مشاہیر عالم کی نظر میں
مولائے کائنات کی عظمت و جلالت غیر مسلم مشاہیر عالم کی نظر میں ان ہستیوں نے مولا علی کے جو اوصاف لکھے ہیں ان میں سے ہر ایک کتاب حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کے ایک حصے کو بیان کرتی ہے اور ان کی زندگی کا ہر پہلو تمام نوع انسانی بلا تفریق رنگ و نسل ، مذہب و مکتب ، قوم و ملت ، شرق و غرب زندگی کے تمام مراحل ، شعبے اور ادوار کے لئے مشعل راہ ہے۔ آج علماء و دانشور اپنی علمی پیاس بجھانے اور ناخواندہ اپنے ہادی سے درس ہدایت کی تلاش میں ہیں زاہد ، متقی ، عابد امام المتقین کی تلاش میں ہیں ۔ حقوق انسانی سے لے کر حقوق غیر بشری تک یا گھریلو حقوق سے لےکر عالمی طبقاتی و غیر طبقاتی حقوق تک سب فطری طور پر ایک ایسے ہی فطری رہنماء کی تلاش میں ہیں سیاستدان اپنی سیاست ، دیندار اپنے دینی مسائل ، تاجر اپنی تجارت کے معاملات میں ، محقق اپنی تحقیق کے مراحل میں ، فطرت سلیم جیسے کامل ترین رہنماء کی تلاش میں ہیں مختلف مکاتب ومسالک ، مذاہب و ادیان کے علماء و دانشوروں نے نبی کریمﷺ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو ان تمام انسانوں کے لئے نمونہ قرار دیا ہے۔
ا ایک (ہندو پنڈت اچاریہ پرمود کرشنا)
کی منقبت جو ایک ہندو ہوکرحضرت علیؓ کیلئے بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔
میرے سینے کی دھڑکن ہیں میری آنکھوں کے تارے ہیں۔
سہارا بے سہاروں کا نبیﷺ کے وہ دُلارے ہیں۔
سمجھ کر تم فقط اپنا انہیں تقسیم نہ کرنا،
علی جتنے تمہارے ہیں علی اتنے ہمارے ہیں۔
نبیﷺ نورِ خدا ہے تو علی نورِ نبیﷺ سمجھو
نہ اس سے کم گوارا تھا نہ اس سے کم گوارا ہے۔
سمندر درد کا اندر مگر میں پی نہیں سکتا
لگے ہوں لاکھ پہرے پر لبوں کو سی نہیں سکتا
علی والو علی کے عشق کی یہ داستان سن لو
اگر علی کا ذکر نہ ہو تو یہ بندہ جی نہیں سکتا۔
جس کسی نے بہی اس عظيم شخصیت کے کردار،گفتار اور اذکار ميں غور کيا، وہ دريائے حيرت ميں ڈوب گيا اور شانِ علیؓ لکھنے پر مجبور ہوگیا۔ايک غیر مسلم محقق لکھتا ہے کہ حضرت علی عليہ السلام وہ پہلی شخصيت ہيں جن کا پورے جہان سے روحانی تعلق ہے وہ سب کے دوست ہيں اور اُن کی موت پيغمبروں کی موت جیسی ہے-
معروف سکھ دانشور، شاعر و ادیب کنور مہندر سنگھ بیدی سحر لکھتا ہے۔
تُو تو ہر دین کے، ہر دور کے انسان کا ہے
کم کبھی بھی تیری توقیر نہ ہونے دیں گے
ہم سلامت ہیں زمانے میں تو ان شاء اللہ
تجھ کو اک قوم کی جاگیر نہ ہونے دیں گے۔
تھامس کار لائیل لکھتا ہے کہ حضرت علی(علیہ السلام) ایک عظیم ذہن رکھتے تھے اور بہادری ان کے قدم چومتی تھی، ہم علی(علیہ السلام )کو اس سے زیادہ نہ جان سکے کہ ہم ان کو دوست رکھتے ہیں اور ان کو عشق کی حد تک چاہتے ہیں، وہ کس قدر جوانمرد، بہادر اور عظیم انسان تھے، ان کے جسم کے ذرّے ذرّے سے مہربانی اور نیکی کے سرچشمے پھوٹتے تھے، ان کے دل سے قوت و بہادری کے نورانی شعلے بلند ہوتے تھے، وہ دھاڑتے ہوئے شیر سے بھی زیادہ شجاع تھے لیکن ان کی شجاعت میں مہربانی اور لطف و کرم کی آمیزش بھی تھی پھر اچانک کوفہ میں کسی بہانے سے انہیں قتل کردیاگیا، ان کے قتل کی وجہ حقیقت میں ان کا درجہء کمال تک پہنچا ہوا عدل تھا، جب علی(علیہ السلام) سے اُن کے قاتل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر میں زندہ رہا تو میں جانتا ہوں کہ مجھے کیا فیصلہ کرنا چاہئے، اگر میں زندہ نہ بچ سکا تو یہ کام آپ کے ذمہ ہے، اگر آپ نے قصاص لینا چاہا تو آپ صرف ایک ہی ضرب لگا کر سزا دیں گے اور اگر اس کو معاف کردیں تو یہ تقویٰ کے نزدیک تر ہے۔
تھامس کار لائل مزید لکھتا ہے کہ ہمارا اس کے علاوہ کوئی اور کام نہیں ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) سے محبت اور عشق کریں، کیونکہ وہ ایک جوانمرد اور عالی نفس انسان تھے۔
برطانوی تاریخ دان ایڈورڈ گبن۔
(1737-1794) لکھتا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی فصاحت تمام زمانوں میں زندہ رہے گی، بلاشبہ خطابت اور تیغ زنی میں وہ یکتا تھے۔
شامی نژاد امریکی پروفیسر فلپ کے (1886-1978) لکھتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام لڑائی میں بہادر اور تقریروں میں فصیح تھے، وہ دوستوں پر شفیق اور دشمنوں کیلئے فراخ دل تھے۔
اسکاٹش سیاستدان سر ویلیم مور (1918-1905) کا ماننا ہے کہ سادگی حضرت علیؑ کی پہچان تھی اور انہوں نے بچپن سے اپنا دل و جان رسولِ خداﷺ کے نام کر دیا تھا۔جیرالڈ ڈی گورے (1897-1984) لکھتا ہے کہ حضرت علی(علیہ السلام) ہمیشہ مسلم دنیا میں شرافت اور دانشمندی کی مثال رہیں گے۔
برطانوی ماہر تعلیم ولفرڈ میڈلنگ
(1930-2013) لکھتا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کے مخلصانہ پن اور معاف کرنے کی فراخ دلی نے ہی ان کے دشمنوں کو شکست دی۔معروف مورخ چارلس ملز لکھتا ہے کہ خوش نصیب ہے وہ قوم کہ جس میں علیؑ جیسا عادل انسان پیدا ہوا، نبی اللہ سے انہیں وہی نسبت ہے جو حضرت موسٰیؑ سے حضرت ہارونؑ کو تھی۔
برطانوی ماہر تعلیم سائمن اوکلے (1678-1720) کہتا ہے کہ خانہ خدا میں حضرت علی کی ولادت ایک ایسا خاصا ہے جو کسی اور کا مقدر نہیں۔(9) بھارتی صحافی ڈی-ایف-کیرے، 1911-1974، لکھتا کہ علی (علیہ السلام) کو سمجھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔
حضرت مولا علی (علیہ السلام)کی ان تمام صفات کو ایک شاعر استاد شہریار ایک شعر میں یوں بیان کرتا ہے
نہ خدا تو انمش گفت نہ بشرتو انمش خواند
متحیرم چہ نامم شہ ملکِ لافتیٰ را
میں علی (علیہ السلام) کو نہ تو خدا کہہ سکتا ہوں اور نہ ہی بشر کہہ سکتا ہوں۔ میں حیران ہوں کہ اس شہ ملکِ لافتیٰ کو کیا کہوں.
(ایک عیسائی محقق ڈاکٹر شبلی شُمَیّل
کتاب ادبیات و تعہد در اسلام، مصنف: محمد رضا حکیمی، صفحہ250)حضرت علی پاک (علیہ السلام ) تمام بزرگ انسانوں کے بزرگ ہیں اور ایسی شخصیت ہیں کہ دنیا نے مشرق و مغرب میں، زمانہٴ گزشتہ اور حال میں آپ کی نظیر نہیں دیکھی۔
تھامس کارلائل لکھتا ہے: ”ہم علی کواس سے زیادہ نہ جان سکے کہ ہم اُن کو دوست رکھتے ہیں اور اُن کو عشق کی حد تک چاہتے ہیں۔ وہ کسقدرجوانمرد، بہادر اور عظیم انسان تھے۔
جمعرات، 9 فروری، 2023
ترکی-شام زلزلہ -اچانک سوتے میں قیامت صغریٰ آ گئی
پاور آف اٹارنی- پاکستانی عوام کے لئے یہ ایک خوشخبری ہے
بیرون ملک رہنے والے پاکستانی عوام کے لئے یہ ایک خوشخبری ہے
پاکستان کی حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک اور سہولت ان کی دہلیز پر پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی بہت جلد گھر بیٹھ کر صرف 25 ڈالر فیس ادا کرکے پاور آف اٹارنی (اتھارٹی لیٹر) بنوا سکیں گے۔اردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور نادرا نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاور آف اٹارنی کا نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس آٹومیشن نظام کے ذریعے پاور آف اٹارنی کا نظام آن لائن اور آٹومیشن پر ہوگا اور کسی کو سفارت خانے یا سرکاری دفاتر کے چکر نہیں کاٹنا پڑیں گے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ٹیکس گوشواروں کے لیے ایف بی آر کے نئے لنک کا اجرا-صرف یہی نہیں بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کے اندر جس کو بھی اتھارٹی تفویض کر رہے ہوں گے اسے بھی کسی دفتر جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ اس نئے نظام کے تحت پاور آف اٹارنی کا پورا نظام آٹومیشن پر منتقل ہو جائے گا۔ اس طرح پاور آف اٹارنی کا دستاویزی سلسلہ ختم کر دیا جائے گا۔
اس حوالے سے وزارت خارجہ نے ضروری قانونی ترامیم کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری حاصل کر لی ہے جب کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آٹومیشن کا نظام تیار کرنے کے لیے نادرا کو 83 اعشاریہ تین ملین روپے کی تکنیکی گرانٹ فراہم کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔اردو نیوز کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق وزیر اعظم کی ہدایت پر پاور آف اٹارنی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نادرا کو آٹومیشن کا نظام لانے کی ہدایت کی گئی۔
اس حوالے سے مشاورتی اجلاسوں میں معلوم ہوا کہ پاور آف اٹارنی کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہت سی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے جن میں خاص طور پر وقت اور پیسے کا ضیاع سب سے اہم ہیں۔ اسی طرح بہت سے ممالک میں پاکستانی شہریوں کا ایک شہر سے سفر کرکے دوسرے شہر میں سفارت خانوں میں جانا پڑتا ہے جو ان کے لیے بہت مشکل ہوتا ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی کسی وکیل سے پاور آف اٹارنی لکھواتے ہیں۔
اس حوالے سے طے پایا کہ نادرا آٹومیشن ک نظام لائے گا جس پر ابتدائی کام مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ وزارت خارجہ وزارت قانون سے مشاورت کے بعد ضروری قانونی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے رولز میں ترامیم کرے گی جو کہ مکمل کر لی گئی ہیں اور اس پر مزید مشاورت بھی جاری ہے تاکہ کسی قسم کی کوئی کمی باقی نہ رہے۔اس حوالے سے معاملہ جب وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا تو وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے آٹومیشن کے نظام کے غلط استعمال کو روکنے کے حوالے سے کچھ تجاویز دیں جن پر اتفاق کرتے ہوئے ان پر عمل در آمد کے حوالے سے مزید مشاورت کی ہدایت کی گئی۔ آف اٹارنی کا نیا نظام حتمی مرحلے پر پہنچنے پر نادرا اور وزارت خارجہ کے درمیان ایک معاہدہ طے پائے گا جس کے تحت نادرا ایک پاور آف اٹارنی کے لیے درخواست دہندہ سے 25 ڈالر فیس وصول کرے گا۔ یہ فیس بھی آن لائن ہی نادرا کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنا ہوگی۔
پاور آف اٹارنی کیا ہے؟پاور آف اٹارنی ایک قانونی دستاویز ہے جس کے ذریعے ایک فرد کسی دوسرے فرد کو اپنی نمائندگی کا حق دیتا ہے اور ایسا بالخصوص قانونی معاملات یا دستاویزات کی تصدیق وغیرہ کے لیے کیا جاتا ہے۔Aٹومیشن نظام کے ذریعے پاور آف اٹارنی کا نظام آن لائن اور آٹومیشن پر ہوگا۔ عموماً بیرون ملک مقیم پاکستانی کسی وکیل سے پاور آف اٹارنی لکھواتے ہیں اور سفارت خانے میں جا کر مجاز افسر کے سامنے اس پر دستخط کرتے ہیں اور پاکستان میں اس کو قانونی حیثیت دینے کے لیے سفارت خانے سے تصدیق کرواتے ہیں۔پاور آف اٹارنی بنوانے کا طریقہ کار خاصا پیچیدہ اور وقت طلب ہے۔ اس کے لیے ہر ملک میں فیس الگ اور وکیلوں کی فیسیں الگ دینا پڑتی ہیں۔
سعودی عرب میں پاور اٹارنی کی کم از کم فیس 18 ریال جبکہ زیادہ سے 136 ریال ہے۔ یورپ میں پاور آف اٹارنی کی کم از کم فیس 16 اور زیادہ سے 48 یورو، امریکہ میں 8 سے 16 ڈالر، انڈیا میں 300 سے 600 انڈین روپے ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانی آٹومیشن نظام پاور آف اٹارنی اتھارٹی لیٹر قانون اب کس مرحلے میں ہے اس لئے آپ جس ملک میں بھی رہتے ہوں وہاں کے پاکستانی قونصلیٹ سے رابطہ کر کے معلومات لے سکتے ہیں
بدھ، 8 فروری، 2023
آہ ! پرویز مشرّف الوداع
منگل، 7 فروری، 2023
یو گی کے استھان سے من مندر کے استھان تک-افسانہ
وہ بہت چھوٹی سی تھی جب سے سوچنا شروع کیا تھا پوجا پاٹ کے لئے چھوٹے بچّے بچّیاں اپنی ماوں کی انگیا ں تھامے ہوئے مندر آتے جاتے ہیں اور پھر اس کے ننھّے سے زہن نے اپنے آپ سے سوال کیا تھا میرے لئے وہ ہاتھ کہاں ہیں میں جس کی انگلی تھام کر مندر کی سیڑھیا ں چڑھتی اور اترتی مندر کا پجاری اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا پھر بھی اس نے ایک دن جا کر اس سے سوال کر ہی لیا تھا پجاری جی میری ماتا میرے پتا کون تھے ؟ پھر پجاری نے اسے بتا یا تھا کہ اُس کو اس کی ماں نے اپنی کوئ منّت پوری کرنے پر دان میں دیا تھا پر تیری ماتا پھر لوٹ کر کبھی بھی مندر نہیں آئ اور دیوداسی نے اپنا سر جھکا لیا تھا - مندر کے بوڑھے پجاری کے چرنوں میں بیٹھی اس کی جوانی جب جوبن پر آئ تب پجاری کو اس کی ضرورت نہیں رہی تھی لیکن پھر بھی وہ اسی کے چرنوں میں ہی بیٹھی ہوئ تھی -
-پجاری بوڑھا ہو گیا تھا اور تب بھی اس نے اس سے ایک بار بھی نہیں کہا تھا کہ وہ کہیں جا کر باہر کی دنیا دیکھ آئے - لیکن ایک روز ایک اجنبی اس کے من مندر میں آ پہنچا اس نے پجاری کو بتایا تو پجاری اس کو اپنے جھرّیوں بھرے چہرے میں دھنسی ہوئ آنکھوں سےدیکھتے ہوئے پہلے تو ایک دم آگ بگولہ سا گرم ہو اٹھا پھر نا جانے کیا سوچ کر ایک دم ہی سنبھل کر بولا دیکھ دیوداسی میں تجھ کو منع نہیں کروں گا -چل تو خود دیکھ لے ،،یہاں تو تُو اپنے من کے رشتے سے رہتی ہے ،،وہاں تو تن کے رشتے سے رہے گی ،،لیکن پجاری جی وہ مجھ سے بہت محبّت کرتا ہے ،،ہاں میں کب کہ رہا ہوں کہ وہ محبّت نہیں کرتا ہے ،،اچھّا جا اب آزما لے پھر آ جایئو ، پھر اسی شام ڈھلے مندر کی بتّیاں جلنے کے بعد وہ اسے لینے آ گیا
دیکھ دیوداسی یہ میرے دوست کا گھر ہے وہ بدیس گیا ہوا جب آئے گا تب ہم اپنا ڈیرہ کہیں اور جما لیں گے- پھر اس نے من مندر کے دیوتا کے لیئے اپنی سیج سجا لی اور ایک گھر آنگن کا خیالی تصّوراپنے دل میں بسا کربیٹھ گئ،،وہ حسبِ وعدہ ہر رات آنے لگا وہ شادی شدہ تھا اس لئے دن کے اجالے میں نہیں آسکتا تھا بس رات ہی اس کے لئے موزوں تھی اس لئے وہ ہر رات بلا دھڑک آتا تھا -لیکن یہ رات اور راتوں سے زرا مختلف رات تھی اس رات وہ بہت سخت بیمار تھی اورتیز بخار میں پھنک رہی تھی لیکن اس کی نظریں ہر پل دروازے کی جانب دیکھ رہی تھیں کہ اب وہ آ ئے گا اور پھر ہر رات کی طرح آج کی رات بھی وہ آگیا تھا لیکن آ ج کی رات اُس آنے والے کے لئے بے قیمت تھی کیونکہ آنے والے کو ایک خوف لاحق تھا 'کوئ مخبر اس کی خبر اُس کی گھر والی تک پہنچا سکتا تھا جس کے بدلے میں اس کا آنگن ویران ہو جاتا ،اس لئے اس نے آکراسے دیکھا اور چپ چاپ اس کی چارپائ پر زرا سا ٹک کر کہنے لگا دیوداسی میرے گھر میں تیرے کارن طوفان آ گیا ہے میری گھر والی نے اپنے میکہ کا جرگہ بلا نے کی دھمکی دی ہے اب تُو صبح پَو پھٹنے پر مندر چلی جا ایسا نا ہو کہ کوئ تیری سن گن لینے یہاں آ جائے پھر وہ الٹے قدموں سے واپس لوٹ گیا ،،
بخار کی حدّت میں وہ پوری طرح ہوش میں نہیں تھی پھر بھی اس نے اپنے دل میں ایک موہوم سی خواہش جاگتی محسوس کی تھی کہ آنے والا اس کے سرہانے بیٹھ کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بہت آہستہ سے پوچھے گا کہ کیا ہوا؟لیکن آنے والا تو کب کا جا چکا تھا اس کے دل کے کواڑباقی تمام رات اذیّت سے بجتے رہے اور لمبی کالی وہ ایک رات اس کے دل کی تنہائیوں میں سسکتی ہوئ دھیرے دھیرے کھسکتی رہی صبح دم وہ اس قابل تو نہیں تھی لیکن اپنے آ پ کو زبردستی اٹھا کر یوگی کے استھان پر جا پہنچی ابھی تو مندر کے سنہرے کلس پر دھوپ کی پہلی کرن پر بھی نہیں پڑی تھی ،کلس ابھی اجلا نہیں میلا نظر آرہا تھا اور کلس کی مانند اس کا دل بھی میلا تھا ، مندر کی سیڑھیوں پر اس نے پہلا قدم رکھّا ہی تھا کا مندر کی گھنٹیاں گھونگھر بجانے لگیں اور سیڑھیا ں چڑھتے ہی مندر کے پجاری نے اس کو دیکھا جو گھنٹیا ں بجا کر ہٹ رہا تھا اس کی بھی پہلی نظر پجاری پر پڑی اور پھر اس نے ہولے ہولے آگے بڑھتے ہوئے بلکل مریل آواز میں پجاری کے قدموں میں جھک کراسے پرنا م کیا جو اس کو آتا دیکھ کر وہیں ٹھٹھک کر کھڑا ہو گیا تھا وہ سیدھی ہوئ ،تو پجاری نے کہا بول دیو داسی کیا ہوا ،وہ کچھ نہیں بول سکی کیونکہ آنسو اس کے دل سے نکل کر گلے میں اٹک گئے تھے پجاری نے اپنی بوڑھی گردن کو ایک جانب ہلکا سا جھٹکا دیا اور معنی خیز لہجے میں بولا جان گیا 'کیا ہوا ،،ہرجائ نہیں آیا
پجاری کی بات کا جواب دینے کے بجائے وہ مندر کے فرش پر پاؤں پسار کر بیٹھ گئ اور پجاری سے روتے ہوئے کہنے لگی-پجاری جی مجھے بتاؤ کیا دنیا کی ہر عورت اتنی بے قیمت ہوتی ہے جتنی مندر کی دیوداسیاں ہوتی ہیں اور پھر اس کے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے اور آنسووں کی قطاریں اس کے چہرے کو بھگونے لگیں -ہاں مرد کی زات ایسی ہوتی ہےبوڑھے پجاری نے اپنی جہاںدیدہ نظروں سے آسمان کو دیکھتے ہوئے کہا ،،،،دیکھ دیوداسی میں نے پہلے بھی تجھے سمجھایا تھا کہ تو بھو گی سنسار کے ان ظالم جھمیلوں میں نا جا -پر تو مانی ہی نہیں ،،، خیر ابھی بھی خیر ہے ---، تو جا تیرا مسکن سونا ہے جا کر اسے آباد کر ،،میں جانتا تھا یہی ہونا تھا ،،پجاری بڑبڑاتا ہوا وہاں سے ہٹ کر چلا گیا اور دیو داسی اپنی ساری کے پلّو سے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے مندر کے سونے مسکن میں واپس چلی گئ - اب اُس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ دیو داسیاں صرف استھانوں پر دان کے لئے ہوتی ہیں اُن کے من کے استھان میں کوئ سچّا پریمی بسیرا کرنے نہیں آتا ہے
افسانہ نگار زائرہ عابدی
پیر، 6 فروری، 2023
ترکی اور شام میں 7.8 شدت کا بھیانک زلزلہ
اتوار، 5 فروری، 2023
ڈاکٹر عبد القدیر خان کی خوش رنگ زاتی زندگی
آخر میں ڈاکٹر صاحب کیلئے دو تازہ شعر؎
اک آہنی انسان بنایا تھا خدا نے
آیا تھا ہمیں جرم ضعیفی سے بچانے
دشمن کی نگاہوں سے وطن آج ہے محفوظ
محسن تھا ہمارا، کوئی مانے کہ نہ مانے
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا
اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب میں خود ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...