1959ء میں فیضؔ میں راولپنڈی سازش کیس میں فیض احمد فیض کی گرفتاری ان کے خاندان کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ ان پر جو مقدمہ قائم ہوا اس کی سزا پھانسی تھی یا پھرعمر قید، ایلس فیض ابھی گرفتاری کے صدمے سے نہیں سنبھلی تھیں کہ سی آئی ڈی کا تلاشی کے لیے گھر آنا مزید ذہنی اذیت کا باعث بنا۔41 ایمپرس روڈ لاہور پر پولیس اور سی آئی ڈی کا پہرہ لگ گیا۔ آنے جانے والوں پر نظر رکھی جاتی۔ ان کے نام نوٹ ہوتے۔ اخبارات فیض کو غدار قرار دینے کی مہم میں پیش پیش تھے۔ فیض اور دیگر ملزموں کو سزائے موت دینے کا مطالبہ ہونے لگا۔ایلس پر چاروں طرف سے مصیبتوں نے یورش کر دی۔ ایک طرف شوہر کے پابندِ سلاسل ہونے کا غم تو دوسری طرف گھربار چلانے کی ذمہ داری کا بار، لوگوں کی کڑوی کسیلی باتیں الگ۔ایلس کی زندگی کس ڈھب سے گزر رہی تھی اس کا اندازہ فیض کے نام خطوط سے ہوتا ہے-اس کڑے وقت میں ایلس نے بڑی ہمت اور تدبر سے کام لیا۔ حالات کے سامنے سپر ڈالنے کے بجائے ان کا مقابلے کرنے کی ٹھانی۔ پاکستان ٹائمز میں ملازمت کرلی۔ خواتین اور بچوں کا صفحہ ترتیب دینے لگیں۔گاڑی بیچ کر وکیل کو فیس کی پہلی قسط کی ادائیگی ممکن بنائی۔ 150 روپے کی فلپس سائیکل خریدی جو دفتر آنے جانے کی کام آتی۔ اس زمانے میں ان کی زندگی کس ڈھب سے گزر رہی تھی اس کا اندازہ فیض کے نام خط کے اس اقتباس سے ہوتا ہے
Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
بدھ، 10 دسمبر، 2025
جب فیض احمد فیض غدار قرار دے کر پابند سلاسل کئے گئے
منگل، 9 دسمبر، 2025
جگنی -جڑی نام علی دا لیندی آ- فخر پاکستان لوک گلوکارعالم لوہار
محمد عالم لوہار خطۂ پنجاب پاکستانی حصہ کے ایک مشہور پنجابی لوک موسیقی فنکار تھے۔ انہوں نے موسیقی کی اصطلاح میں جگنی کو متعارف کرایا جو پنجابی لوک موسیقی میں بہت مقبول ہے۔
جگنی
میں ہر سانس کے ساتھ امام علی کا نام پڑھتا ہوں۔
میں ہر سانس کے ساتھ امام علی کا نام پڑھتا ہوں۔
اب خدائی روشنی کا مشاہدہ کریں۔
شبنم کے قطروں کی طرح
میں نے پیار کی دعا مانگی ہے۔
اور سارے غم دور ہو جاتے ہیں۔
تو میں جگنی گاتا ہوں۔
میں آپ کی جگنی گاتا ہوں۔
میں گاتا ہوں تیری جگنی اپنے محبوب کی
اللہ بسم اللہ تیری جگنی
ہاں! تیری جگنی، میرے محبوب
عالم لوہار کی پیدائش 01 مارچ 1928ء میں تحصیل کھاریاں ضلع گجرات کے ایک قصبہ میں ہوئی۔ ان کے والد ان کی خوش الحانی کی وجہ سے انہیں قاری بنانا چاہتے تھے مگر ان کا اپنا رجحان لوک داستانیں گانے کی طرف تھا چنانچہ وہ اپنے اس شوق کی تکمیل کے لئے اپنا گھر چھوڑ کر تھیٹریکل کمپنیوں سے وابستہ ہوگئے اور نہایت کم عمری میں بہت مقبول ہوگئے۔قیام پاکستان کے بعد انہوں نے ریڈیو پاکستان اور پھر پاکستان ٹیلی وژن سے بھی اپنے فن کا جادو جگایا اور پاکستان کے مقبول ترین لوک گلوکاروں میں شمار ہونے لگے۔عالم لوہار کو چمٹا بجانے اور آواز کا جادو جگانے میں کمال فن حاصل تھا ۔ ان کے گائے ہوئے پنجابی گیتوں کی خوشبو آج بھی جابجا بکھری ہوئی ہے ۔ان کی خاص پہچان ان کا چمٹا تھا ۔ انہوں نے چمٹے کوبطور میوزک انسٹرومنٹ دنیا کو ایک نئے ساز سے متعارف کرایا۔ انہوں نے کم عمری سے گلوکاری کا آغاز کیا۔ وہ اپنے مخصوص انداز اور آواز کی بدولت بہت جلد عوام میں مقبول ہوگئے۔ ان کی گائی ہوئی "جگنی "آج بھی لوک موسیقی کا حصہ ہے۔
" جگنی "اس قدر مشہور ہوئی کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فنکاروں نے اسے اپنے اپنے انداز سے پیش کیا لیکن جو کمال عالم لوہار نے اپنی آواز کی بدولت پیدا کیا وہ کسی دوسرے سے ممکن نہ ہوسکا۔ جگنی کی شہرت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور کی اردو اور پنجابی فلموں میں بھی "جگنی "کو خصوصی طور پر شامل کیا گیا جبکہ جگنی کی پکچرائزیشن بھی انہی پر ہوئی ۔ "جگنی "کے علاوہ عالم لوہار نے کئی اورمنفرد دھنیں بھی تخلیق کیں جن میں"دھرتی پنج دریاں دی" بہت مقبولیت ہوئی ۔عالم لوہارکی گائیکی کا انداز منفرد اور اچھوتا تھا جو اندرون ملک ہی نہیں بیرون ملک جہاں پنجابی اور اردو زبان نہیں سمجھی جاتیں وہاں بھی لوگ ان کی خوبصورت دھنوں پر جھوم اٹھتے تھے ۔چمٹا بجانے کے ساتھ ساتھ گلوکاری کا فن اگرچہ محدود ہوگیا ہے اور چمٹا بجانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہوتی جارہی ہے لیکن عالم لوہار کے بیٹے عارف لوہار نے چمٹے سے چھڑنے والی نئی سے نئی دھنوں کے ذریعے نہ صرف اپنے والد کے فن کو زندہ رکھا ہوا ہے بلکہ وہ خود بھی اس فن میں دوسروں سے ممتاز ہیں۔ انہوں نے کم عمری سے گلوکاری کا آغاز کیا۔
عالم لوہار کو چمٹا بجانے اور آواز کا جادو جگانے میں کمال کا فن حاصل تھا، ان کے گائے ہوئے پنجابی گیتوں کی خوشبو آج بھی جابجا بکھری ہوئی ہے۔ان کی خاص پہچان ان کا چمٹا تھا،وہ اپنے مخصوص انداز اور آواز کی بدولت بہت جلد عوام میں مقبول ہوگئے، ان کی گائی ہوئی جگنی آج بھی لوک موسیقی کا حصہ ہے۔جک گنی اس قدر مشہور ہوئی کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فنکاروں نے اسے اپنے اپنے انداز سے پیش کیا لیکن جو کمال عالم لوہار نے اپنی آواز کی بدولت پیدا کیا وہ کسی دوسرے سے ممکن نہ ہوسکا۔جگنی کے علاوہ عالم لوہار نے کئی اور منفرد نغمے تخلیق کئے جن میں اے دھرتی پنج دریاں دی، دل والا دکھڑا نئیں، جس دن میرا ویاہ ہو وے گا، قصّہ سوہنی ماہیوال کا گیت، وغیرہ بہت مقبول ہوئے۔عالم لوہار کی گائیکی کا انداز منفرد اور اچھوتا تھا جو اندرونِ ملک ہی نہیں بیرونِ ملک جہاں پنجابی اور اردو زبان نہیں سمجھی جاتیں وہاں بھی لوگ ان کی خوبصورت دھنوں پر جھوم اٹھتے تھے، خصوصاً قصّہ ہیر رانجھا اور قصّہ سیف الملوک آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔چمٹا بجانے کے ساتھ ساتھ گلوکاری کا فن اگرچہ محدود ہوگیا ہے
اور چمٹا بجانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے لیکن عالم لوہار کے بیٹے عارف لوہار نے چمٹے سے چھڑنے والی نئی سے نئی دھنوں کے ذریعے نہ صرف اپنے والد کے فن کو زندہ رکھا ہوا ہے بلکہ وہ خود بھی اس فن میں دوسروں سے ممتاز ہیں۔عالم لوہار کو چمٹا بجانے اور آواز کا جادو جگانے میں کمال کا فن حاصل تھا، ان کے گائے ہوئے پنجابی گیت آج بھی سماعتوں پر وجد طاری کردینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص انداز اور آواز کی بدولت بہت جلد عوام میں مقبول ہوگئے۔عالم لوہار کا’’چمٹا‘‘ بھی ان کی ایک الگ پہچان بنا۔ان کی گائی ہوئی جُگنی آج بھی لوک موسیقی کا حصہ ہے۔ان کی گائی ہوئی جُگنی اس قدر مشہور ہوئی کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فنکاروں نے اسے اپنے اپنے انداز سے پیش کیا لیکن جو کمال عالم لوہار نے اپنی آواز کی بدولت پیدا کیا وہ کسی دوسرے سے ممکن نہ ہوسکاجُگنی کے علاوہ عالم لوہار نے کئی اور منفرد نغمے تخلیق کئے جن میں اے دھرتی پنج دریاں دی، دل والا دکھڑا نئیں، جس دن میرا ویاہ ہو وے گا، قصّہ سوہنی ماہیوال کا گیت، وغیرہ بہت مقبول ہوئے۔ خصوصاً قصّہ ہیر رانجھا اور قصّہ سیف الملوک آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ انہوں نے عالم لوہار کو’’شیر پنجاب‘‘ کا خطاب بھی دیا۔حکومت پاکستان نے ان کی فنی خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس بھی دی-ہمارا یہ ہونہار فنکار لالہ موسیٰ کی خاک میں محو آرام ہے اللہ کریم مرحوم کو اپنی رحمت کی ٹھنڈی چھاؤں عطا فرمائے آمین
کراچی کے مین ہولز پر ڈھکن کون لگائے گا
کراچی کے مین ہولز پر ڈھکن کون لگائے گا -کچھ مہینے پہلے بھی کراچی ہی میں ایک معصوم بچہ کھلے گٹر میں جاں بحق ہوا تھا اور جب مئر کراچی پر انگلیاں اٹھیں تو انہوں نے بیان دیا تھا کہ یہ میرا کام نہیں کہ میں گلیوں میں گٹر کے دھکن لگواؤں-پیپلز پارٹی سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اگر آپ کے ایجنڈےمیں کراچی کی فلاح شامل نہیں ہے تو برائے مہربانی اس شہر کو 100 سال کیلیز پر چائنا کو دے دیجئے کراچی پاکستان کا معاشی انجن، تین کروڑ سے زائد آبادی کا شہر اور ساحلی خطّے کا اہم ترین معاشی و ماحولیاتی مرکز آج بنیادی شہری انفرااسٹرکچر کے انہدام کا ایسا شکار ہے کہ یہاں رہائش، نقل و حمل، نکاسی آب، صحتِ عامہ اور ماحول کے ہر شعبے میں سنگین بحران جنم لے چکے ہیں۔ یہی بگاڑ بالآخر ایسی دل دہلا دینے والی خبروں میں ڈھلتا ہے "بچّہ گٹر میں گر کر جاں بحق۔”گزشتہ دنوں کمسن ابراہیم کا گٹر میں گر کر موت کے منہ میں چلے جانا کوئی انوکھا واقعہ نہیں تھا، اور یہی اس شہری سانحے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ کراچی میں کھلے مین ہولز، ٹوٹے ڈھکن، غیر تسلی بخش نکاسی آب اور برسوں سے نظرانداز کردہ شہری منصوبہ بندی نے بچوں کی زندگیوں کو روزانہ کی بنیاد پر خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ ابراہیم کی موت ایک سوال ہے، آخر کراچی جیسا شہر، جس کی معیشت پورے ملک کو سہارا دیتی ہے، اپنے بچوں کے لیے بھی محفوظ کیوں نہیں؟آج کھلے مین ہولزایک خاموش قاتل کا روپ دھار چکے ہیں۔ کراچی کی سڑکوں اور گلیوں کے سیکڑوں مین ہولز کے ڈھکن نہیں ہیں۔ کچھ برساتی پانی میں چھپ جاتے ہیں، کچھ چوری ہو جاتے ہیں، اور کچھ محکمہ جاتی غفلت کا نتیجہ ہی
بدقسمتی سے یہ صورتحال کوئی عارضی بے ترتیبی کی نہیں بلکہ شہر کے پورے نکاسی آب کے نظام میں موجود دیرینہ بدانتظامی کی علامت ہے۔ کے یم سی، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن، ڈی ایم سیزاور دیگر اداروں کے درمیان اختیارات کی کھینچا تانی صورتحال کے بگاڑ میں بنیادی کردار کی حامل ہے۔ غیر مربوط شہری منصوبہ بندی، سڑکوں اور سیوریج لائنوں کی مرمت میں بے حد تاخیر، بارشوں کے بعد ہنگامی اقدامات کا فقدان یہ تمام عوامل مل کر ایسے سانحات کو مسلسل جنم دیتے ہیں جن کا شکار وہ بچے بنتے ہیں جن کے کندھوں پر قوم کا مستقبل رکھا جاتا ہے۔ابراہیم کے ساتھ ہونے والا اور اس جیسے دوسرے حادثات صرف بدانتظامی نہیں بلکہ موسمیاتی بحران کے بڑھتے اثرات سے بھی جڑے ہیں۔ کراچی سمندر کے ساتھ واقع ایک کم بلندی اور گنجان آبادی والا شہر ہے جہاں بارشیں معمول سے کہیں زیادہ اور شدید ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں شہری سیوریج سسٹم کا بار بار اوور فلو ہونا معمول بن چکا ہے۔ شہر کے کئی علاقے عارضی جھیلوں میں بدل جاتے ہیں اور مین ہولز کے ساتھ کھلے نالے پانی میں ڈوب کر موت کے جال بن جاتے ہیں۔ ماہرین پہلے ہی متنبہ کرچکے ہیں کہ کراچی جنوبی ایشیا کے ان شہروں میں شامل ہے جو شدید موسمیاتی خطرات کے مرکز میں داخل ہو چکے ہیں۔
یعنی اگر شہری انفرااسٹرکچر پہلے ہی بوسیدہ ہو تو ماحول اور موسم میں ہر معمولی تبدیلی بھی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ کراچی کا بنیادی انفرا اسٹرکچر کم از کم دو دہائیوں سے زوال کا شکار ہے۔ سیوریج لائنیں پرانی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہیں، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے پاس فنڈز اور عملے کی کمی ہے، غیر رسمی بستیوں میں بغیر نقشے کے تعمیرات کھلے عام ہو رہی ہیں اور کوئی ادارہ انہیں روکنے والا نہیں، نالوں پر تجاوزات اور ان پر بنے غیر سائنسی ڈھانچے شہری انفرااسٹرکچر کا منہ چڑا رہے ہیں، کچرے اور پلاسٹک کے بوجھ سے بند ہوتی ڈرینج اور سولڈ ویسٹ کے مسائل، ان سب عوامل نے مل کر پاکستان کے معاشی حب کو ناقابل رہائش شہر میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایسے شہر میں مین ہول کا کھلا ہونا محض ایک غفلت نہیں بلکہ انتظامی ذمے داریوں کے پورے نظام کا انہدام ہے۔کیا یہ ماحولیاتی مسئلہ ہے یا انتظامی؟ اصل میں دونوں۔ یہ امر اب حقیقت بن چکا ہے کہ کراچی کے شہری مسائل اب ایک اجتماعی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں، موسمیاتی تبدیلی، سمندر کی سطح میں اضافہ، اربن ہیٹ آئی لینڈ ایفیکٹ، سیلابی بارشیں اور شہری اداروں کی بدانتظامی کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی چپقلش یہ سب ایک ہی لڑی میں جڑ چکے ہیں۔ ابراہیم کی موت اسی بڑے ماحولیاتی و شہری بحران کی ایک المناک مثال ہے۔
اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ ہر سانحے کے بعد یہی سوال اٹھتا ہے، مین ہول کس نے کھلا چھوڑا؟ ذمہ دار کون ہے؟ اداروں نے بروقت کارروائی کیوں نہ کی؟ احتیاطی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ لیکن ان سوالات کے جواب کبھی نہیں ملتے، اور کچھ دن بعد زندگی معمول پر آ جاتی ہے، تاوقتیکہ کوئی نیا ابراہیم ایک اور کھلے مین ہول میں گر کر جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔اگر کراچی کو محفوظ شہر بنانا ہے تو چند بنیادی اقدامات فوری طور پر ناگزیر ہو چکے ہیں جن میں سیوریج سسٹم کی مکمل آڈٹ اور ری ڈیزاننگ، پرانی اور ٹوٹی لائنوں کی ہنگامی تبدیلی، مین ہول مانیٹرنگ سسٹم، GPS ٹیگ شدہ، لاکڈ کور، اور موبائل ایپ رپورٹنگ سسٹم۔شہری اداروں کے درمیان اختیارات کی وضاحت، کے یم سی، ڈی ایم سیز، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے درمیان مربوط حکمت عملی۔ بارشوں کے دوران ایمرجنسی رسپانس یونٹ، ہر علاقے میں مین ہول کور کی مستقل نگرانی کے ساتھ شہر کی ماحولیاتی منصوبہ بندی، کلائمیٹ رسک بیسڈ اربن پلاننگ، تاکہ شہر کو آنے والے موسمیاتی واقعات سے محفوظ رکھا جا سکے۔عوامی آگاہی کی مہمات، گلی، محلے، اسکول، کالونی سطح پر کھلے مین ہولز کی فوری رپورٹنگ اور حفاظتی علامات کی تنصیب شامل ہے۔ابراہیم کی موت شہر کے لیے آخری وارننگ ہونی چاہیے۔ یہ سانحہ ایک بچے کی موت نہیں، یہ کراچی کے شہری نظام کے لیے ریڈ الرٹ ہے۔ اگر یہ شہر آج بھی نہیں جاگتا، اگر شہری ادارے اور شہر میں متحرک سیاسی جماعتیں اب بھی اپنی ترجیحات کا تعین اور درست سمت کا اںتخاب نہیں کرتے، اگر ماحولیاتی اور موسمیاتی حقیقتوں کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔
پیر، 8 دسمبر، 2025
پروٹوکول دورغلامی کی یادگار ہے
اتوار، 7 دسمبر، 2025
آ تینوں موج کراواں‘ آ
پنجابی لوک گلوکار عارف لوہار اپنے والد عالم لوہار کی طرح چمٹا لے کر پاکستان کے اسٹیج پر ظاہر ہوئے اور بہت کم وقت میں اپنی خداداد صلاحیت اور اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی فوک گائکی کا لوہا منوا لیا -وہ ٍچمٹے کی دھن پر کئی مشہور گانے گا چکے ہیں۔ پنجاب کی ثقافت کو اپنے گانوں کے ذریعے سامنے لانے والے عارف لوہار نے کچھ مہینوں قبل ایک گانا گایا ’آ تینوں موج کراواں‘ جسے خاصا پسند کیا جا رہا ہے۔اس گانے کو ایسی مقبولیت ملی کہ چاہے انسٹاگرام رِیلز ہوں یا پھر ٹک ٹاک ویڈیوز، ہر جگہ ہی یہ گانا سننے کو ملتا ہے۔اس گانے کی خاص بات اس کے الفاظ اور دو پنجابی گلوکار ہیں۔ روچ کِلا اور دیپ جنڈو کینیڈین پنجابی ریپر ہیں۔ روچ کِلا سبھا لیبیا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدین پاکستانی ہیں جبکہ دیپ جنڈو ایک پنجابی پروڈیوسر اور ریپر ہیں جن کا تعلق بھی کینیڈا سے ہے۔اس اشتراک اور گانے کی دلچسپ کہانی سناتے ہوئے عارف لوہار نے بتایا ’ میں ایک دن لندن میں تھا۔ میری ٹیم اور میں گانے بنا رہے تھے تو میں نے بچوں کو کہا کہ وہ جا کر دکان سے چپس لے آئیں۔ جب وہ لے کر آئے تو میں نے گُنگنا کر اُنھیں کہا کہ ’آ تینوں چیپس کِھلاواں۔‘’اب مجھے نہیں علم تھا کہ یہ دھن بن جائے گی۔
ہفتہ، 6 دسمبر، 2025
تین زبانوں میں گیت گانے والی پاکستانی فوک گلو کارہ نصیبو لال
تین زبانوں میں گیت گانے والی پاکستانی فوک گلو کارہ نصیبو لال ۔ نصیبولال کی والدہ کلورکوٹ کی مشہور "ببلی گڈوی والی" تھیں۔1970 میں اسی ببلی گڈوی والی کی بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام نصیبولال رکھا گیا اور واقعی وہ نصیبولال ثابت ہوئی۔ نصیبولال نے بھی کلورکوٹ میں اپنے خاندان کے ساتھ گانے بجانے کا کام کیا اور کلورکوٹ میں ان کو گڈوی والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ نصیبولال کے خاندان کے لوگ کلورکوٹ سے باہر بھی گانا گانے جاتے تھے اور کچھ ان کے لوگ مستقل طور پر بڑے شہروں میں چلے گئے۔ ایک محفل میں نصیبولال کو گانے کا موقع دیا گیا جس کی آواز کو اتنا پسند کیا گیا کہ ان کو بہت سے شادی کے گانے کے پروگرام میں بلایا گیا۔ اسی طرح نصیبولال ریڈیو پاکستان تک پہنچ گئی جہاں انہوں نے اپنی آواز کے ایسے سُر بکھیرے کہ لوگ نصیبولال کو ڈھونڈنے لگے۔ انھوں نے کوک اسٹوڈیو کے نویں سیزن میں بطور نمایاں فنکار کے طور پر کام کیا، انہوں نے راجپوتانہ ، ہندوستان میں ایک خانہ بدوش گھرانے میں جنم لیا ۔ بچپن کی ابتدائی عمر میں ہی گلوکاری کا آغاز کیا اور مشہور ہوگئیں۔ ان کے کریڈٹ میں ان کے بہت سے گانے ہند و پاک دونوں ملکوں میں یکساں مقبول ہیں ۔آپ کو بین الاقوامی میوزک شوز میں بھی مدعو کیا جاتا ہے-پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نصیبولال کا خاندان 1947 سے پہلے انڈیا علاقہ راجھستان میں رہتے تھے۔
جمعہ، 5 دسمبر، 2025
ٹورانٹو کنیڈا کا اہم ترین شہر ہے
ٹورنٹو کنیڈا کا اہم ترین شہر ہے جس میں آدھے شہری امیگرنٹس ہیں یہاں کے ریسٹورنٹس انہی کے دم قدم سے بھرے رہتے ہیں بس آپ گوگل پر دیسی ریسٹورینٹ لکھئے اور بے شمار نام آ پ کے سامنے آ جائیں گے-بسوں میں سفر کے دیکھئے اسی فیصد ڈرائیورز دیسی ملیں گے -زبان کا کوئ مسئلہ نہیں اردو ہندی پنجابی انگلش جو آپ بولنا پسند کیجئے گا وہی زبان آپ کو بولنے والا مل جائے گا ٍ-اس کا کل رقبہ 630 مربع کلومیٹر ہے۔ شمالاً جنوباً کل 21 کلومیٹر جبکہ شرقاً غرباً 43 کلومیٹر لمبا ہے۔ جھیل اونٹاریو کے کنارے اس کا ساحل کل 26 کلومیٹر طویل ہے اور ٹورنٹو کے کچھ جزائر اس جھیل کے اندر بھی موجود ہیں۔ اس شہر کی جنوبی حد جھیل اونٹاریو، ایٹوبیکو کی کھاڑی اور ہائی وے نمبر 426 شمال میں، سٹیلز ایونیو شمال میں جبکہ روگ دریا مشرق میں حد بندی کا کام دیتا ہے۔شہر کے درمیان سے دو دریا اور ان کی ڈھیر ساری شاخیں گذرتی ہیں۔ ہمبر دریا مغربی حصے سے جبکہ ڈون دریا مشرق سے گذرتا ہے۔ شہر کی بندرگاہ قدرتی طور پر جھیل اونٹاریو کی لہروں کے نتیجے میں ریت وغیرہ کے جمع ہونے سے بنی ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں بندرگاہ کے پاس موجود جزائر بھی بنے تھے۔ جھیل میں گرنے والے بہت سارے دریاؤں نے اپنی گذرگاہوں میں گھنے جنگلات سے بھری ہوئی کھائیاں بنا دی ہیں۔ تاہم یہ کھائیاں شہر کے نقشے میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ تاہم ان کھائیوں کی مدد سے شہر میں بارش وغیرہ کے سیلابی پانی کی نکاسی بہت آسان ہو جاتی ہے۔
پچھلے برفانی دور میں ٹورنٹو کا نشیبی حصہ گلیشئر کی جھیل اروکوئس کے نیچے تھا۔ آج بھی شہری حدود اس جھیل کے کناروں کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اگرچہ ٹورنٹو زیادہ تر پہاڑی نہیں تاہم جھیل سے اس کی بلندی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ جھیل اونٹاریو کا کنارہ سطح سمندر سے 75 میٹر جبکہ یارک یونیورسٹی کے مقام پر یہ بلندی 209 میٹر ہو جاتی ہے۔جھیل کا کنارہ زیادہ تر 19ویں صدی کے اواخر میں کی گئی منصوعی بھرائی سے بنا ہے۔کینیڈا کے جنوبی حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو کا موسم معتدل نوعیت کا ہے۔ ٹورنٹو کی گرمیاں گرم اور نم جبکہ سردیاں سرد تر ہوتی ہیں۔ شہر میں 4 الگ الگ نوعیت کے موسم پائے جاتے ہیں اور روز مرہ کا درجہ حرارت سردیوں میں بالخصوص کافی فرق ہو سکتا ہے۔ شہری آبادی اور آبی زخیرے کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں کافی تغیر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں رات کا درجہ حرارت سردیوں میں بھی نسبتاً کم سرد رہتا ہے۔ تاہم بہار اور اوائل گرما میں سہہ پہر کا وقت کافی خنک بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ جھیل سے آنے والی ہوائیں ہیں۔ تاہم بڑی جھیل کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے برفباری، دھند اور بہار اور خزاں کا موسم تاخیر سے بھی آ سکتا ہے۔ٹورنٹو میں موسم سرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کچھ وقت کے لیے منفی 10 ڈگری سے نیچے رہ سکتا ہے جو ہوا کی رفتار کی وجہ سے زیادہ سرد محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس صورت حال میں برفباری یا بارش بھی شامل ہو جائے تو روز مرہ کی زندگی کے کام کاج رک جاتے ہیں اور ٹرینوں، بسوں اور ہوائی ٹریفک میں خلل واقع ہوتا ہے۔ نومبر سے وسط اپریل تک ہونے والی برفباری زمین پر جمع ہو جاتی ہے۔
تاہم سردیوں میں اکثر درجہ حرارت کچھ وقت کے لیے 5 سے 12 ڈگری تک بھی چلا جاتا ہے جس سے برف پگھل جاتی ہے اور موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ ٹورنٹو میں گرمیوں کا موسم نم رہتا ہے۔ عموماً درجہ حرارت 23 سے 31 ڈگری تک رہتا ہے اور دن کے وقت درجہ حرارت 35 ڈگری تک بھی پہنچ سکتا ہے جو ناخوشگوار بن جاتا ہے۔ بہار اور خزاں موسم کی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔بارش اور برفباری سال بھر ہوتی رہتی ہیں تاہم گرمیوں میں بارش کی مقدار کافی زیادہ رہتی ہے۔ اگرچہ بارشوں میں طویل وقفہ بھی آ جاتا ہے تاہم قحط سالی جیسی صورت حال سے کبھی کبھار ہی واسطہ پڑتا ہے۔ سال بھر میں 32 انچ سے زیادہ بارش جبکہ 52 انچ سے زیادہ برف گرتی ہے۔ ٹورنٹو میں اوسطاً 2038 گھنٹے سورج چمکتا ہے۔وِل السوپ اور ڈینیئل لیبیس کائنڈ جیسے ماہرین کے نزدیک ٹورنٹو میں کوئی ایک طرزِ تعمیر نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کی عمارات کا طرزِ تعمیر بدلتا رہتا ہے۔ٹورنٹو کے افق پر سب سے اہم عمارت سی این ٹاور ہے جو 553 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔ برج خلیفہ کی تعمیر سے قبل یہ دنیا کی سب سے اونچی آزاد کھڑی عمارت تھی۔ٹورنٹو میں فلک بوس عمارات کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے جن کی بلندی 90 میٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ اونچی عمارات کی تعداد کے لحاظ سے شمالی امریکا میں نیو یارک اس سے آگے ہے۔ٹورنٹو کا سب سے اہم سیاحتی مرکز سی این ٹاور ہے۔ اس ٹاور کے خالقین کے لیے یہ بات خوشگوار حیرت کا سبب ہے کہ ان کے اندازوں کے برعکس 30 سال سے زیادہ عرصے تک یہ عمارت دنیا کی بلند ترین عمارت شمار ہوتی رہی ہے
۔ اونٹاریو کا شاہی عجائب گھر بھی سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جہاں دنیا کی ثقافت اور مظاہر قدرت کے متعلق چیزیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 5000 سے زیادہ حیوانی نمونے موجود ہیں جو 260 سے زیادہ انواع کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف نوعیت کے کئی عجائب گھر یہاں موجود ہیں۔یارک ولے نامی مضافاتی علاقہ ٹورنٹو بھر میں اپنے ریستورانوں اور خریداری کے مراکز کی وجہ سے مشہور ہے۔ اکثر اس علاقے میں شمالی امریکا کے فلمی ستارے اور اہم شخصیات خریداری کرتی یا کھانا کھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں سالانہ اوسطاً 5 کروڑ سے زیادہ سیاح آتے ہیںگریک ٹاؤن میں موجود ریستورانوں کی تعداد فی کلومیٹر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ٹورنٹو کاروباری اور معاشی لحاظ سے اہم بین الاقوامی مرکز ہے۔ عموماً اسے کینیڈا کا معاشی مرکز مانا جاتا ہے۔ ٹورنٹو سٹاک ایکسچینج کو کاروباری سرمائے کے اعتبار سے دنیا بھر میں 8ویں بڑی مارکیٹ مانا جاتا ہے۔ کینیڈا کے پانچوں بڑے بینکوں اور دیگر بڑے کاروباری اداروں کے صدر دفاتر ٹورنٹو میں قائم ہیں۔اس شہر کو میڈیا، پبلشنگ، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فلمی صنعت کا اہم مرکز مانا جاتا ہے۔اگرچہ یہاں کی زیادہ تر مینو فیکچرنگ کے مراکز شہر کی حدود سے باہر واقع ہیں تاہم ٹورنٹو ہول سیل اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ کیبویک اور ونڈسر کی راہداری میں اپنے اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور ریل اور سڑکوں کے بہترین نظام کی بدولت آس پاس موجود گاڑیاں بنانے، فولاد، سٹیل، خوراک، مشینری، کیمیکل اور کاغذ کی مصنوعات ٹورنٹو سے ہی آگے بھیجی جاتی ہیں
موسم سرما کے پھلوں کے فوائد
موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں جن کا شمار سردی کےخاص پھلوں میں ہوتا ہے، ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ جسمانی نظام کے لیے منرلز اور وٹامنز بہت ضروری ہیں جن کو قدرتی طور پر حاصل کرنے کے لیے پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بنانا لازمی ہے۔کینو، ما لٹا، فروٹرمالٹے کی کئی اقسام موجود ہیں جیسے کہ نارنجی، کینو، فروٹر اور مالٹا، ان پھلوں کے جوس کے استعمال سے دنوں میں وزن کم کرنے سمیت متحرک رہنے میں مدد ملتی ہے اور قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔ہمارے ہاں عام طور سے یہ پھل ’کینو ‘ کہلاتاہے، جو صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کا شمار مالٹےاور کینو پیدا کرنے والے چھٹے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔موسمی پھلوں کے استعمال سے ناصرف صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ اس کے براہِ راست مثبت اثرات خوبصورتی پر بھی آتے ہیں جس کے نتیجے میں جِلد، ناخن اور بالوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور خوبصورت میں اضافہ ہوتاانار دل، دماغ، گردوں اور نظام ہاضمہ کے لیے ایک قدرتی ٹانک ہے اور یہ خون کی کمی دور کرنے، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے دیگر فوائد میں نظامِ ہاضمہ کو مضبوط کرنا، قوتِ مدافعت میں اضافہ، جلد اور بالوں کی صحت میں بہتری، اور وزن کم کرنے میں مدد شامل ہیں۔ یہ پھل وٹامن سی اور کے، فلیوونائڈز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا ہے۔
مالٹے اور کینو نظام ہضم کو بہتر بناتے، وزن میں کمی کرتے، وٹامن سی کی زائد مقدار کے باعث جینیاتی بوسیدگی اور عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاتے اور آیورویدک علاج میں بلغم و کھانسی کو کم کرتے ہیں۔انار، موسم سرما کا خاص پھل ہے جو تقریباً ہر ایک کا ہی پسندیدہ ہوتا ہے۔ یہ فائبر ، پوٹاشیم ، وٹامن سی اورB6سے بھرپور ہے۔اس کے استعمال سے دل اور جگر کو طاقت ملتی ہے، متعدد بیماریوں جیسے کہ پھیپھڑوں، چھاتی کے سرطان، امراضِ قلب، الزائمر، ذیابیطس، موٹاپے اور جوڑوں کی سوزش میں انار مفید ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ انار کا روزانہ استعمال رنگت بھی نکھارتا ہے۔انگورپاکستان میں مختلف رنگوں کے انگور پائے جاتے ہیں جن میں سرخ، جامنی، ہرے اور پیلے انگور شامل ہیں، انگور میں وٹامن اے کا خزانہ پایا جاتا ہے جبکہ انگوروں میں دیگر وٹامنز یعنی، ڈی 3، ای، سی، ڈی، بی12، بی 6 اور کے بھی پایا جاتا ہےماہرینِ غذائیت کے مطابق انگور کا استعمال دل کے امراض دور کرتا ہے اور کارکردگی بہتر بناتا ہے، اس کے علاوہ ذیابیطس، کینسر، جوڑوں کے درد، وائرل، انفیکشن اور الرجی سے بچاتا ہے۔کیلے سے بلڈپریشر کا علاج ممکن ہے؟
سیب-سیب میں موجود کاپر، پوٹاشیم اور وٹامن سی کی زائد مقدار جِلد کو قدرتی چمک، نکھار اور جسم پر نکلنے والے دھبوں کے نشان ختم کرنے میں جادوئی تاثیر رکھتی ہے۔سرخ سیب کے علاوہ سبز سیب میں فائبر، منرلز اور وٹامنز کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ جِلد کے کینسر سے بچائو کے لیے ہرے سیب کا استعمال کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے جِلد صحت مند رہتی ہے۔ ناشپاتی کا شمار سیب کے خاندان سے ہے۔ سیب کے بعد یہ سب سے بہترین پھل ہے، جسے سیب کی طرحہی کھایا جاتا ہے۔ یہ امریکا و پاکستان کا اہم پھل ہے جو سبز، زرد اور سرخ رنگوں میں پایا جاتا ہے۔اس کے غذائی اجزا اور نشاستوں میں پروٹین 0.38گرام اور کولیسٹرول کی صفر مقدار ہے جبکہ یہ وٹامن اے، سی، ای اور کے سے بھرپور ہے۔ معدنیا ت میں کیلشیم، کاپر، آئرن، میگنیشیم، میگنیز، فاسفورس اور زنک شامل ہیں۔ناشپاتی جلد کے لیے ہمیشہ سودمند اور نشاستوں سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن کے کی کثیر مقدار خون کو جمنے سے روکتی ہے ، ساتھ ہی بلند اور کم فشار خون کی شکایت کو دور رکھتی ہے۔موسم سرما میں بچوں کی صحت کی حفاظت کیسے کریں؟
امرود-فائبر اور وٹامن اے، بی6 اور سی سے بھر پور امرود کو بھی سپر فوڈز میں شمار کیا جاتا ہے، اس پھل کا سلاد اور چاٹ بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق امرود کو غذا میں شامل کر لینے سے قبض سے نجات ملتی ہے، ٹھنڈ اور کھانسی میں افاقہ ہوتا ہے، وزن میں کمی، کینسر کے خدشات کم کرتا ہے اور ہارمونز کی افزائش میں کردار ادا کرتا ہے۔امرود ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک ذہین انتخاب ہے۔ اس میں فائبر کا اعلیٰ مواد شوگر کے جذب کو کم کرکے خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ مزید برآں، امرود کے پتوں کے فوائد میں خون کی شکر کو کم کرنے کی صلاحیت شامل ہے جب اسے چائے یا عرق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ادویات میں اس کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔کیلے میں فائبر اور تین اقسام کی شکر (سکروز، فرکٹوز اور گلوکوز) پائی جاتی ہے، کیلا فوراً انرجی بحال کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک وقت میں 2 کیلے کھانے سے 90 منٹ تک انسان خود کو تر و تازہ اور توانا محسوس کرتا ہے اسی لیے یہ دنیا بھر کے ایتھلیٹس کی خوراک کا اہم حصہ ہوتا ہے۔کیلے میں ایک مخصوص پروٹین پایا جاتا ہے جو انسان کو تھکاوٹ میں سکون پہنچاتا اور موڈ کو بہتر بناتا ہے، اسے کھانے سے نیند کی کمی کی شکایت دور ہوتی ہے۔وٹامنز اور منرلز کے لحاظ سے کیلے میں آئرن اور پوٹاشیئم بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔
بدھ، 3 دسمبر، 2025
قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے
قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے نوجوان نسل کو بے راہ روی اور منشیات جیسی لعنتوں سے بچانے کے لیے فٹ بال اسٹیڈیم اور ریلوے اسٹیشن کر کٹ گراونڈ بنائے ہیں ۔ تعلیم کی اگر بات کی جائے تو گذشتہ دو دہائیوں سے قلعہ سیف اللہ کے طالب علموں نے یہاں تعلیمی میدان میں ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ نے بھی اپنے طالب علموں کے لئے بے مثال کام کئے ہیں اور یہاں نسائی کے مقام پر کیڈٹ کالج کے ساتھ ساتھ ڈگری کالج، ایلیمنٹری کالج،بلوچستان یونیورسٹی کیمپس کئی ہائی ،مڈل اور پرائمری اسکول قائم کئے ہیں جن کے علاوہ لاتعداد نجی اسکول اور کالج بھی تعلیمی خدمات میں پیش پیش ہیں۔اللہ پاک میرے وطن کے لوگوں کو تمام دنیا میں سر بلند کرے آمین - یہاں بہت سے ترقیاتی کام اپنی مدت میں مکمل ہو چکے ہیں جن میں ژوب تا کو ئٹہ براستہ قلعہ سیف اللہ قومی شاہراہ سر فہرست ہیں جن سے نہ صرف قلعہ سیف اللہ کے لوگوں کے آمدورفت کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوا ہے بلکہ اقتصادی راہداری کے مختصرترین لنک کا اعزاز بھی اس شاہراہ کوحاصل ہے۔قلعہ سیف اللہ مین بازار شاہین چوک تا ریلوے اسٹیشن دو رویہ سڑک کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور سڑک کے دونوں اطراف میں نکاسی آب کے نالے بھی بن چکے ہیں۔سڑک کے کنارے شمسی توانائی سے روشن ہونے والی اسٹرٹ لائیٹس انتہائی نفاست سے نصب کر دی گئی ہیں۔
رات کے وقت ان کے روشن ہونے سے قلعہ سیف اللہ کا بازارجدیدشہر کا منظر پیش کرتا ہے جو ڈیشل کمپلیکس،زرعی دفاتر،ایجوکیشن آفس ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس اور جدید سہولیات سے آراستہ ڈسٹر کٹ ہسپتال اور تھانہ بھی تعمیر ہو چکا ہے۔ ضلع کا رقبہ 11600مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس کی دو تحصیل ہیں جو قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ کہلاتے ہیں۔ قلعہ سیف اللہ 14دسمبر 1988کو ضلع بنا۔ اس سے پہلے یہ ضلع ژوب کا حصہ ہوتا تھا۔ ضلع کی آبادی لگ بھگ دو لاکھ تیس ہزار ہے-قلعہ سیف اللہ سطح سمندر سے 1500تا 2200میٹرز کی بلندی پر ہے، قلعہ سیف اللہ میں گرمیوں میں زیادہ گرمی اور سردیوں میں بہت سردی پڑ تی ہے، یونین کونسل کان مہترزئی جو سطح سمندر سے 2170کی بلندی پر ہے وہاں جنوری اور فروری کے مہینوں میں پہاڑ وں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی رہتی ہیں اور غضب کی سردی پورے علاقہ کو اپنی لپیٹ میں رکھتی ہے ۔ ضلع قلع سیف اللہ بنیادی طو ر پر ایک زرعی علاقہ ہے، جہاں 22سو کے لگ بھگ ٹیوب ویل اور لاکھوں ایکڑ پر زراعت پھیلی ہوئی ہے، عوام کا زیادہ تر حصہ زراعت پر ہی گزر بسر کرتا ہے، زرعی فعالیت کی وجہ سے ملک بھر کی منڈیوں میں قلعہ سیف اللہ کی سبزی اور پھل مہنگے داموں بکتے ہیں۔ ضلع میں سب کی مختلف قسمیں پیدا ہوتی ہیں سائبریا سے آنے والے موسمی پرندے دریاژوب کے کناروں کو اپنی محفوظ آما جگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں
یہاں کی سرزمین انتہائی زرخیز ہے اسی وجہ سے قلعہ سیف اللہ کو بلوچستان کے اہم زرعی شہروں میں شمار کیا جاتاہے۔یہاں پر گندم،تمباکو اورمکئی کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جو علاقائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہےں۔سبزیاں خصوصاًبھنڈی ،توری ،کریلا، کدواور ٹماٹر وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔جن سے علاقے کے ساتھ ساتھ ملکی ضروریات کو بھی کافی حد تک پورا کر رہے ہیں۔یہاں تقریباً60% حصہ باغات پر مشتمل ہے سیب (چاروں قسم کندھاری،تور کلواور شین کلو)انار ،آڑو،آلوچہ،بادام اور آخروٹ وغیرہ سر فہرست ہیں۔ کے علاوہ خوبانی، انگور، انار اور سبزیوں میں گاجر، سبز مرچ اور سرخ مرچ اور کئی اقسام کی دالیں بھی پیدا ہوتی ہیں، یہاں کا ٹماٹر اپنے ذائقہ کے لیے بہت مشہور ہے- یہاں کی فصلیں،سبزیاں اور پھل نا صرف صوبہ کی سطح بلکہ قومی سطح پر بھی انتہائی پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔
منگل، 2 دسمبر، 2025
سرمائ پرندوں کی ہجرت
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا
اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب میں خود ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...