منگل، 25 اگست، 2026

نا ظم آباد کا وہ تاریخی پارک اور ایک یادگار عقدِ ثریا

 

جب علم کی بساط پر شاہی شملہ جھک گیا -
 ناظم آباد کا وہ تاریخی پارک اور ایک یادگار عقدِ ثریا 
تاریخ کے اوراق میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف دو افراد کے ملاپ کا نام نہیں ہوتے، بلکہ دو مختلف تہذیبوں، طبقوں اور تاریخ کے دھاروں کے سنگم کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ناقابلِ فراموش اور سچا تاریخی واقعہ پچھلی صدی کے وسط میں روشنیوں کے شہر کراچی کے ایک عوامی مرکز میں رونما ہوا، جس نے اِکژ و ناکژ امیر و غریب کو ششدر کر دیا۔ یہ واقعہ تھا خطیبِ آلِ محمد، مفکرِ اسلام علامہ رشید ترابی کی صاحبزادی کا عقد، جو کہ ریاستِ خیرپور کے آخری باقاعدہ تاجدار کے ساتھ انجام پایا۔اس رشتہِ ازدواج کی سب سے خوبصورت اور دلفریب حقیقت یہ تھی کہ جہاں ایک طرف دولہا وقت کا حکمران اور نواب تھا، وہیں دلہن ایک ایسے عظیم علمی خانوادے کی چشم و چراغ تھیں جن کا خطابت اور فلسفے میں کوئی ثانی نہ تھا۔ اس سچی داستان کے دامن میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں، بلکہ یہ علم اور اقتدار کے ایک انوکھے امتزاج کی حقیقی دستاویزی تاریخ ہے اس تاریخی عقدِ مسعود کے دونوں مرکزی کردار اپنے اپنے دائرے میں نہایت معتبر نام رکھتے تھے:  


دلہن کا مکمل نام: محترمہ ایلیا ترابی ( صاحبزادی علامہ رشید ترابی )۔ دولہا کا مکمل نام: ہز ہائینس میر علی مراد خان تالپور ثانی (نواب و آخری خودمختار حکمران، ریاستِ خیرپور)شادی کا اصل مقام اور منفرد سادگی:   عام طور پر شاہی خاندانوں کی شادیاں بڑے بڑے محلات جیسے کہ خیرپور کے "فیض محل" یا کسی شاندار شاہی قلعے میں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ لیکن علم کے اس عظیم مرکز یعنی علامہ رشید ترابی کے گھرانے کا مزاج شاہی طمطراق کے بجائے عوامی اور علمی تھا۔چنانچہ نوابِ خیرپور کی اس بارات کا استقبال کسی عالی شان محل کے بجائے کراچی کے ایک عوامی مقام پر کیا گیا:اصل مقام: ناظم آباد نمبر 4، کراچی کا ایک چیدہ عوامی پارک ۔  اس پارک کو شامیانوں اور روایتی روشنیوں سے سجایا گیا تھا، جہاں ناظم آباد کے متوسط اور عام شہریوں کے درمیان وقت کا نواب اپنی بارات لے کر پہنچا۔ علم کی برتری کا یہ ایک ایسا عملی مظاہرہ تھا کہ شاہی دبدبہ فقرِ غیور کے سامنے سرنگوں نظر آیا۔



معزز مہمانانِ گرامی کی کہکشاں:  اس تقریب کی خاص بات وہ نامور سیاسی، سماجی، اور ادبی شخصیات تھیں جنہوں نے اس میں شرکت کر کے اس محفل کو چار چاند لگا دیے۔ مہمانوں کی فہرست میں برصغیر کے نامور عمائدین شامل تھے جن میں سرِفہرست یہ نام ہیں: راجہ صاحب محمود آباد (امیر احمد خان): تحریکِ پاکستان کے سرگرم رہنما، قائدِ اعظم کے قریبی رفیق اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی، جنہوں نے اس محفل میں اپنی مخصوص علمی و وجاہتی شخصیت کے ساتھ شرکت کی۔سید ہاشم رضا: نامور بیوروکریٹ، ادیب اور کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر۔ فیض احمد فیض: اردو ادب کے بے تاج بادشاہ اور انقلابی شاعر۔شمالی و جنوبی سندھ کے مقتدر خوانین: تالپور اور عباسی خاندان (بہاولپور) کے قریبی خونی رشتہ دار اور نوابین ۔ کراچی کے چیدہ اہل علم اور شعرا: علامہ رشید ترابی کے قریبی ادبی اور مذہبی حلقے کے احباب، جن میں پروفیسر سحر انصاری اور دیگر معاصرین شامل تھے۔فکری پس منظر:  یہ نکاح نامور مجتہدین کی موجودگی میں پڑھا گیا اور اس نے یہ ثابت کیا کہ فکر و فلسفہ کی امارت، مادی ریاستوں کی نوابی پر ہمیشہ بھاری رہتی ہے۔


 میر علی مراد خان تالپور (جو کیمبرج کے تعلیم یافتہ تھے) نے علامہ ترابی کی فکری بلندی کے احترام میں اس سادگی کو بخوشی قبول کیا۔_  محترمہ ایلیا ترابی کے بطن سے بعد ازاں صاحبزادہ میر عباس رضا خان تالپور (ولی عہد) اور صاحبزادہ میر مہدی رضا خان تالپور پیدا ہوئے، جنہوں نے اس شاہی اور علمی نسل کو آگے بڑھایا۔  ناظم آباد کا وہ پارک آج بھی اس بات کا گواہ ہے کہ جب وقت کا نواب، ایک خطیبِ بے بدل کے در پر آیا، تو تاریخ نے علم کو تاج و تخت پر حکمرانی کرتے دیکھا۔ ( یاد رہے کہ یہ شادی  11 ذیقعدہ , 6 اپریل 1963 بروز ہفتہ ہوئی تھی )اہم نقطہ_علامہ رشید ترابی ضحیح معنوں میں عالم دین تھے اور دیگر مسالک کے علما کا بھی احترام کرتے تھے ذرا تصور کریں ان کے بیٹے.نصیر ترابی کے۔ نکاح کا خطبہ مولانا احتشام الحق تھانوی نے پڑھا تھا _
تحریر تحقیق اور ترتیب _
 ندیم انصاری ٹورنٹو
مورخہ 22 اگست 2026 
'''
یہ  خوبصورت  آرٹیکل  بغیر ایک لفظ کے ردو بدل کے میں نے  محترم ندیم انصاری  کی وال سے لیا ہے 

پیر، 24 اگست، 2026

مرادیں ایسے بھی بر آتی ہیں

 

ایک  سچی کہانی    :--       ایک مرتبہ کا زکر ہے  ایک شخص فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا۔ اس نے اپنے پڑوسی کو سلام کیا، مگر پڑوسی نے جواب نہ دیا۔ اسے تعجب ہوا، کیونکہ دونوں کے درمیان بہت اچھے تعلقات تھے۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ شاید پڑوسی کسی شدید پریشانی میں مبتلا ہے؛ وہ گم سم، فکرمند اور لوگوں سے بے نیاز سا چلا جا رہا تھا۔وہ اس کے قریب گیا اور پوچھا:’’کیا بات ہے؟‘‘پڑوسی نے کہا:’’عمارت کے مالک نے مجھے کرایہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے مکان خالی کرنے کو کہا ہے، اور اللہ کی قسم! میرے پاس کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔‘‘اس نے کہا ’’انشاء اللہ، میں کوئی انتظام کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔‘‘وہ شخص بیان کرتا ہے:’’عصر کی نماز سے تقریباً پانچ منٹ پہلے اچانک میرے دل میں خیال آیا کہ میں مسجدِ عکاشہ بن محصن میں نماز پڑھوں۔


یہ مسجد ہمارے علاقے سے زیادہ دور نہیں تھی، لیکن مجھے خود بھی معلوم نہیں کہ یہ خیال اچانک کیوں آیا۔نماز ختم ہوئی ااور ہم باہر نکلنے لگے تو میری ملاقات ایک ایسے دوست سے ہوگئی جسے میں نے بہت عرصے سے نہیں دیکھا تھا۔اس نے بتایا کہ وہ بہت دور رہتا ہے، لیکن آج اس علاقے میں رہنے والے ایک رشتہ دار کے ہاں دوپہر کے کھانے پر آیا تھا، اس لیے اس نے اسی مسجد میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کیا۔گفتگو کے دوران اس دوست نے اچانک، بغیر کسی خاص مناسبت کے، مجھ سے پوچھا:’کیا تم کسی ایسے غریب خاندان کو جانتے ہو جس کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہ ہو؟‘میں نے پوچھا:’کیوں؟‘اس نے کہا:’میں ایک چھوٹے سے وقف کا نگران ہوں جسے اس کے مالک نے اللہ تعالیٰ کے لیے وقف کیا تھا


اس   بلڈنگ میں بیس فلیٹ ہیں۔ کل ان میں سے ایک خاندان اپنے مالی حالات بہتر ہوجانے کی وجہ سے وہاں سے منتقل ہوگیا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب یہ جگہ کسی زیادہ ضرورت مند خاندان کو دے دی جائے۔‘میں بے اختیار پکار اٹھا:’میرے پاس ایسا خاندان ہے! اپنا فون نمبر دو اور خدا کے لیے یہ فلیٹ کسی اور کو مت دینا۔‘اس نے کہا:’فکر نہ کرو، اسے اپنی طرف سے  ا لاٹ سمجھو۔ اور جس خاندان کو تم لاؤ گے، اسے ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرنا ہوگا، کیونکہ یہ اللہ کے لیے وقف ہےہمیشہ کے لیے۔‘وہ شخص کہتا ہے’’واپسی پر اپنے محلے کی طرف جاتے ہوئے میں ان حیرت انگیز واقعات کے بارے میں سوچتا رہا۔ فجر کے وقت اچانک اپنے پڑوسی کی پریشانی معلوم ہونا، پھر عصر کی نماز کے لیے ایک ایسی مسجد میں چلے جانا جہاں میں نے زندگی میں کبھی نماز نہیں پڑھی تھی،


 ایسے علاقے میں جانا جہاں برسوں سے نہیں گیا تھا، اور وہاں اتفاقاً ایک ایسے دوست سے ملاقات ہوجانا جسے دس سال سے نہیں دیکھا تھا، حتیٰ کہ میرے پاس اس کا فون نمبر بھی نہیں تھا—اور پھر اسی شخص کے پاس ایک ضرورت مند خاندان کے لیے مفت رہائش موجود ہونا میں سوچنے لگا کہ شاید میرے پڑوسی کا اپنے رب کے ہاں کوئی خاص مقام ہے، کوئی پوشیدہ نیکی ہے، یا اس نے کوئی ایسا عظیم عمل کیا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی پریشانی دور کردی۔‘‘جب وہ اپنے محلے میں پہنچا تو فوراً اپنے غریب پڑوسی کے گھر گیا اور اسے خوش خبری سنائی۔خبر سنتے ہی وہ شدتِ خوشی سے رونے لگا۔ یہاں تک کہ زمین پر بیٹھ گیا اور کھڑا نہ رہ سکا۔اس شخص نے اس سے پوچھا ’’فجر کی نماز کے بعد سے اب تک تم نے ایسا کیا عمل کیا ہے؟‘‘غریب پڑوسی نے جواب دیا:’’اللہ کی قسم! میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔البتہ فجر کی نماز سے واپس آیا تو میری بیوی نے مجھے بہت پریشان دیکھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ ہم دونوں مل کر غروبِ آفتاب تک مسلسل نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہیں۔ ہم نے یہی کیا، اور اب تم یہ خوش خبری لے کر میرے پاس آگئے ہو۔ یقین کرو، ہم نے اس دوران درود شریف پڑھنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔‘‘

اللّٰهم صلِّ وسلم وبارك على نبينا محمد ﷺ۔

نبی کریم ﷺ پر کثرت سے درود و سلام بھیجیے  ۔

جمعہ، 21 اگست، 2026

فائر بریگیڈ کراچی 'تباہی سے دوچار محکمہ

 

   کراچی جیسے میگا شہر میں  ریسکیو 1122 کے پاس کوئی فائر اسٹیشن نہیں بلکہ عملہ گاڑیوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر ڈیوٹیاں کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 نے 4 عارضی فائر اسٹیشن قائم کیے ہیں جن میں ایک گلشن اقبال میں ہیڈ کوارٹر، دوسرا راشد منہاس روڈ پر لکی ون مال کے قریب اسپتال، تیسرا فائر ڈیفنس اور چوتھا گلشن معمار میں ہے۔ تاہم ریسکیو 1122 کے پاس اسنار کل دستیاب نہیں۔دلچسپ امر یہ کہ آتشزدگی اور ایمبولنس کے لیے بھی کالز اسی کنٹرول روم میں وصول کی جاتی ہیں مگر ایمبولنس کسی اور ادارے سے روانہ کی جاتی ہے۔کراچی میں فائر اسٹیشن کی بہت کمی ہے، ہم چندگاڑیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں: چیف فائر آفیسر-بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیش گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔اس حساب سے 2 کروڑ کی آبادی کے شہر کو   200 فائر اسٹیشن، 800 گاڑیاں اور 28 ہزار 800 کا عملہ درکار ہے۔جب اتنے بڑے شہر میں کُل 28 فائر اسٹیشن ہوں تو قدرتی طور پر آگ لگنے کے مقام سے ان کا فاصلہ اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہےکہ کوشش کے باوجود متعلقہ عملہ بروقت نہیں پہنچ پاتا جس کے باعث آگ بے قابو ہونے اور جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دوسری جانب کراچی فائر بریگیڈ کی 30 سے زائد گاڑیاں سالوں سے خراب ہیں اوران کی مرمت اب تک نہیں ہوپائی ہے۔-


اس وقت بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440 اسامیاں خالی   -وفاقی حکومت نے 2021 میں 50 فائر ٹینڈرز اور دو باؤزرز کے ایم سی کو فراہم کیے تھے جو شہر کے فائر اسٹیشنز کے علاوہ صنعتی ایریاز کو بھی دو دو کے حساب سے فراہم کیے گئے۔ تاہم عملے کی کمی یہاں بھی آڑے آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ آج بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440  اسامیاں خالی ہیں۔میئرکراچی مرتضیٰ وہاب نے فائر فائٹرز کی نئی بھرتیوں کے لیے سندھ حکومت سے اجازت طلب تو کرلی ہے لیکن شہر کی بہتری کے لیے اُن سے جن انقلابی فیصلوں اور ٹھوس اقدامات کی توقع کی جارہی تھی وہ تاحال پوری نہیں ہوئی۔سب سے زیادہ ریونیو وصول کرنے والی وفاقی حکومت بھی کراچی کی بہتری کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی۔  بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائر بریگیڈ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا، فائر بریگیڈ کی 10 سال سے 250 اسامیاں خالی ہیں، نئے فائرٹینڈرز آخری بار25 سال پہلے خریدے گئے تھے، ڈیزل کی عدم دستیابی اور فائر ٹینڈرز کی مرمت نہ ہونے کے باعث شہر قائد کے 16 فائر اسٹیشن غیر فعال ہوگئے ہیں،


سردی کے خشک موسم میں تیز ہواؤں سے آتشزدگی کے بڑھتے واقعات پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق فائر ٹینڈرز نہ ملنے اور وسائل کی شدید کمی سے بلدیہ عظمی کراچی کا محکمہ فائربریگیڈ تباہی سے دوچار ہے، محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیوروں کی 242 اسامیاں خالی ہیں محکمے میں آخری بار سال2009 میں بھرتیاں ہوئی تھیں جس کے بعد سے اب تک 10سال گزرگئے کوئی اپائٹمنٹ نہیں ہوا ہے، ہر سال 20 سے 25 ملازمین رٹائرڈ ہوجاتے ہیں-(پی پی آئی) کراچی               میں محکمہ فائر بریگیڈ کے پاس عالمی معیار کا عملہ ہے نہ آلات ،یہی سبب ہے کہ سانحہ بلدیہ ہو یا  مہران ٹائون کا واقعہ، محکمہ فائر بریگیڈ کی کارکردگی پر ہمیشہ سوالیہ نشان اٹھتے رہتے ہیں،بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیشن میں چار گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔اس حساب سے ڈھائی کروڑ کی آبادی کے شہر کو 250 فائر اسٹیشن، 1000 گاڑیاں اور ۶۳ ہزار کا عملہ درکار ہے۔لیکن یہاں 20 فائر اسٹیشن، 36 گاڑیاں اور 687 افراد کا عملہ میسرہے جو نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ایمر جنسی کی صورت میںہولناک تباہی کے خدشات بھی  حقیقت بن سکتے ہیں ۔


پاکستان کا سب سے بڑا شہر ،کراچی  فائر بریگیڈ کے محکمہ کی حالت زار سے پریشان ہے۔ شہر بھر میں 24 فائرٹینڈر میں سے 18 فائر ٹینڈر کی گاڑیاں خراب  ہیں۔22فائر اسٹیشن میں سے صرف 6 فائر اسٹیشن فعال اور چار اسنار کل میں سے صرف ایک کام کر رہی ہے-گر شہر میں کوئی بڑی آگ لگ جائے تو اس محکمے کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ فوری آگ پر قابو پایا جا سکے ۔جبکہ حکمران  محکمہ فائربریگیڈ کی زبوں حالی پر خاموش  ہیں

جمعرات، 20 اگست، 2026

دنیا کا تعمیراتی عجوبہ "دیوار چین"

   


 دنیا کا تعمیراتی عجوبہ "دیوار چین"دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقیقات ہوئی ہیں اور سب میں متعدد باتیں مشترک بھی پائی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ دیوار دفاعی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار چین کی تعمیر یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریبا دوسو سال پہلے شروع ہوئی تھی، (اس بارے میں تاریخ میں مختلف ادوار کا ذکر ملتا ہے)۔ ان دنوں چین کے بڑے دشمنوں میں منگول تاتار تھے  یہ چور ڈاکو اور جنگجو قسم کے لوگ تھے اور آئے دن چین پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ انہی حملوں سے بچاؤ کے لئے ایک حفاظتی اور دفاعی دیوار پندرہ سو کلومیٹر  تعمیر کی گئی -یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریباً دو سو سال پہلے چین کے بادشاہ چن شی ہوانگ نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے شمالی سرحد پر ایک دیوار بنانے کی خواہش کی۔ اس دیوار کی ابتدا چین اور منچوکو کی سرحد کے پاس سے کی گئی۔ اس زمانے میں ہن اور تاتار چین کے بڑے دشمن تھے، جو وسط ایشیاء میں کافی طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ یہ دیوار خلیج لیاؤتنگ سے منگولیا اور تبت کے سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً تیرہ ہزار ایک سو ستر میل ہے اور یہ مختلف علاقوں میں بیس سے لے کر تیس فٹ تک اونچی ہے۔ بنیاد کے قریب اس کی چوڑائی پچیس فٹ اور اوپر سے بارہ فٹ کے قریب ہے۔ ہر دو سو گز کے فاصلے پر حفاظتی پہریداروں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔


 مہینوں کا سفر اب محض گھنٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، دنیا کے کونے میں کہیں بھی ایک معمولی واقعہ ہو جائے تو اس کی خبر دنیا کے ان کناروں تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک انسان رہتا ہے۔ اور تو اور اب دنیا کے کسی بھی چھوٹے سے کمرہ میں مقید ہوں تو ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے عزیزو اقارب کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے براہ راست گفتگو کرسکتے ہیں، کوسوں دور ہونے کے باوجود غمی، خوشی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ سائنس ہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جو انسان ہی کا کارنامہ ہے لیکن آج کا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جب سائنس نہیں تھی، بجلی نہیں تھی، مشینیں نہیں تھیں اور آمدو رفعت کے ذرائع نہیں تھے بلکہ جانوروں کے ساتھ سفر کیا جاتا تھا، اس زمانے میں انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے ایسی ایسی عمارتیں، بت، دیواریں اور نہ جانے کیاکچھ تعمیر کر چھوڑا جس کی نقل آج کے سائنسی دور میں بھی ممکن نہیں ہے اور وہ سب دنیا کی عظیم تعمیراتی عجائبات میں شامل ہوئیں، ایسے انسانوں کےبارے میں کیا سوچا جا سکتا ہے؟۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عظیم انسان کون ہے ؟ اگر آج کا انسان عظیم ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ زمانہ قدیم کا انسان عظیم تر تھا اور ہے۔ انسانی ہاتھوں کی یہ تعمیرات اور تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ زمانہ قدیم کے انسانوں نے ناممکن کو ممکن میں بدل ڈالا تھا۔ آج کی جس سائنس پر فخر کیا جاتا ہے


کیا وہ سائنس آج تاج محل، اہرام مصر، زیوس کا مجسمہ، اسکندریہ کا روشن مینار وغیرہ تعمیر کرسکتی ہے؟ تعمیر تو دور کی بات رہی، آج کی سائنس ان کی نقل کرنے میں بھی ناکام رہے گی۔   لیکن حقیقی عجائبات وہی ہیں جو ہزاروں سال قبل انسانی ہاتھوں سےتعمیر ہوئی تھیں۔ زمانہ قدیم کے انسانوں کے ہاتھوں تعمیراتی عجوبوں میں عظیم ایک دیوار چین The greatwall of China بھی ہے۔ اس کے متعلق ہو شربا قسم کے قصے، افسانے اور کہانیاں اقوام عالم کی زبانوں میں لکھے موجود ہیں، دیوار چین کی عظمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس بارے میں عالمی سطح پر یہ یقین کر لیا گیا تھاکہ اس کو چاند کی سطح سے بھی ایک لکیر کی مانند دیکھا گیا ہے،حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جو لوگ چین جا کر دیوار چین دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے وہ گوگل کے ذریعے دیوارچین کو دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوبکی لگا سکتے ہیں ،سانپ کی مانند بل کھاتی   چین کی یہ قدیم اور عظیم دیوار چین آج دنیا کے لئے سب سے بڑا نظارے کی حیثیت رکھتی ہے۔


یہ عظیم دیوار چین کے شمال میں واقع ہے جو حقیقت میں ایک قلعہ نما دیوار ہے جو پہاڑوں ، میدانوں ، سبزہ زاروں اور صحرائے گوپی سے بل کھاتی ہوئی گزرتی ہے۔ یہ صدیوں میں بننے والی مختلف دفاعی دیواروں کا مجموعہ ہے جس کی تعمیر کی ابتداء کئی سو سال پہلی قبل از مسیح (ق م) ہوئی تھی اور تکمیل 1644عیسوی میں ہوئی تھی ۔ تاریخ کے مطابق چین کے پندرہ سے زائد شاہی خاندانوں کے سینکڑوں برس کے ادوار میں بھی عظیم دیوار چین کی تعمیر ہوتی رہی تھی ۔ تاریخ دانوں نے اس کی تعمیر کی مدت1700 سے2000 سال بتائی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے 15 صوبوں میں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ یونیسکو نے 1987 میں اس کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا ۔////// تماشائی بن ہوئی ہے

بدھ، 19 اگست، 2026

کراچی کا فائر بریگیڈ کا خستہ حال محکمہ 'پارٹ 1


کراچی کے  دارالخلافہ  کی حیثیت ختم کر  کے جب اسے اسلام آباد شفٹ کیا گیا اسی وقت سے کرچی کا زوال ہو گیا  اور ہر محکمہ بد حال ہو گیا  'اب کراچی صرف سونے کے انڈے دینے والی مرغی ہے جس کے کھانے پینے کی حکومت کو کوئ پرواہ نہیں  ہے 'گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے دوران 29 سالہ فائر فائٹر فرقان شوکت کو جلتی ہوئی عمارت کے اندر سے کسی شخص کی مدد کے لیے پکار سنائی دی۔ پلازے کا ڈھانچہ کمزور ہو چکا تھا اور کسی بھی لمحے گرنے کا خطرہ تھا، لیکن فرقان نے باہر کھڑے رہنے کے بجائے یہ کہتے ہوئے دوبارہ اندر جانے کا فیصلہ کیا کہ اسے پھنسے ہوئے شخص کو بچانا ہے۔تیسرے درجے کی اس شدید آگ نے گل پلازا کی تقریباً 1200 دکانوں کو تباہ کر دیا، متعدد افراد جان سے گئے جبکہ کئی لوگ لاپتا ہوئے۔ بند اور گنجان کمرشل عمارت میں دھواں، شدید گرمی، ناقص راستے، آگ بجھانے کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی اور غیر محفوظ تعمیرات ریسکیو آپریشن کو انتہائی خطرناک بنا رہی تھیں۔ انہی حالات میں فرقان اپنے ساتھیوں کے ساتھ لوگوں کی جان بچانے کے لیے عمارت کے اندر موجود تھا۔فرقـان کے ساتھ کام کرنے والے سینئر فائر افسر واجد علی کے مطابق عمارت گرنے سے کچھ دیر پہلے دونوں کی بات ہوئی تھی۔ فرقان نے انہیں محتاط رہنے کا کہا تو واجد علی نے جواب دیا کہ تم خود بھی احتیاط کرو کیونکہ تم ابھی نوجوان اور نئے ہو۔ آگ شدت اختیار کرنے اور عمارت کا ڈھانچہ گرنے کے قریب پہنچنے پر ٹیم نے باہر نکلنے کی کوشش کی۔


 فرقان بھی دوڑا، لیکن راستے میں ٹھوکر کھا کر گر گیا اور اسی لمحے عمارت کا ملبہ اس پر آ گرا۔اس حادثے میں فرقان کی کمر، چہرہ، ہاتھ اور جسم کا بڑا حصہ بری طرح جھلس گیا۔ اس کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جدید حفاظتی لباس، سانس لینے کے آلات اور دیگر ضروری سامان کے بغیر صرف عام یونیفارم میں اتنی خطرناک آگ کا مقابلہ کر رہا تھا۔ ان کے بھائی محمد نعمان کے مطابق مناسب حفاظتی سوٹ ہوتا تو شاید فرقان کا جسم اس قدر نہ جلتا۔فرقـان شوکت نے صرف تین سال قبل کراچی فائر بریگیڈ میں ملازمت اختیار کی تھی اور وہ اپنی ٹیم کا سب سے کم عمر رکن تھا۔ لوگوں کی مدد کا جذبہ اسے بچپن سے تھا۔ اس نے یہ پیشہ اپنے والد سے حاصل کیا تھا، جنہوں نے 35 سال فائر بریگیڈ میں خدمات انجام دیں، ڈیوٹی کے دوران مفلوج ہوئے اور 2018 میں ملازمت کے دوران ہی انتقال کر گئے تھے۔فرقـان کے گھر والوں نے اس رات جاگتے ہوئے گزاری۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ جلتی ہوئی عمارت کے اندر موجود ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔ بعد میں جب اس کی شہادت کی خبر پہنچی تو یہ خاندان کے لیے دوسری نسل کی قربانی بن گئی۔


فرقـان اپنے پیچھے نوجوان بیوہ اور شیر خوار بیٹا محمد رحیم چھوڑ گیا۔ وہ اپنے بیٹے کو بڑا ہو کر وکیل بنانا چاہتا تھا۔ اس کی بہن شمیلہ شوکت نے اپنے بھائی کا خواب پورا کرنے کا عزم کرتے ہوئے کہا کہ وہ محمد رحیم کو قانون کی تعلیم دلائیں گی۔گل پلازا کا سانحہ صرف ایک عمارت اور بازار کی تباہی نہیں، بلکہ کراچی کے فائر فائٹرز کو درپیش سنگین مسائل کی ایک دردناک مثال بھی ہے۔ دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر میں محدود فائر اسٹیشن، پرانی گاڑیاں، ہائیڈرنٹ نظام کی عدم موجودگی، حفاظتی لباس، سانس کے آلات، تھرمل کیمروں اور جدید تربیت کی کمی ایسے اہلکاروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے جو دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی جانیں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔فرقـان شوکت بھی اپنی جان بچا سکتا تھا، لیکن عمارت کے اندر سے آنے والی مدد کی آواز سن کر وہ واپس آگ میں چلا گیا۔ اس کی بہن کے الفاظ میں: ہم نے اپنا چھوٹا ہیرو کھو دیا، وہ دنیا سے چلا گیا لیکن ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گاکراچی میں محکمہ فائر بریگیڈ کی بدحالی کے برعکس سندھ حکومت کے تحت ریسکیو 1122 کو بین الاقوامی طرز پر شاندار ادارہ بنادیا گیا ہے۔


گلشن اقبال میں ادارے کے ہیڈ کوارٹر میں قائم ریسکیو 1122 کنٹرول روم جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ہے جہاں ایک وقت شفٹ میں 36 آپریٹرز ڈیوٹی کرتے ہیں۔ترجمان حسان الحسیب نے اس نمائندے کو دورہ کرتے ہوئے بتایا کہ کنٹرول روم میں صوبے بھر سے موصول ہونے والی تمام کالز ریکارڈ کی جاتی ہیں۔ کال فوری طور پر ڈسپیچر کے ذریعے قریب ترین گاڑی کے عملے کو فارورڈ کر دی جاتی ہے جو فوراً روانہ ہو جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کیلئے کراچی میں کل 1500 ملازمین بھرتی کیے جا چکے ہیں جن میں سے 224 فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔کراچی فائر بریگیڈ کا دکھڑا یہ ہے کہ ان کے پاس 28 فائر اسٹیشنز پر عملہ ناکافی ہے۔ ریسکیو 1122 کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس ابتدائی تمام عملہ اور وسائل موجود ہیں مگر مطلوبہ تعداد میں فائر ٹینڈرز نہیں ہیں۔حسان الحسیب کے مطابق کراچی کی آبادی کے تناسب سے ان کے پاس 200 فائر ٹینڈر ہونا چاہئیں مگر صرف 3 بڑے اور 7 چھوٹی فائر بریگیڈ گاڑیاں ہیں جو آٹے میں نمک برابر بھی نہیں۔

۔

منگل، 18 اگست، 2026

پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ

 

-پاکستان میں جنسی جرائم میں ہولناک اضافہ -پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے، جو صرف اس طرح کے جرائم پر ریسرچ کر رہا ہو۔ پاکستان میں سن دس ہزار انیس میں پندرہ ہزار سے زائد جنسی ہراسانی کے کیس رپورٹ ہوئے، جن میں اس طرح کے بلیک میلنگ کے واقعات بھی تھے۔ لیکن ماہرین اور متاثرہ افراد کا خیال ہے کہ اس نوعیت کے سینکڑوں واقعات سماج کے خوف کی وجہ سے رپورٹ ہی نہیں ہوتےکسی بھی معاشرے کی اخلاقی صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور ترین افراد، خصوصاً بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کا پاکستانی سماج اس کسوٹی پر مسلسل ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کراچی میں حالیہ انکشافات، جہاں ایک ہی شخص کے ہاتھوں درجنوں بلکہ ممکنہ طور پر سو سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آئے، محض ایک واقعہ یا پولیس کیس نہیں بلکہ ایک تہذیبی بحران کی علامت ہیں۔ یہ سوال اب محض یہ نہیں رہا کہ جرم ہوا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسا جرم بار بار کیوں ہو رہا ہے؟ اور ہماری اجتماعی آنکھیں کیوں بند رہتی ہیں؟ گزشتہ دہائی میں جس تیزی سے اخلاقی اقدار کمزور ہوئیں، خاندانی نگرانی ختم ہوئی، اور ڈیجیٹل دنیا بے لگام ہوئی، اسی رفتار سے درندگی کو بھی سماجی آکسیجن میسر آئی۔ مغرب کی اندھی تقلید، نام نہاد جدت پسندی، اور ’’ذاتی آزادی‘‘ کے مسخ شدہ تصورات نے شرم، حیا اور ذمے داری جیسے بنیادی انسانی اصولوں کو متروک  بنا دیا   ہے


 اسکول، گھر، اور محلے میں وہ نظام جو کبھی بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرتا تھا، اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ والدین مصروفیت اور زندگی کے دباؤ میں گم ہیں، بچے موبائل اور انٹرنیٹ کی دنیا میں الجھ گئے ہیں اور معاشرہ یہ سوچ کر خاموش ہے کہ شاید یہ مسئلہ کسی اور کا ہے۔ اعداد وشمار ہمارے سماجی زوال کی ایک خوفناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ چھے سال میں صرف ایک صوبے میں کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 5,761 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن میں 638 اجتماعی زیادتی کے واقعات شامل تھے۔ مجموعی طور پر 9,524 ملزمان نامزد ہوئے، مگر 1,073 ملزمان گرفتاری سے بچ گئے، جبکہ اجتماعی زیادتی کے 1,710 ملزمان میں سے 258 قانون کی گرفت سے باہر رہے۔ کراچی کے حالیہ واقعات نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ یہ جرائم انفرادی نہیں، بلکہ ایک سماجی مرض بن چکے ہیں، سماجی بے حسی نے درندوں کے لیے ماحول فراہم کر دیا ہے۔ اکثر والدین بدنامی کے خوف میں خاموش رہتے ہیں، بچے خوف اور شرمندگی میں کچھ نہیں کہتے اور یوں مجرم سال ہا سال بغیر مزاحمت کے کام کرتا رہتا ہے۔ 


یہاں ایک اور پہلو قابل غور ہے: محلہ سسٹم کی کمی۔ وہ محلہ جہاں کبھی بزرگ شام کو بچوں کو کھیلتے دیکھتے، ان پر نظر رکھتے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کو فوراً نوٹ کرتے تھے، اب وہاں دروازے بند ہوگئے ہیں، نظریں نیچی ہیں، اور ذمے داری محدود ہو گئی ہے۔ پڑوسی ایک دوسرے کے بچوں کو نہیں جانتے، نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ کون کہاں جا رہا ہے یا کس کے ساتھ وقت گزار رہا ہے۔ یہی خلا درندوں کے لیے سازگار ہوا ہے۔ اب ضروری ہے کہ بزرگ دوبارہ اپنا ماضی والا کردار ادا کریں، بچوں کی حفاظت کے لیے حساس رہیں اور غیر متعلقہ افراد پر بھی نظر رکھیں۔ بچوں کی حفاظت صرف والدین کی نہیں، پورے سماج کی ذمے داری ہے۔ ڈیجیٹل فحاشی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اسمارٹ فون، غیر فلٹر شدہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جنسی مواد کو چند لمحوں میں ہر عمر کی دسترس میں دے دیا ہے۔ یہ نہ صرف بچوں کے ذہنوں کو متاثر کر رہا ہے بلکہ بڑوں کے رویوں کو بھی مسخ کر رہا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی بڑی تعداد کی ذہنی اور نفسیاتی تشکیل میں آن لائن فحش مواد بنیادی عنصر رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جرم صرف ذاتی بگاڑ یا اخلاقی کمزوری نہیں، بلکہ یہ سماجی اور تکنیکی ماحول کے نتائج بھی ہیں۔ قانونی اور عدالتی نظام کی کمزوری اس المیے کو اور بڑھا دیتی ہے۔ فاسٹ ٹریک عدالتیں نہ ہونا، پراسیکیوشن کا کمزور ہونا، تفتیشی اداروں کی تربیت میں خلا اور مقدمات کی سست روی، سب مل کر جرم کو مزید پراثر بناتے ہیں۔ حالیہ گرفتاریوں کے بعد سندھ حکومت نے بیانات دیے اور پولیس کو شاباش دی، مگر یہ کافی نہیں۔



 محض بیانات اور وقتی کارروائیاں درندوں کی تعداد کم نہیں کر سکتیں۔ سخت قانونی سزائیں، فاسٹ ٹریک عدالتیں، پولیس اور تفتیشی اداروں کی تربیت، ڈیجیٹل مواد پر مؤثر کنٹرول اور متاثرہ بچوں کے لیے نفسیاتی بحالی مراکز ناگزیر ہیں۔ مگر قانون سے پہلے کردار اور شعور کی ضرورت ہے، اور یہ کردار گھر، اسکول اور محلے میں بنتا ہے۔ اس معاشرتی بحران میں خاموشی سب سے بڑا دشمن ہے۔ ہم اکثر خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، لیکن یہ خبر ہر روز کی حقیقت ہے۔ یہ یاد رکھنا ہوگا کہ جب معاشرہ خاموش ہو جائے، تو درندے بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہر وہ لمحہ جس میں ہم نے نظرانداز کیا، ہر وہ دن جس میں ہم نے خاموشی اختیار کی، دراصل ہم نے ایک اور بچے کو خطرے کے حوالے کیا۔ یہ المیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ محض ریاستی اقدامات کافی نہیں۔ سماجی سطح پر بھی ہر فرد کی ذمے داری ہے۔ ہر شخص کو اپنے اور دوسرے بچوں پر نظر کے ساتھ اپنے محلے میں حرکت پر نظر رکھنی ہوگی، غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر حساس ہونا ہوگا اور والدین کے ساتھ مل کر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی بات سنیں اور ان کی آن لائن سرگرمیوں پر نگرانی رکھیں۔ یہ معاشرتی زوال صرف آج کا نہیں، بلکہ برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ ہر نسل جسے ہم نے تعلیم، تربیت اور حفاظت کی جگہ بے حسی اور غفلت میں پرورش دی، آج وہ نتیجہ سامنے ہے۔ اخلاقی اقدار کی کمزوری، خاندانی روابط کی ٹوٹ پھوٹ اور ڈیجیٹل فحاشی نے بچوں کی زندگیوں پر اثرات ڈالے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس بحران کے خلاف سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت ہے کہ ہم صرف خبریں نہ پڑھیں بلکہ اپنی سماجی ذمے داری سمجھیں، محلے، گھر اور اسکول میں کردار ادا کریں، اور بچوں کی حفاظت کو ہر ممکنہ اقدام کے ساتھ یقینی بنائیں۔ جب معاشرہ اپنی ذمے داری کو سنجیدگی سے نبھائے گا، تب ہی ایسے درندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں رہے گی۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم اپنے ضمیر، اپنے محلے اور اپنے بچوں کے لیے کھڑے ہوں، کیونکہ بچوں کی حفاظت صرف قانون کی نہیں بلکہ پورے معاشرتی شعور کی ضرورت ہے

موسیقار شیام سندرنےایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا

   کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل`                         کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انھیں سننے کے لیے سینکڑوں کا مجمع تھا، مگر بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نے گانے سے انکار کر دیا۔ اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔مجمعے کی ناراضی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انھوں نے اِسٹیج پر   جب فر فارمنس دی تو لوگ بھول گئے کہ وہ تو سہگل کو سننے آئے  تھے ۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انھوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انھیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا گلوکاری کا یادگار سفر شروع ہوا۔رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انھیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انھوں نے طلعت کی بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباؤرا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔من تڑپت ہری درشن کو آج،جیسا کلاسیکی گیت ہو یاتقسیم ہند سے قبل انھوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔ 



’یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘ان کے ہزا رہا یاد گار نغموں میں سے ایک ہے۔-نوشاد سے ملاقات چاہے مجھے کوئی جنگلی کہےکا چنچل نغمہ رفیع کو ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت حاصل تھی۔ انھوں نے وہ نغمے بھی گائے جسے اس وقت کے دوسرے گلوکاروں نے گانے سے منع کر دیا تھا۔ کشور کمار نے ’ہاتھی میرے ساتھی کا گیت             نفرت کی دنیا کو چھوڑ کر‘گانے سے منع کر دیا تھا کیونکہ اس میں آواز کی لے کافی اونچی تھی لیکن رفیع نے یہ گیت گایا اور بہت مقبول ہوا۔نغمگی کا یہ سفر بہت کامیاب رہا۔ انھوں نے اردو ،ہندی ،مراٹھی، گجراتی، بنگالی بھوجپوری تمل کے علاوہ کئی زبانوں میں گیت گائے۔ رفیع کی خاصیت تھی کہ وہ جس فنکار کے لیے گاتے اسی کی آواز اور اسی کے انداز کو اپناتے۔فلم پیاسا میں جانی واکر کے لیے انھوں نے ’تیل مالش’ کا جو گیت گایا اسے سن کر لگتا ہے کہ سامنے جانی واکر ہی گا رہے ہیں اور اس کا اعتراف خود جانی واکر نے بھی کیا تھا۔رفیع بہت سیدھے اور صاف دل انسان تھے۔ کئی مرتبہ انھوں نے بغیر ایک پیسہ لیے گیت گایا۔ ایک بڑے موسیقار نے رفیع کی موت کے بعد اعتراف کیا کہ ان کے پاس رفیع کو دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ گیت ختم ہونے کے بعد انھوں نے رفیع صاحب سے نظریں نہیں ملائیں اور دنیا کو دکھانے کے لیے ایک خالی لفافہ پکڑا دیا۔ رفیع نے اسے لے لیا لیکن بعد میں ملاقات کے بعد کبھی اس کا تذکرہ بھی نہیں کیا جب بھی ملے مسکرا کر ملے۔



گلوکار محمد رفیع دنیائے موسیقی کے ان نامور اور شہرت یافتہ گلوکار رہے کہ جنھوں نے اپنے فن کیرئیر میں 4516 گیت گا کر بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ انھوں نے انمول گھڑی، میلہ، انداز، دیدار، بیجو باورہ، دوبیگھا زمین، دیوداس، چوری چوری، پیاسا، کاغذ کے پھول، تیرے گھر کے سامنے، گائیڈ، ارادھنا، ابھیمان، نیا دور، کشمیر کی کلی، مغل اعظم، جنگلی، پروفیسر، چائنا ٹاؤن، تاج محل، میرے محبوب، سنگم، دوستی، وقت، خاندان، جانور، تیسری منزل، میرا سایہ، دل دیا درد لیا، کھلونا، دوستانہ، پاکیزہ، کاروان، لیلیٰ مجنوں سمیت تقریباً ہزار کے قریب فلموں میں گیت گائے، ان کے یادگار گیتوں میں ’کیا ہوا تیرا وعدہ‘، ’بہاروں پھول برساؤ‘، ’لکھے جو خط تجھے‘، ’چُرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘، ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے‘، ’دل کے جھرکوں پے تجھ کو بٹھا کے ‘، ’چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے‘، ’چودھویں کا چاند ہو‘، ’بابل کی دعائیں لیتی جا‘، ’تعریف کروں کیا اس کی‘، ’چاہوں گا میں تمھیں سانجھ سویرے‘، ’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘، ’تیری آنکھوں کے سوا‘، ’چھپ گئے سارے نظارے ‘، ’پردہ ہے پردہ ‘، ’او میری محبوبہ‘، ’یہ ریشمی زلفیں‘، ’آنکھوں ہی آنکھوں میں ‘، ’اٹھرا برس کی تو‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے ‘، ’یونہی تم مجھ سے بات کرتی ہو‘، ’مجھے تیری محبت کا سہارا‘، ’بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے ‘، ’آدمی مسافر ہے‘، ’میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے‘، ’رم جھم کے گیت ساون گائے‘، ’یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘، ’زندہ باد زندہ باد اے محبت‘، ’تمھاری نظر کیوں خفا ہو گئی‘، ’تیری دنیا سے دور‘، ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘، ’میرے متوا میرے میت رے‘، ’میرے پیار کی آواز پے چلی آنا‘، ’وعدہ کرلے ساجنا‘،



 ’یہ چاند سا روشن چہرہ‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو‘، ’ایسا موقع پھر کہاں ملے گا‘، ’آنے سے اس کے آئے بہار‘، ’خوش رہے تو سدا‘، ’بار بار دیکھو‘،’باغوں میں بہار ہے‘، ’ہوئے ہم عشق میں برباد ہیں برباد رہیں گے‘، ’میرے دوست قصہ یہ ‘، ’سلامت رہے دوستانہ‘، وغیرہ شامل ہیں۔اوپی نیر رفیع کے زبردست مداح تھے، اور 60 کی دہائی کے آخر میں ہونے والی گرماگرمی سے پہلے رفیع او پی کی ہر فلم کا لازمی جزو ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے 194 گیتوں میں رفیع کی آواز استعمال کی۔ او پی ردم کے بادشاہ کہلاتے تھے اور انہوں نے پنجاب کے کھلے میدانوں کھلیانوں کے بےمحابا کھلنڈرے پن اور شاداب شوخیوں کو برصغیر کے گوشے گوشے تک پہنچا دیا۔یہ کام وہ رفیع کے بغیر نہیں کر سکتے تھے، کیوں کہ 40 کی دہائی کے اواخر تک بالی وڈ میں ناک سے گانے والے گلوکاروں کا راج تھا۔ رفیع بھرے گلے سے گانے والے پہلے گلوکار تھے جو او پی نیر کی تھرکتی الھڑ دھنوں سے انصاف کر سکتے تھے۔  دوسری طرف او پی نیر نے جس تنوع اور کثرت سے رفیع کی آواز کے امکانات کھنگالے ہیں، اگر وہ ہمارے سامنے نہ ہوتے تو رفیع کا نام سن کر جو تصویر ذہن میں آتی ہے، اس کے رنگ ذرا پھیکے رہتے۔ مگر یہ سوال اب بھی اٹھتا ہے کہ ان  کی فرشتوں کے پروں جیسی ملائم اور مے ناب جیسی نشیلی آواز کو کس موسیقار نے سب سے عمدگی سے استعمال کیاہے ا کر تمام اہم موسیقاروں کے ساتھ رفیع کے کام کا بغور جائزہ لیا۔  محمد رفیع امرتسر کے ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے بچپن کے دنوں میں ایک فقیر ان کی گلی میں آتا تھا، جو بلند آواز میں گیت گاتا تھا۔ رفیع کو اسے گنگناتا دیکھ کر ان کے بڑے بھائی نے استاد وحید خان کی سرپرستی میں انھیں موسیقی کی تعلیم دلوائی 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کلو چھولے والے کی شادی پارٹ 1(اشاعت مکرر)

  اب میں اپنے قارئین کو ا پنی زندگی کے وہ اوّلین دن بتانے چلی ہوں جو بہت پر مشقّت تو تھے لیکن بچپن کی انوکھی آرزؤں سے معمور تھے ،ہمارے چاروں...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر