Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
منگل، 27 جنوری، 2026
جامعہ الازہر قاہرہ -مسلمانوں کی جامعہ افتخار
ہفتہ، 24 جنوری، 2026
پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے
سال 2005 میں پریڈی کوارٹرز میں کوارٹر نمبر 32 پر مقدمہ نمبر 56/2005 درج ہوا۔ یہ وہی کوارٹر ہے جہاں گل پلازہ قائم ہے۔ اس مقدمے میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سابق چیف کنٹرولر مرحوم بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر سمیت کئی افسران اور نجی فریقین کو بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت نامزد کیا گیا تھا۔ استغاثہ نے اس وقت گل محمد خانانی نامی شخص کو پریڈی کوارٹرز(گل پلازہ) کا مالک قرار دیا تھا۔کراچی کے علاقے صدر، پریڈی کوارٹرز میں واقع گل پلازہ ماضی میں تعمیر اور غیر قانونی منظوریوں، بلڈنگ کنٹرول کی بدعنوانی اور سیاسی مداخلت کے ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آتا رہا ہے جبکہ حال ہی میں آگ لگنے کے واقعے میں کئی لوگوں کی جانوں کا نقصان آپ کے سامنے ہے۔ اس پلازہ کی کہانی آج سے کوئی 15 سال قبل ایک کیس کے تناظر میں خوب سمجھ آسکتی ہے مذکورہ کیس کا آغاز سن 2005 میں ہوا جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض افسران اور نجی فریقین کے خلاف بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور جعلسازی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 56/2005 کے تحت قائم ہوا جس کا تعلق پلاٹ نمبر PR-I/32، پریڈی کوارٹرز سے تھا۔ یہ وہی پلاٹ ہے جہاں بعد میں گل پلازہ تعمیر ہوا جو وقت کے ساتھ ساتھ درآمدی اشیا کا ایک بڑا تجارتی مرکز بن گیا۔ استغاثہ کے مطابق پلاٹ میں جو جگہ گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے مختص تھی اسے غیرقانونی طور پر دکانوں اور تجارتی استعمال میں تبدیل کیا گیا تھا جس سے شہری قوانین اور بلڈنگ ریگولیشنز کی صریح خلاف ورزی ہوئی تھی
۔اس مقدمے میں گل محمد خانانی کو گل پلازہ کے مالک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ انہوں نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اعلیٰ افسران کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے ایسی منظوری حاصل کی جو سندھ ریگولرائزیشن کنٹرول آرڈیننس 2002 کی دفعہ 5-C کے خلاف تھی۔ یوں گل محمد خانانی اس غیرقانونی تعمیر کے براہ راست فائدہ اٹھانے والے فریق قرار پائے۔5 جنوری 2008 کو خصوصی اینٹی کرپشن جج کراچی سید گل منیر شاہ نے اس مقدمے میں سابق چیف کنٹرولر کے بی سی اے بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر، دیگر افسران اور دیگر ملزمان کے ساتھ ساتھ گل محمد خانانی پر بھی فرد جرم عائد کی۔ تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا اور مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان پر تعزیرات پاکستان اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کے تحت متعدد سنگین دفعات لگائی گئیں جن میں کرپشن، جعلسازی اور دھوکہ دہی شامل تھیں۔2008 کے دوران یہ مقدمہ مختلف سماعتوں اور التوا کا شکار رہا۔ عدالت میں ملزمان کی جانب سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں تاہم کیس بدستور زیر سماعت رہا اور استغاثہ کی جانب سے موقف برقرار رکھا گیا کہ سرکاری افسران نے نجی فائدے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی بالآخر اپریل 2010 میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب حکومت سندھ نے فوجداری ضابطہ کارروائی کی دفعہ 494 کے تحت یہ مقدمہ واپس لینے کی درخواست دائر کی۔
عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے سابق کے بی سی اے چیف سمیت تمام ملزمان بشمول گل محمد خانانی کو الزامات سے بری کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق مقدمہ کسی عدالتی ٹرائل کے منطقی انجام تک پہنچے بغیر حکومتی فیصلے کے نتیجے میں ختم ہوا۔سابق کے بی سی اے چیف بریگیڈیئر ریٹائرڈ اے ایس ناصر سال 2024 جنوری کو گھر میں گر کر زخمی ہوئے اور کئی دنوں تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئے جبکہ حالیہ چند رپورٹس کے مطابق گل محمد خانانی سے متعلق بھی ابہام پایا جا رہا ہے کہ آیا وہ اس پلازہ کے مالک ہیں یا نہیں؟ بتایا جا رہا ہے کہ اس پلازہ کے مالک کا اصل نام بھی درست نہیں ہے تاہم ماضی میں گل محمد خانانی ہی مالک کے طور پر اس کیس میں نامزد کیے گئے تھے۔ ماضی کا یہ کیس اور اس پر کیا گیا فیصلہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کمزور نظام اور احتساب کے سوالات کو آج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ یوں سرکاری اداروں کی کمزوریوں سے بھی آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس قدر یہ نظام کھوکھلا چلا آرہا ہے۔ 31 اکتوبر 2004 کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ایک ٹیم سولجر بازار میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کرنے پہنچی تھی۔ یہ ٹیم فیروزآباد تھانے کی حدود میں واقع غیرقانونی تعمیرات گرانے کے لیے پہنچی تھی۔ یہ کارروائی سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر کی جا رہی تھی تاہم پولیس نے اس پوری ٹیم کو ہی حراست میں لے لیا۔
اطلاع ملنے پر کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے چیف کنٹرولر بریگیڈیئر (ر) اے ایس ناصر نے پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا جن کی مداخلت کے بعد کے بی سی اے کے اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔حالیہ کیس میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور ان واقعات کی کڑیاں ملائیں تو بہت کچھ کلئیر ہوجاتا ہے۔ یہ تمام واقعات میڈیا پر بھی رپورٹ ہوچکے ہیں۔حالیہ میڈیا رپورٹس کے مطابق گل پلازہ کی عمارت اصل میں 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی۔ ابتدائی تعمیر کے بعد 1998 میں اس میں اضافی منزلیں بنائی گئیں اور 14 اپریل 2003 کو مالک نے کمپلیشن سرٹیفیکیٹ حاصل کیا تھا۔ نقشے کے مطابق اس میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی لیکن حقیقت میں وہاں 1021 سے زائد دکانیں (تقریباً 1200) بن گئی تھیں اور کچھ دکانیں تو باہر نکلنے کے راستوں پر بھی تعمیر ہو چکی تھیں جس نے آگ کے دوران لوگوں کی انخلا کو مزید مشکل بنایا جبکہ بعض رپورٹس میں آتا ہے کہ پارکنگ اور بیسمنٹ میں اضافی سامان بھی رکھا جاتا رہا ہے۔ دعویٰ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ پلازہ کے نقشے میں ہنگامی اخراج کا کوئی ذکر تک نہیں ہے۔ یوں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اور جانوں کے ضیاع سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جب قانون پر عملدرآمد کرنے والے ادارے خود کمزور، باہمی کشمکش کا شکار اور سیاسی و انتظامی مداخلتوں کے تابع ہوں تو غیرقانونی تعمیرات سانحات کی بنیادیں بن جاتی ہیں
ادیب یوسف زئ کی یہ تحریر میں نے اپنی فیس بک سے لی ہے
جمعہ، 23 جنوری، 2026
فا ٹا حکومت کی توجہ چاہتا ہے
اللہ تعالیٰ نے بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر رکھے ہیں۔ جن کی مالیت دو کھرب ڈالر سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ 54ملین ٹن سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ اور بلوچستان میں موجود ریکوڈیک کان دنیا کی پانچویں بڑے ذخائر ہیں۔ ضلع چاغی میں موجود ریکوڈیک کے سونے ذخائر اتنی مقدار میں موجود ہیں کہ اسے نکالنے کے لیے 20 سال زائد کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ یہ سونے کا پہاڑ 100 کلومیٹر سے زائد کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ اور اب مزید سونا سندھ کے علاقے تھر پارکر کے قصبے نگر پارکر سونے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ مشیر معدنیات سندھ نے کہا کہ نجی کمپنی کی کھدائی کے بعد سونے کے ذخائر کی تصدیق ہو گئی ہے۔مہمند: سنگ مرمر کی کانوں کے تنازعے اور 'تاریخ پر تاریخ'مہمند کے رہائشی وزیر خان کے مطابق قبائلی علاقوں کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل جرگہ سسٹم تھا لیکن اب جس کا بھی مسئلہ ہو وہ عدالت میں پیشیوں پر جاتا ہے، جہاں ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی ہے اور کیس جلدی ختم نہیں ہوتے۔قبائلی ضلع مہمند سنگ مرمر (ماربل) کے پتھر کے قیمتی ذخائر کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے اور یہاں سے ملک کے اندر اور باہر خوبصورت سنگ مرمر فراہم کیا جاتا ہے، تاہم آج کل مہمند میں سنگ مرمر کی تقریباً 80 فیصد کانیں بند ہیں، مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس صنعت کو پوری طرح بحال کیا جائے تو یہاں روزگار کے مواقع میسر ہوں گے، جس سے غربت کم ہوگی۔
مہمند کے ایک رہائشی وزیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضلع مہمند میں زیارت پہاڑی کا سنگ مرمر نہ صرف پاکستان میں بلکہ ایشیا بھر میں مشہور ہے لیکن یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ کہ ٹھیکیداروں کو بلاسٹنگ کے لیے بارود نہیں مل رہا اور جن کانوں پر قومی تنازع ہے، وہاں صرف عدالتی پیشیاں ہوتی ہیں اور کام ختم نہیں ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں کام چل جائے اور سڑک بن جائے تو لوگوں کو سہولت ہو جائے گی، کاروبار چلے گا اور غربت میں کمی ہوگی۔وزیر خان نے بتایا کہ قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبرپختونخوا میں انضمام سے قبل جرگہ سسٹم تھا تو لوگوں کو جو مسئلے ہوتے تھے وہ مشیران کے ذریعے آپس میں بیٹھ کر ہی حل ہو جاتے تھے، لیکن اب جس کا بھی مسئلہ ہو وہ عدالت میں پیشیوں پر جاتا ہے، جہاں ایک تاریخ کے بعد دوسری تاریخ ملتی ہے اور کیس جلدی ختم نہیں ہوتے۔مہمند میں چھپے اربوں کے قدرتی خزانے اور سرکاری بے پروائیمہمند ڈیم: کام شروع ہوا نہیں لیکن نام پر تنازع شروع-مہمند: چہل پہل کی واپسی تو بس سطحی باتیں ہیں-ضلع مہمند کے علاقہ گندہاب میں سنگ مرمر کے کارخانے کے مالک زاہد شاہ کو بھی کافی مسائل کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے روزگار پر اثر پڑا ہے۔انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت کی پالیسوں کی وجہ سے پہاڑ اور سنگ مرمر کی کانیں بند ہیں۔ پتھر نہیں مل رہا اور سڑک خراب ہونے کی وجہ سے کھلی کانوں تک گاڑیوں کے ذریعے سے رسائی بھی مشکل ہے تو اس سے ان کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے کیونکہ وہ گاہکوں کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر پا رہے۔
زاہد شاہ نے بتایا کہ مہمند کا سنگ مرمر مشہور ہے، جس میں زیارت کے ماربل، خانقاہ اور آج کل سٹرابیری ماربل کی بہت زیادہ مانگ ہے جبکہ زیارت وائٹ اور سٹرابیری ماربل یہاں کارخانوں میں تیار کرکے پنجاب، کراچی اور ملک کے دوسرے علاقوں کے علاوہ بیرون ممالک بھی بھیجا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا: 'یہاں ماربل کے پہاڑ علاقے کے عوام کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں تاہم انضمام کے بعد حکومت نے کانوں کو لیز کرنے کا نیا قانون متعارف کرایا ہے جس سے اب کچھ علاقوں کے ماربل کی کانیں حکومت کی لیز کے مسائل کی وجہ سے بند ہیں اور مالکان عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں جکہ کچھ سنگ مرمر کی کانوں پر مقامی افراد کے آپس میں رائیلٹی پر اختلافات ہیں جس کی وجہ سے قیمتی اور خوبصورت سنگ مرمر کی اکثر کانیں بند پڑی ہوئی ہیں۔'زاہد شاہ نے بتایا کہ خیبر پخنونخوا میں انضمام کے بعد ماربل کے کارخانوں اور دیگر کو پانچ سال کے لیے ٹیکس فری زون قرار دیا گیا تھا لیکن ہمارے بجلی کے بلوں میں ٹیکس ابھی تک شامل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایک کارخانے دار ہر ماہ بجلی کے بل میں 80 ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک ٹیکس جمع کرواتا ہے۔انہوں نے سوال کیا: ’ٹیکس فری زون قرار دینے کے بعد ہم سے کیوں ٹیکس لیا جاتا ہے؟ یہ ہمارے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہمارے بجلی کے بلوں کو ٹیکس فری کیا جائے۔زاہد شاہ نے ضلع مہمند میں حکومت کی جانب سے ماربل سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے تو ماربل سٹی کے لیے زمین لے لی ہے اور کچھ لوگوں نے کارخانوں کے لیے پلاٹ بھی لیے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے ترقیاتی کام بند ہونے کی وجہ سے کارخانے نہیں لگائے جا رہے۔
سنگ مرمر کے پتھر پہاڑوں میں سے بغیر کسی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے نکالے جاتے ہیں جس میں 40 سے 60 فیصد سنگ مرمر کے پتھر ضائع ہوجاتے ہیں۔یہاں اگر تمام پتھر کی کانوں میں کام ہوتا ہو تو روزانہ کی بنیاد پر ڈھائی سے تین سو تک ٹرک لوڈ کیے جا سکتے ہیں جن میں سے فی ٹرک 60 ٹن کے پتھر ہوتے ہیں۔ایک ٹن کی قیمت چار ہزار سے 12 ہزار روپے تک ہوتی ہے جس میں سے زیارت کا وائٹ ماربل پوری دنیا میں خصوصیت رکھتا ہے اور دھوپ میں ٹھنڈا ہونے کی خاصیت رکھنے پر زیادہ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔سنگ مرمر کے بڑے پتھر تراشنے اور اسے مختلف سائز میں کاٹنے کے لیے کارخانوں میں لے جایا جاتا ہے لیکن ضلع مہمند میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف چند ہی کارخانے لگائے گئے ہیں۔مچنی کے علاقے میں فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ماربل سٹی کی منظوری دی تھی جس کے لیے 600 ایکڑ سے زائد زمین بھی مقامی لوگوں سے خریدی جا چکی ہے اور وہاں پر بجلی کی گرڈ سٹیشن پر بھی کام مکمل کیا جاچکا ہے لیکن خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد فاٹا ڈویلمنٹ اتھارٹی کا وجود ختم ہوگیا، جس کے بعد ماربل سٹی پر کام بند ہو گیا
جمعرات، 22 جنوری، 2026
اشاعت مکرر 'نقیب انقلاب کربلا 'بی بی زینب سلام اللہ علیہا
بدھ، 21 جنوری، 2026
میر امن دہلوی برصغیر کے ایک معروف اور بہترین نثر نگار
منگل، 20 جنوری، 2026
گل پلازہ شہر کراچی کی تاریخ کا ہولناک سانحہ
پیر، 19 جنوری، 2026
گائے گی دنیا گیت میرے-موسیقار نثار بزمی
گائے گی دنیا گیت میرے-سریلے رنگ میں نرالے رنگ میں نےبھرے ہیں ارمانوں میں، کانوں میں رس گھولنے والی نثار بزمی کی موسیقی سے سجا ہوا یہ گیت جب اس وقت کے پردہء سیمیں پر آیا تو گلی گلی مشہور ہو گیا نثار بزمی ہماری فلم انڈسٹری کے بڑے نامور موسیقار تھے انہوں نے فن موسیقی میں بڑے بڑے فن کاروں سے بڑھ کر اپنی فنی خدمات سے شہرت پائی۔ پاک و ہند کی فلمی موسیقی نے نامور موسیقار اور گلوکار پیدا کیے۔ ان میں ایک معتبر نام موسیقار نثار بزمی کا بھی ہے۔ ان کا پُورا نام سید نثاراحمد تھا لیکن موسیقی کی دنیا میں نثار بزمی کے نام سے شہرت پائی۔پاکستان میں فضل احمد کریم فضلی کی فلم ’ایسا بھی ہوتا ہے‘ بطور موسیقار نثار بزمی کی پہلی فلم تھی، لیکن تقسیمِ ہند سے قبل اور بعد میں بھارت میں قیام کے دوران وہ 40 سے زائد فلموں کی موسیقی ترتیب دے چکے تھے۔ یہ 1946ء کی بات ہے اور 1961ء تک وہ بھارت میں فلم انڈسٹری کے لیے کام کرتے رہے۔ تاہم کوئی خاص کام یابی ان کا مقدّر نہیں بنی تھی۔ نثار بزمی نے 1962ء میں پاکستان ہجرت کی تو جیسے قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوگئی۔ وہ اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے کراچی آئے تھے اور کراچی کی گرم آغوش میں ان کے مقدر کا ستارہ چمکا اور پھر وہ بھارت واپس نہیں جا سکے اور یہیں کے ہو رہے۔ پاکستان میں نثار بزمی نے فلم انڈسٹری کے لیے لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
فلم ‘لاکھوں میں ایک’ کا مشہور گیت ’چلو اچھا ہوا تم بھول گئے‘ کی دھن نثار بزمی نے ترتیب دی تھی۔ اس کے علاوہ ‘اے بہارو گواہ رہنا، اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا، رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ، آپ دل کی انجمن میں حسن بن کر آ گئے، دل دھڑکے، میں تم سے یہ کیسے کہوں، کہتی ہے میری نظر شکریہ، کاٹے نہ کٹے رتیاں، سیاں تیرے پیار میں جیسے لازوال گیتوں کے اس موسیقار نے یہاں عزّت، مقام و مرتبہ پایا۔ان کی ترتیب دی ہوئی دھنوں پر اپنے دور کے مشہور و معروف گلوکاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ نوعمری ہی سے انھیں موسیقی سے لگاؤ پیدا ہوگیا تھا اور ان کا شوق اور موسیقی سے رغبت دیکھتے ہوئے والد نے انھیں استاد امان علی خان کے پاس بمبئی بھیج دیا جن سے انھوں نے اس فن کے اسرار و رموز سیکھے۔نثار بزمی نے آل انڈیا ریڈیو میں چند سال میوزک کمپوزر کی حیثیت سے کام کیا اور 1946ء میں فلم نگری سے موسیقار کے طور پر اپنا سفر شروع کیا، وہ تقسیم کے پندرہ برس تک ہندوستان کی فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے اور پھر پاکستان آگئے جہاں اپنے فن کی بدولت بڑا نام اور مرتبہ پایا۔نثار بزمی نے طاہرہ سیّد، نیرہ نور، حمیرا چنا اور عالمگیر جیسے گلوکاروں کو فلمی دنیا میں آواز کا جادو جگانے کا موقع دیا۔ مختلف شعرا کے کلام پر دھنیں ترتیب دینے والے نثار بزمی خود بھی شاعر تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام ’پھر سازِ صداخاموش ہوا‘ کے نام سے شایع ہوا۔حکومتِ پاکستان نے نثار بزمی کو پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا تھا ۔
اس سے قبل وہ آل انڈیا ریڈیو بمبئی پر بہ طور موسیقار ملازم بھی رہے۔ نثار بزمی ایک اعلیٰ پائے کے موسیقار تھے جو میعار پرسمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور اس وجہ سے بڑا نقصان بھی اٹھاتے تھے۔انھوں نے فلم شمع اور پروانہ (1970) کا گیت:میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا۔۔پہلے خانصاحب مہدی حسن سے گوایا تھا لیکن مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ پھر وہی گیت گلوکار مجیب عالم سے گوایا تو ان کی کارکردگی سے اتنے خوش ہوئے تھے کہ ان سے فلم کے چھ گیت گوا لیے تھے۔نثار بزمی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل موسیقار تھے۔ ان کی شاندار دھنوں کی بدولت کئی فلموں نے عدیم النظیر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان نیوی کیلئے ترانوں کی موسیقی بھی دی۔ انہوں نے شاعری بھی کی جو کتابی شکل میں دستاب ہے۔ ان کی شاعری کی کتاب کا عنوان ہے '' پھر ساز صدا خاموش ہوا ‘‘ ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ نثار بزمی نے جن فلموں کا سنگیت دیا ان میںسے اکثرسپر ہٹ ہوئیں،جو فلمیں ناکام رہیںان کی موسیقی کو بھی پسند کیا گیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ بھارت میں تھے تو مشہور موسیقاروں کی جوڑی لکشمی کانت پیارے لال ان سے موسیقی کے اسرارورموز سیکھتے تھے۔ 70ء کی دہائی کے آغاز میں رونا لیلیٰ کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔
دراصل یہ نثار بزمی تھے جنہوں نے رونا لیلیٰ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور ان سے حیرت انگیز گیت گوائے۔نثار بزمی نے مشہور زمانہ فلم '' امر ائو جان ادا ‘‘ کا صرف ایک گیت میڈم نور جہاں سے گوایا باقی تمام نغمات رونا لیلیٰ سے گوائے۔ اس بارے میں وہ کہتے تھے میڈم نور جہاں نے جو گیت گایا وہ کوئی اور گلوکارہ گا ہی نہیں سکتی تھی۔اسی طرح رونا لیلیٰ نے ان کی موسیقی میں جو گیت ''انجمن‘‘ اور ''تہذیب‘‘ کیلئے گائے وہ بھی باکمال ہیں۔اسی طرح1972ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''ناگ منی ‘‘ کے سارے نغمات بزمی صاحب نے میڈم نور جہاں سے گوائے۔ یہاں ان کو مؤقف یہ تھا کہ اس فلم کے تمام گیتوں کے لئے میڈم نورجہاں کا انتخاب ہی درست تھا کیونکہ یہ بڑے مشکل گیت تھے۔ہدایتکار حسن طارق کی بیشتر سپر ہٹ فلموں کا میوزک نثار بزمی نے دیا۔ 22 مارچ 2007ء کو نثار بزمی اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ اہل موسیقی انہیں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ ان کی آخری فلم ویری گڈ دنیا ویری بیڈ لوگ تھی جو 2000ء میں نمائش پذیر ہوئی تھی۔ نثار بزمی کو حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ وہ ایک خوش گو شاعر بھی تھے اور ان کا شعری مجموعہ پھر ساز صدا خاموش ہوا بھی شائع ہوچکا ہے۔ وہ شمالی کراچی میں قبرستان محمد شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
دنیا کا تعمیراتی عجوبہ "دیوار چین"
دنیا کا تعمیراتی عجوبہ "دیوار چین" دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقی...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...