منگل، 27 جنوری، 2026

جامعہ الازہر قاہرہ -مسلمانوں کی جامعہ افتخار

  





ہم مسلمانوں کے لئے اللہ ربالعالمین نے  اس زمین پر جو پہلا تحفہ بذریعہ فرشتہ بھیجا وہ علم کا نایاب تحفہ تھا  اور اس تحفے کی قدرو قیمت جانتے ہوئے جامعہ  الازہر جیسی عظیم درس گاہ  کی بنیاد رکھی گئ  جس میں دینی اور دنیوی تمام علوم کی تعلیم دی جاتی ہے، دینی تعلیم کے لیے جامعہ ازہر  کو عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مرجع مانا جاتا ہے۔اس وقت ازہر کے طلبہ کی ٹوٹل تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے جس میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی طلبہ ہیں۔ جن کا تعلق 100 سے زائد ممالک سے ہے، ان طلبہ کی تعلیم و تربیت کے لیے 6 ہزار سے زائد فقط مصر میں ازہر کے معاہد(انسٹیٹیوٹس) اور اسکولز عالم وجود میں آئے۔جامعہ ازہر میں تعلیم سے متعلق تمام شعبہ جات کی تعداد تقریباً 70 ہیں۔ یہاں پر عصر حاضر کی عالمی  جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے تمام  شعبے    جیسے  میڈیکل  سائینس'  جامعہ ازہر میں  موجود ہیں،  اور دینی تمام قسم کے شعبے  مثلاً تفسیر اور علوم قرآن، حدیث اور علوم حدیث،، فقہ اور اصول فقہ، کلام اور عقیدہ، دعوہ، اسلامی معاشیات، بینکاری، تجارت، عربی زبان و ادب، تصوف، تربیت، سیرت، قراءت و تجوید، افتاء، فکر جدید اور مطالعہ غرب، استشراق و تبشیر، تقابل ادیان اور اسلامی ثقافت و حضارت وغیرہ سب کے سب تخصصات بحمد اللہ تعالی جامعہ ازہر میں موجود ہیں۔

مصری  طلبہ کے لیے  نرسری 2 سال، پرائمری 6 سال اور ثانویہ یعنی ہائی اسکول 3 سال، اس کے بعد کلیہ یعنی بی اے 4 سال (بی اے کچھ کلیات میں 5 سال کا بھی ہے)پھر  ایم اے 4 سال جس کے اخیر کے 2 سال میں 400 ؍500 صفحہ کا رسالہ لکھوایا جاتا ہے، اس کے بعد پی ایچ ڈی کم از کم 3 سال کی ہوتی ہے اس میں بھی کسی موضوع پر رسالہ لکھوایا جاتا ہے۔غیر ملکی طلبہ کے لیے نرسری اور پرائمری تو نہیں ہے، البتہ ان کے لیے ایک اضافی شعبہ ’’ معھد الدراسات الخاصۃ للغۃ العربیۃ لغیر الناطقین بہا‘‘ اور’’ مرکز تعلیم اللغۃ العربیۃ للوافدین‘‘ ہے، جس میں غیر ملکی طلبہ(جو مصر میں بغیر کسی معادلہ کے تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں) شروع میں عربی زبان سیکھنے کے لیے داخل ہوتے ہیں، باقی ان کے دوسرے مراحل بھی مصری طلبہ ہی کی طرح ہوتے ہیں، ہاں ایک بات اوران سے مختلف ہوتی ہے وہ یہ کہ وافدین کو کلیہ کے مرحلہ میں ہر سال کم از کم ایک پارہ حفظ کرکے اس کا تحریری و تقریری امتحان دینا لازمی ہوتا ہے، مگر مصر ی طلبہ کا معاملہ ان سے مختلف  اس  لئے ہوتا  ہے کہ ان مصری طلبہ  کو ہر سال ساڑھے سات پارے حفظ کرکے اس کا تحریری و تقریری امتحان دینا ضروری ہوتا ہے،اور اس طرح مصری طلبہ کلیہ کے مرحلہ میں ہی حافظ قرآن ہو جاتے ہیں، یہ جامعہ ازہر کا تمام اسلامی جامعات کے درمیان خاص وصف اور طرئہ امتیاز ہے،


 اس کے علاوہ جامعہ ازہر میں سہ ماہی ’’دورہ تدریبیہ‘‘ جسے ’’ ائمہ کورس‘‘ بھی کہتے ہیں، ملک اور بیرون ملک کے لیے مسلسل پورے سال رواں دواں رہتا ہے، اس میں تمام اسلامی مضامین، اسلامی معاشیات و اقتصاد، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور دیگر تمام اسلامی موضوعات پر لیکچرز ہوتے ہیں، ہم یہاں پر مرحلہ ثانویہ(ہائی اسکول)، کلیات(بی اے)، ماجستیر(ایم اے) اور دکتوراہ(پی ایچ ڈی) کا تفصیلی منہج پیش کر تے ہیں:دراسات علیا : (ایم اے، وپی ایچ ڈی):ایم اے و پی ایچ ڈی کے ابتدائی دو سال میں تقریباً کلیہ کے تخصص والے ہی مواد ہوتے ہیں البتہ بحثیں مختلف ہوتی ہیں، اس میں مطالعہ، بحث اور مصادر و مراجع کی طرف کثرت سے رجوع اور محنت و مشقت کلیہ سے بہت زیادہ مطلوب ہوتی ہے، ایم اے کا دو سال پاس کرنے کے بعد ایم اے کا مقالہ کسی خاص موضوع پر لکھنا ہوتا ہے، اس کی مدت کم از کم دو سال ہوتی ہے جسے ’’ رسالۃ التخصص الماجستیر‘‘ کہتے ہیں، پاک و ہند میں اسے ایم فل کا درجہ دیا جا تا ہے،اس کے بعد پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’رسالۃ العالمیۃ الدکتوراۃ‘‘ لکھنا ہوتا ہے جس کی مدت کم از کم تین سال ہوتی ہے، تقریباً تمام کلیات کے دراسات علیا کا یہی طریقئہ کار ہوتا ہے۔

شبرا مصر کے معھد القراء ات میں دو سال عام تجوید کے بارے میں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، پھر تین سال عالیہ اور تین سال کے تخصص کا مرحلہ طے کرنا ہوتا ہے، اس طرح یہ آٹھ سال کا تجوید و قراء ت کا کورس ہے، اس کے علاوہ کلیۃ القرآن الکریم طنطا میں(بی اے ) چار سال، دراسات علیا (ایم اے ) چار سال اور(پی ایچ ڈی ) یعنی ڈاکٹریٹ تین سال کروایا جاتا ہے-کتب خانہ جامعہ الازہر ایک عظیم کتب خانہ ہے جو مسلمانوں کے لیے اور پوری دنیا کے لیے علم کا ڈھیروں خزانہ محفوظ کیے ہوئے ہے۔س کی لائبریری کو صرف دار الكتب والوثائق القومية کے لیے مصر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ الازہر مطبوعات کے تحفظ اور ان کی آن لائن ("الازہر آن لائن پراجیکٹ") کو شائع کرنے کے لیے تاکہ آخرکار لائبریری کے پورے نایاب مخطوطات کے مجموعہ تک آن لائن رسائی شائع کی جاسکے، جس میں تقریباً سات لاکھ صفحات پر مشتمل مواد شامل ہے

1 تبصرہ:

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر