بدھ، 10 ستمبر، 2025

یہ لاش کہہ رہی ہے 'اب معاف کردو

 



 یہ کہانی اس محبت کی کہانی ہے جس کا انجام وہی ہوا جو پاکستانی سماج میں ہوتا ہے اور ہوتا چلا آ رہا ہے انگریز نے ستی کی رسم پر موت کی سزا رکھی تھی اور ان چند لوگوں کوموت کے گھاٹ اتارا بھی تھا جنہوں خفیہ طریقے سے عورت کو ستی کیا تھا پھر وہ قانون آج تک رائج ہے-لیجئے میں کہاں آ گئ بات ہو رہی ہےکوہستان میں گلیشیئر سے ملنے والی 28 برس پرانی لاش جس کی تدفین کے لیے جرگے کی مدد سے ’جنگ بندی‘ کروانا پڑی-تو اس جنگ کا آغاز ہوا تھا محبت کے ماروں کی موت سے جن  کے گھر کا نوجوان  غیرت کی رسم میں مارا گیا تھا اور مقتول کے گھر والوں نے کہا تھا 'ہم انتقام لیں گے اور پھر یہ انتقام آج تک ٹھنڈا نہیں ہو ا-پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے دورافتادہ پہاڑی علاقے ’پالس‘ کے رہائشی نصیر الدین لگ بھگ 28 برس قبل جب ’خاندانی دشمنی‘ اور اپنی ’جان کو لاحق خطرات‘ کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے سے فرار ہو رہے تھے تو شاید اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ فرار کی اِس کوشش کے دوران نا صرف وہ اپنی جان سے جائیں گے



بلکہ اُن کی میت ملنے میں بھی 28 برس کا عرصہ لگے گا اور یہی برسوں پرانی ’خاندانی دشمنی‘ اُن کی میت کی اپنے ہی آبائی علاقے میں تدفین کی راہ میں حائل ہو جائے گی۔جون 1997 میں پالس کی وادی ’لیدی‘ کے برف پوش پہاڑوں میں لاپتہ ہو جانے والے نصیرالدین کی کہانی ناقابل یقین لگتی ہے۔ نام نہاد غیرت کے نام پر ہونے والے ایک قتل اور اس کے بطن سے جنم لیتی ’خاندانی دشمنی‘ نے 28 برس قبل نصیر الدین کو اپنا آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھااپنی ’جان کے خوف‘ سے اپنے آبائی علاقے سے ’فرار‘ ہونے والے نصیر الدین کے ہمراہ اس سفر میں اُن کے چھوٹے بھائی کثیرالدین بھی تھے۔ دونوں بھائی الگ الگ گھوڑوں پر سوار تھے اور جلد از جلد علاقے سے نکل جانا چاہتے تھے۔کثیرالدین کے مطابق ’وادی لیدی‘ کے برف پوش پہاڑوں پر سفر کرتے ان بھائیوں پر جب ’مخالفین کی جانب سے‘ فائرنگ کی گئی تو نصیرالدین وہاں موجود ایک گلیشیئر میں بنے برفانی غار میں چلے گئے اور ان سے بچھڑ گئے۔کثیرالدین کے مطابق فائرنگ تھمنے کے بعد انھوں نے اپنے بھائی کو بہت تلاش کیا مگر وہ نہ مل سکے۔ 28



 برس بعد یہ کہانی ایک دفعہ دوبارہ اُس وقت زندہ ہوئی جب اسی علاقے میں ایک گلیشیئر پگھلنے کے نتیجے میں نصیرالدین کی برف میں دبی لاش برآمد ہوئی۔مال مویشی چرانے والے ایک شخص کو یہ لاش یکم اگست 2025 کو ملی جو ’نا صرف ٹھیک حالت میں تھی بلکہ اس کی جیب میں موجود شناختی کارڈ بھی درست حالت میں تھا۔‘جیسے ہی لاش کو ڈھونڈنے والے شخص کی ’پالس‘ واپسی ہوئی تو یہ خبر ’جنگل کی آگ‘ کی طرح پھیل چکی تھی کہ گلیشیئر کے نیچے سے نصیر کی لاش 28 سال بعد مل چکی ہے مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ اُنھیں دفنایا کہاں جائے کیونکہ وہ ’خاندانی دشمنی‘ جس کے ڈر سے نصیر اپنے آبائی علاقے سے نقل مکانی کر گئے تھے، وہ دونوں خاندانوں کے بیچ آج بھی جاری ہے اور ان کے اہلخانہ کے لیے اس علاقے میں جانا ممکن نہیں تھا۔لاش کی آبائی علاقے میں واپسی، تدفین کی کہانی اور بیٹے کا غم یہ وہ وقت تھا جب پالس کے اہلِ علاقہ سامنے آئے تو اس ناقابل یقین کہانی میں موجود انسانی المیے کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ’دشمن‘ خاندانوں میں ثالثی کی۔جرگہ بٹھایا گیا اور بحث کے بعد دونوں حریف خاندان 10 اگست تک حد بندی (جنگ بندی) پر متفق ہو گئے۔ 



یہ طے پایا کہ اس عرصے کے دوران کوئی فریق دوسرے پر حملہ آور نہیں ہو گا، نصیر کی اپنے علاقے میں تدفین کی جائے گی اور ان کے اہلخانہ تعزیت کے لیے آنے والوں سے ملیں گے۔اس فیصلے کے بعد نصیر الدین کی لاش کو بدھ (پانچ اگست) کی صبح پالس پہنچایا گیا جہاں اُن کی قبر پہلے سے تیار تھی اور نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد وہاں اُن کی تدفین کر دی گئی۔نصیر الدین نے سوگوران میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کو چھوڑا ہے۔ نصیر الدین کے بیٹے نعیم جب اپنے والد کی میت لے کر وادی لیدی سے پالس پہنچے تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے لیے خاندانی دشمنی کی وجہ سے اپنے آبائی علاقے میں دن کی روشنی میں آنا مُمکن نہیں تھا۔میں  یہاں پہلے بھی آتا تھا مگر دن کی روشنی میں نہیں۔ اب والد کی لاش کے ساتھ آیا ہوں، جرگے کی کوشش اور جنگ بندی کی وجہ سے اپنے علاقے میں دن کی روشنی میں قدم رکھنا مُمکن ہوا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے برسوں کے بعد اپنے والد کے ساتھ اپنے آبائی علاقے کے اس سفر کی تکلیف الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتی۔ دشمنی کی وجہ سے اپنے علاقے میں نہیں رہ سکے۔


مگر والد آبائی علاقے میں سپردِ خاک کرنا کسی حد تک سکون کا باعث بنا کہ چلو انھیں اپنی مٹی تو نصیب ہوئی۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمیں والد کی تدفین بھی کرنا تھی اور جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری بھی۔ والد کو ایک مرتبہ پھر یہاں پالس میں اکیلے چھوڑ کر ہمیں 10 اگست کو اس علاقے سے چلے جانا ہے۔‘معاہدے کے ’ضامنوں‘ کا بھی کہنا ہے کہ جنگ بندی 10 اگست تک ہی جاری رہے گی اس کے بعد کسی کی کوئی ضمانت نہیں۔تدفین کا معاہدہ کیسے ہوا؟دونوں حریف خاندانوں کے درمیان نصیرالدین کی تدفین کی غرض سے معاہدہ کروانے والے جرگے کے سربراہ حریف گُل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نصیر الدین کے خاندان کی دشمنی یہاں برسوں پرانی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے جس کو حل کرنے کی ماضی میں بھی کوششیں کی گئیں اور یہ کوششیں اب بھی جاری ہیں۔‘’جب 28 سال بعد نصیر الدین کی لاش ملی تو اُن کے خاندان والوں نے ہم سے رابطہ کیا اور گزارش کی کہ کوئی ایسا معاہدہ ہو جائے کہ ہم نصیر کا جنازہ اور تدفین اپنے آبائی علاقے کروا سکیں۔ اس پر ہم نے کوشس کی، جرگہ منعقد کیا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یہ طے پایا کہ نماز جنازہ اور پھر تعزیت کی غرض سے دونوں خاندانوں میں 10 اگست تک جنگ بندی ہو گی اور اس دوران دونوں خاندان ایک دوسرے پر کوئی بھی حملہ نہیں کریں گے۔

پانی کی منہ زوری اور عوام کی بے بسی

 

     پنجاب حکومت نے آٹھ اضلاع میں فوج کو مدد کے لیے بُلا لیا ہے-ہر طرف  دلخراش مناظر ہیں    امدادی  کیمپوں میں  لوگ  ایک   ایک وقت کے کھانے پر گزارہ کر رہیں  اور پانی ہے کہ منہ زوری کے ساتھ چڑھا چلا آ رہا ہے دریائے راوی میں جموں و کشمیر سے آنے والے پانی سے پاکستان کے ضلع نارووال کے درجنوں دیہات بھی زیرِ آب آ گئے ہیں۔دریائے راوی نارووال کی تحصیل شکر  گڑھ کے گاؤں کوٹ نیناں کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ دوسری طرف انڈیا سے ایک نالہ 'اوج' بھی آتا ہے جو اسی مقام پر دریائےِ راوی میں شامل ہوتا ہے۔مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں کے مطابق دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث نارووال کے لگ بھگ 35 سے 40 چھوٹے بڑے گاؤں زیرِ آب ہیں۔ضلع نارووال دو طرح سے سیلابی پانی سے متاثر ہو رہا ہے، ایک جانب تو دریائے راوی کے پانی سے اور دوسری جانب ان نالوں سے جو جموں و کشمیر سے آتے ہیں اور راوی میں ملتے ہیںنارووال سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی راحیل نے بتایا کہ راوی میں آنے والے سیلابی ریلے ہی کے باعث گرودوارہ کرتارپور صاحب کی عمارت کئی فٹ پانی میں ڈوب چکی ہے۔ جبکہ نارووال سے شکر گڑھ جانے والی سڑک کا بھی تین سے چار کلومیٹر تک کا حصہ سیلابی پانی میں ڈوب چکا ہے۔



جبکہ اس کے آس پاس کے دیہات مکمل زیرِ آب ہیں۔جموں و کشمیر سے آنے والے نالوں کی وجہ سے نارووال کی تحصیل ظفر وال میں درجنوں دیہات زیرِ آب ہیں۔ یہاں موجود ایک بڑا قصبہ 'کنجروڑ' جس کی آبادی بیس ہزار کے لگ بھگ ہے، کو اس وقت شدید سیلاب کا خطرہ ہے۔دوسری جانب نالہ ڈیک میں طغیانی کے باعث بھی ظفروال کی صورتحال مخدوش بن رہی ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق نالہ ڈیک پر حفاظتی بند متعدد مقامات سے ٹوٹ چکے ہیں جبکہ ہنجلی کے مقام پر موجود پُل بھی مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔نالہ ڈیک اس وقت سیالکوٹ کے بعض دیہی علاقوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ چونڈہ سے ظفر وال جانے والی سڑک بھی اسی نالے میں سیلابی صورتحال کے باعث بڑی حد تک متاثر ہوئی ہے۔دریائےِ راوی میں سیلابی صورتحال شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کو بھی متاثر کر رہی ہے، جبکہ اسی دریا نے فیصل آباد کے علاقے تاندلیاوالہ اور ضلع ساہیوال کو بھی متاثر کیا ہے۔


 


ننکانہ صاحب کے مقامی صحافی جاوید احمد کے مطابق روای کے سیلابی پانی سے ہیڑے، جٹاں داواڑہ، نواں کوٹ، خزرہ آباد اور لالو آنہ کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح شیخ داٹول، گجراں دا ٹھٹہ، کھوہ صادق، ڈیرہ حاکم، ڈیری مہر اشرف کی آبادیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔اوکاڑہ کا موضع جندراکہ، جس کی آبادی 30 ہزار سے زائد ہے، جہیڈو اور جھنڈومنج میں بھی دریائے روای سے آنے والا سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کا بھی دریائے راوی کی طغیانی سے متاثر ہونے کا امکان ہے اور مقامی حکام کے مطابق اس کے متعدد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں۔مقامی صحافی محمد احسان کے مطابق مقامی حکام بتا رہے ہیں کہ راوی کے کنارے پر آباد سو سے زائد چھوٹی بڑی آبادیوں بشمول بستی جموں ڈولوں، جلی تریانہ، جلی فتیانہ، ماڑی پتن، شیرازہ، ٹھٹھہ ڈوکاں وغیرہ کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔نارووال-دریائے راوی نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کے گاؤں کوٹ نیناں کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوتا ہے


 

دریائے چناب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں سیالکوٹ، منڈی بہاوالدین، سرگودھا، گجرات، وزیر آباد، حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ شامل ہیں۔ ان اضلاع کی حد تک چناب کے پانی کی شدت تھوڑی زیادہ رہتی ہے۔وزیر آباد کے مقامی صحافی عقیل لودھی کے مطابق چناب کا پانی فی الوقت وزیر آباد شہر کو متاثر کر رہا ہے،  ۔ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے انتہائی شمال میں واقع علاقہ بجوات جو دریائے چناب اور دریائے توی کے وسط میں واقع ہے، سیلاب سے شدید متاثر ہے۔ اس میں لگ بھگ ستر کے قریب دیہات آتے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق سیالکوٹ شہر کو ان دیہاتوں سے ملانے والا راستہ مکمل طور پر زیر آب ہے۔منڈی بہاؤ الدین سے تعلق رکھنے والے مقامی زمیندار و کاروباری شخصیت فرحان وڑائچ کے مطابق منڈی بہاؤ الدین کے علاقے قادر آباد، فرخ پور بھٹیاں، کالاشادیاں، باری، رنڈیالی، ملہیاں، جوکالیاں، کھسرلونگ، سعداللہ پور، کامونکی، چاڑکی، بھابڑا، لاکھا کدھر متاثرہو رہے ہیں -



پنجاب میں سیلاب کے باعث اب تک کئ  اموات ہوچکی ہیں سیانے کہہ رہے ہیں ' ذرا سیلاب گزرنے دیں اور پانی اترنے دیں ۔ چیزوں کی قیمتیں آسمان کو چُھوئیں گی ۔ مرغی ، گوشت ، مچھلی ، گندم ، سبزیاں ، چارہ اور دیگر استعمال کی اشیاء بہت مہنگی ہو جائیں گی۔ اس کی وجہ لوگوں کی بد دیانتی کے ساتھ ساتھ زمینی حقائق بھی ہونگے ۔ ظاہر ہے اتنے بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب سے بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا ۔ فصلیں تباہ ہونگی ، کسان سب سے بڑا متاثر طبقہ ہوگا ۔ اجناس ، خوراک کے ذخیرے ضائع ہونے کا الگ سے اثر پڑے گا ۔ چارہ ، ونڈا ، کھل اور خوراک مہنگے ہونے سے پروڈکشن کاسٹ بڑھے گی ۔ جانور ، مرغیاں ، مچھلیاں مرنے سے ، خوراک مہنگی ہونے سے سپلائی اور ڈیمانڈ کا توازن بگڑ جائے گا اور سب سے زیادہ عام شہری متاثر ہوگا ۔ہم اس وقت سیلاب کے علاقے سے کوسوں دور بیٹھے ہیں اور ابھی سے ، میری نظروں کے سامنے اس سیلاب کی "تپش" محسوس ہونے لگی ہے ۔ رہ گئے سیلاب زدہ علاقے تو وہ تو پھر ایک لمبے عرصے تک تبدیل ہوکر رہ جائیں گے ۔اللّٰہ کرے ایسا نہ ہو مگر ہم نے سیلاب کو عملاً بھگتا ہے اور ان باتوں کا تجربہ کرکے بیٹھے ہیں

یہ تحریر انٹرنیٹ سے لی ہے 

منگل، 9 ستمبر، 2025

کیا کراچی سرکلر ریلوے پھر سے بحال ہو سکے گی





 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں تک کراچی سرکلر ریلوے اپنے عروج پر تھی۔ روزانہ 104 ٹرینیں چلتیں جن میں سے 80 مرکزی لائن پر جب کہ 24 لوپ لائن پر چلتی تھیں۔ لیکن " پنجاب پولیس اور پنجاب ٹرانسپورٹ مافیا" کی سازشوں کی بدولت 1999ء میں کراچی سرکلر ریلوے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ بحالی کی کوششیں ابھی تک بارآور نہیں ہو سکیں۔  کراچی کی    یہ لوکل  ٹرین ڈرگ روڈ ریلوے اسٹیشن اور لیاقت آباد سے ہوتی ہوئی کراچی  ریلوے اسٹیشن پر ختم ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان ریلویز کی مرکزی ریلوے لائن پر بھی دو روٹس یعنی کراچی شہر سے لانڈھی اور کراچی شہر سے ملیر چھاؤنی کے درمیان 28 لوکل ٹرینیں چلتیں تھیں۔ اس کے پہلے مرحلہ پر 3 کروڑ 88 لاکھ روپے لاگت آئی اور پہلے ہی سال کراچی سرکلر ریلوے کو اس دور کا 5 لاکھ روپے کا منافع بھی ہوا تھا۔  جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) نے کراچی سرکلر ریلوے کیلئے تقریبا ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تاہم جائیکا نے اس منصوبے کو اپنی زیر نگرانی سخت مانیٹرنگ سے مشروط کردیا 



  ظاہر ہے کہ بدعنوانوں کے رہتے تو ممکن ہی نہ تھا۔  اس لئے یہ بہترین منصوبہ داخل دفتر ہو گیا 2013 ءمیں سابق وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کیلئے 2.6 ملین امریکی ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی جس میں کئی نئے اسٹیشن اور ان اسٹیشنوں کے مطابق کئی نئے بس روٹس چلانے کا اعلان بھی کیا گیالیکن ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر نہ جانے کن وجوہات کی بنا ءپر یہ منصوبہ کھٹائی کا شکار ہوگیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر سرکلر ریلوے کو سی پیک منصوبے کا حصہ بناتے ہوئے اسے تین برسوں میں تکمیل تک پہنچانے کا عندیہ دیا گیا اس منصوبے پر تقریباً 270 ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ۔وزارت پلاننگ کے مطابق کراچی سرکلر ریلوے کیلئے 43 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پچھایا جائے گا۔یہ منصوبہ حکومت سندھ اور چین کو مکمل کرنا تھا جبکہ اس منصوبے کی نگرانی وزارت پلاننگ کی ذمہ داری تھی۔


 سرکلر ریلوے منصوبے کے تحت اوسطا ایک سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر کل 24 اسٹیشن بنائے جانے کی بات کی گئی تاہم یہ منصوبہ بھی التواءکا شکار ہوگیا۔ اب سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں حکم نامہ جاری کیا ہے ،تجاوزات کے خلاف کامیاب آپریشن کو دیکھتے ہوئے اس بات کی اُمید انتہائی روشن ہے کہ سپریم کورٹ کے اس حکم پر بھی عمل درآمد ہوگا اور کراچی کی کم از کم سات لاکھ عوام کوسرکلر ریلوے کی صورت میں سفری سہولیات میسر آسکیں گی۔کراچی دنیا کے گنجان ترین شہروں میں سے ایک ہے، جس کی موجودہ آبادی (محتاط اندازے کے مطابق) تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ ہے جو ٹوکیو، نئی دہلی، ممبئی، نیویارک، میکسیکو سٹی، منیلا اور جکارتہ سے زیادہ ہے۔کراچی کی یہ آبادی 2030ءتک 3کروڑ 34 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے


 لہٰذااس منصوبے کی تکمیل سے  ایک جانب سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں تو دوسری جانب اس شہر کے باسیوں کی سفری مشکلات کو دور کرنے کیلئے بھی وقت کا تقاضا ہے کہ سرکلر ریلوے جیسے منصوبوں کا آغاز کرکے کراچی کی روشنیوں کو بحال کیا جائے، ویسے ایک اطلاع کے مطابق 24نومبر سے کراچی سے سکھر تک کیلئے سکھر ایکسپریس چلائی گئی ہے جس سے یقینا لوگوں کو فائدہ پہنچے گا ۔اس وقت سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر میں یومیہ سفر کرنے والوں کی تعداد 7 لاکھ سے زائد ہے، 24 فیصد لوگ پبلک ٹرانسپورٹ، 91 فیصد موٹر سائیکل، 1.7 فیصد کانٹریکٹ کرئیرز، 21 فیصد ذاتی گاڑیوں اور 8 فیصد لوگ پک اینڈ ڈراپ کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ ان 7 لاکھ لوگوں کیلئے 6 ہزار سے زائد بسیں تقریباً 300 روٹس پر چلتی ہیں، ان میں سے 85 فیصد بسیں پرانی اور ناقص ہیں، یوں شہر کے 42 فیصد مسافروں کا بوجھ پبلک ٹرانسپورٹ کو اٹھانا پڑتا ہے، اس مسئلے کا حل موثر ماس ٹرانزٹ سسٹم ہے اور کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی ہے۔

 

پیر، 8 ستمبر، 2025

فیڈرل "بی"ایریا کراچی کے تعلیم یافتہ لوگوں کا شہرپارٹ '2

 



انچولی شاہراہ پاکستان کے نزدیکی علاقے فیڈرل بی ایریا بلاک 17 اور 20 کو کہا جاتا ہے۔ ان دونوں بلاکس کے درمیان انچولی روڈ بھی واقع ہے، جو شاہراہ پاکستان سے النور موڑ کو جاتی ہے۔ انچولی روڈ پر شاہراہ پاکستان کے سرے پر انچولی بس اسٹاپ ہے جبکہ دوسرے سرے پر النور موڑ ہے۔ عام طور پر انچولی کا نام فیڈرل بی ایریا بلاک 20 کو دیا جاتا ہے، لیکن اہلیانِ بلاک 20 اپنے علاقے کا نام سادات سوسائٹی بتاتے ہیں۔بلاک 2کا نام مولانا محمد علی جوہر کے نام ہر جوہر آباد ہوگیا بلاک نمبر 3کا نام حسین آباد "حسین ٹیکسٹائل مل کے گجراتی مالک حسین سیٹھ کے نام پر رکھ دیا گیا اسی طرح بلاک2 اور آٹھ نمبر کا نام عزیز آباد کے ڈی اے کے ممبر لینڈ عزیزالحق  تھانوی کے نام پر رکھا گیا جنہوں نے اس بستی کو بسانے میں بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کیا تھا عزیز الحق تھانوی ممتاز عالم دین جامع مسجد جیکب لائن کے خطیب وامام احتشام الحق تھانوی کے عزیز تھے عزیز الحق تھانوی کا انتقال دسمبر 1975 میں انکی نماز جنازہ احتشام الحق تھانوی نے پڑھائی ۔



 اسی طرح بلاک نمبر 9،14اور 15کی دستگیر کالونی کہلاتی ہے ان علاقون میں مکانات تعمیر کرنے والے ادارے کانام  دستگیر کوآپریٹیو سوسائٹی تھا اور  ان کی کنسٹرکشن کمپنی کا نام دستگیر کنسٹرکشن کمپنی تھا جو پیران پیر دستگیر حضرت عبدالقادر جیلانی رح  کے نام سے منسوب کیا گیا تھا 1966کے بعد گلبرگ،سمن آباد، نصیر آباد، انچولی وغیرہ نام رکھے گئے 1970میں بلاک 16فیڈرل ایریا میں الاعظم لمٹیٹڈ نے یوسف پلازہ کے نام سے ایک بڑا رہائشی منصوبہ شروع کیا تھا ۔31سال قبل1985 میں  یہان معروف سماجی شخصیت مولانا عبدالستار ایدھی نے ایدھی میت خانہ ، غسل خانہ قائم کیا تھا فیڈرل بی ایریا کی مرکزی شاہراہ پاکستان ( سپر ہائی وے) کا شمار ملک کی قومی شاہراہ میں ہوتا ہے۔ اس سڑک کا افتتاح 29؍ اپریل  1970ء کو سابق صدر مملکت یحییٰ خان نے کیا تھا 


افتتاحی تقریب  میں گورنر مغربی پاکستا ن لیفٹیننٹ جنرل عتیق الرحمان ، وزیر صنعت حفیظ الدین، کمشنر کراچی مسعود نبی نور۔ڈپٹی کمشنر کنور ادریس، ڈی آئی جی پولیس محمد یوسف سمیت چاروں مسلح افواج کے سربراہان شریک تھے۔ افتتاحی تقریب کے بعد شاہراہ پاکستان کو کراچی اور حیدرآباد کے درمیان عام ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا تھا . سڑک لیاقت آباد نمبر ۱۰ مسجد شہدا سے شروع ہوکر براستہ کریم آباد، عائشہ منزل، واٹر پمپ، انچولی سوسائٹی سہراب گوٹھ پرختم ہوتی ہے۔ سہراب گوٹھ الاآصف اسکوائر سے حیدرآباد کے درمیان گزرنے والی سپر ہائی وےکو ایم نائین کا نام دیا گیا ہے ۔ شاہراہ پاکستان پر کریم آباد ،واٹر پمپ ، عائشہ منزل اور سہراب گوٹھ کے مقام پر فلائی اوور تعمیر کئے گئے ہیں شہر میں ٹریفک حادثات پر قابو پانے، قوانین پر عمل اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک پولیس نے شہر میں واٹر ٹینکرز اور آئل ٹینکرز کو رات ۹ بجے سے صبح ۶ بجے تک جب کہ دیگر ہیوی ٹریفک رات  سے صبح ۶ بجے تک چلائے جانے کا قانون بنایا تھا لیکن اس  پر عمل درآمد نہیں ہوسکا      


 پورے ضلع وسطی کا ایک  منفرد گراؤنڈ   ہوتا تھا جس کو سنگم گراؤنڈ کہا تھا  - اپنے ماضی میں اتوار کے دن   علاقے کے نوجوان سنگم گراؤنڈ میں کر کٹ کھیلتے تھے -سابقہ مکہ چوک، اور اب لیاقت علی خان چوک، سے تھوڑے فاصلے پر واقع 3200 سکوائر میٹر پر پھیلا یہ میدان ماضی میں سنگم سپورٹس کرکٹ کلب کے نام سے منسوب  تھا -     ۔اس گراؤنڈ میں  ایک دن کے لئے   کئ سو دکانوں کا سستا بدھ بازار بھی لگتا تھا      -پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما و سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین نے ضلع وسطی میں 6پارکوں کا افتتاح کر دیااخوت فیملی پارک کے افتتاح کے بعد بلدیہ وسطی کے محکمہ باغات کی جانب سے تعمیرِ نو کے بعد بحال کئے جانے والے باغات کی گولڈن جوبلی ہوگئی اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم نے کہا کہ سیاست سے بالا تر ہوکر ضلع وسطی کی خدمت کر رہا ہوں عوام بھی ضلع کی بحالی کے کاموں میں تعاون کریں،


پیپلز پارٹی عوامی جماعت ہے اور عوام کی خدمت اور فلاح و بہبود اس کا اوّلین ہدف ہے انہوں نے کہا کہ ضلع وسطی میں نتیجہ خیز منصوبوں اور خدمات پر ڈپٹی کمشنر طہٰ سلیم خراجِ تحسین کے مستحق ہیں اس موقع پر طحہٰ سلیم نے ڈاکٹر عاصم کی جانب سے ضلع وسطی کے عوام اور بلدیہ وسطی کے ملازمین کی فلاح و بہبود کے لئے تعاون پرشکریہ ادا کیابعد ازاں ڈاکٹر عاصم حسین نے ڈپٹی کمشنر و ایڈمنسٹریٹر ضلع وسطی طحہٰ سلیم کے ہمراہ بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار و شہنشاہ غزل مہدی حسن کے نو تعمیر مقبرے پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی اور مہدی حسن کے لواحقین سے ملاقات بھی کی۔افتتاح کیے جانے والے پارکس میں راہ عمل پارک ناظم آباد نمبر3،رانی باغ نارتھ ناظم آباد بلاک H،عثمان غنی پارک گلبرگ بلاک 9،شریف شہید پارک سیکٹر 5E نیو کراچی، اخوت فیلمی پارک ناظم آباد نمبر1،KDA چورنگی پارک نارتھ ناظم آباد اور بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار مہدی حسن کے مقبرے کی تعمیر نو بھی شامل ہیں۔

فیڈرل "بی"ایریا کراچی کے تعلیم یافتہ لوگوں کا شہرپارٹ 1





  فیڈرل بی ایریا 'کراچی میں تعلیم یافتہ شہریوں کی بستی' یہ میرا   تجزیہ نہیں بلکہ کراچی میں تعلیم کا اوسط نکالنے والی ٹیم کا کہنا ہے  -میرے شوہر بتاتے تھے کہ جب پاکستان بن  چکا اور  ان کا خاندان  جانیں بچانے کے لئے پاکستان وارد ہو ا  'اس وقت  میرے شوہر کی عمر دس برس تھی اور وہ پانچویں جماعت  میں  انگلش اسکول میں پڑھ رہے تھے  لیکن  پاکستان آنے کے بعد ان  کا  داخلہ بھی نہیں کیا جاسکا  کیونکہ اب گھر بھر کی کفالت  کے لئے میرے شوہر کو کریانہ کی  دکان سنبھالنی پڑی  اس دوران میرے شوہر کی والدہ  ہجرت کی افتاد برداشت  نہیں کر سکیں اور ہجرت کے  دو برس بعد  ہی خدا کے گھر چلی گئیں لیکن اپنی آخری سانس سے پہلے انہوں نے میرے شوہر کو اپنے پاس بلایا  اور سونے کے  وہ دو گنگن    جنہیں وہ بچا کر ساتھ لائیں تھیں  ان کے ہاتھ میں دیتے ہوئے وصیت کی کہ ان کنگنوں کی لاج رکھنا اور  انہیں بیچ کر  اسکول میں داخلہ لے لینا -میرے شوہر نے ان کی وصیت کی لاج رکھی اور خود بھی تعلیم حاصل کی اور اپنے بچوں کو بھی اعلیٰ پروفیشنل تعلیم دلوائ


    اگست  1947 میں قیام  پاکستان  کے وقت مختلف ہندوستانی شہروں، قصبوں اور دیہاتوں سے لاکھوں کی تعداد میں مسلم مہاجرین نوزائیدہ ملک پاکستان ہجرت کرکے آئے۔  ہندوستان  میں پنجاب سے  ہجرت   کر کے آنے والے پاکستان کے پنجاب میں آباد ہوئے جبکہ تھر پار کر سے آ نے والے کراچی  میں  آباد ہوئے    ان دنوں شہر کراچی میں  ایک لاکھوں مہاجرین    نے بے سر و سامانی کے عالم   میں سر چھپانے کے لئے  جھگیوں   سے اپنے نشیمن بنا کر ان میں  پناہ لی   - لیکن  یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے  اپنی بے سروسانی کے باوجود  مہاجرین نے اپنے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ  دی  اس خصوصی توجہ کا یہ ثمر کہ آج الحمد للہ مہاجروں میں تعلیم کا تناسب زیادہ ہے -اور انکی تعلیم میں اس دور کے تمام اسا تذہء کرام کا -بھرپور کردار ہے جنہوں نے رنگ نسل کے امتیاز کے بغیر ہماری نسلوں کی تعلیمی آبیاری کی علی کوچنگ سنٹر سیفی کوچنگ سینٹر  عزیز آباد کے علاقے کے نامور کوچنگ سینٹر ہوا کرتے تھے  دہلی کالج کریم آباد  کمپری ہنسیو  اسکول  کے اساتذہ  کی      تعلیمی خدما ت کے بغیر  ہمارے طالب علم نامور ہو ہی نہیں سکتے تھے  ان اساتذہ نے ہمارے قوم کے بچوں  تراشہ  'سنوارا  اور ان کو مستقبل کا معمار بنا دیا اور بلا شبہ بچوں نے بھی ان کی محنت کا بھر پور صلہ دیا-انہوں نے بہترین رزلٹ کے لئے  اپنے کھیلنے کی شامیں کوچنگ سینٹرز کو دے  دیں 


   اب کچھ ضلع وسطی کی آبادیوں کے بارے میں   قیام پاکستان کے وقت  شہر سے  گزرنے والی  حب ندی کے کنارے  آبادی صرف تین ہٹی تک تھی  پھر جو مہاجروں کا سیلاب بے کراں وارد ہوا  تو  آبادی لالو کھیت نمبر دس تک آ پہنچی ۔ سنہء 1953 وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی حکومت نے کراچی امپروومنٹ ٹرسٹ    کے بینر تلے     بھارت سے ہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کی آباد کاری کے لئے "منصورہ" کے نام سے مختلف قطعات پر مشتمل ایک عظیم رہائشی منصوبہ تشکیل دیا ۔جو گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ منصورہ کے بجائے فیڈرل بی ایریا کے نام سے زیادہ معروف ہوگیا اس رہائشی منصوبے کا باقاعدہ آغاز صدر پاکستان کے حکم نمبر ۵مجریہ دسمبر ۱۹۵۷کے تحت قائم کئے جانے والے ادارہ ترقیات کراچی کو سونپا گیا تھا اس وقت یہ ادارہ  کراچی امپروومنٹ ٹرسٹ ، کراچی جوائنٹ واٹر بورڈ ۔پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ ، اور وزارت بحالیات کا جانشین تھا فیڈرل بی ایریا کا رقبہ  ہزاروں ایکڑ پر ہے اور کئ ہزار قطعات پر مشتمل ہے 


یہ قطعات 120 گز سے لیکر ایک ہزار گز تک ہیں ان میں سے 353قطعات صنعتی علاقے کے لئے اور  707قطعات تجارتی مراکز کیلئے اور ۱۰۱قطعات شہری سہولتوں کے لئے مختص کئے گئے تھے    ۔1985   میں علاقے کے نوجوانوں نے فیڈرل بی ایریا کا نام گلستان مصطفی رکھنے کی تحریک چلائی تھی -اس وسیع علاقہ کو بھی دارالحکومت کے لحاظ سے بسایا گیا تھا ۔ لیکن 1960 میں کراچی کے بجائے اسلام آباد کو دارالحکومت کا درجہ دینے کے باعث یہ علاقہ وہ مقام نہ پاسکا جس مقصد کے تحت اسے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے بسایا گیا تھا۔ فیڈرل بی ایریا  کو انتظامی لحاظ سے 22مختلف بلاکوں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جس میں بلاک21/22 صنعتی علاقوں کی حیثیت سے مختص ہیں۔اس کے علاوہ یہان 102سوسائٹیاں بھی ہین جن میں الاعظم ، کریم آباد، دستگیر کالونی ،عزیز آباد نمایاں ہین کے ڈی اے اسکیم نمبر ۱۶فیڈرل بی ایریا میں بلاک نمبر ۱اور 2میں پہلے تعمیراتی کام کا آغاز ہوا تھا


یہان ضروریات زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے  گز120کے  مکانات تعمیر کئے گئے تھے دوکمروں باورچی خانہ ،غسل خانہ اور بیت الخلاء پر مشتمل کوارٹر کی قیمت پہلے 7500اور پھر کم کرکے5500کردی گئی تھی بلاک نمبر ایک کے مکانات ایک پرائیوٹ تعمیراتی  کمپنی نے تیار کئے تھے اس کمپنی کے مالک شریف چوہان اسی علاقے کے رہائشی تھے لہذ ا انھوں نے 1966میں ازخود اس  کا نام  شریف آباد رکھ دیا ابتداء میں صرف ان کے بنائے ہوئے مکانات ہی اس نام سے پہچانے جاتے تھے پھر آہستہ آہستہ اس نام سے پورا علاقہ مشہور ہوگیا  انچولی (انگریزی: Ancholi)، پاکستان کا ایک رہائشی علاقہ جو کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں واقع ہے، یہ رہائشی علاقہ ضلع وسطی میں شامل ہے اور گلبرگ ٹاؤن کا بھی حصہ تھا۔ جاری ہے


ہفتہ، 6 ستمبر، 2025

سورائسز کے امراض میں بھٹے کے بالوں سے پائیدار علاج ممکن ہے-پارٹ'2

  








 

  یہ  بات تو ہر زی شعور جانتا ہے کہ اللہ پاک قادرو قدیر نے دنیا کی کوئ بھی شئے بیکار نہیں پیدا کی  ہے  اب دیکھ لیجئے بھٹہ  جو کہ  عام سی کھانے والی شے ہے اس کے اندر سورائسز جیسی تکلیف دہ بیماری کے لئے کیسی بہترین شفا رکھی ہےبھٹے کے بالوں کی چائے تین مہینے لگاتار استعمال سے سورائسز جیسی موزی بیماری سے مکمل نجات مل جاتی ہے  بھٹے کے  اوپر پائے جانے والے سنہری بالوں کی اہمیت اور اس  (کارن سلک)کے حیرت انگیز صحت سے متعلق فائدے 'ہم جب بھی بھٹہ کھاتے ہیں  اس کے اوپر موجود    ریشمی  دھاگوں  کو بھٹے سے علیحدہ  کر کے پھینک دیتے ہیں، ان ریشوں میں صحت کا وہ انمول خزانہ چھپا ہے کہ  آپ  کو جان کر حیرانی  ضرور ہو گی کیونکہ ان ریشوں کو، جسے کارن سلک بھی کہا جاتا ہے، ایسی چائے بنائی جا سکتی ہے جو صحت کے لیے بہت سے فوائد کے ساتھ آتی ہے۔مکئی کے موسم میں  اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ مکئی کی سلک چائے کو آزمائیں گے ۔ یہ جڑی بوٹیوں والی مشروب سے لطف اندوز ہونا آسان ہے۔ چاہے آپ کسی خاص مسئلے کا علاج کرنا چاہتے ہیں، 




 

 یہاں تک کہ اگر آپ اس چائے کے وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس کی وجہ سے اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔کارن سلک کے حقائق  مکئی کے ریشم میں انتہائی موثر ہیں۔ اس میں پودوں کے تیزاب بھی ہوتے ہیں جو   جلد کی حالتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم میں گلوکوز کی سطح کو منظم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔کارن سلک کا استعمال کرنے کا سب سے عام طریقہ چائے کی شکل میں ہے۔ آپ کو یقینی طور پر اپنے گھر میں کارن سلک ٹی کو ایک اہم غذا بنانا چاہیے۔ کارن سلک ٹی اور اس کی خوبی:مکئی کی سلک چائے پر مسلسل تحقیق کی جارہی ہے اور یہ کہ یہ آپ کی صحت کو کیسے فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ اگر آپ ایک ہلکے، قدرتی علاج کی تلاش میں ہیں جو آپ کی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے، تو یہ ایک بہترین آپشن ہے جسے آپ کو ضرور آزمانا چاہیے۔ اس کا ذائقہ بہت اچھا ہے اور یہ اینٹی آکسیڈینٹس، وٹامنز اور معدنیات سے بھری ہوئی ہے۔اس میں پولی فینول بھی پائے جاتے ہیں جو کہ بہت سی بیماریوں کو دور رکھتے ہیں۔


یہ مکئی کی ریشم کی چائے کو ایک فائدہ مند مشروب بناتا ہے، چاہے آپ کسی خاص حالت کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہوں یا صرف اپنی عمومی مجموعی صحت کو بہتر بنانا چاہتے ہوں۔محققین کے مطابق کارن سلک کے دیگر فوائد بھی ہیں۔یہ پروسٹیٹ، موٹاپا، PMS اور کارپل ٹنلسنڈروم سمیت حالات کے لیے ایک مؤثر قدرتی علاج پایا جاتا ہے۔ لہذا، جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، روزانہ ایک یا دو کپ کارن سلک چائے پینے سے آپ کے جسم پر بہت سے شاندار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آپ کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مکئی کی سلک چائے بہت سے ضروری غذائی اجزاء حاصل کرنے اور بیماریوں اور بیماریوں کی ایک وسیع رینج کا علاج اور روک تھام کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔یہ ایک قدرتی علاج ہے جسے آپ اپنی روزمرہ کی خوراک کا حصہ بنانے پر غور کریں اور ایسے بہت سے فوائد حاصل کریں جو کہ دوسری غذائیں آپ کو نہیں دے سکتیں۔


مکئی کے ریشے بال کا طبی استعمال ہ و  وا کے طور پر بھی کام کرے اور اگر ہم ان کو ایک ساتھ نہیں کھا سکتے تو ہم صرف ریشم کو بطور دوا لینے کے طریقے تلاش کریں۔موٹاپے سے لڑنے میں مدد کرتا ہے:موٹاپا آج کل انسانی آبادی کے ایک بڑے حصے کو متاثر کرنے والا ایک بڑا صحت کا خطرہ ہے۔ اگرچہ موٹاپا جینیات سمیت ایک سے زیادہ عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے، کچھ لوگ جسم میں پانی کی زیادہ برقراری اور زہریلے مادوں کے جمع ہونے کی وجہ سے زیادہ وزن اٹھاتے ہیں۔چونکہ مکئی کا ریشم جسم سے اضافی پانی اور فضلہ کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے، اس لیے ایسے لوگوں کو وزن بڑھنے سے بچنے میں مدد ملے گی۔ زیادہ سے زیادہ فوائد کے لیے وہ دن میں دو یا تین بار یہ چائے پی سکتے ہیں۔ تاہم یہ خیال کرنا غلط ہوگا کہ یہ موٹاپے کا علاج ہے۔کولیسٹرول سے لڑنے میں مدد کرتا ہے:خون کے دھارے میں کولیسٹرول طویل مدت میں کئی سنگین بیماریوں کے آغاز کا باعث بنتا ہے (بشمول دل کی پیچیدگیاں)۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنا صحت مند رہنے اور دل کے خطرات سے بچنے کی کلید ہے


 مکئی کے ریشم کا استعمال کولیسٹرول کو کم کرتا ہےگاؤٹ نقرس کو کم کرتا ہے ۔ یہ گاؤٹ سے وابستہ درد کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ دن میں 3 کپ کارن سلک چائے پینے سے شروع کریں۔ ایک بار جب آپ درد سے آرام حاصل کرتے ہیں. بستر پر پیشاب نکل جانےکا علاج کرتا ہے ماہرین اس مسئلے کے علاج کے لیے سونے سے پہلے 1 کپ کارن سلک ٹی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔گردے کے مسائل سے نمٹنے میں مدد کر  تا  ہے ، بشمول دردناک پیشاب، پیشاب کی نالی کا انفیکشن، مثانے کا انفیکشن، پیشاب کے نظام کی سوزش، گردے کی پتھری۔گردے کی پتھری چھوٹے کرسٹلائزڈ ذخائر سے بنی ہوتی ہے جو درد اور جھنجھلاہٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ گردے کی پتھری کو روکنے کے لیے مکئی کا ریشم قدیم زمانے سے استعمال ہوتا رہا ہے۔ مکئی کے ریشم کا استعمال پیشاب کے بہاؤ کو بڑھا تا ہے اور گردے میں تلچھٹ بننے کے امکانات کو کم کر سکتا ہے، جو کہ آخر کار گردے کی پتھری کا باعث بن سکتا ہے۔ تاہم، یاد رکھیں کہ اس کے استعمال سے گردے کی پتھری کا علاج نہیں ہوگا جو پہلے سے موجود ہیں۔وٹامن سی فراہم کرتا ہے:مکئی کی ریشہ بالوں کی چائے سے آپ کو وٹامن سی کی بھرمار ملتی ہے۔ یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو فری ریڈیکلز اور قلبی امراض کے نقصان کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔ یہ خون کی گردش کو بھی متحرک کرتا ہے، جو جسم کے تمام اہم اعضاء کے بہترین کام کے لیے ضروری ہے۔- 

جمعہ، 5 ستمبر، 2025

سورائسز کے امراض میں بھٹے کے بالوں سے پائیدار علاج ممکن ہے -پارٹ'1

 

  مرض کوئ بھی ہو   بہر حال تکلیف دہ ہو  تا ہے لیکن   جلدی بیماری کا  بہت تکلیف دہ  ہوتی ہے -سورائسز  ایک جِلدی بیماری ہے، جسے چنبل بھی کہا جاتا ہے۔پاکستان میں اس مرض کے پھیلائو کی شرح آبادی کے اعتبار سے اندازاً 5فی صد، جب کہ پوری دُنیا میں اوسطاً 2تا3فی صد پائی جاتی ہے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سورائسز متعدّی مرض ہے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔سورائسز کی کئی اقسام ہیں۔ایک قسم جس میں عام طور پرکمر اور سینے پر سُرخی مائل بارش کے قطرے کی مانند 2سے3ملی میٹر حجم کے دائرے (جن پر چھلکے بنے ہوتے ہیں) نمودار ہوکرخارش کا سبب بنتے ہیں۔ ایک اور قسم میں یہ مرض بغل، جوائنٹس  اور زیریں سینے میں ظاہر ہوتا ہے،جس سےمتاثرہ جگہ سُرخی مائل ہوجاتی ہے، مگر چھلکے نظر نہیں آتے۔ سورائسز کی سب سے عام قسم میں سُرخی مائل دائروں میں چاندی کی مانند چمکتے باریک چھلکے پائےجاتے ہیں زیادہ تر مریضوں کو ان میں خارش محسوس ہوتی ہے۔ اس قسم میں مرض سَر، گردن، کلائی، ٹانگ، ناف کے گرداور کولھوں کو متاثر کرتا ہے۔

1

مرض کی شّدت کبھی کم اور کبھی بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ کھجانے پر نقطے کے برابر خون نظر آتا ہے۔ بعد ازاں، چھلکے والی جگہ خشک ہو جاتی ہےاس مرض میں جسم پر لال رنگ کے چمک دار چھلکوں کی مانند اُبھار بنتے ہیں، جو کھجانے پر جَھڑ جاتے ہیں۔ یہ مرض لاحق ہونے کے کئی اسباب ہیں، جن میں موروثیت، مدافعتی نظام کی کم زوری، گلے کا انفیکشن، انجیکشنز کے اثرات، ملیریا کی چند ادویہ، کوئی چوٹ، ذہنی دباؤ اور سورج کی تمازت وغیرہ شامل ہیں۔سورائسز کا مرض شیرخوار بچّے سے لےکرستّر سال کے معمر فرد کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔سورائسز کی ایک اور قسم میں ہتھیلیوں اور تلووں پر پیپ بھرے خارش والے دانے بن جاتے ہیں،جن سےمریض کے لیے چلنا پھرنا، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا اور دیگر ضروری امور انجام دینا خاصامشکل امر بن جاتا ہے۔بعض اوقات سورائسزخشک ہونے پر جِلد موٹی ہوجاتی ہے، نتیجتاً ادویہ مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔سورائسز کی ایک قسم میں جسم ،خصوصاً ہاتھ، پائوں کی انگلیوں کے جوڑ متاثر ہوجاتے ہیں۔ جوڑ متوّرم ہونے سے شدید درد محسوس ہوتا ہے،بسا اوقات ہاتھ ، پاؤں مُڑ بھی جاتے ہیں۔ چلنے پھرنے اور دیگر امور کی انجام دہی میں سخت دشواری پیش آ تی ہے۔ دوسری جانب، جِلدی خارش بھی چین نہیں لینے دیتی اور مریض دوسروں کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے۔اندازاً 10تا 30فی صد سورائسز کے مریضوں میں جوڑ متاثر ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ سورائسز کی ایک قسم میں ناخن متاثر ہوکر کھردرے، بد رنگ ہوجاتے ہیں، ان کی سطح پر گڑھے، لائنیں بن جاتی ہیں، جب کہ ناخن کے نیچے کی جِلد موٹی ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ناخن موٹے ہو کر جڑ سے علیٰحدہ بھی ہوجاتے ہیں۔ 

2

واضح رہے، اگر سورائسز جوڑوں کاہو،تو ناخن زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جب کہ دیگر اقسام میں ناخن زیادہ خراب نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ اگر سورائسز منہ کے اندر اور باہر اثرانداز ہو، تو ہونٹ سُرخی مائل اور خشک رہتے ہیں۔بعض کیسز میں منہ کی اندرونی سطح پر انفیکشن شدید تکلیف کا باعث بنتا ہے۔  زبان کے اوپر سفید دھاریاں نمودار ہوجاتی ہیں۔ سورائسز کی ایک قسم میں آنکھوں کے اندر سُرخی اور جلن محسوس ہوتی ہے، جب کہ پپوٹوں کی جِلد پر بننے والے سورائسز کے چھلکوں اور خارش سے انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔ سب سے شدید قسم میں سورائسز پورے جسم میں پھیل کر90فی صد جِلد کو سُرخی مائل، چھلکوں سے بَھر دیتا ہے۔ مریض کوجوڑوں، منہ، ناخن، آنکھوںاور سَر میں شدیدخارش، جلن اور بے چینی محسوس ہوتی ہے اور انفیکشن بھی ہوجاتا ہے۔ بخار کی کیفیت اور کیلشیم، معدنیات کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔نیز، جِلد کا درجۂ حرارت کبھی بڑھ جاتا ،تو کبھی کم ہوجاتا ہے، کیوں کہ بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے والی جِلد خود کم زور ہوچُکی ہوتی ہے۔


3

جسم کا اندرونی نظام متاثر ہونے کے نتیجے میں نمونیا، دِل فیل ہوجانا، خرابیٔ جگر اور ذیابطیس جیسے عوارض اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔ مریض بتدریج کم زور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر زیادہ ملی گرام کی ادویہ استعمال کروائی جائیں، تو ان کے مضر اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچّوں میں سورائسز کی ایک قسم نیپکن سورائسز کہلاتی ہے، جو دو تا آٹھ ماہ کی عُمر میں بچّوں کے چڈّوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ابتدائی علامات کیا ہیں، جن کی بدولت تشخیص ممکن ہوسکے سورائسزکی ابتدائی علامات میں سب سے نمایاں علامت سُرخی مائل چھوٹے یا بڑے دھبّے ہیں، جن پر چاندی کی مانند چمکتے ہوئے چھلکے پائےجاتے ہیں۔ جب ان چھلکوں کو ہٹایا جائے، تو نیچے کی جِلد نہ صرف سُرخی مائل نظر آتی ہے، بلکہ یہاں نقطے کے برابر خون کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں، جو تشخیص میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔، لیکن سورائسز میں متاثرہ جگہ پر ایپی ڈرمس 4 تا 7 دِنوں میں نمو پاتی ہے، جس پر چھلکے تہہ بن کر چپک جاتے ہیں۔ چوں کہ متاثرہ جِلد کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے، تو خون کی باریک باریک نالیاں بھی یہاں زیادہ مقدار میں خون فراہم کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ متاثرہ جلد کی رنگت سُرخی مائل ہو جاتی ہے اور چھلکے کھرچنے پر خون کے نقطے دکھائی دیتے ہیں کہا جاتا ہے کہ یہ مرض لاعلاج ہے، تو کیاایسا ہی ہے؟-اس مرض میں بھٹے کے بالوں سے انتہائ شاندار علاج ممکن ہے جس کی تفصیل اس مضمون کی اگلی قسط میں  آپ کو پڑھنے کو ملے گی 


 

جمعرات، 4 ستمبر، 2025

عبید اللہ بیگ پاکستان کی علمی دنیا کا ایک بڑا معتبر نام

 

عبید اللہ بیگ پاکستان کی علمی دنیا کا ایک بڑا معتبر نام ہو کے گزرا ہے   'ویسے تو ان کا نام فلمساز'مترجم اور دانشور کے طور پر پہچانا جاتا ہے   لیکن وہ معلوماتِ عامّہ کے  پروگرام  کے سنگھاسن پر بیٹھے  جہاں سے ان کی شہرت اور مقبولیت کو چار چاند لگ گئے -ان کو در حقیقت  ایسی قابل و باصلاحیت شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جن کی وجہِ مقبولیت ’کسوٹی‘ بنا۔ یہ پاکستان ٹیلی ویژن کا معلوماتِ عامّہ پر مبنی پروگرام تھا۔ عبید اللہ بیگ اس پروگرام میں اپنی ذہانت، قوی حافظے اور وسیع مطالعے کے سبب کسی شخصیت یا کسی شے کو بوجھنے میں کام یاب رہتے اور ناظرین دنگ رہ جاتے تھے۔وہ ایک لائق فائق انسان تھے جن کی شہرت ایک شفیق اور منکسر مزاج کے طور پر بھی تھی اور یہی وجہ ہے عبید اللہ بیگ کو علمی و ادبی حلقوں اور ذرائع ابلاع میں بھی نہایت ادب و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ معلوماتِ عامہ کا میدان عبیداللہ بیگ کی بنیادی شناخت ہے۔ان کا خاندان بھارت کے شہر رام پور سے 1951ء میں ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا۔ یہاں کراچی میں سکونت اختیار کرنے والے عبید اللہ بیگ کا بچپن اور نو عمری کا دور رام پور اور مراد آباد میں گزرا۔


 ان کے خاندان کے اکثر مرد شکار کے شوقین تھے اور عبید اللہ بیگ بھی اپنے بڑوں کے ساتھ اکثر شکار کھیلنے جایا کرتے تھے۔ اسی نے ان کے اندر سیر و سیاحت کا شوق پیدا کیا۔ انھیں اس دوران فطرت کو سمجھنے کا موقع ملتا اور وہ اپنی عقل اور ذہانت سے کام لینے کے قابل ہوئے۔کسوٹی وہ پروگرام تھا جس میں افتخار عارف، قریش پور اور غازی صلاح الدین جیسی نام ور اور قابل شخصیات بھی عبید اللہ بیگ کے ساتھ رہیں۔ یہ تمام ہی اپنے وقت کے نہایت قابل و عالی دماغ لوگ تھے۔  لیکن وہ ایک مدیر، صدا کار، دستاویزی فلم ساز، ناول اور ڈرامہ نگار، فیچر رائٹر، سیاح اور شکاری بھی تھے۔ ٹیلی ویژن کے بعد وہ ماحولیات کے تحفظ کی غیر سرکاری تنظیم سے منسلک ہوگئے تھے جہاں بقائے ماحول کے لیے رپورٹنگ کے ساتھ انھوں نے بطور ماہرِ ابلاغ نئے آنے والوں کی تربیت بھی کی۔ عبید اللہ بیگ پاکستان ٹیلی وژن کے صدر دفتر میں شعبۂ تعلقاتِ عامّہ سے بھی منسلک رہے اور ایک جریدہ ’’ٹی وی نامہ‘‘ بھی جاری کیا تھا۔عبید اللہ بیگ کا اصل نام حبیب اللہ بیگ تھا۔


 ان کے والد محمود علی بیگ بھی علم دوست شخصیت تھے اور یوں گھر ہی میں مطالعہ کی عادت اور کتابیں پڑھنے کا شوق پروان چڑھا۔ عبید اللہ بیگ نے پاکستان ٹیلی وژن کے متعدد پروگراموں کے میزبان بھی رہے جن میں پگڈنڈی، منزل، میزان، ذوق آگہی اور جواں فکر کے علاوہ ایک تقریبِ اسلامی سربراہی کانفرنس بھی شامل ہے۔ حکومتِ پاکستان نے عبید اللہ بیگ کو صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔ریڈیو پاکستان کے لیے بھی عبید اللہ بیگ کام کیا اور اپنی منفرد آواز کے سبب ریڈیو کے سامعین میں مقبول رہے۔ ٹی وی پر کسوٹی سے پہلے ‘سیلانی’ کے نام سے بھی ان کا ایک فلمی دستاویزی پروگرام شروع ہوا تھا جسے چند وجوہ کی بناء پر بند کر دیا گیا۔ پی ٹی وی کے لیے عبید اللہ بیگ نے تین سو سے زائد دستاویزی فلمیں بنائیں جن کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان کی فلم وائلڈ لائف اِن سندھ کو 1982ء میں 14 بہترین فلموں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔ عورتوں کے مسائل پر ایک فلم کو 18 زبانوں میں ترجمہ کرکے نشر کیا گیا۔


 سندھ میں قدرتی حیات اور ماحول سے متعلق ان کی دستاویزی فلمیں بہت شان دار ہیں اور اس کام پر انھیں ایوارڈ بھی دیے گئے۔قلم اور کتاب سے ان کا تعلق فکر و دانش اور معلوماتِ عامہ کی حد تک نہیں تھا بلکہ وہ ایک ادیب بھی تھے جن کا پہلا ناول ’اور انسان زندہ ہے‘ ساٹھ کی دہائی میں شائع ہوا۔ دوسرا ناول ’راجپوت‘ 2010ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد نے شائع کیا۔ عبید اللہ بیگ فارسی، عربی اور انگریزی زبانیں بھی جانتے تھے۔ ہمہ جہت عبید اللہ بیگ علم و ادب کے شیدائیوں کے لیے ایک مکتب تھے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والا علم و حکمت کے موتی چن کر ہی اٹھتا تھا۔ فلسفہ، تاریخ، تہذیب و تمدن، سیاحت، ماحولیات، ادب کے ہر موضوع پر عبیداللہ بیگ 

مضمون انٹرنیٹ سے لے کر تلخیص کیا گیا ہے 

موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے-پارٹ 2

 



قران پاک میں ارشاد باری تعالیِ ہے 'زرا تم زمین میں چل پھر کے تو دیکھو ہم نے ان کو کیسے ہلاک کر مارا  -اب دیکھئے ایک عظیم  شہر تو دریافت ہو گیا لیکن اس کے مکین کہاں گئے تاریخ اس معاملے پر خاموش ہے -چلئے ا ب شہر کے خدوخال دیکھتے ہیں -  موہنجودڑو کا عمومی پلان ہڑپہ جیسا ہی تھا ۔ شہر کے مغرب میں قلعہ ہے، گلیوں کی ترتیب و مکانات اور اناج گھر سب ہڑپہ جیسے ہیں۔ البتہ یہاں کی منفرد اور سب سے نمایاں چیز بڑا اشنان گھر ہے جس کا مطلب ہے بڑا غسل خانہ یا عظیم حمام۔ یہ ایک بڑی سی عمارت ہے، جس کے وسط میں ایک بڑا سا تالاب ہے۔ یہ تالاب شمال وجنوب میں39فٹ لمبا اور شرقی و غربی میں23فٹ چوڑا اور آٹھ فٹ گہرا ہے۔ شمال اور جنوب دونوں سمت سے اینٹوں کے زینے نیچے اترتے تھے، جن پر لکڑی کے تختے لگادیے گئے تھے ۔ تالاب کی چار دیواری کی بیرونی سمت پر ایک خاص قسم کالیپ کیا گیا ہے، جسے ’بچومن لُک‘ کہاجاتا ہے۔ یہ لُک ہائیڈرو کاربن کا قدرتی طور پر نکلنے والا مادہ ہے اور فطرت میں مختلف حالات میں آج بھی دستیاب ہے۔ اس لیپ سے تالاب میںپانی رسنے کا سد باب کیا گیا ہے۔دراصل موہنجودڑو تو دریائے سندھ کے اندر ایک جزیرہ نما خشکی پر واقع تھا۔


 اس کے ایک طرف دریائے سندھ تھا اور دوسری طرف دریائے سندھ سے نکلنے والا نالہ بہتا تھا، جو آگے جا کر واپس دریا میں مل جاتا تھا ۔ اسی لیے شہر کی حفاظت کے لیے ایک میل لمبا حفاظتی بند باندھا گیا تھا ۔ موہنجودڑو میں بار بار سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت ملتا ہے ۔ سیلاب کی لائی ہوئی گاد سے اس شہر کی سطح زمین سے تیس فٹ بلند ہوگئی۔ کا خیال ہے کہ یہ کسی درخت کے گرد حفاظتی حصار ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ درخت مقدس تھا اور یہ عمارت اس مقدس درخت کا مندر تھی۔ شاید پیپل مندر۔ اس عمارت کے مختلف حصوں میں سفید چونے کے پتھر کے بنے ہوئے ایک بڑے مجسمے کے تین ٹکڑے ملے ہیں۔ ان کو جوڑیں تو مجسمہ مکمل ہوجاتا ہے۔ یہ ایک بیٹھا ہوا آدمی ہے۔ مجسمے کی مکمل اونچائی 1/2 16انچ ہے۔ اس داڑھی ہے مگر موچھیں منڈی ہوئی ہیں، بال اکٹھے کرکے سر کے پیچھے ان کا جوڑا بنایا ہوا ہے اور ایک باریک مینڈھی گوند کر سر کے ارد گرد باندھی گئی ہے۔ جو آگے ماتھے کے اوپر سے گزرتی ہے۔ اگر مینڈھی نہیں تو کپڑے کی باریک پٹی ہے جو باندھی گئی ہے۔


 اس آدمی نے دونوں ہاتھ کولہوں پر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک قدر اونچا ہے اور دوسرا نیچا۔ آنکھوں کے اندر غالباً موتی جڑے گئے تھے جو بعد میں گر گئے۔اس عمارت کی دیواریں موٹی، دروازہ عظیم الشان مگر رقبہ مختصر ہے۔   ۔موہنجودڑو میں ایک اور عمارت پر مندر ہونے کا شبہ کیا گیا ہے۔ اس کی بیرونی دیواریں 1/2 چار فٹ موٹی ہے اور آٹھ دس فٹ انچائی محفوظ ملی ہے۔ اس کے اندر کچھ اینٹوں کے چبوترے بنے ہوئے ہیں۔ یہ یا تو ان کے اوپر ستون تعمیر کیے گئے تھے۔ جن پر کوئی زبردست عمارت کھڑی تھی۔ یا پھر ان کا دوسرا کوئی مقصد بھی ہو سکتا ہے۔ عمارت کے وسط میں صحن ہے۔ جو 23   19 فٹ سائز کا ہے۔ دو چھوٹے صحن اس بڑے صحن کے شمال اور جنوب میں ہیں۔ جنوبی صحن میں ایک کنواں ہے۔ایک نہایت دلچسپ عمارت شہر کے شمال مغربی کونے پر ہے۔ اس میں آمنے سامنے دو قطاروں میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ جن کی تعداد سولہ ہے۔


 ان سولہ کمروں میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک اندرونی کمرہ ہے۔ گویا کل چوبیس کمرے ہیں۔ ہر بیرونی کمرے کے مقابلے میں اندرونی کمرے کا رقبہ دگنا ہے۔ سولہ کمروں میں سے ہر ایک میں ایک کونے میں پانی کا کھرا بنایا گیا ہے۔ دیوار میں پانی کی نکاسی کے سوراخ ہیں۔ سر مارٹیمر ویلر اور دوسرے ماہرین کا خیال ہے اندرونی کمرہ بیڈ روم تھ۔ لگتا ہے یہ غلاموں کی بیرکیں تھیں۔ پہلے اس عمارت پر مندر کا شبہ کیا گیا تھا مگر یہ بہت بڑی ہے۔ تو پھر ان بیرکوں کا غلاموں کی رہائش گاہ ہونا اور بھی یقینی ہوجاتا ہے۔ ان بیرکوں دیواریں بہت پتلی ہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے یہ ایک منزلہ تھیں۔ ان کے پاس ایک کنواں ہےشہر کا کچھ حصہ ابھی تک کھودا گیا۔ خاص طور پر بدھ اسٹوپہ جوں کا توں کھڑا ہے۔

 


سندھ کی مقامی زبان میں اسے موئن جو دڑو جبکہ اردو میں موہنجوداڑو کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’’ مردو ں کا ٹیلا‘‘۔ موہنجودڑو کا قلعہ ایک ٹیلے پر واقع ہے، جو جنوب میں سطح زمین سے بیس فٹ اور شمال میںچالیس فٹ اُونچا ہے۔ آجکل دریائے سندھ کی ایک شاخ اس سے تین میل کے فاصلے پر بہتی ہے۔ جب یہ شہر آباد تھا تو اس وقت قلعے کی مشرقی دیوار کے پاس سے دریا کی ایک شاخ گزرتی تھی۔ مغربی جانب جو حفاظتی بند تھا، اس سے دریا ایک میل دور تھا ۔ یہ قلعہ ایک چبوترے پر بناہوا ہے، اس چبوترے کو مٹی اور کچی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔موہنجودڑو کو فن تعمیر اور انسانی ترقی کی ایک اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی بربادی کے سینتیس سو برس بعد تک اس کی باقیات کا کوئی نشان نہیں ملا تھا، مگر انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں پہلی مرتبہ اس تہذیب کے کچھ بچے کھچے آثار اور نشانات ملے، جس کے بعد ماہرین نے اس قدیم شہر کے بارے میں حقائق کو باقاعدہ طور پر جمع کرنا شروع کیا۔1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپا کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال بعد اسی طرح کے آثار راکھال داس بینرجی کو موہنجودڑو کی سر زمین سے ملے، جس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کودی گئی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں مقامات کی طرف توجہ دی۔اور  کھدائی کا کام شروع ہوا، 

بدھ، 3 ستمبر، 2025

موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے-پارٹ-1

  



 اگر آپ آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھتے ہیں تو پھر پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں موئین جو دڑو سر فہرست رکھئے مو ہنجودڑوکا قلعہ اصل شہر کے اندر ایک منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتا تھا، جس کے ارد گرد گلیاں ایک جال کی شکل میں پھیلی ہوئی ہیں -ہم جب موہنجودڑو جیسا عالی شان شہر دیکھتے ہیں جس کے مکانات پختہ، مضبوط اور دو تین منزلہ اونچے تھے، ساتھ ہی وہاں سڑکیں اور بازار قائم تھے، تو اس شہرخاموشاں کے باشندوں کی زندگی و رواج اور عادات سانچے میں ڈھلی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ موہنجودڑو کے وہ آثار جو سب سے زیادہ گہرائی میں ہیں، سب سے زیادہ ترقی کا پتہ دیتے ہیں، جس کا مطلب یہی ہے کہ انسانی تہذیب کے سارے معاملات صدیوں پہلے عمل میں آچکے تھے اور یہ بنیادی ترقی میں یا تو بہت آگے نکل گئے ، یا پھر ختم ہوتے چلے گئے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ہم اپنے شہروں کو دیکھیں تو وہ اتنے منظم نظر نہیں آتے جتنا کہ صدیوں پرانی تہذیب کے شہر نظر آتے ہیں۔ اس پر ہمیں سوچنے سمجھنے کی ضرورت ہے-



خیا ل کیا جاتا ہے کہ موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے، اس شہر نے 2500 قبل مسیح سے 1700 قبل مسیح تک ترقی کی۔’یہ اپنے علاقے کا     ایک  مرکز ی شہر تھا جس کے سماجی، ثقافتی، اقتصادی اور مذہبی روابط میسوپوٹیمیا اور مصر کے ساتھ تھے۔ قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کے شہروں کے مقابلے میں، جنھوں نے ایک ہی وقت میں ترقی کی تھی،  یہ تہذ یب  یافتہ شہر  1700 قبل مسیح میں ختم ہو گیا تھا، اور آج تک کسی کو قطعی طور پر یقین نہیں ہے کہ اس شہر کے باشندے یہاں سے کیوں نقل مکانی کر گئے یا وہ کہاں گئے۔آئے اب شہر کی سیر کرتےہیں  -اس شہر کی شمال مشرقی سمت میں   ایک طویل عمارت ہے۔ جو 230.78 فٹ ہے۔ اس کے وسط میں  وسیع عریض   صحن بھی ہے۔ اس میں تین برآمدے کھلتے ہیں۔ چاروں طرف بیرکوں کی طرح سے کمرے بنے ہوئے ہیں۔ اکثر کمروں کے فرش پختہ اینٹوں کے ہیں۔ اس عمارت کو شاہی محل یا بڑے بچاری کا گھر سمجھنا مشکل ہے۔


 کیوں کہ اس کا طرز تعمیر رہائشی مکانوں جیسا نہیں ہے۔ اس لیے کھدائی کرنے والوں نے اسے کالج کا نام دیا تھا۔ جب تک مزید کھدائی سے اس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا کہ یہ عمارت کیا تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔اشنان گھر اور کالج کے جنوب میں ایک اور اجتماعی مقصد کی عمارت ملی ہے۔ جو بعد میں تبدیل کردی گئی ہے۔ لیکن ابتد میں یہ ایک بہت بڑا مربع شکل کا ہال تھا۔ جس کا ہر مربع 90 فٹ کا تھا۔ اس کے اندر اینٹوں سے بیٹھنے کی نشتیں تعمیر کی گئی ہیں۔ پورے ہال میں گزرنے کے پانچ رستے ہیں۔ ہر دو رستوں کے درمیان میں نشتوں کی چار قطاریں ہیں۔ ہر قطار میں پانچ نشتیں ہیں۔ یا تو ان کے اوپر لکڑی کی خوبصورت نشتیں لگائی گئی تھیں یا انہی پر ہی سامعین بیٹھے تھے۔ یہ کل ایک سو نشتیں ہیں موہن جو وڑو میں ایک ایسی عمارت ملی ہے۔ جو اگرچہ رہائشی قسم کی ہے مگر بہت بڑی ہے۔ یہ شرقاً غرباً 250 فٹ لمبی ہے۔ یقیناً یہ ایک محل ہے۔ بیرونی دیوار 1/2 3 فٹ سے لے کر 7 فٹ تک موٹی ہے، اس میں دو بڑے صحن ہیں۔ جن کو ایک پانچ فٹ چوڑی غلام گردش آپس میں ملاتی ہے۔



 اس کے ایک سرے پر 8 فٹ چوڑا دروازہ ہے۔ گھر کے دو مختلف کمروں میں کنویں تھے۔ ایک کمرے میں ایک گول تنور تھا۔ اس کا قطر تین فٹ آٹھ انچ اور اونچائی 1/2 3 فٹ ہے، اس کی شکل موجودہ تنوروں سے جیسی ہے۔ محل میں چار زینے اوپر جاتے تھے۔شہر میں ایک اور پبلک بلڈنگ ملی ہے جو یا تو مسافروں کے ٹہرنے کے لیے سرائے تھی یا پھر ترتھ یاتریوں کے ٹہرنے کے یاتری استھان تھی۔ اصل عمارت ایک بہت بڑے ہال پر مشتمل ہے جو انگریزی کے حروف ایلL کی شکل کا ہے۔ اس ہال کی دیواروں کے باہر ارد گرد اینٹوں کے ستون بنے ملے ہیں، جن کے اوپر غالباً برآمدے کی چھت ڈالی گئی تھی۔ جو ہال کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھی۔ جنوب مشرقی کونے پر ایک چار فٹ گیارہ انچ چوڑا دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔ بعد میں یہ دروازہ بند کرکے شمالی جانب مرکز میں دیوار کاٹ کر ایک دروازہ نکلا گیا تھا۔ اس کے قریب ایک رستہ پانی کے نکاس کا بنایا گیا تھا۔ 


جو زمین دوز سفالی پائپ سے ملحق تھا۔ ہال کے ایک کونے میں ایک فلیش سسٹم بیت الخلا بنایا گیا تھا۔ایک اور بڑی عمارت ملی ہے، 87 * 1/2 64 فٹ ہے۔ اس میں کچھ کمرے تو اندر صحن میں کھلتے ہیں جو رہائشی معلوم ہوتے ہیں اور کچھ باہر گلی میں کھلتے ہیں۔ ان کے فرش پختہ اینٹوں کے ہیں اور نہایت عمدگی سے بنائے گئے ہیں۔ باہر کا ایک بہت بڑا کمرہ ایسا ہے جس میں پانچ گول مخروطی گڑھے اینٹوں سے بنائے گئے۔ ان میں کڑاہ یا دوسرے برتن جو دھات کے ہوں گے ٹکائے جاتے ہوں گے۔ یا تو یہ کوئی ریستوان ہوگا یا رنگریز کا کارخانہ۔ایک اور اجتماعی نوعیت کی عمارت ملی ہے جو 52 * 40 فٹ ہے۔ اس کی دیواریں چار فٹ موٹی ہیں۔ اس کا دروازہ جنوب کی طرف سے ہے۔ جس میں دو متوازی سیڑھیاں اوپر چڑھتی ہیں۔ جو مرکز میں آ کر مل جاتی ہیں۔ دروازہ بہت بڑا ہے۔ اس عمارت کے اندر صحن میں اینٹوں کا ایک دائرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ جس کا اندونی قطر چار فٹ ہے۔

 جاری ہے


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا

  اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب  میں خود ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر