جمعرات، 4 ستمبر، 2025

موئن جو دڑو میں کم از کم 40,000 لوگ آباد تھے-پارٹ 2

 



قران پاک میں ارشاد باری تعالیِ ہے 'زرا تم زمین میں چل پھر کے تو دیکھو ہم نے ان کو کیسے ہلاک کر مارا  -اب دیکھئے ایک عظیم  شہر تو دریافت ہو گیا لیکن اس کے مکین کہاں گئے تاریخ اس معاملے پر خاموش ہے -چلئے ا ب شہر کے خدوخال دیکھتے ہیں -  موہنجودڑو کا عمومی پلان ہڑپہ جیسا ہی تھا ۔ شہر کے مغرب میں قلعہ ہے، گلیوں کی ترتیب و مکانات اور اناج گھر سب ہڑپہ جیسے ہیں۔ البتہ یہاں کی منفرد اور سب سے نمایاں چیز بڑا اشنان گھر ہے جس کا مطلب ہے بڑا غسل خانہ یا عظیم حمام۔ یہ ایک بڑی سی عمارت ہے، جس کے وسط میں ایک بڑا سا تالاب ہے۔ یہ تالاب شمال وجنوب میں39فٹ لمبا اور شرقی و غربی میں23فٹ چوڑا اور آٹھ فٹ گہرا ہے۔ شمال اور جنوب دونوں سمت سے اینٹوں کے زینے نیچے اترتے تھے، جن پر لکڑی کے تختے لگادیے گئے تھے ۔ تالاب کی چار دیواری کی بیرونی سمت پر ایک خاص قسم کالیپ کیا گیا ہے، جسے ’بچومن لُک‘ کہاجاتا ہے۔ یہ لُک ہائیڈرو کاربن کا قدرتی طور پر نکلنے والا مادہ ہے اور فطرت میں مختلف حالات میں آج بھی دستیاب ہے۔ اس لیپ سے تالاب میںپانی رسنے کا سد باب کیا گیا ہے۔دراصل موہنجودڑو تو دریائے سندھ کے اندر ایک جزیرہ نما خشکی پر واقع تھا۔


 اس کے ایک طرف دریائے سندھ تھا اور دوسری طرف دریائے سندھ سے نکلنے والا نالہ بہتا تھا، جو آگے جا کر واپس دریا میں مل جاتا تھا ۔ اسی لیے شہر کی حفاظت کے لیے ایک میل لمبا حفاظتی بند باندھا گیا تھا ۔ موہنجودڑو میں بار بار سیلاب کی تباہ کاریوں کا ثبوت ملتا ہے ۔ سیلاب کی لائی ہوئی گاد سے اس شہر کی سطح زمین سے تیس فٹ بلند ہوگئی۔ کا خیال ہے کہ یہ کسی درخت کے گرد حفاظتی حصار ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ درخت مقدس تھا اور یہ عمارت اس مقدس درخت کا مندر تھی۔ شاید پیپل مندر۔ اس عمارت کے مختلف حصوں میں سفید چونے کے پتھر کے بنے ہوئے ایک بڑے مجسمے کے تین ٹکڑے ملے ہیں۔ ان کو جوڑیں تو مجسمہ مکمل ہوجاتا ہے۔ یہ ایک بیٹھا ہوا آدمی ہے۔ مجسمے کی مکمل اونچائی 1/2 16انچ ہے۔ اس داڑھی ہے مگر موچھیں منڈی ہوئی ہیں، بال اکٹھے کرکے سر کے پیچھے ان کا جوڑا بنایا ہوا ہے اور ایک باریک مینڈھی گوند کر سر کے ارد گرد باندھی گئی ہے۔ جو آگے ماتھے کے اوپر سے گزرتی ہے۔ اگر مینڈھی نہیں تو کپڑے کی باریک پٹی ہے جو باندھی گئی ہے۔


 اس آدمی نے دونوں ہاتھ کولہوں پر رکھے ہوئے ہیں۔ ایک قدر اونچا ہے اور دوسرا نیچا۔ آنکھوں کے اندر غالباً موتی جڑے گئے تھے جو بعد میں گر گئے۔اس عمارت کی دیواریں موٹی، دروازہ عظیم الشان مگر رقبہ مختصر ہے۔   ۔موہنجودڑو میں ایک اور عمارت پر مندر ہونے کا شبہ کیا گیا ہے۔ اس کی بیرونی دیواریں 1/2 چار فٹ موٹی ہے اور آٹھ دس فٹ انچائی محفوظ ملی ہے۔ اس کے اندر کچھ اینٹوں کے چبوترے بنے ہوئے ہیں۔ یہ یا تو ان کے اوپر ستون تعمیر کیے گئے تھے۔ جن پر کوئی زبردست عمارت کھڑی تھی۔ یا پھر ان کا دوسرا کوئی مقصد بھی ہو سکتا ہے۔ عمارت کے وسط میں صحن ہے۔ جو 23   19 فٹ سائز کا ہے۔ دو چھوٹے صحن اس بڑے صحن کے شمال اور جنوب میں ہیں۔ جنوبی صحن میں ایک کنواں ہے۔ایک نہایت دلچسپ عمارت شہر کے شمال مغربی کونے پر ہے۔ اس میں آمنے سامنے دو قطاروں میں چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ جن کی تعداد سولہ ہے۔


 ان سولہ کمروں میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک اندرونی کمرہ ہے۔ گویا کل چوبیس کمرے ہیں۔ ہر بیرونی کمرے کے مقابلے میں اندرونی کمرے کا رقبہ دگنا ہے۔ سولہ کمروں میں سے ہر ایک میں ایک کونے میں پانی کا کھرا بنایا گیا ہے۔ دیوار میں پانی کی نکاسی کے سوراخ ہیں۔ سر مارٹیمر ویلر اور دوسرے ماہرین کا خیال ہے اندرونی کمرہ بیڈ روم تھ۔ لگتا ہے یہ غلاموں کی بیرکیں تھیں۔ پہلے اس عمارت پر مندر کا شبہ کیا گیا تھا مگر یہ بہت بڑی ہے۔ تو پھر ان بیرکوں کا غلاموں کی رہائش گاہ ہونا اور بھی یقینی ہوجاتا ہے۔ ان بیرکوں دیواریں بہت پتلی ہیں ہیں۔ اس کا مطلب ہے یہ ایک منزلہ تھیں۔ ان کے پاس ایک کنواں ہےشہر کا کچھ حصہ ابھی تک کھودا گیا۔ خاص طور پر بدھ اسٹوپہ جوں کا توں کھڑا ہے۔

 


سندھ کی مقامی زبان میں اسے موئن جو دڑو جبکہ اردو میں موہنجوداڑو کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’’ مردو ں کا ٹیلا‘‘۔ موہنجودڑو کا قلعہ ایک ٹیلے پر واقع ہے، جو جنوب میں سطح زمین سے بیس فٹ اور شمال میںچالیس فٹ اُونچا ہے۔ آجکل دریائے سندھ کی ایک شاخ اس سے تین میل کے فاصلے پر بہتی ہے۔ جب یہ شہر آباد تھا تو اس وقت قلعے کی مشرقی دیوار کے پاس سے دریا کی ایک شاخ گزرتی تھی۔ مغربی جانب جو حفاظتی بند تھا، اس سے دریا ایک میل دور تھا ۔ یہ قلعہ ایک چبوترے پر بناہوا ہے، اس چبوترے کو مٹی اور کچی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔موہنجودڑو کو فن تعمیر اور انسانی ترقی کی ایک اعلیٰ مثال قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی بربادی کے سینتیس سو برس بعد تک اس کی باقیات کا کوئی نشان نہیں ملا تھا، مگر انیسویں صدی کی تیسری دہائی میں پہلی مرتبہ اس تہذیب کے کچھ بچے کھچے آثار اور نشانات ملے، جس کے بعد ماہرین نے اس قدیم شہر کے بارے میں حقائق کو باقاعدہ طور پر جمع کرنا شروع کیا۔1921ء کا واقعہ ہے کہ رائے بہادر دیا رام سہنی نے ہڑپا کے مقام پر قدیم تہذیب کے چند آثار پائے۔ اس کے ایک سال بعد اسی طرح کے آثار راکھال داس بینرجی کو موہنجودڑو کی سر زمین سے ملے، جس کی اطلاع ہندوستانی محکمہ آثار قدیمہ کودی گئی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل سر جان مارشل نے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں مقامات کی طرف توجہ دی۔اور  کھدائی کا کام شروع ہوا، 

1 تبصرہ:

  1. اللہ پاک کے احکامات کی پاسداری قرب پروردگار کی ضامن ہوتی ہے

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر