جمعرات، 5 فروری، 2026

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

 



چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل طویل تھا۔ مائوزے تنگ کی لاکھوں مزدوروں اور کسانوں پر مشتمل ''پیپلز لبریشن آرمی'' تھی، جس کے پاس کوئی اسلحہ تو درکنار غذا اور سفر کی بنیادی سہولیات تک نہ تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس مارچ میں دو لاکھ افراد شریک تھے اور منزل پر پہنچتے تک اس کے شرکا صرف چالیس ہزار رہ گئے، باقی لوگ بھوک اور نامساعد حالات کا شکار ہوگئے۔ اس مارچ کو روس کی حمایت ضرور تھی، مگر روس خود ابھی انقلاب کے بعد سنبھل رہا تھا، لہٰذا مائو کو گوریلا کارروائیوں کا سہارا بھی لینا پڑا۔ فوج سے چھینے گئے سامان سے سرخ فوج کا شعبۂ مواصلات قائم کیا گیا۔ کسانوں کو پہلی مرتبہ چاقوئوں سے مسلح کیا گیا۔ بظاہر تجارت کی غرض سے مغربی اقوام چین میں وارد ہوئیں اور حالات اپنے موافق دیکھے، تو طاقت کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ انیسویں صدی میں یہ مہم شدید تر ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگریزوں سے تجارتی معاملات پر مڈبھیڑ ہوئی اور انگریزوں نے چین کے علاقے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا۔ یوں یہ استحصال بڑھتا ہی چلا گیا۔ 1840ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے چین کو بہ زور زیرنگیں کرلیا۔ 1894 ء میں چین کی جاپان سے جنگ نے مشکلات مزید بڑھا دیں۔ 


 سامراجیوں کی توسیع پسندی پر چینی عوام نے باقاعدہ مزاحمت کی اور حریت پسندی کا عَلم بلند کیا، مگر انہیں کچل دیا گیا اور اب چین سے باقاعدہ کسی مفتوحہ ملک جیسا برتائو کیا جانے لگا۔1905ء میں چینی راہ نمائوں نے نظام حکومت کی اصلاح کی خاطر پارلیمانی نظام کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 1909ء میں صوبائی اور 1910ء میں قومی سطح پر منتخب ایوان قائم کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے نصف ارکان منتخب، جب کہ نصف نام زَد تھے۔تاہم انہیں ابھی قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہ وعدہ کیا گیا کہ قانون سازی 1913ء میں کی جا سکے گی۔ فوری قانون سازی کے مطالبے کے ساتھ خاندانی حکومت کے خلاف بھی تحریک زور پکڑنے لگی۔جنگ کے ساتھ انہیں سخت موسم اور فاقہ کشی کا بھی سامنا تھا، اور یہ عوامل بھی ان کی اموات کا سبب تھے۔ تمام مفتوحہ علاقوں کی زمینیں کسانوں میں بانٹ دی جاتی تھیں۔ چین کے کروڑوں غریبوں نے سرخ فوج کا قول و فعل دیکھ لیا تھا۔ اب ان کو متنفر کرنا مشکل تھا، ان کی فوج کا حجم بڑھتا ہی چلا گیا۔مائوزے تنگ کی قیادت میں اشتمالیوں نے فتوحات حاصل کرنا شروع کیں اور چیانگ کی حکومت جزیرہ فارموسا میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئی۔ یکم اکتوبر 1949ء کو پورے چین پر کمیونسٹوں کا قبضہ ہو گیا اور عوامی جمہوریہ چین کا قیام عمل میں آیا۔عوامی جمہوریہ چین کو دنیا بھر کے ممالک نے تسلیم کر لیا، مگر امریکا 22 برس تک اس کا انکاری رہا۔ چیانگ کائی شیک کی حکومت جزیرہ تائیوان تک محدود تھی۔ امریکا تائیوان کی حکومت ہی کو چین کی نمائندہ حکومت قرار دیتا رہا۔ اسی بنا پر چین کو اقوام متحدہ کی رکنیت بھی نہ ملی۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں بھی چین کی رکنیت بدستور تائیوان کو حاصل رہی۔ 1971ء میں واشنگٹن نے بیجنگ کو تسلیم کیا اور یوں 25 اکتوبر 1971ء کو عوامی جمہوریہ چین کو جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کا رکن بنایا گیا۔1911



 میں    پھر چین کے جمہوریت پسندوں نے باقاعدہ بغاوت کردی، جس کے نتیجے میں شہنشاہ تخت سے دست بردار ہو گیا اور جمہوریت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ چینی راہ نما سن یات سین (Sun Yat-sen) نے عارضی حکومت قائم کی اور پارلیمان نے عارضی دستور نافذ کیا۔ سن یات سین نے قومیت، جمہوریت اور اشتراکیت کے اصول کو اپنے لائحہ عمل کی آس قرار دیا، تاکہ قومی آزادی، نسلی اتحاد اور سیاسی مساوات اور کاشت کاروں اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور اپنے ان اصولوں کو روبہ عمل لانے کے لیے ایک نئی جماعت قائم کی، جو ''کومن تانگ'' (Kuomintang)کے نام سے مشہور ہوئی۔سن یات سین انتشار پسند عناصر کو ختم کر کے متحدہ مملکت قائم نہ کر سکا۔ بیرونی ریشہ دوانیاں اور چین کے فوجی سرداروں کی خودسری اس کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھیں۔ 1925ء میں سن یات سین کا انتقال ہوگیا اور ''چیانگ کائی شیک'' (Chiang Kai-shek) کومن تانگ کا قائد بنا، لیکن کومن تانگ کا سخت گیر حصہ، چیانگ کا مخالف اور اشتمالیت کا عَلم بردار تھا۔ چیانگ کیمونزم کو چین کے لیے خطرناک تصور کرتا تھا۔ چناں چہ چیانگ کی اپنے مخالفین سے جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ چیانگ ان کی قوت ختم کرنے میں ناکام رہا۔اور پھر چینیوں کا باپ ماؤزے تنگ میدان عمل میں اتر آیا  فوج سے چھینے گئے سامان سے سرخ فوج کا شعبۂ مواصلات قائم کیا گیا۔ کسانوں کو پہلی مرتبہ چاقوئوں سے مسلح کیا گیا۔ ہ ظاہر تجارت کی غرض سے مغربی اقوام چین میں وارد ہوئیں اور حالات اپنے موافق دیکھے، تو طاقت کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔



انیسویں صدی میں یہ مہم شدید تر ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگریزوں سے تجارتی معاملات پر مڈبھیڑ ہوئی اور انگریزوں نے چین کے علاقے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا۔ یوں یہ استحصال بڑھتا ہی چلا گیا۔ 1840ء میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے چین کو بہ زور زیرنگیں کرلیا۔ 1894 ء میں چین کی جاپان سے جنگ نے مشکلات مزید بڑھا دیں۔ تو کم خواب چینی بھی بیدار ہونے اور حریت پسندی کے سپنے بُننے لگے۔ انیسویں صدی کے آخری برسوں میں آزادی کی امنگ نے منظم تحریک کی شکل دھار لی۔ 1900ء میں سام راجیوں کی توسیع پسندی پر چینی عوام نے باقاعدہ مزاحمت کی اور حریت پسندی کا عَلم بلند کیا، مگر انہیں کچل دیا گیا اور اب چین سے باقاعدہ کسی مفتوحہ ملک جیسا برتائو کیا جانے لگا۔1905ء میں چینی راہ نمائوں نے نظام حکومت کی اصلاح کی خاطر پارلیمانی نظام کا مطالبہ کیا۔ بالآخر 1909ء میں صوبائی اور 1910ء میں قومی سطح پر منتخب ایوان قائم کیا گیا۔ قومی اسمبلی کے نصف ارکان منتخب، جب کہ نصف نام زَد تھے۔۔۔ تاہم انہیں ابھی قانون سازی کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہ وعدہ کیا گیا کہ قانون سازی 1913ء میں کی جا سکے گی۔۔۔ فوری قانون سازی کے مطالبے کے ساتھ خاندانی حکومت کے خلاف بھی تحریک زور پکڑنے لگی۔جنگ کے ساتھ انہیں سخت موسم اور فاقہ کشی کا بھی سامنا تھا، اور یہ عوامل بھی ان کی اموات کا سبب تھے۔ تمام مفتوحہ علاقوں کی زمینیں کسانوں میں بانٹ دی جاتی تھیں۔ چین کے کروڑوں غریبوں نے سرخ فوج کا قول و فعل دیکھ لیا تھا۔ اب ان کو متنفر کرنا مشکل تھا، ان کی فوج کا حجم بڑھتا ہی چلا گیا۔مائوزے تنگ کی قیادت میں اشتمالیوں نے فتوحات حاصل کرنا شروع کیں


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر