مرض کوئ بھی ہو بہر حال تکلیف دہ ہو تا ہے لیکن جلدی بیماری کا بہت تکلیف دہ ہوتی ہے -سورائسز ایک جِلدی بیماری ہے، جسے چنبل بھی کہا جاتا ہے۔پاکستان میں اس مرض کے پھیلائو کی شرح آبادی کے اعتبار سے اندازاً 5فی صد، جب کہ پوری دُنیا میں اوسطاً 2تا3فی صد پائی جاتی ہے۔عام طور پر کہا جاتا ہے کہ سورائسز متعدّی مرض ہے، لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔سورائسز کی کئی اقسام ہیں۔ایک قسم جس میں عام طور پرکمر اور سینے پر سُرخی مائل بارش کے قطرے کی مانند 2سے3ملی میٹر حجم کے دائرے (جن پر چھلکے بنے ہوتے ہیں) نمودار ہوکرخارش کا سبب بنتے ہیں۔ ایک اور قسم میں یہ مرض بغل، جوائنٹس اور زیریں سینے میں ظاہر ہوتا ہے،جس سےمتاثرہ جگہ سُرخی مائل ہوجاتی ہے، مگر چھلکے نظر نہیں آتے۔ سورائسز کی سب سے عام قسم میں سُرخی مائل دائروں میں چاندی کی مانند چمکتے باریک چھلکے پائےجاتے ہیں زیادہ تر مریضوں کو ان میں خارش محسوس ہوتی ہے۔ اس قسم میں مرض سَر، گردن، کلائی، ٹانگ، ناف کے گرداور کولھوں کو متاثر کرتا ہے۔
1
مرض کی شّدت کبھی کم اور کبھی بڑھ جاتی ہے۔ زیادہ کھجانے پر نقطے کے برابر خون نظر آتا ہے۔ بعد ازاں، چھلکے والی جگہ خشک ہو جاتی ہےاس مرض میں جسم پر لال رنگ کے چمک دار چھلکوں کی مانند اُبھار بنتے ہیں، جو کھجانے پر جَھڑ جاتے ہیں۔ یہ مرض لاحق ہونے کے کئی اسباب ہیں، جن میں موروثیت، مدافعتی نظام کی کم زوری، گلے کا انفیکشن، انجیکشنز کے اثرات، ملیریا کی چند ادویہ، کوئی چوٹ، ذہنی دباؤ اور سورج کی تمازت وغیرہ شامل ہیں۔سورائسز کا مرض شیرخوار بچّے سے لےکرستّر سال کے معمر فرد کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔سورائسز کی ایک اور قسم میں ہتھیلیوں اور تلووں پر پیپ بھرے خارش والے دانے بن جاتے ہیں،جن سےمریض کے لیے چلنا پھرنا، کھانا پینا، اٹھنا بیٹھنا اور دیگر ضروری امور انجام دینا خاصامشکل امر بن جاتا ہے۔بعض اوقات سورائسزخشک ہونے پر جِلد موٹی ہوجاتی ہے، نتیجتاً ادویہ مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔سورائسز کی ایک قسم میں جسم ،خصوصاً ہاتھ، پائوں کی انگلیوں کے جوڑ متاثر ہوجاتے ہیں۔ جوڑ متوّرم ہونے سے شدید درد محسوس ہوتا ہے،بسا اوقات ہاتھ ، پاؤں مُڑ بھی جاتے ہیں۔ چلنے پھرنے اور دیگر امور کی انجام دہی میں سخت دشواری پیش آ تی ہے۔ دوسری جانب، جِلدی خارش بھی چین نہیں لینے دیتی اور مریض دوسروں کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے۔اندازاً 10تا 30فی صد سورائسز کے مریضوں میں جوڑ متاثر ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ سورائسز کی ایک قسم میں ناخن متاثر ہوکر کھردرے، بد رنگ ہوجاتے ہیں، ان کی سطح پر گڑھے، لائنیں بن جاتی ہیں، جب کہ ناخن کے نیچے کی جِلد موٹی ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات ناخن موٹے ہو کر جڑ سے علیٰحدہ بھی ہوجاتے ہیں۔
2
واضح رہے، اگر سورائسز جوڑوں کاہو،تو ناخن زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جب کہ دیگر اقسام میں ناخن زیادہ خراب نہیں ہوتے۔ اس کے علاوہ اگر سورائسز منہ کے اندر اور باہر اثرانداز ہو، تو ہونٹ سُرخی مائل اور خشک رہتے ہیں۔بعض کیسز میں منہ کی اندرونی سطح پر انفیکشن شدید تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ زبان کے اوپر سفید دھاریاں نمودار ہوجاتی ہیں۔ سورائسز کی ایک قسم میں آنکھوں کے اندر سُرخی اور جلن محسوس ہوتی ہے، جب کہ پپوٹوں کی جِلد پر بننے والے سورائسز کے چھلکوں اور خارش سے انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے۔ سب سے شدید قسم میں سورائسز پورے جسم میں پھیل کر90فی صد جِلد کو سُرخی مائل، چھلکوں سے بَھر دیتا ہے۔ مریض کوجوڑوں، منہ، ناخن، آنکھوںاور سَر میں شدیدخارش، جلن اور بے چینی محسوس ہوتی ہے اور انفیکشن بھی ہوجاتا ہے۔ بخار کی کیفیت اور کیلشیم، معدنیات کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔نیز، جِلد کا درجۂ حرارت کبھی بڑھ جاتا ،تو کبھی کم ہوجاتا ہے، کیوں کہ بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے والی جِلد خود کم زور ہوچُکی ہوتی ہے۔
3
جسم کا اندرونی نظام متاثر ہونے کے نتیجے میں نمونیا، دِل فیل ہوجانا، خرابیٔ جگر اور ذیابطیس جیسے عوارض اپنا شکار بنا سکتے ہیں۔ مریض بتدریج کم زور ہوتا چلا جاتا ہے۔ اگر زیادہ ملی گرام کی ادویہ استعمال کروائی جائیں، تو ان کے مضر اثرات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بچّوں میں سورائسز کی ایک قسم نیپکن سورائسز کہلاتی ہے، جو دو تا آٹھ ماہ کی عُمر میں بچّوں کے چڈّوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ابتدائی علامات کیا ہیں، جن کی بدولت تشخیص ممکن ہوسکے سورائسزکی ابتدائی علامات میں سب سے نمایاں علامت سُرخی مائل چھوٹے یا بڑے دھبّے ہیں، جن پر چاندی کی مانند چمکتے ہوئے چھلکے پائےجاتے ہیں۔ جب ان چھلکوں کو ہٹایا جائے، تو نیچے کی جِلد نہ صرف سُرخی مائل نظر آتی ہے، بلکہ یہاں نقطے کے برابر خون کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں، جو تشخیص میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔، لیکن سورائسز میں متاثرہ جگہ پر ایپی ڈرمس 4 تا 7 دِنوں میں نمو پاتی ہے، جس پر چھلکے تہہ بن کر چپک جاتے ہیں۔ چوں کہ متاثرہ جِلد کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے، تو خون کی باریک باریک نالیاں بھی یہاں زیادہ مقدار میں خون فراہم کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ متاثرہ جلد کی رنگت سُرخی مائل ہو جاتی ہے اور چھلکے کھرچنے پر خون کے نقطے دکھائی دیتے ہیں کہا جاتا ہے کہ یہ مرض لاعلاج ہے، تو کیاایسا ہی ہے؟-اس مرض میں بھٹے کے بالوں سے انتہائ شاندار علاج ممکن ہے جس کی تفصیل اس مضمون کی اگلی قسط میں آپ کو پڑھنے کو ملے گی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں