ایک ادیب ہو یا شاعر ہو اس کے فن میں پختگی اس وقت آتی ہے جب فنکار حالات و واقعات پر مظبوط گرفت رکھتا ہو -اسی گرفت کی خوبی کے سبب فنکار کا رشتہ اپنے قاری سے قریب تر ہوتا جاتا ہے ۔ اور افتخار عارف کا کلام جدید اردو شاعری میں ایک منفرد آواز کے ساتھ قاری کے دل و دماغ پر دیر تک چھایا رہتا ہے۔اور ابلاغی تاثیر خود بخود قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔افتخار عارف کا کلام ایک ایسا جدید گلدستہ ہے جو کلاسیکی گلزار سخن کے رنگ و خوشبو سے ہم آمیز ہے۔کلاسیکی لفظیات کو نئے مفاہیم کے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔لفظ کے مزاج سے واقفیت رکھتے ہیں اس لیے بیشتر اشعار میں زبان کا خلاقانہ اظہار ہوا ہے۔انھوں نے پرانی غزل کے احساس کے ساتھ ساتھ نئی غزل کے تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے۔-افتخار عارف نے جس طرح ایک عام موضوع پر قلم اٹھایا اور اسے ایک خاص شعری ہیئت میں ڈھال کر ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کر کے جو حسن بخشا وہ واقعی امتیازی وصف کے لائق ہے۔
Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
ہفتہ، 16 اگست، 2025
زہانت کا پیکر افتخار عارف
جمعہ، 15 اگست، 2025
کالج آف نرسنگ شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان
شیخ زیدسلطا ن النہیان نے بنفس نفیس رحیم یار خان میں جن فلاحی کاموں کا بیڑہ اٹھا یا ان میں میڈیکل کالج رحیم یار خان اس لئے سر فہرست مانا جائے گا کہ اس کا تعلق صحت کے شعبے سے ہے ،PHA -انڈرگریجویٹ پروگرام-کالج پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، پاکستان نرسنگ کونسل اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذریعے تسلیم شدہ انڈر گریجویٹ پروگرام پیش کر رہا ہے۔ ، یہ ایک پبلک میڈیکل کالج ہے جو رحیم یار خان، پنجاب، پاکستان میں واقع ہے۔ اس کا نام شیخ زید بن سلطان النہیان کے اعزاز میں رکھا گیا ہے۔ میڈیکل کالج کا الحاق شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان سے ہے جس میں 900 بستر ہیں اور یہ ضلع رحیم یار خان کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ شیخ زید میڈیکل کالج مارچ 2003 میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، رحیم یار خان میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ رحیم یار خان میں جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہے۔
شیخ زید میڈیکل کالج (جے ایس زیڈ ایم سی) کا جریدہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سپورٹ یونٹ، شیخ زید میڈیکل کالج/ہسپتال، رحیم یار خان کے تحت انسٹی ٹیوٹ اور ریجن میں ہیلتھ ریسرچ پبلیکیشن کے مرکز کے طور پر کام کر رہا ہے۔شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ذریعے تسلیم شدہ۔ہر سال، کالج یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، لاہور کے زیر اہتمام داخلہ امتحان کے ذریعے اوپن میرٹ پر 150 طلبہ کو داخلہ دیتا ہے۔ کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان کے ذریعے تسلیم شدہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور سے الحاق شدہ۔ الحاق شدہ ادارے-شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان ( پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے نام سے جانا جاتا تھا ) ایم بی بی ایس-ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی-بی ایس سی (آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی -بی ایس سی (میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی)بی ایس سی آنرز۔ (میڈیکل امیجنگ ٹیکنالوجی) نر سنگ ڈپلوماپوسٹ گریجویٹ پروگرام
-شیخ زاید میڈیکل کالج اور اس سے منسلک ادارے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز آف پاکستان اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذریعے تسلیم شدہ ہیں اور درج ذیل میں تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ان پروگراموں میں داخلہ پنجاب ریذیڈنسی پروگرام کے تحت سنٹرل انڈکشن پالیسی کے ذریعے ہے۔ شعبه جات-اناٹومی-بائیو کیمسٹری-کمیونٹی میڈیسن- فرانزک دوا-پیتھالوجی-فارماکولوجی-فزیالوجی-طب اور اس سے متعلقہ محکمے۔کارڈیالوجی-ڈرمیٹولوجی-عام دوا-نیورولوجی-اطفال-بنیادی سائنس کے شعبے - روک تھام کی دوانفسیات-پلمونولوجی ( سینے کی دوا )-ریڈیو تھراپی-یورولوجیسرجری اور متعلقہ شعبہ جات-اینستھیزیالوجی-کارڈیک سرجری--کاسمیٹک سرجری-جنرل سرجری-نیورو سرجریپرسوتی اور امراض نسواں-امراض چشم-زبانی اور میکسیلو فیشل سرجری-آرتھوپیڈکس-
Otorhinolaryngologyپیڈیاٹرک سرجری-ریڈیولوجی-سٹوڈنٹ سوسائٹیزشیخ زید میڈیکل کالج میں درج ذیل سوسائٹیز طلبہ کے لیے کام کر رہی ہیں:زیدیان آگاہی اور ادبی سوسائٹی (ZALS)زیدیان میڈیا آرٹس اینڈڈرامیٹکس(ZMAD)زیدیان ایتھلیٹک اینڈ اسپورٹس کلب (ZASC)زیدیان بلڈ ڈونر سوسائٹی (ZBDS)پسماندہ طبی امداد کے نیٹ ورک کی مدد کرنا (HUMANe)پیشنٹ کیئر سوسائٹی (PCS)SZMC کے طالب علم نے مصر میں اپنے الما میٹر کی نمائندگی کی۔انڈرگریجویٹ ریسرچرز
-شیخ زید میڈیکل کالج کے طلبہ کو ہمیشہ اصل تحقیق کرنے، دنیا بھر میں قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں مقالے پیش کرنے اور ہم مرتبہ نظرثانی شدہ جرائد میں شائع ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ ایس زیڈ ایم سی کے ایک طالب علم نے اپریل 2006 میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز حیدرآباد میں منعقدہ پاکستان فزیالوجیکل سوسائٹی کی 10ویں دو سالہ بین الاقوامی فزیالوجی کانفرنس میں بہترین پیپر پریزنٹیشن کا ایوارڈ جیتا تھا] SZMC کے طلبہ نے پہلی سارک، شفا کالج آف میڈیسن، اسلام آباد میں نومبر 2008 میں منعقدہ 11ویں دو سالہ بین الاقوامی فزیالوجی کانفرنس میں 5 اصل تحقیقی مقالے پیش کیے تھےSZMC کے ایک طالب علم نے فروری 2009 میں قاہرہ میں 17ویں بین الاقوامی عین شمس میڈیکل اسٹوڈنٹس کانگریس میں اپنا مقالہ پیش کیا ایس زیڈ ایم سی کے طلبہ نے ایم بی بی ایس کے دوران اپنے اصلی تحقیقی مقالے معروف قومی جرائد میں شائع کیے ہیں۔
بدھ، 13 اگست، 2025
شیخ زید النہیان جن کا دوسرا گھر رحیم یار خان
شیخ زید النہیان کا جب پاکستان سے دوستانہ استوار ہو تب انہوں نے اپنے لئے چولستان کے علاقے میں ایک تعمیر کرنے کا ارادہ بنایا ایک محل اور اس کے لئے رحیم یار خان شہر سے چند کلومیٹر کی دوری پر ایک قطعہ زمین کا انتخاب کیا گیا پھر محل اور شہر سے آمدو رفت کے لیے ایئرپورٹ سے محل تک خصوصی شاہراہ تعمیر ہوئی۔ اور پھر یہ محل اور یہ شاہراہ پنجاب کے لوگوں کے لئے بہت کشادگی کا باعث بن گئ رفتہ رفتہ شہر کا پھیلاؤ بھی اسی جانب ہوتا چلا گیا اور اب محل سے صرف کچھ ہی فاصلے پرحکمران نہیں، پوری حکومت آتی تھی رئیس عباس زیدی کے مطابق ستر کی دہائی میں پہلی بار شیخ زید نے رحیم یار خان ضلع میں سرکاری زمین لیز پر حاصل کی جو ریگستان میں واقع تھی۔ان کے مطابق اس کے بعد ان کے دور میں چار ہزار ایکڑ مزید زمین لیز پر لی گئی جو بنجر اور بے آباد تھی۔ ’وہاں پانی نہیں تھا لیکن اس زمین کو آباد کیا گیا، سڑکیں بنائی گئیں، اور صحرا کے خانہ بدوشوں کی زندگی بدل گئی۔‘تاہم رئیس عباس زیدی کے مطابق بطور ڈپٹی کمشنر متحدہ عرب امارات کے حکمران کی رحیم یار خان آمد کے بعد ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری بڑھ جایا کرتی تھی۔
جب شیخ زید زیادہ عرصے کے لیے آتے تھے تو ان کی مجلس یعنی کابینہ کا اجلاس بھی ادھر ہی ہوا کرتا تھا اور اکثر دوسرے ممالک کے عہدیداران ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے۔ اس دوران بینظیر بھٹو وزیراعظم تھیں جو خود شیخ زید سے ملنے آیا کرتی تھیں جبکہ نواز شریف اپوزیشن لیڈر تھے، وہ بھی آتے تھے۔‘رئیس عباس زیدی کہتے ہیں کہ ’محل میں شیخ زید کے کمرے کے باہر چیتے کی کھال لگی تھی جو ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ کے طور پر دی تھی اور ان کی ہدایت تھی کہ اس کھال کو ہٹایا نہ جائے۔‘عرب حکمرانوں کا شکار کے لیے پاکستان آنے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ ایک خیال یہ ہے کہ پاکستان میں خلیجی ممالک کے سربراہان کی شکار کے لیے آمد کا باقاعدہ سلسلہ جنرل ایوب خان کے دورِ حکومت سے شروع ہوا تھا۔جبکہ ایک اور عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں عرب حکمرانوں کی شکار کے ارادے سے آمد کا سلسلہ 1970 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تیل کی دولت سے مالامال مشرق وسطی کی ریاستوں سے بہتر تعلقات استوار کیے۔
مصنف ندیم فاروق پراچہ کی ایک تحریر میں بھی یہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 1970 کی دہائی کے وسط میں رحیم یار خان شکار کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کا پسندیدہ علاقہ بن گیا کیونکہ ان کے اپنے صحراؤں میں تلور معدوم ہوتا جا رہا تھا۔ یہ شیوخ دسمبر سے فروری کے مہینوں میں آتے کیونکہ پاکستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں نایاب سمجھا جانے والا پرندہ تلور موسمِ سرما گزارتا ہے۔رفتہ رفتہ یہ حکومت اور مقامی لوگوں کے لیے منافع بخش کام بھی بن گیا۔ 2019 میں معاشی امور پر رپورٹ کرنے والے جریدے ’دی اکانمسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ ڈالر کے عوض شکار گاہ، ایک لاکھ ڈالر کے عوض دس دن کا اجازت نامہ دیا جانے لگا جس کے تحت صرف سو تلور کے شکار کی اجازت دی جاتی اور ہر تلور کے عوض ایک ہزار ڈالر اضافی دینا ہوتے۔
اربعین حسینی -فکر حسینی کا ارتقاء
ڈیجیٹل زمانے کی محبتوں میں سماجی ا خلاقی زوال
منگل، 12 اگست، 2025
ڈیجیٹل زمانے کی ڈیجیٹل محبتیں اور ہمارا اخلاقی زوال
جابر بن عبد اللہ انصاری
جابر بن عبد اللہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہٗ ہجرتِ مدینہ سے 16 سال قبل پیدا ہوئے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دادا عمرو بن حرام انصاری اپنے قبیلے کے سردار تھے 19 کے قریب تمام بڑے غزوات میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ شریک رہے۔ آپؓ نے بڑی عمر کی بیوہ سے شادی کی، تاکہ آپؓ کی 9 چھوٹی بہنوں کی تربیت و اُمورِ خانہ داری قائم رہ سکیں۔حضرت جابرؓ نے غزوۂ خندق کے موقع پر آپ ﷺ کی دعوت کی۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کے سامنے اعلان کرا دیا کہ جابر کے ہاں تمام اہلِ خندق کی دعوت ہے۔ چناں چہ اس موقع پر آپؐ کی برکت سے چند افراد کا کھانا 1400 صحابہ کرامؓ نے کھایا۔ ایک موقع پر آپؐ نے 25 بار حضرت جابرؓ کے لیے استغفار کی دعا پڑھی۔ آپؐ کو اگر قرض کی ضرورت پڑتی تو آپؐ حضرت جابرؓ سے قرض بھی لے لیتے تھے۔حضرت جابرؓ سے سینکڑوں احادیث مروی ہیں، جن میں سے ایک یہ حدیث بھی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’میری اُمت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر رہے گی،
یہاں تک کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں‘‘۔ حضرت جابرؓ نے طویل عمر پائی ۔ آپؓ تفسیر، حدیث اور فقہِ دین میں کمال درجے کی مہارت رکھتے تھے۔ آپؓ نے خلفائے راشدینؓ کے زمانے میں بھی مختلف سماجی ذمہ داریوں پر فائز رہ کر بھر پور کردار ادا کیا۔ تابعینؒ کے ہر طبقے نے آپؓ سے کسبِ فیض کیا ہے۔ ایک قول کے مطابق جابر واقعہ کربلا کے چالیس دن بعد یعنی اربعین کو کربلا پہنچے۔ آپ کو حسین ابن علی کے پہلے زائر ہونے کا شرف حاصل ہے-ان کے والد نے غزوۂ احد میں شہادت حاصل کی کافروں نے مثلہ کر دیا تھا اس لیے جنازہ کپڑوں میں اڑھا کر لایا گیا، حضرت جابرؓ نے کپڑا اٹھا دیا اور دیکھنا چاہا لوگوں نے منع کیا،آنحضرت ﷺ نے یہ دیکھ کر کپڑا اٹھا دیا ، بہن پاس کھڑی تھیں، بھائی کی حالت دیکھ کر ایک چیخ ماری، آنحضرت ﷺ نے پوچھا کون ہے؟لوگوں نے کہا ان کی بہن ،فرمایا تم روؤ یا نہ روؤ جب تک جنازہ رکھا رہا ،فرشتے پروں سے سایہ کیے تھے حضرت عبد اللہؓ نے دس لڑکیاں چھوڑیں ،انھوں نے اپنے بھائی حضرت جابرؓ کے پاس ایک اونٹ بھیجا کہ ابا جان کی لاش گھر لے آئیں اور مقبرہ بنی سلمہ میں دفن کر دیں، وہ تیار ہو گئے،آنحضرت ﷺ کو خبر ہوئی فرمایا کہ جہاں ان کے دوسرے بھائی شہداء دفن کیے جائیں گے، وہیں وہ بھی دفن ہوں گے ؛چنانچہ احد کے گنج شہیداں میں دفن کیے گئے۔
ان پر قرض بہت تھا، حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو اس کے ادا کرنے کی فکر ہوئی، لیکن ادا کہاں سے کرتے؟ کل دو باغ تھے جن کی پوری پیدا وار قرض کو کافی نہ تھی، رسول اللہ ﷺ کے پاس گھبرائے ہوئے آئے اور کہا یہودیوں کو بلاکر کچھ کم کرا دیجئے، آپ نے ان لوگوں کو طلب فرماکر حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کا مدعا بیان کیا انھوں نے چھوڑنے سے انکار کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا دو مرتبہ میں اپنا قرض وصول کرلو، نصف اس سال اور نصف دوسرے سال، وہ لوگ اس پر رضا مند نہ ہوئے، آپ ﷺ نے یہ دیکھ کر حضرت جابرؓ بن عبد اللہ کو تسکین دی اور فرمایا کہ سنیچر(ہفتہ) کے دن تمھارے ہاں آؤں گا، چنانچہ سنیچر کو صبح کے و قت تشریف لے گئے، پانی کے پاس بیٹھ کر وضو کیا،مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی، پھر خیمہ میں آکر متمکن ہوئے، اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ صدیق و حضرت عمرؓ بھی پہنچ گئے، تقسیم کا وقت آیا تو ارشاد ہوا کہ چھوہاروں کو قسم دار الگ کرکے خبر کرنا، چنانچہ آپ کو خبر کی گئی ،آپ تشریف لائے اور ایک ڈھیر پر بیٹھ گئے،
حضرت جابرؓ بن عبد اللہ نے بانٹنا شروع کیا اور آپ دعا کرتے رہے، خدا کی قدرت کہ قرض ادا ہونے کے بعد بھی جو کچھ بچ گیا، حضرت جابرؓ خوشی خوشی آپ کے پاس آئے اور بیان کیا کہ قرض ادا ہو گیا اور اتنا فاضل ہے، آپ نے خدا کا شکر ادا کیا، حضرت ابوبکرؓ صدیق وحضرت عمرؓ کو بھی بہت مسرت ہوئی۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکان لے گئے اور گوشت ،خرما اور پانی پیش کیا، آپ نے فرمایا شاید تم کو معلوم ہے کہ میں گوشت رغبت سے کھاتا ہوں،چلنے کا وقت آیا تو اندر سے آواز آئی کہ مجھ پر اور میرے شوہر پر درود پڑھیے، فرمایا: اللھم صل علیھم والد کی موجودگی تک انھوں نے کسی غزوہ میں حصہ نہیں لیا۔ مسلم میں ہے کہ انھوں نے غزوہ بدر میں میدان کا عزم کیا،
1932ء میں عراق کے اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل کو خواب میں صحابیِ رسول حذیفہ بن یمانی (معروف بہ حذیفہ یمانی) کی زیارت ہوئی جس میں انھوں نے بادشاہ کو کہا کہ اے بادشاہ میری قبر میں دجلہ کا پانی آ گیا ہے اور جابر بن عبد اللہ کی قبر میں دجلہ کا پانی آ رہا ہے چنانچہ ہماری قبر کشائی کر کے ہمیں کسی اور جگہ دفن کر دو۔ اس کے بعد ان دونوں اصحابِ رسول کی قبریں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کھولی گئیں جن میں مفتیِ اعظم فلسطین، مصر کے شاہ فاروق اول اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ ان دونوں کے اجسام حیرت انگیز طور پر تازہ تھے، جیسے ابھی دفنائے گئے ہوں۔ ان کی کھلی آنکھوں سے ایسی روشنی خارج ہو رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ ہزاروں لوگوں کو ان کی زیارت بھی کروائی گئی جن کے مطابق ان دونوں کے کفن تک سلامت تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ زندہ ہوں۔ ان دونوں اجسام کو سلمان فارسی رَضی اللہُ تعالیٰ عنہُ کی قبر مبارک کے بالکل قریب سلمان پاک نامی جگہ پر دوبارہ دفنا دیا گیا جو بغداد سے تیس میل کے فاصلے پر ہے۔
حضرت سلیمان ع کی فضائ چھا ؤنی کا رقبہ کتنا تھا
حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کی چھاونی سو فرسخ (ایک فرسخ تین میل ہوتے ہیں )میں تھی ان میں سے پچیس فرسخ جنوں کے لیے، پچیس انسانوں کے لیے، پچیس پرندوں کے لیے اور پچیس فرسخ دیگر جانوروں کے لیے تھے- آپ کے لیے لکڑی کے تخت پر سو گھر تھے جن میں آپ کی باندیاں رہائش پذیر تھیں- ان میں سے تین سو منکوحہ تھیں اور سات سو لونڈیاں تھیں- آپ تیز ہوا کو حکم دیتے تو وہ آپ کو لے کر چل پڑتی تھی- پس ایک دن آپ علیہ السلام زمین و آسمان کے درمیان جا رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ میں نے آپ کی حکومت میں اضافہ کر دیا ہے وہ اس طرح کہ مخلوق سے جو بھی کہیں بات کرے گا ہوا اسے آپ کے پاس لے آئے گی اور آپ کو اس سے آگاہ کردے گی‘‘- تفسیر مظہری، ج:5، ص723 وادیٔ نملہ کا سفر:ایک مرتبہ آپ کے لشکر کا گزر ایک وادی سے ہوا جو وادیٔ نملہ کہلاتی تھی- نملہ کی یہ وادی عسقلان کے قریب ہے- جب لشکر اس وادی کے قریب پہنچا تو ایک چیونٹی نے کہا کہ :-
﴿81یٰآَیُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَکُمْ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُہ، وَ ہُمْ لَا یَشْعُرُوْن﴾﴿النمل: ﴾
’اے چیونٹیو! اپنے اپنے بِلوں میں گھس جائو کہیں تم کو سلیمان اور ان کے لشکر والے بے خبری میں روند نہ ڈالیں‘‘-حضرت سلیمان نے ان کی یہ بات سن لی اور اللہ کی مخلوقات میں سے جو بھی مخلوق کوئی بات کرتی تھی تو ہوا اس بات کو حضرت سلیمان کے کانو ں میں پہنچا دیتی تھی- مقاتل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ :-حضرت سلیمان نے چیونٹی کی بات کو تین میل کی مسافت سے سن لیا تھا‘‘- امام بغوی ، معالم و التنزیل، ج: 3، ص:153 ، العلمیہ حضرت سلیمان کا چیونٹی سے مکالمہ :حضرت سلیمان نے فرمایا کہ چیونٹی کو میرے پاس لاؤ- چنانچہ چیونٹی حاضر کی گئی -حضرت سلیمان : اے چیونٹی! کیا تجھے معلوم نہ تھا کہ میر الشکر کسی پر ظلم و ستم نہیں کرتا-چیونٹی: بے شک میرا عقیدہ یہی ہے کہ آپ کا لشکر ظلم و ستم نہیں کرتا لیکن چونکہ مَیں ان سب کی سردار ہو ں اس لیے میرا فرضِ منصبی تھاکہ میں انہیں ہر نشیب و فراز سے آگاہ کروں-حضرت سلیمان : تیری اس تقریر سے میرے نزدیک تیری قدر و منزلت بڑھ گئی ہے- لہٰذا میرا جی چاہتا ہے کہ تو مجھے کوئی پند و نصیحت سنا ئے-
چیونٹی: آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے والد گرامی کا نام داؤد کیوں رکھا گیا؟حضرت سلیمان :مجھے معلوم نہیں!چیونٹی: آپ کے والد گرامی کا نام داؤد اس لیے تھا کہ انہوں نے زخمی دل کا علاج کیا- گویا ان کانام ’’داوی جراحۃ قلبہ‘‘ کا مخفف ہے-پھر چیونٹی نے سوال کیا کہ اے حضرت سلیمان کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ آپ کا نام سلیمان کیوں ہے؟حضرت سلیمان : مجھے معلوم نہیں!چیونٹی: اس لیے کہ آپ ’’سلیم الصدر و القلب‘‘ ہیں- گویا سلیمان انہی الفاظ کا مخفف ہے-تفسیر روح البیان میں علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’کشف الاسرار‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ :-’حضرت سلیمان نے چیونٹی سے پوچھا کہ تمھاری سلطنت کا حدود اربع اور تمہارے لشکر کی تعداد کتنی ہے؟ چیونٹی نے عرض کی کہ لشکر کی نگرانی کے لیے مَیں چار ہزار کوتوال رکھتی ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے ماتحت چالیس ہزار نقیب ہیں پھر ہر ایک نقیب کے تحت چالیس ہزار چیونٹیاں رہتی ہیں-
پھر حضرت سلیمان نے چیونٹی سے فرمایا کہ تو اپنے لشکر سے باہر کیوں نہیں جاتی؟ چیونٹی نے عرض کی کہ اے پیارے نبی مجھے روئے زمین کا اختیار دیا گیا ہے لیکن میں نے ٹھکرا دیا صرف اس لیے کہ مجھے اپنے لشکر کو چھوڑ کر کہیں جانا گوارا نہیں بلکہ عرض کی کہ اے پروردگارِ عالَم ہمیں زیرِ زمین رکھنا تا کہ تیرے سوا ہمیں کوئی نہ جانے اور ہم بھی تیرے سوا کسی کو نہ جانیں‘‘- جلد: 6، ص :753، اس کے بعد چیونٹی نے حضرت سلیمان سے کہا کہ آپ بھی تو مجھے بتا دیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی کون سی نعمت عطا فرمائی ہے ؟ حضرت سلیمان نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو میرے تابع کر دیا ہے- مَیں صبح کو مشرق میں ہوتا ہوں اور شام کو مغرب میں- چیونٹی نے کہا کہ یہ تو کوئی بڑا کمال نہیں بلکہ اس میں تو یہ اشارہ ہے کہ آپ کی بادشاہی گویا ہوا پر سہارا کر رہی ہے- چیونٹی کی بات سن کر حضرت سلیمان نے دعا مانگی کہ:-
رَبِّ اَوْزِعْنِیْْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ
’اے میرے رب! مجھے اس بات کی توفیق دے کہ میں تیری نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر فرمائی‘‘- النمل:۹۱ ’’قرآن پا ک کی نظر میں آقا و غلام برابر ہیں- کوئی بوریا نشیں ہو یا تخت کا وارث ان میں کوئی فرق نہیں‘‘- رموزِ بیخودی، حکایت سلطان مرادیہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ واٰلہٰ وسلم تک جتنے بھی انبیائے کرام تشریف لائے وہ سب اسلام کے سلسلے کی ہی مختلف کڑیاں ہیں اس لیے ان کی زندگیوں کو اسلام اور قرآن کی تعلیمات سے الگ نہیں کیا جاسکتا- حضرت سلیمان کے فیصلے:حضرت داؤد اس امر سے آگاہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو علم و دانش ذکاوت و خطابت اور مقدمات کے فیصلے کی صلاحیت بچپن ہی سے عطا کردی تھی
یرقان کے بر وقت علاج سے کالے بخار سے بچا سکتا ہے
یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں جِلد اور آنکھ کا سفید حصہ پیلا پڑ جاتا ہے ۔ یہ بیماری خون، جگر، یا پتے کے مسائل کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ یرقان کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا جب خون میں بلی روبین کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ایک زرد سے نارنجی رنگ کا مادہ ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیوں میں موجود ہوتا ہے۔ جب یہ خلیےختم ہو جاتے ہیں تو جگر انہیں خون سے فلٹر کر لیتا ہے۔ لیکن اگر جگر صحیح طرح سے کام نہ کرے تو بلی روبین کی مقدار بڑھنا شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جِلد پیلی معلوم ہوتی ہے-یرقان کی وجوہا ت-یرقان کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ہیپاٹائٹس-یہ انفیکشن ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ مختصر وقت تک بھی لاحق ہو سکتا ہے اور دائمی بھی۔ اگر دائمی لاحق ہو تو پھر یہ چھ ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مدافعتی نظام کی کمزوری اور مخصوص ادویات کا استعمال ہیپاٹائٹس کی وجہ بن سکتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہیپاٹائٹس جگر کو متاثر کر کے یرقان کا سبب بن سکتا ہے۔بعض ادویات کا استعمال-پینسیلین نامی اینٹی بائیو ٹکس، حمل روکنے والی دوائیں، اور اسٹیرائڈز کا استعمال جگر کو متاثر کر سکتا ہے جس سے یرقان کے خطرات بڑھ جاتے ہیں
پت نالی میں رکاوٹ-یہ تنگ نالی ہوتی ہے جس میں سیال (پت) دوڑتا ہے۔ یہ نالی سیال کو جگر اور پتے سے چھوٹی آنت تک پہنچاتی ہے۔ کبھی کبھی یہ نالی کینسر، جگر کے امراض، یا پتے کی پتھری کی وجہ سے بند ہو جاتی ہے جس سے یرقان لاحق ہو سکتا ہے۔لبلبے کا کینسر-یہ کینسر عورتوں میں پایا جانے والا نواں جب کہ مردوں میں پایا جانے والا دسواں سب سے عام کینسر ہے۔ یہ کینسر بھی پت نالی بلاک کر سکتا ہے جس سے یرقان لاحق ہونے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔جگر کا کینسر-جگر کا کینسر اس وقت لاحق ہوتا ہے جب جگر کے سیلز کینسر زدہ بن جاتے ہیں اور بہت زیادہ مقدار میں بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ جگر کے کینسر کی وجہ سے بھی یرقان لاحق ہو سکتا ہے۔یرقان کی وجوہات کے ساتھ ساتھ اس کی علامات بھی مختلف ہوتی ہیں۔یرقان کی علامات-یرقان کی علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں۔
اگر آپ کو کھانا کھانے کے بعد متلی یا قے کی لگاتار شکایت رہتی ہے تو آپ کو فوری طور پر معائنہ کروانے کی ضرورت ہے کیوں کہ متلی اور قے یرقان کی علامات ہو سکتی ہیں۔جِلد اور آنکھوں کی پیلاہٹ-جِلد اور آنکھوں کی پیلاہٹ یرقان کی سب سے عام علامت ہے۔ یرقان کی وجہ سے جِلد کا کوئی حصہ یا آنکھوں کا سفید حصہ پیلا ہو جاتا ہے۔بھوک اور وزن میں کمی ایسے افراد جو یرقان کا شکار ہوں ان کو بھوک کم لگتی ہے جس کی وجہ سے ان کا وزن تیزی سے گھٹنے لگتا ہے۔یرقان کے شکار افراد کو اکثر پیٹ درد کی شکایت رہتی ہےتھکاوٹ یرقان کی وجہ سے آپ کو جلد تھکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تھوڑا سا کام کرنے کے بعد بھی آپ تھکاوٹ کا شکار ہو سکتے ہیں۔خارش، بخار، اور پیشاب کا گہرا رنگ -یرقان کی وجہ سے جسم کے کسی بھی حصے پر خارش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب کہ بخار کی علامات بھی ظاہر ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یرقان کے مریضوں میں پیشاب کا رنگ بہت گہرا ہو جاتا ہے۔یرقان کی علامات کے دوران عمومی طور پر ادویات تجویز نہیں کی جاتیں اور گھریلو علاج کے ذریعے اس کی علامات کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔
ہلدی کا استعمال-ہلدی اینٹی آکسیڈنٹس خصوصیات سے بھرپور ہوتی ہے جس سے جگر کے سیلز مضبوط ہوتے ہیں-کد دو کو ٹکڑوں میں کاٹ کر شوربے دار پکائیں۔ کوشش کریں کہ اس شوربے میں چکنائی نہ ہو۔ بہترین ذائقے کے لیے سفید زیرہ، دھنیا، ادرک، ہلکا سا نمک، کالی مرچ، اور لہسن شامل کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ ہری یا سرخ مرچ، کھٹائی، اور کسی بھی قسم کا گرم مصالحہ شامل کرنے سے گریز کریں۔ بھوک لگنے کی صورت میں کدو کے ٹکڑے کھا کر شوربہ پی لیں۔کھیرے کے استعمال سے معدے اور جگر کی گرمی ختم ہوتی ہے اس لیے یرقان کے دوران اس کا استعمال نہایت مفید ہوتا ہے۔ آپ کھانے سے پہلے کھیرے پر کالا نمک بھی چھڑک سکتے ہیں
ادرک-تھوڑی سی ادرک، پودینہ کی دس پتیاں، اور سونف ایک چائے کا چمچ ایک کپ پانی میں شامل کر کے قہوہ بنا لیں اور دن میں تین سے چار مرتبہ استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پسی ہوئی ادرک، ایک چمچ پانی، لیموں، پودینے کا عرق، اور ایک شہد کا چمچ شامل کر کے آمیزہ بنا لیں اور اس آمیزے کو بھی دن میں تین سے چار مرتبہ استعمال کریں۔ارجن کے پتے-شام کے وقت ارجن کے پتے پانی میں بھگو دیں۔ صبح انہیں پانی میں مکس کرنے کے بعد چھان کر پی لیں۔ صبح کے وقت پھر ان پتوں کو بھگو دیں اور شام کے وقت استعمال کر لیں۔مولی-یرقان کا شکار افراد کے لیے یہ سبزی نہایت مفید ہے۔ اسے کچا کھائیں۔ اس کے ساتھ آپ گُڑ بھی استعمال کر سکتے ہیں تا کہ یہ جلدی ہضم ہو جائےگاجر-اس مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے گاجر کا مربہ بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔ مربہ آپ گھر پر بھی بنا سکتے ہیں اور بازار سے بھی خرید سکتے ہیں۔ ہر روز دو چمچ مربہ کھانے کے بعد سونف اور سبز الائچی کا قہوہ پی لیں۔لیموں -ہر روز دو سے تین لیموں کا رس پانی میں استعمال کرنے سے کچھ دنوں میں یرقان کی علامات ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔انار-یرقان کی علامات کے دوران انار کا رس بھی نہایت مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ہر روز رات کو اس کا رس استعمال کرنے سے علامات میں واضح کمی آئے گی۔ اس مرض میں گنے کے رس کا استعمال نہایت شفاء بخش ہوتا ہے۔
ایک بات زہن نشین کر لیجئے کہ یرقان کا مرض بگڑ جائے یا مریض اپنے مرض سے ہی لا علم ہو تب کالا بخار ہوتا ہے
پیر، 11 اگست، 2025
مراکش کی مقدس ترین زیارت گاہ
مراکش میں مولائے إدريس جبل زرہون‘ کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔یہ المغرب کے پہلے بڑے مسلمان حکمران ادریس بن عبداللہ کی قبر کی جگہ ہونے کی وجہ سے مشہور ہے، جن کے نام پر اس قصبے کا نام رکھا گیا ہے۔یہ مکناس کے قریب واقع ہے اور چند کلومیٹر دور ولیلی کے کھنڈر کے قریب ہے مراکش کے اس مقدس‘ قصبہ جس کے کچھ حصوں میں عمارتیں سبز و سفید اور راہداریاں اور زینے مختلف رنگوں سے مزین نظر آتی ہیں، 1912 تک ا قصبے میں غیرمسلموں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع تھارنگوں اور روایتوں میں ڈوبا یہ چھوٹا سا قصبہ صدیوں تک بیرونی دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہا ہے۔ ’یہ قصبہ مولائے ادریس زرہون مراکش کے شہر ’شیفشاون‘ سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے-
تاریخی طور پر غیر مسلموں کے لیے بند ہونے اور براہ راست یہاں تک ٹرین کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مولائے ادریس سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ اس رنگ برنگے قصبے کا مراکش کی پہلی اسلامی سلطنت کے بانی ادریس اول سے تعلق ہے اور مولائے ادریس کو مراکش کی مقدس ترین زیارت گاہ تصور کیا جاتا ہے۔اگر آپ مولائے ادریس زیارت کے لیے آئیں، تو یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ نے سعودی عرب کے شہر مکہ کی زیارت کی ہو۔‘اپنے شاندار رنگوں اور مقدس حیثیت کے باوجود، یہاں کی زندگی سادہ، خاموش اور روایتوں میں رچی بسی ہے۔ اس قصبے میں غیرمسلموں کے داخلے پر عائد پابندی سنہ 1912 میں ختم کر دی گئی تھی اور اب مراکش کے تیز رفتار ریلوے نظام میں بہتری کے ایک منصوبے کے تحت یہاں آنا مزید آسان ہو جائے گا، کیونکہ اس قصبے کے قریب واقع شہر ’مکناس‘ میں ایک نیا ریلوے سٹیشن بنایا جا چکا ہے۔
عماد المیلودی کہتے ہیں: کہ ’ہم مزید زائرین کے منتظر ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کو مراکش کے اس اہم شہر کے بارے میں پتہ چلے۔‘کھنڈرات میں پناہ -یہ شہر سترہویں صدی میں آباد ہونا شروع ہوا تھا -سنہ 786 میں ایک ناکام بغاوت کے بعد مراکش کی پہلی اسلامی سلطنت کے بانی ادریس اول یعنی ادریس بن عبداللہ (جن کا نسب پیغمبر اسلام کے خاندان سے جا ملتا ہے) نے ولوبیلس یا ولیلی نامی کھنڈرات کو اپنا مرکز بنایا تاکہ وہ اسلام کی تبلیغ کر سکیں۔سنہ 791 میں زہر دیے جانے کے سبب ادریس اول کی موت واقع ہو گئی اور انھیں ان کھنڈرات سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر دفنایا گیا۔ کچھ ہی عرصے بعد ان کے پیروکاروں نے اُن کی قبر کے گرد گھر بنانا شروع کیے، جس سے اس قصبے کی بنیاد پڑی۔آج ولیلی کے کھنڈرات میں ستونوں، قدیم گھروں، عوامی حماموں اور نقش و نگار سے مزین در و دیوار کی باقیات، زرد پھولوں سے بھرے کھیتوں، زیتون اور انگوروں کے باغات کے بیچ، بکھری ہوئی ہیں۔
پہلے لوگ یہاں زرخیز زمین کی وجہ سے آباد ہوئے۔ ان کے پاس سب کچھ تھا۔‘مقدس شہروں کا مرکزاس قصبے کا وہ مقام جہاں سے آگے آج بھی غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہےجیسے جیسے مولای ادریس نے ترقی کرنا شروع کی یہ تیزی سے مراکش کا سب سے اہم مذہبی شہر بنتا گیا۔ اس کی تقدیس کو برقرار رکھنے کے لیے، اس میں غیرمسلموں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی جو سنہ 1912 تک نافذ العمل رہی۔اس کے بعد بھی یہاں غیرمسلموں کو رات گزارنے کی اجازت نہیں تھی تاہم سنہ 2005 میں مراکش کے بادشاہ حمد ششم کے حکم پر غیر مسلموں کو یہاں رات گزارنے کی اجازت دی گئی۔ اس اجازت کا مقصد مغربی تہذیبوں اور مراکش کے درمیان فاصلے کم کرنا اور مولای ادریس کو دنیا کے سامنے متعارف کروانا ضروری سمجھا گیا تھا۔
تاہم اس کے باوجود اس قصبے کے کچھ سب سے مقدس مقامات آج بھی صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہیں، جیسے ادریس اول کا مزار اور اُن سے منسلک مسجد۔ قصبے کے مرکزی چوک سے ایک محرابی راستے کے ذریعے آپ چمکدار سفید فرش پر چلتے ہوئے مسجد اور مزار کے اندر جاتے ہیں، یہاں وہ مقام ہے جہاں سے آگے غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع ہے اور اس کے آگے صرف مسلمان ہی جا سکتے ہیں۔اذان کی آواز-مقامی گیسٹ ہاؤس میں میرے میزبانوں میں سے ایک صاحبہ ضاحک مجھے کئی پُرپیچ راستوں سے گزارتے ہوئے مسجد کے سامنے ایک عام نظروں سے اوجھل مقام پر لے گئیں۔ یہاں اذان کی آواز تنگ گلیوں میں گونج رہی تھی۔ محراب دار کھڑکیوں سے ہم نے چند نمازیوں کو مسجد کی طرف جاتے ہوئے دیکھا۔جب ہم سبز و سفید پتھروں سے بنی ایک راہداری سے مسجد کو دیکھ رہے تھے تو انھوں نے کہا کہ ’رمضان میں یہ راہداریاں نمازیوں سے بھری ہوتی ہیں۔ اور ماہ اگست میں، مولای ادریس کی تعظیم میں ایک تہوار منایا جاتا ہے جس میں پورے مراکش سے مسلمان شریک ہوتے ہیں۔ اس تہوار کے دوران لوگ زمین پر سوتے ہیں، اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا
اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب میں خود ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...