Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
جمعرات، 26 فروری، 2026
جپسم ایک آبی عنصرکیلشیم سلفیٹ پر مشتمل ہوتا ہے
بدھ، 25 فروری، 2026
مترانوالی بستی کے بے گھر مکین کہاں جائیں ؟
آج مورخہ 25 فروری 2026 ء روزنامہ نواءے وقت میں ہمارے وطن کے محترم صحافی مطلوب وڑائچ رقمطراز ہیں کہ غریب لوگوں سے ان کی چھتیں چھین لی گئیں۔ کسی کے پاس ایک مرلے کا گھر تھا، کسی کے پاس دو مرلوں کی کچی پکی چھت — وہ بھی مٹی میں ملا دی گئی۔ میترانوالی کو یوں اجاڑا گیا جیسے کسی بستی پر جنگ اتر آئی ہو۔ کرینوں اور بلڈوزروں کی گھن گرج میں غریبوں کے گھر، دکانیں اور تھڑے زمین بوس کر دیے گئے۔ منظر ایسا تھا کہ دل بے اختیار کہہ اٹھا: یہ گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔ایک ایرانی کہاوت ہے ۔ ماں نے بیٹے سے پوچھا: ‘‘مجھے کیسے پتا چلے گا کہ تم جہاز اڑا رہے ہو؟’’ بیٹے نے ہنستے ہوئے کہا: ‘‘ماں! جب میں گھر کے اوپر سے گزروں گا تو ایک بم گرا دوں گا، آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کا بیٹا گزرا ہے۔’’ آج اپنے ہی شہر پر جو گزر رہی ہے، وہ اسی مثال کی تلخ بازگشت محسوس ہوتی ہے۔میں یہ سطور کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں لکھ رہا۔ اس دھرتی کا قرض مجھ پر ہے — اس مٹی کا جس نے مجھے جنم دیا، پروان چڑھایا، پہچان دی۔ انٹرنیشنل سیاست کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد بہت سے لوگ اپنی جڑیں بھول جاتے ہیں،مگر میں اس مٹی کی خوشبو کو کیسے فراموش کر دوں؟ نہ مجھے کسی وضاحت کی ضرورت ہے، نہ کسی مقابلے کی۔ اللہ نے علم، فہم اور ادراک سے نوازا ہے، اور دنیا اس کا اعتراف بھی کرتی ہے۔آج میترانوالی کی غریب مائی، بیوہ عورتیں اور محنت کش خاندان اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑے ہیں
۔ میں اپنے گاؤں—نہیں، اپنے قصبے—میترانوالی کی بات کر رہا ہوں۔ میں نے اسے کبھی گاؤں نہیں کہا؛ یہ سیالکوٹ کے نمایاں قصبوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی دھرتی ہے، باوقار انسانوں کی بستی ہے۔ میں یہیں پیدا ہوا، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، یہی میری طلبہ سیاست کی درسگاہ تھی۔مجھے یاد ہے 2011 ء یا 2012ء میں، جب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے ان 26 اراکین میں شامل تھا جنہیں بے نظیر بھٹو نے منتخب کیا تھا، میں نے میترانوالی کے لیے سوئی گیس کا منصوبہ منظور کروایا۔ اْس وقت کے چیئرمین میاں مصباح الرحمن سے 6 کروڑ 30 لاکھ روپے کا منصوبہ منظور ہوا۔ کچھ منتخب نمائندوں نے اسمبلی میں شور مچایا کہ’’غیر منتخب افراد کے کہنے پر کام ہو رہے ہیں، کل ہمیں ووٹ کون دے گا؟‘‘میترنوالی کے ایک طرف سے لیکر دوسری طرف تک دو کلومیٹر سے بھی زیادہ عوام کا رش تھا اور شیخوں کے دائرے میں عوام کا ایک بہت بڑا جم غفیر جلسے کی صورت میں تھا۔ پھر وہی کہاوت سچ ثابت ہوئی — گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔میترانوالی صرف اینٹوں اور گلیوں کا نام نہیں، یہ ایک شعور ہے۔ یہاں ’’احساس‘‘ ویلفیئر سوسائٹی نے صفائی اور سیوریج کا نظام سنبھالا، جو دراصل حکومت کا کام تھا۔ اعجاز چیمہ اور امتیاز چیمہ کی ذاتی دلچسپی سے گلیوں اور سڑکوں کی حالت سنوری، پانی کے مسائل حل ہوئے اور ایک مخیر شخص نے میترنوالی کو پہلا صاف پانی کا پلانٹ گفٹ کیا۔ سید ریاض الحسن گیلانی، سابق ایڈووکیٹ جنرل وفاقی شرعی عدالت، نے رنگ روڈ جیسے منصوبے مکمل کرائے۔
بریگیڈیئر حامد سعید نے ترقیاتی کاموں کے دروازے کھولے اور میترانوالی کے بے شمار ترقیاتی کام مکمل کیے۔وہ مشرف دور میں بلدیات کے وزیر تھے مگر افسوس، ان کے ناموں کے بورڈ بھی کچھ لوگوں کو کھٹکنے لگے۔احساس ویلفیئر نے واٹر پلانٹ لگایا، پندرہ برس تک پورے قصبے کو صاف پانی فراہم کیا۔ بیس ہزار سے زائد آبادی کا نظام چند مخلص لوگوں نے اپنے ذاتی وسائل سے چلایا۔مگر جب سازشوں اور دھڑے بندیوں نے سر اٹھایا تو وہ ہاتھ کھینچ لیے گئے جو خدمت کے لیے اٹھے تھے۔ آج گھروں میں فریج اور ٹی وی تو ہیں، مگر گلیوں میں صفائی نہیں، سیوریج بیٹھ چکی ہے۔میترانوالی وہ دھرتی ہے جس نے کبھی چودھراہٹ اور بدمعاشی کو قبول نہیں کیا۔ یہاں پیدا ہونے والا ہر شخص اپنے وقار میں ’’چوہدری‘‘ ہے؛ کوئی کسی پر برتری کا تاج نہیں رکھتا۔ اس دھرتی نے خون خرابہ بھی دیکھا، اختلاف بھی، مگر آخرکار سبق یہی ملا کہ عزت خدمت میں ہے، نہ کہ دکھاوے میں۔جو سکون جھک کر خدمت کرنے میں ہے، وہ دولت کے انبار میں نہیں۔ کل کچھ نہ تھا، آج اللہ کے کرم سے بہت کچھ ہے، مگر اصل دولت دلوں کا اعتماد ہے۔ اور گھر کی چھت چھیننے والوں نے اپنا بھرم بھی ہمیشہ کے لئے چھین لیا ہے رمضان کے مقدس مہینے میں بے گھر لوگ حیران کھڑے ہیں کہاں جائیں
آئیے حسد نہیں، خدمت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا مقابلہ کریں۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔ یہی اس دھرتی کا قرض بھی ہے اور اس کا تقاضا بھی۔میری دھرتی، میرا قصبہ، میرا دکھ۔آج میترانوالی کی غریب مائیں، عورتیں—جن میں بیوہ خواتین بھی شامل ہیں—اپنے اجڑے گھروں کے سامنے کھڑی ہیں۔ ان کے گھر، دکانیں، تھڑے سب مٹا دیے گئے۔ میں اپنے گاؤں نہیں، اپنے قصبے میترانوالی کی بات کر رہا ہوں—سجناں دا شہر، سجناں دی دھرتی۔ اسی مٹی سے ہمارا تعلق ہے، اسی سے ہم پہچانے جاتے ہیں۔ میترانوالی کے معنی ہیں سجنوں کی دھرتی اورمیں اسی دھرتی کا باسی ہوں، یہیں تعلیم پائی، یہیں سیاست کا آغاز کیا، طلبہ سیاست بھی یہیں سے کی اور نام بھی یہیں سے کمایا۔آج اس دھرتی پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس پر دل کڑھتا ہے۔ میترانوالی کے ایک ٹک ٹاکر نے خدمت کے جذبے کے تحت میترانوالی کے مسائل کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کی کوشش کی اور حکومت نے اس کا نوٹس بھی لیا مگر ہمیشہ کی طرح میترانوالی کو پھر بدخواہوں کی نظر لگ گئی۔اور غریبوں نے چھپڑوں اور سرکاری املاک پر جو غیرقانونی گھر اور سر چھپانے کے لیے جھونپڑے بنا رکھے تھے وہ قانون اور کرینوں کی زد میں آ گئے۔اور اس طرح ہنستا مسکراتا میترانوالی غزہ کی مانند نظر آنے لگااور سوشل میڈیا کے توسط سے جو رحمت برسنے لگی تھی وہ زحمت میں تبدیل ہو گئی۔
منگل، 24 فروری، 2026
اسٹینلے پارک، وینکوور، برٹش کولمبیا
پیر، 23 فروری، 2026
پنجاب کے سیاسی ڈیروں کی پہچان -موڑھے یا مونڈھے
اتوار، 22 فروری، 2026
جب ایک محنت کش کی مامتا جیت گئ
خادمة اور علاج بالصدقةصدقہ جاریہ کا ایک خوبصورت اور سچا واقعہ، جو سعودی عرب کے ایک گھر میں پیش آیا۔ جس کی برکت ایسے ظاہر ہوئی کہ دنیا حیران رہ گئی۔ یہ واقعہ درجنوں عرب ذرائع ابلاغ میں رپورٹ ہوا۔ ہم صحيفة الاقتصادية كے حوالے سے اسے نقل کررہے ہیں۔واقعہ سے قبل ایک حدیث پڑھ لیں: داووا مرضاكم بالصدقة اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کیا کرو۔انڈونیشیا سے خادمات کا سعودیہ میں آنا عام سی بات ہے۔ سعودی گھرانوں میں ہزاروں کی تعداد میں انڈونیشی خادمات کام کرتی ہیں۔ ایک سعودی گھرانے نے خادمات مہیا کرنے والے ریکروٹنگ ایجنٹ کی معرفت خادمہ بلوائی۔ خادمہ نے گھر میں کام کرنا شروع کر دیا۔گھر کی مالکن نے چند دن کے بعد غور کیا کہ خادمہ چپ چاپ اور اداس سی رہتی ہے۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ چھپ چھپ کر روتی بھی رہتی ہے۔ سعودی عرب میں ابھی اسے ہفتہ دس دن ہی گزرے تھے۔ کسی نے اسے کچھ کہا بھی نہیں پھر یہ کیوں روتی ہے؟ ایک دن سعودی مالکن نے خادمہ کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہنے لگی: میری بیٹی! بتاوٴ تم ہر وقت روتی کیوں رہتی ہو؟ ہر وقت تمہاری آنکھیں سوجی رہتی ہیں۔ خادمہ نے حوصلہ پا کر اشاروں سے اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں بتایا: میں ایک مدت سے سعودی عرب آنے کی کوشش کر رہی تھی۔
ہفتہ، 21 فروری، 2026
کراچی عروس البلاد سے کھنڈر بننے تک کا سفر
جمعہ، 20 فروری، 2026
اشفا ق احمد پاکستان کی مایہء ناز شخصیت
بدھ، 18 فروری، 2026
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا 'علم کی شمع فروزاں
منگل، 17 فروری، 2026
پلہ مچھلی مچھلیوں کی ملکہ
پیر، 16 فروری، 2026
باب خیبر پاکستان کا خوبصورت چہرہ
جمرود کے مقام پر درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے جون 1963ء میں شارع پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ ’’باب خیبر‘‘ تعمیر کیا گیا۔ یہ سطح سمندر سے 1066 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس دروازے پر مختلف تختیاں بھی نصب کی گئی ہیں، جن پر درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام بھی درج ہیں۔ درہ خیبر تاریخی، جغرافیائی اور محل وقوع کے لحاظ سے بے نظیر ہے۔ اسے برصغیر کا دروازہ کہا جاتا ہے، جو پشاور کے عین مغرب میں واقع ہے۔سلسلہ کوہ سلیمان، جو کوہ ہمالیہ کی شاخ ہے، سطح مرتفع سے شروع ہوتا ہے، اس سلسلے کی پہاڑیاں اور وادیاں خیبر پر پہنچ کر ایک ہو جاتی ہیں۔ اصل درہ قلعہ جمرود سے شمال مغرب میں تقریباً تین میل پر شروع ہوتا ہے اور کوئی 23 میل طویل ہے۔ درہ خیبر ویران و بے گیاہ اور دشوار و ہموار چٹانوں سے گزرتا ہوا علی مسجد کے قریب آکر رفتہ رفتہ تنگ ہوجاتا ہے اور مناظر بھی یکسر بدل جاتے ہیں۔ اس کے بعد درہ بَل کھاتا ہوا انتہائی بلندی پر لنڈی کوتل کی سطح مرتفع (3,518 فٹ) تک جا پہنچتا ہے۔ یہاں سے سڑک نشیب کا رُخ کرتی ہے اور شنواری علاقے سے گزرتی ہوئی طورخم پہنچتی ہے۔ اس جگہ ڈیورینڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی اور بین الاقوامی حد) دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ جمرود سے اس کا فاصلہ تقریباً 33 کلومیٹر ہے
۔ پشاور سے کوئی پانچ دس منٹ کی مسافت پر واقع باب خیبر سے کابل جایا جا سکتا ہے۔ باب خیبر افغان سرحد سے متصل پاکستان کی ایک خوبصورت محرابی دروازہ ہے جسے دیکھنے دنیا بھر کے سیاح جوق در جوق آتے ہیں ایک ایسی علامت ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔درہ خیبر کی تاریخ اور سیاسی اہمیت کا اندازہ اسی ایک بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر یہ درہ نہ ہوتا تو آج برصغیر پاک وہند کی تاریخ بالکل ہی مختلف ہوتی۔ بظاہر یہ کوئی وادی گل پوش ہے نہ دلکش سیر گاہ، اس میں گنگناتے آبشار اور چشمے ہیں نہ خو ش منظر باغات، تاہم دنیا کے کونے کونے سے سیاح درہ خیبر دیکھنے آتے ہیں۔ وہ اس دشوار گزار اور پرپیچ پہاڑی راستے کی سیاسی اور جغرافیائی اہمیت کو جانتے ہیں۔ یہ درہ ہمیں مہم جوئی پر اکساتا ہے ہمارے خون کو حرارت اور دل کو ولولہ تازہ عطا کرتا ہے درس عمل دیتا ہے اور کچھ کارنامہ کر گزرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ درہ خیبر نے تاریخ میں اتنے زیادہ حملے دیکھے اور برداشت کئے ہیں جو ایشیاء کے کسی اور مقام بلکہ دنیا کے کسی اور علاقے نے ہر گز نہیں دیکھے جہاں سورج اور ہوا میں ایسی تاثیر ہے جو ان مردان کہستان کو الجھنے، بڑھنے اور مرنے مارنے پر اکساتی ہے۔ وہ اپنی آزادی کے تحفظ کا راز جانتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ جو قوم اپنی ناموس کے لیے مرنا نہیں جانتی۔ وہ مٹ جایا کرتی ہے۔
مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے یہ دنیا کا مشہور درہ سلسلہ کوہ سلیمان میں پشاور سے ساڑھے 17 کلو میٹر(11 میل) کے فاصلے پر قلعہ جمرود سے شروع ہوتا ہے اور تورخم (پاک افغان بارڈر)56 کلو میٹر (35 میل) تک پھیلا ہوا ہے برصغیر جنوبی ایشیاء کے وسیع میدانوں تک رسائی کے لیے چاہے وہ نقل مکانی کی خاطر ہو یا حملے کی، اس درے نے ہمیشہ تاریخ کے نئے نئے ادوار قائم کئے ہیں۔ یہ درہ قوموں، تہذیبوں، فاتحوں اور نئے نئے مذاہب کی بقاء اور فنا عروج اور زوال کی ایک مکمل تاریخ ہے ایک ریلوے لائن جو فن انجینئرنگ کا شاہکار ہے- میٹر3500 فٹ اونچے درے میں سے گزرتی ہے اور لنڈی کوتل پر ختم ہو جاتی ہے جو پشاور سے 52 کلو میٹر(32 میل) دور ہے۔ تورخم تک پختہ سڑک جاتی ہے۔ تورخم میں سیاحوں کے لیے ایک ہوٹل بھی قائم ہے اس کی لگژری کوچز، درہ خیبر تک چکر لگاتی رہتی ہیں۔ یہاں پہاڑی سلسلہ کبھی تو اتنا کشادہ ہو جاتا ہے کہ گزر گاہ ڈیڑھ کلو میٹر (ایک میل) ہوتی ہے اور کبھی اتنا تنگ کہ صرف 16 میٹر(52 فٹ) رہ جاتی ہے یہاں کی ریلوے لائن عجائبات میں شمار ہوتی ہے۔ جو مسلسل سرنگوں میں سے گزرتی ہوئی۔ انتہائی پیچیدہ راستوں اور پلوں کو پار کرتی ہوئی سرحد افغانستان تک پہنچتی ہے
بہرحال یہ درہ خیبر ماقبل تاریخ سے آج تک اقوام عالم کی گزر گاہ رہا ہے اور تاریخ کے صفحات پر اس کے انمٹ نقوش ثبت ہیں۔ مشہور زمانہ ڈیورنڈ لائن درہ خیبر کے بلند پہاڑوں سے گزرتی ہوئی اپنا طویل فاصلہ طے کرتی ہے اور ہمیشہ ایسی کشمکش کو دھراتی ہے جس سے اس درہ کے دونوں طرف کے ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ درہ خیبر، جس علاقے میں واقع ہے اسے خیبر ایجنسی کہا جاتا ہے یہ قبائلی علاقہ’’یاغستان‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ قبائلی عوام اب تک اپنی قبائلی علاقے کی قدیم روایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے اپنے قانون اور دستور ہیں۔ ان کے تمام مقدمات اور معاملات قبائلی جرگوں میں طے کئے جاتے ہیں۔ پولیٹیکل ایجنسی کا حاکم پولیٹیکل ایجنٹ کہلاتا ہے۔ پولیس کے بجائے ایجنسی میں خاصہ دار اور خیبر رائفلز کے جوان امن و امان قائم رکھنے میں مدد دیتے ہیں خیبر ایجنسی اور تیراہ کے بیسیوں مقامات ایسے ہیں جنہیں مقامی لوگوں کے سوا اب تک کوئی دیکھ نہیں پایا۔ کسی بیرونی شخص کو وہاں جانے کی اجازت نہیں، نہ ہی قبائلی اپنے اندرونی معاملات میں کسی کی مداخلت کو پسند کرتے ہیں۔ خیبر ایجنسی میں پولیٹیکل تحصیلوں لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ پر مشتمل ہے اس کا رقبہ کوئی 995 مربع میل ہے اس علاقے کا انتظام براہ راست وفاقی حکومت کے تحت ہے۔
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
اسپینش فلو جو 5 کروڑ جانیں لے گیا
اسپینش فلو (1918–1920) انسانی تاریخ کی مہلک ترین وبائی امراض میں سے ایک تھا، جو 5 کروڑ سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بن گیا ۔ جب میں خود ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...