دنیا میں ایسے کم ہی لوگ ہیں جو ایک سے زائد شعبوں میں نہ صرف عبور رکھتے ہیں بلکہ ان میں مہارت کے باعث معاشرے میں مثبت رویے کے فروغ کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا شمار بھی ان ہی چند لوگوں میں سے ایک تھا۔ میٹھاس بھری اردو اور شائستہ لب و لہجے میں ایسی گفتگو جو نصیحت، ذہانت ، علم اور تجربے سے آراستہ تھی اب شاید سننے کو نہ ملے۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کا جب بھی نام لیا جائے گا تو ذہن میں ان کی علمی اور ادبی خدمات گردش کریں گی۔ڈاکٹرعارفہ سیدہ زہرہ کا مقام پاکستان کے تعلیمی اور ادبی حلقوں میں بزرگ استاد اور دانشور کا تھا -ڈاکٹر عارفہ سید زہرا نہ صرف اردو ادب اور زبان میں اپنی گہری علمیت کے باعث جانی جاتی تھیں بلکہ انسانی حقوق کی فعال کارکن اور شاعرہ کے طور پر بھی ممتاز مقام رکھتی تھیں۔وہ تعلیم، تاریخ اور سماجی علوم میں نمایاں خدمات کیلیے جانی جاتی تھیں اور ان کا شمار پاکستان کے مؤثر تعلیمی اور فکری شخصیات میں ہوتا تھا۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے والی ڈاکٹر عارفہ نے اپنی تعلیم اور خدمات کے ذریعے کئی نسلوں کی تربیت کی، سیدہ زہرانے پہلے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور مزید ڈگری منووا میں ہوائی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ عارفہ سیدہ فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر ہیں اور لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی سابقہ پرنسپل ہیں۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔ وہ اردو زبان اور ادب کے بارے میں اپنی معلومات کے لیے پہچانی جاتی تھیں
اور وہ دانشورانہ تاریخ اور جنوب ایشیائی معاشرتی امور میں مہارت رکھتی تھیں عارفہ سیدہ زہرا نے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس مکمل کیا۔ انھوں نے لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر آف آرٹس حاصل کیا۔ انھوں نے منووا میں یونیورسٹی آف ہوائی سے ایشیائی تعلیم میں ماسٹر آف آرٹس اور ہسٹری میں فلسفہ ڈاکٹریٹ کیا ان کے 1983 کے مقالے کا عنوان سرسید احمد خان، 1817-1898 تھا: ڈاکٹر عارفہ سید زہرا نہ صرف اردو ادب اور زبان میں اپنی گہری علمیت کے باعث جانی جاتی تھیں بلکہ انسانی حقوق کی فعال کارکن اور شاعرہ کے طور پر بھی ممتاز مقام رکھتی تھیں۔وہ تعلیم، تاریخ اور سماجی علوم میں نمایاں خدمات کیلیے جانی جاتی تھیں اور ان کا شمار پاکستان کے مؤثر تعلیمی اور فکری شخصیات میں ہوتا تھا۔ نصف صدی سے زائد عرصے تک تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے والی ڈاکٹر عارفہ نے اپنی تعلیم اور خدمات کے ذریعے کئی نسلوں کی تربیت کی، سیدہ زہرانے پہلے لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، پھر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور مزید ڈگری منووا میں ہوائی یونیورسٹی سے حاصل کی۔ عارفہ سیدہ فارمن کرسچن کالج میں تاریخ کی پروفیسر ہیں اور لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کی سابقہ پرنسپل ہیں۔ وہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔ وہ اردو زبان اور ادب کے بارے میں اپنی معلومات کے لیے پہچانی جاتی تھیں اور وہ دانشورانہ تاریخ اور جنوب ایشیائی معاشرتی امور میں مہارت رکھتی تھیں عارفہ سیدہ زہرا نے لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی سے آنرز کے ساتھ بیچلر آف آرٹس مکمل کیا۔ انھوں نے لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر آف آرٹس حاصل کیا۔ ان کی گفتگو سنیں تو یوں معلوم ہوتا جیسے زندگی کے تجربوں اور تجزیوں سے آراستہ ایک کھلی کتاب ہو۔
بچے کی نفسیات سے لے کر معاشرتی رویوں، اقدار، تاریخ اور حال کا ملاپ، علم کے حقیقی معنی، اردو زبان کی شیرینی و اہمیت اور جینے کا سلیقہ ،غرض کوئی ایسا موضوع نہیں بچا جس پر ڈاکٹر عارفہ زہرہ نے بھر پور روشنی نہ ڈالی ہو۔ان کی گفتگو ان کے غورو فکر کا بھرپور عکس تھی۔ گفتگو میں نرمی، لہجے میں وقار اور سوچ میں گہرائی ان کی پہچان تھی۔انسان کے ساتھ ایک مشن۔1966 سے 1972 تک، عارفہ سیدہ لاہور کالج فارویمن میں لیکچرار رہی۔ وہ 1972 میں اسسٹنٹ پروفیسر بن گئیں اور 1984 تک پڑھاتی رئیں۔ انھوں نے 1988-1989 تک پرنسپل بننے سے قبل 1985-1988ء تک لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے وائس پرنسپل کی خدمات انجام دیں۔ 1989 سے 2002 تک وہ گورنمنٹ کالج آف ویمن، گلبرگ کی پرنسپل رہی۔ 2002 سے 2005 تک وہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کی ممبر رہی۔ زہرہ خواتین کی حیثیت سے متعلق قومی کمیشن میں چیئرپرسن تھیں۔عارفہ سیدہ، پنجاب کی سابق نگران صوبائی وزیر بھی ہیں۔ انھوں نے اگست 2009 میں پروفیسر ہسٹری کے طور پر فورمان کرسچن کالج میں فیکلٹی میں شمولیت اختیار کی۔ وہ مندرجہ ذیل اداروں میں لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، نیشنل کالج آف آرٹس، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں فیکلٹی کی رکن تھیں۔ . ان کی تحقیق دانشورانہ تاریخ، تاریخی تجزیہ اور تنقید، انسانی حقوق اور صنف ادب اور معاشرتی امور کے شعبوں میں ہے۔عارفہ سیدہ 1986ء تا 2009ء تک گورنمنٹ کالج فار ویمن گلبرگ لاہور کی پرنسپل رہیں۔ وہ 7 زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔عارفہ سیدہ تعلیمی، انتظامی، سماجی اور ثقافتی کمیٹیوں کی رُکن بھی رہیں
معروف پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا نومبر 2025انتقال کر گئیں۔إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
وہ انسان دوستی کی روشن مثال تھیں۔ان کی گفتگو میں وقار، قلم میں بصیرت، اور علم، فکر اورعمل میں سچائی تھی۔قوم ایک ایسی عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی جو ہمیشہ سچ بولنے اور حق کے لیے ڈٹ جانے کی مثال بنی رہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کے درجات بلند کرے۔آمین 🤲🏻پاکستانی ڈرامہ نگار، ٹی وی ڈرامہ سیریل کے مصنف اور شاعر اصغر ندیم سید نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔اصغر ندیم سید نے عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا انتقال لاہور میں ہوا، اِن کی کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔الحمرا کے چیئرمین رضی احمد نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے اردو زبان کو تہذیب اور تحقیق کا موضوع بنایا۔رضی احمد نے کہا کہ نامور ادیبہ و دانشور ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا زبان وادب کا درخشندہ ستارہ تھیں، عارفہ سیدہ نے چالیس سال سے زائد عرصہ تدریسی خدمات انجام دیںوزیرِ اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی ارود زبان کے فروغ و ترویج، تدریس اور تحقیق کے میدان میں خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔وزیرِ اعظم نے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا بھی کی ہے۔پاکستانی ڈرامہ نگار، ٹی وی ڈرامہ سیریل کے مصنف اور شاعر اصغر ندیم سید نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔اصغر ندیم سید نے عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا انتقال لاہور میں ہوا، اِن کی کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
خدمات اور اعزازات
جواب دیںحذف کریںڈاکٹر عارفہ انسانی حقوق، صنفی مساوات، اردو زبان کے فروغ اور تعلیمی انقلاب کی علمبردار ہیں، وہ سات زبانیں بولتی تھیں، انہیں کتابوں سے گہرا لگاؤ تھا، وہ اکثر و بیشترنوجوانوں کو قومی زبان میں ادبی انقلاب کی دعوت دیتی تھیں۔
انہیں تمغہ امتیاز (2025)، فاطمہ جناح ایوارڈ، انٹرنیشنل سوفسٹ ایوارڈ، یونیسکو چیئر ہولڈر (2021-2025) اور متحدہ عرب امارات میں ادب و ثقافت کے لیے انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔