پیر، 10 اگست، 2026

سندھ میں کپاس کی کاشت کا مرکز سانگھڑ

  کپاس سانگھڑ کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ محکمہ زراعت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کا کوئی اور ضلع کپاس کی پیداوار اور کاشت کے پیمانے میں سانگھڑ  کے مقابلے پر نہیں ہے۔ سانگھڑ نہ صرف سندھ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ کپاس کی قومی سپلائی چین میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جو اسے پاکستان کے زرعی اور صنعتی منظر نامے میں کلیدی کھلاڑی بناتا ہے۔سندھ بھر میں کپاس کی سب سے زیادہ کاشت ضلع سانگھڑ میں کی  جاتی ہے۔   اعداد و شمار کے مطابق سانگھڑ نے 12 لاکھ 51 ہزار گانٹھیں کپاس پیدا کیں، جو پورے سندھ میں سب سے زیادہ ہے۔دوسرے نمبر پر ضلع سکھر ہے جس نے تقریباً 5 لاکھ 40 ہزار گانٹھیں کپاس فراہم کیں۔سندھ نے فی ایکڑ کپاس کی پیداوار میں بھی پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا، جہاں فی ایکڑ اوسط پیداوار 1.81 گانٹھ رہی، جبکہ پنجاب میں صرف 0.85 گانٹھ۔پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ضلع سانگھڑ کو سندھ میں کپاس پیدا کرنے والے سب سے بڑے ضلع کے طور پر جانا جاتا ہے۔


  ہیں؟.سانگھڑ (انگریزی: Sanghar) صوبہ سندھ پاکستان کا ایک تاریخی شہر، تحصیل اور ضلع سانگھڑ کا صدر مقام ہے جو بڑی گنجان آبادی پر مشتمل ہے۔جیساکہ یہ شہر ملاحوں نے آباد کیا تھا اس لیے اس شہر میں ملاحوں کی گنجان آبادی ہے۔شہر کی زیادہ تر آبادی ملاح ہے جو کے شہر کی تقریباً ٪75 ہے اور شہر میں ٪90 آبادی سندھی بولتی ہے۔اپنی زرخیز مٹی، وسیع نہری آبپاشی کے نظام اور محنتی کاشتکار برادریوں کی بدولت سانگھڑ نے "سندھ کا کپاس کا مرکز" کا خطاب حاصل کیا ہے۔ ٹنڈو آدم، شہداد پور، اور سانگھڑ شہر جیسے اہم علاقے کپاس کی کاشت کے بڑے مراکز ہیں، جہاں سالانہ ہزاروں گانٹھیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ کپاس پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مقامی طور پر اور برآمد کے لئے ایندھن فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جبکہ دیگر فصلیں جیسے گندم، گنا، اور سورج مکھی بھی اس خطے میں اگائی جاتی ہیں، 



           ماضی میں سانگھڑ ایک سرسبز، پرسکون اور پانی کی فراوانی والا قصبہ تھا، جسے بنیادی طور پر ملاحوں اور مقامی قبائل نے آباد کیا تھا۔ یہاں ہریالی، روایتی سندھی کلچر اور باغات کی کثرت تھی، اور یہ دریائے سندھ کے نارا بیلٹ کے قریب ہونے کی وجہ سے زراعت اور ماہی گیری کا ایک اہم اور پُرکیف مرکز مانا جاتا تھا۔تاریخی پس منظراسے شروع میں ماہی گیروں اور ملاحوں نے بستی کی شکل دی۔یہاں پانی کی بہتات تھی جس کی وجہ سے زمین زرخیز تھی۔ماضی میں یہ تجارتی اور ثقافتی لحاظ سے ایک سادہ اور فعال دیہی شہر تھا۔ثقافت اور بود و باش  لوگ آپس میں پیار اور بھائی چارے سے رہتے تھے۔روایتی سندھی لباس، مہمان نوازی اور لوک موسیقی یہاں کی پہچان تھی۔یہاں کے کچے اور پکے مکانات اور پرانے بازار ماضی کی دیہی تہذیب کی عکاسی کرتے تھے۔

 

 شہر میں تقریباً ٪19 آبادی ہندوؤں کی بھی ہے۔پاکستان ۔ سیاحتی   منصورہ یا برہمن آباد۔  ضلع سانگھڑ سندھ کا قدیم شہرکہتے ہیں منصورہ سندھ کے گیارہ بنیادی شہروں میں سے ایک تھا۔   یہ سرگرم تجارتی شہر دریائے سندھ   کےمغربی کنارے پر تعمیر کیا گیا تھا اور دریا کے ایک دوسرے حصے سے ایسے گھِرا ہوا تھا کہ دیکھنے میں ایک جزیرہ معلوم ہوتا تھا۔ منصورہ کے چار دروازے تھے، باب البحر، بابِ توران،بابِ سندان اور بابِ ملتان، ان تجارتی راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے زریعے اس کی  آس پڑوس  کی ریاستوں   کے  ساتھ تجارت کی جاتی تھی۔اس قدیم شہر کا موجودہ مقام ابھی بھی محققین کے مابین زیرِ بحث ہے ۔  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

سندھ میں کپاس کی کاشت کا مرکز سانگھڑ

    کپاس سانگھڑ کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ محکمہ زراعت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کا کوئی اور ضلع کپاس کی پیدا...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر