کہا جاتا ہے کہ ایک روز کندن لال سہگل` کا پروگرام تھا۔ وہ اپنے وقت کے مشہور گلوکار تھے اور انھیں سننے کے لیے سینکڑوں کا مجمع تھا، مگر بجلی فیل ہونے کی وجہ سے سہگل نے گانے سے انکار کر دیا۔ اسی وقت رفیع کے بھائی نے پروگرام کے منتظمین سے کہا کہ ان کا بھائی بھی ایک گلوکار ہے اور اسے موقع دیا جائے۔مجمعے کی ناراضی کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے رفیع کو گانے کا موقع دیا۔ 13 سال کی عمر میں انھوں نے اِسٹیج پر جب فر فارمنس دی تو لوگ بھول گئے کہ وہ تو سہگل کو سننے آئے تھے ۔ اسی پروگرام میں موسیقار شیام سندر موجود تھے۔ انھوں نے ایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا اور انھیں بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بس یہیں سے رفیع کا گلوکاری کا یادگار سفر شروع ہوا۔رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انھیں گانے کا موقع دیا۔ اس وقت نوشاد علی اور طلعت محمود کی جوڑی بہت کامیاب تھی نوشاد کا ہر گیت طلعت گاتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز نوشاد نے طلعت کو گانے سے قبل سگریٹ پیتے دیکھ لیا۔ اصولوں کے پکے نوشاد بہت برہم ہوئے اور انھوں نے طلعت کی بجائے رفیع کو چن لیا۔ رفیع نے زندگی میں کبھی سگریٹ یا شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔نوشاد کے ساتھ رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ بیجوباؤرا کے سارے نغمے ہٹ ہوئے۔من تڑپت ہری درشن کو آج،جیسا کلاسیکی گیت ہو یاتقسیم ہند سے قبل انھوں نے کئی فلموں میں نغمے گائے۔
Do you know that blogging is a fun of writing, in simple words you can also call it a digital diary, where you can share your perspective, your experiences, observations and thoughts with millions of people. The word blog comes from the combination of the English words 'web' and 'log'. A blog refers to a writing or article that is published on the World Wide Web (digital media/electronic . You can comment on social issues, politics, education, sports, fashion and business and many other things
منگل، 18 اگست، 2026
موسیقار شیام سندرنےایک جوہری کی طرح رفیع کو پرکھ لیا
خدا کے گھر کا رزق کن کو ملتا ہے
مختصر تفسیر :وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا :
اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا
ں مردہ مت کہو (القران)اس آیت میں شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ، نہ زبان سے انہیں مردہ کہنے کی اجازت ہے اور نہ دل میں انہیں مردہ سمجھنے کی اجازت ہے ، جیسا کہ ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ۔ (ال عمران:۱۶۹)ترجمہ : اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے ۔موت کے بعد اللہ تعالیٰ شہداء کو زندگی عطا فرماتا ہے ، ان کی ا رواح پر رزق پیش کیا جاتا ہے ، انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ، ان کے عمل جاری رہتے ہیں ، ان کا اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے ، حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے بدن میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں ۔ (شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان، ۷/۱۱۵، الحدیث: ۹۶۸۶)حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا :اے ابن آدم!تو نے اپنی منزل و مقام کو کیسا پایا ۔ وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ ، بہت اچھی منزل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’تو مانگ اور کوئی تمنا کر ۔ وہ عرض کرے گا : میں تجھ سے اتنا سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جاؤں ۔ (وہ یہ سوال اس لئے کرے گا ) کہ اس نے شہادت کی فضیلت ملاحظہ کر لی ہو گی ۔(سنن نسائی ، کتاب الجہاد، ما یتمنی اہل الجنۃ، ص۵۱۴، الحدیث: ۳۱۵۷)بعض شہداء وہ ہیں کہ ان پر دنیا کے یہ احکام تو جاری نہیں ہوتے لیکن آخرت میں ان کے لیے شہادت کا درجہ ہے جیسے ڈوب کر یا جل کر یا دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا،طلب ِعلم اورسفرِحج غرض راہ خدا میں مرنے والا یہ سب شہید ہیں۔ حدیثوں میں ایسے شہداء کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔
یعنی یہ بات تو قطعی ہے کہ شہداء زندہ ہیں لیکن ان کی حیات کیسی ہے اس کا ہمیں شعور نہیں اسی لئے ان پر شرعی احکام عام میت کی طرح ہی جاری ہوتے ہیں جیسے قبر ، دفن، تقسیمِ میراث ، ان کی بیویوں کا عدت گزارنا ، عدت کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرسکنا وغیرہ -شانِ نزول :حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے بھائی اُحد میں شہید ہوئے تواللہ تعالیٰ نے ان کی اَرواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرمائے ، وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں ، جنتی میوے کھاتے ہیں ، سونے کی اُن قندیلوں میں رہتے ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ۔ جب ان شہداء کرام نے کھانے ، پینے اور رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ پیچھے دنیا میں رہ جانے والے ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی ۔
(ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی فضل الشہادۃ، ۳/۲۲، الحدیث: ۲۵۲۰)اس سے ثابت ہوا کہ اَرواح باقی ہیں جسم کے فنا ہونے کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں ۔ یہاں آیت میں شہدا ء کی کئی شانیں بیان ہوئی ہیں : فرمایا کہ وہ کامل زندگی والے ہیں ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہیں ۔ آیتِ مبارکہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ شہیدوں کے روح اور جسم دونوں زندہ ہیں ۔ علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں ، مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں اور اس کے بعداس بات کا بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو ان کے جسم تر و تازہ پائے گئے ۔ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ ۔جنت میں جانے کے بعد شہید یہ تمنا کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے اور دس بار (اللہ کے راستے میں ) قتل کیا جاؤں۔دُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے: میری یہ تمنا ہے کہ میں اللہتعالیٰ کے راستے میں جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں۔
اللہ کے راستے میں جان دینے والا ، بلکہ حیاتِ ابدی ودائمی کی سرفرازی و سرخروئی سے بہرہ مند اور زندہ جاوید ہو کر انسانوں کے لئے نشانِ عظمت بن جاتا ہے۔ شہادت اور شہید کا قرآن و حدیث میں بہت بلند و ارفع مقام و مرتبہ بیان کیا گیا ہے، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں شہید انتہائی معزز و مکرم ہوتا ہے۔قرآن کریم میں شہادت کی عظمت و فضیلت کو متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے اور اس کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے کہ یہ کتنی بڑی اور عظیم سعادت ہے اور مومن کو کس بلندی پر فائز کر دیتی ہے۔ مومن کی زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی جان و مال اللہ تعالیٰ نے جنت کےعوض خریدلی ہے۔ فرمایاگیا کہ ’’یقیناً اللہ نے مومنوں سے ان کی جان و مال جنت کے بدلے خریدلئے ہیں کہ جنت انہی کی ہے، وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں قتل کرتے ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔ یہ سچا وعدہ ہے تورات ، انجیل اور قرآن میں، اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے۔ لہٰذا اس سودے پر خوشی مناؤ جو اس نے تم سے کیا ہے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (سورۃ التوبہ:111)
بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، کیا کیا کام کرنا ضروری ہیں
-niche بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، کیا کیا کام کرنا ضروری ہیں -پہلے اپنے پسندیدہ موضوع کا انتخاب کریں جس کو نیش کہتے ہیں ، پھر ورڈپریس یا بلاگر پر بلاگ بنائیں، معیاری مضامین لکھیں اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک لائیں۔ موضوع کا انتخاب ایک ایسے موضوع کا انتخاب کریں جس میں آپ کی مہارت یا گہری دلچسپی ہو۔ عوام کی ضروریات اور مطالبات کو مدنظر رکھیں۔ پلیٹ فارم سلیکشن بلاگر: ابتدائیوں کے لیے مفت اور آسان ترین پلیٹ فارم۔ ورڈپریس: پیشہ ورانہ اور مکمل کنٹرول کے لیے بہترین۔ ڈومین اور ہوسٹنگ اپنے بلاگ کے لیے ایک مختصر اور سادہ ڈومین نام خریدیں۔ اچھی اور تیز ویب ہوسٹنگ کا انتخاب کریں۔ مواد کی تیاری اور SEO اچھے، مفید اور قارئین کو حل کرنے والے مضامین لکھیں۔ گوگل پر رینکنگ کے لیے گوگل سرچ سینٹرل کے بنیادی اصولوں کے مطابق SEO کریں۔ کمائی (منیٹائزیشن) بلاگ کے مشہور ہونے کے بعد گوگل ایڈسینس یا ایفیلیٹ مارکیٹنگ کے ذریعے کمانا شروع کریں۔LiveJournal ایک اور مفت اور مقبول بلاگنگ سروس ہے جو آپ کو نجی جرائد، بلاگز، ڈسکشن فورمز، اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس بنانے کی اجازت دیتی ہے۔ 1999 سے اب تک 14 ملین سے زیادہ بلاگز اور کمیونٹیز بن چکی ہیں۔ LiveJournal آپ کو اپنے موبائل فون سے بلاگ پوسٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ چند سال پہلے تک بلاگز صرف لکھنے تک محدود تھے لیکن اب بلاگنگ صرف لکھنے تک محدود نہیں رہی بلکہ فوٹو بلاگز، اسکیچ بلاگز، ویڈیو بلاگز، میوزک بلاگز اور آڈیو (پوڈکاسٹ) کی آمد سے اس کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے اور یہ سب اب انٹرنیٹ کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔
بلاگنگ کیوں؟بلا شبہ آج کل انٹرنیٹ پر بلاگنگ سب سے اہم سرگرمی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے بلاگ لکھتے ہیں یا دوسرے لوگوں کے بلاگ پڑھتے ہیں۔بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، پہلے اپنے پسندیدہ موضوع (Niche) کا انتخاب کریں، پھر ورڈپریس یا بلاگر پر ایک بلاگ بنائیں، معیاری مضامین لکھیں، اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک چلائیں۔اپنے بلاگ کے لیے ایک مختصر اور سادہ ڈومین نام خریدیں۔ ’گوگل بلاگر‘ کے مطابق، جو شاید اس وقت بلاگنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے، ’بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے، آپ کی روزمرہ کی سرگرمیوں کی ایک ڈائری، ایک ایسی جگہ جہاں سے آپ رابطہ قائم کرتے ہیں، ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں سے اہم ترین خبریں نکلتی ہیں،‘ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی دریافتوں، ایجادات اور خیالات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسروں کو سوچتا دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگ لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیونکہ بلاگز وہ جگہ ہے جہاں وہ کھل کر اپنے خیالات، اپنی دریافتوں، اپنے منصوبوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، انہیں بلاگز کی شکل میں ایک دنیا ملتی ہے جہاں وہ حکمرانی کرتے ہیں۔بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگ لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکرو سافٹ کے سینکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔ یہی حال دوسری بڑی کمپنیوں کا بھی ہے جن کے ملازمین اپنے اہم تجربات اور مشاہدات کو اپنے بلاگز میں بیان کر کے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بہت سی سیاسی شخصیات اپنے بلاگ لکھتی ہیں۔بلاگ دو انگریزی الفاظ ویب اور لاگ کا مجموعہ ہے، جو ان ویب سائٹس کے لیے استعمال ہوتا ہے جو معلومات کو تاریخی ترتیب میں محفوظ کرتی ہیں۔
ویب لاگ کا لفظ سب سے پہلے 1997 میں Jorn Barger نے استعمال کیا، جو robotwisdom.com کے نام سے ایک ویبلاگ سائٹ چلاتے ہیں۔ اس کے بعد، لفظ بلاگ کو پیٹر مرہولز نے مزاحیہ انداز میں لفظ "ویبلاگ" کو توڑ کر استعمال کیا جیسا کہ ہم بلاگ کرتے ہیں، اور یہیں سے لفظ "بلاگ" مقبول ہوا۔ Xanga نامی سائٹ جو بلاگنگ میں ایک بڑا نام ہے، 1998 تک اس کے صرف 100 بلاگ تھے، لیکن 2005 تک یہ تعداد 20 ملین سے تجاوز کر گئی۔ اس کے بعد بلاگ ہوسٹنگ کے دیگر لاتعداد ٹولز میدان میں آئے اور بلاگنگ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اوپن ڈائری بلاگنگ پہلا تھا جس نے صارفین کو کسی بھی بلاگ پر تبصرہ کرنے کی اجازت دی، جو بہت کامیاب رہا۔‘ یہ انسانی فطر ت ہے کہ وہ اپنی دریافت، ایجاد اور خیالات دوسروں کو بتانا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسرے کو سوچتے دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگز لکھنے پر مجبور کرتی ہے کیوں کہ بلاگ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنے خیالات، اپنی دریافتیں ، اپنے منصوبے کھْل کر بیان کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہیں بلاگ کی صورت میں ایک دنیا مل جاتی ہے ،جہاں وہ حکومت کرتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگز لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے سیکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔
یہی حال دیگر اہم کمپنیوں کا ہے جن کے ملازمین اپنے بلاگز میں اپنے اہم تجربات اور مشاہدات بیان کر کے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم اوزار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ ترقی یافتہ اقوام کی بہت سی سیاسی شخصیتیں اپنے بلاگز لکھتی ہیں۔ بلاگز کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ صورتِ حال دیکھنے میں آتی رہتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداران ہوں یا کسی یونی ورسٹی کے محققین، فلمی ستارے ہوں یا ذرائع ابلاغ سے منسلک لوگ، بلاگز سب کی ضرورت بن چکے ہیں۔ بلاگز اتنے مشہور ہو چکے ہیں کہ اب یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا مشہور بلاگ ہو جسے آپ اشتہارات سے پاک دیکھیں۔ لوگوں میں دوسروں کے بلاگ پڑھنے کا رجحان، اپنے بلاگ لکھنے سے بھی زیادہ ہے۔ اس لئے بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پوری ویب سائٹ کے مقابلے میں اسی سائٹ پر موجود کسی مخصوص بلاگ کے ملاحظہ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسے بلاگز پر اشتہارات لگا کر ان کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جب کہ گوگل ایڈسنس کے اشتہارات تو آپ کو تقریباً ہر چھوٹے بڑے بلاگ پر نظر آتے ہی رہتے ہیں
مضمون انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا گیا پہے
پیر، 10 اگست، 2026
سندھ میں کپاس کی کاشت کا مرکز سانگھڑ
کپاس سانگھڑ کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ محکمہ زراعت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کا کوئی اور ضلع کپاس کی پیداوار اور کاشت کے پیمانے میں سانگھڑ کے مقابلے پر نہیں ہے۔ سانگھڑ نہ صرف سندھ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ کپاس کی قومی سپلائی چین میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جو اسے پاکستان کے زرعی اور صنعتی منظر نامے میں کلیدی کھلاڑی بناتا ہے۔سندھ بھر میں کپاس کی سب سے زیادہ کاشت ضلع سانگھڑ میں کی جاتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سانگھڑ نے 12 لاکھ 51 ہزار گانٹھیں کپاس پیدا کیں، جو پورے سندھ میں سب سے زیادہ ہے۔دوسرے نمبر پر ضلع سکھر ہے جس نے تقریباً 5 لاکھ 40 ہزار گانٹھیں کپاس فراہم کیں۔سندھ نے فی ایکڑ کپاس کی پیداوار میں بھی پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا، جہاں فی ایکڑ اوسط پیداوار 1.81 گانٹھ رہی، جبکہ پنجاب میں صرف 0.85 گانٹھ۔پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ضلع سانگھڑ کو سندھ میں کپاس پیدا کرنے والے سب سے بڑے ضلع کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ہیں؟.سانگھڑ (انگریزی: Sanghar) صوبہ سندھ پاکستان کا ایک تاریخی شہر، تحصیل اور ضلع سانگھڑ کا صدر مقام ہے جو بڑی گنجان آبادی پر مشتمل ہے۔جیساکہ یہ شہر ملاحوں نے آباد کیا تھا اس لیے اس شہر میں ملاحوں کی گنجان آبادی ہے۔شہر کی زیادہ تر آبادی ملاح ہے جو کے شہر کی تقریباً ٪75 ہے اور شہر میں ٪90 آبادی سندھی بولتی ہے۔اپنی زرخیز مٹی، وسیع نہری آبپاشی کے نظام اور محنتی کاشتکار برادریوں کی بدولت سانگھڑ نے "سندھ کا کپاس کا مرکز" کا خطاب حاصل کیا ہے۔ ٹنڈو آدم، شہداد پور، اور سانگھڑ شہر جیسے اہم علاقے کپاس کی کاشت کے بڑے مراکز ہیں، جہاں سالانہ ہزاروں گانٹھیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ کپاس پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مقامی طور پر اور برآمد کے لئے ایندھن فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جبکہ دیگر فصلیں جیسے گندم، گنا، اور سورج مکھی بھی اس خطے میں اگائی جاتی ہیں،
ماضی میں سانگھڑ ایک سرسبز، پرسکون اور پانی کی فراوانی والا قصبہ تھا، جسے بنیادی طور پر ملاحوں اور مقامی قبائل نے آباد کیا تھا۔ یہاں ہریالی، روایتی سندھی کلچر اور باغات کی کثرت تھی، اور یہ دریائے سندھ کے نارا بیلٹ کے قریب ہونے کی وجہ سے زراعت اور ماہی گیری کا ایک اہم اور پُرکیف مرکز مانا جاتا تھا۔تاریخی پس منظراسے شروع میں ماہی گیروں اور ملاحوں نے بستی کی شکل دی۔یہاں پانی کی بہتات تھی جس کی وجہ سے زمین زرخیز تھی۔ماضی میں یہ تجارتی اور ثقافتی لحاظ سے ایک سادہ اور فعال دیہی شہر تھا۔ثقافت اور بود و باش لوگ آپس میں پیار اور بھائی چارے سے رہتے تھے۔روایتی سندھی لباس، مہمان نوازی اور لوک موسیقی یہاں کی پہچان تھی۔یہاں کے کچے اور پکے مکانات اور پرانے بازار ماضی کی دیہی تہذیب کی عکاسی کرتے تھے۔
شہر میں تقریباً ٪19 آبادی ہندوؤں کی بھی ہے۔پاکستان ۔ سیاحتی منصورہ یا برہمن آباد۔ ضلع سانگھڑ سندھ کا قدیم شہرکہتے ہیں منصورہ سندھ کے گیارہ بنیادی شہروں میں سے ایک تھا۔ یہ سرگرم تجارتی شہر دریائے سندھ کےمغربی کنارے پر تعمیر کیا گیا تھا اور دریا کے ایک دوسرے حصے سے ایسے گھِرا ہوا تھا کہ دیکھنے میں ایک جزیرہ معلوم ہوتا تھا۔ منصورہ کے چار دروازے تھے، باب البحر، بابِ توران،بابِ سندان اور بابِ ملتان، ان تجارتی راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے زریعے اس کی آس پڑوس کی ریاستوں کے ساتھ تجارت کی جاتی تھی۔اس قدیم شہر کا موجودہ مقام ابھی بھی محققین کے مابین زیرِ بحث ہے ۔
اتوار، 9 اگست، 2026
پاکستان میں نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت
ایک چھوٹی سی مثال ہے ایک خاندان ہوتا ہے اس خاندان کا بیٹا جوان ہوتا ہے بہو بیاہ کر گھر آتی ہے پورے گھر میں بہو اور بیٹے کو ایک کمرہ ملتا ہے وہ اسی ایک کمرے سے ہنسی خوشی زندگی کا آغآز کرتے ہیں پھر دو بچے ہو جاتے ہیں پھر پتا چلتا ہے بیٹا بہو الگ ہو گئے فیمیلی بڑی ہو گئ تھی اب ایک کمرے میں گزارہ مشکل ہو رہا تھا 'اب بیٹے کی ماں کہیں اس تبدیلی کو قبول کر لیتی ہے اور کہیں رنجش پیدا ہو جاتی ہے -بس صوبوں کی مزید گنجائش کی یہی مثال کافی ہے کہ اب ایک جگہ گزارہ نہیں ہو رہا ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا میں کتنے ایسے ملک ہیں جو پاکستان سے چھوٹے ہیں لیکن وہ اپنے عوام کی بھلائ کے لئے کئ چھوٹے صوبوں میں تقسیم ہیں ہمارے پڑوس ایران میں اکتیس صوبے ہیں اور ہر صوبہ کا ایک دار الخلافہ ہے جس کو کو مرکز کہتے ہیں اور جو عام طور پر صوبہ کا سب سے بڑا شہر ہوتا ہے۔ مرکز یا صوبائی دار الخلافہ کا انتظام علاقائی حکومت چلاتی ہے۔ جس کا سربراہ گورنر جزل ہوتا ہے جس کو ایرانی وزارت داخلہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے مقرر کرتی ہے۔1950ء تک ایران کل 12 صوبوں میں تقسیم تھا، جن کو 1950 میں انتظامی طور پر تبدیل کر کے 10 ریاستوں میں تبدیل کر دیا گیا کئی ریاستوں کو ایک ایک کر کے صوبوں کا درجہ دیا جاتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ نئے صوبے بھی بنائے جاتے رہے، ۔ اس وقت ایران کے اکتیس صوبے ہیں۔اب میں پاکستان کی جا نب آتی ہوں قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی محدود تھی، وسائل اور انتظامی ضروریات بھی آج کے مقابلے میں مختلف تھیں، لیکن وقت کے ساتھ حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔ مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً 25کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
اسی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 76 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 56 لاکھ، خیبر پختونخوا کی تقریباً 4 کروڑ 8 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض صوبائی اکائیاں آبادی، رقبے اور انتظامی پیچیدگی کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہو چکی ہیں۔لاہور (کورٹ رپورٹر)پاکستان بار کونسل کے 250ویں اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نئے صوبوں کا قیام صرف آئین، پارلیمانی عمل اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق ہونا چاہئے ۔ پاکستان بار کونسل کا 250واں اجلاس وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل مسعود چشتی کی صدارت میں ہوا، جس میں ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون،طاہر نصر اللہ وڑائچ، عامر سعید راں و دیگر اراکین نے شرکت کی۔اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ نئے صوبوں کا قیام آئین پاکستان، پارلیمانی طریقہ کار اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق ہونا چاہئے اور اس معاملے کو سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے ۔پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئے صوبوں کے معاملے پر قومی مفاد میں بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق قابلِ قبول اور دیرپا حل نکالا جا سکے ۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر ایک قومی سیمینار منعقد کیا جائے گا، جس میں پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، تمام صوبائی بار کونسلوں، قانونی ماہرین اور متعلقہ حلقوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔
قرارداد میں کہا گیا کہ قومی سیمینار کا مقصد وفاق کو مزید مضبوط بنانا، بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا اور نئے صوبوں کے معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اس اہم آئینی مسئلے پر جامع اور قابلِ عمل پیش رفت ممکن ہو سکے ۔پاکستان بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ صرف آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے اور اس حوالے سے قومی مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ 2010 میں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی، ہمارے 7 نوجوانوں نے اس معاملے پر اپنی جانیں دیں، مختلف جماعتوں کے لوگوں کا ایک ہی موقف تھا صوبہ ہزارہ بنایا جائے، ہم سب اس پر متفق ہیں کہ صوبہ ہزارا بننا چاہیے۔وزیر مذہبی امور نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی صوبہ ہزارہ کے لیے 3 بار آئینی قرارداد منظور کر چکی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے بل پیش کیے جاچکے ہیں، بل لا اینڈ جسٹس کی قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے جا چکے ہیں، پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بلز کی قانونی حیثیت پر اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کے پیش نظر انتظامی طور پرنئے یونٹس اور صوبے بننا وقت کی ضرورت ہے، صوبے بننے سے انتظام، ریونیو کی وصولی اور ترقیاتی کام بہتر ہوسکیں گے، چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوام کے مسائل حل اور پاکستان مستحکم ہوگا انشا اللہ
، نئے صوبوں کے قیام کےلیے پرامن جدوجہد اور سیاسی قائدین سے رابطے جاری رہیں گے ۔ نئے صوبے اگر بنائے جائیں تو ان کی بنیاد آبادی، رقبہ، جغرافیائی آسانی، معاشی صلاحیت، وسائل کی دستیابی اور انتظامی ضرورت ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات یا لسانی و قومی تقسیم۔ اس معاملے کا ایک اہم پہلو مالی بوجھ بھی ہے۔ ایک نیا صوبہ صرف ایک نیا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک مکمل انتظامی نظام کا قیام ہوتا ہے۔ نئی صوبائی اسمبلی، سیکرٹریٹ، پولیس ڈھانچہ، عدالتی نظام، سرکاری تحریر میں انٹر نیٹ سے مدد لی گئ ہےدفاتر، ملازمین، رہائشی سہولیات اور ترقیاتی ادارے قائم کرنا پڑتے ہیں -اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مقتدر اراکین اسمبلی مل کر نئے صوبوں کے لئے بات کریں گے
تحریر میں گوگل کی مدد شامل ہے
بدھ، 5 اگست، 2026
دنیا کی تجارت کا محور سونا
دنیا کی تجارت کا محور سونا
دنیا کی تجارت کا محور سونا
لکھنؤ میں شیعت اوج کمال تک
شا ہا ن اودھ کی تاریخ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں ہیں تو سب ہی نوابین لکھنؤ علم دوست بھی تھے ،عالم اور علم پرور تھے -انھیں میں مرزا حسن رضا خاں سرفراز الداولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی ممتاز و منفرداو رعظیم شخصیت نظر آتی ہے جس کا احسان عظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے۔’’نام حسن رضا خاں اور سرفراز الدولہ خطاب فیض آباد کے رئیس اعظم تھے‘‘ ۔’’سرفراز الدولہ ہی کی کوششوں سے فیض آباد میں شیعوں کی پہلی نماز جمعہ قائم ہوئی اور اس طرح ہندوستان میں شیعوں کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی’نواب حسن رضا خاں نے مولوی دلدار علی معروف بہ غفرانمآب کو پانچ ہزار روپئے دے کرمزید تعلیم کے لئے نجف اشرف بھیج دیا تھا‘‘لکھنؤ کی عزاداری کا فروغ بہت کچھ سرفراز الدولہ کے رجحان کا نتیجہ ہے۔انھوں نے ہی بڑے امامباڑے (آصفی امامباڑے ) کی تعمیر کی تجویز رکھی تھی۔۔مولوی دلدار علی ایران و عراق سے سند اجتہاد لے کر آئے تو سرفراز الدولہ نے انھیں اپنے بیٹے کا اتالیق مقرر کیا‘ ’تذکرۃ العلماءاور آئینہ حق میں درج ہے کہ پہلی نماز ظہرین لکھنؤ میں با جماعت نواب آصف الدولہ کے زمانہ میں ۱۳؍رجب ۱۲۰۰ھ بروز جمعہ مطابق ۳۳مئی ۱۷۸۶ءسرفراز الدولہ مرزا حسن رضا خاں کے مکان پر واقع ہوئی ۔بقول مولوی عبد الحی یہ پہلا دن ہے کہ وسط ہند میں شیعوں نے اپنی نماز جمعہ و جماعت علاحدہ کرلیا‘ مولانا دلدار علی نےشیعہ فرقے کی اول نماز ظہرین بجماعت ۱۳؍رجب ۱۲۰۰ھ مطابق ۱۲؍مئی ۱۷۸۶ءکو نواب حسن رضا خاں کے مکان پر پڑھائی تھی‘‘
’نواب حسن رضا خاں نے مولانا دلدار علی صاحب کو نصیرآباد سے بلا کر لکھنؤ میں بڑے اعزاز و احترام سے رکھا‘‘ نواب آصف الدولہ اور ان کے وزیر سرفراز الدولہ حسن رضا خاں نے لکھنؤ میں شیعہ عقیدے کو دربار ی مزہب کی حیثیت دے رکھی تھی ۔عدالتوں میں بیشتر مفتی اگرچہ غازی الدین حیدر کے عہد تک علمائے اہل سنت ہی سے تھے لیکن حسن رضا خاں نے ایک شیعہ عالم مرزا محمد عسکری کو پانچ سو روپئے مشاہرے پر مفتی دربار مقرر کردیا تھااور انھیں سے احکام شرعیہ حاصل کئے جاتے تھے ۔جب مولانا دلدار علی نصیرآبادی اجازہ اجتہاد عراق سے لے کر آئے تو دربار میں ان کی بہت تعظیم و تکریم ہوئی‘‘ مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی عظیم شخصیت جس کا احسان ِعظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے:مولانا دلدار علی نے کوئی درباری عہدہ اپنے لئے پسند نہیں کیا ۔ان کی کفالت کے لئے ایک ہزار روپئے ماہوار کی وہ جائیداد کافی تھی جو انھیں بہو بیگم یعنی والدہ آسف الدولہ نے بطورمعافی دی تھی -مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ نے بہت سے مدرسے،مساجد،امامباڑے تعمیر کرائے بہت سے اوقاف اور کتب خانے وغیرہ قائم کئے جو اسلام اور شیعیت کی تبلیغ و ترویج اور نشر اشاعت میں آج بھی موثر کردار ادا کر رہے ہیں
۔مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی عظیم شخصیت جس کا احسان ِعظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے: مولانا ابن حسن املویسلام ہو ہمار ا اودھ کے متدین و متشرع اور علم پرور نوابین و وزرائےاعظم و علمائے کرام پر جن کا عظیم احسان ہے شیعیان ہند پر۔مومنین سے التماس ہے کہ ایک سورہ فاتحہ سے ان کی ارواح پاک کو ایصال ثواب فرما دیں۔ڈاکٹر نسیم اقتدار علی کے بقول :''لکھنؤ کی روایتی تہذیب جس کی ستائش میں لکھنے والوں کے قلم آج بھی تر وتازہ اور بیان کرنے والوں کے دہن شگفتہ ہیں ان کی داغ بیل اٹھارویں صدی کے ربع اول میں سعادت خاں برہان الملک کی صوبہ داری کے زمانے میں پڑی۔نوابین اودھ کے زمانے میں بتدریج اسے فروغ حاصل ہوا اور واجد علی شاہ کے عہد میں نقطۂ عروج پر پہنچ کر زوال حکومت کے ساتھ دبے پائوں مائل بہ زوال ہونے لگی ۔''شاہان اودھ نے عزاداری کا جو اہتمام کیا وہ قابل داد وتحسین ہے۔شاہان اودھ کے مذہبی رجحان کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماہ عزا کا چاند فلک پر نمودار ہوتے ہی فضا مکمل طور پر سوگوار نظر آتی تھی۔لوگ سبز وسیاہ لباس زیب تن کرتے اور اس طرح یہ بات عام ہو جاتی کہ شہید کربلا کی شہادت کے دن آن پہنچے ہیں ۔شاہان اودھ میں نواب جلال الدین حیدر ملقب بہ شجاع الدولہ جب تخت نشین ہوئے تو عزاداری کو اور فروغ ہوا ۔
نواب شجاع الدولہ کے بعد آپ کے بیٹے نواب آصف الدولہ نے عزاداری کو خاص اہمیت دی ۔اسی لئے آپ کو لکھنؤ میں عزاداری کا بانی کہا جاتا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ نواب آصف الدولہ کے دور میں عزائے سید الشہداء علیہ السلام کاجو فروغ ہوا اس کا عشر عشیر بھی اودھ کے دوسروے حکمرانوں کے دور میں نظر نہیں آتا ہے ۔مشہور ہے کہ نواب آصف الدولہ کے وزیر خاص سرفراز الدولہ نے آپ کو آصفی امام باڑہ کی تعمیر کی طرف متوجہ کیا ۔نواب موصوف اپنی سخاوت اور فن تعمیر میں غیر معمولی دلچسپی رکھنے کے بموجب مشہور زمانہ تھے ۔آپ کے بارے میں یہ مثل مشہور تھی:''جس کو نہ دے مولا ،اُ س کو دے آصف الدولہ۔ اللہ تمام عاشقا ن امام علیہ السلام کو جنت اولیٰ کی ٹھنڈی چھاؤں میں رکھے آمین
نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے
فائر بریگیڈ کراچی 'تباہی سے دوچار محکمہ
کراچی جیسے میگا شہر میں ریسکیو 1122 کے پاس کوئی فائر اسٹیشن نہیں بلکہ عملہ گاڑیوں کے ساتھ فٹ پاتھوں پر ڈیوٹیاں کرتا ہے۔انہوں نے بتایا ...
حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر
-
میرا تعارف نحمدہ ونصلّٰی علٰی رسولہ الکریم ،واٰ لہ الطّیبین الطاہرین جائے پیدائش ،جنوبی ہندوستان عمر عزیز پاکستان جتنی پاکستان کی ...
-
اب منجھلی آپا اپنی سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن می...
-
خوبصورت اور لہلہاتے قدرتی نظاروں سے مالامال جزیرہ ماریشس (موریطانیہ )کے ائر پورٹ 'پورٹ لوئس کے سرشِو ساگر رام غلام انٹرنیشنل ائیرپ...