پیر، 1 دسمبر، 2025

جارجیا کی سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی

  

جارجیا کی سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی  اور  انتہائی حیران کن پہلو یہ تھا کہ انہوں نے پورے کے پورے اداروں کو مکمل طور پر ختم کر کے نئے سرے سے بنایا۔سب سے حیرت انگیز مثال پولیس کا مکمل خاتمہ تھی۔2004 سے پہلے جارجیا کی پولیس کرپشن میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے رشوت لازمی تھی عوام پولیس سے خوفزدہ رہتی تھی پولیس خود مجرموں کے ساتھ ملی ہوئی تھی-نئی حکومت نے کیا کیا؟ایک رات کے اندر پوری کی پوری پولیس فورس برطرف کر دی-یہ قدم انتہائی حیران کن تھا۔ایک رات میں سب کے سب پولیس اہلکاروں کی جگہ    نئے اہلکاروں نے کام سنبھال لیانئی پولیس کے لیے ایک بھی پرانا اہلکار نہیں رکھا گیا-صرف ایک سال کے اندر کرپشن 90% تک کم  ہو گئی عوام کا پولیس پر اعتماد مکمل بحال ہو گیا-جرائم کی شرح میں تیز ترین کمی آئی-یہ دنیا بھر میں اصلاحات کی تاریخ کا سب سے بڑا اور جرات مندانہ تجربہ تھا۔ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ پورے کا پورا ادارہ ختم کر کے نئے سرے سے بنایا جا سکتا ہے۔جارجیا نے ثابت کیا کہ کبھی کبھی مرمت سے کام نہیں چلتا، بلکہ پورا ڈھانچہ ہی توڑ کر نیا بنانا پڑتا ہے۔


 ہسپتال میں ڈاکٹر کو دیکھنے کے لیے، سکول میں داخلے کے لیے، یہاں تک کہ پولیس سے بچنے کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی تھی۔ ملک کی معیشت بری حالت میں تھی۔سنہ 2004 میں میخائل ساکاشویلی حکومت میں آئے اور انہوں نے فوری طور پر تین بڑے کام کیے-پہلا، پولیس کا نظام مکمل طور پر بدلا۔ پرانی پولیس کو برطرف کیا گیا۔ نئی پولیس بھرتی کی گئی۔ نئے اہلکاروں مقرر کیے  گئے، انہیں نئی وردیاں دی گئیں، اور ان کے رویے کی تربیت دی گئی۔ صرف چند ہفتوں میں عوام نے محسوس کیا کہ پولیس اب مددگار ہے، ڈراؤنی نہیں۔دوسرا، سرکاری دفاتر سے  کرپشن ختم کی گئی۔ سادہ اور شفاف نظام بنائے گئے۔ مثال کے طور پر، ٹریفک کے ٹکٹوں کی ادائیگی آن لائن ہونے لگی تاکہ ڈرائیور اور ٹریفک پولیس کے درمیان براہ راست رقم کا لین دین ختم ہو۔تیسرا، انتہائی سخت احتساب نافذ کیا گیا۔ کرپٹ اہلکاروں کو پکڑا گیا، ان کے خلاف تیزی سے مقدمے چلائے گئے، اور انہیں سزائیں دی گئیں۔ اس سے عوام کو اعتماد آیا کہ واقعی بدلاؤ ہو رہا ہے۔نتائج حیرت انگیز تھے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف 1 سال میں کرپشن میں 90 فیصد تک کمی آئی۔ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بڑھا۔


بیرون ملک سے سرمایہ کاری آنے لگی۔آج جارجیا یورپ کرپشن سے پاک ممالک میں شمار ہوتا ہے۔· جارجیا حکومت ثابت کرتی ہے کہ غریب اور کرپٹ ملک بھی مختصر وقت میں اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں، بشرطیکہ حکومت اور عوام مل کر اصلاحات کے لیے پرعزم ہوں۔سنگاپور کا احتسابی نظام دنیا بھر میں ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔ یہ نظام سادہ لیکن بہت سخت اصولوں پر کام کرتا ہے۔سنہ 1965 میں آزادی کے بعد سے ہی سنگاپور نے فیصلہ کیا کہ ملک کو ترقی کے لیے شفافیت اور ایمانداری کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے انہوں نے کئی اہم اقدامات کیے۔سب سے پہلے، انہوں نے ملک میں موجود ہر شخص کے لیے یکساں قوانین بنائے۔ چاہے وہ عام شہری ہو یا وزیر اعظم، سب کے لیے ایک ہی قانون ہے۔ اس سے یہ یقینی بنایا گیا کہ طاقتور لوگ بھی قانون سے بالاتر نہیں ہیں۔دوسرا اہم قدم کرپشن سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط ادارہ بنایا گیا جس کا نام ہے کرپشن پریکٹیشنز انویسٹیگیشن بیورو (CPIB)۔ یہ ادارہ براہ راست وزیر اعظم کے دفتر کے تحت کام کرتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے کسی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ CPIB کو کسی بھی شخص کے خلاف تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے، چاہے وہ ملک کا سب سے بڑا افسر ہی کیوں نہ ہو


۔تیسری بات، سرکاری ملازمین پر توجہ دی   اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر لوگ محفوظ ہوں گے تو رشوت لینے کا امکان نہیں ہوتا۔چوتھا پہلو یہ ہے کہ یہاں سزائیں بہت سخت ہیں۔ کرپشن کے جرم میں پکڑے جانے والے افراد کو نہ صرف لمبی قید کی سزا ہو سکتی ہے، بلکہ انہیں بھاری جرمانے بھی ادا کرنے پڑتے ہیں۔ رشوت لینے والے افسر کو نہ صرف نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے، بلکہ اسے مستقبل میں کوئی سرکاری کام بھی نہیں مل سکتا۔پانچواں، یہاں کے عدالتی نظام کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ عدالتیں بلا خوف و خطر فیصلے کرتی ہوں، چاہے مقدمہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ اس سے عوام کا اعتماد بڑھا ہے۔اس نظام کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق، سنگاپور کرپشن کے خلاف   ایشیا کا سب سے کامیاب ملک ہے۔احتساب کے لیے مضبوط ادارے، یکساں قوانین، آزاد عدلیہ، اور عوام کی بھرپور شرکت ضروری ہے۔ جب تک یہ تمام عناصر اکٹھے نہیں ہوں گے، تب تک کسی ملک میں احتساب کا حقیقی نظام قائم نہیں ہو سکتا ہے

اتوار، 30 نومبر، 2025

اجنٹا کے غار -عجوبہءروزگار

 جنوبی ہند کے غار، جو قدیم زمانے کے انتہائ ماہر کاریگروں نے پہاڑ تراش کر بنائے تھے۔ دراصل یہ حیدرآباد دکن کے نزدیک اورنگ آباد سے تیرہ میل شمال مغرب کی جانب واقع ہیں۔ ان کا زمانہ پانچویں سے دسویں صدی عیسوی خیال کیاجاتا ہے اور یہ 4\1 مربع میل علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ کل غار یا عمارتیں چونتیس ہیں۔ ان میں بدھ مت کی بارہ۔ برہمنوں کی سترہ اور جینیوں کی پانچ ہیں۔پہاڑ کی جن چٹانوں کو تراش کر یہ غار بنائے گئے ہں۔ وہ خشک پہاڑ ہیں۔ ان غاروں کی ترتیب اور تراش میں معماروں نے کمال دکھایا ہے۔ چٹانوں کو کاٹ کر دو منزلہ اور سہ منزلہ عمارتیں تیار کی گئی ہیں۔ ایک ہی چٹان سے دو منزلہ اور سہ منزلہ عمارت کے چھت ،پیلپائے، دلان، حجرے، سیڑھیاں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے بت بنانا آسان کام نہیں۔ ان سنگ تراشوں کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انھوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ یہ اندازہ کر لیا کہ چٹان میں وہ عمارت کھودنے والے ہیں وہ اندر سے ٹھوس اور دراڑ کے بغیر ہےن عمارتوں کے کمرے بھی اس قدر وسیع ہیں کہ ان میں ایک ہزار سے زیادہ آدمی ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔


تمام عمارتوں میں دو طرفہ زینے تراشے گئے ہیں جن پر چار رپانچ آدمی بیک وقت ایک ساتھ چڑھ سکتے ہیں۔ اسی سے باقی عمارتوں کی وسعت اور عظمت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ان میں ہوا اور روشنی کا بھی انتظام تھا۔ صرف چند کمرے ایسے ہیں جنھیں تاریک کہا جا سکتا ہے۔ان غاروں میں بے شمار تراشیدہ بت ہیں جن کی ساخت بتاتی ہے کہ اس زمانے کے سنگ تراش اپنے فن میں کس قدر ماہر تھے۔ بعض بت بہت بڑے لیکن طبعی تناسب کے لحاظ سے کاریگری کے بہترین نمونے ہیں۔ سب سے زیادہ بت بدھ،مہادیو اور پاربتی کے ہیں۔ مشہور ہے کہ مہادیو سب سے پہلے انھی پہاڑیوں پر ظاہر ہوئے تھے اور اپنی بیوی پاربتی کے ساتھ یہاں رہا کرتے تھے۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ ایلورا کی عمارتیں کسی ایک زمانے میں تعمیر نہیں ہوئیں بلکہ مختلف زمانوں میں ایک طویل عرصے یعنی صدیوں کی محنت اور صبر و استقلال کا نتیجہ ہیں۔یہ غار دنیا بھر کے سیاحوں کی دلچسپی کاباعث ہیں ا جنتا کے غاروں کی نقاشی کا سب سے بڑا راز ان کی خطوط کشی ہے۔ خطوط کا جتنا نظر نواز استعمال اجنتا کی نقاشی میں پایا جاتا ہے اس کی مثال کسی اور جگہ نہیں ملتی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تصویریں ابھی بول پڑیں گی۔کنول کے پھول کو اجنتا کی مصوری میں ہر موقع پر کام میں لایا گيا ہے اور کنول کی یہ امتیازی شان ہمیں کہیں اور نظر نہیں آتی


عورت کی عظمت کو اجنتا کی نقاشی میں نمایاں مقام دیا گيا ہے جس سے ان دور میں عورت کے مرتبے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ہاتھی کی تصویر کشی بھی اجنتا کی مصوری کا موضوع ہے۔ ڈیزائن سازی میں غاروں کے نقاش اپنا جواب نہیں رکھتے۔ دیوی دیوتاؤں، چرند و پرند اور انسانوں سے لے کر پھولوں کومنقش کیا ہے سنہ 1822 میں ایک دوسرے شخص ولیم آئیکسن نے ان غاروں پر مبنی ایک مقالہ پڑھا اور صدیوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل ان غاروں کو زندہ جاوید کر دیا۔ بہت جلد یہ غار اپنی نقاشی اور سنگ تراشی کے بہترین نمونوں کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہوئے اور دنیا بھر سے نامور نقاش اور سنگ تراش انھیں دیکھنے آنے لگے۔ دھیرے دھیرے یہ غار سیاحوں کا پسندیدہ مرکز بن گئے۔جب اورنگ آباد کا علاقہ ریاست حیدرآباد کا حصہ بنا تو نظام نے ان غاروں کی تجدید پر توجہ دی اور سنہ 1920 میں غاروں کو میوزیم کی شکل دی، آمد و رفت کے ذرائع فراہم کیے اور داخلے کی فیس مقرر کر دی۔ آج بھی لوگ جوق در جوق ان غاروں کو دیکھنے آتے ہیں۔عالمی ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ یہ 30 غاروں کا یہ مجموعہ مختلف زمانے میں بنا ہے۔


پہلا مجموعہ قبل مسیح کا ہے تو دوسرا مجموعہ بعد از مسیح کا ہے۔ الغرض اجنتا کے ان غاروں کی نقاشی قابل دید ہے جو تیز رنگوں سے بنائی گئی ہے اور تصویریں ہوش ربا منظر پیش کرتی ہیں۔ نقاشی میں استعمال کیے جانے والے رنگی بیشتر، سرخ، زرد، بھورے، کالے یا سفید ہیں۔ لاجورد اور زرد رنگ کی آمیزش سے سبز رنگ تیار کیا گيا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی بھی رنگ کو نقاشی میں دوبارہ استعمال نہیں کیا گيا ہے۔ان غاروں میں مہاتما بدھ کے آثارو احوال کو پیش کیا گيا ہےیہ غار مہاتما بدھ کے آثار کا آئینہ ہیں اور بودھ مت کی مختلف کہانیوں کے عکاس ہیں۔ اس کے ذریعے بودھ مت کی تاریخی اور تہذیبی عظمت کے ساتھ مصوری کی ارتقائي صورت بھی نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ ان کی ساخت، چہروں پر چھائے جذبات، حرکات و سکنات کے دلفریب انداز ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ جن کا تصور برسوں تک دماغ سے محو نہیں ہوتا۔ا۔اس کی نرم و نازک پنکھڑیوں سے لے کر ڈنٹھل تک کی نقاشی میں وہ مہارت ہے کہ اصل کا دھوکہ ہوتا ہے۔

ہفتہ، 29 نومبر، 2025

نتھیاگلی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک تفریحی مقام ہے

 

نتھیاگلی پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کا ایک  تفریحی مقام ہے - یہ 2501 میٹر کی بلندی پر زیریں ہمالیائی خطے میں واقع ہے، نتھیا گلی اپنے خوب صورت مناظر، ہائکنگ ٹریکس کے لیے مشہور ہے یہ پر فضا سیاحتی مقام ہے جو ضلع ایبٹ آباد میں مری کو ایبٹ آباد سے ملانے والی سڑک پر 8200 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ اسلام آباد سے اس کا فاصلہ 80 کلومیٹر ہے۔نتھیاگلی می گرمیوں میں موسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں یہاں تقریباً روزانہ بارش ہوتی ہے۔ سردیوں میں یہاں شدید سردی اور دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں شدید برف باری ہوتی ہے۔یہاں گورنر ہاؤس، سیاحوں کے لیے قیام گاہیں اور آرام گاہیں واقع ہیں۔ قصبہ میں کچھھ دوکانیں اور تھوڑی بہت آبادی بھی ہے۔ گرمیوں میں یہاں سیاحوں کا رش ہوتا ہے اور قیام گاہوں اور آرام گاہوں کے کرائے بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔کوہ مکشپوری اور کوہ میرانجانی قریب ہی واقع ہیں۔

1

نتھیا گلی کے لالہ زار پارک میں سندر نامی تیندوا پنجرے میں قید تو ہے لیکن برفانی موسم کا لطف بھی اٹھا رہا ہے۔ تیندوا- بارہ دسمبر کو پاکستان کے شمالی علاقے گلیات کے پہاڑوں پر پڑنے والی معمولی برف باری نے سرد موسم کی شدت میں اضافہ کردیا تھا۔ ایسے میں نتھیاگلی کے لالہ زار پارک میں ایک پنجرے میں بند برفانی تیندوا بھی برفباری کا لطف اٹھا رہا تھا۔تیندوابرفانی تیندوا جس کو سندر کا نام دیا گیا ہے اپنے رکھوالے سردار امانت کے اشارے سمجھتا ہے۔ رکھوالا جب پنجرے کے ساتھ دوڑتا تو وہ بھی اس کے ساتھ ہی دوڑ پڑتا۔تیندواسردار امانت نے بتایا کہ سندر ان کے پاس گزشتہ چھ سال سے ہے۔ جب یہ ان کے پاس لایا گیا تو اس کی عمرچھ ماہ کے لگ بھگ تھی۔گلیات-سردار امانت نے بتایا کہ ہر سال جب گلیات میں برفباری سے راستے بند ہونے کا وقت قریب آتا ہے تو وہ سندر کو ایبٹ آباد کے جنگلی حیات کے دفتر میں منتقل کردیتے ہیں اور پھر مارچ کو اس کو واپس لے آتے ہیں۔

2

 انھوں نے کہا کہ اب برفباری شروع ہوچکی ہے اس لیے اس کو منتقل کرنا ناگزیر ہے کیونکہ بعد میں راستے بند ہونے کی وجہ سے اس کو خوراک اور پانی فراہم نہیں کیا جاسکتا۔ٹریپ پنجرہ سندر کو منتقل کرنے کے لیے اس کے ٹریپ پنجرے میں خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے اور جب وہ بھوکا ہو تو ٹریپ ہو ہی جاتا ہے۔ٹریپ پنجرہ-اس کوشش میں کئی گھنٹے لگ گئے، جب بھی سندر ٹریپ پنجرے کی طرف آنے لگتا کوئی نہ کوئی سیاح آ جاتا اور سندر بِدک جاتا۔سندر بند کمرے میں رہنے کے بجائے کھلی کھلے پنجرے میں برف میمُشکپوری 2800 میٹر / 9100 فٹ بلند پہاڈی جو نتھیاگلی،پاکستان میں واقع ہے۔ درختوں میں گھری یہ چوٹی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے۔ اسلام آباد سے 90 کلومیٹر اور نتھیاگلی سے 4 کلومیٹر دور یہ پہاڈی ہندووں کے نزدیک مقدس ہے۔مُشکپوری (مکشپوری) سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے نجات کی جگہ۔

3

 مکش(امن/نجات) + پوری(جگہ)۔ھندو روایات کے مطابق رام کی لنکا جنوبی ہندوستان کے روان کے ساتھ جنگ کے دوران اس کا بھائی لکشمن زخمی ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج ایسی جڑی بوٹی سے ہی ممکن تھا جو صرف مُشکپوری پر پائی جاتی تھی۔ چنانچہ ہنومان یعنی بندر دیوتا پورے مُشکپوری پہاڑ کو اٹھا کر جنوبی ہند لے جاتا ہے۔ جہاں وید اس بوٹی کو ڈھونڈ کر کر لکشمن کا علاج کر دیتا ہے اور ہنومان پہاڑ کو واپس لے آتا ہے۔ اس لیے یہ پہاڑ ھندوؤں کے نزدیک مقدس ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو پاکستان آئے تھے اور اس پہاڑ کی خاطر نتھیاگلی گئے تھے۔ اکثر بھارتی وفد اس پہاڑ کی خاطر نتھیاگلی ٹہرے ہیں اور انھیں نے وہاں تحفتا بندر بھی چھوڑے ہیں ہ ایک خوبصورت تو ہماتی کہانی تو ہو سکتی ہے اور کچھ بھی نہیں۔ مُشکپوری خوبصورت اور سرسبز پہاڑ ہے انسان وہاں پہنچ کر سکوں اور راحت محسوس کرتا ہے۔ اس کی چوٹی پر جگہ بھی زیادہ ہے اور وہاں کا منظر انتہائی دلکش ہے اس لیے ہزاروں سال سے انسان اسے پسند کرتا آیا ہے اور پنڈت اور مزہبی لوگ ہمیشہ اونچی جگہوں کو پسند کرتے ہیں۔ پنڈت علاج معالجہ بھی کرتے تھے

4

 ا


ور ایسی جگہوں پر ہمیشہ فائدہ مند جڑی بوٹیوں کو بھی اگاتے تھے جیسا کہ ٹلہ جوگیاں پر بھی رواج تھا۔ بیماروں کو شفا تو مل گئی مگر اس طرح کی مزہبی کہانیاں بھی وجود میں آئيں اور مزہبی کہانیوں کی تفتیش کرنا ہر مذہب میں ویسے بھی بڑا رسک ہے۔15 فروری سے 15 ستمبر مُشکپوری سیر کے لیے بہترین ہے۔ 15 مارچ تک اس پر برف ہوتی ہے۔ یورپی یونین نے اس پہاڑ پر جنگلی پرندوں کے تحفظ اور افزآئش نسل کے لیے ایک مخصوص جگہ پر باڑ اور اس کے اندر پرندوں کے گھر بنائے ہیں۔ نتھیاگلی سے مُشکپوری چوٹی تک قریبا 2 گھنٹے لگتے ہیں۔ راستہ درختوں ميں گرا ہوا ہے اور خوبصورت ہے آہستہ آہستہ اوپر بلند ہوتا ہے۔ چوٹی کی طرف سے ڈونگا گلی کی طرف محض آدھے گھنٹے میں اتر سکتے ہیں لیکن ادھر سے اترائی اور چڑھائی دونوں مشکل ہیں۔ مُشکپوری کی برف اور چشموں کے پانی کو ڈونگا گلی میں ایک بہت بڑے ٹینک میں محفوظ کیا جاتا ہے اور پھر اس پانی کو پائپ کے ذریعے مری پہنچایا جاتا ہے۔اگر سیاح کے پاس خیمہ ہو تو مُشکپوری کے اوپر ایک خوبصورت رات گزاری جا سکتی ہے۔ آلودگی سے پاک ہونے کی وجہ سے مُشکپوری کے اوپر آسمان انتہائی صاف ہوتا ہے۔ ستارے بالکل قریب دکھائی دیتے ہیں۔ مری بہت نیچے محسوس ہوتی ہے اور دور اسلام آباد اپنی لکیر دار پیلی روشنیوں میں کھویا نظر آتا ہے۔ مُشکپوری پہ صبح زندگی کا خوشگوار ترین تجربہ ہے۔مُشکپوری کے اوپر درختوں، بیلوں، پھولوں، جھاڑیوں، پرندوں، جانوروں اورکیڑے مکوڑوں کی کئی قسمیں پائی جاتی ہیں

بیکانیر کی کوئل -ریشماں

 

محض بارہ برس کی معصوم بہن دیکھ رہی تھی کہ اس کے بھائ کا جہاں بھی رشتہ ہوتا ہے کسی ناکسی بہانے سے ختم ہو جاتا ہے پہلے تو وہ دل گرفتہ ہوئ پھر اس نے منت مانی کہ وہ حضرت لال شہباز قلندر کے مزار پر منقبت گائے گی -اب بھلا اللہ میاں اس معصوم بہن کی خواہش کو پورا کیوں ناکرتا چنانچہ بھائکی شادی خیرو خوبی سے انجام پائ اور ریشماں کراچی سے سفر کر کے حضرت لال شہبازقلندر کے مزار پر پہنچی مزار پر اس کی تقدیر کا تالہ کھولنے کے لئے ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی بھی آئے ہوئے تھے 'گوہر شناس جوہری نے ہیرے کو پہچان لیا جب انہوں نے ننھی ریشماں کو گاتے ہوئے سنا، اور اس طرح بارہ سال کی عمر میں ریشماں کو ریڈیو پاکستان پر آواز کا جادو جگانے کا موقع ملا۔ گلِ صحرائی اور لمبی جدائی، معروف لوک گلوکارہ ریشماں راجستھان میں پیدا ہو ئ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہوگیا، خانہ بدوش خاندان سے تعلق رکھنے والی ریشماں نے کم عمری میں ہی صوفیانہ کلام گانا شروع کر دیا۔ ریشماں نے کلاسیکی موسیقی کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی،1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کیلئے گانا شروع کر دیا، انہوں نے پاکستانی فلموں کیلئے متعدد گیت گائے اور خوب شہرت سمیٹی، ریشماں کی مقبولیت سرحد پار بھی پہنچی اور بالی ووڈ میں یہ سحر انگیز آواز گونجی۔ معروف فوک گلوکارہ کے مشہور گیتوں میں ’’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک‘‘، ’’وے میں چوری چوری‘‘، ’’اکھیاں نوں رین دے اکھیاں دے کول کول‘‘، ’’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘‘، ’’عاشقاں دی گلی وچ مقام دے گیا‘‘ شامل ہیں۔ریشماں کو ستارہ امتیازاور لیجنڈز آف پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیاریشماں نے گائیکی کی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی عمر بارہ برس تھی جب ریڈیو کے ایک پروڈیوسر سلیم گیلانی نے شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے سنا اور انہیں ریڈیو پر گانے کا موقع دیا۔ اس وقت انہوں نے ’لال میری‘ گیت گایا جو بہت مشہور ہوا۔ سلیم گیلانی بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل بھی بنے۔دھیرے دھیرے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین فوک سنگر بن گیئں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کے لیے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی فلموں کے لیے بھی متعدد گیت گائے۔ ان کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔ معروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں ریشماں نے ان کی فلم ’ہیرو‘ کے لیے ’لمبی جدائی‘ گایا جو آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے۔ 1983ء کی اس فلم کو آج بھی ریشماں کے اس گانے کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔ ریشماں کے کچھ دیگر مقبول گیتوں میں’سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک ماہیا مینوں یاد آؤندا‘، ’وے میں چوری چوری‘، ’دما دم مست قلندر‘، ’انکھیاں نوں رین دے انکھیاں دے کول کول‘ اور ’ہائے ربا نیئوں لگدا دِل میرا‘ شامل ہیں۔انہیں پاکستان میں متعدد ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہیں ستارہ امیتاز اور ’لیجنڈز آف پاکستان کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔ ’ گزشتہ دہائیوں میں ان سے ملاقات اور ان کے گانے سننے کو یاد کر رہی ہوں۔ ان کی آواز پُردرد تھی اور درد ہی گیت بن گیا۔یہ الفاظ ایک بھارتی فنکار کے ہیں ‘‘ ۔ ان کا تعلق راجستھان کے علاقے بیکانیر سے تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے کراچی منتقل ہو گیا تھا۔ انہوں نے سوگواروں میں بیٹا عمیر اور بیٹی خدیجہ چھوڑی ہے۔ڈی ڈبلیو کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں اُنہوں نے اپنے اس بیٹے کا نام ’ساون‘ بتایا تھا ا ور کہا تھا کہ وہ اُسے اس لیے ساون کہتی تھیں کیونکہ وہ ساون کے مہینے میں پیدا ہوا تھامعروف فوک گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے،

جمعہ، 28 نومبر، 2025

ریاض الرحمان ساغر ٍ-سُروں کے بادشاہ

 

شاعر ریاض الرحمان ساغر یکم دسمبر، 1941ء کو مولوی محمد عظیم اور صدیقاں بی بی کے ہاں بھٹنڈہ، ریاست پٹیالہ، صوبہ پنجاب   میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت ان کے خاندان نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، راستے میں قافلے پر شرپسندوں کے حملے کے دوران ان کے والد جاں بحق ہو گئے۔ مزید یہ ان کا دو سال کا چھوٹا بھائی بھی دورانِ سفر بھوک اور پیاس کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ ریاض الرحمان اور ان کی والدہ لٹے پٹے قافلے کے ہمراہ والٹن کیمپ میں پہنچے، یہاں سے ملتان چلے گئے۔ ریاض الرحمان کی والدہ نے محنت مشقت کر کے اپنے بیٹے کو تعلیم دلوائی۔ انھوں نے ملت ہائی اسکول ملتان سے میٹرک اور ایمرسن کالج سے بی اے کیا۔ ریاض الرحمان نے نویں کلاس میں ایک انگلش نظم کا بہترین اردو ترجمہ کیا تو ان کے ٹیچر ساغر علی نے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کی بہت تعریف کی اور پوری کلاس کے سامنے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔


اپنے استاد کی جانب  یہ حوصلہ افزائ ریاض الرحمان کو اتنی اچھی لگی کہ انہوں نے اپنا تخلص اپنے استاد کے نام سے منسوب کر لیا -اور اسی دور میں استاد شعرأ کے کلام کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔ یوں کالج پہنچنے تک ساغر کو قدیم و جدید شعرأ کے سینکڑوں اشعار زبانی یاد ہو چکے تھے۔ ایمرسن کالج ملتان میں سیکنڈ ائیر میں طالب علموں کو جوش ملیح آبادی اور فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری سنانے پر کالج سے نکال دیا گیا جن میں ریاض الرحمان بھی شامل تھے۔ 1956ء میں لاہور آ کر  فیض صاحب سے ملاقات کی اور انھیں اپنا احوال زندگی گوش گزار کیا، چنانچہ فیض صاحب نےشفقت فرماتے ہوئے نوکری پر رکھ لیا، لیکن کچھ عرصہ بعد روزنامہ نوائے وقت میں روزگار کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آخری دم تک جاری رہا۔اسی دوران فلمی دنیا سے وابستگی ہوئ-اور اس طرح معروف شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کے ساتھ ان کی دوستی ہو گئی جنھوں نے ریاض الرحمان کا بھرپور ساتھ دیا۔ فلم 'شریک حیات' کے لیے لکھا ہوا نغمہ 'میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے' ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کا زینہ ثابت ہوا۔

 اس کے بعد فلم 'سماج' کے نغمے 'چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں دنیا کے رسم و رواج توڑ دیں' نے ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ ریاض الرحمٰن ساغر نے فلم، ریڈیو پاکستان، ٹی وی کے لیے تین ہزار کے قریب نغمے تخلیق کیے جنہیں مہدی حسن، نورجہاں، عدنان سمیع، احمد رشدی، مالا، مسعود رانا، استاد نصرت فتح علی خان، حامد علی خاں، اے نیئر، وارث بیگ، انور رفیع، رونالیلیٰ، حمیرا ارشد، حمیرا چنا، ناہید اختر، تصور خانم، ثریا خانم، نصیبو لال سمیت دیگر نمایاں گلوکاروں نے گایا۔
ان کے تخلیق کردہ مقبول نغموں میں 'ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو'، 'بھیگا ہوا موسم پیارا'، 'تیری اونچی شان ہے مولا'، 'کبھی تو نظر ملاؤ'، 'بھیگی بھیگی راتوں میں'، 'تیرے سنگ رہنے کی کھائی ہے قسم'، 'چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں'، 'کچھ دیر تو رک جاؤ برسات کے بہانے'، 'دلی لگی میں ایسی دل کو لگی کہ دل کھو گیا'، 'دیکھا جو چہرہ تیرا موسم بھی پیارا لگا'، 'کل شب دیکھا میں نے چاند جھروکے میں'،


 'مینوں یاداں تیریاں آؤندیاں نیں'، 'کسی روز ملو ہمیں شام ڈھلے شامل ہیں۔'ہو سکے تو میرا ایک کام کرو'، 'جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم'، 'ساون کی بھیگی راتوں میں              اعزازات-ریاض الرحمان ساغر کو نیشنل فلم ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ، کلچرل گریجویٹ ایوارڈ، نگار ایوارڈ، بولان ایوارڈ سمیت مختلف سماجی اور ثقافتی اداروں کی طرف سے ڈیڑھ سو سے زائد انعامات ملے۔اور وہ اپنی ترقی کا سفر طے کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئےبطور کہانی کار و مکالمہ نویس ریاض الرحمان ساغر نے 100کے قریب فلمیں لکھیں جن میں 'شمع 'نوکر'، 'سسرال'، 'عورت ایک پہیلی'، 'سرگم'، 'نذرانہ'، 'بھروسا'، 'نکاح'، 'محبتاں سچیاں' جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں-بطور کہانی کار و مکالمہ نویس ریاض الرحمان ساغر نے 100کے قریب فلمیں لکھیں جن میں 'شمع'، 'نوکر'، 'سسرال'، 'عورت ایک پہیلی'، 'سرگم'، 'نذرانہ'، 'بھروسا'، 'نکاح'، 'محبتاں سچیاں' جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔
تصانیف-وہ کیا دن تھے (سوانح عمری)
کیمرا، فلم اور دنیا ( سات ملکوں کا سفر نامہ)
لاہور تا بمبئی براستہ دہلی ( بھارت کا سفر نامہ)
سرکاری مہمان خانہ ( جیل یاترا کااحوال)
میں نے جو گیت لکھے (گیت)
چلو چین چلیں (منظوم سفر نامہ)
چاند جھروکے میں (شاعری)
پیارے سارے گیت ہمارے (شاعری)
سر ستارے (شاعری)
آنگن آنگن تارے (بچوں کے گیت)
ریاض الرحمان ساغر کی وفات یکم جون، 2013ء کو لاہورمیں ہوئ ۔ وہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں

جمعرات، 27 نومبر، 2025

بخارسٹ' ثقافت، فنون اور جدید یورپ کا ایک روشن استعارہ ہے

 

 بخارسٹ، رومانیہ کا دارالحکومت، ملک کے جنوب مشرق میں دریائے ڈیمبویا کے کنارے واقع ہے، اور بلغاریہ کی سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر شمال میں ہے۔ ۔ یہ شہر 1862ء میں رومانیہ کا دار الحکومت بنا اور رومانیہ کے میڈیا، ثقافت اور فن کا مرکز ہے۔ یہاں  مشہور چیزوں میں سے ایک اس کا پیلس آف پارلیمنٹ ہے جو دنیا کی دوسری  وسیع و عریض سرکاری بلڈنگ ہے.. اس کے سامنے  روڈ پر لوگوں کی چہل قدمی، فواروں کا پانی اور لائٹس، آتی جاتی گاڑیاں، اور اطراف میں موجود ریسٹورنٹ اور ان کے باہر بیٹھ کر کھانے کے لئے لگے میز اور کرسیاں جن پر کھانا کھاتے لوگ اس سڑک کو مال روڈ سے زیادہ رونق والا بنا دیتے ہیں.  اس ساری رونق کا مزہ دوبالا  کرنے میں فواروں کی سرخ اور سبز لائٹس کا بھی بہت عمل دخل ہے.  -یورپ کے دل میں دریائے دیمبووتا کے کنارے صدیوں کے نشیب و فراز کا گواہ رومانیہ کا دارالحکومت جہاں ہر گلی، ہرعمارت اور ہرپتھر اپنی کہانی خود سناتا ہے۔ طلسماتی حسن ایسا ہے کہ دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

تاریخ نے اس شہر کو مشکل دن بھی دکھائے جب عثمانی توپوں کی گھن گرج نے اس کے سکون اور اسکے حسن کو متاثر کیا، روسی و آسٹریائی لشکر اس کے دروازوں سے گزرے اور خوبصورتی کو ماند کیا۔ ایک شہرجو بار بار اجڑا، مگر اسکی باہمت قوم نے ہر بار راکھ سے دوبارہ اسے گل و گلزار بنایا۔انیسویں صدی میں جب رومانیہ نے آزادی میں سانس لینا شروع کیا، تو بخارسٹ نے نئے خواب دیکھنے شروع کیے۔ اس کی سڑکوں پر فرانسیسی طرزِ تعمیر نے قدم رکھا، اس کے چوکوں میں روشنیوں اور موسیقی کا راج ہوا۔ اسے’’مشرق کا پیرس‘‘ کہا جانے لگا’’ ایک ایسا لقب جو اس کی نزاکت، دلکشی اور تہذیب کی جھلک بن گیا‘‘۔بخارسٹ کا شمار اب یورپ کے پرامن اور خوبصورت شہروں میں ہوتا ہے۔ یہ شہر اپنی تاریخی عمارتوں، دلکش پارکوں، وسیع شاہراہوں اور فنِ تعمیر کی شان سے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ شہر کی فضا پُرسکون، لوگوں کا رویہ دوستانہ اور ماحول سیاحوں کے لیے انتہائی خوشگوار ہے۔ یہاں کے میوزیم، قدیم چرچ، محلات اور کیفے کلچر ہر آنے والے کو ایک یادگار تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ بخارسٹ اپنی ثقافت، امن اور خوبصورتی کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک پرکشش منزل بن چکا ہے۔


بخارسٹ میں ابھرنے کی طاقت بے حد خوبیوں کےساتھ موجود ہے، کمیونسٹ دور کی سختیوں میں بھی یہ شہر سانس لیتا رہا، خواب دیکھتا رہا۔ چاؤشیسکو کے تعمیراتی منصوبوں نے شہر کے چہرے پر وہ عظیم الشان پارلیمنٹ محل تراشا جو آج اس کے جلال کی علامت ہے۔آج یہ شہر رومانیہ کا سیاسی مرکز ہی نہیں بلکہ ثقافت، فنون اور جدید یورپ کا ایک روشن استعارہ ہے۔بخارسٹ میں ’’ پیلس آف دی پارلیمنٹ‘‘ منتخب نمائندوں کی دنیا میں سب سے بڑی عمارت ہے، ایک شاندار طرز تعمیر، رومانیہ کی مضبوط تاریخ کی گواہی دیتی نظر آتی ہے۔نیشنل میوزیم آف رومانیہ، کالیہ وکٹورائی، ریولیوشن اسکوائیر،شہر کا سب سے بڑا ہیرسترو پارک، شام کو فوڈ پوائنٹس اور موسیقی سے جگمگاتا علاقہ اولڈ ٹاون اور رومانیہ کی فتوحات کی علامت آرک دی ٹریومف Ack the Triomphe سمیت درجنوں عمارتیں، پارکس، ہوٹلز، آرٹ گیلریاں اور موسیقی کے مرکز بخارسٹ کو دنیا کے بیشتر شہروں سے ممتاز بناتے ہیں۔


بخارسٹ ثقافت، موسیقی، تھیٹر اور آرٹ کا گہوارہ ہے۔ یہاں کا نیشنل تھیٹر اور بے شمار آرٹ گیلریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ شہر فنونِ لطیفہ سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ہر سال یہاں جارج اینیسکو میوزک فیسٹیول منایا جاتا ہے جو دنیا بھر کے موسیقاروں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔بخارسٹ وہ شہر ہے جہاں ہوا میں نغمے گھلتے ہیں اور روشنیوں میں خواب جگمگاتے ہیں۔ اس کی گلیاں ایسے لگتی ہیں جیسے کسی مصور نے رنگوں سے دعا مانگی ہو۔ یہاں کی عمارتیں ماضی کی داستانیں سناتی ہیں۔ بخارسٹ ایک ایسا شہر ہے جس نے ماضی کی عظمت اور حال کی جدت کو قرینے سے سنبھال رکھا ہے۔رومانیہ کی حکومت کی شاندار پالیسیوں اور دنیا بھر میں شاندار سفارتکاری کے باعث بخارسٹ بڑی تیزی سے دنیا کی توجہ حاصل کررہا ہے۔بخارسٹ سے رومانیہ کے کچھ مشہور مقامات تک اس ماہر گائیڈڈ ٹور کے ذریعہ ایک علم افزا پورے دن کے سفر کا آغاز کریں۔ اپنی مہم کا آغاز بخارسٹ سے شمال کی طرف بڑھتے ہوئے کریں، کارپیتھین پہاڑوں کی گھاس پھوس اور سرسبز جنگلات سے گزرتے ہوئے۔ یہ دلکش سفر قدرتی خوبصورتی کی وادیوں اور چوٹیوں کے ہر لمحہ بدلتے مناظر فراہم کرتا ہے۔
 

کنوارے درخت کو اپنی دلہن چاہئے

 


سننے میں آیا تھا کہ کسی دھرم کے لوگ اپنی  لڑکیوں کی شادی پہلے درختوں سے کرتے ہیں پھر  لڑکوں سے کرتے ہیں لیکن کیو گارڈن کے  اس  درخت  کے بارے میں سن کر یقین آگیا کہ درخت واقعئ شادی کرتے ہیں جیسےبرطانیہ کے مشہورِ زمانہ ''رائل بوٹینیکل گارڈنز'' المعروف ''کیو گارڈنز'' کے ایک گوشے میں بظاہر معمولی دکھائی دینے والا ایک درخت لگا ہوا ہے مگر اس کی داستان کسی دکھی انسان سے بھی زیادہ افسردہ کرنے والی ہے۔پام ٹری کی ایک نوع ''اینسیفالارٹوس ووڈیائی'' (Encephalartos woodii) سے تعلق رکھنے والا یہ درخت، پوری دنیا میں اپنی قسم کا اکیلا اور آخری پودا باقی رہ گیا ہے جو پچھلے سو سال سے کیو گارڈنز میں موجود ہے۔اعلی نسل کے پودوں میں نر اور مادہ پودے الگ الگ ہوتے ہیں اور مذکورہ پام ٹری اپنی قسم کا ''نر درخت'' ہے جسے اپنی نسل درست طور پر آگے بڑھانے کےلیے اپنی ہی نوع کے ایک ''مادہ درخت'' کی ضرورت ہے جس کی تلاش پچھلے 100 سال سے جاری ہے لیکن اب تک ماہرین کو اس میں کوئی کامیابی نہیں ہوسکی ہے۔


اسے 1895 میں برطانوی ماہرِ نباتیات جون میڈلے ووڈ نے جنوبی افریقہ کے علاقے زولولینڈ میں ایک پہاڑی مقام سے دریافت کیا تھا۔ اپنے عجیب و غریب تنے اور چھتری کے محراب نما پھیلاؤ کی وجہ سے یہ درخت سب سے الگ اور منفرد نظر آرہا تھا۔ جون میڈلے نے اس درخت کے تنے کا کچھ حصہ کاٹ کر برطانیہ بھجوا دیا جسے کیو گارڈن میں بطور قلم لگایا گیا جو کچھ عرصے بعد ہی تناور درخت میں تبدیل ہوگئی۔ماہرین پر انکشاف ہوا کہ یہ ''نر درخت'' ہے جسے اپنی نسل بڑھانے کےلیے ''اصل مادہ'' کی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ 125 سال کے دوران جنوبی افریقہ میں لگا ہوا درخت بھی موسم کی نذر ہوگیا جس کے بعد اب صرف یہی ایک نمونہ باقی رہ گیا ہے۔خوش قسمتی سے انسانوں کے برعکس، بعض پودوں اور درختوں کی قدرتی عمر سیکڑوں اور ہزاروں سال میں ہوتی ہے۔ یہ پام ٹری بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اب تک مختلف تکنیکوں سے اس درخت کے ''بچے'' ضرور تیار کیے گئے ہیں لیکن وہ اصل درخت سے بڑی حد تک مختلف ہیں۔ ''حقیقی بچوں'' کےلیے ضروری ہے کہ نر درخت کے قریب، اسی نوع کی مادہ درخت موجود ہو؛ جو ابھی تک نہیں مل سکی۔یعنی جب تک اس درخت کی ''دلہن'' نہیں مل جاتی، یہ دنیا کا سب سے اکیلا پودا ہی رہے گا۔


سرخی مائل لکڑی کا درخت دنیا کے بہت سے نباتاتی باغوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ دنیا کے لمبے ترین      درختوں میں سے ایک ہےدرخت ہے جو اوپر جا کر کئی شاخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ان شاخوں پر پتے، پھول اور پھل لگتے ہیں۔ کچھ ماہرین ایک درخت کے لیے کم سے کم اونچائی بھی ضروری سمجھتے ہیں جو 3 سے 6 میٹر تک ہے۔ درخت زمین پر زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہیں کیونکہ یہ جانوروں کو خوراک فراہم کرتے ہیں، پرندوں کو رہائش فراہم کرتے ہیں اور انسانوں کو پھل فراہم کرتے ہیں۔ درخت زمین پر آکسیجن کا تناسب بگڑنے نہیں دیتے۔ دن کے وقت درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ رات کو یہ عمل الٹ ہو جاتا ہے۔ دنیا کے ایک تہائی درخت آرکٹک دائرہ میں واقع ہیں۔ جب سردی کا موسم شمالی نصف کرہ میں ختم ہوتا ہے تو ادھر درختوں پر پتے آ جاتے ہیں اور یکایک لاکھوں درخت آکسیجن پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔


 یہی وجہ ہے کہ بہار کے موسم میں زمین پر آکسیجن کا تناسب قدرے بہتر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ درخت سیلاب سے بچاؤ کرتے ہیں۔ ایک نظریہ کے مطابق درخت ہی ہیں جو لاکھوں سالوں کے عمل کے بعد کوئلہ میں تبدیل ہوئے اور اب توانائی کا وسیلہ ہیں۔ بعض درخت کچھ مذاہب میں مقدس بھی ہوتے ہیں۔ اکثر درخت کسی نہ کسی بیماری کے علاج میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ ادویات بنانے کے لیے ان کی چھال، پتے، بیج، پھول اور پھل سب استعمال ہوتے ہیں۔ بعض درختوں کی عمریں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ کچھ ایسے درخت اس وقت زمین پر موجود ہیں جن کی عمر تقریباً پانچ ہزار سال ہے۔ مثلاً لبنان میں چیڑ کے درخت۔ ایسے بے شمار درخت جو ہزاروں سال کی عمر رکھتے تھے، انھیں یورپی اقوام نے براعظم امریکا پر قبضہ کے دوران کاٹ کر استعمال کر لیا مگر اب بھی ایسے درخت موجود ہیں جن کی عمر ہزاروں سال ہے


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر