جمعرات، 25 ستمبر، 2025

حضرت جعفر طیار کی غزوۂ موتہ میں شرکت و شہادت

 

حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی غزوۂ موتہ میں شرکت  و شہادت -جما دی الاول سن آٹھ  ہجری میں موتہ پر فوج کشی ہوئی،حضور نبی کریم ﷺ نے فوج کا علم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عطا کر کے فرمایا ؛؛اگر زید (رضی اللہ عنہ) شہید ہوں تو جعفر ( رضی اللہ عنہ ) اور اگر جعفر (رضی اللہ عنہ ) بھی شہید ہوں تو عبداللہ ابن رواحہ (رضی اللہ عنہ) اس جماعت کے امیر ہوں گے۔۔۔(بخاری شریف کتاب المغازی) حضور نبی کریم ﷺ اس غزوہ کے انجام و نتیجہ سے آگاہ تھے، اسی لئے فرمایا کہ اگر زید رضی اللہ عنہ شہید ہوں تو جعفر رضی اللہ عنہ علم سنبھالیں ،اگر وہ بھی شہید ہوں تو عبداللہ ابن رواحہ رضی اللہ عنہ انکی جگہ لیں ۔۔۔(طبقات ابن سعد)موتہ پہنچ کر معرکۂ کار زار گرم ہوا، تین ہزار غازیانِ اسلام کے مقابلہ میں غنیم کا ایک لاکھ ٹڈی دل لشکر تھا،امیر فوج حضرت زید رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت جعفر رضی اللہ عنہ گھوڑے سے کود پڑے اور علم کو سنبھال کر غنیم کی صفیں چیرتے ہوئے آگے بڑھے ،دشمنوں کا ہر طرف سے نرغہ تھا،تیغ و تبر،تیر وسنان کی بارش ہو رہی تھی،یہاں تک کہ تمام بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا،دونوں ہاتھ بھی یکے بعد دیگرے شہید ہوئے مگر اس مجاھدِ اسلام نے اس حالت میں بھی توحید کے جھنڈے کو سرنگوں ہونے نہ دیا(اسدالغابہ) بالآخر شہادت کا جام نوش فرمایا


 حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنھما بھی اس جنگ میں شریک تھے،فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی لاش کو تلاش کر کے دیکھا تو صرف سامنے کی طرف پچاس(50) زخم تھے،تمام بدن کے زخموں کا شمار تو نوّے (90) سے بھی متجاوز تھا،لیکن اُن میں کوئی زخم پشت پر نہ تھا (بخاری شریف ) اللہ اکبر کبیرا-حضور نبی کریم ﷺ کا حزن و ملال ۔!میدانِ جنگ میں جو کچھ ہو رہا تھا ،اللہ تعالی کے حکم سے حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے تھا،چنانچہ خبر آنے سے پہلے ہی آپ ﷺ نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کا حال بیان فرمایا۔اس وقت آپ ﷺ کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو گئے اور روئے انور پر حزن وملال کے آثار نمایاں تھے( اسدالغابہ)حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں آٹا گوندھ چکی تھی اور  بچو ں کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا رہی تھی کہ حضور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور فرمایا جعفر کے بچوں کو لاؤ،میں نے ان کو حاضرِ خدمت کیا، تو آپ ﷺ نے آبدیدہ ہو کر ان کو پیار فرمایا ،میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں,حضور ﷺ آبدیدہ کیوں ہیں


   کیا جعفر (رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھیوں( رضی اللہ عنھم) کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے،فرمایا ہاں! وہ شہید ہو گئے ،یہ سن کر میں رونے لگی۔۔۔محلہ کی عورتیں میرے اردگرد جمع ہو گئیں،حضور نبی کریم ﷺ واپس تشریف لے گئےاور ازواجِ مطہرات(رضی اللہ عنھن) سے فرمایا کہ آل جعفر (رضی اللہ عنہ) کا خیال رکھنا،آج  انہیں شدید صدمہ ہے خاتونِ جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنھا کو بھی اپنے عمِ محترم کی مفارقت کا شدید غم تھا،شہادت کی خبر سُن کر بادیدۂ تر واعماہ! واعماہ! کہتے ہوئے بارگاۂِ نبوت ﷺ میں حاضر ہوئیں،حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ! بیشک ! جعفر رضی اللہ عنہ جیسے شخص پر رونے والیوں کو رونا چاہیئے،آپ ﷺ کو عرصہ تک شدید غم رہا،یہاں تک کہ روح الامین نے یہ بشارت سنائی کہ اللہ تعالی نے جعفر ( رضی اللہ عنہ ) کو دو کٹے ہوئے بازوؤں کے بدلہ میں دو نئے بازو عنایت کیے ہیں ،جن سے وہ ملائکہ جنت کے ساتھ مصروفِ پرواز رہتے ہیں ۔(مستدرک حاکم) چنانچہ ذوالجناحین اور طیار ان کا لقب ہو گیا۔(رضی اللہ عنھم ورضو عنہ ) حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے فضائل و محاسن -حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کشادہ دست و فیاض تھے،غرباء و مساکین کو کھانا کھلانے میں انکو خاص لطف حاصل ہوتا تھا ،


اسی لئے حضور نبی کریم ﷺ ان کو ابو المساکین کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے،حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر بھوک کے باعث پیٹ کو کنکروں سے دبائے رکھتا تھا اور آیت یاد بھی رہتی تو اس کو لوگوں سے پوچھتا پھرتا  کہ شاید کوئی مجھ کو اپنے گھر لے جائے اور کچھ کھلائے لیکن میں نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کو مسکینوں کے حق میں سب سے زیادہ بہتر پایا ، وہ ہم لوگوں (اصحاب صفہ رضی اللہ تعالی عنھم اجمعین) کو اپنے گھر لے جاتے تھے،اور جو کچھ ہوتا تھا ،سامنے لا کر رکھ دیتے تھے،یہاں تک کہ بعض اوقات گھی یا شہد کا خالی مشکیزہ تک لا دیتے اور اسکو کاٹ کر ہمارے سامنے رکھ دیتے اور ہم اس کو چاٹ لیتے تھے۔(بخاری شریف )حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کا پایہ نہایت بلند تھا ،خود حضور نبی کریم ﷺ ان سے فرمایا کرتے تھے کہ "جعفر" (رضی اللہ عنہ)! تم میری صورت وسیرت دونوں میں مجھ سے مشابہ ہو۔(بخاری شریف)حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھ سے پہلے جس قدر نبی (علیھم السلام) گزرے ہیں ان کو صرف سات رفیق دیئے گئے تھے ،لیکن میرے رفقائےِ خاص کی تعداد چودہ(14) ہے ، ان میں سے ایک جعفر (رضی اللہ عنہ) بھی ہیں۔۔

دل وہیں چھوڑ آیا تھا

 


 

 ·

 

 

اسلام آباد کے ریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رؤوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہیں ریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل میں گو اینڈ فیس دی میوزک۔خیر میں ریکٹر آفس کی جانب چل پڑا اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے،



 لیکن سوال یہ ہے کہ آج یونیورسٹی سے نکالا جاؤں گا تو گھر والوں سے کیا بہانہ بناؤں گا کہ کیوں نکالا گیا۔وہاں پہنچا تو ریکٹر کے پی ایس اسماعیل صاحب کو بتایا میرا نام آصف محمود ہے، مجھے ریکٹر صاحب نے بلایا ہے۔مجھے شدید حیرت ہوئی جب اسماعیل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور کہنے لگے جائیے وہ آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن اندر داخل ہوا توحیرتوں کے جہان میرے منتظر تھے۔ ملک صاحب اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں آصف، آپ نے بلایا تھا؟آپ ہی نے کالم لکھا تھا؟جی سر میں نے لکھا تھا۔تشریف رکھیے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔۔۔۔اور میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے بیٹھ گیا۔کافی دیر یونہی گزر گئی۔ملک صاحب ولز کی ڈبیا گھماتے رہے۔ ایک ایک لمحہ اعصاب پر بھاری تھا۔پھر ملک صاحب نے خاموشی کو توڑا اور کہا: کالم تو آپ نے اچھا لکھا لیکن آپ کی معلومات ناقص تھیں۔ میں صر ف دودھ فروش نہیں تھا۔میرے ساتھ ایک اور معاملہ بھی تھا۔



میں نے اسی لیے آپ کو بلایا ہے کہ آپ کی معلومات درست کر دوں۔ میں صرف دودھ نہیں بیچتا تھا۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی تھا کہ جوتے نہیں تھے۔میں دودھ بیچ کر سکول پہنچتا اور سائیکل وہیں کھڑی کر دیتا۔ گھر میں جوتوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو والد صاحب کے زیر استعمال تھا۔ اس کا حل میں اور میرے ابا جی نے مل کر نکالا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ صبح میں یہ جوتے پہن کر جایا کروں اور جب میں واپس آ جاؤں تو یہی جوتے پہن کر ابا جی چوپال میں جا کر بیٹھا کریں۔ اب ڈر تھا کہ سائیکل چلانے سے جوتا ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے میں انہیں سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا تھا۔جب دودھ گھروں میں پہنچا کر کالج کے گیٹ کے پاس پہنچتا تو جوتا پہن لیتا۔ واپسی پر پھر سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا اور ننگے پاؤں سائیکل چلاکر گھر پہنچتا۔ملک صاحب پھر خاموش ہو گئے۔ یہ دورانیہ خاصا طویل رہا۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے: سریے والی بات تم نے ٹھیک کہی۔ واقعی ، اللہ نے دودھ فروش کو نوازا تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔



بار بار دہراتے رہے:اللہ نے دودھ فروش کو نوازا لیکن اس کی گردن میں سریا آ گیا۔پھر اسماعیل کو بلایا اور پوچھا کہ کیا قواعد و ضوابط کے مطابق میں فیس میں کیا گیا یہ اضافہ واپس لے سکتا ہوں۔اسماعیل نے کہا سر ریکٹر کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہنے لگے اختیار میں تو نہیں ہے لیکن اگر میں نوٹیفیکیش جاری کر دوں تو پھر؟ اسماعیل کہنے لگے: سر آپ نوٹی فیکیشن جاری کر دیں تو ظاہر ہے اس پر عمل ہو گا۔ملک صاحب نے کہا جلدی سے نوٹیفیکیشن بنا لاؤ، فیسوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔میں کمرے سے باہر نکلا تو اس حکم نامے کی کاپی میرے ساتھ تھی،*دل البتہ وہیں چھوڑ آیا تھا* ۔ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ایس ایم اے رووف صاحب نے پوچھاہاں کیا ہوا؟میں نے نوٹی فیکیشن آگے رکھ دیا، سر یہ ہوا۔رووف صاحب کی آنکھوں میں جو حیرت تھی، مجھے آج بھی یاد ہے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے: وائس چانسلر کیسا ہونا چاہیے؟ میں کہوں گا اسے ملک معراج خالد مرحوم جیسا ہوناچاہیے۔

تحریر: آصف محمود کالم نگار/ اینکر

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی

بدھ، 24 ستمبر، 2025

اللہ کی بھی ایک سپریم کورٹ ہے


زندگی کے المیوں کی کہانیا ن لکھنا میرے لئے مشکل ہوتا ہے لیکن میں پھر بھی اپنے دل پر جبر کر کے لکھتی ہوں  کہ شائد کوئ بھٹکتی نظر  میری  تحریر پڑھ کر راہ راست پر آجائے تو میری تحریر کا  صلہ   مجھے مل جائے گا یہ ایک محفل تھی  بہت سے جانے پہچانے چہرے تھے اور کئ چہرے  نا شناسا بھی تھے ان نا شناسا چہروں میں ایک لڑکی اپنی ننّھی منّی سی  بیٹی کو لئے بیٹھی تھی  لڑکی بھی شکل و صورت کی اچّھی تھی  لیکن اس کی گود میں بچّی ماشاللہ بہت پیاری تھی  میں نے  پیار سے دیکھا تو میرے پاس ہمک کر آ گئ ، میں کچھ دیر اس سے کھیلتی رہی پھر وہ  بچّی اپنی ماں کے پاس واپس چلی گئ ،محفل تمام  ہو چکی تھی لیکن کھانا  نہیں   آسکا تھا  صاحب خانہ بوکھلائ ہوئ تھیں لیکن مہمانو ں نے کہا پریشان نا ہوں ابھی وقت زیادہ نہیں ہوا ہے صاحب خانہ  ہمارے پاس سے دوسری جانب چلی گئیں  ان کے جانے  کے بعد میں پھر لڑکی سے مخاطب ہوئ مین نے لڑکی سے کہا  معلوم ہوتا ہے تمھارے والد بہت خوبصورت ہوں گے  اس نے سوال کیا آپ کس بنیاد پر کہ رہی ہیں  میں نے کہا کیونکہ بنیاد یہ ہے کہ جینیاتی طورپر    بیٹی کی اولاد اکثر اپنے نانا  کی شکل پر ہوتی ہے ،


 جو میں نے پڑھا ہے اس کے علاوہ  کوئ اور لاجک ہو تو میں نہیں جانتی ہوں لڑکی نے اپنے سینے سے ایک گہری سرد  آہ کھینچی ،،میں نے پوچھا کیا ہوا تو   کہنے لگی آپ نے  ٹھیک پہچانا   لیکن میرے والد کا مقدّر ان کی ساری وجاہت کے بر عکس بڑا کھوٹا نکلا-لڑکی پھر گویا ہوئ  ،امّی نے  ابّو کو زبردستی باہر یہ کہ کر بھیجا کہ میرا  اس پیسے میں گزارہ نہیں ہوتا ہے ابّو بلکل نہیں جانا چاہتے تھے  اور پھر  ابّو نے بالآخر امّی کے آگے ہا ر مان لی اور باہر چلے گئے ،ابّو کے باہر جانے کے بعد ہمارے ایک عزیز امّی سے کچھ چھوٹی عمر  کے امّی کے پاس آنے لگے اور ابّو کا بھیجا ہوا پیسہ ہمارے گھر میں خوشحالی تو لایا لیکن ساتھ امّی  کی بے راہروی  بھی ساتھ لایا  اور میرے ابّو کی پردیس کی خون پسینے کی کمائ امّی بے دریغ اُن پر اور اپنے بناو سنگھار پر  خرچ کرنے لگیں، ہم بہن بھائیوں کو ان کا آنا بہت ناگوار گزرتا تھا  اور ہم سب بہن بھائ  ان کے آنے پر اپنے اپنے طور پر اپنی خفگی کا اظہار کرتے تھے لیکن امّی نے سختی سے کہ دیا کہ کوئ بچّہ ان کے معاملات میں دخیل ناہو  اور ہم بہن بھائ چپ ہو گئے


اور پھر دو برس تو جیسے پلک جھپکتے میں گزر گئے اور ابّو پاکستان چھٹّیوں پر آ گئے اور  امّی نے ابّو کے آگے طلاق کا مطالبہ رکھ دیا  ابوّ نے پہلے  تو امّی کو سمجھا یا کہ بچّوں کی خاطر گھر برباد نا کریں   ابّو بہت ، بہت روئے لیکن حالات اس نہج پر تھے کہ ابّو کو با لآخر طلاق دیتے بنی  اور پھرطلاق ہوتے ہی   امّی کی تقدیر کی بساط الٹ گئ،وہ شخص جو دو برس سے امّی کا پل پل رات اور دن کا ساتھی تھا  وہ  جو امّی سے کہتا تھا کہ طلاق لے   لو   میں تم سے شادی کروں گا وہ ا مّی کی زندگی کے آسمان  سے دھواں بن کر اس طرح تحلیل ہو گیا کہ جیسے وہ امّی کی زندگی میں آ یا ہی نا ہوگیا   ابّو کے طلاق دینے کے بعد اب امّی ہم سب  کو چھوڑ کر اپنے میکہ  جاچکی  تھیں  ،اور ابّو  پردیس دوبارہ جانے سے انکاری  تھے  کیونکہ پھر ہم تینوں بھائ بہن  اکیلے رہ جاتے  -پھر ابو نے  سب سے پہلے مکان بیچ کر دوسرا مکان  پچھلے گھر سے بلکل دور  دوسرا مکان لیا   اور ہم  بچوں کو سمجھا دیا کہ یہاں ماں کے لئے سوال ہو تو کہ دینا  کہ کافی پہلے انتقال ہو گیا -


پھر نئے گھر میں زندگی بہت اچھی طرح چل پڑی -میں نے نئے گھر میں شفٹ ہو کر  گھر کی دیکھ بھال کے ساتھ 'ساتھ اپنی تعلیم پر توجہ دی 'بھائ   کو ابو نے نگرانی میں  رکھا جس کی وجہ سے وہ بھی بہتر ہوا کچھ برس اسی طرح گزرے اس عرصہ میں، میں انّیس برس کی  مجھ سے چھوٹی بہن  ستّرہ برس کی  اور بھائ پندرہ برس  کا  ہو گیا تھا اور    ابّو نے  پردیس جانے کے بجائے گھر کے قریب ہی مارکیٹ میں  ریسٹورینٹ  کھول لیا اور تاکہ ہم بہن بھائ گھر میں اکیلے نہیں رہیں  ایسے میں میرا ایک اچھّا رشتہ آیا  جسے ابّو نے دیکھ بھال کر میری شادی کر دی   اس سنگین حادثہ کی وجہ سے   میرا انتہائ  نفیس مزاج  معصوم بھائ  نفسیاتی مریض ہو گیا تھا   جس کو میں نے  ابّو کے ساتھ ملکر بہت سمجھداری سے سنبھالا اور پھر   وقت گزرتا رہا بس  رشتے داروں سے ہمیں اتنا پتا چلا کہ امّی کے بھائیوں نے ان کی شادی  کراچی کے بجائے سندھ کے کسی اور شہر میں کر دی ہے،ظاہر سی بات ہے کہ میرے ماموؤں کی اپنی فیمیلیز تھیں اور حقیقت بھی یہ تھی کہ امّی کے کردار کو ان کے میکہ  میں  سب ہی برا کہہ رہے تھے  


next part-2

کاڈ لیور آئل 'کب اور کیوں ضروری ہے

 

   یہ مضمون ان گھریلو خواتین کے لئے ہے جو مچھلی پکانے میں  مشکل کا شکار ہوتی ہیں -انسانی صحت کیلئے جس طرح مچھلی مفید ہے اسی طرح اسکا تیل بھی گوناگوں خوبیوں سے آراستہ ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے حالیہ تحقیق کے بعد بتایا کہ اگر گٹھیا کے مریض مچھلی کا تیل استعمال کریں تو انہیں کافی افاقہ ہوسکتا ہے۔کاڈ لیور آئل کے نام سے مشہور تیل اب تک سانس کی بیماریوں اور تپ دق کے متاثرہ افراد کو صحت مند بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ یہ تازہ خصوصیت جو گٹھیاکے مریضو ں کے فائدے کیلئے سامنے آئی ہے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق امریکہ میں 20فیصد افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ واضح ہو کہ مچھلی کا تیل کیپسول کی شکل میں دستیاب ہوتا ہے تاہم چونکہ یہ تیل مچھلی کے جگر کے حصوں کو استعمال کرکے بنایا جاتا ہے اسلئے عام مچھلی کے مقابلے میں زیادہ مفید اور کارگر ثابت ہوتا ہے۔


 امریکی سائنسدانوں کی یہ رپورٹ اپنی قسم کی پہلی ہے جو 2012ءمیں آنے والی اس رپورٹ سے زیادہ مفصل ہے جس میں گٹھیا کے مختلف علاج کی بات کی گئی تھی  در حقیقت  کاڈ لیور آئل صدیوں سے ہی انسان کی  غذا کا اہم حصہ رہا ہے۔ یہ اپنے بھرپور غذائیت کے پروفائل کے لیے مشہور ہے، خاص طور پر اس میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز، وٹامن اے، اور وٹامن ڈی کی اعلیٰ سطح۔ ا  ہم کوڈ لیور کے تیل کے صحت کے فوائد، اس کے غذائیت کے فوائد، اور اسے کیوں شامل کیا جائے اس کا جائزہ لیں گے۔ آپ کی خوراک میں فائدہ مند ہو سکتا ہے.کوڈ لیور آئل کیا ہے؟-کاڈ لیور آئل مچھلی کے تیل کا ایک قسم کا   سپلیمنٹ  ہے، جو کوڈ فش کے جگر سے نکالا جاتا ہے۔ مچھلی کے دیگر تیلوں کے برعکس، کاڈ لیور آئل خاص طور  پر وٹامن A اور D سے بھرپور ہوتا ہے۔  کاڈ لیور آئل کے غذائی فوائد-اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہے۔اومیگا 3 فیٹی ایسڈ ضروری چربی ہیں جو جسم خود پیدا نہیں کر سکتا۔


 وہ دماغی کام، سوزش میں کمی، اور دل کی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کوڈ لیور آئل EPA اور DHA کا ایک بہترین ذریعہ ہے، جو اومیگا 3s کی سب سے زیادہ فائدہ مند شکلیں ہیں۔وٹامن اے اور ڈی سے بھرپور-کاڈ لیور آئل وٹامن A اور D کے امیر ترین قدرتی ذرائع میں سے ایک ہے۔ وٹامن A صحت مند بصارت، مدافعتی افعال اور جلد کی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، جب کہ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت، مدافعتی افعال، اور موڈ ریگولیشن کے لیے اہم ہے۔اینٹی سوزش کی خصوصیات-کوڈ لیور آئل میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز طاقتور اینٹی  سوزش کے اثرات  کے حامل ہوتے  ہیں  اور اس کا باقاعدہ استعمال جسم میں سوزش کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو کہ گٹھیا اور دیگر سوزش کی بیماریوں جیسے حالات کے لیے فائدہ مند ہے۔کوڈ لیور آئل کے صحت سے متعلق فوائد-دل کی صحت -تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی بیماری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرسکتے ہیں۔ 


کم بلڈ پریشر، ٹرائگلیسرائڈز کو کم کرتا ہے، اور شریانوں کی تختیوں کی تشکیل کو روکتا ہے۔ کوڈ لیور آئل، ان فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہونے کی وجہ سے، قلبی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔دماغی افعال کو بڑھاتا ہے۔ڈی ایچ اے، کوڈ لیور آئل میں بنیادی اومیگا 3 فیٹی ایسڈز میں سے ایک، دماغ کا ایک اہم ساختی جزو ہے۔ کاڈ لیور آئل کا باقاعدگی سے استعمال علمی افعال کو سہارا دے سکتا ہے، یادداشت کو بہتر بنا سکتا ہے، اور یہاں تک کہ نیوروڈیجنریٹیو بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کر سکتا ہے۔مدافعتی نظام کو بڑھاتا ہے۔وٹامن اے اور ڈی صحت مند مدافعتی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ وٹامن اے مدافعتی ردعمل کو منظم کرنے اور انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے،  - خون کے سفید خلیے جو آپ کے مدافعتی دفاع کے اہم حصے ہیں۔ہڈیوں کی صحت کو فروغ دیتا ہے-کوڈ جگر کے تیل میں وٹامن ڈی کیلشیم جذب اور ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ یہ روکنے میں مدد کرتا ہے۔ ہڈیوں کی خرابی جیسےآسٹیوپوروسس اور رکٹس۔ وٹامن ڈی کی مناسب مقدار ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جہاں سورج کی روشنی محدود ہوتی ہے۔کاڈ لیور آئل کیسے حاصل کیا جائے تو جناب آج کے دور  میں ایما زون آ پ کے اس مسلئہ کا حل لے کر حاضر ہے ایمازون پر لاتعداد  کمپنیز کاڈ لیور آئل سیل کر رہی ہیں 

مضمون انٹرنیٹ کی مدد سے لکھا گیا ہے

پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ ، کینیڈا کا ایک صوبہ ہے

  




پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ ، کینیڈا کا ایک صوبہ ہے جو اسی نام کے ایک جزیرے پر مشتمل ہے۔ پورے ملک میں رقبے اور آبادی کے لحاظ سے یہ صوبہ دیگر تمام صوبوں سے چھوٹا ہے۔ اس کے کئی مختلف نام ہیں۔خلیج کی جنت کے نام سے مشہور یہ جزیرہ سینٹ لارنس کی خلیج میں کیپ بریٹن آئی لینڈ کے مغرب، نووا سکوشیا جزیرہ نما کے شمال اور نیو برنزوک کے مشرق میں واقع ہے۔ اس کے جنوبی ساحل نارتھمبر لینڈ سٹریٹ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جزیرے میں دو شہری علاقے ہیں۔ بڑا علاقہ چارلٹ ٹاؤن بندرگاہ کے ارد گرد موجود ہے جو جزیرے کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور یہاں چارلٹ ٹاؤن نامی شہر صوبے کا صدر مقام ہے۔ اس کے کناروں پر کارن وال اور سٹراٹفورڈ کے قصبے ابھر رہے ہیں۔ نسبتاً بہت چھوٹا شہری علاقہ سمر سائیڈ بندرگاہ کے ارد گرد موجود ہے جو چارلٹ ٹاؤن کے شہر سے چالیس کلومیٹر دور ہے۔ یہ دراصل سمر سائیڈ کے شہر ہی پر مشتمل ہے۔ دنیا کی دیگر تمام قدرتی بندرگاہوں کی طرح یہ دونوں بندرگاہیں بھی سمندری عمل کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھیں۔



جزیرہ بہت خوبصورت مناظر رکھتا ہے۔ یہاں اونچی نیچی پہاڑیاں، گھنے جنگل، سرخ و سفید ساحل، سمندر اور سرخ مٹی کی وجہ سے یہ جزیرہ اپنے قدرتی حسن کی بدولت شہرت رکھتا ہے۔ صوبے کی حکومت نے یہاں کے ماحول کو بچانے کے لیے کئی قوانین بنائے ہیں تاہم ان کے پوری طرح نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کی تعمیرات میں موجودہ چند سالوں میں کوئی نظم و ضبط نہیں دکھائی دیتا۔جزیرے کی سر سبز لینڈ سکیپ کا صوبے کی معیشت اور ثقافت پر گہرا اثر ہے۔ آج بھی سیاح ان مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے ادھر جوق در جوق آتے ہیں۔ یہاں پرتعیش سرگرمیوں میں ساحل، بے شمار گولف کے میدان، ایکو ٹورزم اور شہر کے باہر سیر وغیرہ یہاں کے عام مشاغل ہیں۔چھوٹی دیہاتی آبادیوں، قصبوں اور شہروں میں آج بھی سست رفتار زندگی دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ سے یہاں لوگ بکثرت آرام کرنے آتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا ذریعہ معاش چھوٹے پیمانے پرکاشت کاری ہے۔



 یہ چھوٹا پیمانہ کینیڈا کے دیگر صوبوں کے حوالے سے۔ یہاں اب صنعتیں لگ رہی ہیں اور پرانے فارموں کی عمارتیں نئے سرے سے اور جدید طور پر بنائی جا رہی ہیں۔ساحل سمندر پر طویل ساحل، کھاڑیاں، سرخ ریتلی چوٹیاں، کھارے پانی کی دلدلیں اور بہت ساری خلیجیں اور بندرگاہیں ہیں۔ ساحلوں، کھاڑیوں اور چونے کی چٹانیں بھربھری ہیں اور یہاں فولاد کی کثرت ہے جو کھلے ماحول میں فوراً زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے بیسن ہیڈ میں موجود سفید ریت کی خصوصیات صوبے بھر میں بے مثال ہیں۔ جب ان پر چلا جائے تو یہ ایک دوسرے سے رگڑ کھا کر عجیب سی آواز پیدا کرتے ہیں۔ انھیں عرف عام میں گنگناتی ہوئی ریت کہا جاتا ہے۔ شمالی ساحل پر بیرئر جزیرے پر بڑی پہاڑیاں پائی جاتی ہیں۔ گرین وچ میں موجود ریت کی پہاڑیاں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔


 یہ متحرک ریت کا علاقہ بے شمار پرندوں اور نایاب نسل کے پودوں کا مسکن ہے اور یہاں آثار قدیمہ کے حوالے سے بھی کافی کچھ موجود ہے۔فروری کے آغاز تک درجہ حرارت گرتا چلا جاتا ہے۔ دسمبر سے لے کر اپریل تک یہاں اکثر برفانی طوفانوں کے باعث زندگی کئی کئی دنوں تک معطل ہو جاتی ہے۔ بہار کے آغاز میں اطراف میں موجود برف یہاں کے د رجہ حرارت کو کم رکھتی ہے۔ نتیجتاً یہاں بہار کا موسم چند ہفتے کی تاخیر سے شروع ہوتا ہے۔ برف کے پگھلتے ہی یہاں کا درجہ حرارت ایک دم بڑھنے لگ جاتاہے۔ مئی کا درجہ حرارت 25 ڈگری تک ہو سکتا ہے۔29 نومبر 1798 کو فیننگ کی گورنری کے دوران برطانیہ نے کالونی کا نام سینٹ جان آئی لینڈ سے بدل کر پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ اسے دیگر جزیروں جیسا کہ سینٹ جان اور سینٹ جانز کے شہروں سے فرق کیا جا سکے۔ کالونی کا نیا نام برطانوی باشادہ جارج سوم کے چوتھے بیٹے کے نام پر رکھا گیا جو پرنس ایڈورڈ آگسٹ تھے۔ انھیں ڈیوک آف کینٹ بھی کہا جاتا ہے۔

 


صوبائی معیشت میں زراعت کو اہمیت حاصل ہے۔ یہ اہمیت نوآبادیاتی دور سے چلی آ رہی ہے۔ بیسویں صدی کے دوران آلوؤں نے مخلوط کاشت کی جگہ لے لی اور اسے نقد آور فصل کہا جاتا ہے۔ یہ صوبے کی کل زراعت کا ایک تہائی ہے۔ صوبہ اس وقت کینیڈا کے آلوؤں کی کل پیدوار کا ایک تہائی پیدا کرتا ہے جو ایک اعشاریہ تین ارب کلو ہے۔ امریکی ریاست ایڈاہو کل چھ اعشاریہ دو ارب کلو آلو سالانہ پیدا کرتی ہے جس کی آبادی پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ کی آبادی سے ساڑھے نو گنا بڑی ہے۔ صوبہ آلوؤں کے بیج کی پیداوار کا بھی اہم مرکز ہے اور یہ بیس سے زیادہ ممالک کو بیج برآمد بھی کرتا ہے۔

منگل، 23 ستمبر، 2025

حضرت فاطمہ بنت اسد تاریخ کے آئینہ میں

ِ


  مولائے کائنات حضرت  علی علیہ السلام  اور نبئ کریم  صلی اللہ  علیہ   واٰلہ وسلم کے پردادا جنابِ ہاشم کے ایک فرزند جنابِ اسد بن ہاشم بھی تھے۔  حضرت فاطمہ بنت اسد جنابِ ہاشم کے اسی فرزند کی بیٹی تھیں۔ فاطمہ بنتِ اسد کا نکاح اپنے چچا زاد ابوطالب بن عبدالمطلب بن ہاشم سے ہوا۔ گویا بنی ہاشم کی ایک شاخ بنی عبدالمطلب تھی تو دوسری شاخ بنی اسد تھی۔ مولا علی کا ددھیال بنی عبدالمطلب تھا اور ننھیال بنی اسد۔ یوں مولا علی علیہ السلام  نجیب الطرفین ہاشمی تھے۔ اسد بن ہاشم قریش کے معزز سرداروں میں سے تھے۔ حجاج کو کھانا کھلانا بنی ہاشم کی ذمہ داری تھی۔ اسد اس فرض کی ادائیگی میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ایثار اور ہمدردی کا جذبہ بہت زیادہ تھا۔ سخاوت کے حوالے سے پورے عرب میں مشہور تھے۔جناب اسد بن ہاشم عرب کے ان شرفاء میں سے بھی تھے جو دینِ ابراہیمی پر قائم تھے اور بت پرستی سے بیزار تھے۔ آپ کا انتقال رسول اللہ ص کی ولادت سے کچھ عرصہ پہلے ہی ہوگیا تھا۔ بعثتِ نبوی کے بعد سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں بنی اسد پیش پیش تھےآپ سلام اللہ علیہا کوقبر مبارک میں نبئ مکرم نے خود اتارا - آپ کو اپنی قمیض کا کفن دیا  آپ کی قبر مبارک میں لیٹ کر اس کی کشادگی دیکھی سبحان اللہ


حنین بہت فصیح شاعری بھی کرتے تھے۔ اپنے والد کی طرح توحید پر قائم تھے۔حنین کے دو فرزند عبداللہ بن حنین اور عبدالرحمان بن حنین بھی صحابی ہیں اور کتبِ احادیث میں ان سے روایات بھی مروی ہیں۔ جناب اسد کی ایک دوسری بیٹی یعنی فاطمہ بنت اسد س کی ایک بہن، مولا علی ع کی خالہ خلدہ بنتِ اسد تھیں۔ خلدہ رض اور ان کی بیٹی امِ سائب بھی سابقون الاولون میں سے ہیں۔ مادرِ مولا علی ع اس خاندان کی شہزادی تھیں۔ رسولِ خدا ص سے آپ کا رشتہ چچی کا بھی تھا اور پھپھی کا بھی کیونکہ آپ سلام اللہ علیہا جنابِ عبداللہ بن عبدالمطلب کی چچا زاد بہن بھی تھیں۔ فاطمہ بنت اسد ان چھ خواتین میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ص نے ماں کہا ہے۔ ان میں سیدّہ آمنہ سلام اللہ علیہا، جنابِ ام ایمن سلام اللہ علیہا، حلیمہ سعدیہ رض، ثویبہ اور امِ ابیہا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی شامل ہیں۔ ان خواتین میں رسول اللہ ص کا سب سے زیادہ وقت ام ایمن س اور فاطمہ بنت اسد س کی محبت کی چھاؤں میں گزرا۔


فاطمہ بنت اسد ان چھ خواتین میں سے ہیں جنہیں رسول اللہ ص نے ماں کہا ہے۔ ان میں سیدّہ آمنہ سلام اللہ علیہا، جنابِ ام ایمن سلام اللہ علیہا، حلیمہ سعدیہ رض، ثویبہ اور امِ ابیہا جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی شامل ہیں۔ ان خواتین میں رسول اللہ ص کا سب سے زیادہ وقت ام ایمن س اور فاطمہ بنت اسد س کی محبت کی چھاؤں میں گزرا۔ جب جنابِ عبدالمطلب کا انتقال ہوا تو آپ وصیت کرگئے کہ میرے بعد ابوطالب بنی ہاشم کے سردار ہوں گے اور محمد ص کی کفالت کے ذمہ دار بھی۔ یوں آٹھ برس کی عمر میں رسولِ خدا ص ابوطالب کے گھر آگئے اور نکاح ہونے، یعنی پچیس برس کی عمر تک وہیں رہے۔ گویا رسالتماب نے سترہ سال تک فاطمہ بنت اسد س کی مادرانہ شفقت کی چھاؤں میں زندگی بسر کی۔ خدا کے حبیب ص فاطمہ بنت اسد کے ہاتھ کا بنا کھانا کھا کر جوان ہوئے۔ اس وقت تک 
مولا علی ع کی ولادت نہیں ہوئی تھی مگر ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد س کی دیگر اولاد موجود تھی۔ 


مولا علی ع کے تین بڑے بھائیوں اور تین بہنوں کا تذکرہ تاریخ اور رجال کی کتب میں ملتا ہے۔ فاطمہ بنت اسد اپنی اولاد سے زیادہ خیال رسول اللہ ص کا رکھتی تھیں۔ کھانے میں سب سے پہلے اور سب سے بہتر حصہ رسول اللہ ص کے لیے نکال کر رکھتیں۔ سب سے بہتر اور پرسکون بستر اپنے یتیم بھتیجے کو دیتیں۔ ابوطالب یمن، شام اور یثرب کے تجارتی سفر کرکے آتے تو اہل خانہ کے لیے بھی کپڑے لاتے۔  حضرت فاطمہ بنت اسد  سب سے بہتر کپڑا نبی علیہ السلام کے لیے علیحدہ کردیتیں.  جنابِ ابوطالب اور فاطمہ بنت اسد کے درمیان غیر معمولی مثالی محبت تھی۔ عرب میں تعددِ ازدواج عام تھا اور اکثر مرد ایک سے زیادہ شادیاں کرتے تھے لیکن ابوطالب نےحضرت  فاطمہ بنتِ اسد کے سوا کسی سے عقد نہیں کیا۔  جب جنابِ حضرت  عبدالمطلب کا انتقال ہوا تو آپ وصیت کرگئے کہ میرے بعد ابوطالب بنی ہاشم کے سردار ہوں گے اور محمد ص کی کفالت کے ذمہ دار بھی۔ یوں آٹھ برس کی عمر میں رسولِ خدا ص ابوطالب کے گھر آگئے اور نکاح ہونے، یعنی پچیس برس کی عمر تک وہیں رہے۔


 گویا رسالتماب نے سترہ سال تک حضرت  فاطمہ بنت اسد س کی مادرانہ شفقت کی چھاؤں میں زندگی بسر کی۔ خدا کے حبیب ص فاطمہ بنت اسد کے ہاتھ کا بنا کھانا کھا کر جوان ہوئے۔ اس وقت تک مولا علی ع کی ولادت نہیں ہوئی تھی مگر حضرت ابوطالب اورحضرت  فاطمہ بنت اسد س کی دیگر اولاد موجود تھی۔ مولا علی ع کے تین بڑے بھائیوں اور تین بہنوں کا تذکرہ تاریخ اور رجال کی کتب میں ملتا ہے۔حضرت  فاطمہ بنت اسد اپنی اولاد سے زیادہ خیال رسول اللہ ص کا رکھتی تھیں۔ کھانے میں سب سے پہلے اور سب سے بہتر حصہ رسول اللہ ص کے لیے نکال کر رکھتیں۔ سب سے بہتر اور پرسکون بستر اپنے یتیم بھتیجے کو دیتیں۔ حضرت ا بوطالب یمن، شام اور یثرب کے تجارتی سفر کرکے آتے تو اہل خانہ کے لیے بھی کپڑے لاتے اور بی بی فاطمہ بنت اسد سب سے اچھا پیرہن حضرت محمد  مصطفےٰ کے لئے رکھتی تھی -اللہ آپ سلام اللہ علیہا پر تاابد اپنی  ٹھنڈی چھاؤ ں کا سایہ رکھے آمین۔ 

پنجہ صاحب -سکھوں کا مشہور گردوارہ ضلع اٹک کے مقام پر واقع ہے

 


 پنجہ صاحب -سکھوں کا مشہور گردوارہ جو حسن ابدال ضلع اٹک کے مقام پر واقع ہے۔ وہاں ایک پتھر پر گرونانک جی کا پنجہ لگا ہوا ہے۔ یہ پتھر قصبے کے اندر ایک مکان میں محفوظ ہے، جو بالعموم مقفل رہتا ہے اور سکھ زائرین یا دوسرے زائرین کی آمد پر کھولا جاتا ہے۔ اسے 1823ء میں سردار ہری سنگھ نے تعمیر کرایا تھا۔ 1920ء تک یہ ہندو مہنتوں کے قبضے میں رہا۔ سکھوں کی مزاحمت کے بعد دوسرے گردواروں کے ساتھ یہ بھی سکھ پنتھ کے زیر انتظام آگیا۔ 1933ء میں اس عمارت کی تجدید کی گئی۔گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال اٹک گردوارہ پنجہ صاحب سکھوں کا سب سے بڑا گردوارہ ہے۔ اس کا گھیرائو 396 گز ہے۔ اس کے چاروں طرف دو منزلہ کمرے ہیں۔ کئی کمرے زیرزمین بھی ہیں باہر اطراف میں تین طرف دکانیں بنی ہوئی ہیں گردوارے کی ملکیت میں صرف دکانیں ہی نہیں بلکہ حسن ابدال میں کئی مکان‘ راولپنڈی‘ اٹک اور حضرو میں کافی جائداد گردوارے کے نام ہے۔ گردوارہ پنجہ صاحب‘ مہاراجا رنجیت سنگھ کے جرنیل سردار ہری سنگھ نلوہ نے بنوایا تھا۔


یہ وہی ہری سنگھ نلوہ ہے جس کے نام سے ہری پور منسوب ہے۔ پنجہ صاحب کی تعمیر نو کا کام 1920ء میں شروع ہوا جو 1930ء تک وقفے وقفے سے جاری رہا پنجے کی چھتری 1932ء میں تعمیر ہوئی۔ پنجہ کے معنی پنجابی زبان میں ہاتھ کا پنجہ اور صاحب کے معنی عربی میں مالک کے ہوتے ہیں یعنی جناب مالک کا پنجہ‘ تاریخ سکھ میں روایات ہیں کہ مذہب کے بانی بابا گرونانک اور بابا ولی قندھاری میں کافی پنجہ آزمائی ہوتی رہتی تھی اور ایک روز بابا گرونانک علیل ہو گئے۔ بابا گرونانک نے اپنے شاگرد بھائی مردانہ سے کہا کہ وہ بابا ولی قندھاری کے آستانہ سے پانی لے آئے۔ بھائی مردانہ پانی لینے کے لیے بابا ولی قندھاری کے پاس گیا لیکن بابا قندھاری نے پانی دینے سے انکار کر دیا۔ بھائی مردانہ ناکام لوٹا۔ بابا گرونانک نے پھر بھائی مردان کو کہا کہ وہ ولی بابا قندھاری کے آستانہ سے پانی بھر لائے۔ بھائی مردانہ پھر بابا قندھاری کے پاس گیا۔ بابا قندھاری نے پھر جواب دے دیا اور بھائی مردانہ کو کہا کہ اگر بابا گرونانک کو اپنے عقائد پر یقین ہے تو اسے کہو کہ وہ خود پانی نکال لے آپ کو میرے پاس کیوں بار بار بھیج رہا ہے۔  


 بھائی مردانہ نے بابا گرونانک کو بابا قندھاری کی یہ بات سنائی تو بابا گرونانک نے اپنا عصا زمین پر مارا اور زمین سے چشمہ پھوٹ پڑا۔ چشمہ پھوٹنے کے بعد بابا گرونانک نے خوب سیر ہو کر پانی پیا اور بھائی مردانہ کو کہا کہ وہ بابا ولی قندھاری کو بھی بتا دے کہ ہم نے پانی نکال لیا ہے۔ بھائی مردانہ بابا ولی قندھاری کے دربار پر گیا اور آگاہ کیا کہ پانی نکل آیا ہے۔ تاریخ سکھ کی روایات کے مطابق بابا ولی قندھاری نے اس چشمہ کو بند کرنے کے لیے اپنے آستانہ سے پتھر پھینکا جسے گرونانک نے پنجہ سے روکا۔ بابا گرونانک کا پنجہ اس میں نقش ہو گیا پتھر رک گیا اور چشمہ جاری رہا اس چشمہ کے پانی کو سکھ انتہائی مقدس خیال کرتے ہیں۔ بیساکھی کے موقع پر اس چشمہ کے پانی میں غسل کرتے ہیں اور پھر بابا گرونانک کے نقش شدہ پنجہ پر اپنا پنجہ رکھتے ہیں سکھ عقائد و نظریات کے مطابق ایسا کرنے سے ان کے گناہ ختم ہو جاتے ہیں اور وہ پاک صاف ہو جاتے ہیں۔


 پنجہ صاحب کی زیارت سکھوں کے لیے گناہ دھو دیتی ہے۔پنجہ صاحب پر دیا جانے والا لنگر سکھوں کے لیے متبرک تو ہے ہی لیکن وہ اسے صحت کے لیے بھی بڑا مفید قرار دیتے ہیں۔ لنگر میں خالص دیسی گھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے سکھ دیسی گھی کے چڑھاوے چڑھاتے ہیں اس کے علاوہ صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا بھی بڑا خیال رکھا جاتا ہے،ہر سال اپریل کے مہینے میں ’بیساکھی‘ کا میلہ یہاں سجتا ہے اور پوری دنیا سے، خاص طور پر ہندوستان سے ہزاروں کی تعداد میں سکھ یاتری ’پنجا صاحب‘ کی زیارت کرنے یہاں آتے ہیں۔ اس سال بھی بھارت سے تقریباً ساڑھے تین ہزار سکھ یاتری اور دوسرے ممالک سے جن میں یورپ کے ممالک بھی شامل ہیں لگ بھگ پندرہ سو یاتری اس میلے میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ اگر ملک بھر سے آنے والے یاتریوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو اس میلے میں شرکت کرنے والے یاتریوں کی تعداد تقریباً دس سے بارہ ہزار ہو جاتی ہے۔ 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر