بدھ، 12 نومبر، 2025

کراچی کے مضافاتی جزائر کی اہمیت پارٹ1

 



 

  ماہی گیروں کی زبان میں                               درخت کے بڑے تنے کو بھنڈ کہا جاتا ہے جس کی مناسبت سے، اس جزیرے کا نام بھنڈار پڑا۔حیرت اس پر ہوتی ہے کہ نمکین پانی کے درمیان واقع اس جزیرے پر میٹھے پانی میں پیدا ہونے والے درخت موجود ہیں جس میں دیوی اور بھو سمیت کئی اقسام کے درخت اور پودے ہیں۔مچھیروں کا کہنا تھا کہ یہ جزیرہ ایک ڈیلٹا ہے جو دریائے سندھ کے میٹھے پانی سے وجود میں آیا جس کی وجہ سے یہاں میٹھے پانی میں اگنے والے درخت اور میٹھے پانی کی ریت پائی جاتی ہے۔کراچی کی ترقی میں ماہی گیر کہاں ہے؟ روشنیوں کا شہر بننے سے ماہی گیروں کو کچھ نہیں ملا ،جزائر پر جدیدشہربننے سے بھی کچھ نہیں ملے گا،چیئرمین پاکستان فشر فوک فورم -جزیرے پر بہت بڑی سرما یہ کاری  کے بعد ماہی گیروں کو جزیرے کے قریب بھی نہیں جانے دیاجائے گا،،جس کے نتیجے میں لاکھوں ماہی گیروں کا روزگار ختم ہوجائے گا،ناخدا طارق کچھی  مچھلیاں پکڑ کر اپنا اور بچوں کا پیٹ پالتے ہیں،جزیرہ  کو جدید زہر بن جانے سےماہی گیروں کومچھلیاں پکڑنے کی اجازت نہیں ہوگی ، ہم چاہتے ہیں ہمارے بچوں کو بھی تعلیم اور روزگار ملے، حکومت روزگار دے توکوئی اعتراض نہیں ،ماہی گیر عبداللہ   نے بتایا کہ مینگروز کے جنگلات میں ایک لاکھ سے زائد درخت تھے ،  ناجانے کیوں 30 ہزار سے زائد کاٹ دیئے گئے ،


ان جنگلات کے نیچے جھینگے اور مچھلیوں کی افزائش ہوتی ہے،درخت کٹنے سے مچھلیاں چلی جائینگی ، انچارج کوسٹل میڈیا سینٹر-دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں عوام کو اپنی حکومت پر اعتماد ہوتا ہے اور یہ اعتماد ماضی کے تجربات کی بنیاد پر قائم رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب ان کی حکومتیں عوام کی فلاح وبہبود کا دعویٰ کرکے کوئی فیصلہ کرتی ہیں تو عوام کی بھرپور تائید ملتی ہے مگر افسوس کہ پاکستان ایسا ملک ہے جس کے عوام کو عموماً حکمرانوں کی جانب سے دھوکہ ہی کا سامنا کرنا پڑایہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت حکومتی فیصلوں پر تحفظات کا شکار ہوجاتی ہے۔گزشتہ دنوں وفاقی حکومت نے پاکستان آئی لینڈ ڈ ویلپمنٹ اتھارٹی 2020ء جاری کیا ۔اس صدارتی آرڈینیس کے ذریعے سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی پر قائم جزائر کو وفاق کے زیرانتظام لیاگیا ۔وفاقی حکومت کا منصوبہ ہے کہ کچھ جزائر کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر سیاحتی مقام میں تبدیل کیاجائے جس سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی جبکہ لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا تاہم سندھ حکومت کو خدشہ ہے کہ وفاق اس طرح سندھ کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جبکہ مقامی ماہی گیرماضی کے تجربات کی بنیاد پر وفاق کی حمایت کرنے سے گریزاں ہیں۔


بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کی تاریخ کے محقق گل حسن کلمتی نے اپنی کتاب ’سندھ کے سمندری جزائر‘ میں کراچی کے لاپتہ ہونے والے سمندری جزائر، زمین پر قبضوں، ماہی گیروں کے وسائل محدود ہونے اور سہولیات کے فقدان پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔کراچی کی سمندری حدود میں صرف 9 ایسے جزائر ہیں جو آباد ہیں۔دنیا اخبار کی ۔ابراہیم حیدر ی ،مبارک ولیج ،ریڑھی گوٹھ سمیت متعدد علاقوں پر مشتمل شہر قائد کی ساحلی پٹی تقریباً129کلومیٹر طویل ہے۔لاکھوں افراد ماہی گیری سے وابستہ ہیں۔ ہماری ٹیم ابراہیم حیدری سے بذریعہ کشتی ایک گھنٹے کا سفر کرکے بھنڈار جزیرے پہنچی ۔ دوران سفر سمندر کے اطراف حسین نظارے ،دور تک پھیلے مینگروز کے جنگلات ،رنگ برنگے جھنڈوں سے اپنی انفرادیت جتانے والے جہاز اور چھوٹی چھوٹی کشتیاں دلفریب لگ رہی تھیں، مچھیروں کے بچے تک تھرموپول کی چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سمندر کے کافی اندر کشتی چلارہے تھے۔ ماہی گیروں کو خدشہ ہے کہ ان کے جزائر پر اگر جدید شہر آباد ہوگئے تو ان کا روزگار ان سے چھن جائے گا تاہم محسوس ہوا کہ نوجوان ماہی گیروں کے خیالات مختلف ہیں ،اگرحکومت سیاحتی مراکز قائم کرکے ہمیں روزگار دیتی ہے تو ہمیں خوشی ہوگی۔


شہر  کراچی سے صرف   8کلومیٹر دور بھنڈار جزیرہ  نہایت دلکش مناظر سے معمور ہے تھا جو آنکھوں   میں چکا چوند کیے دیتا  ہے۔نیلے سمندر کے درمیان 12000ایکٹر پر موجود بھنڈار جزیرے پر قدرتی نباتات اور چمکیلی ریت نہایت خوبصورت   نظر آتی ہے۔کوسٹل میڈیا سینٹر کے انچارج کمال شاہ نے بتایا کہ ہمارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پہلے دریائے سندھ کا میٹھا پانی آتا تھا جس کی وجہ سے یہاں ہریالی ہے اور ریت چکنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس جزیرے پر جنگلی کتے،بھیڑیے ،سانپ اور نیولے بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ماہی گیر شکار کیلئے یہاں آتے ہیں تو چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں قیام کرتے ہیں۔ہم نے بھی ایک ماہی گیر کی جھونپڑی میں کچھ دیر گزاری جبکہ جزیرے پر دور دراز تک سفر کیلئے اونٹ کا سفر کیاجاتا ہے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین  یقین دلایا کہ وزیراعظم کراچی کے 2جزائر پر نئے شہر آباد کرنا چاہتے ہیں ، بھنڈار جزیرہ سندھ کا ہی حصہ رہے گانئے شہر آباد ہونے سے ڈیڑھ لاکھ نوکریاں پیدا ہوں گے۔ سالانہ 50لاکھ تک سیا ح  آ ئیں گے جس سے سندھ کو ہی ریونیو ملے گا۔                   مجھے یاد ہے کہ   وزیر اعظم شوکت عزیز  نے  جب بھنڈار اور ڈنگی کو دبئی کی ایک نجی تعمیراتی کمپنی عمار کو بیچنے کی منظوری دی تھی'۔ لیکن ماہی گیر ان سہانے خوابوں پر یقین کرنے تیار نہیں ہیں


تحریر انٹر نیٹ  سے  تلخیص کی ہے

پیر، 10 نومبر، 2025

نیویارک کے نو منتخب مئر ظہران ممدانی کی شریک حیا ت-راما دواجی

 

 خوش لباسی میں ملبوس مسکراتا چہرہ بلا کی زہین بڑی بڑی آنکھیں  سرو قد متناسب سراپا -یہ ہیں نیویارک کے  نو منتخب مئر ظہران ممدانی  کی شریک حیا ت -میری حیاتی :یعنی میری زندگی  کا ٹائٹل ظہران ممدانی نے ایک عوامی اجتماع میں اپنی اہلیہ راما دواجی کو دیتے ہوئے کہا اس لمحے اور ہر لمحے میرے ساتھ رہنے کے لیے ان سے بہتر کوئی نہیں"امریکہ میں پہلے منتخب مسلمان گورنر اور انکی شریک حیات فرسٹ لیڈی آف نیویارک -نیویارک کی نئی خاتون اول نو منتخب میئر ظہران ممدانی کی اہلیہ راما دواجی اگرچہ انتخابی مہم کے دوران منظرِ عام سے دور رہیں لیکن ممدانی کی مہم کی شناخت واضح کرنے اور سوشل میڈیا پر موجودگی کو مضبوط بنانے میں اُن کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ انہوں نے اپنے شریک حیات کے لئے خود بہترین رنگوں کے امتزاج سے پمفلٹ اور پوسٹرز تیار کئے ۔در حقیقت  راما دواجی شامی نژاد امریکی آرٹسٹ ہیں، ٹیکساس  میں ان کا بچپن گزرا  دبئی میں تعلیم حاصل کی اور صرف 4 برس قبل نیویارک منتقل ہوئیں۔اس غیر روایتی پس منظر کے باوجود وہ اب نیویارک سٹی کی تاریخ کی کم عمر ترین فرسٹ لیڈی بن گئی ہیں۔اگرچہ ممدانی کی انتخابی مہم کے دوران راما دواجی عوامی تقریبات، مباحثوں اور انتخابی جلسوں سے دور رہیں


 لیکن مہم کی شناخت بنانے، انتخابی پوسٹرز، لوگوز اور مہم میں استعمال کیے جانے والے زرد، نارنجی اور نیلے رنگ کے امتزاج کی ڈیزائننگ انہوں نے ہی کی۔انہوں جہاں بہتر سمجھا وہ اپنے شوہر ظہران ممدانی کے ساتھ  شانہ بشانہ نظر آئیں ، چونکہ راما ایک آرٹسٹ ہیں اسی لیے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس زیادہ تر ان کے فن کے لیے مختص ہیں  -راما دواجی نے  فلسطینی حقوق کے لیے تخلیقی کام بھی کئے ہیں۔وہ انٹرویوز سے بھی گریز کرتی رہی ہیں اور کافی حد تک گوشہ نشینی میں کام کرنا پسند کرتی ہیں ۔ ظہران ممدانی نے   اپنی اہلیہ سے متعلق بڑھتی دلچسپی پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ راما صرف میری اہلیہ نہیں، وہ ایک باکمال آرٹسٹ ہیں جو چاہتی ہیں کہ انہیں اپنی شناخت اپنے انداز میں قائم کرنے دی جائے۔ممدانی کے دوستوں اور حلقوں میں راما دواجی کو غیر معمولی اور متاثر کن شخصیت قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک دوست نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں راما دواجی کو عصرِ حاضر کی لیڈی ڈیانا تک کہا۔فتح کے بعد اپنے خطاب میں ظہران ممدانی نے اپنی اہلیہ کا ذکر بڑے فخر سے کرتے ہوئے کہاکہ "۔انتخابی جیت کے بعد سب کی نظریں ان کی اہلیہ راما دواجی پر مرکوز ہو گئیں ۔


 وہ ایک امریکی شامی نژاد فنکارہ ہیں جنہوں نے دبئی میں پرورش پائی اور خاموشی کے ساتھ اپنی الگ فنّی پہچان قائم کی۔-دمشق سے دبئی تک، دبئی سے نیویارک تک"ایربیئن بزنس" میگزین کے مطابق راما دواجی امریکی شہر ہیوسٹن میں ایک شامی مسلمان خاندان کے ہاں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین کا تعلق دمشق سے تھا۔ وہ نو سال کی عمر میں دبئی منتقل ہوئیں جہاں ان کا بچپن خلیجی ممالک میں گزرا۔ یہی دوہرا ثقافتی پس منظر ان کے فن کا محور بنا، جو شناخت اور وابستگی جیسے موضوعات کو نرمی مگر گہرے سیاسی پیغام کے ساتھ اجاگر کرتا ہے۔راما نے قطر میں قائم ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے کیمپس سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ بعدازاں امریکہ کے شہر رچمنڈ میں اسی یونیورسٹی سے سنہ2019ء میں امتیازی نمبروں کے ساتھ گریجویشن مکمل کی۔ انہوں نے نیویارک کے اسکول آف ویژوئل آرٹس سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ آج وہ بروکلین میں مقیم ہیں اور مصوری، فخار سازی اور ایڈیٹوریل ڈیزائن سمیت مختلف فنون میں کام کر رہی ہیں۔-فلسطین سے جڑا فنراما کے فن پارے اکثر سماجی اور سیاسی موضوعات کے گرد گھومتے ہیں۔ ان کی ایک مشہور پینٹنگ میں تین افراد کے اوپر عربی عبارت "لن نغادر" (ہم نہیں جائیں گے) درج ہے، جو القدس کے شیخ جراح محلے کے فلسطینی خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار ہے۔



 ایک اور فن پارے میں انہوں نے غزہ میں بھوک کے بحران کو اجاگر کرتے ہوئے عوام کو "غزہ کے ساتھ جڑے رہنے" کی اپیل کیاگرچہ ان کے انسٹاگرام پر ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں مگر ان کا مواد ذاتی یا سیاسی تشہیر کے بجائے فن اور سماجی شعور پر مرکوز رہتا ہے۔-محبت کی کہانی-ر راما اور ظہران ممدانی کی ملاقات سنہ2021ء میں ڈیٹنگ ایپ "ہِنج" پر ہوئی۔ مشترکہ اقدار اور تخلیقی توانائی نے جلد ہی دونوں کو قریب کر دیا۔ ان کی منگنی دبئی میں اہلِ خانہ کی موجودگی میں ہوئی جبکہ نکاح نیویارک میں سنہ2025ء کے آغاز میں ہوا، جس کے بعد یوگنڈا میں ممدانی کے آبائی وطن میں ایک خاندانی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اگرچہ ظہران ممدانی کا سیاسی سفر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ راما نے میڈیا کی چمک دمک سے دور رہنے کو ترجیح دی۔ وہ انتخابی مہم میں شاذ و نادر ہی نظر آئیں، مگر ان کے تخلیقی ہاتھوں نے مہم کی بصری شناخت اور ڈیجیٹل موجودگی میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ صرف اہم عوامی مواقع پر شریک ہوئیں، جن میں ممدانی کی انتخابی فتح کی رات بھی شامل ہے۔راما دواجی آج نہ صرف زهران ممدانی کی شریکِ حیات ہیں بلکہ ایک مضبوط، باشعور اور فنکارانہ روح کی نمائندہ ہیں

خاموش اطاعت گزاری اور وفا شعاری لڑکی کے زیور ہوتے ہیں ناول

 



 اب منجھلی آپا اپنی  سسرال جا چکی تھیں - فریال بجو کا بی ایس سی کا رزلٹ آ چکا تھا فریال بجو یونیورسٹی جانے کے لئے پر تول رہی تھیں -لیکن میرے دماغ میں منجھلی آپا کی تلخ ازدواجی زندگی کا جو خوف بیٹھ چکا تھا میں اس سے باہر نہیں آ رہی تھی انہی  دنوں ایک روز جب ابا ابھی کورٹ سے واپس نہیں آئے تھے میں اماں کےپیر دبانے ان کے پاس پہنچ گئ اور میں نےاماں سے کہا کیا کوئ لڑکی شادی کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتی ہے امّا ں نے کہا میرے پاؤں چھوڑو تاکہ میں اٹھ کر بیٹھ سکوں میں نے ان کے پاؤں چھوڑ دیے اور وہ اٹھ کر بیٹھ گئیں،اور انہو ں نے مجھ سے کہا ،دیکھو بیٹی بیٹیاں تو انبیاء اور رسولوں نے نہیں بٹھائیں ہم تم تو بہت ہی کمزور مخلوق ہیں  ،خدائ اصولوں سے انحراف اچھی بات نہیں ہوتی ہے ،آئندہ دماغ کو شیطانی وسوسو ں سے بچانا ,پھر ا مّاں نے مجھ سے کہا ،میری بات کو گرہ میں باندھ لو 'خاموش اطاعت گزاری اور وفا شعاری لڑکی کے زیور ہوتے ہیں  اور اسی زیور کے بدلے میں وہ کچھ برس  بعد  شوہر کے گھر کی مالک بن جاتی ہے


جو لڑکیاں سسرا ل جاتے ہی اپنی حکومت قائم کرنا چاہتی ہیں وہ زیادہ مسئلوں کا شکار ہوتی   ہیں اور یہ بھی یاد رکھو جو لڑکیاں لڑکو ں کی ماؤں  کے ساتھ ان کو انکے حق سے محروم کرتی ہیں اس کے نتیجے میں وہ اپنے شو ہروں کے دل سے اتر جاتی ہیں میں نے امّا ں سے کہا امّاں گستا خی معاف کیجئے گا منجھلی آپا کے ساتھ تو ہر گز ایسا نہیں  تھا ان کی ساس کتنی کٹھور دل ہیں منجھلی آپا کی طبیعت کتنی خراب ہو ان سے کام ضرور کرواتی ہیں ،کھانا پینا سب واجبی ہے اور دیکھئے منجھلی آپا بتا رہی تھیں کہ سب کے لئے دسترخوان لگا کر جب وہ کھانے بیٹھتی ہیں تو ان کی ساس دستر خوان جلدی جلدی سمیٹ دیتی ہیں تاکہ منجھلی آپا  کھانا نہیں کھا سکیں  اور ان کو کپڑے بنانے کی بھی اجازت نہیں  ہے اور رفاقت بھائ بھی اپنی اماں کے ہی فیور میں بولتے ہیں   'تو امّاں نے مجھ سے کہا ہر لڑکی کو گھر بنانے کی خا طر کسی بھی عنوان سے              قربانی دینی لازمی ہوتی ہےمنجھلی ابھی اسی دور سے گزر رہی ہے وقت کے ساتھ سب کچھ بدلتا ہے ایک دم نہیں بدل جاتا ہے



ان باتوں کے علاوہ بھی بہت سے مسئلے ایسے ہوتے ہیں جن کو لڑکیاں اپنی فہم و فراست سے حل کر سکتی ہیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ ان کو آسان راستہ یہ نظر آتا ہے کہ وہ میکے آ کر شکائتوں کے پلندے کھول کر بیٹھ جائیں اور اپنے آپ کو مظلوم  ثابت کر یں اس کا نتیجہ زیادہ تر گھر کی بربادی ہی نکلتاہے ،میں تم سے امّید رکھتی ہوں کہ تم شادی کے بعد ایک زمّہ دار لڑکی ثابت ہوگی  میں نے کہا امّاں  سے کہا میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں آپکی بہت اچھی بیٹی ثابت ہو کر دکھاؤں گی ،پھر ابا کورٹ سے واپس آ گئے اور میں نرگس آپی کے ساتھ دستر خوان لگانے کچن میں آ گئ-نرگس آپی نے مجھ سے پوچھا تم اتنی اداس کیوں ہو؟میں نے انہیں جواب دیا  مجھے منجھلی آپا کی فکر ہو رہی ہے 


نرگس آپی کہنے لگیں پریشان تو ہم سب ہیں لیکن کر کیا سکتے ہیں سوائے دعا کرنے کےان کا تو گھر بھی اتنی دور ہے کہ جا بھی نہیں سکتے ہیں گھر قریب ہوتا تو کوئ بہانہ کر کے ہو آتے -میری دوست  اپنی بڑی بہن کے گھر جاتی ہے اور بیگ میں  چھپا کرکچھ نا کچھ لے جا کر بہن کو دے آتی ہے پچھلے ہفتے اس نے بیگ میں خشک میوہ جاکر دیا تھا پھر فریال بھی کچن میں آ گئ اور اس نے کہا کھانا جلدی لگا لو ابا کے سر میں درد ہو رہا ہے وہ کہہ رہے ہیں کھانے کے بعد  دوا لے کر سو جائیں گے

ہفتہ، 8 نومبر، 2025

فرزند نبی (ص) امام چہارم علی زین العابدین علیہ السلام

 

                                      خاندان  بنو ہاشم میں  آپ کی ولادت باسعادت    کی بہت خوشی منائ گئ   بعد ازولادت آپ کو پاکیزہ پارچوں میں لپیٹ کر مولا حسین کی آغوش مبارک  میں دیا گیا مولا حسین آپ کو  مسجد نبوی میں لے کر آئے اور محراب عبادت میں دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی  اور اللہ تعالیٰ سے گویا ہوئے یا رب العزت یہ تیری اما نت ہے تجھے واپس کرنے آیا ہوں  اور سید سجاد کو محراب عبادت میں چھوڑ کر خود واپس آ گئے - مولائے کائنات  نے فرزندکو خالی ہاتھ آتا دیکھا تو پوچھا نومولو  د  کہاں ہے؟ مولا حسین نے  بتایا کہ محراب عبادت میں چھوڑ  آیا ہوں   پس راوی  کہتا ہے مولائے کائنات  فوراً مسجد نبوی میں تشریف لائے اور سید سجاد کو اپنے بازوؤں لے کر  بیت الشرف لے آئے  شیخ  مفیدسے روایت کے مطابق حضرت امام علی ابن ابیطالب  نے اپنے دور خلافت میں حریث بن جابر حنفی کو مشرق زمین میں ایک علاقے کا حاکم قرار دیا اور اس نے اپنے دور حکومت میں ایران کے شہنشاہ یزد گردسوم کی دو بیٹیوں کو حضرت  علی علیہ السلام کے پاس بھیج دیا


 امام علی نے ایک بیٹی شھربانوکو امام حسین کے نکاح میں دیا جن سے امام سجادپیدا ہوے اور دوسری کو محمد بن ابی بکر کے نکاح میں دیا جس سے قاسم بن محمد پیدا ہوئے اور اس اعتبار سے امام سجاد  اور قاسم بن محمد بن ابی بکر آپس میں خالہ زاد بھائی تھے ـ -امام سجاد علیہ السلام کے القاب     آپ کے القاب اچھائیوں کی حکایت کرتے ہیں، آپ اچھے صفات ، مکارم اخلاق،عظیم طاعت اور اللہ کی عبادت جیسے اچھے اوصاف سے متصف تھے،    زین العابدین کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کو اس لقب سے نوازا گیا ، آپ اس لقب سے معروف ہوئے اور اتنے مشہور ہوئے کہ یہ آپ کا اسم مبارک ہو گیا ،آپ کے علاوہ یہ لقب کسی اور کا نہیں تھا اور حق بات یہ ہے کہ آپ ہرعابد کے لئے زینت اور  اللہ کے مطیع کے لئے مایۂ فخر تھے۔ سید العابدین :آ پ کے مشہور و معروف القاب میں سے ایک "سید العابدین " ہے ، چونکہ آپ  اطاعت کے مظہر تھے ، آپ کے جد امیرالمومنین کے علاوہ کسی نے بھی آپ کے مثل عبادت نہیں کی ہے - ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : "میرے پدر بزرگوار کے اعضاء سجدہ پر ابھرے ہوئے نشانات تھے ، جو ایک سال میں دو مرتبہ کا ٹے جاتے تھے اور ہر مرتبہ میں پانچ گٹّے کاٹے جاتے تھے، اسی لئے آپ کو ذواالثفنات کے لقب سے یاد کیا گیا " 


- سجادآپ کے القاب شریفہ میں سے ایک مشہور لقب "سجاد " ہے یہ لقب آپ کو بہت زیادہ سجدہ کرنے کی وجہ سے دیا گیا ، آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سجدے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کے بہت زیادہ سجدوں کو یوں بیان فرمایا ہے :بیشک علی بن الحسین جب بھی خود پر خدا کی کسی نعمت کا تذکرہ فرماتے تو سجدہ کرتے تھے، آپ قرآن کریم کی ہر سجدہ والی آیت کی تلاوت کرنے کے بعد سجدہ کرتے ، جب بھی خداوند عالم آپ سے کسی ایسی برائی کو دور کرتا تھا جس سے آپ خوفزدہ ہوتے تھے تو سجدہ کرتے ،آپ ہر واجب نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کرتے اور آپ کے تمام اعضاء سجود پر سجدوں کے نشانات مو جود تھے لہٰذا آپ کو اس لقب سے یاد کیا گیا "زکی -آپ کو زکی کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کیونکہ آپ کو خداوند عالم نے ہر رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے جس طرح آپ کے آباء و اجداد جن کواللہ نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا اور ایساپاک و پاکیزہ رکھا جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔آپ       کے القاب میں سے ایک معروف لقب "امین " - ابن الخیرتین کے مشہور القاب میں سے ایک لقب "الخیرتین " ہے، آپ کی اس لقب کے ذریعہ عزت کی جاتی تھی آپ فرماتے ہیں : "انا ابن الخیرتین " ،اس جملہ کے ذریعہ آپ اپنے جد رسول اسلام ۖ کے اس قول کی طرف اشارہ فرماتے : "اللّٰہ تعالیٰ من عبادہ خیرتان،فخیرتہ من العربھاشم،ومن العجم فارس " ۔


امام علی زین العابدین             علیہ السلام                             کی کنیت :ابو محمد ،ابوالحسن ، اور ایک قول کے مطابق ابو القاسم ہیں  ، شایان ذکر ہے کہ امام حسین                             علیہ السلام      کی نسل امام زین العابدین                            علیہ السلام سے آگے بڑھی ہے اور حسینی سادات کا سلسلہ نسب امام علی زین العابدین                     علیہ السلام سے شروع ہوتا ہے ـ-امام زین العابدین  امیرالمومنین علی ابن ابیطالب                            علیہ السلام      منصف ترین اور شایستہ ترین اسلامی حاکم تھے اور امام حسن مجتبی کے مختصر دور خلافت کہ جس میں امیر المومنین علی                                    علیہ السلام              کے مانند اسلامی حکومت کو چھوڑ کر باقی تمام حاکموں کی طرف سے مصائب اور شداید سے دوچار رہے ، خاص کر یزید بن معاویہ کی طرف سے انتہا ئ  مظالم جھیلے ـ یزید بن معاویہ نے اپنے دور حکومت میں امام حسین                                 علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو کربلا میں شھید کیا اور حضرت کے پسماندگان از جملہ امام زین العابدین کواسیر کیا  اور ابدی لعنت میں گرفتار ہوا                   ـامام زین العابدین  شھادت امام حسین  کے بعد منصب امامت پر فائز ہوے اور 35 سال اس فریضہ الہی کو انجام دیتے رہے اور آخر کار محرم سن 95 ھ کو ولید بن عبد الملک کے ذریعے زہر سے  شھید ہوے اور جنت البقیع میں امام حسن مجتبی  کے جوار میں دفن ہیں ـ

انٹر نیٹ سے استفا دے کے ساتھ مضمون لکھا گیا

جمعہ، 7 نومبر، 2025

استاد قمر جلالوی 'شہرہء آفاق شاعر

 دو شاعری کی دنیا کا کون سا فرد ہو گا جو اس نام سے ناواقف ہو گا  اور حیران کن بات یہ ہے کہ شہرہء آفاق شا  عر قمر جلالوی نے کسی  اسکول یا کالج میں تعلیم حاصل نہیں کی تھی بس ان کی تعلیم فا رسی اور اردو میں  گھر کی حد تک محدود رہی تھی ۔لیکن  انہوں نے دنیا کا مطالعہ کیا تھا، سماج کی ٹھوکریں کھائی تھیں اور اس سے ہی سبق حاصل کیا تھا۔ پھر اسی سبق کو انہوں نے اپنی شاعری میں دہرایا۔ اس لیے ان کی شاعری اکتسابی اور    فطری  ہے۔ انہوں نے جو کچھ کہا ہے دل سے کہا ہے حالانکہ اس کا مقصد نام و نمود نہیں تھا۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے کلام کی اشاعت کی جانب کوئی توجہ نہیں کی۔قمر جلالوی کی پیدائش 1887ء میں علی گڑھ کے قریب ایک تہذیبی قصبہ جلالی میں ہوئی تھی اور انہوں نے آٹھ سال کی عمر سے ہی اشعار موزوں کرنے شروع کردیے تھے۔ ان کی آواز میں غضب کا درد اور کرب تھا، اور ترنم بھی اچھا تھا جس کی وجہ سے سامعین ان کے کلام سے متاثر ہو تے تھے۔

   

برصغیر کے مشہور زمانہ شاعر قمر جلالوی نے  صرف آٹھ برس کی عمر سے شاعری شروع کی اور 24سا ل کی عمر میں ہی انہوں نے بہت سے نوخیز شعرا کو اصلاح دینی شروع کر دی تھی۔ تقسیمِ ملک کے بعد وہ پاکستان چلے گئے لیکن وہاں بھی ان کے معاشی حالات ویسے ہی رہے البتہ جب علامہ رشید ترابی کو معلوم ہوا  کہ قمر جلالوی جیسا باکمال شاعر بے روزگار ہے تو انہوں نے ان کو بلا کر اپنے پاس رکھا اور پاکستانی حکومت سے ان کا وظیفہ مقرر کروایا۔اپنی قادر الکلامی کے سبب وہ 30 برس کی عمر میں ہی استاد قمر جلالوی کہے جانے لگے تھے۔ یہاں تک کہ یہ لفظ ان کے نام کا جزو بن گیا۔ انہوں نے بہت سے شعرا کے کلام پر اصلاح دی لیکن اپنے کلام کی اشاعت سے بے نیاز رہے۔ وہ بہت خوددار طبیعت کے مالک تھے اس لیے کبھی انہو ں نے کسی کے سامنے دامنِ طلب دراز نہیں کیا اور شاید یہی وجہ رہی کہ ان کی زندگی میں ان کے مجموعہٴ کلام کی اشاعت تک نہیں ہو سکی۔   ان کا کلام ’رشک قمر‘، ’اوجِ قمر‘ اور ’تجلیاتِ قمر‘ کے عنوان سے ان کی وفات  کے بعد ان کی صاحبزادی کنیز جلالوی نے  شائع  کروایا ۔


  استاد قمر جلالوی کو مرثیہ نگاری میں بھی کمال حاصل تھا انہوں نے خاصی تعداد میں نوحے اور مراثی لکھے ہیں۔ جنہیں ”غم جاوداں“ کے عنوان سے ان کی صاحبزادی نے  شائع کیا۔قمرجلالوی کو زبان پر بلا کی دسترس حاصل تھی۔ ان کے اشعار سہل ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے اور سامع کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ اسی سادگی کی وجہ سے قمر کے کلام کو ایسی زبردست مقبولیت حاصل ہوئی کہ ہندو پاک کا شاید ہی کوئی ا یسا نامور گلوکار اور گلوکارہ ہو جس نے ان کے کلام کو اپنی آواز نہ دی ہو۔ بلکہ ان کی کچھ غزلوں کو پاکستان کے کئی گلو کاروں اور قوالوں نے صدا بند کیا ہے۔ ۔قیام پاکستان کے بعد استاد قمر جلالوی نے کراچی میں رہائش اختیار کی اور بہت جلد ہر مشاعرے کا جزولازمی بن گئے۔ وہ اپنے مخصوص ترنم اور سلاست کلام کی وجہ سے ہر مشاعرہ لوٹ لیا کرتے تھے۔ 


جہاں ان کے کلام میں دہلی اور لکھنو‘ دونوں مکاتب شاعری کی چاشنی‘ شوخی اور لطافت نظر آتی تھی۔ وہیں  وہ عاشقانہ غزلیات  سے ہٹ کر انتہائ پائے کے مرثیے‘ سلام‘ منقبت اور رباعیات بھی کہتے تھے اور  یہاں بھی  کربلا کے درد میں ڈوبی ہوئ شاعری  ان کے قلم کی زینت بن جاتی تھی -ان کے عارفانہ کلام  میں  کربلا کا درد رچ جاتا تھا ۔ ان کا عارفانہ کلام بھی عقیدت جاوداں کے نام سے ان کی صاحبزادی نے ہی شائع کروایا ہے وہ جب تک حیات رہے کراچی کے مشاعروں  میں اپنے ترنم سے مشاعروں کی زینت رہے 

ان کی مشہور زمانہ غزل پیش خدمت ہے

مریضِ محبت انھی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے
مگر ذکر شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحَر بجھ گیا جلتے جلتے
انھیں خط میں لکھا تھا دل مضطرب ہے جواب ان کا آیا "محبت نہ کرتے
تمھیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا؟ بہل جائے گا دل بہلتے بہلتے 
مجھے اپنے دل کی تو پروا نہیں ہے مگر ڈر رہا ہوں کہ بچپن کی ضد ہے
کہیں پائے نازک میں موچ آ نہ جائے دلِ سخت جاں کو مسلتے مسلتے
بھلا کوئی وعدہ خلافی کی حد ہے، حساب اپنے دل میں لگا کر تو سوچو
قیامت کا دن آ گیا رفتہ رفتہ، ملاقات کا دن بدلتے بدلتے
ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسّم میں پھر آ گئے ہم
ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے
بس اب صبر کر رہروِ راہِ الفت کہ تیرے مقدر میں منزل نہیں ہے
اِدھر سامنے سر پہ شام آ رہی ہے اُدھر تھک گئے پاؤں بھی چلتے چلتے
وہ مہمان میرے ہوئے بھی تو کب تک، ہوئی شمع گُل اور نہ ڈوبے ستارے
قمرؔ اس قدر ان کو جلدی تھی گھر کی کہ گھر چل دیے چاندنی ڈھلتے ڈھلتے 

استاد قمر جلالوی‘ کراچی میں علی باغ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر کندہ ہے:
ابھی باقی ہیں پتوں پر جلے تنکوں کی تحریریں
یہ وہ تاریخ ہے‘ بجلی گری تھی جب گلستاں پر
 تاریخ  وفات'
Oct 24,1968

نیویارک کی مئر شپ ظہران کوا مہ ممدانی اہلاً و سھلاً مرحبا

 

  امریکا میں تاریخ رقم ہوگئی ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم اور بائیں بازو کے میئر منتخب ہوگئے ، نیویارک ، نیو جرسی اور ورجینیا میں ٹرمپ کے حامی امیدواروں کو شکست کا سامنا ،ظہران ممدانی کے سر پر نیویارک کی میئر شپ کا تاج سج گیا ، 34سالہ ممدانی گزشتہ ایک صدی کے کم عمر اور پہلے ایشیائی میئر بن گئے ،ممدانی کو 50.4 فیصد ، ان کے حریف سابق گورنر اینڈریو کومو کو 41.6 فیصد ووٹ ملے ، ٹرمپ کی حمایت بھی کوموکے کام نہ آئی جبکہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کرٹس سلیوا کو تقریباً 8فیصد ووٹ ملے، دنیا بھر سے ظہران ممدانی کو مبارکباد ، نیک تمناؤں کا اظہار ،امریکی ریاست ورجینیا اور نیوجرسی میں بھی ڈیموکریٹس کے دو گورنرز کامیاب ہوگئے ، یں ، ورجینیا میں ہی ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار غزالہ ہاشمی نائب گورنر کا الیکشن جیت گئیں ، غزالہ ہاشمی پہلی بھارتی نژاد اور پہلی مسلم نائب گورنر ہیں، ملک بھر میں ڈیموکریٹس کا مورال بلند، ریپبلکنز کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی ۔





نیویارک میں اسلاموفوبیا کی کوئی گنجائش نہیں،ممدانی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا غور سے سُن لیں ، کرپشن کے اس کلچر کا خاتمہ کریں گے جس نے ٹرمپ جیسے ارب پتیوں کو ٹیکس سے بچ نکلنے کی چھوٹ دی ،موروثی سیاست کو شکست دی ، نیویارک کے شہریوں نے بتادیا اب طاقت امیروں کے ہاتھ میں نہیں ، مسلمان اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں اور اس پر معافی مانگنے کیلئے تیار نہیں ،یونینوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے ، مزدوروں کے حقوق مضبوط بنائیں گے ، آج کی رات سے نیویارک ایک مہاجر کی قیادت میں آگے بڑھے گا ۔ دوسری جانب اینڈریوکومو اور سلیوا نے شکست تسلیم کرتے ہوئے ممدانی کو مبارکباد اور تعاون کی پیشکش کردی ہے ۔دریں اثناء 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ نے ایک "قابل اور ہمدرد" انتظامیہ تشکیل دینے کا وعدہ کیا ہے جب کہ انہوں نے منتقلی (ٹرانزیشن) ٹیم کے رہنماؤں کا اعلان کیا ہے، جن میں اینٹی ٹرسٹ کی حامی لینا خان بھی شامل ہیں۔نو منتخب میئر نیویارک ظہران ممدانی نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جواہر لال نہرو کے الفاظ یاد کر رہا ہوں‘، جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے۔




 انہوں نے کہا کہ ’تاریخ میں کبھی کبھار ایسا لمحہ آتا ہے جب ہم پرانے دور سے نکل کر نئے دور میں قدم رکھتے ہیں، جب ایک عہد ختم ہوتا ہے اور ایک قوم کی وہ روح، جو طویل عرصے سے دبائی گئی ہو، اپنی آواز پاتی ہے، آج رات ہم پرانے دور سے نکل کر نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں، تو آئیے اب ہم واضح اور پُراعتماد انداز میں بات کریں کہ یہ نیا دور کیا لائے گا، اور کن لوگوں کے لیے لائے گا‘۔ پُرجوش ہجوم سے خطاب میں ظہران ممدانی نے کہا کہ ’یہ وہ دور ہوگا جب نیویارک کے لوگ اپنے رہنماؤں سے بہانے نہیں بلکہ ایک جرات مندانہ وژن کی توقع رکھیں گے، کہ ہم کیا حاصل کریں گے، اس وژن کے مرکز میں زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کا ایک ایسا جامع منصوبہ ہوگا جو اس شہر نے کئی دہائیوں میں نہیں دیکھا



ظہران ممدانی  کی اہلیہ دواجی ہیوسٹن، ٹیکساس میں پیدا ہوئی تھیں۔ نو سال کی عمر میں وہ دبئی چلی گئیں جس کے بعد انھوں نے قطر میں تعلیم حاصل کی۔عربی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کے والدین شامی مسلمان ہیں جو بنیادی طور پر دمشق سے تعلق رکھتے ہیں۔کیمروں سے بڑی حد تک دور رہنے کے باوجود دواجی کے متعدد دوستوں نے ممدانی انتظامیہ میں ان کے کردار کے بارے میں قیاس آرائیوں کے حوالے سے انٹرویوز میں ان کے بارے میں بات کی ہے۔‘نیویارک پوسٹ کی خبر کے مطابق کچھ دوستوں نے کہا کہ دواجی پرجوش ہیں لیکن بڑھتی ہوئی توجہ پر جذباتی ہیں۔سی این این کے مطابق دواجی نے سپاٹ لائٹ سے دور رہنے کا انتخاب کیا یہاں تک کہ ان کے شوہر مشہور بھی ہوئے لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ پسِ پردہ ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔تاہم وہ ان لوگوں میں شامل تھیں جنھوں نے ممدانی کی برانڈ شناخت کو حتمی شکل دی، جس میں ان کے پیلے، نارنجی اور نیلے رنگ کی مہم کے مواد پر استعمال ہونے والے بولڈ آئیکونوگرافی اور فونٹ شامل ہیں

گھانا کی آزادی میں کوامے نکرومہ کا روشن کردار

  مارچ 1957 ء کو گولڈ کوسٹ اور برٹش ٹو گولینڈ پر مشتمل گھانا کی آزاد ریاست وجود میں آئی اور کوامے نکرومہ آزاد گھانا کے پہلے صدر منتخب ہوئے ۔ تاریخ ہمیشہ اُن انسانوں کو سنہرے الفاظ میں یاد کرتی  ہے  جو  اپنی زندگی کو اپنے جیسے   غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے   انسانوں  کے لئے نجات کا سامان بن جاتے  ہیں -جو اپنے کردار سے   ان  کو اندھیروں سے نکال کر  روشن  دن میں لے آتے ہی - ان کے کردار ان کی سوچ ،فکرو فلسفہ ہمیشہ اپنی قوم کے گرد گھومتی  نظر آتی ہے کوامہ  نکرومہ کی جدوجہد آل افریقن سمیت پوری دنیا کے مظلوم انسانوں کیلئے تھی۔ گھانا جو زرعی اجناس ، کوکو ، ناریل ، کافی ،ربر ، سونے ، ہیرے ، باکسائٹ ، نکل ، لوہے اور کئی بے شمار قسم کی  معدنیات سے مالامال سرزمین پر کئی صدیوں  تک بیرونی طاقتوں  کی غلامی میں رہا  ۔ کوامہ نکرومہ ان دنوں ایک ٹیچر تھے جو گھانا کی آزادی کے لئے میدان عمل میں اترے جنہوں نے اپنی زندگی  گھانا  کے مظلوم انسانوں کی خوشحالی اور انسانیت کی دفاع کیلئے  وقف کردی


کوامہ  نکرومہ اپنی تمام زندگی میں سامراجی طاقتوں سے غلامی کے خلاف جدوجہد کرتے رہے اور تاریخ کے صفحات  میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئےانہوں نے سمجھ لیاتھا  کہ اپنی قوم   کے   مظلوم لوگوں کو   نجات کامل دلوا کر چین سے بیٹھنا ہے ۔ پندرویں صدی میں پرتگیزی سامراج نے مغربی افریقہ کی سرزمین پر اپنے قدم جمانا شروع کردی اور 1471 ء میں (گولڈ کوسٹ ) گھانا پر قابض ہوگیا ۔ گھانا جو زری اجناس ، کوکو ، ناریل ، کافی ،ربر ، سونے ، ہیرے ، باکسائٹ ، نکل ، لوہے اور کئی معدنیات سے مالامال سرزمین ہے۔    یہ سرزمین  کئی صدیوں  تک گھانا کے بالا دست قوتوں کی غلامی  میں سسکیاں لیتی رہی   اس سرزمیں سے نکلنے والی معدنی دولت سے اغیا امیر ہوتے رہے اور گھانا کے عوام روٹی کو ترستے رہے ۔ کوامے نکرومہ 1909 ء میں پیدا ہوئے اس وقت گھانا سامراجی طاقتوں کے بوجھ تلے غلامی کی چکی میں پس چکا تھا ۔ نکرومہ نے ابتدائی تعلیم عکرہ کے ایک مشن اسکول میں حاصل کی 1931 ء میں   کالج سے گریجویشن کیا اور ایک اسکول ٹیچر کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔


 1935 ء میں نکرومہ مزید تعلیم کیلئے امریکہ چلے گئے لنکن اور پنسلوینیا یونیورسٹی میں دس سال تک تعلیم حاصل کی۔ نکرومہ نے طلبہ سیاست اور امریکہ کے سیاہ فام باشندوں کی تحریک میں بھی بھرپور حصہ لیا۔  اسی زمانے میں نکرومہ کی پہلی کتاب ’’نوآبادیات آزادی کی جانب ‘‘ شائع ہوئی ، کچھ عرصے تک لنکن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار کے طور پر پڑھاتے رہے اور بعدازاں لندن چلے گئے جہاں اکنامکس یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کیا ، 1947ء میں نکرومہ اپنے وطن لوٹ آئے اور سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا اسی سال گھانا کے قوم پرستوں کی سیاسی جماعت ’’یونائٹیڈ گولڈ کوسٹ کنونشن ‘‘ کے سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے ۔ کوامے نکرومہ کی قیادت میں تحریک آزادی کی جدوجہد میں عوام کی مقبولیت میں تیزی آتی گئی ۔بھلا قابض قوتیں  یہ کیسے برداشت کر سکتی تھیں  چنانچہ نکرومہ  کو سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں 1948 ء میں گرفتار کرلیاگیا ۔ عوام کی بھرپور احتجاج سے ایک سال بعد جب رہا ہوئے تو  اپنے چار جانب                            نسل پرستی کا خوفناک  رجحان دیکھا 


 جب کہ کوامے نکرومہ مارکس ازم ، لینن ازم کی تعلیمات سے ہی قومی اور طبقاتی جدوجہد کو لازم و  میں ملزوم سمجھتے تھے ، یہی وجہ نکرومہ کی پارٹی  نے  گھانا کے مزدور ، کسان ، دہقان سب نکرومہ کی قیادت میں اس طرح یک جان کیا  کہ گھانا کے عوام کوامہ پر فخر کرنے لگے،1951 ء میں انگریزوں نے گھانا میں نیا آئین منظور کیا جس کے تحت عام انتخابات کا اعلان ہوا ، نکرومہ کی’’ کنونشن پیپلز پارٹی ‘‘ ان انتخابات میں ایک بڑی قوت کے ساتھ آئی اور مرکزیت میں وزارت بنائی ۔ کوامہ نکرومہ پوری دنیا میں سیاست کے حوالے سے مہا رت رکھتے تھے، اتنا ہی جنگی محاذ پر قابلیت رکھتے تھے۔ نکرومہ کی صدارت میں گھانا کی تعمیر نو اور ترقی کی راہیں پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ عام عوام کی زندگی میں تبدیلیاں آئیں ، نکرومہ کی کوششوں کی نتیجے میں دسمبر 1958 ء میں گھانا کے شہر عکرہ میں ’’ آل افریقن پیپلز کانفرنس ‘‘ منعقد کی گئی۔ جس میں افریقہ بھر سے انقلابی قائدین نے اپنے وفود کے ساتھ شرکت کی ۔ اور 1960 ء میں نکرومہ نےگھانا کو عوامی جمہوریہ قرار دیا ۔


نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کثیر التصانیف ادیب و عالم شمس العلماء مرزا قلیچ بیگ

      مرزا قلیچ بیگ 4 اکتوبر،1853ء ٹنڈو ٹھوڑو، حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا فریدون بیگ کا تعلق وسطی ایشیا ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر