منگل، 18 اگست، 2026

بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، کیا کیا کام کرنا ضروری ہیں

 

-niche بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، کیا کیا کام کرنا ضروری ہیں -پہلے اپنے پسندیدہ موضوع کا انتخاب کریں جس کو نیش    کہتے ہیں ، پھر ورڈپریس یا بلاگر پر بلاگ بنائیں، معیاری مضامین لکھیں اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک لائیں۔ موضوع کا انتخاب ایک ایسے موضوع کا انتخاب کریں جس میں آپ کی مہارت یا گہری دلچسپی ہو۔ عوام کی ضروریات اور مطالبات کو مدنظر رکھیں۔ پلیٹ فارم سلیکشن بلاگر: ابتدائیوں کے لیے مفت اور آسان ترین پلیٹ فارم۔ ورڈپریس: پیشہ ورانہ اور مکمل کنٹرول کے لیے بہترین۔ ڈومین اور ہوسٹنگ اپنے بلاگ کے لیے ایک مختصر اور سادہ ڈومین نام خریدیں۔ اچھی اور تیز ویب ہوسٹنگ کا انتخاب کریں۔ مواد کی تیاری اور SEO اچھے، مفید اور قارئین کو حل کرنے والے مضامین لکھیں۔ گوگل پر رینکنگ کے لیے گوگل سرچ سینٹرل کے بنیادی اصولوں کے مطابق SEO کریں۔ کمائی (منیٹائزیشن) بلاگ کے مشہور ہونے کے بعد گوگل ایڈسینس یا ایفیلیٹ مارکیٹنگ کے ذریعے کمانا شروع کریں۔LiveJournal ایک اور مفت اور مقبول بلاگنگ سروس ہے جو آپ کو نجی جرائد، بلاگز، ڈسکشن فورمز، اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس بنانے کی اجازت دیتی ہے۔ 1999 سے اب تک 14 ملین سے زیادہ بلاگز اور کمیونٹیز بن چکی ہیں۔ LiveJournal آپ کو اپنے موبائل فون سے بلاگ پوسٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ چند سال پہلے تک بلاگز صرف لکھنے تک محدود تھے لیکن اب بلاگنگ صرف لکھنے تک محدود نہیں رہی بلکہ فوٹو بلاگز، اسکیچ بلاگز، ویڈیو بلاگز، میوزک بلاگز اور آڈیو (پوڈکاسٹ) کی آمد سے اس کا دائرہ بہت وسیع ہوگیا ہے اور یہ سب اب انٹرنیٹ کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔



بلاگنگ کیوں؟بلا شبہ آج کل انٹرنیٹ پر بلاگنگ سب سے اہم سرگرمی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے بلاگ لکھتے ہیں یا دوسرے لوگوں کے بلاگ پڑھتے ہیں۔بلاگنگ شروع کرنے کے لیے، پہلے اپنے پسندیدہ موضوع (Niche) کا انتخاب کریں، پھر ورڈپریس یا بلاگر پر ایک بلاگ بنائیں، معیاری مضامین لکھیں، اور سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO) کے ذریعے اپنی ویب سائٹ پر ٹریفک چلائیں۔اپنے بلاگ کے لیے ایک مختصر اور سادہ ڈومین نام خریدیں۔  ’گوگل بلاگر‘ کے مطابق، جو شاید اس وقت بلاگنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے، ’بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے، آپ کی روزمرہ کی سرگرمیوں کی ایک ڈائری، ایک ایسی جگہ جہاں سے آپ رابطہ قائم کرتے ہیں، ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں سے اہم ترین خبریں نکلتی ہیں،‘ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی دریافتوں، ایجادات اور خیالات کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسروں کو سوچتا دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگ لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیونکہ بلاگز وہ جگہ ہے جہاں وہ کھل کر اپنے خیالات، اپنی دریافتوں، اپنے منصوبوں کا اظہار کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، انہیں بلاگز کی شکل میں ایک دنیا ملتی ہے جہاں وہ حکمرانی کرتے ہیں۔بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگ لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکرو سافٹ کے سینکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔ یہی حال دوسری بڑی کمپنیوں کا بھی ہے جن کے ملازمین اپنے اہم تجربات اور مشاہدات کو اپنے بلاگز میں بیان کر کے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بہت سی سیاسی شخصیات اپنے بلاگ لکھتی ہیں۔بلاگ دو انگریزی الفاظ ویب   اور  لاگ کا مجموعہ ہے، جو ان ویب سائٹس کے لیے استعمال ہوتا ہے جو معلومات کو تاریخی ترتیب میں محفوظ کرتی ہیں۔


ویب لاگ کا لفظ سب سے پہلے 1997 میں Jorn Barger نے استعمال کیا، جو robotwisdom.com کے نام سے ایک ویبلاگ سائٹ چلاتے ہیں۔ اس کے بعد، لفظ بلاگ کو پیٹر مرہولز نے مزاحیہ انداز میں لفظ "ویبلاگ" کو توڑ کر استعمال کیا جیسا کہ ہم بلاگ کرتے ہیں، اور یہیں سے لفظ "بلاگ" مقبول ہوا۔ Xanga نامی سائٹ جو بلاگنگ میں ایک بڑا نام ہے، 1998 تک اس کے صرف 100 بلاگ تھے، لیکن 2005 تک یہ تعداد 20 ملین سے تجاوز کر گئی۔ اس کے بعد بلاگ ہوسٹنگ کے دیگر لاتعداد ٹولز میدان میں آئے اور بلاگنگ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اوپن ڈائری بلاگنگ پہلا تھا جس نے صارفین کو کسی بھی بلاگ پر تبصرہ کرنے کی اجازت دی، جو بہت کامیاب رہا۔‘ یہ انسانی فطر ت ہے کہ وہ اپنی دریافت، ایجاد اور خیالات دوسروں کو بتانا چاہتا ہے۔ وہ اپنی سوچ سے دوسرے کو سوچتے دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ جستجو ہے جو لوگوں کو بلاگز لکھنے پر مجبور کرتی ہے کیوں کہ بلاگ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنے خیالات، اپنی دریافتیں ، اپنے منصوبے کھْل کر بیان کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہیں بلاگ کی صورت میں ایک دنیا مل جاتی ہے ،جہاں وہ حکومت کرتے ہیں۔ بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگز لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے سیکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔


 یہی حال دیگر اہم کمپنیوں کا ہے جن کے ملازمین اپنے بلاگز میں اپنے اہم تجربات اور مشاہدات بیان کر کے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔ بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم اوزار بن چکے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ ترقی یافتہ اقوام کی بہت سی سیاسی شخصیتیں اپنے بلاگز لکھتی ہیں۔ بلاگز کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ صورتِ حال دیکھنے میں آتی رہتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداران ہوں یا کسی یونی ورسٹی کے محققین، فلمی ستارے ہوں یا ذرائع ابلاغ سے منسلک لوگ، بلاگز سب کی ضرورت بن چکے ہیں۔ بلاگز اتنے مشہور ہو چکے ہیں کہ اب یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا مشہور بلاگ ہو جسے آپ اشتہارات سے پاک دیکھیں۔ لوگوں میں دوسروں کے بلاگ پڑھنے کا رجحان، اپنے بلاگ لکھنے سے بھی زیادہ ہے۔ اس لئے بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پوری ویب سائٹ کے مقابلے میں اسی سائٹ پر موجود کسی مخصوص بلاگ کے ملاحظہ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ایسے بلاگز پر اشتہارات لگا کر ان کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جب کہ گوگل ایڈسنس کے اشتہارات تو آپ کو تقریباً ہر چھوٹے بڑے بلاگ پر نظر آتے ہی رہتے ہیں

 مضمون انٹر نیٹ کی مدد سے لکھا گیا پہے


پیر، 10 اگست، 2026

سندھ میں کپاس کی کاشت کا مرکز سانگھڑ

  کپاس سانگھڑ کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ محکمہ زراعت سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ کا کوئی اور ضلع کپاس کی پیداوار اور کاشت کے پیمانے میں سانگھڑ  کے مقابلے پر نہیں ہے۔ سانگھڑ نہ صرف سندھ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ کپاس کی قومی سپلائی چین میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جو اسے پاکستان کے زرعی اور صنعتی منظر نامے میں کلیدی کھلاڑی بناتا ہے۔سندھ بھر میں کپاس کی سب سے زیادہ کاشت ضلع سانگھڑ میں کی  جاتی ہے۔   اعداد و شمار کے مطابق سانگھڑ نے 12 لاکھ 51 ہزار گانٹھیں کپاس پیدا کیں، جو پورے سندھ میں سب سے زیادہ ہے۔دوسرے نمبر پر ضلع سکھر ہے جس نے تقریباً 5 لاکھ 40 ہزار گانٹھیں کپاس فراہم کیں۔سندھ نے فی ایکڑ کپاس کی پیداوار میں بھی پنجاب کو پیچھے چھوڑ دیا، جہاں فی ایکڑ اوسط پیداوار 1.81 گانٹھ رہی، جبکہ پنجاب میں صرف 0.85 گانٹھ۔پاکستان کے صوبہ سندھ میں واقع ضلع سانگھڑ کو سندھ میں کپاس پیدا کرنے والے سب سے بڑے ضلع کے طور پر جانا جاتا ہے۔


  ہیں؟.سانگھڑ (انگریزی: Sanghar) صوبہ سندھ پاکستان کا ایک تاریخی شہر، تحصیل اور ضلع سانگھڑ کا صدر مقام ہے جو بڑی گنجان آبادی پر مشتمل ہے۔جیساکہ یہ شہر ملاحوں نے آباد کیا تھا اس لیے اس شہر میں ملاحوں کی گنجان آبادی ہے۔شہر کی زیادہ تر آبادی ملاح ہے جو کے شہر کی تقریباً ٪75 ہے اور شہر میں ٪90 آبادی سندھی بولتی ہے۔اپنی زرخیز مٹی، وسیع نہری آبپاشی کے نظام اور محنتی کاشتکار برادریوں کی بدولت سانگھڑ نے "سندھ کا کپاس کا مرکز" کا خطاب حاصل کیا ہے۔ ٹنڈو آدم، شہداد پور، اور سانگھڑ شہر جیسے اہم علاقے کپاس کی کاشت کے بڑے مراکز ہیں، جہاں سالانہ ہزاروں گانٹھیں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ کپاس پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مقامی طور پر اور برآمد کے لئے ایندھن فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جبکہ دیگر فصلیں جیسے گندم، گنا، اور سورج مکھی بھی اس خطے میں اگائی جاتی ہیں، 



           ماضی میں سانگھڑ ایک سرسبز، پرسکون اور پانی کی فراوانی والا قصبہ تھا، جسے بنیادی طور پر ملاحوں اور مقامی قبائل نے آباد کیا تھا۔ یہاں ہریالی، روایتی سندھی کلچر اور باغات کی کثرت تھی، اور یہ دریائے سندھ کے نارا بیلٹ کے قریب ہونے کی وجہ سے زراعت اور ماہی گیری کا ایک اہم اور پُرکیف مرکز مانا جاتا تھا۔تاریخی پس منظراسے شروع میں ماہی گیروں اور ملاحوں نے بستی کی شکل دی۔یہاں پانی کی بہتات تھی جس کی وجہ سے زمین زرخیز تھی۔ماضی میں یہ تجارتی اور ثقافتی لحاظ سے ایک سادہ اور فعال دیہی شہر تھا۔ثقافت اور بود و باش  لوگ آپس میں پیار اور بھائی چارے سے رہتے تھے۔روایتی سندھی لباس، مہمان نوازی اور لوک موسیقی یہاں کی پہچان تھی۔یہاں کے کچے اور پکے مکانات اور پرانے بازار ماضی کی دیہی تہذیب کی عکاسی کرتے تھے۔

 

 شہر میں تقریباً ٪19 آبادی ہندوؤں کی بھی ہے۔پاکستان ۔ سیاحتی   منصورہ یا برہمن آباد۔  ضلع سانگھڑ سندھ کا قدیم شہرکہتے ہیں منصورہ سندھ کے گیارہ بنیادی شہروں میں سے ایک تھا۔   یہ سرگرم تجارتی شہر دریائے سندھ   کےمغربی کنارے پر تعمیر کیا گیا تھا اور دریا کے ایک دوسرے حصے سے ایسے گھِرا ہوا تھا کہ دیکھنے میں ایک جزیرہ معلوم ہوتا تھا۔ منصورہ کے چار دروازے تھے، باب البحر، بابِ توران،بابِ سندان اور بابِ ملتان، ان تجارتی راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے زریعے اس کی  آس پڑوس  کی ریاستوں   کے  ساتھ تجارت کی جاتی تھی۔اس قدیم شہر کا موجودہ مقام ابھی بھی محققین کے مابین زیرِ بحث ہے ۔  

اتوار، 9 اگست، 2026

پاکستان میں نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت

  


ایک چھوٹی سی مثال ہے ایک خاندان ہوتا ہے اس خاندان کا بیٹا جوان ہوتا ہے بہو بیاہ کر گھر آتی ہے  پورے گھر میں بہو اور بیٹے کو ایک کمرہ ملتا ہے وہ اسی ایک کمرے سے ہنسی خوشی  زندگی کا آغآز کرتے ہیں  پھر دو بچے ہو جاتے ہیں پھر پتا چلتا ہے بیٹا بہو الگ ہو گئے فیمیلی بڑی ہو گئ تھی اب ایک کمرے میں گزارہ مشکل ہو رہا تھا 'اب بیٹے کی ماں کہیں اس تبدیلی کو قبول کر لیتی ہے  اور کہیں رنجش پیدا ہو جاتی ہے -بس صوبوں کی مزید گنجائش کی یہی مثال کافی ہے کہ اب ایک جگہ گزارہ نہیں ہو رہا ہے اگر دیکھا جائے تو دنیا میں کتنے ایسے ملک ہیں جو پاکستان سے چھوٹے ہیں لیکن وہ اپنے عوام کی بھلائ کے لئے کئ چھوٹے صوبوں میں تقسیم ہیں ہمارے پڑوس  ایران میں اکتیس  صوبے ہیں اور  ہر صوبہ کا ایک دار الخلافہ ہے جس کو کو مرکز کہتے ہیں اور جو عام طور پر صوبہ کا سب سے بڑا شہر ہوتا ہے۔ مرکز یا صوبائی دار الخلافہ کا انتظام علاقائی حکومت چلاتی ہے۔ جس کا سربراہ گورنر جزل ہوتا ہے جس کو ایرانی وزارت داخلہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے مقرر کرتی ہے۔1950ء تک ایران کل 12 صوبوں میں تقسیم تھا، جن کو 1950 میں انتظامی طور پر تبدیل کر کے 10 ریاستوں میں تبدیل کر دیا گیا  کئی ریاستوں کو ایک ایک کر کے صوبوں کا درجہ دیا جاتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ نئے صوبے بھی بنائے جاتے رہے،  ۔ اس وقت ایران کے اکتیس صوبے ہیں۔اب  میں پاکستان کی جا نب آتی ہوں قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی محدود تھی، وسائل اور انتظامی ضروریات بھی آج کے مقابلے میں مختلف تھیں، لیکن وقت کے ساتھ حالات مکمل طور پر بدل چکے ہیں۔   مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی تقریباً 25کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔


 اسی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 76 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 56 لاکھ، خیبر پختونخوا کی تقریباً 4 کروڑ 8 لاکھ اور بلوچستان کی تقریباً ایک کروڑ 49 لاکھ ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض صوبائی اکائیاں آبادی، رقبے اور انتظامی پیچیدگی کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہو چکی ہیں۔لاہور (کورٹ رپورٹر)پاکستان بار کونسل کے 250ویں اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نئے صوبوں کا قیام صرف آئین، پارلیمانی عمل اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق ہونا چاہئے ۔ پاکستان بار کونسل کا 250واں اجلاس وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل مسعود چشتی کی صدارت میں ہوا، جس میں ممبر پاکستان بار کونسل احسن بھون،طاہر نصر اللہ وڑائچ، عامر سعید راں و دیگر اراکین  نے شرکت کی۔اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ نئے صوبوں کا قیام آئین پاکستان، پارلیمانی طریقہ کار اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق ہونا چاہئے اور اس معاملے کو سیاسی مفادات کے بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے ۔پاکستان بار کونسل نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ نئے صوبوں کے معاملے پر قومی مفاد میں بامعنی مذاکرات کا آغاز کریں تاکہ آئینی تقاضوں کے مطابق قابلِ قبول اور دیرپا حل نکالا جا سکے ۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر ایک قومی سیمینار منعقد کیا جائے گا، جس میں پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، تمام صوبائی بار کونسلوں، قانونی ماہرین اور متعلقہ حلقوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔



قرارداد میں کہا گیا کہ قومی سیمینار کا مقصد وفاق کو مزید مضبوط بنانا، بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینا اور نئے صوبوں کے معاملے پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اس اہم آئینی مسئلے پر جامع اور قابلِ عمل پیش رفت ممکن ہو سکے ۔پاکستان بار کونسل نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ صرف آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے تحت ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے اور اس حوالے سے قومی مکالمے کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ 2010 میں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی، ہمارے 7 نوجوانوں نے اس معاملے پر اپنی جانیں دیں، مختلف جماعتوں کے لوگوں کا ایک ہی موقف تھا صوبہ ہزارہ بنایا جائے، ہم سب اس پر متفق ہیں کہ صوبہ ہزارا بننا چاہیے۔وزیر مذہبی امور نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی صوبہ ہزارہ کے لیے 3 بار آئینی قرارداد منظور کر چکی ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے بل پیش کیے جاچکے ہیں، بل لا اینڈ جسٹس کی قائمہ کمیٹیوں کو بھیجے جا چکے ہیں، پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے بلز کی قانونی حیثیت پر اسپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی کے پیش نظر انتظامی طور پرنئے یونٹس اور صوبے بننا وقت کی ضرورت ہے، صوبے بننے سے انتظام، ریونیو کی وصولی اور  ترقیاتی کام بہتر ہوسکیں گے، چھوٹے انتظامی یونٹس سے عوام کے مسائل حل اور پاکستان مستحکم ہوگا انشا اللہ 

 



، نئے صوبوں کے قیام کےلیے پرامن جدوجہد اور سیاسی قائدین سے رابطے جاری رہیں گے  ۔ نئے صوبے اگر بنائے جائیں تو ان کی بنیاد آبادی، رقبہ، جغرافیائی آسانی، معاشی صلاحیت، وسائل کی دستیابی اور انتظامی ضرورت ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی مفادات یا لسانی و قومی تقسیم۔ اس معاملے کا ایک اہم پہلو مالی بوجھ بھی ہے۔ ایک نیا صوبہ صرف ایک نیا نام نہیں ہوتا بلکہ ایک مکمل انتظامی نظام کا قیام ہوتا ہے۔ نئی صوبائی اسمبلی، سیکرٹریٹ، پولیس ڈھانچہ، عدالتی نظام، سرکاری تحریر میں انٹر نیٹ سے مدد لی گئ ہےدفاتر، ملازمین، رہائشی سہولیات اور ترقیاتی ادارے قائم کرنا پڑتے ہیں   -اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مقتدر اراکین اسمبلی مل کر نئے صوبوں کے لئے بات کریں گے 

تحریر میں گوگل کی مدد شامل ہے

بدھ، 5 اگست، 2026

دنیا کی تجارت کا محور سونا

 دنیا کی تجارت کا محور سونا

 دنیا کی تجارت کا محور سونا

لکھنؤ میں شیعت اوج کمال تک

 شا ہا ن اودھ کی تاریخ کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں ہیں تو سب ہی نوابین لکھنؤ علم دوست بھی تھے ،عالم اور علم پرور تھے -انھیں میں مرزا حسن رضا خاں سرفراز الداولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی ممتاز و منفرداو رعظیم شخصیت نظر آتی ہے جس کا احسان عظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے۔’’نام حسن رضا خاں اور سرفراز الدولہ خطاب فیض آباد کے رئیس اعظم تھے‘‘    ۔’’سرفراز الدولہ ہی کی کوششوں سے فیض آباد میں شیعوں کی پہلی نماز جمعہ قائم ہوئی اور اس طرح ہندوستان میں شیعوں کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی’نواب حسن رضا خاں نے مولوی دلدار علی معروف بہ غفرانمآب کو پانچ ہزار روپئے دے کرمزید تعلیم کے لئے نجف اشرف بھیج دیا تھا‘‘لکھنؤ کی عزاداری کا فروغ بہت کچھ سرفراز الدولہ کے رجحان کا نتیجہ ہے۔انھوں نے ہی بڑے امامباڑے (آصفی امامباڑے ) کی تعمیر کی تجویز رکھی تھی۔۔مولوی دلدار علی ایران و عراق سے سند اجتہاد لے کر آئے تو سرفراز الدولہ نے انھیں اپنے بیٹے کا اتالیق مقرر کیا‘ ’تذکرۃ العلماءاور آئینہ حق میں درج ہے کہ پہلی نماز ظہرین لکھنؤ میں با جماعت نواب آصف الدولہ کے زمانہ میں ۱۳؍رجب ۱۲۰۰ھ بروز جمعہ مطابق ۳۳مئی ۱۷۸۶ءسرفراز الدولہ مرزا حسن رضا خاں کے مکان پر واقع ہوئی ۔بقول مولوی عبد الحی یہ پہلا دن ہے کہ وسط ہند میں شیعوں نے اپنی نماز جمعہ و جماعت علاحدہ کرلیا‘   مولانا دلدار علی نےشیعہ فرقے کی اول نماز ظہرین بجماعت ۱۳؍رجب ۱۲۰۰ھ مطابق ۱۲؍مئی ۱۷۸۶ءکو نواب حسن رضا خاں کے مکان پر پڑھائی تھی‘‘


’نواب حسن رضا خاں نے مولانا دلدار علی صاحب کو نصیرآباد سے بلا کر لکھنؤ میں بڑے اعزاز و احترام سے رکھا‘‘ نواب آصف الدولہ اور ان کے وزیر سرفراز الدولہ حسن رضا خاں نے لکھنؤ میں شیعہ عقیدے کو دربار ی مزہب کی حیثیت دے رکھی تھی ۔عدالتوں میں بیشتر مفتی اگرچہ غازی الدین حیدر کے عہد تک علمائے اہل سنت ہی سے تھے لیکن حسن رضا خاں نے ایک شیعہ عالم مرزا محمد عسکری کو پانچ سو روپئے مشاہرے پر مفتی دربار مقرر کردیا تھااور انھیں سے احکام شرعیہ حاصل کئے جاتے تھے ۔جب مولانا دلدار علی نصیرآبادی اجازہ اجتہاد عراق سے لے کر آئے تو دربار میں ان کی بہت تعظیم و تکریم ہوئی‘‘ مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی عظیم شخصیت جس کا احسان ِعظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے:مولانا دلدار علی نے کوئی درباری عہدہ اپنے لئے پسند نہیں کیا ۔ان کی کفالت کے لئے ایک ہزار روپئے ماہوار کی وہ جائیداد کافی تھی جو انھیں بہو بیگم یعنی والدہ آسف الدولہ نے بطورمعافی دی تھی -مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ نے بہت سے مدرسے،مساجد،امامباڑے تعمیر کرائے بہت سے اوقاف اور کتب خانے وغیرہ قائم کئے جو اسلام اور شیعیت کی تبلیغ و ترویج اور نشر اشاعت میں آج بھی موثر کردار ادا کر رہے ہیں


۔مرزا حسن رضا خاں سرفراز الدولہ ہندوستان کی تاریخ شیعیت کی عظیم شخصیت جس کا احسان ِعظیم شیعہ قوم و مذہب پر ناقابل فراموش ہے: مولانا ابن حسن املویسلام ہو ہمار ا اودھ کے متدین و متشرع اور علم پرور نوابین و وزرائےاعظم و علمائے کرام پر جن کا عظیم احسان ہے شیعیان ہند پر۔مومنین سے التماس ہے کہ ایک سورہ فاتحہ سے ان کی ارواح پاک کو ایصال ثواب فرما دیں۔ڈاکٹر نسیم اقتدار علی کے بقول :''لکھنؤ کی روایتی تہذیب جس کی ستائش میں لکھنے والوں کے قلم آج بھی تر وتازہ اور بیان کرنے والوں کے دہن شگفتہ ہیں ان کی داغ بیل اٹھارویں صدی کے ربع اول میں سعادت خاں برہان الملک کی صوبہ داری کے زمانے میں پڑی۔نوابین اودھ کے زمانے میں بتدریج اسے فروغ حاصل ہوا اور واجد علی شاہ کے عہد میں نقطۂ عروج پر پہنچ کر زوال حکومت کے ساتھ دبے پائوں مائل بہ زوال ہونے لگی ۔''شاہان اودھ نے عزاداری کا جو اہتمام کیا وہ قابل داد وتحسین ہے۔شاہان اودھ کے مذہبی رجحان کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماہ عزا کا چاند فلک پر نمودار ہوتے ہی فضا مکمل طور پر سوگوار نظر آتی تھی۔لوگ سبز وسیاہ لباس زیب تن کرتے اور اس طرح یہ بات عام ہو جاتی کہ شہید کربلا کی شہادت کے دن آن پہنچے ہیں ۔شاہان اودھ میں نواب جلال الدین حیدر ملقب بہ شجاع الدولہ جب تخت نشین ہوئے تو عزاداری کو اور فروغ ہوا ۔


نواب شجاع الدولہ کے بعد آپ کے بیٹے نواب آصف الدولہ نے عزاداری کو خاص اہمیت دی ۔اسی لئے آپ کو لکھنؤ میں             عزاداری کا بانی کہا جاتا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ نواب آصف الدولہ کے دور میں عزائے سید الشہداء علیہ السلام کاجو فروغ ہوا اس کا عشر عشیر بھی اودھ کے دوسروے حکمرانوں کے دور میں نظر نہیں آتا ہے ۔مشہور ہے کہ نواب آصف الدولہ کے وزیر خاص سرفراز الدولہ نے آپ کو آصفی امام باڑہ کی تعمیر کی طرف متوجہ کیا ۔نواب موصوف اپنی سخاوت اور فن تعمیر میں غیر معمولی دلچسپی رکھنے کے بموجب مشہور زمانہ تھے ۔آپ کے بارے میں یہ مثل مشہور تھی:''جس کو نہ دے مولا ،اُ س کو دے آصف الدولہ۔ اللہ تمام عاشقا ن امام علیہ السلام کو جنت اولیٰ کی ٹھنڈی چھاؤں میں رکھے آمین

ہفتہ، 1 اگست، 2026

ہم جو تاریک کانوں میں مارے گئے

 

 

 ۔‘ہم جو تاریک کانوں میں مارے گئے ' انتہائ بوجھل دل کے ساتھ خبر پڑھی 'یہ معلوم ہونا چاہئے کہ  بیشتر ممالک میں کان کنوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے کوئ  پیشگی انتظامات نہیں ہوتے ہیں  اور حادثے کی صورت میں یہ غریب طبقہ جان کی بازی ہار جاتا ہے 'بلوچستان (31 جولائی، 2026) سے تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) دور سورنج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں  بہت زوردار دھماکہ ہوا -پاکستانی حکام کے مطابق، جنوب مغربی پاکستان میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے 34 کان کن ہلاک ہو گئے ہیں۔جمعرات کو ہونے والا مہلک دھماکہ، جو ممکنہ طور پر میتھین گیس کے جمع ہونے کی وجہ سے ہوا  دھماکے کے وقت 40 کے قریب کان کن جائے وقوعہ پر موجود تھے۔بلوچستان کے سینیئر سرکاری کان کنی اہلکار غنی بلوچ نے کہا کہ تمام کان کنوں کی تلاش تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ میتھین کے دھماکوں کی وجہ سے آکسیجن تیزی سے ضائع ہونے کی وجہ سے "کسی کے زندہ ہونے کے امکانات کم ہو گئے ہیں"مائنز کے چیف انسپکٹر نے بتایا کہ بچاؤ کی کوششیں 4,000 فٹ (1,219 میٹر) کی گہرائی میں ہو رہی تھیں متاثرین کے لیے اظہار تعزیت کرتے ہوئے، بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات و معدنیات شعیب نوشیروانی نے کہا کہ ہر متاثرہ خاندان کے لیے 500,000 پاکستانی روپے دئے جائیں گے انہوں نے دھماکے کی وجہ کی تحقیقات کے ساتھ ساتھ بلوچستان بھر میں کوئلے کی کانوں کے حفاظتی جائزے کا وعدہ کیا-


سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع شانگلہ کی آبادی ساڑھے آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس ضلع میں کان کنی کے حادثات نے بیواؤں، یتیم بچوں اور عمر بھر کے لیے معذور ہونے والے مزدوروں کی ایک بڑی تعداد بھی چھوڑ دی ہے۔پیرآباد میاں کلے کے رہائشی شاہ خالد کے لیے یہ حادثہ دو نسلوں پر پھیلا ایک المیہ ہے۔ انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میرے ایک بھائی کی اس حادثے میں  جا ن گئی ہے جبکہ میرے تین چچا زاد بھائی بھی اس میں شامل ہیں۔ ان کی عمریں 17، 19، 21 اور 23 سال تھیں۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ایک نوجوان نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی تھی جبکہ باقیوں نے پانچویں جماعت کے بعد تعلیم چھوڑ دی تھی۔ ’ان سب کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ وہ صرف اپنی شادیوں کے قرضے اتارنے کے لیے کان میں کام کر رہے تھے۔‘ شاہ خالد بتاتے ہیں کہ حادثے کے وقت ان کے دو بھائی دن کی شفٹ مکمل کر کے باہر آ چکے تھے جبکہ سب سے چھوٹا بھائی رات کی ڈیوٹی کے لیے اندر گیا تھا۔ یہ اس خاندان کے لیے یہ دوسرا بڑا سانحہ ہے۔شاہ خالد نے روتے ہوئے اردو نیوز کو بتایا ’میرے والد بھی 2003 میں کوئٹہ کی ایک کوئلہ کان میں حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہوئے تھے۔ میری والدہ اس صدمے کو دوبارہ برداشت نہیں کر پا رہیں۔ اور اب میرے بھائی کی شادی کو صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ ایک چچا زاد بھائی کا ایک بیٹا ہے،  


  بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سورینج میں کوئلے کی دو کوئلہ کانوں میں دھماکے کے بعد 32 مزدوروں کی لاشیں نکالی لی گئی ہیں جن میں سے 31 مزدوروں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے بتایا گیا ہے جبکہ انہی 31 افراد میں سے 23 افراد ایک ہی یونین کونسل پیرآباد میاں کلے سے تعلق رکھتے ہیں-کوئٹہ سے قریباً 35 کلومیٹر دور سورینج میں واقع شیخ عزیز لیز کی سردار عثمان اور علی بھائی کول کمپنیوں کی دو کوئلہ کانوں میں یہ حادثہ جمعرات کو پیش آیا تھا اور جمعے کو دوسرے روز بھی آپریشن جاری رہا۔  جبکہ ضلع شانگلہ میں سوگ کا سماں ہے اور مقامی سطح پر عوام احتجاج بھی کر ریے ہیں۔ یونین کونسل پیرآباد میں ’آل پاکستان مائنز لیبر فیڈریشن‘ کے مرکزی صدر عابد یار نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حادثہ جمعرات کو دوپہر قریباً دو بجے اس وقت پیش آیا جب سورینج میں دو مختلف کوئلہ کانوں میں میتھین گیس کا دھماکہ ہوا۔


 شانگلہ پولیس کی جانب سے بلوچستان کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق مزدوروں کی میتوں کو مکمل سیکیورٹی اور پروٹوکول فراہم.ضلع شانگلہ سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق محنت کش ودود اللہ کی میت جب ضلع شانگلہ کے داخلی مقام دندئی چیک پوسٹ پر پہنچی تو ایس ڈی پی او بشام عثمان منیر اور ایس ایچ او تھانہ دندئی محمد افضل نے پولیس نفری کے ہمراہ میت کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرتے ہوئے تعزیتی طور پراس کا استقبال کیا۔  مینگورہ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع ضلع شانگلہ کی پانچوں تحصیلوں میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار آج بھی بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں کی کوئلہ کانوں سے وابستہ ہے۔ غربت، محدود زرعی وسائل اور مقامی سطح پر روزگار کی کمی نے نوجوانوں کو ایسے پیشے سے وابستہ کر رکھا ہے جہاں ہر شفٹ زندگی اور موت کے درمیان ایک نئے امتحان کی مانند ہوتی ہے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ شانگلہ کے درجنوں گھر ایک ساتھ اجڑے ہوں۔ نو جنوری 2025 کو بلوچستان کے علاقے سنجدی میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 12 مزدور جان سے گئے تھے جن میں سے 10 کا تعلق شانگلہ سے تھا۔ اس سے پہلے 2011 میں بلوچستان میں پاکستان مائن ڈیویلپمنٹ کارپوریشن کی کان میں ہونے والے دھماکے کے بعد ایک ہی دن شانگلہ کے علاقے پیرآباد میں 42 کان کنوں کی لاشیں پہنچائی گئی تھیں۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2026

ایک ہندوعا شق سرکار مدینہ'دلو رام کوثری'

   سر زمین ہندوستان  اپنی تاریخ، تہذیب، روحانیت اور علمی ورثے کے اعتبار سے ایک نہایت بابرکت سرزمین ہے حضرت نوح علیہ السلام نے اسی خطہ زمین سے یہاں کے لوگوں پر سینکڑوں برس حکومت کی ۔ یہی  وہ خطہ ہے جہاں صدیوں سے مختلف قومیں، زبانیں اور ثقافتیں ساتھ ساتھ پروان چڑھتی رہی ہیں۔ اس سرزمین نے نہ صرف بڑے بڑے دانشور، شاعر، عالم اور رہنما پیدا کیے بلکہ ایسے اولیاء و صلحاء بھی عطا کیے جنہوں نے اپنے اخلاق، محبت اور خدمت کے ذریعے دلوں کو جیت لیا۔ہندوستان کی برکت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ یہاں دین و علم کی روشنی ہمیشہ قائم رہی۔ مدارس، خانقاہیں، مساجد اور علمی مراکز نے عوام کی دینی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سرزمین پر آنے والے بزرگوں نے لوگوں کو محبت، امن، صبر، برداشت اور بھائی چارے کا درس دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی فضا میں روحانیت کے سر چشمے پھوٹتے رہے ،یہاں پر  رواداری اور اخلاق کی ایک خاص خوشبو محسوس ہوتی ہے۔یہ سرزمین قدرتی نعمتوں سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں کی زرخیز زمینیں، بہتے ہوئے دریا، بلند پہاڑ، سرسبز میدان اور متنوع موسم اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ زراعت، تجارت، صنعت اور ہنر کے میدان میں بھی ہندوستان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔




 یہاں کے لوگ محنتی، باصلاحیت اور تہذیب یافتہ ہیں، جو اس سرزمین کی مزید برکت کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں کے صوفیاء اور اولیاء نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اصل عظمت انسانیت کی خدمت، سچائی، عاجزی اور اخلاص میں ہے۔مختصراً، ہندوستان کی زمین واقعی بابرکت ہے کیونکہ یہ علم، روحانیت، محبت، ثقافت اور قدرتی حسن کا حسین امتزاج ہے -دلو رام کی نعت سے لگاؤ کی وجہ سے انہیں     ہندوستان کا فردوسی بھی کہا جاتا ہےجو ایک قادر الکلام  شاعر تھے  دلورام کے نعتیہ رحجانات کے رد عمل میں  فرقہ   پرست ہندوؤں نے شدید ملامت اور تنگ نظری اور طنعہ زنی سے انھیں زچ کیا۔ لیکن دلورام کوثری نے نعت گوئی ترک نہ کی ۔ دلورام نے بالاخر اسلام قبول کر لیا اور نام کوثر علی کوثری رکھا/ہندو پس منظر۔*وہ کہتے ہیں عشقِ محمد میں نہیں شرطِ مسلماں ہونا ہے کوثری ہندو بھی ہےطلبگارِ محمد (صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم )آپ کی شاعری مسلمانوں اور ہندووں میں یکساں مقبول تھی۔جب ان کے    دل میں عشقِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اور عقیدت  کا چراغ  پوری آب و تاب سے چمکا تو انہوں نے   محبوبِ کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت میں کثرت سے نعت کہنا شروع کردی۔






ہندوؤں نے ان پر شدید اعتراض کیا اور کہا "کہ تم ہندو ہو کر مسلمانوں کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف میں اشعار کہتے ہوں تم کیسے ہندو ہو۔ ہندوؤں نے سختی سے کہا کہ تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ تم نے ہندوؤں کا نام شرمندہ کیا ہے"۔دِلورام کوثری نے جواب دیا، "مجھے میرے   پیار سے دور نہ کرو!"د لو رام نے اپنی نعت خوانی سے دنیا پر ثابت کر دیا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) سے محبت کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے! کوثری ہندو ہو کر بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا طلبگار ہے۔بسترِ مرگ پر معجزہ۔*دِلورام  بہت بیمار ہو کر بستر مرگ پر پہنچ گئے۔ اخبارات اور رسائل کے ذریعہ بھارت بھر میں ان کی خراب صحت کی خبر پھیل گئی۔ 28 دسمبر 1931 کی وہ سرد صبح بھی آن پہنچی۔  جب یہ دیوانہ عاشقِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شدید تکلیف و بیماری کی حالت میں تھے۔ نزع کے وقت ان سے محبت و عقیدت رکھنے والوں نے انہیں گھیرا ہوا تھا اور لوگوں کی کثیر تعداد ان کے گرد جمع تھی۔ لیکن وہ مسلسل دروازے کی طرف دیکھے جارہے تھے جیسے کسی کا نتظار کررہے ہوں۔


 کچھ ہی  دیر کے بعد، وہ اپنے ہاتھوں پر وزن ڈال کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگے اور اپنے پاس موجود افراد سے کہا کہ انہیں اٹھایا جائے لوگوں نے انہیں سہارا دیا تو وہ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ لوگ حیرت و پریشانی سے یہ سب ماجرا دیکھ رہے تھے۔ انہوں نے دِلورام  سے پوچھا، "کیا معاملہ ہے؟" دِلورام آبدیدہ ہو گئے اور روتے ہوئے کہنے لگے۔ "میں نے ساری عمر جن  کی تعریف کی ہے وہ آ گئےہیں اور اپنی جان 'جان آفریں کے سپرد کر دی  اور ایک سچا عاشق اپنے معشوق کے قدموں میں پہنچ گیا-خدا دلورام کو اپنی دائمی نعمتوں سے فیضیاب کرتا رہے آمین

 

انہیں مردہ مت کہو (القران)


وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتٌ ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنۡ لَّا تَشْعُرُوۡنَ ﴿سورہ بقرہ ۱۵۴﴾شہداء کے فضائل-انہیں مردہ مت کہو (القران)اس آیت میں شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ، نہ زبان سے انہیں مردہ کہنے کی اجازت ہے اور نہ دل میں انہیں مردہ سمجھنے کی اجازت ہے ، جیسا کہ ایک اور مقام پر فرمانِ باری تعالیٰ ہے : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ۔ (ال عمران:۱۶۹)ترجمہ : اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ، انہیں رزق دیا جاتا ہے ۔موت کے بعد اللہ تعالیٰ شہداء کو زندگی عطا فرماتا ہے ، ان کی ا رواح پر رزق پیش کیا جاتا ہے ، انہیں راحتیں دی جاتی ہیں ، ان کے عمل جاری رہتے ہیں ، ان کا اجرو ثواب بڑھتا رہتا ہے ، حدیث شریف میں ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے بدن میں جنت کی سیر کرتی اور وہاں کے میوے اور نعمتیں کھاتی ہیں ۔ (شعب الایمان ، السبعون من شعب الایمان، ۷/۱۱۵، الحدیث: ۹۶۸۶)حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اہل جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا :اے ابن آدم!تو نے اپنی منزل و مقام کو کیسا پایا ۔ وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! عَزَّوَجَلَّ ، بہت اچھی منزل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’تو مانگ اور کوئی تمنا کر ۔ وہ عرض کرے گا : میں تجھ سے اتنا سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے دنیا کی طرف لوٹا دے اور میں دس مرتبہ تیری راہ میں شہید کیا جاؤں ۔ (وہ یہ سوال اس لئے کرے گا ) کہ اس نے شہادت کی فضیلت ملاحظہ کر لی ہو گی ۔(سنن نسائی ، کتاب الجہاد، ما یتمنی اہل الجنۃ، ص۵۱۴، الحدیث: ۳۱۵۷)بعض شہداء وہ ہیں کہ ان پر دنیا کے یہ احکام تو جاری نہیں ہوتے لیکن آخرت میں ان کے لیے شہادت کا درجہ ہے جیسے ڈوب کر یا جل کر یا دیوار کے نیچے دب کر مرنے والا،طلب ِعلم اورسفرِحج غرض راہ خدا میں مرنے والا یہ سب شہید ہیں۔ حدیثوں میں ایسے شہداء کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔مکمل تفصیل کیلئے بہارِ شریعت حصہ چہارم ملاحظہ فرمائیں ۔وَلٰکِنۡ لَّا تَشْعُرُوۡنَ : لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ۔ یعنی یہ بات تو قطعی ہے کہ شہداء زندہ ہیں لیکن ان کی حیات کیسی ہے اس کا ہمیں شعور نہیں اسی لئے ان پر شرعی احکام عام میت کی طرح ہی جاری ہوتے ہیں جیسے قبر ، دفن، تقسیمِ میراث ، ان کی بیویوں کا عدت گزارنا ، عدت کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرسکنا وغیرہ 

مختصر تفسیر :وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوٰتًا :

اور جو اللہ کی راہ میں شہید کئے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا ۔

شانِ نزول :حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے بھائی اُحد میں شہید ہوئے تواللہ تعالیٰ نے ان کی اَرواح کو سبز پرندوں کے جسم عطا فرمائے ، وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں ، جنتی میوے کھاتے ہیں ، سونے کی اُن قندیلوں میں رہتے ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ۔ جب ان شہداء کرام نے کھانے ، پینے اور رہنے کے پاکیزہ عیش پائے تو کہا کہ پیچھے دنیا میں رہ جانے والے ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کہ ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جہاد سے بے رغبتی نہ کریں اور جنگ سے بیٹھ نہ رہیں ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا۔ پس یہ آیت نازل فرمائی ۔

 (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی فضل الشہادۃ، ۳/۲۲، الحدیث: ۲۵۲۰)اس سے ثابت ہوا کہ اَرواح باقی ہیں جسم کے فنا ہونے کے ساتھ فنا نہیں ہوتیں ۔ یہاں آیت میں شہدا ء کی کئی شانیں بیان ہوئی ہیں : فرمایا کہ وہ کامل زندگی والے ہیں ، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہیں ۔ آیتِ مبارکہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ شہیدوں کے روح اور جسم دونوں زندہ ہیں ۔ علماء نے فرمایا کہ شہداء کے جسم قبروں میں محفوظ رہتے ہیں ، مٹی ان کو نقصان نہیں پہنچاتی اور صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے زمانے میں اور اس کے بعداس بات کا بکثرت معائنہ ہوا ہے کہ اگر کبھی شہداء کی قبریں کھل گئیں تو ان کے جسم تر و تازہ پائے گئے ۔ہے ، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ ۔جنت میں جانے کے بعد شہید یہ تمنا کرے گا کہ مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دیا جائے اور دس بار (اللہ کے راستے میں ) قتل کیا جاؤں۔دُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے: میری یہ تمنا ہے کہ میں اللہتعالیٰ کے راستے میں جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں ، پھر شہید کیا جاؤں ، پھر جہاد کروں پھر شہید کیا جاؤں۔

جمعرات، 23 جولائی، 2026

پاکستان کی تعلمی پسماندگی کا مجرم کون ہے

                      پاکستان کی تعلمی پسماندگی کا مجرم کون ہے اس ایک جملے  کے پیچھے  دیکھئے '    پاکستان  جیسا خطہء زمین جو ایک جانب معدنی وسائل سے مالامال  ہے تو دوسری جانب  اس کا چپہ چپہ  سیاحت کے دلدار نظارے لئے  سیاحوں کی راہیں تکتا ہے 'لیکن جہاں کہیں فائدہ اٹھا یا بھی جاتا ہے تو سیدھا اشرافیہ کے خزانوں میں چلا جاتا ہے عام  لوگ اس سے فیضیاب ہو ہی نہیں  سکتے ہیں اور اس معاشرتی نا انصافی کے خلاف بول سکتےبہیں اس کے نتیجے میں ہماری معصوم بچہ قوم چکی کی کے پاٹوں میں پس گئ ہےکہیں ننھی کلیاں رات کو سڑک کے کنارے ابلے انڈے بیچ رہی ہیں تو کہیں ننھے پھول 'پھول بیچ کر گھر کی دال سڑکوں پر رُل رہے ہوتے ہیں یا دن کی جھلستی دھوپ میں کچھ بیچ رہے ہوتے ہیں تاکہ گھر کا خرچ چلا سکیں  لیکن  ہماری حکومتوں کی ترجیح تعلیم نہیں ہے صرف اپنے عشرت کدے ہیں  اپنی شوگر ملیں ہیں اپنے آئ پی پیز ہیں        امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کے تر قی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز اُن کی تعلیمی پالیسوں میں پوشیدہ ہے،یعنی کسی بھی ملک کی تر قی وخوشحالی کا انحصار اُس کی تعلیمی پالیسی پر ہو تا ہے،آج برطانیہ،چین،جاپان اور سنگاپور سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں،دوسری جنگ عظیم کاشکست خوردہ جاپان آج ساری دنیا کو تعلیمی میدان میں پیچھے چھوڑچکا ہے،وہاں شر ح خواندگی 99 فیصدہے جو کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بعد ہر طبقہ کے  اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ دنیا کے221 ممالک میں مذکورہ بالا شرح خواندگی کے ساتھ پاکستان 180 ویں نمبر پر ہے۔حد تو یہ ہے کہ شرح خواندگی میں پاکستان جنوبی ایشیاء میں صرف افغانستان اور بنگلہ دیش سے اوپر ہے جبکہ چین، ایران، سری لنکا، نیپال اور حتیٰ کہ برما بھی پاکستان سے آگے ہے۔




 اکثر طلبہ گھریلو زمہ داریوں سے نبردآزما ہونے کیلئے تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں جبکہ چند ایک ہی اپنی تعلیمی اور معاشی ذمہ داریوں کو اکٹھا ادا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے یونیسکو کی جاری کردہ اِسی رپورٹ کے حوالے سے کچھ مزید اعداد و شمار بھی جاری کئے ہیں، جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہےلک بھر میں 75 فیصد لڑکے اور لڑکیاں میٹرک یعنی10ویں کلاس سے بھی پہلے سکول کو سدا کیلئے خیرباد کہہ دیتے ہیں۔3 سے 5 سال کی عمر کے سندھ سے تعلق رکھنے والے 72 اور بلوچستان کے 78 فیصد طلبا سکول نہیں جاتےجبکہ دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت پاکستان کی تعلیمی کا رکردگی کا جا ئزہ بتاتا ہے کہ ہماری شرح خواندگی جنوبی ایشیا کی کم ترین شرح خواندگی میں شمار ہوتی ہے،افسوسناک پہلو یہ ہے کہ خطے کے آٹھ ممالک بنگلہ دیش،بھوٹان،بھارت،ایران،مالدیپ نیپال اورسری لنکا میں پاکستان نیپال کے بعد پسماندگی کی انتہائی آخری صف میں کھڑا ہے،جہاں خواندگی کی شرح74 فیصد ہے،جبکہ نیپال میں شرح خواندگی65 فیصد،سری لنکا میں94 فیصد،بھارت میں92 فیصد،مالدیپ میں96فیصد،بنگلہ دیش میں85 فیصد،بھوٹان میں88 فیصد اور ایران میں 93 فیصد ہے۔پاکستان میں حکومتیں تعلیم پر کتنا خرچ کرتی رہی ہیں اِس کا اندازہ یونیسکو کے جاری کردہ اعداد وشمار سے ہو سکتا ہے،جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے حکمران تعلیم کو کتنی ترجیح دیتے ہیں،



جبکہ اقوام متحدہ نے مجموعی قومی پیداوار کا کم سے کم4 فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنے کا عالمی معیار مقرر کر رکھاہے لیکن پاکستان کی زبوں حال تعلیمی تصویر یہ دلخراش منظر پیش کرتی ہے کہ 13 برس قبل بھی اور آج بھی ہم اپنے مجموعی بجٹ کاصرف 2 فیصد تعلیم کو دیتے ہیں۔         آج ہمارا حال یہ ہے کہ UNO کے ایجوکیشن انڈکس میں پا کستا ن کا 173ممالک میں 166واں نمبر ہے اور ہمارے اسکولوں میں بچوں کی تعداد ہر سال کم سے کم ہو تی جا ر ہی ہے، ایک رپورٹ کے مطابق 100میں سے صر ف 25بچے اسکول جا تے ہیں اور اِن 25میں سے 6 بچے ہی ہا ئی اسکول کی سطح تک پہنچ پا تے ہیں،اِس وقت ہمارے اسکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت ہے اور ہر 60 بچوں کیلئے صرف ایک استاد موجود ہے جوکہ دنیا کا کم ترین تناسب ہے،جبکہ ہمارے بہت سے اسکولوں کی حالت ایسی ہے کہ وہ ”اسکو ل“ کہلائے جانے کے قابل ہی نہیں ہیں،اُن میں پڑھائی نہ ہونے کے برابر ہے اور اکثر اسکول پانی و بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کروڑ 70 لاکھ بچے زیور تعلیم سے محروم ہیں،جبکہ 67 لاکھ پاکستانی بچے تو ایسے ہیں جو بنیادی ابتدائی تعلیم سے بھی نابلد ہیں، /پاکستان میں بچوں کی صورتحال پر عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کی تازہ ترین سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بچوں کی تعداد 11 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ یا ملک کی مجموعی آبادی کا 47 فیصد ہے


جس کے نتیجے میں بنیادی خدمات پر بھاری دباؤ ہے جبکہ موسمیاتی خطرات، علاقائی عدم مساوات اور محدود مالی وسائل نے مسائل کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ملک میں 5 سے 16 سال عمر کے تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔   اوریہ شرح نا خواندگی آگے بہت جلد ہی پاکستان کے مستقبل پر اثر انداز ہو گی جب تعلیم کا علم و تحقیق سے رشتہ ٹوٹ جاتا تو اس کا حال ایسے بیمار جسم جیسا ہوجاتا ہے جس پر مختلف جراثیم حملہ آور ہوجاتے ہیں۔ تحقیق اور علم سے تعلیم کا رشتہ ٹوٹنے کے بعد کسی نہ کسی طرح امتحانوں میں نمبر لینا، 8 یا 10 اے گریڈ لینا وغیرہ ہی لائق کہلانے کا واحد معیار رہ جاتا ہے۔ یہ ہے وہ صورتحال جس کا آج ہمیں سامنا ہے مگر ہماری ساری توجہ جڑ کے بجائے کہیں اور ہی ہے۔۔وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم بالغان کی مہم کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اعلیٰ ثانوی تعلیم کے بعد سماجی کام بطور لازمی مضمون متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس میں حصہ لینے والے بالغ طالبعلموں کو پڑھنے لکھنے کی بنیادی تربیت دی جائے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں قانونی تبدیلیوں اور صوبوں کی رضامندی شامل ہونا ضروری ہے۔اساتذہ، صحافیوں اور ڈاکٹروں سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پیسے کی دوڑ میں اس لیے شامل نہ ہوں کیوں کہ ان کے پیشے عظیم ہیں، محض دیوانے کا خواب ہے۔ امریکہ، یورپ، چین اور جاپان میں پیسہ پہلی قدر نہیں، وہاں کے استاد ہمارے جیسے ممالک سے کیوں زیادہ بہتر ہیں؟ وہاں تعلیمی معیار کیوں بہتر ہے؟ پیسے کے پہلی قدر بننے سے انکار نہیں مگر جس تعلیمی انحطاط کا ہمیں سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ کچھ اور ہے۔ دیکھنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا مسئلہ علم و ہنر سے تعلیم کے تعلق کا تو نہیں؟



ہفتہ، 18 جولائی، 2026

دنیا کا تعمیراتی عجوبہ "دیوار چین"

 

دیوار چین کیوں تعمیر کی گئی ؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے کی جستجو میں ان گنت تحقیقات ہوئی ہیں اور سب میں متعدد باتیں مشترک بھی پائی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ یہ دیوار دفاعی دفاعی نقطہ نگاہ سے تعمیر ہونا شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دیوار چین کی تعمیر یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریبا دوسو سال پہلے شروع ہوئی تھی، (اس بارے میں تاریخ میں مختلف ادوار کا ذکر ملتا ہے)۔ ان دنوں چین کے بڑے دشمنوں میں منگول تاتار تھے  یہ چور ڈاکو اور جنگجو قسم کے لوگ تھے اور آئے دن چین پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔ انہی حملوں سے بچاؤ کے لئے ایک حفاظتی اور دفاعی دیوار پندرہ سو کلومیٹر  تعمیر کی گئی -یسوع مسیح کی پیدائش سے تقریباً دو سو سال پہلے چین کے بادشاہ چن شی ہوانگ نے اپنے ملک کو دشمنوں کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لیے شمالی سرحد پر ایک دیوار بنانے کی خواہش کی۔ اس دیوار کی ابتدا چین اور منچوکو کی سرحد کے پاس سے کی گئی۔ اس زمانے میں ہن اور تاتار چین کے بڑے دشمن تھے، جو وسط ایشیاء میں کافی طاقتور سمجھے جاتے تھے۔ یہ دیوار خلیج لیاؤتنگ سے منگولیا اور تبت کے سرحدی علاقے تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً تیرہ ہزار ایک سو ستر میل ہے اور یہ مختلف علاقوں میں بیس سے لے کر تیس فٹ تک اونچی ہے۔ بنیاد کے قریب اس کی چوڑائی پچیس فٹ اور اوپر سے بارہ فٹ کے قریب ہے۔ ہر دو سو گز کے فاصلے پر حفاظتی پہریداروں کے لیے مضبوط پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں۔


 مہینوں کا سفر اب محض گھنٹوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، دنیا کے کونے میں کہیں بھی ایک معمولی واقعہ ہو جائے تو اس کی خبر دنیا کے ان کناروں تک پہنچ جاتی ہے جہاں تک انسان رہتا ہے۔ اور تو اور اب دنیا کے کسی بھی چھوٹے سے کمرہ میں مقید ہوں تو ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے عزیزو اقارب کے ساتھ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے براہ راست گفتگو کرسکتے ہیں، کوسوں دور ہونے کے باوجود غمی، خوشی میں شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ سب کچھ سائنس ہی کی بدولت ممکن ہوا ہے جو انسان ہی کا کارنامہ ہے لیکن آج کا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ جب سائنس نہیں تھی، بجلی نہیں تھی، مشینیں نہیں تھیں اور آمدو رفعت کے ذرائع نہیں تھے بلکہ جانوروں کے ساتھ سفر کیا جاتا تھا، اس زمانے میں انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے ایسی ایسی عمارتیں، بت، دیواریں اور نہ جانے کیاکچھ تعمیر کر چھوڑا جس کی نقل آج کے سائنسی دور میں بھی ممکن نہیں ہے اور وہ سب دنیا کی عظیم تعمیراتی عجائبات میں شامل ہوئیں، ایسے انسانوں کےبارے میں کیا سوچا جا سکتا ہے؟۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عظیم انسان کون ہے ؟ اگر آج کا انسان عظیم ہے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ زمانہ قدیم کا انسان عظیم تر تھا اور ہے۔ انسانی ہاتھوں کی یہ تعمیرات اور تاریخ چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ زمانہ قدیم کے انسانوں نے ناممکن کو ممکن میں بدل ڈالا تھا۔ آج کی جس سائنس پر فخر کیا جاتا ہے


کیا وہ سائنس آج تاج محل، اہرام مصر، زیوس کا مجسمہ، اسکندریہ کا روشن مینار وغیرہ تعمیر کرسکتی ہے؟ تعمیر تو دور کی بات رہی، آج کی سائنس ان کی نقل کرنے میں بھی ناکام رہے گی۔   لیکن حقیقی عجائبات وہی ہیں جو ہزاروں سال قبل انسانی ہاتھوں سےتعمیر ہوئی تھیں۔ زمانہ قدیم کے انسانوں کے ہاتھوں تعمیراتی عجوبوں میں عظیم ایک دیوار چین The greatwall of China بھی ہے۔ اس کے متعلق ہو شربا قسم کے قصے، افسانے اور کہانیاں اقوام عالم کی زبانوں میں لکھے موجود ہیں، دیوار چین کی عظمت کا اندازہ یہاں سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس بارے میں عالمی سطح پر یہ یقین کر لیا گیا تھاکہ اس کو چاند کی سطح سے بھی ایک لکیر کی مانند دیکھا گیا ہے،حالانکہ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جو لوگ چین جا کر دیوار چین دیکھنے کی سکت نہیں رکھتے وہ گوگل کے ذریعے دیوارچین کو دیکھ کر حیرت کے سمندر میں ڈوبکی لگا سکتے ہیں ،سانپ کی مانند بل کھاتی   چین کی یہ قدیم اور عظیم دیوار چین آج دنیا کے لئے سب سے بڑا نظارے کی حیثیت رکھتی ہے۔


یہ عظیم دیوار چین کے شمال میں واقع ہے جو حقیقت میں ایک قلعہ نما دیوار ہے جو پہاڑوں ، میدانوں ، سبزہ زاروں اور صحرائے گوپی سے بل کھاتی ہوئی گزرتی ہے۔ یہ صدیوں میں بننے والی مختلف دفاعی دیواروں کا مجموعہ ہے جس کی تعمیر کی ابتداء کئی سو سال پہلی قبل از مسیح (ق م) ہوئی تھی اور تکمیل 1644عیسوی میں ہوئی تھی ۔ تاریخ کے مطابق چین کے پندرہ سے زائد شاہی خاندانوں کے سینکڑوں برس کے ادوار میں بھی عظیم دیوار چین کی تعمیر ہوتی رہی تھی ۔ تاریخ دانوں نے اس کی تعمیر کی مدت1700 سے2000 سال بتائی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چین کے 15 صوبوں میں سے ہو کر گزرتی ہے ۔ یونیسکو نے 1987 میں اس کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا ۔  

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

مخملیں وادیوں کی سر زمین 'جنت ارضی کشمیر

  :   کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ قدرت کے حسن کا وہ شاہکار ہے جہاں پہنچ کر انسان دنیا  کو بھول جاتا ہے۔ اس کی حسین وادی...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر