منگل، 1 ستمبر، 2026

نیپال میں ہندو مسلم فسادات

   نیپال میں ہندوستانی مسلم فسادات، قوم کے کئی گھر، گاڑیاں نذرآتش     جنوبی نیپال کے ملحقہ سرحدی علاقے میں ہندوستانی اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد مسلم آبادی بھارت کے علاقے، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور پھوٹ پھوٹ کا واقعہ پیش کیا۔ سنجیدگی ہوئی پیش نظر آپ نے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک  مذہبی کے دوران لاؤڈ اسپیکر  کو مذہبی نشانوں کے استعمال پر تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشد تصادم میں تبدیل ہو گیا۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے؟ حکومت نے کہا کہ حکومت نے سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی نگرانی جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا  -بات یہ ہے کہ انتہا   پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلسل  اشتعال انگیزی اور کوششیں  کی جا رہی  تھیں کہ مسلمانوں کو نقصان  پہنچایا جائے  پھر یوں ہوا کہ ہے کہ  انٹر نیٹ پر بھی دیکھا گیا  کہ مسلمان بزرگوں کی  داڑھیاں نوچی جا رہی ہیں اور ان کی تزلیل کی جا رہی ہے۔  مسلمانوں کے گھروں کو اور مساجد کو آگ لگائ گئ   1000 مسلمان شہید کئے گئے 100 مساجد اور قران پاک کو شہید کیا گیا -

 

کھٹمنڈو (صباح نیوز) جنوبی نیپال کے بھارت سے ملحقہ سرحدی اضلاع میں ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے، جن کے دوران متعدد علاقوں میں مسلم آبادی کے گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔


 حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔ اگست کے آخری ہفتے تک کچھ ہندوستانی فسادات کے حق میں آگ لگنے کے بعد وہ اگست میں چھپے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ جھڑپوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔نیپال میں ایک احتجاج کے دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور بعد ازاں اسے آگ لگا دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق مسجد کے اندر موجود قرآنِ کریم کے نسخے اور احادیث کی کتابیں بھی جلا دی گئیں۔یہ واقعہ اس تباہ کن سیلاب سے تقریباً چار ہفتے قبل پیش آیا تھا جو بعد میں آیا 


بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقوں میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فسادات کا آغاز ضلع سنساری کے علاقے دیوان گنج میں ایک مذہبی جلوس کے دوران لاؤڈ اسپیکر اور مذہبی پرچموں کے استعمال پر ہونے والی تلخ کلامی سے ہوا، جو بعد ازاں سنگ باری اور پرتشدد تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے رہائشی علاقوں کا رخ کرتے ہوئے متعدد مکانات، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے باعث کئی خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ پولیس اور مشتعل افراد کے درمیان جھڑپوں میں اب تک کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے نیپال پولیس اور نیپال آرمی نے متاثرہ اضلاع میں فلیگ مارچ اور گشت شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق املاک کو نقصان پہنچانے، گھروں کو نذر آتش کرنے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ قانون ہاتھ میں لینے اور افواہیں پھیلانے والوں کی فوری گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے تحمل، مذہبی رواداری اور امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے متاثرہ اضلاع میں کرفیو پر سختی سے عمل درآمد اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ اشتعال انگیز مواد اور افواہوں کا بروقت تدارک کیا جا سکے

 

1 تبصرہ:

  1. نیپال کی حکومت اور وزیراعظم نے عوام سے پرامن رہنے اور مذہبی رواداری برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ متاثرہ اضلاع میں کرفیو کی سخت پابندی اور سوشل میڈیا کی نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی شرانگیزی کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

نیپال میں ہندو مسلم فسادات

    نیپال میں ہندوستانی مسلم فسادات، قوم کے کئی گھر، گاڑیاں نذرآتش      جنوبی نیپال کے ملحقہ سرحدی علاقے میں ہندوستانی اور مسلم برادریوں کے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر