بدھ، 28 جنوری، 2026

آٹسٹک بچوں کا ہومیو پیتھک علاج

  

آٹسٹک   بچوں کا  ہومیو پیتھک علاج   – 

آٹزم ایک ایسا ذہنی عارضہ ہے جو ماں کے پیٹ میں ہی  بچے کو لاحق ہو چکا ہوتا ہے اس مرض میں  والدین کو گونا گوں  پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے   جیسے  بچے کی سمجھ بُوجھ   بات چیت کا انداز یا پھر مکمل خاموشی ، میل جول، سوچ سمجھ اور اپنے حواس کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ آٹزم سے متاثرہ مریض کا دماغ عام انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طریقے پر نشوونما پاتا اور کام کرتا ہے۔ یہ دنیا کو مختلف انداز سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ آٹزم کا شکار ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اور اس کی علامات بھی دوسرے آٹزم بچوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہ بچے یا تو ہر پل تبدیلی چاہتے ہیں یا پھر یکسانیت کو پسند کرتے ہیں اور نئے ماحول یا ہر صورتِ حال کے مطابق ڈھلنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ دیر سے بولنا شروع کرتے ہیں اور اپنی بات سمجھا نہیں پاتے۔ عام طور پر یہ بچے دوسروں سے نظریں نہیں (poor eye contact) ملاتے۔ ان کا نام پکارا جائے تو متوجہ نہیں ہوتے اگرچہ وہ اپنا نام سن رہے ہوتے ہیں۔ یہ پسند نہیں کرتے کہ کوئی ان کے زیادہ قریب آئے اور ان کو چھوئے (don’t liked to be touch)۔ یہ اپنے جذ بات کا اظہار نہیں کر پاتے۔ ان کو کچھ کام بہت آسان لگتے ہیں اور کچھ انتہائی آسان کام بہت مشکل لگتے ہیں۔ عام طور پر ایسے بچے کھلونوں سے کھیلتے نہیں ہیں بس انھیں جمع کرتے ہیں اور ایک خاص ترتیب میں رکھتے ہیں اور اس ترتیب میں تبدیلی برداشت نہیں کرتے۔ انھیں چیزوں کو گھمانا اور ان کو گھومتے ہوئے دیکھتے رہنا اچھا لگتا ہے۔یہ بہت دیر تک بغیر اکتائے پنکھے کو گھومتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں


  (hand flapping)  ۔ اپنی خوشی کا اظہار ہاتھوں کو پھڑپھڑا کر کرتے ہیں۔جبکہ کچھ آٹسٹک بچوں کے  ہاتھوں پر لرزہ بھی ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کومختلف انداز میں گھما گھما کر ان سے کھیلتے ہیں۔ چلنے کے دوران ایڑھیاں اٹھا کر چلتے (toe walking) ہیں اور سارا وزن پنجوں پر ڈال دیتے ہیں۔ کئی مرتبہ مسلسل ایک ہی لفظ کو بہت دیر تک دہراتے رہتے ہیں۔ انھیں غصہ (aggressive) بہت زیادہ آتا ہے۔ کسی ایک ہی بات کے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر فکر مند اور سوچوں میں رہتے ہیں یا پھر بالکل سپاٹ۔ کبھی یہ منہ سے عجیب وغریب آوازیں نکالتے ہیں تو کبھی عجیب و غریب شکلیں بناتے یعنی منہ بگاڑتے رہتے ہیں۔ منہ سے رالیں بہنا، اپنے پرائیویٹ پارٹ کو چھیڑتے رہنا، جنسی جذبات کو کنٹرول نہ کر سکنا، یکدم غصہ کرنا، چیزیں پھینکنا یا پھاڑنا یا آگ لگاتے رہنا، دانتوں سے خود کو یا دوسروں کو کاٹنا، اچانک رونے دھونے لگ جانا بھی اہم علامات ہیں۔ یہ اپنے ارد گرد کی دنیا سے غافل نظر آ سکتے ہیں۔ دنیا سے رابطہ (socially isolated) نہیں رکھنا چاہتے۔ بعض آٹسٹک بچے ہر وقت بال کٹوانا چاہتے ہیں تو بعض کے بال یا ناخن کٹوانا بہت ایک بہت بڑی مصیبت ہوتی ہے۔ یہ کئی کئی دن ایک ہی قسم کی خوراک کھانا چاہتے ہیں۔ اگر ڈر ہو تو مکھی، مچھر، چیونٹی تک کو دیکھتے ہی چیخیں مار مار کر بھاگیں گے اور اگر ڈر نہیں ہے تو کسی بھی چیز کی کوئی پروا ہی نہیں ہے۔ بادل کی گرج چمک، اندھیرا، روشنی، اونچی آواز سے بھی شدید قسم کا ڈر ہو سکتا ہے۔ یہ بہت زیادہ ایکٹو ہو سکتے ہیں کہ سارا دن چلتے، دوڑتے بھاگتے رہیں یا اتنے شل کمزور اور تھکے ہارے کہ کچھ بھی نہ کریں۔آٹزم کا شکار سب بچے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔


 اگر آپ کا بچہ آٹزم سے متاثر ہے تو ضروری نہیں کہ یہ تمام علامات اس میں موجود ہوں۔ سب سے زیادہ پائی جانے والی علامات میں دیر سے بولنا (lack of speech)، دیر سے چلنا، تنہائی پسند ہونا اور حواس خمسہ (sensory issues) کو کنٹرول نہ کر پانا ہے۔ ان بچوں کا بولنے، سننے، چکھنے، سونگھنے اور چھونے کا انداز عام بچوں سے مختلف ہوتا ہے۔اگر ایک جگہ پر پچاس آٹزم بچے ہوں تو ان سب کی علامات ایک دوسرے سے مختلف ہوں گی۔اکثر والدین یہ سوال پوچھتے ہیں کہ ان کا بچہ کب تک ٹھیک ہو جائے گا؟ علاج کے لیے کتنا عرصہ درکار ہو گا؟درحقیقت یقینی طور پر کوئی بھی بڑے سے بڑا ڈاکٹر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔ صرف آٹزم ہی نہیں دیگر پرانے اور شدید امراض جیسے دمہ (Asthma)، الرجی(Allergy)، چنبل (psoriasis)، گنٹھیا (Arthritis)، ہائپوتھائرائڈزم (Hypothyroidism)، ایگزیما (eczema)، مرگی (epilepsy) وغیرہ میں بھی علاج کی مدت بتانا ممکن نہیں ہوتا۔ ہر انسان کے علاج کا دورانیہ دوسرے انسان سے مختلف ہوتا ہے۔ آٹزم کے پہلے لیول (mild autism) عام طور پر ایک سے تین سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور تیسرے لیول (severe autism) کے کیسز میں پانچ سے دس سال بھی لگ سکتے ہیں۔مکمل طور پر شفایابی ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ مکمل صحت یابی کا مطلب ہے کہ بچہ بالکل ٹھیک ہو جائے۔


 اگر کسی ہومیو پیتھک ڈاکٹر سے جلدی اور بروقت علاج کروایا جائے تو مائلڈ آٹزم (mild autism) میں بہت سے بچے صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ دوسرے (mild to moderate autism) اور تیسرے لیول (severe autism) کے آٹزم کیسز میں ایک عرصے تک علاج سے ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ ہر تبدیلی مزید بہتری کی راہ ہموار کرتی ہے۔ یہ علاج لمبا ہوتا ہے اور بہتری کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے۔عام طور پر ہاتھوں اور پیروں کی حرکات میں پہلے بہتری آتی ہے۔ بچے نارمل طریقے سے چلنے لگتے ہیں اور ہاتھوں کو بلاوجہ نہیں ہلاتے ۔نظریں ملانے (eye contact) کا مسئلہ بھی کچھ بہتر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر بچوں کی سمجھ بوجھ (comprehension)،بات چیت اور حسی مسائل میں بہتری آتی ہے۔ وہ سماجی طور قابل قبول حیثیت اختیار کرنے لگتے ہیں؛ لوگوں میں گھلنے ملنے لگتا ہے۔ اس دوران دوسروں سے آنکھیں ملا کر بات کرنے میں بھی سدھار آنا شروع ہو جاتا ہے۔جس طرح سب بچوں کی علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں؛ اسی طرح ان کے علاج کا دورانیہ اور نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ بچوں میں کوئی ایک پہلو پہلے بہتر ہو جاتا ہے اور کچھ بچوں میں دوسرا۔ کچھ بچے پہلے چند ہفتوں میں ہی اچھا رسپانس دیتے ہیں اور کچھ بچوں میں بہتری آنے میں چند مہینے لگ جاتے ہیں۔ 

2 تبصرے:


  1. ایک تجربہ کار ہومیوپیتھک ڈاکٹر کیس ڈسکشن میں مریض کے ہر چھوٹے، بڑے، ذاتی، خاندانی، ذہنی، جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات لے گا۔ اس کی پسند ناپسند، کھاناپینا، ہنسنا بولنا، سونے جاگنے کی روٹین، عمومی رویے، لوگوں سے میل جول، غرض ہر معاملے میں غوروغوض کے بعد موجودہ صورت حال کے مطابق مناسب ترین دوا کا انتخاب کرے گا۔

    جواب دیںحذف کریں

  2. او رے پیا ۔ ہائے ۔ او رے پیا
    اُڑنے لگا کیوں من باولا رے
    آ یا کہاں سے یہ حوصلہ رے
    او رے پیا، او رے پیا
    ´
    تانا بانا تانا بانا بُنتی ہوا
    بوندیں بھی تو آئیں نہیں باز یہاں
    ہائے،___________________
    سازش میں شامل سارا جہاں ہے
    ہر ذرے ذرے کی یہ التجا ہے
    او رے پیا
    ´
    نظریں بولیں دُنیا تولے دل کی زباں
    عشق مانگے عشق چاہے کوئی طوفاں
    چلنا آہستہ، عشق نیا ہے
    پہلا یہ وعدہ ہم نے کیا ہے
    او رے پیا
    .
    شاعر : جے دیپ ساہنی
    کارتک کمار

    جواب دیںحذف کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر