مورخ جب بھی تاریخ اُردو ادب لکھے گا توضرور ایک عظیم شخصیت علامہ سیماب اکبر آبادی کا نام اس تایخ میں ضرور لکھے گا ہمہ جہت پہلووں سے سجی ہوئ ان کی شخصیت کے لئے کہنا مشکل ہے کہ وہ بڑے ادیب تھے یا بڑے غزل گو، یا بڑے نظم نگار،وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، در حقیقت وہ ایک پوری اد بی اکیڈمی تھے۔ تین سو سے زائد نظم و نثر کی چھوٹی بڑی کتابوں کے خالق جنہوں نے اپنی زندگی کے پورے پچاس سال ادب کی خدمت گزاری میں گزارے-اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ان کے پوتے کا کہنا ہے کہ (حضرت سیماب اکبرآبادی) کے انتقال کے وقت میری عمر ۵؍ یا ۶؍ سال کی تھی لہٰذا اُن کے بارے میں بہت سی باتیں آنکھوں دیکھی نہیں ہیں بلکہ کانوں سنی ہیں۔ اکثر باتیں والد صاحب (مرحوم اعجاز صدیقی) کی زبانی سنی ہیں۔
اردو کے نامور شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی کی تاریخ پیدائش 5 جون 1880ءہے۔علامہ سیماب اکبر آبادی آگرہ (اکبر آباد) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا اصل نام عاشق حسین صدیقی تھا۔ وہ شاعری میں داغ دہلوی کے شاگرد تھے مگر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ خود ان کے ڈھائی ہزار تلامذہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔علامہ سیماب اکبر آبادی کو اردو، فارسی اور ہندی زبان کے قادر الکلام شعرا میں شمار کیا جاتا ہے ان کی تصانیف کی تعداد 300 کے لگ بھگ ہے۔ انتقال سے کچھ عرصہ قبل انہوں نے قرآن پاک کا منظوم ترجمہ وحی منظوم کے نام سے مکمل کیا تھا۔ قصرِ ادب ادارے سے ماہنامہ پیمانہ جاری کیا۔ پھر بیک وقت ماہنامہ ثریا، ماہنامہ شاعر، ہفت روزہ تاج، ماہنامہ کنول، سہ روزہ ایشیا شائع کیا۔ ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم" بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہمولوی فیروز الدین کی فرمائش پر مثنوی مولانا روم کا منظوم اردو ترجمہ شروع کیا جس کے لیے وہ لاہور منتقل ہوئے اور اپنا ادارہ قصرادب بھی لاہور ہی لے آئے۔ مثنوی مولانا روم کو فارسی سے اسی بحر میں اردو میں منظوم ترانے کام شروع کیا اور اس کا نام الہام منظوم رکھا تقریبا 45 ہزار افراد 6 جلدوں میں ترتیب پائے۔ مولوی فیروز الدین کے بقول انھوں نے مثنوی روم کا منظوم اردو ترجمہ امیر مینائی سمیت کئی نامور شاعروں کے سپرد کرنا چاہا مگر یہ مشکل کام ان میں سے کسی کے بس کا نہ تھا۔
۔ اُن کے پوتے کا کہنا ہے اُن کی محبت و شفقت اس واقعہ سے بھی جھلکتی ہے کہ جب میں تھوڑا بڑا ہوا اور گھٹنوں کے بل چلنے لگا تو گھر میں (جو بڑی سی حویلی کی شکل میں تھا) قالین بچھوا دیا تھا تاکہ میرے گھٹنوں پر خراش نہ آئے۔ سفر پر جاتے تو میرا تکیہ ساتھ لے جاتے تھے تاکہ اپنائیت کا احساس کم یا ختم نہ ہو۔ اسی طرح مشاعرہ کیلئے روانہ ہونے سے قبل کہتے تھے کہ افتخار کو میرے پاس دے دو۔ روانگی سے قبل تھوڑی دیر مجھے کھِلاتے۔دادا جان، جیسا کہ والد صاحب سے سنا ہے، شاگردوں کی تربیت بڑی شفقت کے ساتھ کیا کرتے تھے۔ چونکہ شاگردوں کی بڑی تعداد تھی جو ملک بھر میں پھیلی ہوئی تھی اس لئے کلام پر اصلاح خط و کتابت کے ذریعہ ہوا کرتی تھی۔ اُن کا طرۂ امتیاز یہ تھا کہ کسی مصرعہ میں سقم ہو تو پورا کا پورا مصرعہ کبھی نہیں بدلتے تھے بلکہ ایک آدھ لفظ کو اِدھر اُدھر کرکے اُس سقم کو دور کردیا کرتے تھے۔ جو شعر اچھا ہوتا اُس کے آگے ’’ص‘‘ لکھ دیتے تھے۔ شاگردوں کو بتاتے تھے کہ قافیہ کس طرح خیال دیتا ہے۔ اُنہیں علم قوافی سے بھی روشناس کرتے اور یہ بھی بتاتے کہ حرف روی کیا ہوتا ہے۔ شاگردو ں میں جو خصوصیات پاتے وہ اُن پر اُجاگر کردیا کرتے تھے۔ اُنہیں یہ بھی سمجھاتے تھے کہ کاغذ کیسا ہو اور روشنائی کیسی، کس طرح لکھنا چاہئے اور حاشیہ کتنا چھوڑنا چاہئے۔ اُن کے شاگردوں کی تعداد ویسے تو ہزاروں میں تھی لیکن باقاعدہ تلامذہ کی تعداد لگ بھگ ۳؍ سو تھی۔ وہ اپنے تمام شاگردوں کو معنوی اولاد کہتے تھے۔
اگر ان میں سے کوئی اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر آگیا تو خوب ضیافتیں ہوتی تھیں۔ اُن کے تلامذہ میں شاعرات بھی تھیں۔ کوئی شاگرد یا شاگردہ گھر آتی تو دادی اُن کی تواضع میں گویا بچھی جاتی تھیں اور جب وہ واپس جاتے تو اُنہیں تحائف دیئے جاتے تھے۔ اب اُن کا صرف ایک شاگرد بی ایس این جوہر بقید حیات ہیں جن کی عمر ۸۰؍ سال ہے اور میرٹھ میں مقیم ہیں۔ جہاں تک شاگردوں کے شاگرد کا تعلق ہے تو وہ بہت سے ہیں۔ مثلاً شہ زور کاشمیری (جن کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری ہوا تھا)، اُن کے شاگر حامدی کاشمیری ہیں۔ تخلیق شعر کے وقت اُن کی عجب کیفیت ہوتی تھی۔ اکثر اوقات یہ صبح کاذب کا وقت ہوتا۔ جب والد صاحب نے شعر کہنا شروع کیا تو ہدایت دی کہ اساتذہ کے پانچ ہزار اشعار یاد کریں تب ہی شعر کہنے کی اجازت ملے گی۔ بابو جی (والد صاحب) کیلئے یہ کام مشکل نہ تھا کیونکہ اُنہیں دیوان غالب تقریباً ازبر تھا۔ تربیت کا یہ اسلوب تھا دادا جان کا۔ یہی اسلوب والد صاحب نے میری تربیت کیلئے بھی اپنایا۔ جب میں شعر کہنے لگا تو والد صاحب نے تاکید کی تھی کہ اس سے پہلے اساتذہ کے پانچ سو اشعار یاد کریں۔ مجھے یاد ہے، میں نے اُنہیں ۱۰۰؍ شعر سنائے تھے۔ مشاعروں میں دادا جان شروع میں ترنم سے کلام سناتے تھے لیکن پھر تحت اللفظ میں سنانے لگے۔ ایچ ایم وی نے ایک ریکارڈ بنایا تھا جس میں اُنہیں ترنم اور تحت اللفظ، دونوں میں شعر پڑھتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔
ساغر نظامی جو سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے وہ بھی قصر ادب سے وابستہ رہے۔ ان کی لکھی کتابوں کی تعداد 284 ہے جس میں 22 شعری مَجمُوعے ہیں جن میں "وحی منظوم" بھی شامل ہے جس کی اشاعت کی کوشش 1949 میں ان کو پاکستان لے گئی جہاں کراچی شہر میں 1951 میں انکا انتقال ہوا۔
جواب دیںحذف کریں