بدھ، 28 جنوری، 2026

عطاؤں کی بارش جب برسنے کوآئ حصہ اول

 

اللہ سے 20 ڈالر کا سودا
یہ سچا واقعہ امریکی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔
ایک لڑکی کی گاڑی نیو جرسی کی ایک ویران شاہراہ پر اچانک بند ہوگئی۔ بدقسمتی سے وہ اپنا پرس گھر بھول آئی تھی، جس میں اُس کا موبائل فون اور رقم دونوں تھے۔ سڑک سنسان تھی، نہ قریب کوئی آبادی، نہ کوئی مددگار۔ وہ حیران و پریشان کھڑی تھی کہ کیا کرے اور کس سے مدد مانگے۔اسی لمحے اس نے قریب ایک کچرے کے ڈبے کے پاس ایک درویش صفت، بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس بے گھر شخص کو بیٹھے دیکھا۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آیا اور نرمی سے بولا "بیٹی! کیا تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہے؟"لڑکی خوف زدہ ہوئی، جلدی سے بولی "نہیں!"وہ خاموشی سے واپس اپنی جگہ جا بیٹھا۔کچھ دیر گزری تو اس نے دیکھا کہ لڑکی اب بھی وہیں کھڑی ہے، پریشانی اس کے چہرے پر عیاں ہے۔ وہ دوبارہ قریب آیا اور بولا "مجھے یقین ہے تمہیں مدد چاہیے۔ ڈرو نہیں، مجھ پر بھروسہ کرو۔"لڑکی کچھ جھجکی، پھر اس کے اصرار پر بتا دیا "میری گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا ہے۔ میں پرس بھول آئی ہوں۔ اب میرے پاس موبائل فون ہے اور نہ پیسے۔"اس غریب شخص نے سکون سے کہا "اچھا، تم گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرو، میں ابھی آتا ہوں۔"
لڑکی کے دل میں خوف مزید بڑھ گیا، نہ جانے وہ کہاں جا رہا ہے اور کیا کرنے والا ہے۔


 مگر اب اُس کے پاس سوائے انتظار کے اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ واپس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بوتل تھی، جس میں پیٹرول بھرا ہوا تھا۔ اس نے خاموشی سے گاڑی کا ٹینک کھولا، پیٹرول ڈالا، پھر لڑکی کے قریب آیا اور مسکرا کر بولا "معاف کرنا، میرے پاس صرف 20 ڈالر تھے، مگر امید ہے اتنے میں تم آرام سے گھر پہنچ جاؤ گی۔"لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کہا "میرے ساتھ چلو، میں تمہیں یہ رقم واپس دوں گی۔"وہ شخص مسکرا کر بولا "اس کی ضرورت نہیں۔ وہ 20 ڈالر ویسے بھی میرے نہیں تھے، کسی اجنبی نے دیئے تھے، بغیر مانگے۔"لڑکی نے اس کا شکریہ ادا کیا اور گھر جا پہنچی۔ اگلے ہی دن اس نے اپنی کہانی سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ لوگ اس سے بہت متاثر ہوئے اور اس لڑکی سے کہا کہ چلو، اس نیک دل آدمی کے لیے چندہ مہم چلاتے ہیں۔ پھر مہم شروع ہوگئی۔ چند ہی دنوں میں اس بے گھر شخص کے لیے ایک لاکھ ڈالر سے زاید کی رقم جمع ہوگئی تھی۔ اس رقم نے خاتون نے اس کے لیے ایک اپارٹمنٹ خریدا اور ساتھ اس روزگار کا انتظام کیا گیا۔اس نے اپنی جیب کے آخری 20 ڈالر ایک اجنبی کے لیے قربان کر دیئے اور اللہ تعالیٰ نے اُس قربانی کے بدلے اُسے ایک لاکھ ڈالر عطا فرمائے۔


 نزرول عبد الکریم ایک غریب، محنت کش مزدور تھا۔ بنگلہ دیش سے روزی روٹی کی تلاش میں نکل کر سعودیہ کی سڑکوں پر جھاڑو دینے والا پردیسی۔ ایک مرتبہ وہ ریاض کی ایک مصروف شاہراہ پر واقع ایک لگژری جیولری دکان کے باہر لمحہ بھر کو ٹھہر گیا۔ شیشے کے پار سونے کا ایک عالیشان سیٹ روشنیوں میں جگمگا رہا تھا۔ نزرول کے ہاتھ میں جھاڑو تھی، لباس سادہ، چہرے پر پسینہ اور وجود تھکا ہوا، مگر آنکھوں میں ایک ایسی خاموش حسرت تھی جو صرف وہی جانتا ہے جو خواب دیکھنا جانتا ہو، مگر وسائل سے محروم ہو۔ وہ اس قیمتی سیٹ کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ ہی رہا تھا کہ ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی اس پر نظر پڑ گئی۔نوجوان نے اس منظر کو انسانیت کی آنکھ سے نہیں، غرور کی نگاہ سے دیکھا۔ اس نے نزرول کی تصویر بنائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی، ساتھ ہی تمسخر سے بھرے الفاظ لکھ دیئے:
هذا حده ينظر إلى القمامة“ایسے لوگ صرف کچرے کو دیکھنے کے ہی قابل ہوتے ہیں، نہ کہ سونے کے ہار کو۔”مطل منہ اور مسور کی دال! ن الفاظ میں اس امیرزادہ نے نزرول کی غربت کا مذاق اڑایا تھا، حلال محنت کو ذلت بنا کر پیش کیا تھا اور ایک انسان کی عزت کو اس کے پیشے سے تول کر فیس بک میں لائیکس و کمنٹ وصول  کر نے کی گھٹیا کوشش کی تھی۔ 


گویا جھاڑو تھامنے والا ہاتھ انسان نہیں  محض ایک تماشہ ہو۔مگر یہ دنیا صرف انسانوں کے فیصلوں سے نہیں چلتی، یہاں ایک اور عدالت بھی ہے، وہ عدالت جو نیتوں کو دیکھتی ہے۔اللہ نے چاہا کہ ایک مظلوم کی خاموشی کو زبان ملے اور یوں وہ تصویر جو تضحیک کے لیے بنائی گئی تھی، عزت کی گواہی بن گئی۔ چند ہی گھنٹوں میں سوشل میڈیا پر فضا بدل گئی۔ لوگوں کے دل جاگ اٹھے۔ امیرزادہ کی پوسٹ پر واہ واہ کے بجائے غصے کا اظہار کرنے والے زیادہ تھے۔ غصہ طنز پر نہیں بلکہ اس ذہنیت پر تھا، جو محنت کو حقیر سمجھتی ہے۔
جاری ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

کہو دلہن بیگم ! ہمارا بھائ تمھیں کیسا لگا

  میں سہاگن بنی مگر    !نگین دلہن بنی مثل ایک زندہ لاش کے سر جھکائے بیٹھی تھی اس نے آج کے دن کے لئے بڑی آپا کے اور منجھلی آپا کے سمجھانے سے ...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر