پیر، 8 دسمبر، 2025

پروٹوکول دورغلامی کی یادگار ہے

 

    بخت آور کا بیٹا اپنی ٹرائیسکل پر اسلام آباد کی سڑک پر نکلا تو اس کے پروٹوکول میں لاتعداد   قیمتی گاڑیا ں خراماں 'خراماں  اس  کی ٹرائیسکل کی رفتار سے   اسکے پیچھے چل رہی تھیں' پروٹو کول کی لعنت دراصل دور غلامی کی یادگار ہے آج صورتحال یہ ہے کہ جس شخص کے پاس کچھ وسائل ہیں یاپاکستان کا کے ایک شہری نے بتایا کہ     ہمارے حاکم جن کے پاس  اختیارات ہیں وہ اس بات میں فخر محسوس کرتے ہیں  کہ اپنے ساتھ دس‘ بارہ مسلح ملازم اور کم ازکم پانچ سات گاڑیاں لے کر چلیں اور جہاں سے وہ گزریں  ہٹو بچو کی صدا دینے والے لوگ آگے آگے ہوں اور حضرت گردن اکڑا کر اور سینہ تان کر گزریں۔ ایم این ایز،سرکاری افسران اور انتظامی عہدہ داران سب اس بیماری کا شکار ہیں اور وزراءتو جب کہیں سے گزریں تو وہاں پر عوام کے کئی گھنٹے سخت اذیت میں گزرتے ہیں کیونکہ عوام کی آمدورفت اس علاقہ میں ممنوع ہو جاتی ہے اور کئی ایسے واقعات بھی ہو چکے ہیں بھی ہو چکے ہیں کہ پروٹوکول کی وجہ سے لائنوں میں لگی ہوئی ایمبولینس یا گاڑی میں موجود مریض بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ہمارے حکمرانوں کے کان پر جوں تک نا رینگی

 اور یہ کلچر آج بھی جاری ہےبح یو نیو رسٹی کے لئے جلدی نہ اٹھ سکا کیونکہ رات کو دیر تک جاگتا رہا کام زیادہ تھا ۔جب اٹھا تو کافی دیر ہو چکی تھی تیا ر ہوا اور کھانا کھائے بغیر یو نیو رسٹی کی راہ لی جب میں جی ٹی روڈ پہ پہنچا تو دیکھا کہ ٹریفک جام ہے پہلے تو میں نے سوچا کہ کسی نے روڈ بلاک کیا ہوا ہے لیکن میری سوچ غلط تھی۔ میں نے بائیک کو گھساتے ہوئے پاکستانی طریقہ استعمال کیا اور سب سے آگے جا کھڑا ہوا اس دورانئیے میں مجھے بیس منٹ لگ گئے میں نے ہمت کر کے ٹریفک وارڈن سے پوچھا کہ سر کیا وجہ ہے جواب ملا کہ کام سے کام رکھو میں خاموش ہو گیا ۔لیکن مجھے بہت غصہ آیاخیر مزید ٹائم گزرنے کے بعد دو پولیس کی گاڑیاں گزریں تب معلوم ہوا کہ یہاں سے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا گزر ہونا ہے ۔ان گاڑیوں کے پیچھے ریسکیوایمبولینس اور تین بلٹ پروف گاڑیاں جو کہ بالکل ایک ہی طرح کی بنی ہوئی تھیں ان میں سے کسی ایک گاڑی میں بیٹھے ہوئے میاں صاحب اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے ان کے پیچھے مزید چالیس سے پچاس گاڑیاں اور تھیں

 میں اتنا پروٹوکول دیکھ کر حیران ہو گیا جو کہ کوگوں کے منہ سے سن رکھا تھا آج اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا ۔میاں صاحب کو اسمبلی سے گھر جانے کے لئے کم ازکم چار سے پانچ لاکھ روپے خرچ ہوئے ہوں گے جو کہ ایک معمولی سی بات ہے ۔جب آپ سگنل توڑتے ہیں تو آپ چالان کی صورت میں پیسے ادا کرتے ہیں جو کہ درست بھی ہے لیکن اگر آپ اپنے پیچھے ایمبولینس کی آواز سنیں تو آپ سگنل توڑ کریمبولینس کو رستہ دیتے ہیں کیونکہ انسان کی جان قیمتی ہے ۔ اگر فارن ملکوں کی بات کریں تو وہ لوگ ایک جانور کی جان بچانے کے لئے لا کھوں خرچ کر دیتے ہیں کیونکہ جان تو جان ہوتی ہے چاہے انسان کی ہو یا جانور کی ۔سائرن کی آواز بڑی دیر سے سنائی دے رہی تھی لیکن ہر ایک کو اپنی پڑی ہوئی تھی آوازایمبولینس کی تھی جس میں ایک مریض اپنی زندگی اور موت کی سانسیں گن رہا تھالیکن کوئی رستہ دینے کو تیا ر نہ تھا وہ تو خدا کی رحمت تھی اس مریض کی جان بچنی تھی ایمبولینس ٹائم سے ہسپتال پہنچ گئی اورعلاج وقت پہ شروع کر دیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ صاحب نے تو اس کی جان لینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ۔

 اگر وزیر اعلیٰ صاحب کے گھر پہنچنے تک پروٹوکول کے لئے قوم کے لاکھوں روپے خرچ کئے جا سکتے ہیں تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ سڑکیں بلاک ہونے میں ایک طالبعلم کا یونیورسٹی سے دیر ہونے کو تو آپ نظر انداز کیجئے اگر وہ مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا تو اس کا ذمہ دار کون تھا ایمبولینس کو رستہ نہ دینے والے یا وزیر اعلیٰ فرض کریں اگر وہ مر جاتا تو کیا ہوتا اس کے لواحقین احتجاج کرتے تویہ خبر نیوذ چینل کا حصہ بنتی اس پہ تجزئے ہوتے میاں صاحب کی طرف سے افسوس کیا جاتا ارو اس کے لواحقین کو دو چار لاکھ روپے نواز دئیے جاتے ان کا منہ بند کرنے کے لئے کچھ دن سوگ کے بعد لواحقین بھی اپنے معمولات میں مصروف ہو جاتے۔یہ ہے پاکستان میں انسان کی قیمت صرف کچھ پیسے کیا ہم اپنی قدر بھول چکے ہیں ہم کیوں قیمتی جانو ں سے کھیل رہے ہیں ؟؟؟؟ہم کیوں اس قدر لالچی ہو گئے ہیں ؟ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟عوام یا عوام کے مقرر کردہ حکمران جو سانپ کی طرح اس ملک کو لوٹتے جا رہے ہیں کیا اس نظام کو 

اتوار، 7 دسمبر، 2025

آ تینوں موج کراواں‘ آ

 

پنجابی لوک گلوکار عارف لوہار  اپنے والد عالم لوہار کی طرح چمٹا لے کر  پاکستان کے  اسٹیج پر  ظاہر ہوئے  اور بہت کم وقت میں اپنی خداداد  صلاحیت اور اپنے والد  کے نقش قدم پر چلتے ہوئے   اپنی فوک گائکی کا لوہا منوا لیا  -وہ ٍچمٹے کی دھن پر کئی مشہور گانے گا چکے ہیں۔ پنجاب کی ثقافت کو اپنے گانوں کے ذریعے سامنے لانے والے عارف لوہار نے  کچھ مہینوں  قبل ایک گانا گایا ’آ تینوں موج کراواں‘ جسے خاصا پسند کیا جا رہا ہے۔اس گانے کو ایسی مقبولیت ملی کہ چاہے انسٹاگرام رِیلز ہوں یا پھر ٹک ٹاک ویڈیوز، ہر جگہ ہی یہ گانا سننے کو ملتا ہے۔اس گانے کی خاص بات اس کے الفاظ اور دو پنجابی گلوکار ہیں۔ روچ کِلا اور دیپ جنڈو کینیڈین پنجابی ریپر ہیں۔ روچ کِلا سبھا لیبیا میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والدین پاکستانی ہیں جبکہ دیپ جنڈو ایک پنجابی پروڈیوسر اور ریپر ہیں جن کا تعلق بھی کینیڈا سے ہے۔اس اشتراک اور گانے کی دلچسپ کہانی سناتے ہوئے عارف لوہار نے بتایا ’ میں ایک دن لندن میں تھا۔ میری ٹیم اور میں گانے بنا رہے تھے تو میں نے بچوں کو کہا کہ وہ جا کر دکان سے چپس لے آئیں۔ جب وہ لے کر آئے تو میں نے گُنگنا کر اُنھیں کہا کہ ’آ تینوں چیپس کِھلاواں۔‘’اب مجھے نہیں علم تھا کہ یہ دھن بن جائے گی۔


پھر میری ٹیم نے دو سال بعد مجھے یاد کروایا کہ وہ جو دھن آپ نے بچوں کے ساتھ بنائی تھی اُس کا کچھ کریں۔عارف لوہار نے مزید بتایا کہ اس گانے کو جو بعد میں مقبولیت ملی اس کا اُنھوں نے تصور نہیں کیا تھا۔عارف لوہار کا کہنا ہے کہ جب کوئی چیز تخلیق ہونے والی ہوتی ہے، تو وہ اس طرح ہی بن جاتی ہے۔اپنے والد کی مشہور ’جُگنی‘ کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اُس کا نیا ورژن بھی ایسے ہی اچانک بن گیا تھا۔’مجھے کہا گیا کہ فِلر کے لیے کچھ چاہیے۔ جو پہلے سے گایا ہوا کلام ہے اُسی کو نیا کر کے بنا دیں تو میں نے پھر ایسے ہی بیھٹے بیٹھے بنا دیا۔‘لوک داستانیں، لوک گیت، گانے والا انسان ہوں‘عارف لوہار کے ماضی کو دیکھیں تو اُنھوں نے اپنے فن کو اپنی محنت اور لگن سے عروج پر پہنچایا۔ انھوں نے موسیقی کی دنیا میں تیز رفتاری سے ہوتی ہوئی ترقی کا ساتھ بھی دیا اور روایات کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔چمٹا ہاتھ میں لیے پنجاب کا روایتی دھوتی کرتا پہنے عارف لوہار نے جدید موسیقی اور روایتی انداز کو ساتھ ساتھ رکھا ہوا ہے۔ پہلے ان کی جگنی ہر جگہ سنائی دیتی رہی تو آج کل چرچے ’آ تینوں موج کراواں‘آ کے ہیں عارف لوہار کا یہ نیا روپ دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو خوب پسند آیا


مگر ساتھ ساتھ یہ خیال بھی کیا جا رہا ہے کہ آج کی نوجوان نسل کی پسند کو دیکھتے ہوئے لوک موسیقی کی جانب کم توجہ دی جا رہی ہے۔اسی بارے میں عارف لوہار کا کہنا تھا ’میں خالص فوک میوزک، لوک داستانیں، لوک گیت، گانے والا انسان ہوں، ایسا کچھ ہونا چاہیے کہ سب ایک ساتھ لے کر چلیں۔‘بچوں میں گانے کا ہنر قدرتی طور پر موجود تھا‘عارف لوہار کے تین بیٹے ہیں جن کے نام علی، عامر اور عالم ہیں۔ ان میں سے سب سے چھوٹے بیٹے عالم کو ’عارف لوہار جونیئر‘ بھی کہا جا رہا ہے۔عارف لوہار کا کہنا ہے کہ ’میں ان بچوں کا والد بھی ہوں اور ماں بھی۔‘ چند سال قبل عارف لوہار کی اہلیہ کی وفات ہوئی تھی۔ جس کے بعد اب وہ عام طور پر اپنے بیٹوں کو جہاں بھی جاتے ہیں، اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کو اس وقت بھی قریب رکھنا پسند کرتے ہیں جب وہ پرفارم کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے آج کل سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں اُن کے تینوں بیٹے اُن کے ساتھ کانسرٹس اور مختلف تقریبات میں نظر آتے ہیں۔بی بی سی کی ٹیم جب عارف لوہار کے گھر پہنچی تو اُن کے ساتھ اُن کے تینوں بیٹے بھی موجود تھے۔


 سب سے چھوٹے بیٹے عالم لوہار نے بتایا کہ ’مجھےکبھی بھی بابا نے نہیں بولا کہ گانا گاؤ۔ یہ شوق مجھ میں پہلے سے موجود تھا۔ ہمیں بابا کے گانے کا سٹائل پسند ہے۔‘ان کے بیٹے عامر کا کہنا تھا کہ وہ موسیقی کے ساتھ ساتھ پڑھائی پر بھی اُتنی ہی توجہ دیتے ہیں۔عارف لوہار اپنے بچوں کے بارے میں آبدیدہ ہو گئے اور اُنھوں نے کہا ’یہ تین بچے ہیں جو میرے تین پہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان بچوں کو میں نے کچھ نہیں کہا کہ یہ کرو یا وہ کرو، گانے کا ہنر اُن میں قدرتی طور پر موجود تھا۔‘’اپنے والد کا عاشق ہوں‘عارف لوہار کے بچے والد کی طرح نہ صرف چمٹا بجانا جانتے ہیں بلکہ اُن کو دیگر آلات بجانے میں بھی مہارت حاصل ہے۔عارف لوہار نے بتایا کہ اُن کے بیٹوں کو گائیکی کا شوق ہے مگر انھوں نے کبھی ان پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی۔اُنھوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ وہ اپنے دادا اور باپ کی میراث کو آگے بڑھائیں گے۔‘عارف لوہار کے والد عالم لوہار کی شہرت بھی سرحد کے دونوں پار تھی۔ عالم لوہارکی گائیکی کا انداز منفرد تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کی دھنوں پر وہ لوگ بھی جھوم اٹھتے تھے، جنھیں اردو یا پنجابی کی سمجھ نہیں تھی۔ انھیں ’جُگنی کا خالق‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ ان کی آواز میں گائے گئے پنجابی گیت آج بھی مقبول ہیں۔ اس وقت وہ اپنے  ہونہار بیٹوں سمیت  یورپ کے کئ ملکوں میں اپنی پرفارمنس پیش کر کے ڈھیرساری داد وصول کر

ہفتہ، 6 دسمبر، 2025

تین زبانوں میں گیت گانے والی پاکستانی فوک گلو کارہ نصیبو لال

 

 تین زبانوں میں گیت گانے والی پاکستانی  فوک گلو کارہ نصیبو لال ۔  نصیبولال کی والدہ کلورکوٹ کی مشہور "ببلی گڈوی والی" تھیں۔1970 میں اسی ببلی گڈوی والی کی بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام نصیبولال رکھا گیا اور واقعی وہ نصیبولال ثابت ہوئی۔ نصیبولال نے بھی کلورکوٹ میں اپنے خاندان کے ساتھ گانے بجانے کا کام کیا اور کلورکوٹ میں ان کو گڈوی والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ نصیبولال کے خاندان کے لوگ کلورکوٹ سے باہر بھی گانا گانے جاتے تھے اور کچھ ان کے لوگ مستقل طور پر بڑے شہروں میں چلے گئے۔ ایک محفل میں نصیبولال کو گانے کا موقع دیا گیا جس کی آواز کو اتنا پسند کیا گیا کہ ان کو بہت سے شادی کے گانے کے پروگرام میں بلایا گیا۔ اسی طرح نصیبولال ریڈیو پاکستان تک پہنچ گئی جہاں انہوں نے اپنی آواز کے ایسے سُر بکھیرے کہ لوگ نصیبولال کو ڈھونڈنے لگے۔ انھوں نے کوک اسٹوڈیو کے نویں سیزن میں بطور نمایاں فنکار کے طور پر کام کیا،  انہوں نے   راجپوتانہ ، ہندوستان   میں ایک خانہ بدوش گھرانے میں جنم لیا ۔  بچپن کی ابتدائی عمر میں ہی گلوکاری کا آغاز کیا اور مشہور ہوگئیں۔ ان کے کریڈٹ میں ان کے بہت سے گانے ہند و پاک دونوں ملکوں میں یکساں مقبول ہیں ۔آپ کو بین الاقوامی میوزک شوز میں بھی مدعو کیا جاتا ہے-پاکستان کی مایہ ناز گلوکارہ نصیبولال کا خاندان 1947 سے پہلے انڈیا علاقہ راجھستان میں رہتے تھے۔


ان کا خاندان                                 گلی              محلوں میں                             ہونے والی تقریبات میں بالخصوص شادی بیاہ  میں گیت گا کر   اپنی                           معاشی ضروریات پوری  کرتا تھا            ۔ یہ راجھستان کے ثقافتی گلوکار تھے جو راجھستانی لباس کے ساتھ راجھستانی گانے بھی گایا کرتے تھے۔  لوک موسیقی بھی راجستھانی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ لوک گیت عام طور پر بہادری کے کاموں اور محبت کی کہانیوں سے متعلق ہوتے ہیں  اس وقت راجپوتوں کے محلوں میں انگریزوں کو عشایہ رکھا جاتا تو ان مقامی گلوکارں کو بھی بلایا جاتا جن کے لباس اور گانوں سے انگریز بہت خوش ہوتے اور ان کو کچھ انعامات سے بھی نواز دیتے۔ 1947 کی تقسیم کے وقت نصیبولال کا خاندان نے بھی انڈیا سے پاکستان ہجرت کی ۔ وہ ٹرین ان کو اس وقت کے ضلع میانوالی اور آج کا ضلع بھکر کے شہر کلورکوٹ میں لے آئی۔کلورکوٹ میں آجانے کے بعد نصیبولال کے خاندان نے گلوکاری کو جاری رکھا اور شروع میں ان کے خاندان نے اپنے راجھستان لباس پہنے رکھا جس میں مرد کرتی لنگی اور رنگ برنگی پگڑی اور عورتیں کسی بڑی محفل میں ساڑی پہنتی تھی اور محفل میں ان کے لباس سے مزید نکھار پیدا ہو جاتا اور یہ لباس ان کی ایک پہچان بھی تھی۔ فلم انڈسٹری نے نصیبولال سے بہت گانے رکارڈ کیے لیکن فلمانڈسٹری کے حلات خراب ہونے کے بعد نصیبولال نے لاہور تھیٹر کے لیے گانے رکارڈ کرئے مگر وہ گانے  ان کو راس  نہیں آئے۔ تو پھر وہ اپنے  ٹریک پر واپس آگئیں  اللہ نے نصیبو لال کی قسمت میں بے پناہ شہرت بھی رکھی اور دولت بھی رکھی   -نصیبو لال جو اپنے بچپن کی عمر سے اپنی ماں کی مددگار بن کر کھڑی ہوئیں  تو اللہ نے بھی ان کا ہاتھ تھام کر بتا دیا کہ ہم کسی کی محنت کو رائگاں نہیں کرتے ہیں 


اب نصیبو لال اور ان کے خاندان کے کچھ فرد لاہور شاہدرہ کے گڈوی ولے محلے میں رہتے ہیں۔ نصیبولال ساڑی پہنتی ہیں اور ایک انٹرویو میں ان سے سوال ہوا کہ آپ زیادہ ساڑی کیوں پہنتی ہیں انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا خاندان 1947 سے پہلے راجھستان سے تھا اور وہاں کا ہمارا لباس ساڑی تھا اور پاکستان آنے کے بعد ہم نے یہی اپنا لباس رکھا۔ کلورکوٹ میں پیدا ہونے والی نصیبولال نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستان سے باہر بھی اپنے سُر کے جادو جگا چکی ہیں اور بہت سے ملکی اور غیر ملکی عزاز اپنے نام کیے۔نصیبو لال چنگڑ قوم سے تعلق رکھتی ہے بھکر کے علاقے کلور کوٹ سے اسکا تعلق ہے لیکن یہ لوگ خانہ بدوش لوگ تھے جن کو پکھی واس جھونپڑوں والے کہا جاتا ہے تو یہ لوگ نگر نگر گھوما کرتے تھے۔کبھی کہاں جھونپڑیاں لگا لیں تو کبھی کہاں۔۔نصیبو گھڑوی بجاتی تھی اور اسکی ماں اور اسکی بڑی بہن تینوں مل کر گانا گاتی تھیں۔۔نصیبو کی ماں کی آواز بھی بہت سریلی تھی اور نصیبو کی بڑی بہن فرح کی آواز بھی بہت خوبصورت تھی۔ یہ تینوں ماں بیٹیاں ٹرک اڈوں پر دوکانوںپر  گھڑوی پر گانے سنا کر پانچ پانچ روپے وصول کرتی تھیں۔1998 /99 کے زمانے میں پانچ روپے کی بڑی قدر ہوتی تھی۔نصیبو کے خاندان نے ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں کے نواحی قصبہ آدھی والی کھوئی میں اپنی جھونپڑیاں لگائی تھیں اور قصبے   میں  تینوں ماں بیٹیاں گھڑوی پر گانا بھی سناتی تھیں۔ 


وہاں پر ایک بڑا زمیندار تھا جس کا نام تھا پیر پپو چشتی۔ پیر پپو نے جب نصیبو کا گھڑوی پر گانا سنا تو اسے نصیبو کی آواز  دل کو لگی اور اس نے اپنے خرچہ پر لاہور کی ایک کیسٹ کمپنی میں نصیبو کا پہلا البم ریکارڈنگ کروایا جس کا گیت تھا۔وے توں وچھڑن وچھڑن کرنا ایں جدوں وچھڑے گا پتہ لگ جاو گا۔اسی البم کا دوسرا گیت تھا۔ جِنے ٹکڑے ہونے دل دے وے ہر ٹکڑے تے تیرا ناں ہونایں۔یاد رہے پہلے البم کے وقت یہ صرف نصیبو ہی تھی نصیبو لال نہیں تھی۔پہلا البم نصیبو کا اتنا ہٹ ہوا کہ سپرہٹ ہوگیا۔ انہی دنوں ملکہ ترنم نورجہاں کی وفات کو تھوڑا وقت ہوا تھا اور نورجہاں کے پرستار بہت بے چین تھے کہ نصیبو نے پہلا البم ریلیز کیا تو نورجہاں کے سب پرستار نصیبو کی طرف لپک پڑے اور نصیبو واحد سنگر ہے جو پہلے البم پر ہی راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔بعد میں نصیبو نے اپنے نام کے ساتھ نصیبو لال لگا دیا اور موسیقی کی دنیا میں چھا گئی-نصیبو لال نے نورجہاں کی کمی پوری کر دی تھی بلکہ نورجہاں سے بھی زیادہ شہرت پا گئی۔نصیبو لال جھونپڑیاں چھوڑ کر لاہور شفٹ ہوگئی۔نصیبو نے اپنی ماں کو بھی سنگر بنانا چاہا مگر اس نےمعذرت کرلی کہ میری اب عمر ڈھل گئی ہے اپنی بہن کو سنگر بنا دیں۔نصیبو لال نے اپنی بہن فرح کو بھی سنگر بنا دیا جو فرح لال کے نام سے مشہور ہے

جمعہ، 5 دسمبر، 2025

ٹورانٹو کنیڈا کا اہم ترین شہر ہے

  ٹورنٹو کنیڈا کا  اہم ترین شہر ہے جس میں  آدھے شہری امیگرنٹس ہیں یہاں کے ریسٹورنٹس انہی  کے دم قدم سے بھرے رہتے ہیں  بس آپ گوگل پر دیسی ریسٹورینٹ لکھئے اور بے شمار نام آ پ کے سامنے آ جائیں گے-بسوں میں سفر کے دیکھئے اسی فیصد ڈرائیورز دیسی ملیں گے -زبان کا کوئ مسئلہ نہیں اردو ہندی پنجابی  انگلش جو آپ بولنا پسند کیجئے گا وہی زبان آپ کو بولنے والا مل جائے گا ٍ-اس کا کل رقبہ 630 مربع کلومیٹر ہے۔ شمالاً جنوباً کل 21 کلومیٹر جبکہ شرقاً غرباً 43 کلومیٹر لمبا ہے۔ جھیل اونٹاریو کے کنارے اس کا ساحل کل 26 کلومیٹر طویل ہے اور ٹورنٹو کے کچھ جزائر اس جھیل کے اندر بھی موجود ہیں۔ اس شہر کی جنوبی حد جھیل اونٹاریو، ایٹوبیکو کی کھاڑی اور ہائی وے نمبر 426 شمال میں، سٹیلز ایونیو شمال میں جبکہ روگ دریا مشرق میں حد بندی کا کام دیتا ہے۔شہر کے درمیان سے دو دریا اور ان کی ڈھیر ساری شاخیں گذرتی ہیں۔ ہمبر دریا مغربی حصے سے جبکہ ڈون دریا مشرق سے گذرتا ہے۔ شہر کی بندرگاہ قدرتی طور پر جھیل اونٹاریو کی لہروں کے نتیجے میں ریت وغیرہ کے جمع ہونے سے بنی ہے۔ اسی عمل کے نتیجے میں بندرگاہ کے پاس موجود جزائر بھی بنے تھے۔ جھیل میں گرنے والے بہت سارے دریاؤں نے اپنی گذرگاہوں میں گھنے جنگلات سے بھری ہوئی کھائیاں بنا دی ہیں۔ تاہم یہ کھائیاں شہر کے نقشے میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ تاہم ان کھائیوں کی مدد سے شہر میں بارش وغیرہ کے سیلابی پانی کی نکاسی بہت آسان ہو جاتی ہے۔


پچھلے برفانی دور میں ٹورنٹو کا نشیبی حصہ گلیشئر کی جھیل اروکوئس کے نیچے تھا۔ آج بھی شہری حدود اس جھیل کے کناروں کی نشان دہی کرتی ہیں۔ اگرچہ ٹورنٹو زیادہ تر پہاڑی نہیں تاہم جھیل سے اس کی بلندی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ جھیل اونٹاریو کا کنارہ سطح سمندر سے 75 میٹر جبکہ یارک یونیورسٹی کے مقام پر یہ بلندی 209 میٹر ہو جاتی ہے۔جھیل کا کنارہ زیادہ تر 19ویں صدی کے اواخر میں کی گئی منصوعی بھرائی سے بنا ہے۔کینیڈا کے جنوبی حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو کا موسم معتدل نوعیت کا ہے۔ ٹورنٹو کی گرمیاں گرم اور نم جبکہ سردیاں سرد تر ہوتی ہیں۔ شہر میں 4 الگ الگ نوعیت کے موسم پائے جاتے ہیں اور روز مرہ کا درجہ حرارت سردیوں میں بالخصوص کافی فرق ہو سکتا ہے۔ شہری آبادی اور آبی زخیرے کے نزدیک ہونے کی وجہ سے ٹورنٹو میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں کافی تغیر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں رات کا درجہ حرارت سردیوں میں بھی نسبتاً کم سرد رہتا ہے۔ تاہم بہار اور اوائل گرما میں سہہ پہر کا وقت کافی خنک بھی ہو سکتا ہے جس کی وجہ جھیل سے آنے والی ہوائیں ہیں۔ تاہم بڑی جھیل کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے برفباری، دھند اور بہار اور خزاں کا موسم تاخیر سے بھی آ سکتا ہے۔ٹورنٹو میں موسم سرما میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کچھ وقت کے لیے منفی 10 ڈگری سے نیچے رہ سکتا ہے جو ہوا کی رفتار کی وجہ سے زیادہ سرد محسوس ہوتا ہے۔ اگر اس صورت حال میں برفباری یا بارش بھی شامل ہو جائے تو روز مرہ کی زندگی کے کام کاج رک جاتے ہیں اور ٹرینوں، بسوں اور ہوائی ٹریفک میں خلل واقع ہوتا ہے۔ نومبر سے وسط اپریل تک ہونے والی برفباری زمین پر جمع ہو جاتی ہے۔


 تاہم سردیوں میں اکثر درجہ حرارت کچھ وقت کے لیے 5 سے 12 ڈگری تک بھی چلا جاتا ہے جس سے برف پگھل جاتی ہے اور موسم خوشگوار ہو جاتا ہے۔ ٹورنٹو میں گرمیوں کا موسم نم رہتا ہے۔ عموماً درجہ حرارت 23 سے 31 ڈگری تک رہتا ہے اور دن کے وقت درجہ حرارت 35 ڈگری تک بھی پہنچ سکتا ہے جو ناخوشگوار بن جاتا ہے۔ بہار اور خزاں موسم کی تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔بارش اور برفباری سال بھر ہوتی رہتی ہیں تاہم گرمیوں میں بارش کی مقدار کافی زیادہ رہتی ہے۔ اگرچہ بارشوں میں طویل وقفہ بھی آ جاتا ہے تاہم قحط سالی جیسی صورت حال سے کبھی کبھار ہی واسطہ پڑتا ہے۔ سال بھر میں 32 انچ سے زیادہ بارش جبکہ 52 انچ سے زیادہ برف گرتی ہے۔ ٹورنٹو میں اوسطاً 2038 گھنٹے سورج چمکتا ہے۔وِل السوپ اور ڈینیئل لیبیس کائنڈ جیسے ماہرین کے نزدیک ٹورنٹو میں کوئی ایک طرزِ تعمیر نہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کی عمارات کا طرزِ تعمیر بدلتا رہتا ہے۔ٹورنٹو کے افق پر سب سے اہم عمارت سی این ٹاور ہے جو 553 میٹر سے زیادہ بلند ہے۔ برج خلیفہ کی تعمیر سے قبل یہ دنیا کی سب سے اونچی آزاد کھڑی عمارت تھی۔ٹورنٹو میں فلک بوس عمارات کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے جن کی بلندی 90 میٹر یا اس سے زیادہ ہے۔ اونچی عمارات کی تعداد کے لحاظ سے  شمالی امریکا میں نیو یارک اس سے آگے ہے۔ٹورنٹو کا سب سے اہم سیاحتی مرکز سی این ٹاور ہے۔ اس ٹاور کے خالقین کے لیے یہ بات خوشگوار حیرت کا سبب ہے کہ ان کے اندازوں کے برعکس 30 سال سے زیادہ عرصے تک یہ عمارت دنیا کی بلند ترین عمارت شمار ہوتی رہی ہے


۔ اونٹاریو کا شاہی عجائب گھر بھی سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے جہاں دنیا کی ثقافت اور مظاہر قدرت کے متعلق چیزیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 5000 سے زیادہ حیوانی نمونے موجود ہیں جو 260 سے زیادہ انواع کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی مختلف نوعیت کے کئی عجائب گھر یہاں موجود ہیں۔یارک ولے نامی مضافاتی علاقہ ٹورنٹو بھر میں اپنے ریستورانوں اور خریداری کے مراکز کی وجہ سے مشہور ہے۔ اکثر اس علاقے میں شمالی امریکا کے فلمی ستارے اور اہم شخصیات خریداری کرتی یا کھانا کھاتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں سالانہ اوسطاً 5 کروڑ سے زیادہ سیاح آتے ہیںگریک ٹاؤن میں موجود ریستورانوں کی تعداد فی کلومیٹر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ٹورنٹو کاروباری اور معاشی لحاظ سے اہم بین الاقوامی مرکز ہے۔ عموماً اسے کینیڈا کا معاشی مرکز مانا جاتا ہے۔ ٹورنٹو سٹاک ایکسچینج کو کاروباری سرمائے کے اعتبار سے دنیا بھر میں 8ویں بڑی مارکیٹ مانا جاتا ہے۔ کینیڈا کے پانچوں بڑے بینکوں اور دیگر بڑے کاروباری اداروں کے صدر دفاتر ٹورنٹو میں قائم ہیں۔اس شہر کو میڈیا، پبلشنگ، مواصلات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور فلمی صنعت کا اہم مرکز مانا جاتا ہے۔اگرچہ یہاں کی زیادہ تر مینو فیکچرنگ کے مراکز شہر کی حدود سے باہر واقع ہیں تاہم ٹورنٹو ہول سیل اور ڈسٹری بیوشن کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتا ہے۔ کیبویک اور ونڈسر کی راہداری میں اپنے اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور ریل اور سڑکوں کے بہترین نظام کی بدولت آس پاس موجود گاڑیاں بنانے، فولاد، سٹیل، خوراک، مشینری، کیمیکل اور کاغذ کی مصنوعات ٹورنٹو سے ہی آگے بھیجی جاتی ہیں

موسم سرما کے پھلوں کے فوائد

 





موسم سرما کے پھلوں کے کیا فوائد ہیں؟کینو، مالٹے، فروٹر، انار، انگور، سیب، ناشپاتی، امرود اور کیلے یہ تمام وہ پھل ہیں جن کا شمار سردی کےخاص پھلوں میں ہوتا ہے، ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ جسمانی نظام کے لیے منرلز اور وٹامنز بہت ضروری ہیں جن کو قدرتی طور پر حاصل کرنے کے لیے پھلوں کو اپنی غذا کا حصہ بنانا لازمی ہے۔کینو، ما لٹا، فروٹرمالٹے کی کئی اقسام موجود ہیں جیسے کہ نارنجی، کینو، فروٹر اور مالٹا، ان پھلوں کے جوس کے استعمال سے دنوں میں وزن کم کرنے سمیت متحرک رہنے میں مدد ملتی ہے اور قوتِ مدافعت مضبوط ہوتی ہے۔ہمارے ہاں عام طور سے یہ پھل ’کینو ‘ کہلاتاہے، جو صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کا شمار مالٹےاور کینو پیدا کرنے والے چھٹے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔موسمی پھلوں کے استعمال سے ناصرف صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ اس کے براہِ راست مثبت اثرات خوبصورتی پر بھی آتے ہیں جس کے نتیجے میں جِلد، ناخن اور بالوں کی صحت بھی بہتر ہوتی ہے اور خوبصورت میں اضافہ ہوتاانار دل، دماغ، گردوں اور نظام ہاضمہ کے لیے ایک قدرتی ٹانک ہے اور یہ خون کی کمی دور کرنے، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس کے دیگر فوائد میں نظامِ ہاضمہ کو مضبوط کرنا، قوتِ مدافعت میں اضافہ، جلد اور بالوں کی صحت میں بہتری، اور وزن کم کرنے میں مدد شامل ہیں۔ یہ پھل وٹامن سی اور کے، فلیوونائڈز اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتا  ہے۔


مالٹے اور کینو نظام ہضم کو بہتر بناتے، وزن میں کمی کرتے، وٹامن سی کی زائد مقدار کے باعث جینیاتی بوسیدگی اور عمر رسیدگی کے اثرات سے بچاتے اور آیورویدک علاج میں بلغم و کھانسی کو کم کرتے ہیں۔انار، موسم سرما کا خاص پھل ہے جو تقریباً ہر ایک کا ہی پسندیدہ ہوتا ہے۔ یہ فائبر ، پوٹاشیم ، وٹامن سی اورB6سے بھرپور ہے۔اس کے استعمال سے دل اور جگر کو طاقت ملتی ہے، متعدد بیماریوں جیسے کہ پھیپھڑوں، چھاتی کے سرطان، امراضِ قلب، الزائمر، ذیابیطس، موٹاپے اور جوڑوں کی سوزش میں انار مفید ثابت ہوتا ہے۔اس کے علاوہ انار کا روزانہ استعمال رنگت بھی نکھارتا ہے۔انگورپاکستان میں مختلف رنگوں کے انگور پائے جاتے ہیں جن میں سرخ، جامنی، ہرے اور پیلے انگور شامل ہیں، انگور میں وٹامن اے کا خزانہ پایا جاتا ہے جبکہ انگوروں میں دیگر وٹامنز یعنی، ڈی 3، ای، سی، ڈی، بی12، بی 6 اور کے بھی پایا جاتا ہےماہرینِ غذائیت کے مطابق انگور کا استعمال دل کے امراض دور کرتا ہے اور کارکردگی بہتر بناتا ہے، اس کے علاوہ ذیابیطس، کینسر، جوڑوں کے درد، وائرل، انفیکشن اور الرجی سے بچاتا ہے۔کیلے سے بلڈپریشر کا علاج ممکن ہے؟


سیب-سیب میں موجود کاپر، پوٹاشیم اور وٹامن سی کی زائد مقدار جِلد کو قدرتی چمک، نکھار اور جسم پر نکلنے والے دھبوں کے نشان ختم کرنے میں جادوئی تاثیر رکھتی ہے۔سرخ سیب کے علاوہ سبز سیب میں فائبر، منرلز اور وٹامنز کی کثیر مقدار پائی جاتی ہے۔ جِلد کے کینسر سے بچائو کے لیے ہرے سیب کا استعمال کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ اس کے استعمال سے جِلد صحت مند رہتی ہے۔ ناشپاتی کا شمار سیب کے خاندان سے ہے۔ سیب کے بعد یہ سب سے بہترین پھل ہے، جسے سیب کی طرحہی کھایا جاتا ہے۔ یہ امریکا و پاکستان کا اہم پھل ہے جو سبز، زرد اور سرخ رنگوں میں پایا جاتا ہے۔اس کے غذائی اجزا اور نشاستوں میں پروٹین 0.38گرام اور کولیسٹرول کی صفر مقدار ہے جبکہ یہ وٹامن اے، سی، ای اور کے سے بھرپور ہے۔ معدنیا ت میں کیلشیم، کاپر، آئرن، میگنیشیم، میگنیز، فاسفورس اور زنک شامل ہیں۔ناشپاتی جلد کے لیے ہمیشہ سودمند اور نشاستوں سے بھرپور ہوتی ہے۔ اس میں وٹامن کے کی کثیر مقدار خون کو جمنے سے روکتی ہے ، ساتھ ہی بلند اور کم فشار خون کی شکایت کو دور رکھتی ہے۔موسم سرما میں بچوں کی صحت کی حفاظت کیسے کریں؟


امرود-فائبر اور وٹامن اے، بی6 اور سی سے بھر پور امرود کو بھی سپر فوڈز میں شمار کیا جاتا ہے، اس پھل کا سلاد اور چاٹ بنا کر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق امرود کو غذا میں شامل کر لینے سے قبض سے نجات ملتی ہے، ٹھنڈ اور کھانسی میں افاقہ ہوتا ہے، وزن میں کمی، کینسر کے خدشات کم کرتا ہے اور ہارمونز کی افزائش میں کردار ادا کرتا ہے۔امرود ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک ذہین انتخاب ہے۔ اس میں فائبر کا اعلیٰ مواد شوگر کے جذب کو کم کرکے خون میں شکر کی سطح کو منظم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ مزید برآں، امرود کے پتوں کے فوائد میں خون کی شکر کو کم کرنے کی صلاحیت شامل ہے جب اسے چائے یا عرق کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ادویات میں اس کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔کیلے میں فائبر اور تین اقسام کی شکر (سکروز، فرکٹوز اور گلوکوز) پائی جاتی ہے، کیلا فوراً انرجی بحال کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک وقت میں 2 کیلے کھانے سے 90 منٹ تک انسان خود کو تر و تازہ اور توانا محسوس کرتا ہے اسی لیے یہ دنیا بھر کے ایتھلیٹس کی خوراک کا اہم حصہ ہوتا ہے۔کیلے میں ایک مخصوص پروٹین پایا جاتا ہے جو انسان کو تھکاوٹ میں سکون پہنچاتا اور موڈ کو بہتر بناتا ہے، اسے کھانے سے نیند کی کمی کی شکایت دور ہوتی ہے۔وٹامنز اور منرلز کے لحاظ سے کیلے میں آئرن اور پوٹاشیئم بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔

بدھ، 3 دسمبر، 2025

قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے

  قلعہ سیف اللہ کی انتظامیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے  کہ  اس نے نوجوان نسل کو بے راہ روی اور منشیات جیسی لعنتوں سے بچانے کے لیے فٹ بال اسٹیڈیم اور ریلوے اسٹیشن کر کٹ گراونڈ   بنائے   ہیں ۔ تعلیم کی اگر بات کی جائے  تو گذشتہ دو دہائیوں سے قلعہ سیف اللہ  کے طالب علموں نے یہاں  تعلیمی میدان میں ناقابل یقین کامیابیاں حاصل  کی ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ نے بھی اپنے طالب علموں کے لئے بے مثال  کام کئے ہیں  اور  یہاں نسائی کے مقام پر کیڈٹ کالج کے ساتھ ساتھ ڈگری کالج، ایلیمنٹری کالج،بلوچستان یونیورسٹی کیمپس کئی ہائی ،مڈل اور پرائمری اسکول قائم کئے  ہیں جن کے علاوہ لاتعداد نجی اسکول اور کالج بھی تعلیمی خدمات میں پیش پیش ہیں۔اللہ پاک میرے وطن کے لوگوں کو تمام دنیا میں سر بلند کرے آمین -  یہاں  بہت سے ترقیاتی کام اپنی مدت میں مکمل ہو چکے ہیں جن میں ژوب تا کو ئٹہ براستہ قلعہ سیف اللہ قومی شاہراہ  سر فہرست ہیں جن سے نہ صرف قلعہ سیف اللہ کے لوگوں  کے آمدورفت کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوا ہے بلکہ اقتصادی راہداری کے مختصرترین لنک کا اعزاز بھی اس شاہراہ کوحاصل ہے۔قلعہ سیف اللہ مین بازار شاہین چوک تا ریلوے اسٹیشن دو رویہ سڑک کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور سڑک کے دونوں اطراف میں نکاسی آب کے نالے بھی بن چکے ہیں۔سڑک کے کنارے شمسی توانائی سے روشن ہونے والی اسٹرٹ لائیٹس انتہائی نفاست سے نصب کر دی گئی ہیں۔


رات کے وقت ان کے روشن ہونے سے قلعہ سیف اللہ کا بازارجدیدشہر کا منظر پیش کرتا ہے جو ڈیشل کمپلیکس،زرعی دفاتر،ایجوکیشن آفس ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس اور جدید سہولیات سے آراستہ ڈسٹر کٹ ہسپتال اور تھانہ بھی تعمیر ہو چکا ہے۔ ضلع کا رقبہ 11600مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور اس کی دو تحصیل ہیں جو قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ کہلاتے ہیں۔ قلعہ سیف اللہ 14دسمبر 1988کو ضلع بنا۔ اس سے پہلے یہ ضلع ژوب کا حصہ ہوتا تھا۔ ضلع کی آبادی لگ بھگ دو لاکھ تیس ہزار ہے-قلعہ سیف اللہ سطح سمندر سے 1500تا 2200میٹرز کی بلندی پر ہے، قلعہ سیف اللہ میں گرمیوں میں زیادہ گرمی اور سردیوں میں بہت سردی پڑ تی ہے، یونین کونسل کان مہترزئی جو سطح سمندر سے 2170کی بلندی پر ہے وہاں جنوری اور فروری کے مہینوں میں پہاڑ وں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی رہتی ہیں اور غضب کی سردی پورے علاقہ کو اپنی لپیٹ میں رکھتی ہے ۔ ضلع قلع سیف اللہ بنیادی طو ر پر ایک زرعی علاقہ ہے، جہاں 22سو کے لگ بھگ ٹیوب ویل اور لاکھوں ایکڑ پر زراعت پھیلی ہوئی ہے، عوام کا زیادہ تر حصہ زراعت پر ہی گزر بسر کرتا ہے، زرعی فعالیت کی وجہ سے ملک بھر کی منڈیوں میں قلعہ سیف اللہ کی سبزی اور پھل مہنگے داموں بکتے ہیں۔ ضلع میں سب کی مختلف قسمیں پیدا ہوتی ہیں سائبریا سے آنے والے موسمی پرندے دریاژوب کے کناروں کو اپنی محفوظ آما جگاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں


یہاں کی سرزمین انتہائی زرخیز ہے اسی وجہ سے قلعہ سیف اللہ کو بلوچستان کے اہم زرعی شہروں میں شمار کیا جاتاہے۔یہاں پر گندم،تمباکو اورمکئی کی فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جو علاقائی ضروریات کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہےں۔سبزیاں خصوصاًبھنڈی ،توری ،کریلا، کدواور ٹماٹر وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں۔جن سے علاقے کے ساتھ ساتھ ملکی ضروریات کو بھی کافی حد تک پورا کر رہے ہیں۔یہاں تقریباً60% حصہ باغات پر مشتمل ہے سیب (چاروں قسم کندھاری،تور کلواور شین کلو)انار ،آڑو،آلوچہ،بادام اور آخروٹ وغیرہ سر فہرست ہیں۔ کے علاوہ خوبانی، انگور، انار اور سبزیوں میں گاجر، سبز مرچ اور سرخ مرچ اور کئی اقسام کی دالیں بھی پیدا ہوتی ہیں، یہاں کا ٹماٹر اپنے ذائقہ کے لیے بہت مشہور ہے- یہاں کی فصلیں،سبزیاں اور پھل نا صرف صوبہ کی سطح بلکہ قومی سطح پر بھی انتہائی پسندیدگی کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔



قلعہ سیف اللہ میں کئی اہم دریا بھی ہیں جن میں دریا جوگیزئی اور دریا ژوب کسی تعارف کے محتاج نہیں بلکہ دریا ژوب بلوچستان کا سب سے بڑا دریا ہے جس میں سارا سال پانی موجود رہتا ہے۔یہ دریا ضلع ژوب سے ہوتے ہوئے گومل ڈیم میں شامل ہونے کے بعد آخر کار دریائے سندھ میں مل جا تا ہے ۔ قلعہ سیف اللہ کو جب سے علاحدہ ضلع کا درجہ دیا گیا تین دہائیوں میں اس علاقے میں دن دگنی رات جوگنی ترقی ہوئی ہے۔ضلع قلعہ سیف اللہ دو تحصیلوں قلعہ سیف اللہ اور مسلم باغ پر مشتمل ہیں۔اس میں کل 21 یونین کونسلیں اور دو عدد میونسپل کمیٹیا ں ہیں۔ضلع قلعہ سیف اللہ میں مختلف قبائل آباد ہیں چند مشہور قوموں کے نام درجہ ذیل ہیں جلالزئی، جوگیزئی، خودیزئی، کمالدیزئی، شبوزئی، کریم زئی، موسیٰ زئی، مردانزئی ،خدائیداد زئی ،اسماعیل زئی، باتوزئی، علوزئی، اخترزئی اور بعض اقلیتن بھی قیام پزیر ہیں۔یہاں زیادہ فیصلے قبائلی روایات کے مطابق جرگہ سسٹم سے حل کیے جاتے ہیں جن سے سستا اور پوری انصاف مہینوں کی بجائے گھنٹوں اور دنوں میں حقدار کو حق دلایا جاتا ہے ۔ضلع قلعہ سیف اللہ انتہائی تیزی سے تر قی کر رہا ہے بہت سے ترقیاتی کا م پائے تکمیل تک پہنچنے والے ہیں جس میں ڈسٹر کٹ جیل، قلعہ سیف اللہ اور قومی شاہراہ چند مہینوں میں مکمل ہو جائینگے جن سے یہاں کے تاجر کم سے کم وقت میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کی منڈیوں تک رسائی حاصل کر لیں گے جن سے یہاں کی تجارت کو فروغ ملے گا۔

منگل، 2 دسمبر، 2025

سرمائ پرندوں کی ہجرت

 

موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی کراچی کے ساحل سی ویو پر  اور  پاکستان کی تمام جھیلوں اور  پانی کے دیگر زخائر پرسائبیریا سے بڑی تعداد میں مہمان پرندے پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔رنگ برنگے مہمان  پرندے سرد ممالک سے   برصغیر کے گرم ممالک میں ہجرت کرتے ہیں اور موسم سازگار ہونے پر واپس اپنے مستقل مسکن کی جانب کوچ کر جاتے    ہیں     آتے ہیں۔پاکستان بھی ان کے عارضی قیام          کے لئے  سازگار  مقام ہے   جہاں سائبیریا کے وسیع برف زار صحرا سمیت سرد علاقوں سے سفر کرنے والے پرندوں سے گرم علاقوں کے ان حصوں، خصوصاً جھیلوں میں بہار آجاتی ہے جہاں انہیں خوراک میسر آسکتی ہے۔سندھ میں کینجھر جھیل، ہالیجی جھیل، اڈیرو جھیل سمیت دیگر جھیلیں اور آبی ذخائر ایسے مقامات ہیں جہاں خوراک کی تلاش میں یہ مہمان اترتے ہیں۔نیرنگی، چیکلو، کونج، اڑی اور لال بطخ سمیت متعدد اقسام کے ان پرندوں میں بعض نایاب پرندے بھی شامل ہیں۔جن کے پیروں میں ایسے چھلے پائے جاتے ہیں جن میں ان کے بارے میں تحریر ملتی ہے۔ تحریروں کا مقصد ان پرندوں کی نایابی اور اہمیت کے بارے میں آگاہی دینا ہوتا ہے تاکہ ان کی حفاظت کی جائے۔  نیلگوں آسمان  میں تیرتے  ان پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ  قدرت کے حسن کا شاہکار نظر آتے ہیں ۔


پاکستان  میں بدین کی     خوبصورت جھیل  ہو یا سانگھڑ شہر کی بقار جھیل ہو  اللہ کے بھیجے  ہوئے ان معصوم ننھے مہمانوں کا مسکن ہوتی ہے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے بہترین مقام ہے  کیونکہ  دور دیس سے آٗئے مہمانوں کا ان دنوں آشیانہ بھی تصور کی جاتی ہے جو سخت سردی سے بچنے کے لیے سائبیریا سمیت دیگر سرد علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں پاکستان اور بھارت کے علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور پاکستان میں خصوصاً سندھ کی جھیلوں اور ممبئی کے ساحلوں کو اپنا مسکن بناتے ہیں۔سائیبیریا سے آئے یہ پرندے پاکستان کے ساحلی اور دریائی علاقوں   کو  ان رنگین خوبصورت آبی پرندوں کے دلفریب نظارے سرد موسم کو مزید نکھار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سال کے 4 ماہ قیام کرنے والے سائبیرین پرندوں کا لوگ بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ سندھ کے مقامی افراد جو ماحول دوست اور ہجرتی پرندوں کو نسل در نسل دیکھتے آرہے ہیں، وہ ان کی آمد سے بہت خوش ہوتے ہیں اور ان کو دل ہی دل میں خوش آمدید کہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ پہلے سندھ میں جہاں جنگلات میں موجود ڈاکو سید ذات اور خواتین کو نہیں لوٹا کرتے تھے بالکل ویسے ہی یہاں کے باشندے موسم سرما میں آئے غیر ملکی پرندوں کو مہمان تصور کرتے ہوئے ان کا شکار نہیں کیا کرتے تھے۔

۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی کے ساحل پر ہر سال موسم سرما کی آمد پر 179 سے زائد مہمان پرندے بسیرا کرتے ہیں۔پرندوں کی قیام گاہیں-عموماً ہم انہیں ’سائبیرین برڈ‘ یعنی سردی کے موسم میں سائبیریا سے ہجرت کرنے والے پرندے کہتے ہیں جو قدرے گرم علاقوں میں چند ماہ بسر کرتے ہیں۔ جب سردی اور برف جمنے کی وجہ سے دریاؤں اور جھیلوں کی مچھلیاں پانی کی تہ میں چلی جاتی ہیں اور ان پرندوں کو خوارک اور گرم ماحول کی ضرورت ہوتی ہے تب سرد ہوائیں شروع ہوتے ہی یہ پرندے جنوبی ایشیا بالخصوص پاکستان اور بھارت کے ساحلی علاقوں کا رخ کرتے ہیں-ٹھنڈے علاقوں کے ان پرندوں کو گرم ماحول کی ضرورت ہوتی ہےبدین سمیت دیگر علاقوں کی جھیلیں، نہریں، پانی کے قدرتی ذخائر اور کھیت کھلیان ہجرت کرکے آنے والے آبی پرندوں سے بھر جاتے ہیں۔پاکستان میں موسم سرما کے آغاز پر ہی جہاں روس، سائبیریا اور دیگر سرد مقامات سے آنے والے مہمانوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے وہیں شکاری اور بیوپاری بھی سرگرم ہوجاتے ہیں۔


ایک رپورٹ کے مطابق ہر سال کراچی سمیت سندھ کے 8 سے زائد اضلاع خصوصاً بدین، سجاول، ٹھٹہ اور کراچی میں لاکھوں سائبیرین پرندے آتے ہیں جو سندھ کی 11 جھیلوں کے کنارے پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ ضلع بدین کی ساحلی پٹی کے زیرو پوائنٹ، نریڑی جھیل، رامسر سائیٹ ہالیجی جھیل ٹھٹہ، گارھو جھیل، اسی طرح کراچی کے ساحلی علاقوں مبارک ولیج، ماڑی پور، ہاکس بے، ابراہیم حیدری سے ریڑھی گوٹھ کے ساحل تک اور ڈینگی اور بھنڈار سمیت دیگر جزائر میں بھی یہ ہجرت کرنے والے پرندے بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔تاہم زیادہ تر پرندے ضلع سجاول کی جھیلوں میں اترتے ہیں۔ان پرندوں پر کام کرنے والے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق گزشتہ 2 سالوں میں 220 اقسام کے 6 لاکھ سے زائد پرندوں نے پاکستانی علاقوں کا رخ کیا۔ تاہم موسمی حالات اور دنیا میں آتی دیگر تبدیلیوں کے باعث اب یہ تعداد وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جا رہی ہے جس کی ایک وجہ سندھ بھر میں بارشوں کی کمی اور خشک سالی بھی بتائی جارہی ہے۔ہجرت کے راستےیہ پرندے 3 ہزار میل سے زائد کا فاصلہ طے کرکےکرغزستان، افغانستان کے راستے جسے گرین روٹ یا انڈس فلائی وے بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پہنچتے ہیں۔اور اپنا سرمائ  وقت گزار کر واپس اپنے مسکن چلے جاتے ہیں 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر