اتوار، 3 اگست، 2025

آج کی دنیا میں سولر انرجی کا انقلاب





۔سورہ شمس میں اللہ  تعالیٰ  فرما رہا ہے'  قسم  ہے سورج کی اور اس کی  دھوپ  کی ۔ جس نعمت کا زکر خداوند عالم خود اپنے کلام بلاغت میں اعتراف کر رہاہو آئیے کچھ  سورج  اور اس کی دھوپ کے بارے میں جانتے ہیں 'سورج کی دھوپ اپنے آپ میں آلودگی سے پاک ہے اور بہ آسانی میسر ہے۔ برصغیر کے خطے  کو یہ سہولت حاصل ہے کہ سال کے 365 دنوں میں 250 سے لے کر 320 دنوں تک سورج کی پوری دھوپ ملتی رہتی ہے۔ دن میں سورج چاہے دس سے بارہ گھنٹے تک ہی ہمارے ساتھ رہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سورج کی گرمی ہمیں رات دن کے 24 گھنٹے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس میں نہ دھواں ہے، نہ کثافت اور نہ آلودگی۔ دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔ جب کہ صورت حال یہ ہے کہ سورج کی روشنی کرنوں کی شکل میں صرف چوتھائی حصہ ہی زمین پر آتی ہے  ۔ دھوپ سے حاصل ہونے والی توانائی ”سولر انرجی“ یا ”شمسی توانائی“ کہلاتی ہے۔



 دھوپ کی گرمی کو پانی سے بھاپ تیار کرکے جنریٹر چلانے اور بجلی بنانے میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دھوپ قدرت کا عطیہ ہے، ہر روز دنیا پر اتنی دھوپ پڑتی ہے کہ اس سے کئی ہفتوں کے لیے بجلی تیار کی جا سکتی ہے۔ سورج زمین سے تقریباً 15کروڑ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ زمین سے تیرہ لاکھ گنا بڑا ہے۔ چونکہ آفتاب میں صرف تپتی ہوئی گیس پائی جاتی ہے، اس لیے اس کی کثافت (Density) کم ہے۔ اس کا وزن زمین سے سوا تین لاکھ گنا زیادہ ہے۔ سورج کی باہری سطح کا درجہ ¿ حرارت تقریباً 6ہزار ڈگری سیلسیس ہے۔ اس کے مرکزی حصے کا درجہ  حرارت ایک کروڑ ڈگری Celcius ہے۔ اس کے چاروں طرف روشنی اور حرارت نکلتی رہتی ہے۔ سورج کی سطح کے فی مربع سینٹی میٹر سے پچاس ہزار موم بتیوں جتنی روشنی نکلتی ہے اور زمین سورج سے نکلی ہوئی طاقت کا محض دوسو بیس کروڑواں حصہ ہی اخذکر پاتی ہے۔ شمسی توانائی کے بغیر زمین پر زندگی ممکن نہیں۔    



بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں سولر انرجی دو سو برس پہلے ہی دریافت ہو چکی تھی لیکن چونکہ بجلی کےدوسرے زرائع میسر تھے اس لئے سولر کی جانب کسی کا دھیان بھی نہیں گیا لیکن اب پوری دنیا میں بجلی کی کھپت کے بڑھ جانے کی وجہ سے    سولر انرجی نے دنیا بھر کوخصوصاپاکستان کو اپنی جانب متوجہ کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سولر انرجی لوگوں کی ضرورت سے زیادہ مالی سہولت کاری کا باعث بن گئ  اور یوں دنیا بھر میں سولر انرجی آج توانائی کے شعبے میں معاشی اعتبار سے سب سے زیادہ قابل عمل حل بن کر سامنے آئ ہے-       سورج کی دھوپ اپنے آپ میں آلودگی سے پاک ہے اور بہ آسانی میسر ہے۔ برصغیر کے خطے  کو یہ سہولت حاصل ہے کہ سال کے 365 دنوں میں 250 سے لے کر 320 دنوں تک سورج کی پوری دھوپ ملتی رہتی ہے۔دن میں سورج چاہے دس سے بارہ گھنٹے تک ہی ہمارے ساتھ رہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ سورج کی گرمی ہمیں رات دن کے 24 گھنٹے حاصل ہو سکتی ہے۔ اس میں نہ دھواں ہے، نہ کثافت اور نہ آلودگی۔



 دیگر ذرائع سے حاصل توانائی کے مقابلے میں سورج کی روشنی سے 36 گنا زیادہ توانائی حاصل ہو سکتی ہے۔پاکستان دنیا میں شمسی توانائی کے سب سے تیز ترین انقلاب کا مشاہدہ کر رہا ہے۔  چین سے سستے ترین سولر پینلز کی آمد نے پاکستان کو شمسی توانائی کا تیسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ بنا دیا ہے، جہاں 2024 میں 17 گیگاواٹ سولر پینلز درآمد کیے گئے۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این نے پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ جاری کی ہے اوراس سٹوری کو اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ٹاپ پر جگہ دی ہے۔آج پیپلز پارٹی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کراچی سمیت غریب لوگوں کو پورے سندھ میں سستے ترین سولر سسٹم مہیا کیے جائیں گےسندھ حکومت نےعالمی بینک کے اشتراک سے 7 ہزار روپے میں پورا سولر سسٹم عوام کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق صوبے میں 2 لاکھ گھرانوں کو 7 ہزار روپے میں پورا سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا جس سے ایک پنکھا اور 3 ایل ای ڈی بلب جلائے جاسکیں گے۔


ڈائریکٹر سندھ سولر انرجی کے مطابق صوبے کے ہر ضلع میں 6 ہزار 656 سولر سسٹم دیئے جائیں گے،منصوبے کا آغاز اکتوبر سے متوقع ہے۔ پراجیکٹ کیلئے ورلڈ بینک نے 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں ۔ واضح رہے کہ سندھ میں شمسی توانائی سے 400 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے ،منصوبے کے آغاز کے بعد پیداوارمیں مزید اضافہ متوقع سے زیادہ نرخوں نے عام لوگوں کو براہ راست اس ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا،آج شمسی توانائی سے بہت سے کام لیے جا رہے ہیں۔ چاہے کھانا پکانا ہو، پانی گرم کرنا ہو یا مکانوں کو ٹھنڈا یا گرم رکھنا ہو۔ فصلوں کے دنوں میں دھان سکھانا ہو یا پائپوں کے ذریعے سینچائی۔ ملک کے دیگر حصوں میں Solar Photovoltaic Centres قائم کیے جا چکے ہیں جو ایک کلوواٹ سے ڈھائی کلوواٹ تک بجلی پیدا کرتے ہیں۔ گھروں، ڈیریوں، کارخانوں، ہوٹلوں اور اسپتالوں میں پانی گرم کرنے کے لیے ایسے آلات لگے ہیں جو 100 لیٹر سے لے کر سوا لاکھ لیٹر تک پانی گرم کر سکتے ہیں۔ شمسی چولھے کم سے کم دو کلو لکڑی کی بچت کر سکتے ہیں۔ ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا ملک غیر روایتی توانائی کے میدان میں داخل ہو چکا ہے اورتوانائی حاصل کرنے کا مستقبل اب دھوپ، سمندر کے پانی اور ایک قسم کی ایٹمی توانائی جو Nuclear Fusion کہلاتی ہے جیسے ذرائع سے وابستہ ہوتا جا رہاہے۔پاکستان دنیا میں شمسی توانائی کے سب سے تیز ترین انقلاب کا مشاہدہ کر رہا ہے۔  چین سے سستے ترین سولر پینلز کی آمد نے پاکستان کو شمسی توانائی کا تیسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ بنا دیا ہے، جہاں 2024 میں 17 گیگاواٹ سولر پینلز درآمد کیے گئے۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این نے پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ جاری کی ہے اوراس سٹوری کو اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ٹاپ پر جگہ دی ہے۔


ہفتہ، 2 اگست، 2025

ایک انگریز شیعہ مسلمان کی داستان زندگی

  



حیدرآباد  سندھ  میں گزشتہ کافی  برس   سےمحرم کی آٹھ تاریخ کو ایلی کاٹ کے نام سے بھی ذوالجناح  کا  ایک ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ایلی کاٹ کون تھا اور اس کی کہانی کیا ہےحیدرآباد سندھ کے چند عمر رسیدہ لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ ایلی کاٹ  وہ انگریز شیعہ  مسلمان  تھا جس نے غم حسین کو اپنانے کے لئے  اپنا مذہب   ترک کر کے شیعہ مسلمان  مذہب اپنا لیا  تھا  اور وہ ہر سال محرم الحرام میں سیاہ کپڑے زیب تن کئے عزا داری میں پیش پیش نظر آتا تھا۔اپنی نوجوانی کی خوبصورت عمر میں بیلے ڈانس کے دلدادہ ایلی کاٹ اپنے ڈرائیور کی زبانی واقعہ کربلا سن کر ایسے مسلمان ہوئے کہ انہوں نے گھر بار بیوی بچے سب کچھ چھوڑ دیا اور مرتے دم تک ’غم حسین‘ کو سینے سے لگائے رکھا۔ ان کی والدہ لیڈی ڈفرن ہسپتال حیدرآباد میں ڈاکٹر تھیں اور والد فاریسٹ آفیسر تھے۔ جو کہ ہمیشہ شکار میں مصروف رہتے تھے۔چارلی کی ماں  اور باپ دونوں  انگریز تھے - چارلی کے والد  کے منشی  کی بیوی سے چارلی کی والدہ کا دوستانہ تھا  لیڈی ڈفرن کے یہاں شادی کے کے کافی عرصے بعد تک کوئ اولاد نہیں تھی



  محرم آنے پر وہ منشی کی بیوی کو  اور علاقے کی دوسری خواتین کو  زوالجناح  کی آمد پر نذر نیاز کرتے دیکھتی تھیں چارلی کی والدہ نے منشی کی بیگم سے محرم کی رسومات کے بارے میں کچھ سوال جواب کئے -جن کے جواب میں منشی کی بیگم نے بتایا کہ  یہاں لوگ ذوالجناح پر اولاد کی منت مانتے ہیں جو پوری ہو جاتی ہے 'کیو نکہ چارلی کی ماں بھی ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم تھیں چنانچہ انہوں نے بھی منت مان لی اور اللہ پاک نے اپنے کرم اور مولا حسین کے وسیلے  سے  ان کو  چارلی کی نعمت  سے صاحب اولاد کر دیا 'اور جب چارلی ان کی گود میں آ گئے تب  لیڈی  ڈفرن ان کو محرم آنے پر  ہمیشہ  کالے کپڑے پہنایا کرتی تھیں۔ چارلی اپنی والدہ سے بہت متاثر تھے  'نوجوانی آنے پر انہوں نے تعلیم مکمل کی اور محکمہ ایکسائز میں انسپیکٹر  کی  جاب   بھی جوائن کر  لی ۔ عبدالغفور چانڈیو   غم حسین سے سرشار ان  کو بطور ڈرائیور ملا ہوا  تھا۔ اُس سے ’مولا علی اور امام حسین‘ کی شہادت اور ان کی زندگی کے بارے میں سن کر ایلی کاٹ کو بھی حسینی قافلہ میں شامل ہونے کا شوق ہوا۔بعد میں ایلی کاٹ نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام علی گوہر رکھا۔ وہ اپنا وقت قدم گاہ اور اشرف شاہ کے پڑ میں گزارتے تھے۔




وہ لندن بھی گئے جہاں والد نے ان کی شادی کی۔ اس شادی سے ان کے یہا ں  ایک بیٹی اور ایک بیٹا بھی تھا۔قیام پاکستان کے بعد انھوں نے واپس جانے سے انکار کیا اور یوں ماں بیٹا یہاں مقیم ہو گئے۔واضح رہے کہ پڑ سندھی میں اس علاقے کو کہتے ہیں جہاں علم لگایا جاتا ہے اور ذوالجناح کا جلوس نکالا جاتا ہے۔ قدیم حیدرآباد میں ہر علاقہ وہاں کے رہائشی افراد کے پیشے کے لحاظ سے آباد ہوا اور تالپور حکومت میں ہر جگہ پڑ اور علم بنائے گئے۔حیدر آباد میں گذشتہ  سال سے محرم کی آٹھ تاریخ کو ایلی کاٹ کے نام سے بھی ایک ماتمی جلوس نکالا جاتا ہے  ایلی کاٹ کے ڈرائیور کا نام عبدالغفور چانڈیو تھا اور ان سے ہی واقعہ کربلا اور حضرت علی کے حالات زندگی کے بارے میں سُن کر ایلی کاٹ کو بھی حسینی قافلے میں شامل ہونے کا شوق ہوا۔عبدالغفور چانڈیو کے بیٹے غلام قادرچانڈیو نے سنہ 2004 میں بی بی سی کو بتایا تھا کہ ایلی کاٹ نے اُن کے والد عبدالغفور سے کہا تھا کہ وہ بھی  ذوالجناح  کا ماتمی جلوس نکالنا چاہتے ہیں لیکن عبدالغفور چانڈیو گریز کرتے رہے اور کہتے رہے کہ اس کے لیے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے



بقول غلام قادر، چارلی اپنے فیصلہ پر اٹل رہے۔ بالآخر عبدالغفور نے چارلی ایلی کاٹ کی سرپرستی میں ماتمی جلوس نکالنے کے لیے حامی بھر لی، جس پر چارلی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔حیدرآباد کے پکے قلعہ میں چانڈیوں کی امام بارگاہ سے پہلی بار ذوالجناح کا جلوس نکالنے کی تیاری کی گئی۔ یکم محرم الحرام کو جب یہ جلوس روانگی کے لیے تیار تھا تو عجیب اتفاق یہ ہوا کہ چارلی کی والدہ کی وفات ہو گئی۔غلام قادر بتاتے ہیں کہ بابا عبدالغفور نے ایلی کاٹ کو یاد دلایا کہ انھیں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ اس کام میں بڑی قربانی دینی پڑتی ہے جس سے ایلی کاٹ کا ایمان اور پختہ ہو گیا۔ایلی کاٹ نے صبح کو والدہ کی حیدرآباد کے شمال میں واقع گورا قبرستان میں تدفین کی اور شام کو اپنے غم کو بھول کر اور سیاہ کپڑے پہن کر ننگے پاؤں ماتم میں شامل ہو گئے۔غلام قادر جو ایلی کاٹ کے ساتھی رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ ایلی کاٹ نے اپنی انگریز بیوی کو بتایا کہ وہ ’مومن‘ ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے اُن کے سامنے دو راستے ہیں، پہلا یہ کہ وہ بھی مسلمان ہو جائیں اور دوسرا یہ کہ واپس انگلینڈ چلی جائیں اور اپنی زندگی گزاریں۔اُن کی بیوی نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور وہ بچوں سمیت انگلینڈ چلی گئیں، جہاں سے وہ کبھی بھی چارلی کے لیے لوٹ کر نہیں آئیں۔



چارلی قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل وہ اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پر چلے گئے جہاں انھوں نے چھ ماہ تک ملنگوں والی زندگی گزاری۔ چھ ماہ بعد حیدرآباد لوٹ آئے اور بقیہ تمام زندگی اپنے ڈرائیور عبدالغفور کے پاس رہ کر گزار دی۔   اپریل 1971 کو چارلی ایلی کاٹ کی وفات ہوئی اور انھیں اُسی ماتمی گنبد میں دفن کر دیا گیا، جہاں وہ رہتے تھے۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا - اللہ کریم و رحیم چارلی ایلی کاٹ کو محشرمیں امام حسین علیہ السلام کی شفاعت عطا فرمائیں آمین 

جمعہ، 1 اگست، 2025

زرا عمر رفتہ کو آواز دینا - پھر میرے نانا جان بیس دن زندہ رہے

 



 جی ہاں! آزادئ ہند کی خونچکاں داستان دہلی میں انیس سو ستاون  میں  دہلی کے مسلمانوں کے خون سےرقم ہوئ -جب  چشم فلک نے ایک  صبح  کی روشن کرنوں میں ایک دلخراش نظارہ دیکھا  کہ دہلی کے تمام  شہر  میں کوئ درخت ایسانہیں تھا جس پر  ایک مسلمان کی جھولتی ہوئ لاش نا ہو -اور دہلی کی گلیاں اور درو دیوار مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے  اس سے اور آگے دیکھیں تو' توپ کے دہانوں سے باندھ کر مسلمانوں کے چیتھڑے بدن ہوا میں دور تک اچھلتے دیکھے جا سکتے تھے -پھر دہلی کے باسیوں نے اس ہولناک قتل عام کے بعد  آزادی کے خواب کو ہمیشہ  کے لئے دفن کر دیا  لیکن اس کے بعد دہلی کے بجائے یو پی میں آزادئ ہند کی  لہر اٹھی جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کر لی اوراس درخت سے نکلنے والی شاخوں نے آزادئ ہند کی فوج کا ایک ہراول دستہ تیار کیا لیکن اس مرتبہ تحریک کا مرکز لکھنؤ کا ایک بڑا مشہور مدرسہ  غالباً مدرسہ نظامیہ تھا تحریک خلافت سنہ 1919 میں خلافت تحریک کا آغاز ہوا لیکن  مولانا محمد علی جوہر کو جلاوطنی اختیار کرنی پڑی اور تحریک خلافت  قصہء پارینہ ہو گیئ  


 وقت گزر کر اب انیس سو چالیس کا زمانہ آ لگا تھا اور  لکھنؤ شہر میں آزادئ ہند کا ایک ہراول  دستہ  سر سے کفن باندھ کر پھر تیار تھا اس ہراول دستے میں میرے نانا جان سید صغیر حسین بھی شامل تھے- انگریز سر کار کو میرے نانا جان کی  شکائت پہنچا دی گئ  کہ  وہ بھی  آزادئ ہند کے ہراول دستے میں شامل ہو گئے ہیں مقدمہ درج ہوا اور پیشیاں پڑنے لگیں  ایسے میں راجہ صاحب محمود آبا د اول ان کے مددگار کے طور پر سامنے آئے انہوں نے بڑی رقم ضمانت کے طور پر پیش کی یہاں  تک کہ راجہ صاحب نے ایک مقام پر کہا کہ وہ اپنی پوری ریاست بطور ضمانے دینے کو تیار ہیں      لیکن سرکار راضی نہیں ہوئ اور پھر آخری پیشی پر   عدالت نے میرے نانا جان کو بیس برس کی قید کی سزا سنائ گئ عدالت نے ان سے کہا  کہ وہ گھر جا کر اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیاء لے کر آ جائیں  نانا جان کو ایک پہریدار کے ساتھ گھر بھیجا گیا -ان دنوں میرے ناناجان کی دو بہنیں ضلع بہرائچ سے اپنے میکے یعنی میرے نانا جان کے گھر آئ ہوئ تھیں-نانا جان بلکل سکون کے ساتھ  گھر آئے اور اپنی قید کے بارے میں بتایا تو گھر کے اندر ایک کہرام برپا ہو گیا لیکن نانا جان نے اپنا سامان رکھتے ہوئے گھر والوں سے کہا میری قید بیسویں روز پوری ہو جائے گی اور پھر میں تم لوگوں کے درمیا ن ہو ں گا -


نانا جان جیل جا چکے تھے اورگھر میں سوگ کا سماں تھا لیکن بیس دن کی مدت پوری ہونے میں اس دن بیسسواں ہی دن تھا دربان کے مطابق رات حسب معمول عبادت میں گزار کر میرے نانا جان سوئے تھے لیکن صبح نہیں اٹھ سکے دربان نے اس کو جگایا تو وہ خدا کے گھر جا چکے تھے اور اس طرح قید کے بیس روز مکمل بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ ان کی پیشین گوئ پوری ہو چکی تھی -اب نانا جان تو خدا کے گھر جنت مکین ہو چکے تھے اور ان کے پیچھے ان کے پسماندگان میں بے یارو مددگار  ان کے پانچ بچے اور ایک بیوہ رہ گئ تھیں -/  جی ہاں آزادئ ہند کی خونچکاں داستان دہلی میں انیس سو ستاون  میں  دہلی کے مسلمانوں کے خون سےرقم ہوئ -جب دہلی کے تمام  شہر  میں کوئ درخت ایسانہیں تھا جس پر  ایک مسلمان کی جھولتی ہوئ لاش نا ہو -اور دہلی کی گلیاں اور درو دیوار مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے  اس سے اور آگے دیکھیں تو توپ کے دہانوں سے باندھ کر مسلمانوں کے چیتھڑے بدن ہوا میں دور تک اچھلتے دیکھے جا سکتے تھے -اس کے بعد دہلی کے بجائے یو پی میں آزادئ ہند کی  لہر اٹھی جس نے آگے چل کر ایک تناور درخت کی حیثیت اختیار کر لی-اس درخت سے نکلنے والی شاخوں نے آزادئ ہند کی فوج کا ایک ہراول دستہ تیار کیا -



 لیکن اس مرتبہ تحریک کا مرکز لکھنؤ کا ایک بڑا مشہور مدرسہ  غالباً مدرسہ نظامیہ تھا تحریک خلافت سنہ 1919 میں خلافت تحریک کا آغاز ہوااب انیس سو چالیس کا زمانہ آ لگا تھا اور اس ہراول دستے میں میرے نانا جان سید صغیر حسین بھی شامل تھے- انگریز سر کار کو میرے نانا جان کی  شکائت پہنچا دی گئ  کہ  وہ بھی  آزادئ ہند کے ہراول دستے میں شامل ہو گئے ہیں -مقدمہ درج ہوا اور پیشیاں پڑنے لگیں  ایسے میں راجہ صاحب محمود آبا د اول ان کے مددگار کے طور پر سامنے آئے انہوں نے بڑی رقم ضمانت کے طور پر پیش کی لیکن سرکار راضی نہیں ہوئ اور پھر آخری پیشی پر   عدالت نے میرے نانا جان کو بیس برس کی قید کی سزا سنائ گئ عدالت نے ان سے کہا  کہ وہ گھر جا کر اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیاء لے کر آ جائیں  نانا جان کو ایک پہریدار کے ساتھ گھر بھیجا گیا -ان دنوں میرے ناناجان کی دو بہنیں ضلع بہرائچ سے اپنے میکے یعنی میرے نانا جان کے گھر آئ ہوئ تھیں- نانا جان بلکل سکون کے ساتھ  گھر آئے اور اپنی قید کے بارے میں بتایا تو گھر کے اندر ایک کہرام برپا ہو گیا لیکن نانا جان نے اپنا سامان رکھتے ہوئے گھر والوں سے کہا میری قید بیسویں روز پوری ہو جائے گی اور پھر میں تم لوگوں کے درمیا ن ہو ں گا -نانا جان جیل جا چکے تھے اورگھر میں سوگ کا سماں تھا لیکن بیس دن کی مدت پوری ہونے میں اس دن بیسسواں ہی دن تھا دربان کے مطابق رات حسب معمول عبادت میں گزار کر میرے نانا جان سوئے تھے لیکن صبح نہیں اٹھ سکے دربان نے انکو جگایا تو وہ خدا کے گھر جا چکے تھے اور اس طرح قید کے بیس روز مکمل بھی نہیں ہونے پائے تھے کہ ان کی پیشین گوئ پوری ہو چکی تھی -اب نانا جان تو خدا کے گھر جنت مکین ہو چکے تھے اور ان کے پیچھے ان کے پسماندگان میں بے یارو مددگار  ان کے پانچ بچے اور ایک بیوہ رہ گئں تھیں  

جمعرات، 31 جولائی، 2025

تلوردنیا کا ایک نایاب پرندہ

 

 
 

 
   ہماری اس دنیا  میں خدائے  بزرگ و برتر نے  ہمارے لئے  کیا کچھ نعمتیں عطا کی ہیں  اب پرندوں کو لے لیجئے ہزارہا پرندوں میں تلور  ایک نایاب پرندہ ہے جو مرغی کی جسامت کا ہوتا ہے۔ اس کی دنیا میں کل تعداد 50 ہزار سے ایک لاکھ تک کے درمیان ہے۔ جزیرہ نماعرب میں یہ پرندہ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔تلور نامی بڑے پرندے زمین پر رہنے والے پرندوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کھلی زمین اور گھاس کے میدانوں میں رہتے ہیں۔تلور مرغی کے سائز کا ہوتا ہے۔ اس کی دنیا میں کل تعداد 50 ہزار سے ایک لاکھ تک کے درمیان ہے۔ جزیرہ نما عرب میں یہ پرندہ تقریباً ناپید ہو چکا ہے۔ پاکستان میں یہ کافی تعداد میں پایا جاتا ہےتلور زمین پر گھونسلا بناتے ہیں اور ہمہ خوروں کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اپنی مضبوط ٹانگوں اور بڑے پنجوں کی مدد سے یہ زمین پر آسانی سے چل سکتے ہیں۔ چلتے پھرتے یہ اپنی خوراک بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ان کے پروں پر اضافی پر موجود ہیں جو اڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ مادہ تین سے پانچ تک انڈے دیتی ہے جن پر دھبے موجود ہوتے ہیں۔ یہ انڈے زمین پر موجود کسی بھی ڈھیر پر دیے جاتے ہیں اور مادہ اکیلے ہی انڈوں کو سیتی ہے۔جبکہ میل تلور  اس دواران مٹر گشتی کے ساتھ ساتھ مادہ کو خوراک بھی فراہم کرتا ہے

 
 تلور پرندوں کے درمیان بہت میل  جول رکھنے والا پر ندہ ہے لیکن  انسانوں سے سے زیادہ قربت پسند نہیں کرتا ہے -ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی جانب سے سفارش کی گئی ہے کہ پاکستان کو تلور کے شکار کے پرمٹس کے اجزا بند کر دینا چاہیے اور اس کے شکار پر فوری طور پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ورلڈ وائلڈلائف فنڈ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ہونے والے سرویز کے بعد ہی محدود پیمانے پر پرندے کے شکار کی اجازت دی جائے۔یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ سروے میں تمام متعلقہ فریقین کو شامل رکھا جائے اور پرندے کی تعداد اور اس میں ہوتے اضافے کا جائزہ لیا جائے۔سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے شاہی خاندان کے افراد تلور کے شکار کے لیے دسمبر سے فروری تک کے عرصے میں پاکستان آتےہیں۔2019 میں امریکی میگزین دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ شکار کے لیے ہر گروپ ایک لاکھ ڈالر ادا کرتا ہے، اسی طرح دس روز کے لیے بنایا جانے والا پرمٹ ایک لاکھ ڈالر کی ادائیگی کے بعد جاری  ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق اس پرمٹ کے مطابق اس پر سو پرندوں کے شکار کی اجازت ہوتی ہے۔

 
شکاریوں کی طرف سے لائے جانے ہر بازوں کے لیے فی باز ایک ہزار ڈالر وصول کیے جاتے ہیں۔مقامی   لوگوں کو کہنا ہے کہ شکاری جن علاقوں میں عارضی طور پر رہائش رکھتے ہیں، ان کی وجہ سے ان دورافتادہ علاقوں کی ترقی میں مدد ملی ہےبقول ان کے ان علاقوں میں تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پرلاکھوں  ڈالرخرچ کیے گئے۔مقامی لوگوں کے مطابق جن علاقوں میں شکاری عارضی طور پر رہائش رکھتے ہیں وہاں تعلیم، صحت اور پانی کی فراہمی پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے (فوٹو: ہوبارہ فاؤنڈیشن)علاوہ ازیں ہوبار فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان (ایچ ایف آئی پی) کے حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ محدود پیمانے پر ہونے والا شکار تلور کی نسل کو بچانے کے لیے بہترین راستہ ہے۔رحیم یار خان کے رہائشی علی احمد نے عرب نیوز کو بتایا کہ ان کے خاندان کی تین نسلوں میں سے کسی نے بھی سکول نہیں دیکھا تھا لیکن ان کے بچے سکول میں پڑھنے جاتے ہیں۔

 
ان کے مطابق ’ہم مٹی کی جھونپڑیوں میں شدید گرمی اور سردی میں رہتے تھے مگر اب ہم ایک ایسی کالونی میں رہتے ہیں جو تمام سہولتیں دستیاب ہیں‘علی احمد نے یہ بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات سے شکار کے لیے آنے والوں شیخوں نے ہمارے علاقے میں کئی ترقیاتی کام کروائے جس سے ہماری زندگی میں آسانی آئی ہے۔نینا کماری نامی مقامی خاتون نے فون پر عرب نیوز کو بتایا کہ انہوں نے اپنی بیمار بارہ سالہ بیٹی کو شیخ زید میڈیکل کمپلیکس رحیم یار خان میں داخل کروایا جو اماراتی حکومت کا ہی بنایا ہوا ہسپتال ہے۔ان کے مطابق اس ہسپتال میں کھانا اور ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔عرب نیوز کے ساتھ گفتگو میں ہوبار فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان کے حکام نے بھی اس امر سے اتفاق کیا کہ عرب ممالک کی اہم شخصیات کی جانب سے ان علاقوں میں آمد سے تلور کے شکار کو تحفظ ملا ہے ایسا نہ ہوتا تو پرندے کی نسل خطرات کا شکار ہو جاتی۔


ہوبار فاؤنڈیشن کے عہدیدار لیفٹیننٹ کرنل رانا کمال الدین کے مطابق عرب ملکوں سے آنے والی اہم شخصیات کی جانب سے ہر سال فروری اور مارچ کے مہینوں کے دوران تلور آزاد کیے جاتے ہیں۔کرنل رانا کمال الدین نے بتایا ’عرب ممالک سے آنے والے شکار کے لیے پرندے ساتھ لاتے ہیں، جتنے پرندے چھوڑے جاتے ہیں ان کی تعداد شکار ہونے والے پرندوں سے زیادہ ہوتی ہے‘ تلور کے شکار کے سبب علاقے کو ترقی ملی‘جنوبی پنجاب کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہر سال موسم سرما میں خلیجی شکاریوں کی تلور کے شکار کے لیے ان کے علاقے میں آمد سے ان کی معاشی حالت میں بہتری آتی ہے۔تاہم جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پرندوں کی تعداد میں سالانہ اضافے کے کسی سروے کی عدم موجودگی کے باوجود ان کا شکار جاری ہے۔عرب نیوز میں پیر کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق فطرت کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم نے تلور کو خطرے سے دوچار پرندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
  

بدھ، 30 جولائی، 2025

نجاشی والئ حبشہ مسلمانوں کا غم گسار بادشاہ

 

 دین اسلام کے پھیلاؤ کا دائرہ وسیع ہوتے ہی کفار کے مظالم کا سلسلہ بھی دراز ہونے لگا  -آپ نبئ کریم صلی ا للہ  علیہ واٰلہ وسلم  کو معلوم تھا   ! شاہ نجاشی  جو مسلمانوں کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کوحبشہ ہجرت کرجانے کا حکم دیا؛ چنانچہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ سے حبشہ ہجرت کرگئی، شاہ  نجاشی نے مسلمانوں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا، قریش کو اس احسان وسلوک کا حال معلوم ہوا توبڑا پیچ وتاب کھایا، آخر میں طے کیا کہ شاہ نجاشی کے ایک وفد جائے اور یہ عرضداشت پیش کرے کہ ہمارے مجرموں (مسلمانوں) کوہمارے حوالے کر دے، اس مہم کے لیے عمروبن العاص اور عبد اللہ بن ربیعہ کو منتخب  کیا گیا  یہ لوگ حبشہ پہنچے توپہلے تمام پادریوں سے ملے اور ت بیش قیمت تحائف  پیش کیے اور مقصد کی تکمیل کے لیے ان کوہموار کر لیا؛ پھرشاہ نجاشی اصمحہ کے دربار میں بازیابی حاصل کی اور نذرانہ پیش کیا، نجاشی نے آمد کی وجہ دریافت کی؛ انھوں نے اپنا مطالبہ ظاہر کیا،نجاشی نے پادریوں سے دریافت کیا؛ انھوں نے بھی یک زبان ہوکر ان کے مطالبہ کی تائید کی؛ 



 شاہ نجاشی نے کہا: میں ان لوگوں سے خود بالمُشافہ گفتگو کروں گا؛ اگروہ لوگ جیسا کہ تم کہتے ہو مجرم ثابت ہوئے توان کوواپس کردوں گا؛ ورنہ جومیری پناہ میں آگیا ہے اس پرظلم روا نہیں رکھا جا سکتا، مسلمان دربار میں بلائے گئے تواصمحہ نے ان سے پوچھا کہ تم نے کونسا دین اختیار کیا ہے، جو نہ نصرانیت ہے نہ بت پرستی اور نہ کسی دوسری قوم کا دین ہے، مسلمانوں کی طرف سے حضرت جعفر نے وکالت کی اوربرسرِدربار ایک بہت ہی مؤثر اور دلنشین تقریر کی، جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور اسلام کی اخلاقی خوبیاں بیان کیں، اس کے بعد شاہ نجاشی نے حضرت جعفر کے قرآن کا کچھ حصہ پڑھنے کی فرمائش کی؛ انھوں نے سورۂ مریم کی چند ابتدائی آیتیں تلاوت کیں، نجاشی پررقت طاری ہو گئی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، اس کے بعد انھوں نے ان فدائیانِ اسلام کوقریش کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیااور مسلمان زبانِ حال سے یہ شعر پڑھتے ہوئے دربار سے نکل آئے


 جب قریش کے وفد کوپہلے روز ناکامیابی ہوئی توانھوں نے دوسرے روز پھرکسی طرح دربار میں رسائی حاصل کی اور شاہ نجاشی کے سامنے عرض داشت پیش کی کہ اُن مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق دریافت فرمایا جائے، مسلمان پھربلائے گئے، ان کے لیے یہ بڑی آزمائش کا وقت تھا؛اگرسچ کہتے ہیں توشاہ نجاشی ناخوش ہوتا ہے اور اس کے خلاف کہتے ہیں تودین کے وقار کوصدمہ پہنچتا ہے، آخر کار انھوں نے یہ طے کیا کہ چاہے جوکچھ بھی ہو انھیں سچ ہی بولنا چاہیے، اس روز بھی حضرت جعفر ہی گفتگو کے لیے منتخب ہوئے؛ انھوں نے فرمایا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اس کے کلمہ اور اس کی روح ہیں، نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اُٹھایا اور کہاخدا کی قسم! حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں، دربار کے بطریق اور پادری اس پربہت ناراض ہوئے؛ 


لیکن ناراضی کا ان پرکوئی اثر نہ ہوا، قریش نے جوتحفے تحائف نجاشی کے حضور میں پیش کیے تھے، نجاشی نے سب واپس کردیے اور وفد وہاں سے نامراد مکہ واپس چلا آیا۔ حبشہ سے ہجرت مدینہ منورہ ۔ فتح خیبر کے وقت جعفر طیار کی واپسی کا واقعہ بہت اہم ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو اس وقت جعفر طیار حبشہ سے واپس آئے۔ وہ اور ان کے ساتھی اس وقت آئے جب خیبر فتح ہو چکا تھا، اور اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ 
اس واقعے کی تفصیلات کچھ یوں ہیں: حبشہ سے واپسی:جعفر طیار اپنے ساتھیوں کے ساتھ حبشہ میں تھے جہاں وہ ہجرت کر کے گئے تھے۔فتح خیبر:جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو جعفر طیار اور ان کے ساتھیوں کو اس کی خبر ملی۔مدینہ آمد:وہ مدینہ واپس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔استقبال:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر طیار اور ان کے ساتھیوں کا والہانہ استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔خوشی کا اظہار:اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ کس بات پر زیادہ خوشی کا اظہار کروں، خیبر کی فتح پر یا جعفر طیار کی واپسی  پر، ۔

منگل، 29 جولائی، 2025

ہم تمھارے پاس تا قیامت آئیں گے -امام عالی مقام -حصہ دوم

 

  محر  م  الحرام   کی 9 تاریخ کے دن میں مسجد کے صحن میں پردے داری کے ساتھ تابوت بنانے کی تیاری کی گئ   اور علاقے کےمومنین کو دعوت بھیجی گئ  کہ  مولا فجر سے پہلے تشریف لائیں گے  چنانچہ  عزاروں کا ایک جم غفیر  مسجد کے باہر جمع ہو گیا  -مور شاہ اور انکے ساتھی بحکم امام  تابوت کے کام میں مشغول رہے اور مسجد کے باہر مومنین تمام رات گرئہ و زاری کرتےرہےجس و قت  صبح  چار بجے تابوت کربلا کے برآمد ہونے کا وقت ہوا تو اسوقت تابوت   کو مسجد میں چھوڑ  کرمور شاہ سمیت تمام لوگ باہر آ گئے مسجد کا دروازہ بند کر دیا گیا -اس کے ساتھ  جلوس کے راستے کی تمام شمعیں گل کر دی گئیں اور فلک شگاف  یا حسین کی  صدائیں بلند ہونے کے ساتھ یہ معجزانہ تابوت   دیوار کے اوپر خو دبخود بلند ہوا  پھر نیچے آ گیاجس کو سوگوارمومنین نے یا حسین یا حسین کی صدائین بلند کرتے ہوئے  اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا

جب تابو ت امام پاک آ گے بڑھ کر اسوقت کے باشرع عالم،مجتہد،،سیّد حیدر شا ہ حقّانی کے استانے کے نزدیک پہنچا تو ان کے کانوں میں یا حسین ،یا رسول کی صدائیں آنی شروع ہوئین تو وہ اپنی عبادت چھوڑ کر اپنے بیٹون سمیت باہرآئے اور تابوت میں حضرت امام حسین علیہ السّلام کی زیارت سےمشرّف ہوئےاورتابوت میں  اما مت کی تجلّی دیکھ کر والہانہ انداز مین اپنی عباء و قباء اتار دی اورتابوت پاک علیہ السّلام کو کاندھا دیا اور گریہ کنان ہو کرعرض گزار ہوئے یاامام پاک علیہ اسّلا م آپ میرے قریب سے گزر کر جا رہے ہیں میری دعوت قبول فرمائیں ،جس کے جواب میں امام حسین علیہ ا لسّلام  نے مورشاہ کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ ہم ان کے مہمان ہیں آپ ان سے رجوع کریں مورشاہ نے فرمایا ابھی ہماری کھبّڑ فقیر کی جانب روانگی ہے 

کھبّڑ فقیر کے آستانے منڈو کھبّڑ جلوس نے پہنچ کر نماز فجر ادا کی پھر مجلس امام حسین علیہ السّلام برپا ہوئ اور صبح کے وقت یہ جلوس حیدر شاہ حقّانی کی درگاہ پہنچا جہاں حیدر شاہ حقّانی اور ان کے رفقاء نے امام پاک کااستقبال کیا اور مجلس برپا کی دوپہر تک امام حسین علیہ السّلام حیدر شاہ حقّانی کے مہمان رہے پھر حیدر شاہ حقّانی کے آستانے پر مجلس برپا ہوئ اور مومنین کی مدارات کے بعد امام پاک علیہ السّلام کی کربلا روانگی کی رخصت کا مرثیہ خود حیدر شاہ حقّانی نے پڑھا اور پھر جلوس کی شکل میں تمام عزادار ٹھٹھ بازار پہنچے جہاں کربلا کے شہزادگان کے تابوت بھی امام پاک تابوت کے ہمراہ عازم سفر ہوئے اور پھر شاہی مسجد پہنچ کر حضرت رسول خدا کی خدمت میں سلامی دی گئ کیونکہ سیّد المرسلین کا موئے مبارک یہیں جلوہ گر ہے

شاہی مسجد سے پھر تابوت امام پاک علیہ السّلام کووچھوڑا کے میدان میں لایا گیا جہاں حضرت علی اکبر اور حضرت قاسم کے تابوت دوسری سمت کی جانب الگ کئے گئے یہ منظر بڑا ہی درد ناک ہوتا ہے اور اس مطلب ہوتا ہے کہ اب خاندان بنو ہاشم کا بچّہ بچّہ شہید ہوچکا ہے اور امام مظلوم یکہ و تنہا کربلا کے میدان میں شہید ہونے جارہے ہیں وچھوڑا کے اس میدان میں قیامت خیز گریہ ہوتا ہے  اور امام پاک کے تابوت کو روہڑی کی کربلا میدان میں زیارت خاص و عام کے لئے رکھّا جاتا ہے یہ معجزاتی تابوت پانچ سو سال سے اسی طرح برامد ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اس جلوس میں پچّیس لاکھ عزادار پورے پاکستان سے شرکت کرتے ہیں ،اس جلوس کے راستے میں جگہ 'جگہ شربت 'پانی کی سبیلیں ہوتی ہیں اور وافر مقدار میں تبرّک تقسیم کیا جاتا ہے اس معزاتی زیارت کے دیدار کے لئے پاکستان کے مختلف شہروں سے اسپیشل ٹرینیں چلائ جاتی ہیں-آج سینکڑوں سال سے حیدر شاہ حقانی کی نسل کے بزرگ تمام رسومات نباہ رہے  ہیں

پیر، 28 جولائی، 2025

ہم تمھارے پاس تا قیامت آئیں گے-امام عالی مقام حصہ اول

 



نحمد ہ ونصلّی علٰی رسولہ الکریم واٰلہ الطّیبین الطا ہرین ۃ برّصغیر اپک وہند میں سندھ کے علاقے کو یہ شرف حاصل رہا ہے کہ دین اسلام کی روشنی یہاں سے داخل ہوئ اور پھر پورے برّصغیر کو اس روشنی نے اپنی پاکیزہ کرنو ں سے منوّر کیا  اس کی ابتدااس طرح سے ہوئ کہ ساتویں صدی ہجری میں امام علی نقی علیہ اسّلام کی نسل سےایک بہت بڑے عالم و زاہد و متّقی صاحب کشف وکرامت بزرگ امیر سیّد محمّد مکّی ابن سیّد محمد شجاع 640 ء میں مشہد مقدّس سے تشریف لائے اورسنّت کے مطابق یہان کے حاکم سےزمین خریدی اور اس زمین پر جا گزیں ہو گئے۔یہاں آپ نے مدرسہ اور  مسجد تعمیر کروائ اور اسی مدرسے اور مسجد سےتبلیغ دین اور ترویج اسلام و درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا ،ان کی رحلت کے بعد ان کے فرزندحضرت خطیب سید صدرالدّین نے بھی اپنے والد کی طرح درس وتدریس کا یہ سلسلہ قائم رکھّا   خطیب سید صدرالدّین کا جائے مدفن سکھّراور  روہڑی کے درمیان جزیرہ نما ء قلعہ بکھّر میں واقع ہے 


سندھ کے علاقے میں تعزئیےداری و عزاداری کی ابتداء اسی شہر سے ہوئ اور یہ سلسلہ پھیلتا ہوا سندھ کے دیگر علاقوں میں پھیلااس وقت روہڑی شہر میں ماہ محرّم میں نکلنے والے تابوت کے لئے لے بتایاجاتا ہے کہ  ہجری 1000  میں یہاں پر  حضرت سید محمّدامیر مکّی کی پشت سے ایک بچّےنے جنم لیا ،یہ بچّہ آگے چل کر اپنے اجداد کی مانند بزرگ ،ولی ثابت ہوامحمد شریف اپنی ابتدائ عمر سے ہی غم حسین علیہ ا لسّلام میں سوگوار'واشکبار رہا کرتے تھےاسی مودّت امام حسین علیہ السّلام میں ہونے کی بناء پرنوجوانی آنے پر   وہ ہر سال پیدل روضہ امام حسین علیہ اسّلام کی زیارت کو جایا کرتے تھے اورا س سفر میں ان کے کچھ خاص رفقاء بھی ساتھ ہوتے تھےان رفقاء میں  ایک کھبّڑ فقیر بھی تھے یہ تمام افراد   پا پیادہ کربلا عازم سفر ہوا کرتے تھے-یاد رہے کہ کھبڑ فقیر بھی سادات  کے خوانوادے سے تھے جنہوں نے عشق امام  میں اپنے آپ کو کھبڑ فقیر کہلانا  پسند کیا -عاشقان امام کا یہ متبرّک سفر اسی طرح سے ہر سال عازم سفر ہوتا رہا اور بالآخر مور شاہ ضعیف العمرہوئے تو ان کے دیگر رفقاء  طبعئ  عمر کے ساتھ  جنت  مکین ہوتے گئےلیکن کھبڑ فقیر اور مور شاہ  ایک دوسرے کے ہمرکاب رہے -ایک سال ماہ محرم سے پہلے  مورشاہ روضہ ءاما م مظلوم علیہا لسّلام پر جاکر عرض گزار ہوئے


مولا  میں اب  ضعیف ہو گیا ہو ں 'آپ  اجازت دیجئے کہ میں یہیں کربلا میں تا حیات  قیام کروں اما م پاک علیہ السّلام نے فرمایا ،اے فرزند تم نےاپنی تمام عمر میری زیارت کے لئے وقف کر دی اب تم واپس اپنے شہر چلے جاؤاب ہم تمھارے پاس خود  آئیں گےاور تا قیامت آئیں گے یہ بشارت ملتے ہی سیّد مور شاہ نے خاک کربلا کو الوداعی بوسہ دیا اورخوشی خوشی واپسی کے سفر کے لئے روانہ ہوئے تاکہ اپنے محبوب امام اور آقاکی میزبانی کا شرف حاصل کر سکیں روہڑی شہر پہنچ کر اپنی بشارت کا زکرپنے دوستوں ساتھیون ،بزرگوں اور سادات کو بھی سنایااور پھر بڑے اشتیاق سے محو انتظار ہوئےمور شاہ کی واپسی کے کچھ دنوں بعد ملک عراق کر بلا سےدو بزرگ حضرات مورشاہ کے پاس آئےاور انہوں  نے اپنا تعارف کرواتے ہوئ بتایا کہ ہم بنی اسد قبیلے کے افراد ہیں اور ہمارے پاس میدان کربلا سےلاشہائے شہداء کی کچھ متبرّک نشانیا ن موجود ہیں یہ تبرّکات ہمارے بزرگون کو  شہداء کی لاشوں کی تدفین کے وقت ملی تھیں ۔




   اب ہمیں حضرت امام حسین علیہ ا لسّلام کی جانب سے بشارت ہوئی ہے کہ ہم یہ امانتیں آپ کے سپرد کر دیں پھر بزرگوں نے  تابوت  کا نقشہ اورامانتیں دیں اور کہا کہ اس تابوت  کا نقشہ  ہے جو قبیلہ بنی اسد کےلو گو ں      نے پہلی مرتبہ امام مظلوم کی قبر پر سائے کے لئے بنایا تھا پھر ان دونو ں بزرگ حضرات نے کچھ عرصے روہڑی میں سیّد مور شاہ کے ہمراہ قیام کیا، اورتابوت  کربلا کے حوالے سے کچھ اور بھی راز جو سینہ بہ سینہ چلے آ رہے تھے  ان کےگوش گزار کئے ،ان میں وقت اور دن کا تعین بھی تھا ان دو بزرگوں میں سےایک کا انتقال ہوگیا جن کا مدفن سید مورشاہ کے مزار کےبرابر مسجد عراق روہڑی میں  زیارت خاص و عام ہے۔اور دوسرے بزرگ عراق کربلا روانہ ہو گئےیہ ساری امانتیں  اور احکامات  ملنے کے بعد جب پہلی مرتبہ محرّم الحرام کاآغاز ہوا تو سیّد مورشاہ نےبتائے ہوئے طریقے اور نقشے کے مطابق ۹ محرّم الحرام کے دن اور۱۰ محرّم الحرام کی درمیانی رات کو تابوت بنانے کی تیّاری شروع کی گئ

 

 

نمایاں پوسٹ ۔ دین مبین اسلام کا سیاسی نظام خدا نے مشخص کر دیا ہے

انقلاب چین جو چینی قوم کی نجات کا باعث بن گیا

  چین کے انقلاب میں تاریخی لانگ مارچ کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جو اکتوبر1934ء سے اکتوبر 1935ء تک جاری رہا۔ یہ لانگ مارچ چھے ہزار میل ط...

حضرت عبد المطلب کی منت کی کہانی'اوداع فاطمہ صغرا الوداع'،یاد آو گے بھیّابعد عاشور جو گزری آل نبی پر